Aal-i-Imraan 3:127

Aal-i-Imraan · from ayah 127

3:127

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآىِٕبِیْنَ ۟لِيَقۡطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَوۡ يَكۡبِتَهُمۡ فَيَنۡقَلِبُوۡا خَآئِبِيۡنَ

(یہ خدا نے) اس لیے (کیا) کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک یا انہیں ذلیل ومغلوب کر دے کہ (جیسے آئے تھے ویسے ہی) ناکام واپس جائیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

That He might cut down a section of the disbelievers or suppress them so that they turn back disappointed.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 13 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:127

(اور یہ مدد وہ تمہیں اس لیے دے گا) تاکہ کفر کی راہ چلنے والوں کا ایک بازو کاٹ دے، یا ان کو ایسی ذلیل شکست دے کہ وہ نامرادی کے ساتھ پسپا ہو جائیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ خدا نے) اس لیے (کیا) کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک یا انہیں ذلیل ومغلوب کر دے کہ (جیسے آئے تھے ویسے ہی) ناکام واپس جائیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

(اس امداد الٰہی کا مقصد یہ تھا کہ اللہ) کافروں کی ایک جماعت کو کاٹ دے یا انہیں ذلیل کر ڈالے اور (سارے کے سارے) نامراد ہو کر واپس چلے جائیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اور جنگ بدر میں یہ مدد اللہ نے اس لئے کی) تاکہ جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے ان کا ایک حصہ کاٹ کر رکھ دے، یا ان کو ایسی ذلت آمیز شکست دے کہ وہ نامراد ہو کر واپس چلے جائیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس لئے کہ کافروں کا ایک حصہ کاٹ دے یا انہیں ذلیل کرے کہ نامراد پھر جائیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(مزید) اس لئے کہ (اللہ) کافروں کے ایک گروہ کو ہلاک کر دے یا انہیں ذلیل کر دے سو وہ ناکام ہو کر واپس پلٹ جائیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تاکہ وہ ان لوگوں کا ایک حصہ کاٹ دے جنھوں نے کفر کیا، یا انھیں ذلیل کر دے، پس وہ ناکام واپس لوٹ جائیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تاکہ اللہ کافروں کا ایک بازو کاٹ دے یا انہیں ایسا ذلیل کرے کہ وہ ناکام ہو کر پسپا ہوجائیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تاکہ اللہ کافروں کے ایک حصے کو کاٹ دے یا انہیں ذلیل کردے کہ وہ خوار ہو کر لوٹیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور ایسا اس غالب و حکیم مطلق نے اس لئے کیا کہ) تاکہ وہ جڑ (بنیاد) کاٹ دے کافروں کے ایک گروہ کی، (اور ان کے کبر و غرور کی) یا ان کو ایسا ذلیل و خوار کردے کہ وہ لوٹیں ناکام (و نامراد) ہو کر

— مولانا اسحاق مدنی

(اور یہ نصرت اس غرض سے تھی) تاکہ کفر کرنے والوں میں سے ایک گروہ کو ہلاک کردے یا انہیں خوار کردے کہ وہ ناکام ہو کر واپس جائیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اور یہ مدد وہ تمہیں اس لیے دے گا) تاکہ کافروں کا ایک بازو کاٹ دے یا انہیں ذلیل کر دے کہ وہ خائب و خاسر ہو کر لوٹ جائیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ مدد وہ تمہیں اس لیے دے گا) تاکہ کفر کی راہ چلنے والوں کا ایک بازو کاٹ دے، یا ان کو ایسی ذلیل شکست دے کہ وہ نامرادی کے ساتھ پسپا ہوجائیں

— محترمہ رفعت اعجاز

And Allah provided this aid to you in order to cut off a part of those who disbelieved and frustrate them so that they retreat in utter disappointment.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Allah helped you) so that He may cut off a flank of disbelievers or throw them down in disgrace, and they go back frustrated.

— Muhammad Taqi Usmani

(Allah helped you) so that He may cut off a flank of disbelievers or throw them down in disgrace, and they go back frustrated.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That He might cut off a part of those who disbelieve, or expose them to infamy, so that they retire frustrated.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That He may cut off a part of those who disbelieve, or overwhelm them so that they retire, frustrated.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That He might cut down a section of the disbelievers or suppress them so that they turn back disappointed.

— Saheeh International

(They are sent) to break the power of the unbelievers or disgrace them and make them return after having lost all hope."

— Muhammad Sarwar

That He may cut off a portion from among those who disbelieve, or abase them so that they should return disappointed of attaining what they desired.

— Muhammad Habib Shakir

That He may cut: off a portion of those who disbelieve, or abase them so that they may go back disappointed.

— Abdul Majid Daryabadi

That He might cut off a fringe of the Unbelievers or expose them to infamy, and they should then be turned back, frustrated of their purpose.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:127

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 124–129

غزوہ بدر اور تائید الٰہی آنحضرت ﷺ کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری عامر شعبی ربیع بن انس وغیرہ کا یہی قول ہے ابن جریر کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبی کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے ربیع بن انس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہوگئے پھر پانچ ہزار، یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 125–129

سورة اٰلِ عِمْرٰن 97 نبی ﷺ جب زخمی ہوئے تو آپ کے منہ سے کفار کے حق میں بد دعا نکل گئی اور آپ نے فرمایا کہ ”وہ قوم کیسے فلاح پاسکتی ہے جو اپنے نبی کو زخمی کرے“۔ یہ آیات اسی کے جواب میں ارشاد ہوئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 125–127

معارف و مسائل فرشتوں کی امداد بھیجنے کی حکمت اور اصل مقصد اور تعداد ملائکہ میں مختلف عدد بیان کرنے کی حکمت یہاں طبعی طور پر ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کو وہ طاقت بخشی ہے کہ ایک ہی فرشتہ پوری بستی کا تختہ الٹ سکتا ہے، جیسا کہ قوم لوط کی زمین تنہا جبرئیل امین نے الٹ دی تھی، تو پھر فرشتوں کا لشکر بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔ نیز یہ کہ جب فرشتے میدان میں آئے ہی تھے تو ایک کافر بھی بچنا نہیں چاہئے تھا اس کا جواب خود قرآن کریم نے آیت " وما جعلہ اللہ الا بشری " میں دیدیا، کہ فرشتوں کے بھیجنے میں در حقیقت ان سے کوئی میدان جنگ فتح کرانا مقصود نہ تھا، بلکہ مجاہدین مسلمین کی تسلی اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لِيَقْطَعَ طَرَفًا الایہ۔ یہ مقصد بیان ہوا ہے اس موقع پر خاص اہتمام کے ساتھ حوصلہ افزائی کا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اس جنگ میں یا تو قریش کی قوت بالکل پامال ہوجائے اور وہ ذلیل و خوار ہو کر واپس ہوں یا کم از کم ان کی طاقت کا ایک حصہ ٹوٹ جائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 126–127

127۔ 1 یہ اللہ غالب و کار فرما کی مدد کا نتیجہ بتلایا جا رہا ہے سورة انفال میں فرشتوں کی تعداد ایک ہزار بتلائی گئی ہے، " اذتستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملٰئکۃ " جب تم اپنے رب سے مدد طلب کر رہے تھے، اللہ تعالیٰ نے تمہاری فریاد سنتے ہوئے کہا کہ میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرونگا۔ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے واقعتًا تو ایک ہزار ہی نازل ہوئے اور مسلمانوں کے حوصلے اور تسلی کے لئے تین ہزار کا اور پھر پانچ ہزار کا مزید مشروط وعدہ کیا گیا۔ پھر حسب حالات مسلمانوں کی تسلی کے نقطہ نظر سے بھی ان کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ اس لئے بعض مفسرین کے نزدیک یہ تین ہزار پانچ ہزار فرشتوں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 126–130

44: امام رازی نے تفسیر کبیر میں فرمایا ہے کہ جنگ احد کے موقع پر مکہ کے مشرکین نے سود پر قرض لے کر جنگ کی تیاری کی تھی، اس لئے کسی مسلمان کے دل میں بھی خیال ہوسکتا تھا کہ مسلمان بھی جنگ کی تیاری میں یہی طریقہ اختیار کریں، اس آیت نے انہیں خبر دار کردیا کہ سود پر قرض لینا حرام ہے، یہاں سود کو کئی گنا بڑھا کر کھانے کا جو ذکر ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کم شرح پر سود کی اجازت ہے ؛ بلکہ اس وقت چونکہ سودی قرضوں میں بکثرت یہی ہوتا تھا کہ سود اصل سے کئی گنا بڑھ جاتا تھا اس لئے ایک واقعے کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے ورنہ سورة بقرہ (آیت 277 اور 278) میں صاف واضح کردیا گیا ہے کہ اصل قرض پر جتنی بھی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس کے بعد اس نصرت کی حکمت بھی یہاں بیان کردی جاتی ہے ‘ کیسی فتح ؟ وہ فتح جس کے مقاصد میں سے کوئی مقصد بھی انسان کی ذات سے وابستہ نہیں ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ فتح اللہ کی جانب سے آتی ہے ۔ وہ اللہ کی تقدیر کو ظاہر کرتی ہے ۔ کسی رسول اور اس کے ساتھیوں کو فتح کی صورت میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ملتا ۔ نہ اس میں ان کی کوئی ذاتی غرض ہوتی ہے۔ نیز حصول فتح میں نہ رسول کا دخل ہوتا ہے نہ اس کے ساتھ اس میں دخیل ہوتے ہیں ۔ وہ تو تقدیر الٰہی کے ظہور کے لئے ایک مظہر ہوتے ہیں ۔ قدرت انہیں جس طرح چاہتی ہے ‘ استعمال کرتی ہے ۔ وہ اس فتح ونصرت کا نہ سبب حقیقی ہوتے ہیں نہ اس کے صانع ہوتے ہیں ۔ وہ نہ فاتح ہوتے ہیں اور نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی فرشتے بھیجنے سے مقصود تمہاری مدد کرنا تھا کہ تمہارے دل مضبوط ہوں اور خدا کی طرف سے بشارت و طمانینت پا کر پوری دلجمعی اور پامردی کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرو۔ جس سے یہ غرض تھی کہ کافروں کا زور ٹوٹے۔ ان کا بازو کٹ جائے۔ پُرانے نامور مشرک کچھ مارے جائیں، کچھ ذلیل و خوار ہوں، اور بقیۃ السیف بہزار رسوائی و ناکامی واپس ہوجائیں چناچہ ایسا ہی واقعہ ہوا۔ ستَر سردار جن میں اس امت کا فرعون ابو جہل بھی تھا، مارے گئے، ستر قید ہوئے۔ اور نہایت ذلیل و نامراد ہو کر مکہ واپس جانا پڑا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 127 لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَوْ یَکْبِتَہُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآءِبِیْنَ یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں غزوۂ احد کے حالات و واقعات اور ان پر تبصرہ زمانی ترتیب سے نہیں ہے۔ سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کا اپنے گھر سے نکل کر میدان جنگ میں مورچہ بندی کا ذکر ہوا۔ پھر اس سے پہلے کا ذکر ہو رہا ہے جب خبریں پہنچی ہوں گی کہ تین ہزار کا لشکر مدینہ پر حملہ آور ہونے کے لیے آ رہا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کی خوشخبری دی ہوگی۔ اب اس جنگ کے دوران مسلمانوں سے جو کچھ خطائیں اور غلطیاں ہوئیں ان کی نشان دہی کی جا رہی ہے۔ خود آنحضور ﷺ سے بھی خطا کا ایک معاملہ ہوا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

116 اللہ کی مدد کا مقصد یہ تھا کہ کفر کا زور ٹوٹ جائے اور یہ مقصد مکمل طور پر حاصل ہوگیا۔ کافروں کے ستر سردار بمعہ ابو جہل سالار لشکر اس جنگ میں مارے گئے، اتنے ہی قید ہوگئے اور باقی لشکر ذلیل و خوار ہو کر بھاگ کھڑا ہوا جس کے سوا ان کے لیے کوئی چارہ کار ہی نہ رہ گیا تھا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا فرشتوں کا نزول بدر اور احد دونوں میدانوں میں ہوا تھا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بدر میں فرشتوں کا نزول یقینا ہوا تھا اور وہ کتاب و سنت سے ثابت شدہ ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ میدان احد میں بھی نزول ہوا تھا جیسا کہ مذکورہ آیات سے اشارہ ملتا ہے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اس میدان میں مسلمانوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

260 ۔ ذکر ابھی غزوۂ بدر کا چل رہا ہے۔ اور اشارات وتلمیحات اسی کی جانب ہیں۔ (آیت) ” لیقطع طرفا “۔ قطع یہاں ہلاک کرنے کے معنی میں ہے۔ اور ل، کا تعلق نصرکم (آیت ماقبل) سے ہے، ونظم الایۃ ولقد نصرکم اللہ ببدر لیقطع (قرطبی) ای لیھلک جماعۃ (راغب) لیھلک طائفۃ منھم (کشاف) (آیت) ” لیقطع طرفا من الذین کفروا “۔ یعنی کافروں کو تمہارے ہاتھوں تباہ وہلاک کرادے جیسا کہ جنگ بدر کے موقع پر ہوا، کہ قریش کے لیڈروں میں سے ستر (70) کی تعداد میں اس روز قتل ہوئے اور اسی قدر قید بھی (آیت) ” یکتبھم “۔ یعنی دنیا کی نظروں میں ذلیل ورسوا ،

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 124–130

آیت نمبر 130 تا 143 ترجمہ : اے ایمان والو ! یہ بڑھتا ثڑھتا سود کھانا چھوڑ دو (مُضٰعَفَۃً ) الف اور بغیر الف دونوں طریقوں پر ہے۔ اس طور پر کہ مدت پوری ہونے پر مالی مطالبہ بڑھا دو ۔ اور مطالبہ میں مہلت دے دو ۔ (اکل ربا) کو ترک کرکے اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اور اس آگ سے ڈرو جو (اصالۃً ) کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے کہ تم کو اس میں عذاب دیا جائے اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اور اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف دوڑو کہ جس کی وسعت زمین و آسمان ہیں (سَارِعُوْا) میں قبل السین واؤ اور بدون واؤ دونوں (قراءتیں) ہیں۔ یعنی (جنت کی وسعت) ان دونوں کی وسعت کے مانند ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لیقطع تاکہ کاٹ دے (ہلاک کردے) اس کا تعلق یانصرکم اللہ سے ہے یا یمدد کم سے یا ما النصر سے مؤخر الذکر صورت میں النصر میں لام عہدی ہوگا۔ طرفا من الذین کفروا تاکہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک کردے۔ قاموس میں ہے طرف کا معنی ہے کنارہ۔ کسی چیز کا ایک ٹکڑا اور شریف آدمی چناچہ بدر میں کافروں کے کمانڈر اور سترّ سردار مارے گئے اور سترّ گرفتار ہوئے۔ جس مفسر نے ان آیات کو جنگ احد کے متعلق قرار دیا ہے اس نے کہا کہ احد میں کافروں کے سولہ سردار مارے گئے تھے اور شروع میں فتح مسلمانوں کی ہوئی تھی لیکن جب انہوں رسول اللہ کے حکم کی مخالفت کی تو فتح شکست سے بدل گئی۔ و یکبتھم یا ان کو لوٹا دے۔ کَبَتٌ کا معنی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 126–127

(126۔ 127) اور اللہ تعالیٰ نے اس کمک کا وعدہ محض تمہاری مدد اور سکینت کے لیے کیا ہے اور فرشتوں سے امداد بھی منجانب اللہ ہے اور جو اس ذات پر ایمان نہ لائے، اسے سزا دینے میں غالب اور حکیم ہے جس کی چاہے مدد فرمائے یا یہ کہ احد کے دن جو واقعہ تمہیں پیش آیا، اس میں بہت سے حکمت والے پہلو ہیں اور یہ مدد اسی لیے نازل کی گئی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کفار مکہ میں سے ایک جماعت کا بالکل خاتمہ کردے اور ایک جماعت کو شکست دے دے، پھر وہ کفار (فتح) دولت اور غنیمت سے مایوس ہو کر واپس ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 124–127

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ : اس کا تعلق یا تو جنگ بدر سے ہے یا جنگ احد سے۔ امام طبری نے پہلی بات کو ترجیح دی ہے، یعنی جب کفار کی تیاری اور کثرت تعداد کو دیکھ کر مسلمانوں کے دلوں میں تشویش پیدا ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرشتوں کی مدد کا ذکر کر کے انھیں تسلی دی۔ چناچہ بدر میں فرشتے نازل ہوئے۔ بدر میں فرشتوں کے نزول کی کیفیت کے لیے دیکھیے سورة انفال (9) (ابن کثیر۔ شوکانی) بدر کے دن فرشتوں کی تعداد سورة انفال میں ایک ہزار ذکر ہوئی ہے، جبکہ یہاں تین ہزار اور پانچ ہزار کا ذکر ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ پہلے ایک ہزار کا وعدہ ہوا، پھر تین ہزار اور پھر پانچ ہزار کی بشارت ہوئی، ان میں آپس میں کوئی تعارض…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 126–127

آیت نمبر : 126 تا 127۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وما جعلہ اللہ الا بشری لکم “۔ اس میں ضمیر مدد کے لئے ہے اور وہ ملائکہ ہیں یا وعدہ ہے یا امداد ہے، اور اس پر قول باری تعالیٰ (آیت) ” یمددکم “۔ دلالت کرتا ہے یا پھر ضمیر تسویم (نشان لگانا) یا انزال (اتارنا) یا معنوی طور پر عدد کے لئے ہے، کیونکہ خمسۃ آلاف عدد ہے، (آیت) ” ولتطمئن قلوبکم بہ “۔ اس میں لام، لام کی ہے، یعنی ” ولتطمئن قلوبکم بہ جعلہ “۔ (تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہوجائیں ایسا کیا) اسی طرح یہ ارشاد ہے : (آیت) ” وزینا السماء الدنیا بمصابیح وحفظا “۔ ای حفظا لھا جعل ذالک (اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں کے ساتھ آراستہ کیا اور اس کی حفاظت کے لئے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 125–128

(1) ابن ابی شیبہ احمد عبدبن حمید بخاری مسلم ترمذی نسائی ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نحاس نے اپنی ناسخ میں اور بیہقی نے دلائل میں انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ کا وہ دانت ٹوٹ گیا جو سامنے والے دانتوں ناب کے درمیان ہوتا ہے اور آپ کا چہرہ مبارک بھی زخمی ہوگیا یہاں تک کہ آپ کے چہرہ پر خون بہہ نکلا آپ نے فرمایا یہ قوم کیسے کامیاب ہوگی جس نے اپنے نبی کے ساتھ ایسا (معاملہ) کیا حالانکہ وہ) نبی ﷺ ان کو اپنے رب کی طرف بلاتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ” لیس لک من الامر شیء او یتقوب علیہم او یعذبہم فانہم ظلمون “ (2) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لِیَـقْطَعَ : تاکہ وہ کاٹے ] [طَرَفًا : ایک پہلو کو ] [مِّنَ الَّذِیْنَ : ان لوگوں سے جنہوں نے ] [کَفَرُوْا : کفر کیا ] [اَوْ : یا ] [یَکْبِتَہُمْ : وہ ذلیل کرے ان کو ] [فَـیَنْقَلِبُوْا : نتیجتاً وہ لوگ پلٹیں ] [خَآئِبِیْنَ : نامراد ہونے والے ہو کر

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَوْ یَکْبِتَھُمْ فَیَنْقَلِبُوْا) مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بدر میں تم کو اس لیے غلبہ دیا کہ کافروں کے ایک گروہ کو ہلاک فرما دے یا ان میں سے بعض کو ذلیل اور خوار کر دے پھر ناکام ہو کر لوٹ جائیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ بدر میں ستر کافر مارے گئے جو اپنی جماعت کے رؤسا تھے اور ستر قید کر کے لائے گئے۔ جو بچے تھے وہ ناکام ہو کر واپس ہوگئے ان کی تعداد اور سامان نے کچھ کام نہ دیا اللہ کی مدد کی وجہ سے مسلمان غالب ہوئے حالانکہ وہ تھوڑے سے تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 123–127

تذکیر بقصہ بدر۔ برائے اظہار تاثیر توکل وتقوی وصبر۔ قال اللہ تعالیٰ ولقد نصرکم اللہ ببدر۔۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔ خائبین۔ اب قصہ احد کے بعد کچھ قصہ بدر کا ذکر کرتے ہیں اس غزوہ میں جو بےمثال فتح ونصرت ظہور میں آئی وہ ظاہر اسباب میں توکل اور تقوی اور صبر کی برکت تھی چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق مدد کی تمہاری اللہ نے جنگ بدر میں حالانکہ تم اس وقت بےسروسامان تھے اور دشمنوں کی نظروں میں ذلیل اور خوار تھے اور ظاہر اسباب میں دشمنوں کے مقابلہ میں تمہارا ٹھہرنا اور ان پر فتحیاب ہوناناممکن تھا مگر چونکہ اس بےسروسامانی میں تمہاری نظر اللہ پر تھی اس لیے اللہ نے تم کو عزت و رفعت دی۔ ہر کجا پستی اسب آب آنجارود ہر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

194 لِیَقْطَعَ میں لام نَصَرَکُمْ سے متعلق ہے۔ قطع کے معنی قتل کے ہیں اور طرف جماعت گروہ کے معنی میں ہے لیھلک طائفۃ منھم بالقتل والاسرالخ (مدارک ص 141 ج 1) یعنی جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے تمہاری غیب سے امداد اس لیے فرمائی تاکہ کافروں کی ایک جماعت تمہارے ہاتھوں ماری جائے اور وہ ذلیل و خوار ہوجائیں اور نامراد ہو کر گھروں کو لوٹیں اور اس طرح کفر کا زور ٹوٹ جائے۔ اور کافروں کی شان و شوکت اور ان کا رعب ووقار مسلمانوں کے ہاتھوں خاک میں مل جائے چناچہ ایسا ہی ہوا۔ بدر میں کفر وشرک کے ستر لیڈر اور سرغنے مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوئے اور ستر قید ہوئے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 126–129

ربط آیات : جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے۔ قرآن پاک کے اس مقام پر اصل تذکرہ تو غزوہ احد کا ہے۔ تاہم درمیان میں اللہ تعالیٰ نے مثال کے طور پر غزوہ بدر کا ذکر بھی کردیا ہے۔ تاکہ اہل اسلام کو تسلی رہے کہ جس مالک الملک نے انہیں نہایت بےسروسامانی کی حالت میں بدر کے مقام پر عظیم فتح سے نوازا تھا ، وہ اپنے بندوں کو بےیارو مددگار نہیں چھوڑے گا۔ واقعہ بدر کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک ہزار فرشتوں کے نزول کی بشارت سنائی ، پھر تین ہزار کا وعدہ فرمایا ، نیز یہ بھی فرمایا کہ اگر مشرکین کی جمعیت میں اچانک اضافہ ہوگیا تو اللہ تعالیٰ آسمانوں سے لیے پانچہزار فرشتوں کو نازل فرما دے گا ، جو اپنے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَوْ يَكْبِتَھُمْ فَيَنْقَلِبُوْا خَاۗىِٕــبِيْنَ۝ 127 قطع القَطْعُ : فصل الشیء مدرکا بالبصر کالأجسام، أو مدرکا بالبصیرة كالأشياء المعقولة، فمن ذلک قَطْعُ الأعضاء نحو قوله : لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] ، ( ق ط ع ) القطع کے معنی کسی چیز کو علیحدہ کردینے کے ہیں خواہ اس کا تعلق حاسہ بصر سے ہو جیسے اجسام اسی سے اعضاء کا قطع کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] میں پہلے تو ) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسرے طرف کے پاؤں کٹوا دونگا طرف طَرَفُ الشیءِ :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 124–127

ترکیب : اذ تقول ممکن ہے کہ اذھمت سے بدل ہو اور ممکن ہے کہ نصر کم کا ظرف ہو لیس لک خبر شیء اسم اویتوب او یعذبہم معطوف ہیں یکبتہم پر یا الامر پر یا شیء پر با ضماران اور الان کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے۔ تفسیر : پہلی آیت میں ذکر تھا کہ باوجود یکہ تمہاری حالت نہایت خراب تھی مگر خدا نے بدر کے جنگ میں اسباب ظاہر کے برخلاف تمہاری مدد کی تھی۔ اب یہاں اس مدد غیبی کو یاد دلاتا ہے یعنی مدد غیبی کا وہ دن تھا کہ جس دن اے نبی تم مسلمانوں کو تسلی دے رہے اور یہ کہہ رہے تھے کہ تم اپنی قلت اور بےسرو سامانی اور کفار کی کثرت اور اسباب حرب پر خیال کرکے ہراساں نہ ہو۔ کیا تم کو کافی نہیں کہ خدا تمہاری تین ہزار فرشتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 126–127

وَمَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشْرٰی لَـکُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُـکُمْ بِہٖ ط وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِاللّٰہِ الْعَزِیْزِالْحَکِیْمِ ۔ لا لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَوْیَـکْبِتَہُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ ۔ (اور نہیں بنایا اس کو اللہ تعالیٰ نے مگر تمہارے لیے بشارت تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہوجائیں اور مدد نہیں آتی مگر اللہ کی جانب سے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ تاکہ اللہ کافروں کے ایک حصے کو کاٹ دے یا انھیں رسوا کر دے کہ وہ خوار ہو کر لوٹیں) (126 تا 127) فرشتوں کا اترناصرف بشارت ہے، مدد اللہ کی جانب سے ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جو فرشتوں کے نازل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 124–128

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ کی نصرت کے بغیر کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ اسی طرح معاف کرنا یا کسی کو عذاب دینا بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے کیونکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ غزوۂ احد میں مسلمانوں کے سر کردہ جنگجو یہاں تک کہ حضرت حمزہ ؓ بڑی بیدردی کے ساتھ شہید کردیے گئے اور رسول مکرم ﷺ کی ذات اقدس کو بھی زخم آئے، رباعی دانت شہید ہوا اور آپ بےہوش ہو کر ایک گھاٹی میں جا گرے جونہی ہوش سنبھالا تو آپ کی زبان اطہر سے بےساختہ بددعا نکلی : (کَیْفَ یُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوْا نَبِیَّھُمْ وَکَسَرُوْا رُبَاعِیَتَہٗ وَھُوَ یَدْعُوْھُمْ إِلَی اللّٰہِ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ (لَیْسَ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قتل کفار کی بشارت : 127: لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَوْیَکْبِتَہُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ (تاکہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک کردے) قتل وقید کے ذریعے چناچہ بدر میں ستر کافر قتل ہوئے اور سترسردار قید ہوئے۔ لِیَقْطَعَ کی لام۔ نمبر 1۔ لَقَدْنَصَرَکُمُ اللّٰہُ سے متعلق ہے یا نمبر 2۔ وَمَا النَّصْرُ اِلاَّ مِنْ عِنْدَ اللّٰہِ سے متعلق ہے یا نمبر 3۔ یُمْدِدْکُمْ رَبُّکُمْ سے متعلق ہے۔ اَوْیَکْبِتَہُمْ یا انکو رسوا کرے اور شکست سے غصہ دلا کر لوٹائے۔ الکبت۔ دراصل شدید بزدلی جو دل میں رچ جائے اور اسکی وجہ سے آدمی منہ کے بل گرجائے۔ فَیْنَقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ پس وہ اپنے شہروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

127۔ (آیت)” لیقطع طرفا من الذین کفروا “۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد کی تاکہ کافروں کی ایک گروہ کو ہلاک کر دے ، سدی (رح) ، فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مدد اس لیے کی تاکہ شرک کے ستونوں میں سے ایک رکن کو مٹادیں ان کے قتل اور قید کرنے کے ذریعے ، چانچہ بدر میں کافروں کے ستر کمانڈر اور سردار مارے گئے اور ستر گرفتار ہوئے اور جنہوں نے اس آیت کو احد کے ساتھ متعلق کیا ہے ، اس نے کہا کہ احد میں کافروں کے سولہ سردار مارے گئے تھے اور شروع میں فتح مسلمانوں کی ہوئی تھی لیکن جب انہوں نے رسول کریم ﷺ کے حکم کی مخالفت کی تو فتح شکست کی صورت میں بدل گئی ، (آیت)” اویکبتھم “۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 123–127

(123 ۔ 127) ۔ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کو شکست ہو کر ایک بڑی پریشانی مسلمانوں میں پھیل گئی تھی۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے احد کی لڑائی کے ذکر میں دو جگہ بدر کا ذکر فرمایا ہے۔ ایک اس آیت میں اور دوسرے آئندہ کی آیت میں اس طرح کہ اگر اس احد کی لڑائی میں تمہارے ستر آدمی شہید ہوگئے تو تم بھی تو بدر کی لڑائی میں کافروں کے ستر آدمی مارچکے ہو۔ اور ستر کو قید کرچکے ہو یہ ایک لڑائی کے ذکر میں دوسری لڑائی کا ذکر اسی واسطے فرما دیا ہے کہ اس فتح کی لڑائی کو یاد کر کے اس شکست کی لڑائی کا زیادہ افسوس مسلمانوں کو نہ رہے یہ فرشتوں کی مدد کا ذکر جو اس آیت میں ہے اس میں مفسروں کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ بدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 127–128

آیت 127 اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد و مقاصد کے لئے کرتا ہے۔ (1) تاکہ کافروں کی ایک جماعت کو کاٹ لے۔ یعنی وہ قتل ہوجائیں یا قید ہوجائیں یا ان کے شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہوجائے، یا مال غنیمت حاصل ہو۔ اس طرح مومنوں کو قوت حاصل ہو اور کافر ذلیل ہوجائیں۔ کیونکہ اسلام کا مقابلہ کرنے اور اسلام سے جنگ کرنے کی قوت انہیں یا افراد سے حاصل ہوتی ہے یا ہتھیاروں سے پامال سے یا زمین سے۔ ان میں سے کسی بھی چیز کا ختم ہونا یا مسلمانوں کے قبضے میں آنا، ان کی قوت ان کی قوت میں کمی کا باعث ہے۔ -2 دوسرا مقصد یہ ہے کہ کافر اپنی قوت و کثرت پر اعتماد کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی خواہش…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 119–130

سود کی ہر صورت حرام ہے قول باری ہے (لاتاکلوا الربواضعا فامضاعفۃ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو ) قول باری (اضعا فاعفۃ) کے دومعنی بیان کیے گئے ہیں اول تاجیل قرض کی ادائیگی کی مدت میں اضافے کے ساتھ سود کو رقم میں اضافہ کرتے جانا اور ہر مدت کے لیے زائد رقم کی قسط مقررکر دینا۔ دوم سودی رقموں کے ذریعے اپنے مال میں کئی گنا اضافہ کرلینایہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس چیز کا خصوصیت کے ساتھ ذکرکر دیاجائے، وہ اس پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کے ماسواچیزوں کا حکم کے برعکس ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر کئی کئی گنابڑھا کر سود خوری کی تحریم اس پر دلالت کرتی کہ اگر کئی کئی گنا اضافے کی صورت نہ ہو تو سود کھانا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 127–128

262 کافروں کے ایک گروہ کی بیخ کنی کا مقصد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اللہ جڑ کاٹ دے کافروں کے ایک گروہ کی۔ جو اپنے ظاہری اسباب و وسائل پر مست اور اپنے کبر و غرور کے نشے میں چور تھے، چناچہ ان کے ستر سردار مارے گئے۔ ان کا نشہ ہرن ہوگیا۔ غرور خاک میں مل گیا۔ اور ان کی کمر ٹوٹ گئی۔ یہ ایسے ہوگئے کہ اب ان کے نام بطون اوراق ہی میں باقی رہ گئے اور بس۔ سو اس سے اس مقصد کو ظاہر اور واضح فرما دیا گیا جس کے لئے اہل ایمان کی مدد کی غرض سے فرشتوں کی فوج کو اتارنے کا یہ خاص اہتمام فرمایا گیا ۔ والحمد للہ ۔ سو ایسے معاند اور ہٹ دھرم کافر و منکر جو اپنے کفر وانکار پر اڑ جائیں وہ اللہ کی دھرتی پر ایک ایسا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 121–127

غزوہ احد تشریح۔: گزشتہ آیات میں بیان ہوا تھا کہ اگر مسلمان صبر اور تقوٰی پر مضبوطی سے قائم رہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ غزوہ احد کی معمولی شکست اور تکلیف کا بیان اس لیے کیا گیا ہے کہ اس میں مسلمانوں نے صبر اور تقوٰی میں کمزوری دکھائی تھی اور اسی کمزوری اور کوتاہی کی سزا ان کو فوراً مل گئی۔ اور غزوہ بدر کی جیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ شروع میں غزوہ احد کے لیے نبی اکرم ﷺ کا صبح نکلنا، میدان جنگ میں اپنی فوج کو ترتیب دینا، فوج کو مناسب جگہوں پر بٹھانا اور میدان جنگ کا نقشہ درست کرنا یہ سب ذکر کیا گیا ہے۔ صرف جنگ احد کی یاد دہانی کے لیے غزوہ احد شوال 3 ھ کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 121–129

آیات 121- 129 اسرارو معارف واذ غدوت من اھلک………………فاتقو اللہ لعلکم تشکرون۔ کفار کی اسلام دشمنی اور جوش غضب کا اظہار ان غزوات سے ہوتا ہے جن میں رحمت عالم ﷺ کو بھی شمشیر بکف ہونا پڑا۔ فرمایا کہ وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس سے نکلے ، اور مسلمانوں کو کفار سے مقابلہ کرنے کے لئے ترتیب سے جما رہے تھے۔ یہاں مفہوم سے آگاہی کے لئے واقعات جنگ سے آگاہ ہونا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ یہ غزوہ احد کے واقعات ہیں جو 3 ھ میں وقوع پذیر ہوئی۔ 2 ھ میں مقام بدر پر ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد مشرکین مکہ نے یہ عہد کیا کہ جب تک مسلمانوں سے اس کا بدلہ نہ لیا جائے تب تک چین حرام ہے۔ چناچہ شام…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 126–128

ف 3 اس آیت میں پیغمبر سے فرمایا کہ بندے کو اختیار نہیں ہر قسم کے اختیار رات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ (ازموضح) تفاسیر میں ہے کہ احد کے دن جب آپ ﷺ کے دندان مبارک شہید ہوگئے اور آپ ﷺ کی چہرہ مبارک زخمی ہوگیا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیف یفلح قوم شجو ابیتھم اور بخاری میں ہے کہ آپ ﷺ نے نمازوں میں قنوت بھی شروع کردی جس میں نام لے کر مشرکین پر لعنت بھجتے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے دعاقنوت ترک کردی اور یہ وقعہ ہے کہ جب کے نام لے کر آپ ﷺ بدعا کرتے تھے وہی قبلیے بعد میں مسلمانوں ہوگئے۔ اسی طرح ا او یتوب علیھم کا منظر سامنے آگیا ابن کثیر ،۔ قرطبی) جنگ احد کے تذکرہ میں سود کی حرمت کی حکم بظاہر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 127–129

(3:127) لیقطع۔ قطع سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب (باب فتح) مضارع پر لام جاء مکسور فعل کی علت یا سبب بیان کرنے کے لئے آئے تو اس کے بعد ان مصدری غائب کا آنا ضروری ہے اور مضارع پر اسی ان کی وجہ سے نصب آیا ہے اگر ان مذکور نہ ہو جیسا کہ آیۃ ہذا میں ہے تو محذوف مقدد قرار دیا جائیگا۔ لیکن اگر فعل سے پہلے لا نفی آیا ہو تو لام جر کے بعد ان کو ذکر کرنا لازم ہے۔ جیسے لئلا یکون للناس علیکم حجۃ (2:150) لیقطع۔ تاکہ کاٹ دے۔ ہلاک کر دے۔ طرفا۔ طرف کی جمع اطراف۔ ایک ٹکڑہ ۔ ایک حصہ۔ یکبتہم۔ مضارع واحد مذکر غائب ہم ضمیر جمع مذکر غائب کبت مصدر باب ضرب تاکہ وہ ان کو ذلیل کرے۔ مضارع پر نصب لام جار مکسور کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 121–129

لغات القرآن آیت نمبر 121 تا 129 غدوت (تو صبح کے وقت نکلا) اھلک (تیرے گھر والے) تبوئ (تو جگہ (مورچوں پر) بٹھارہا تھا) مقاعد للقتال (لڑائی کے ٹھکانے (مورچے) ھمت (ارادہ کیا) طائفتین (دونوں جماعتیں) تفشلا (وہ دونوں بزدلی دکھائیں) ولیھما (اللہ ان دونوں کا دوست ہے) فلیتوکل (پھر بھروسہ کرنا چاہیے) اذلة (کمزرر، خوار) الن یکفیکم (کیا تمہیں کافی نہیں ہوگا) ان یمدکم (یہ کہ تمہاری مدد کی جائے) ثلٰثة اٰلاف (تین ہزار) منزلین (اترنے والے) حمسة اٰلافٍ (پانچ ہزار) مسومین (نشان لگے ہوئے (پلے ہوئے) بشرٰی (خوش خبری) لتطمئن (تاکہ تمہیں اطمینان ہو) یقطع (تاکہ کٹ جائے) یکبت (ذلیل کردیتا ہے) ینقلبوا (وہ پلٹ جائیں)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 123–127

پانچ ہزار فرشتوں کی امداد احد کی لڑائی سے مسلمانوں میں پریشانی پھیل گئی تھی اس واسطے اللہ تعالیٰ نے احد کی لڑائی کے ذکر میں بدر کا ذکر فرمایا کہ احد کی لڑائی میں تمہارے ستر آدمی شہید ہوگئے تو تم بھی بدر کی لڑائی میں کافروں کے ستر آدمی مار چکے ہو اور ستر کو قید کیا۔ مسلمانوں نے بدر کی لڑائی میں صبر وتقویٰ سے کام لیا، اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ پانچ ہزار نشان والے فرشتوں کی مدد بھیجی اور مسلمانوں کی فتح اور کافروں کی شکست ہوئی۔ احد کی لڑائی میں آنحضرت ﷺ کی رفاقت خاص کے لئے صرف جبرائیل ومیکائیل (علیہما السلام) آئے تھے۔ بدر کی لڑائی کی طرح عام ملائکہ احد کی لڑائی میں آتے تو مسلمانوں کو ضرور فتح ہوتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 124–128

[45] یہ الفاظ نبی ﷺ نے اس وقت کہے تھے جب میدان جنگ کو جاتے ہوئے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی اپنے تین سو آدمیوں کے ساتھ لشکر اسلامی سے الگ ہوگیا اور مسلمانوں کی تعداد گھٹ کر سات سو رہ گئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 124–129

اللہ کی شان بےنیازی : (ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ آسمان و زمین جو کچھ ہے وہ خدائے متعال کے قبضہ قدرت میں ہے ، زمین کی بستیان اور آسمان کی بلندیاں سب اس کی قوت و عظمت پر دال ہیں ۔ اور کوئی نہیں جو اس کی خدائی سے باہر ہو ۔ وہ اگر بدترین لوگوں کو اپنی آغوش رحمت میں لے لے اور جنت ونعیم کی نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کا موقع دے تو کوئی شخص اسے روک نہیں سکتا اور اگر محبوب ترین اشخاص کو دہکتے ہوئے جہنم میں ڈال دے تو کوئی قوت اسے روک نہیں سکتی وہ باجبروت وباملکوت خدا ہے ، یہ صحیح ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا ، اس کا عدل ورحم اسے شفقت ورحم پر مجبور کریگا مگر جہاں تک اس کے جلال وقدرت کا تعلق ہے ‘ وہ ہر ضابطہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے یہ امداد محض اس لئے فرمائی کہ تم کو فتح کی بشارت اور خوشی حاصل ہو اور تاکہ تمہارے قلوب کو اضطراب اور پریشانی سے اطمینان حاصل ہو اور تمہارے دل اس امداد سے مطمئن ہوجائیں ورنہ نصرت و مدد تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی جانب سے اور اسی کے پاس سے ہوتی ہے جو کمال قوت کا بڑا مالک اور بڑا زبردست اور کمال حکمت کا مالک ہے عزیر کا تقاضا یہ ہے کہ بغیر کسی سبب کے غلبہ حاصل ہوجائے مگر حکمت اور اس کے حکیم ہونے کا مقتضا یہ ہے کہ جب چاہے اسباب سے غلبہ عطا کرے اور اس فتح اور غلبہ کی حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ منکرین حق کے ایک گروہ کو ہلاک کر دے یا ان میں سے بعض کو اس قدر ذلیل و خوار کر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 125–127

ف 2۔ یہاں امداد کی حکمت نہایت تصریح کے ساتھ فرمائی جس میں غور کرنے سے اس مضمون میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ حاصل اس کا یہ ہوا کہ ان فرشتوں کے نزول سے اصلی مقصود یہ تھا کہ مسلمانوں کے قلب کو سکون ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جنگ احد کے انجام کا ذکر کہ اس نصرت الٰہی کا نتیجہ کیا رہا ؟ 240: جنگ احد میں نصرت الٰہی کی دو اغراض بیان فرمائی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک کر دے اور دوسری یہ کہ ان کو بےنیل و مرام واپس کر دے۔ یہی وہ جنگ ہے کہ اس میں جنگ نے کئی پہلو بدلے شروع میں مسلمانوں کو فتح ہوتی دکھائی گئی اور مسلمان مال غنیمت کے اکٹھے کرنے میں مصروف ہوچکے تھے کہ کفار نے دوسری طرف سے حملہ کردیا یہ وہ وقت تھا جب جبل عینین والے مجاہدین کی اکثریت بھی اس مقام کو چھوڑ چکی تھی کہ فتح ہوگئی لیکن اس طرف سے مخالفین نے حملہ کردیا اور بھگدڑ سا مچ گیا۔ مسلمانوں کا بھی بہت نقصان ہوا خصوصاً نبی کریم ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 125–129

Commentary In the previous verses, the battle of Badr was cited in relation to the battle of Uhud. Briefly stated there was the unseen support from Allah Almighty given to Muslims. In the present verses, some details of that support have been mentioned. Also stated is the wisdom behind the sending of angels. One may naturally ask a question here. When Allah Almighty has endowed His angels with such power that just one of them could over-turn an entire habitation, very much like what happened with the land of the people of Lut (علیہ السلام) which was overturned single-handedly by the angel…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 125–129

97. When the Prophet was injured he uttered words of imprecation against the unbelievers: 'How can a people that injures its own Prophet attain salvation?' These verses are in response to that utterance.

Read the full tafseer →