Aal-i-Imraan 3:126

Aal-i-Imraan · from ayah 126

3:126

وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰی لَكُمْ وَلِتَطْمَىِٕنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ ؕ— وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ ۟ۙوَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشۡرٰى لَـكُمۡ وَلِتَطۡمَئِنَّ قُلُوۡبُكُمۡ بِهٖ‌ؕ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَكِيۡمِۙ‏

اور اس مدد کو خدا نے تمھارے لیے (ذریعہٴ) بشارت بنایا یعنی اس لیے کہ تمہارے دلوں کو اس سے تسلی حاصل ہو ورنہ مدد تو خدا ہی کی ہے جو غالب (اور) حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And Allah made it not except as [a sign of] good tidings for you and to reassure your hearts thereby. And victory is not except from Allah, the Exalted in Might, the Wise -

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 13 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:126

یہ بات اللہ نے تمہیں اس لیے بتا دی ہے کہ تم خوش ہو جاؤ اور تمہارے دل مطمئن ہو جائیں فتح و نصرت جو کچھ بھی ہے اللہ کی طرف سے ہے جو بڑی قوت والا اور دانا و بینا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس مدد کو خدا نے تمھارے لیے (ذریعہٴ) بشارت بنایا یعنی اس لیے کہ تمہارے دلوں کو اس سے تسلی حاصل ہو ورنہ مدد تو خدا ہی کی ہے جو غالب (اور) حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ تو محض تمہارے دل کی خوشی اور اطمینان قلب کے لئے ہے، ورنہ مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمتوں واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ نے یہ سب انتظام صرف اس لئے کیا تھا تاکہ تمہیں خوشخبری ملے، اور اس سے تمہارے دلوں کو اطمینان نصیب ہو، ورنہ فتح تو کسی اور کی طرف سے نہیں، صرف اللہ کے پاس سے آتی ہے جو مکمل اقتدار کا بھی مالک ہے، تمام تر حکمت کا بھی مالک۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ فتح اللہ نے نہ کی مگر تمہاری خوشی کے لئے اور اسی لئے کہ اس سے تمہارے دلوں کو چین ملے اور مدد نہیں مگر اللہ غالب حکمت والے کے پاس سے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اللہ نے اس (مدد) کو محض تمہارے لئے خوشخبری بنایا اور اس لئے کہ اس سے تمہارے دل مطمئن ہو جائیں، اور مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے جو بڑا غالب حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ نے اسے نہیں بنایا مگر تمہارے لیے ایک خوشخبری اور تاکہ تمہارے دل اس کے ساتھ مطمئن ہوجائیں اور مدد نہیں ہے مگر اللہ کے پاس سے، جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

فرشتوں سے مدد کی خبر اللہ نے تمہیں صرف اس لیے دی ہے کہ تم خوش ہوجاؤ اور تمہارے دل مطمئن ہوجائیں اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے جو بڑا زبردست اور حکمت والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ نے اس کو نہیں بنایا مگر تمہارے لیے بشارت اور تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہوجائیں، اور مدد نہیں آتی مگر خدائے غالب و حکیم ہی کے پاس سے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس (امداد) کو بھی اس نے محض اس لئے مقرر (اور بیان) فرما دیا تاکہ خوشخبری ہو تمہارے لئے، اور (اس لئے کہ) تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمہارے دل، ورنہ (حقیقت یہ ہے کہ فتح و) نصرت اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، جو کہ بڑا ہی زبردست (و غالب، اور) نہایت ہی حکمت والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ تو اللہ نے اس لیے کیا کہ تم خوش ہوجاؤ اور تمہیں اس سے دلجمعی حاصل ہوجائے ورنہ نصرت تو بس زبردست اور حکمت والے اللہ ہی کی طرف سے ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اللہ نے اس کو نہیں بنایا مگر تمہارے لیے بشارت اور تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہوجائیں ورنہ مدد تو ہونی ہی اللہ کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمت والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ بات اللہ نے تمہیں اس لیے بتا دی ہے کہ تم خوش ہوجاؤ اور تمہارے دل مطمئن ہوجائیں فتح و نصرت جو کچھ بھی ہے اللہ کی طرف سے ہے جو بڑی قوت والا دانا اور بینا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah has reminded you of this only as a glad tiding to you and so as to let your hearts be at rest. Help can only come from Allah, the All-Mighty, the All-Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And Allah did this solely to make it a good news for you, and so that your hearts may be at rest with it. Otherwise, victory is from none but Allah, the All-Powerful, the All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

And Allah did this solely to make it a good news for you, and so that your hearts may be at rest with it. Otherwise, victory is from none but Allah, the All-Powerful, the All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah made it not but as a message of good news for you and as an assurance to your hearts. And there is no victory except from Allah, the All-Mighty, the All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah ordained this only as a message of good cheer for you, and that thereby your hearts might be at rest - Victory cometh only from Allah, the Mighty, the Wise -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And Allah made it not except as [a sign of] good tidings for you and to reassure your hearts thereby. And victory is not except from Allah, the Exalted in Might, the Wise -

— Saheeh International

The sending of the angels is a glad news from your Lord so that you would have more confidence in Him. No victory is real unless it is from God, the Majestic and All-wise.

— Muhammad Sarwar

And Allah did not make it but as good news for you, and that your hearts might be at ease thereby, and victory is only from Allah, the Mighty, the Wise.

— Muhammad Habib Shakir

And this Allah made not except as a joyful enunciation unto you, and that thereby your hearts might be set at rest--and no succour is there but from before Allah, the Mighty, the Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah made it but a message of hope for you, and an assurance to your hearts: (in any case) there is no help except from Allah. The Exalted, the Wise:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:126

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 124–129

غزوہ بدر اور تائید الٰہی آنحضرت ﷺ کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری عامر شعبی ربیع بن انس وغیرہ کا یہی قول ہے ابن جریر کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبی کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے ربیع بن انس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہوگئے پھر پانچ ہزار، یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 125–129

سورة اٰلِ عِمْرٰن 97 نبی ﷺ جب زخمی ہوئے تو آپ کے منہ سے کفار کے حق میں بد دعا نکل گئی اور آپ نے فرمایا کہ ”وہ قوم کیسے فلاح پاسکتی ہے جو اپنے نبی کو زخمی کرے“۔ یہ آیات اسی کے جواب میں ارشاد ہوئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 125–127

معارف و مسائل فرشتوں کی امداد بھیجنے کی حکمت اور اصل مقصد اور تعداد ملائکہ میں مختلف عدد بیان کرنے کی حکمت یہاں طبعی طور پر ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کو وہ طاقت بخشی ہے کہ ایک ہی فرشتہ پوری بستی کا تختہ الٹ سکتا ہے، جیسا کہ قوم لوط کی زمین تنہا جبرئیل امین نے الٹ دی تھی، تو پھر فرشتوں کا لشکر بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔ نیز یہ کہ جب فرشتے میدان میں آئے ہی تھے تو ایک کافر بھی بچنا نہیں چاہئے تھا اس کا جواب خود قرآن کریم نے آیت " وما جعلہ اللہ الا بشری " میں دیدیا، کہ فرشتوں کے بھیجنے میں در حقیقت ان سے کوئی میدان جنگ فتح کرانا مقصود نہ تھا، بلکہ مجاہدین مسلمین کی تسلی اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’ جعلہ ‘ میں ضمیر کا مرجع وہ وعدہ نصرت ہے جو اوپر والی آیت میں مذکور ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعہ سے جو تمہاری مدد کا خاص طور پر وعدہ فرمایا تو یہ اس لیے کہ یہ تمہارے لیے بشارت کا باعث ہو اور تمہیں مخالفین و منافقین کے رویّے سے جو بد دلی ہوئی ہے وہ دور ہوجائے۔ اگر یہ بشارت نہ بھی اترتی جب بھی اہل ایمان کو یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ فتح و نصرت ہمیشہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہ عزیز و غالب ہے جس کو چاہے فتح و غلبہ عطا فرمائے، اور حکیم بھی ہے اس وجہ سے اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس آیت پر مزید بحث ہم سورة انفال میں کریں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 126–127

127۔ 1 یہ اللہ غالب و کار فرما کی مدد کا نتیجہ بتلایا جا رہا ہے سورة انفال میں فرشتوں کی تعداد ایک ہزار بتلائی گئی ہے، " اذتستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملٰئکۃ " جب تم اپنے رب سے مدد طلب کر رہے تھے، اللہ تعالیٰ نے تمہاری فریاد سنتے ہوئے کہا کہ میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرونگا۔ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے واقعتًا تو ایک ہزار ہی نازل ہوئے اور مسلمانوں کے حوصلے اور تسلی کے لئے تین ہزار کا اور پھر پانچ ہزار کا مزید مشروط وعدہ کیا گیا۔ پھر حسب حالات مسلمانوں کی تسلی کے نقطہ نظر سے بھی ان کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ اس لئے بعض مفسرین کے نزدیک یہ تین ہزار پانچ ہزار فرشتوں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 126–130

44: امام رازی نے تفسیر کبیر میں فرمایا ہے کہ جنگ احد کے موقع پر مکہ کے مشرکین نے سود پر قرض لے کر جنگ کی تیاری کی تھی، اس لئے کسی مسلمان کے دل میں بھی خیال ہوسکتا تھا کہ مسلمان بھی جنگ کی تیاری میں یہی طریقہ اختیار کریں، اس آیت نے انہیں خبر دار کردیا کہ سود پر قرض لینا حرام ہے، یہاں سود کو کئی گنا بڑھا کر کھانے کا جو ذکر ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کم شرح پر سود کی اجازت ہے ؛ بلکہ اس وقت چونکہ سودی قرضوں میں بکثرت یہی ہوتا تھا کہ سود اصل سے کئی گنا بڑھ جاتا تھا اس لئے ایک واقعے کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے ورنہ سورة بقرہ (آیت 277 اور 278) میں صاف واضح کردیا گیا ہے کہ اصل قرض پر جتنی بھی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قرآن کریم نے اسلامی تصور حیات میں مشیئت الٰہی کی کارفرمائی پر بہت زور دیا ہے ۔ اور اسے ہر شک وشبہ سے پاک کرنے کی کوشش کی ہے اور اس بات کا باربار ذکر کیا ہے کہ دنیاوی اسباب کسی صورت میں موثر نہیں ہوتے ۔ اللہ کی قدرت اور مومن کے دل و دماغ کے درمیان ایک خاص رابطہ ہوجاتا ہے ۔ اللہ اور بندے کے درمیان حائل پردے اٹھ جاتے ہیں ۔ اللہ اور بندے کے درمیان براہ راست تعلق قائم ہوجاتا ہے اور اس میں کبھی کوئی رکاوٹ قائم نہیں ہوتی ۔ جس طرح عالم موجودات میں اور عالم حقائق میں ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں اس قسم کی ہدایات بار بار دہرائی جاتی ہیں ‘ مختلف اسالیب میں ان کی تاکید کی جاتی ہے اور مسلمانوں کے دل میں یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی یہ سب غیبی سامان غیر معمولی طور پر ظاہری اسباب کی صورت میں محض اس لئے مہیا کئے گئے کہ تمہارے دلوں سے اضطراب و ہراس دور ہو کر سکون و اطمینان نصیب ہو۔ ورنہ خدا کی مدد کچھ ان چیزوں پر محدود و مقصور نہیں، نہ اسباب کی پابند ہے وہ چاہے تو محض اپنی زبردست قدرت سے بدون فرشتوں کے تمہارا کام بنا دے۔ یا بدون تمہارے توسط کے کفار کو خائب و خاسر کر دے۔ یا ایک فرشتہ سے وہ کام لے لے جو پانچ ہزار سے لیا جاتا ہے۔ فرشتے بھی جو امداد پہنچاتے ہیں وہ اسی خداوند قدیر کی قدرت و مشیت سے پہنچا سکتے ہیں، مستقل طاقت و اختیار کسی میں نہیں۔ آگے یہ اسکی حکمت ہے کہ کس موقع پر کس قسم کے اسباب و وسائط سے کام لینا مناسب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 126 وَمَا جَعَلَہُ اللّٰہُ الاَّ بُشْرٰی لَکُمْ وَلِتَطْمَءِنَّ قُلُوْبُکُمْ بِہٖ ط وَمَا النَّصْرُ الاَّ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ الْعَزِ یْزِ الْحَکِیْمِ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت کے طور پر تمہارے دلوں کے اطمینان کے لیے تمہیں بتادیا گیا ہے ‘ ورنہ اللہ فرشتوں کو بھیجے بغیر بھی تمہاری مدد کرسکتا ہے ‘ وہ کُن فیکون کی شان رکھتا ہے۔ تمہیں یہ بشارت تمہاری طبع بشری کے حوالے سے دی گئی ہے کہ اگر تین ہزار کی تعداد میں دشمن سامنے ہوا تو تمہاری مدد کو تین ہزار فرشتے اتر آئیں گے ‘ اور اگر وہ فوری طور پر حملہ آور ہوگئے تو ہم پانچ ہزار فرشتے بھیج دیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

115 میدان بدر میں اللہ نے جو نزول ملائکہ کی تمہیں خوشخبری دی تھی وہ تو محض اس لیے تھی کہ تمہارے دل مضبوط ہوجائیں اور تم پورے وثوق کے ساتھ جم کر لڑائی کے میدان میں اترو اور فرشتوں پر ہی کیا منحصر ہے مدد کی جو بھی صورت ہو وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ چناچہ بدر کے میدان میں اللہ نے چار طرح سے مسلمانوں کی مدد فرمائی تھی۔ مثلاً (1) اللہ نے ہوا کا رخ کفار کے لشکر کی طرف موڑ دیا اور ریت نے اڑ اڑ کر ان کے لشکر کو بدحال بنادیا۔ (2) بارش کا نزول جس سے کفار کے پڑاؤ میں تو پھسلن اور دلدل مچ گئی۔ جبکہ مسلمانوں کے پڑاؤ میں ریت جم کر بیٹھ گئی۔ نیز انہیں استعمال کے لیے وافر پانی میسر آگیا۔ (3) فرشتوں کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

259 ۔ (نہ کہ فرشتوں، یا اور کسی مخلوق کی طرف سے) یہ گویا صاف طور پر بتادیا کہ حقیقۃ متصرف ذات باری تعالیٰ ہے، فرشتے ہوں یا کوئی اور، کسی کا بھی ذریعہ امداد ہونا سبب ظاہری کے درجہ سے زیادہ نہیں، ملائکہ پرستی، دیوتا پرستی کی جڑ یہیں سے کٹ جاتی ہے۔ ضمنا اس جانب بھی اشارہ ہوگیا کہ اسلام کی کامیابی، اور فتح مندی حقیقۃ تمامتر تائد غیبی کا نتیجہ ہے۔ (آیت) ” وما جعلہ “ میں ضمیر اسی وعدہ امداد ملائکہ کی جانب ہے۔ الھاء للوعد او الامداد (قرطبی 9 ای الا مداد (روح) (آیت) ” الا بشری لکم ولتطمئن قلوبکم بہ “۔ یعنی یہ تو فتح نصرت کا صرف مقدمہ تھا۔ (آیت) ” وما النصر “ سے مراد نصرت حقیقی وواقعی ہے۔ (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 124–130

آیت نمبر 130 تا 143 ترجمہ : اے ایمان والو ! یہ بڑھتا ثڑھتا سود کھانا چھوڑ دو (مُضٰعَفَۃً ) الف اور بغیر الف دونوں طریقوں پر ہے۔ اس طور پر کہ مدت پوری ہونے پر مالی مطالبہ بڑھا دو ۔ اور مطالبہ میں مہلت دے دو ۔ (اکل ربا) کو ترک کرکے اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اور اس آگ سے ڈرو جو (اصالۃً ) کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے کہ تم کو اس میں عذاب دیا جائے اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اور اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف دوڑو کہ جس کی وسعت زمین و آسمان ہیں (سَارِعُوْا) میں قبل السین واؤ اور بدون واؤ دونوں (قراءتیں) ہیں۔ یعنی (جنت کی وسعت) ان دونوں کی وسعت کے مانند ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و ما جعلہ اللہ الا بشری لکم اللہ نے تم کو فرشتوں سے مدد صرف اس لیے دی کہ تم کو فتح کی بشارت ہو۔ و لتطمئن قلوبکم بہ اور تمہارے دل مطمئن ہوجائیں دشمنوں کی کثرت اور اپنی قلت کی تم کو پروا نہ ہو ظاہری اسباب پر اعتماد انسان کی فطرت ہے مدد گاروں کی ظاہری کثرت دیکھ کر آدمی کو اطمینان خاطر ہوتا ہی ہے۔ و ما النصر الا من عند اللہ اور در حقیقت فتح تو اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے سامان کی فراوانی اور تعداد کی کثرت 1 ؂ سے نہیں ہوتی کیونکہ آدمی ہوں یا فرشتے سب کے افعال اللہ ہی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ العزیز ایسا غلبہ والا جس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ الحکیم حکمت والا کہ باقتضاء حکمت جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 126–127

(126۔ 127) اور اللہ تعالیٰ نے اس کمک کا وعدہ محض تمہاری مدد اور سکینت کے لیے کیا ہے اور فرشتوں سے امداد بھی منجانب اللہ ہے اور جو اس ذات پر ایمان نہ لائے، اسے سزا دینے میں غالب اور حکیم ہے جس کی چاہے مدد فرمائے یا یہ کہ احد کے دن جو واقعہ تمہیں پیش آیا، اس میں بہت سے حکمت والے پہلو ہیں اور یہ مدد اسی لیے نازل کی گئی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کفار مکہ میں سے ایک جماعت کا بالکل خاتمہ کردے اور ایک جماعت کو شکست دے دے، پھر وہ کفار (فتح) دولت اور غنیمت سے مایوس ہو کر واپس ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 124–127

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ : اس کا تعلق یا تو جنگ بدر سے ہے یا جنگ احد سے۔ امام طبری نے پہلی بات کو ترجیح دی ہے، یعنی جب کفار کی تیاری اور کثرت تعداد کو دیکھ کر مسلمانوں کے دلوں میں تشویش پیدا ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرشتوں کی مدد کا ذکر کر کے انھیں تسلی دی۔ چناچہ بدر میں فرشتے نازل ہوئے۔ بدر میں فرشتوں کے نزول کی کیفیت کے لیے دیکھیے سورة انفال (9) (ابن کثیر۔ شوکانی) بدر کے دن فرشتوں کی تعداد سورة انفال میں ایک ہزار ذکر ہوئی ہے، جبکہ یہاں تین ہزار اور پانچ ہزار کا ذکر ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ پہلے ایک ہزار کا وعدہ ہوا، پھر تین ہزار اور پھر پانچ ہزار کی بشارت ہوئی، ان میں آپس میں کوئی تعارض…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 126–127

آیت نمبر : 126 تا 127۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وما جعلہ اللہ الا بشری لکم “۔ اس میں ضمیر مدد کے لئے ہے اور وہ ملائکہ ہیں یا وعدہ ہے یا امداد ہے، اور اس پر قول باری تعالیٰ (آیت) ” یمددکم “۔ دلالت کرتا ہے یا پھر ضمیر تسویم (نشان لگانا) یا انزال (اتارنا) یا معنوی طور پر عدد کے لئے ہے، کیونکہ خمسۃ آلاف عدد ہے، (آیت) ” ولتطمئن قلوبکم بہ “۔ اس میں لام، لام کی ہے، یعنی ” ولتطمئن قلوبکم بہ جعلہ “۔ (تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہوجائیں ایسا کیا) اسی طرح یہ ارشاد ہے : (آیت) ” وزینا السماء الدنیا بمصابیح وحفظا “۔ ای حفظا لھا جعل ذالک (اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں کے ساتھ آراستہ کیا اور اس کی حفاظت کے لئے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 125–128

(1) ابن ابی شیبہ احمد عبدبن حمید بخاری مسلم ترمذی نسائی ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نحاس نے اپنی ناسخ میں اور بیہقی نے دلائل میں انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ کا وہ دانت ٹوٹ گیا جو سامنے والے دانتوں ناب کے درمیان ہوتا ہے اور آپ کا چہرہ مبارک بھی زخمی ہوگیا یہاں تک کہ آپ کے چہرہ پر خون بہہ نکلا آپ نے فرمایا یہ قوم کیسے کامیاب ہوگی جس نے اپنے نبی کے ساتھ ایسا (معاملہ) کیا حالانکہ وہ) نبی ﷺ ان کو اپنے رب کی طرف بلاتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ” لیس لک من الامر شیء او یتقوب علیہم او یعذبہم فانہم ظلمون “ (2) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَا جَعَلَہُ : اور نہیں بنایا اس کو ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [اِلاَّ : مگر ] [بُشْرٰی : ایک خوشخبری ] [لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [وَلِتَطْمَئِنَّ : اور تاکہ مطمئن ہوں ] [قُلُوْبُـکُمْ : تمہارے دل ] [بِہٖ : اس سے ] [وَمَا النَّصْرُ : اور کسی نوع کی کوئی مدد نہیں ہے ] [اِلاَّ : مگر ] [مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ : اللہ کے پاس سے ] [الْعَزِیْزِ : جو بالادست ہے ] [الْحَکِیْمِ : حکمت والا ہے ] نوٹ : آیت 124 میں رسول اللہ ﷺ کے قول کی آیت 125 میں اللہ تعالیٰ نے تصدیق کی ہے ‘ اور آپ ﷺ کے اعزاز کے طور پر فرشتوں کی تعداد بڑھا دی ‘ لیکن یہ وضاحت بھی کردی کہ مدد کے لیے فرشتوں کا اترنا ثابت قدمی اور تقویٰ کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مدد صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے : پھر فرمایا (وَ مَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشْرٰی لَکُمْ وَ لِتَطْمَءِنَّ قُلُوْبُکُمْ بِہٖ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ ) (اور اللہ نے یہ مدد صرف اس لیے کی کہ تمہارے لیے بشارت ہو اور تمہارے دل اس سے مطمئن ہوں اور مدد نہیں ہے مگر صرف اللہ کی طرف سے جو زبردست ہے حکمت والا ہے) یہ آیت تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ غزوہ بدر کے تذکرہ میں سورة انفال کے دوسرے رکوع کے ختم پر بھی ہے۔ اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ فرشتوں کے ذریعہ جو مدد کی گئی وہ اس لیے ہے کہ تمہارے دل خوش ہوجائیں اور مطمئن ہوجائیں تاکہ دشمن کی کثرت کا خوف نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 123–127

تذکیر بقصہ بدر۔ برائے اظہار تاثیر توکل وتقوی وصبر۔ قال اللہ تعالیٰ ولقد نصرکم اللہ ببدر۔۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔ خائبین۔ اب قصہ احد کے بعد کچھ قصہ بدر کا ذکر کرتے ہیں اس غزوہ میں جو بےمثال فتح ونصرت ظہور میں آئی وہ ظاہر اسباب میں توکل اور تقوی اور صبر کی برکت تھی چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق مدد کی تمہاری اللہ نے جنگ بدر میں حالانکہ تم اس وقت بےسروسامان تھے اور دشمنوں کی نظروں میں ذلیل اور خوار تھے اور ظاہر اسباب میں دشمنوں کے مقابلہ میں تمہارا ٹھہرنا اور ان پر فتحیاب ہوناناممکن تھا مگر چونکہ اس بےسروسامانی میں تمہاری نظر اللہ پر تھی اس لیے اللہ نے تم کو عزت و رفعت دی۔ ہر کجا پستی اسب آب آنجارود ہر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

193 جَعَلَهٗ میں ضإیر غائب مذکورہ مدد کی طرف راجع ہے جو ایک ہزار فرشتوں کے بالفعل انزال اور تین ہزار اور پانچ ہزار کے وعدہ انزال کی صورت میں نمودار ہوئی۔ اَلْعَزِیْز یعنی ایسی قدرت وقوت والا جو ظاہری اسباب کے سوا بھی غلبہ اور فتح دلا سکتا ہے۔ اَلْحَکِیْم جو اپنی حکمت بالغہ کے مطابق تمام کاموں کو ظاہری اسباب پر مرتب فرماتا ہے۔ یعنی جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے تائید غیبی سے جو تمہاری کامیابی اور فتحمندی کے ظاہری اسباب مہیا فرمائے تھے۔ یہ محض تمہاری خوشی اور دلجمعی کی خاطر تھے۔ باقی رہی فتح ونصرت تو وہ صرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے تھی۔ جو ایسا زبردست ہے کہ ان اسباب کا محتاج نہیں لیکن اپنی تکوینی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 126–129

ربط آیات : جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے۔ قرآن پاک کے اس مقام پر اصل تذکرہ تو غزوہ احد کا ہے۔ تاہم درمیان میں اللہ تعالیٰ نے مثال کے طور پر غزوہ بدر کا ذکر بھی کردیا ہے۔ تاکہ اہل اسلام کو تسلی رہے کہ جس مالک الملک نے انہیں نہایت بےسروسامانی کی حالت میں بدر کے مقام پر عظیم فتح سے نوازا تھا ، وہ اپنے بندوں کو بےیارو مددگار نہیں چھوڑے گا۔ واقعہ بدر کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک ہزار فرشتوں کے نزول کی بشارت سنائی ، پھر تین ہزار کا وعدہ فرمایا ، نیز یہ بھی فرمایا کہ اگر مشرکین کی جمعیت میں اچانک اضافہ ہوگیا تو اللہ تعالیٰ آسمانوں سے لیے پانچہزار فرشتوں کو نازل فرما دے گا ، جو اپنے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا جَعَلَہُ اللہُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَلِتَطْمَىِٕنَّ قُلُوْبُكُمْ بِہٖ۝ 0 ۭ وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللہِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ۝ 126 ۙ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ بشر واستبشر : إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 124–127

ترکیب : اذ تقول ممکن ہے کہ اذھمت سے بدل ہو اور ممکن ہے کہ نصر کم کا ظرف ہو لیس لک خبر شیء اسم اویتوب او یعذبہم معطوف ہیں یکبتہم پر یا الامر پر یا شیء پر با ضماران اور الان کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے۔ تفسیر : پہلی آیت میں ذکر تھا کہ باوجود یکہ تمہاری حالت نہایت خراب تھی مگر خدا نے بدر کے جنگ میں اسباب ظاہر کے برخلاف تمہاری مدد کی تھی۔ اب یہاں اس مدد غیبی کو یاد دلاتا ہے یعنی مدد غیبی کا وہ دن تھا کہ جس دن اے نبی تم مسلمانوں کو تسلی دے رہے اور یہ کہہ رہے تھے کہ تم اپنی قلت اور بےسرو سامانی اور کفار کی کثرت اور اسباب حرب پر خیال کرکے ہراساں نہ ہو۔ کیا تم کو کافی نہیں کہ خدا تمہاری تین ہزار فرشتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 126–127

وَمَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشْرٰی لَـکُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُـکُمْ بِہٖ ط وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِاللّٰہِ الْعَزِیْزِالْحَکِیْمِ ۔ لا لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَوْیَـکْبِتَہُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ ۔ (اور نہیں بنایا اس کو اللہ تعالیٰ نے مگر تمہارے لیے بشارت تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہوجائیں اور مدد نہیں آتی مگر اللہ کی جانب سے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ تاکہ اللہ کافروں کے ایک حصے کو کاٹ دے یا انھیں رسوا کر دے کہ وہ خوار ہو کر لوٹیں) (126 تا 127) فرشتوں کا اترناصرف بشارت ہے، مدد اللہ کی جانب سے ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جو فرشتوں کے نازل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 124–128

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ کی نصرت کے بغیر کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ اسی طرح معاف کرنا یا کسی کو عذاب دینا بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے کیونکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ غزوۂ احد میں مسلمانوں کے سر کردہ جنگجو یہاں تک کہ حضرت حمزہ ؓ بڑی بیدردی کے ساتھ شہید کردیے گئے اور رسول مکرم ﷺ کی ذات اقدس کو بھی زخم آئے، رباعی دانت شہید ہوا اور آپ بےہوش ہو کر ایک گھاٹی میں جا گرے جونہی ہوش سنبھالا تو آپ کی زبان اطہر سے بےساختہ بددعا نکلی : (کَیْفَ یُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوْا نَبِیَّھُمْ وَکَسَرُوْا رُبَاعِیَتَہٗ وَھُوَ یَدْعُوْھُمْ إِلَی اللّٰہِ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ (لَیْسَ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فرشتوں کی مدد صرف بشارت فتح ہے : 126: وَمَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشْرٰی لَــکُمْ وَلِتَطْمَپنَّ قُلُوْبُکُمْ بِہٖ وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ ۔ (اور اللہ تعالیٰ نے اس امداد کو بنایا) اور اللہ تعالیٰ نے اس امداد کو خوشخبری بنایا۔ ہٗ کی ضمیر اس امداد کی طرف راجع ہے۔ جو انیمدکم سے ثابت ہوئی۔ اِلَّا بُشْرٰ ی لَکُمْ (خوشخبری تمہارے لئے) یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو فرشتوں سے مدد صرف اس لئے دی تاکہ تمہیں فتح کی بشارت ہو۔ وَلِتَطْمَپنَّ قُلُوْبُکُمْ بِہٖ ( تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہوں) جس طرح سکینہ بنی اسرائیل کے لئے بشارت نصرت تھی اور دلوں کے اطمینان کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 126۔: (آیت)” وما جعلہ اللہ “ یہ وعدہ اور مدد اس لیے کی (آیت)” الا بشری لکم “۔ تاکہ تمہارے لیے خوشخبری ہو ” ولتطمئن “ اور تم مطمئن ہو سکون قلب حاصل ہو ، (آیت)” قلوبکم بہ “ تمہارے دلوں میں خوف نہ ہو دشمنوں کی تعداد کی زیادتی اور اپنی تعداد کی کمی کی وجہ سے ۔ (آیت)” وما النصر الا من عنداللہ العزیز الحکیم “۔ فتح تو اللہ کی طرف سے ہوتی ہے نہ کہ ملائکہ کی کثرت اور کثیر لشکر وسازو سامان سے ، لہذا تم اسی سے مدد طلب کرو اور اسی پر توکل اختیار کرو اس لیے کہ عزت اور حکومت اسی کی طرف سے ہے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 123–127

(123 ۔ 127) ۔ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کو شکست ہو کر ایک بڑی پریشانی مسلمانوں میں پھیل گئی تھی۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے احد کی لڑائی کے ذکر میں دو جگہ بدر کا ذکر فرمایا ہے۔ ایک اس آیت میں اور دوسرے آئندہ کی آیت میں اس طرح کہ اگر اس احد کی لڑائی میں تمہارے ستر آدمی شہید ہوگئے تو تم بھی تو بدر کی لڑائی میں کافروں کے ستر آدمی مارچکے ہو۔ اور ستر کو قید کرچکے ہو یہ ایک لڑائی کے ذکر میں دوسری لڑائی کا ذکر اسی واسطے فرما دیا ہے کہ اس فتح کی لڑائی کو یاد کر کے اس شکست کی لڑائی کا زیادہ افسوس مسلمانوں کو نہ رہے یہ فرشتوں کی مدد کا ذکر جو اس آیت میں ہے اس میں مفسروں کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ بدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 126 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو اپنا احسان یاد دلایا ہے، اور انہیں اپنی وہ مدد یا ددلائی ہے جو بدر کے موقع پر ہوئی۔ جب وہ کمزور تھے، ان کی تعداد بھی کم تھی، اور سامان بھی۔ جبکہ دشمنوں کی تعداد اور سامان جنگ کی مقدار بہت زیادہ تھی۔ غزوہ بدر ہجرت کے دوسرے سال واقع ہوا۔ نبی ﷺ مدینہ منورہ سے تین سو دس سے چند افراد زیادہ کی تعداد میں اپنے صحابہ کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ان کے پاس صرف ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے۔ آپ قریش کے تجارتی قافلہ کے تعاقب میں نکلے تھے۔ جو شام سے آرہا تھا۔ مشرکین کو اطلاع ملی تو وہ اپن قافلے کو بچانے کے لئے پوری طرح تیار ہو کر مکہ مکرمہ سے نکلے۔ وہ تقریباً ایک…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 119–130

سود کی ہر صورت حرام ہے قول باری ہے (لاتاکلوا الربواضعا فامضاعفۃ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو ) قول باری (اضعا فاعفۃ) کے دومعنی بیان کیے گئے ہیں اول تاجیل قرض کی ادائیگی کی مدت میں اضافے کے ساتھ سود کو رقم میں اضافہ کرتے جانا اور ہر مدت کے لیے زائد رقم کی قسط مقررکر دینا۔ دوم سودی رقموں کے ذریعے اپنے مال میں کئی گنا اضافہ کرلینایہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس چیز کا خصوصیت کے ساتھ ذکرکر دیاجائے، وہ اس پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کے ماسواچیزوں کا حکم کے برعکس ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر کئی کئی گنابڑھا کر سود خوری کی تحریم اس پر دلالت کرتی کہ اگر کئی کئی گنا اضافے کی صورت نہ ہو تو سود کھانا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

261 اللہ کی مدد ظاہری اسباب و وسائل کی محتاج نہیں : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی مدد نہ ان ظاہری اسباب و وسائل کی محتاج ہے اور نہ ہی ان پر موقوف۔ وہ جیسے چاہے اپنی عزت وقدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے مدد فرمائے، مگر انسان چونکہ طبعی طور پر ظاہری اسباب کا عادی اور محسوسات کا خوگر ہے، اس لئے اس نے تمہاری مدد کیلئے یہ ظاہری طریقہ اختیار فرمایا، تاکہ اس سے تمہارے دلوں کے اطمینان کا سامان ہوسکے، ورنہ مدد اصل میں اسی عزیز و حکیم خداوند قدوس ہی کی مدد ہے، جو ان اسباب و وسائل کے واسطے کے بغیر بھی جس طرح چاہے مدد فرما سکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ وہ عزیز اور غالب ہے جس کو چاہے اور جیسے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 121–127

غزوہ احد تشریح۔: گزشتہ آیات میں بیان ہوا تھا کہ اگر مسلمان صبر اور تقوٰی پر مضبوطی سے قائم رہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ غزوہ احد کی معمولی شکست اور تکلیف کا بیان اس لیے کیا گیا ہے کہ اس میں مسلمانوں نے صبر اور تقوٰی میں کمزوری دکھائی تھی اور اسی کمزوری اور کوتاہی کی سزا ان کو فوراً مل گئی۔ اور غزوہ بدر کی جیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ شروع میں غزوہ احد کے لیے نبی اکرم ﷺ کا صبح نکلنا، میدان جنگ میں اپنی فوج کو ترتیب دینا، فوج کو مناسب جگہوں پر بٹھانا اور میدان جنگ کا نقشہ درست کرنا یہ سب ذکر کیا گیا ہے۔ صرف جنگ احد کی یاد دہانی کے لیے غزوہ احد شوال 3 ھ کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 121–129

آیات 121- 129 اسرارو معارف واذ غدوت من اھلک………………فاتقو اللہ لعلکم تشکرون۔ کفار کی اسلام دشمنی اور جوش غضب کا اظہار ان غزوات سے ہوتا ہے جن میں رحمت عالم ﷺ کو بھی شمشیر بکف ہونا پڑا۔ فرمایا کہ وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس سے نکلے ، اور مسلمانوں کو کفار سے مقابلہ کرنے کے لئے ترتیب سے جما رہے تھے۔ یہاں مفہوم سے آگاہی کے لئے واقعات جنگ سے آگاہ ہونا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ یہ غزوہ احد کے واقعات ہیں جو 3 ھ میں وقوع پذیر ہوئی۔ 2 ھ میں مقام بدر پر ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد مشرکین مکہ نے یہ عہد کیا کہ جب تک مسلمانوں سے اس کا بدلہ نہ لیا جائے تب تک چین حرام ہے۔ چناچہ شام…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 126–128

ف 3 اس آیت میں پیغمبر سے فرمایا کہ بندے کو اختیار نہیں ہر قسم کے اختیار رات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ (ازموضح) تفاسیر میں ہے کہ احد کے دن جب آپ ﷺ کے دندان مبارک شہید ہوگئے اور آپ ﷺ کی چہرہ مبارک زخمی ہوگیا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیف یفلح قوم شجو ابیتھم اور بخاری میں ہے کہ آپ ﷺ نے نمازوں میں قنوت بھی شروع کردی جس میں نام لے کر مشرکین پر لعنت بھجتے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے دعاقنوت ترک کردی اور یہ وقعہ ہے کہ جب کے نام لے کر آپ ﷺ بدعا کرتے تھے وہی قبلیے بعد میں مسلمانوں ہوگئے۔ اسی طرح ا او یتوب علیھم کا منظر سامنے آگیا ابن کثیر ،۔ قرطبی) جنگ احد کے تذکرہ میں سود کی حرمت کی حکم بظاہر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

وما جعلہ اللہ۔ میں ہ ضمیر اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کے اتارنے کے ذریعہ سے مسلمانوں کی امداد کے امر کے متعلق ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 121–129

لغات القرآن آیت نمبر 121 تا 129 غدوت (تو صبح کے وقت نکلا) اھلک (تیرے گھر والے) تبوئ (تو جگہ (مورچوں پر) بٹھارہا تھا) مقاعد للقتال (لڑائی کے ٹھکانے (مورچے) ھمت (ارادہ کیا) طائفتین (دونوں جماعتیں) تفشلا (وہ دونوں بزدلی دکھائیں) ولیھما (اللہ ان دونوں کا دوست ہے) فلیتوکل (پھر بھروسہ کرنا چاہیے) اذلة (کمزرر، خوار) الن یکفیکم (کیا تمہیں کافی نہیں ہوگا) ان یمدکم (یہ کہ تمہاری مدد کی جائے) ثلٰثة اٰلاف (تین ہزار) منزلین (اترنے والے) حمسة اٰلافٍ (پانچ ہزار) مسومین (نشان لگے ہوئے (پلے ہوئے) بشرٰی (خوش خبری) لتطمئن (تاکہ تمہیں اطمینان ہو) یقطع (تاکہ کٹ جائے) یکبت (ذلیل کردیتا ہے) ینقلبوا (وہ پلٹ جائیں)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 123–127

پانچ ہزار فرشتوں کی امداد احد کی لڑائی سے مسلمانوں میں پریشانی پھیل گئی تھی اس واسطے اللہ تعالیٰ نے احد کی لڑائی کے ذکر میں بدر کا ذکر فرمایا کہ احد کی لڑائی میں تمہارے ستر آدمی شہید ہوگئے تو تم بھی بدر کی لڑائی میں کافروں کے ستر آدمی مار چکے ہو اور ستر کو قید کیا۔ مسلمانوں نے بدر کی لڑائی میں صبر وتقویٰ سے کام لیا، اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ پانچ ہزار نشان والے فرشتوں کی مدد بھیجی اور مسلمانوں کی فتح اور کافروں کی شکست ہوئی۔ احد کی لڑائی میں آنحضرت ﷺ کی رفاقت خاص کے لئے صرف جبرائیل ومیکائیل (علیہما السلام) آئے تھے۔ بدر کی لڑائی کی طرح عام ملائکہ احد کی لڑائی میں آتے تو مسلمانوں کو ضرور فتح ہوتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 124–128

[45] یہ الفاظ نبی ﷺ نے اس وقت کہے تھے جب میدان جنگ کو جاتے ہوئے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی اپنے تین سو آدمیوں کے ساتھ لشکر اسلامی سے الگ ہوگیا اور مسلمانوں کی تعداد گھٹ کر سات سو رہ گئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 124–129

اللہ کی شان بےنیازی : (ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ آسمان و زمین جو کچھ ہے وہ خدائے متعال کے قبضہ قدرت میں ہے ، زمین کی بستیان اور آسمان کی بلندیاں سب اس کی قوت و عظمت پر دال ہیں ۔ اور کوئی نہیں جو اس کی خدائی سے باہر ہو ۔ وہ اگر بدترین لوگوں کو اپنی آغوش رحمت میں لے لے اور جنت ونعیم کی نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کا موقع دے تو کوئی شخص اسے روک نہیں سکتا اور اگر محبوب ترین اشخاص کو دہکتے ہوئے جہنم میں ڈال دے تو کوئی قوت اسے روک نہیں سکتی وہ باجبروت وباملکوت خدا ہے ، یہ صحیح ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا ، اس کا عدل ورحم اسے شفقت ورحم پر مجبور کریگا مگر جہاں تک اس کے جلال وقدرت کا تعلق ہے ‘ وہ ہر ضابطہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 125–126

ف 1 میدان بدر میں یہ نصرت و امداد اس وقت ہوئی تھی جب آپ مسلمانوں سے یوں فرما رہے تھے کہ کیا تمہارے اطمینان قلب کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ تمہارا پروردگار تین ہزار نازل شدہ فرشتوں سے تمہاری امداد فرمائے جو آسمان سے اسی کام کے لئے نازل کئے جائیں گے۔ ہاں کیوں نہیں حق تعالیٰ کا یہ وعدہ تمہاری تقویت کے لئے ضرور کافی ہوگا بلکہ اگر تم مقابلہ میں ثابت قدم رہو گے اور تقویٰ اور پرہیزگاری کے پابند رہو گے اور اگر دشمن جوش میں آ کر تم پر دفعۃً ٹوٹ پڑیں گے تو اللہ تعالیٰ اسی آن تمہاری مدد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا جن کی علامت اور نشان مخصوص ہوں گے۔ (تیسیر) تسویم۔ کے معنی علامت لگانا یہ علامت یا تو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 125–127

ف 2۔ یہاں امداد کی حکمت نہایت تصریح کے ساتھ فرمائی جس میں غور کرنے سے اس مضمون میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ حاصل اس کا یہ ہوا کہ ان فرشتوں کے نزول سے اصلی مقصود یہ تھا کہ مسلمانوں کے قلب کو سکون ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس طرح تم کو فتح و نصرت کی خوشخبری دی گئی تاکہ تمہارے دل مطمئن ہوجائیں : 238: بدر ، احد اور احزاب تینوں جنگوں میں مسلمانوں کی تعدادکفار کی تعداد کے مقابلے میں کوئی نسبت نہ رکھتی تھی۔ تینوں جنگوں کی ابتداء کفار کی طرف سے ہوئی جو بدنیتی پر مبنی تھی کیونکہ تینوں ہی جنگوں کی غرض مسلمانوں اور اسلام کا استیصال تھا۔ تینوں ہی جنگوں میں امداد الٰہی یعنی نزول ملائکہ کی خوشخبری مسلمانوں کو سنائی گئی اور تینوں ہی جنگوں میں کفار اپنے مقصد میں ناکام رہے۔ جنگ احد میں اگرچہ مسلمانوں کو کافی نقصان ہوا لیکن وہ مسلمانوں کی اپنی کوتاہی کا نتیجہ تھا تاہم انجام کار فتح اسلام ہی کو نصیب ہوئی اور خصوصاً جنگ احزاب جس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 125–129

Commentary In the previous verses, the battle of Badr was cited in relation to the battle of Uhud. Briefly stated there was the unseen support from Allah Almighty given to Muslims. In the present verses, some details of that support have been mentioned. Also stated is the wisdom behind the sending of angels. One may naturally ask a question here. When Allah Almighty has endowed His angels with such power that just one of them could over-turn an entire habitation, very much like what happened with the land of the people of Lut (علیہ السلام) which was overturned single-handedly by the angel…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 125–129

97. When the Prophet was injured he uttered words of imprecation against the unbelievers: 'How can a people that injures its own Prophet attain salvation?' These verses are in response to that utterance.

Read the full tafseer →