Explained with ayahs 124–129
غزوہ بدر اور تائید الٰہی
آنحضرت ﷺ کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری عامر شعبی ربیع بن انس وغیرہ کا یہی قول ہے ابن جریر کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبی کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے ربیع بن انس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہوگئے پھر پانچ ہزار، یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
سورة اٰلِ عِمْرٰن 97
نبی ﷺ جب زخمی ہوئے تو آپ کے منہ سے کفار کے حق میں بد دعا نکل گئی اور آپ نے فرمایا کہ ”وہ قوم کیسے فلاح پاسکتی ہے جو اپنے نبی کو زخمی کرے“۔ یہ آیات اسی کے جواب میں ارشاد ہوئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
آیت لیس لک من الامر شیء۔ یہاں سے پھر اصل قصہ احد کی طرف عود ہے، درمیان میں مجملا قصہ بدر کا ذکر آگیا تھا، اور سبب نزول اس آیت کا یہ ہے کہ اس غزوہ احد میں حضور اقدس ﷺ کا دندان مبارک جو کہ سامنے کے دو اوپر کے دو نیچے کے دانتوں کی کروٹوں میں چار دانت ہوتے ہیں دو اوپر داہنے بائیں، دو نیچے داہنے بائیں، ان چاروں میں نیچے داہنی طرف کا دانت شہید ہوگیا، اور چہرہ مبارک مجروح ہوگیا، تو آپ کی زبان مبارک پر یہ کلمات آگئے، کہ ایسی قوم کو کیسے فلاح ہوگی جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ ایسا کیا، حالانکہ وہ نبی ان کو خدا کی طرف بلا رہا ہے، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
بخاری سے ایک قصہ اور بھی نقل کیا گیا ہے کہ آپ نے…
Read the full tafseer →آنحضرت ﷺ کو تسلی : یہ آیت آنحضرت ﷺ کی طرف التفات کی نوعیت کی ہے۔ اس جنگ کے سلسلے میں منافقین نے جو روش اختیار کی اور اپنی روش سے جو اثر دوسرے مسلمانوں پر انہوں نے ڈالا اس کی طرف اشارہ اوپر گزرا۔ قدرتی طور پر اس بات سے نبی ﷺ کو صدمہ پہنچا ہوگا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ اس معاملے میں نہ تم کو کوئی دخل ہے اور نہ اس کی تم پر کوئی ذمہ داری ہے۔ تم نے اپنا فرض کما حقہ انجام دے دیا۔ اب اگر کوئی گروہ خود اپنی جان پر ظلم ڈھاتا ہے تو اس کا غم تم کیوں کرو۔ اس کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو۔ وہ چاہے گا تو ان کو توبہ کی توفیق دے گا۔ یہ توبہ کریں گے اور وہ ان کو معاف کرے گا۔ اور اگر وہ اس کے اہل…
Read the full tafseer →128۔ 1 یعنی ان کافروں کو ہدایت دینا یا ان کے معاملے میں کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنا سب اللہ کے اختیار میں ہی ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ جنگ احد میں نبی کریم ﷺ کے دندان مبارک بھی شہید ہوگئے اور چہرا مبارک بھی زخمی ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا ' وہ قوم کس طرح فلاح یاب ہوگی جس نے اپنے نبی کو زخمی کردیا ' گویا آپ ﷺ نے ان کی ہدایت سے ناآمیدی ظاہر فرمائی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اسی طرح بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے بعض کفار کے لئے قنوت نازلہ کا بھی اہتمام فرمایا جس میں ان کے لئے بد دعا فرمائی جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ چناچہ آپ ﷺ نے بد دعا کا سلسلہ بند فرما دیا (ابن کثیر فتح القدیر) اس آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–130
44: امام رازی نے تفسیر کبیر میں فرمایا ہے کہ جنگ احد کے موقع پر مکہ کے مشرکین نے سود پر قرض لے کر جنگ کی تیاری کی تھی، اس لئے کسی مسلمان کے دل میں بھی خیال ہوسکتا تھا کہ مسلمان بھی جنگ کی تیاری میں یہی طریقہ اختیار کریں، اس آیت نے انہیں خبر دار کردیا کہ سود پر قرض لینا حرام ہے، یہاں سود کو کئی گنا بڑھا کر کھانے کا جو ذکر ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کم شرح پر سود کی اجازت ہے ؛ بلکہ اس وقت چونکہ سودی قرضوں میں بکثرت یہی ہوتا تھا کہ سود اصل سے کئی گنا بڑھ جاتا تھا اس لئے ایک واقعے کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے ورنہ سورة بقرہ (آیت 277 اور 278) میں صاف واضح کردیا گیا ہے کہ اصل قرض پر جتنی بھی…
Read the full tafseer →أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ……………” یا انہیں معاف کردے۔ “ اس لئے کہ بعض اوقات اہل اسلام کی فتح کے نتیجے میں کفار کو عبرت حاصل ہوتی ہے اور وہ سبق حاصل کرلیتے ہیں اور اس فتح کے نتیجے میں وہ اسلام قبول کرلیتے ہیں ‘ نتیجتاً اللہ انہیں معاف کردیتا ہے ۔ ان سے صفت کفر چلی جاتی ہے اور وہ راہ ہدایت پاکر اسلام پر جم جاتے ہیں۔
أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ……………” چاہے انہیں سزادے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔ “ عذاب کی ایک شکل تو یہ ہوتی ہے کہ اہل اسلام ان پر غالب آجاتے ہیں ‘ دوسری صورت قید ہونے کی
صورت میں وہ عذاب پاتے ہیں یا ان کا خاتمہ کفر پر ہوجاتا ہے اور انجام کار وہ سزائے جہنم کے مستحق ہوجاتے ہیں ۔ یہ…
Read the full tafseer →2 احد میں ستر صحابہ شہید ہوئے تھے جن میں حضور ﷺ کے چچا سید الشہداء حضرت حمزہ ؓ بھی تھے، مشرکین نے نہایت وحشیانہ طور پر شہداء کا مثلہ کیا (ناک کان وغیرہ کاٹے) پیٹ چاک کئے حتیٰ کہ حضرت حمزہ ؓ کا جگر نکال کر ہندہ نے چبایا۔ مفصل واقعہ آگے آئے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو بھی اس لڑائی میں چشم زخم پہنچا۔ سامنے کے چار دانتوں میں سے نیچے کا دایاں دانت شہید ہوا، خود کی کڑیاں ٹوٹ کر رخسار مبارک میں گھس گئیں، پیشانی زخمی ہوئی اور بدن مبارک لہو لہان تھا اسی حالت میں آپ ﷺ کا پاؤں لڑکھڑایا اور زمین پر گر کر بیہوش ہوگئے۔ کفار نے مشہور کردیا۔ اِنَّ مُحَمَّدَا قَدْ قُتِلَ (محمد ﷺ مارے گئے) اس سے مجمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
آیت 128 لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْہِمْ اَوْ یُعَذِّبَہُمْ
یہ اللہ کے اختیار میں ہے ‘ وہ چاہے گا تو ان کو توبہ کی توفیق دے دے گا ‘ وہ ایمان لے آئیں گے ‘ یا اللہ چاہے گا تو انہیں عذاب دے گا۔
فَاِنَّہُمْ ظٰلِمُوْنَ
ان کے ظالم ہونے میں کوئی شبہ نہیں ‘ لہٰذا وہ سزا کے حق دار تو ہوچکے ہیں۔ لیکن ہوسکتا ہے اللہ انہیں ہدایت دے دے۔ دیکھئے ‘ یہ وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔ چند سال پہلے طائف میں رسول اللہ ﷺ سے جس طرح بدسلوکی کا مظاہرہ کیا گیا وہ آپ ﷺ کی زندگی کا شدید ترین دن تھا۔ اس پر جبرائیل علیہ السلام نے آکر کہا کہ یہ ملک الجبال حاضر ہے۔ یہ کہتا ہے کہ مجھے اللہ نے بھیجا ہے ‘ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
117 میدان احد کے مزید حالات تو آگے چل کر مذکور ہوں گے۔ یہاں صرف ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس آیت کے نزول کا سبب بنا۔ وہ واقعہ یہ تھا کہ جنگ احد میں رسول اللہ ﷺ کا اگلا دانت ٹوٹ گیا اور سر زخمی ہوگیا۔ آپ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جاتے اور فرماتے، وہ قوم کیسے فلاح پائے گی۔ جس نے اپنے نبی کا سر زخمی کردیا اور دانت توڑ دیا۔ حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا تھا تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (مسلم۔ کتاب الجہاد، باب غزوہ احد) چناچہ اس موقع پر چند نامور مشرکین کا نام لے لے کر انہیں بددعا دی۔ مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ چند ہی روز گزرے تھے کہ جن مشرکوں کے حق میں آپ نے…
Read the full tafseer →261 ۔ (اور اس لیے فوری عذاب کے مستحق) روایتوں میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے چند شدید اور موذی قسم کے کافروں کے حق میں بددعا کی تھی، اس پر آیت نازل ہوئی (آیت) ” یتوب علیہم “۔ یعنی انہیں قبول اسلام کی توفیق دے دے، اتنے ہی ٹکڑے سے ظاہر ہوگیا تھا کہ مکہ کے کافروں میں سے کچھ ضرور ایمان لے آئیں گے، چناچہ لے آئے۔ (آیت) ” یعذبھم “۔ یعنی اسی دنیا میں عذاب دے دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–130
آیت نمبر 130 تا 143
ترجمہ : اے ایمان والو ! یہ بڑھتا ثڑھتا سود کھانا چھوڑ دو (مُضٰعَفَۃً ) الف اور بغیر الف دونوں طریقوں پر ہے۔ اس طور پر کہ مدت پوری ہونے پر مالی مطالبہ بڑھا دو ۔ اور مطالبہ میں مہلت دے دو ۔ (اکل ربا) کو ترک کرکے اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اور اس آگ سے ڈرو جو (اصالۃً ) کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے کہ تم کو اس میں عذاب دیا جائے اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اور اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف دوڑو کہ جس کی وسعت زمین و آسمان ہیں (سَارِعُوْا) میں قبل السین واؤ اور بدون واؤ دونوں (قراءتیں) ہیں۔ یعنی (جنت کی وسعت) ان دونوں کی وسعت کے مانند ہے…
Read the full tafseer →لیس لک من الامر شیء آپ ﷺ کو اس امر کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
(اس آیت کے شان نزول میں ایک اور قصہ بھی آیا ہے) جو امام احمد اور بخاری نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے حضرت ابن عمر کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا رسول اللہ فرما رہے تھے اے اللہ فلاں شخص پر لعنت کر۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے دعا کی اے اللہ ابو سفیان پر لعنت کر، اے اللہ حارث بن ہشام پر لعنت کر، اے اللہ سہیل بن عمرو پر لعنت کر، اے اللہ صفوان بن امیّہ پر لعنت کر۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ان سب کو توبہ کی توفیق عنایت کی گئی۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔
شیخ ابن حجر نے دونوں روایتوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
(128۔ 129) اے نبی کریم ﷺ آپ کے قبضہ قدرت میں خود توبہ اور عذاب نہیں کہ آپ غزوہ احد کے شکست خوردہ یا ان کے تیراندازوں کے لیے بددعا کریں، اللہ تعالیٰ اگر چاہے گا تو ان پر اپنی مہربانی سے توجہ فرمائے گا اور ان کے گناہوں کو اسلام (مکمل اطاعت) کی توفیق دے کر معاف کردے گا اور جو اللہ کے ہاں مغفرت کا اہل ہوتا ہے اس کی مغفرت اور جو عذاب کا مستحق ہوتا ہے اسے عذاب دیتا ہے، کہا گیا ہے کہ یہ آیت دو قبیلوں عصیہ اور ذکوان کے بارے میں نازل ہوئی ہے، انہوں نے کچھ صحابہ کرام کو شہید کردیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بددعا فرمائی تھی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
شان نزول : (آیت) ”لیس لک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ۔۔ : اس آیت میں پیغمبر ﷺ سے فرمایا کہ بندے کو اختیار نہیں، ہر قسم کے اختیارات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ (موضح)
بئرِ معونہ پر جن قبائل نے آپ ﷺ کے ستر صحابہ کو دھوکے سے قتل کیا تھا، ان کے خلاف اور جنگ احد میں مشرکین کی طرف سے جو لوگ پیش پیش تھے، ان کے خلاف رسول اللہ ﷺ نے نام لے لے کر دعائے قنوت شروع کی۔ بئر معونہ والا واقعہ بخاری میں موجود ہے۔ [ بخاری، المغازی، باب غزوۃ الرجیع۔۔
الخ : 4086 ]
عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز فجر کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد سر اٹھاتے تو ”سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ رَبَّنَا وَ لَکَ الْحَمْدُ“ کے بعد یہ دعا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
آیت نمبر : 128 تا 129۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) صحیح مسلم میں موجود ہے کہ غزوہ احد میں حضور نبی مکرم ﷺ کے دندان مبارک شہید کردیئے گئے اور آپ کا سرزخمی کردیا گیا، تو آپ ﷺ اس سے خون صاف کرنے لگے اور فرمانے لگے : ” وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جنہوں نے اپنے نبی کا سرزخمی کردیا اور اس کے دانت توڑ دیئے حالانکہ وہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہے ، “ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” لیس لک من الامر شیئ “۔ (1) (صحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیرباب غزوہ احد، جلد 2، صفحہ 108، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)
ضحاک (رح) نے کہا ہے : حضور نبی کریم ﷺ نے مشرکین کے لئے بددعا کرنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
(1) ابن ابی شیبہ احمد عبدبن حمید بخاری مسلم ترمذی نسائی ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نحاس نے اپنی ناسخ میں اور بیہقی نے دلائل میں انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ کا وہ دانت ٹوٹ گیا جو سامنے والے دانتوں ناب کے درمیان ہوتا ہے اور آپ کا چہرہ مبارک بھی زخمی ہوگیا یہاں تک کہ آپ کے چہرہ پر خون بہہ نکلا آپ نے فرمایا یہ قوم کیسے کامیاب ہوگی جس نے اپنے نبی کے ساتھ ایسا (معاملہ) کیا حالانکہ وہ) نبی ﷺ ان کو اپنے رب کی طرف بلاتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ” لیس لک من الامر شیء او یتقوب علیہم او یعذبہم فانہم ظلمون “
(2) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی ہے…
Read the full tafseer →[لَـیْسَ : نہیں ہے ] [لَکَ : آپ ﷺ کے لیے ] [مِنَ الْاَمْرِ : اس حکم میں سے ] [شَیْئٌ : کوئی چیز ] [اَوْ : یا ] [یَتُوْبَ عَلَیْہِمْ : وہ توبہ قبول کرے ان کی ] [اَوْ : یا ] [یُـعَذِّبَہُمْ : وہ عذاب دے ان کو ] [فَاِنَّـہُمْ : تو یقینا وہ لوگ ] [ظٰلِمُوْنَ : ظلم کرنے والے (تو) ہیں ]
ترکیب :” شَیْئٌ“ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے اور ” لَـیْسَ “ کا اسم ہے۔ ” لَکَ “ قائم مقام خبر مقدم ہے اور ” مِنَ الْاَمْرِ “ متعلق خبر ہے۔ درمیان میں یہ جملۂ معترضہ ہے ‘ کیونکہ آگے ” یَتُوْبَ “ اور ” یُعَذِّبَ “ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ گزشتہ آیت کے ” لِیَطْقَعَ “ اور ” اَوْ یَکْبِتَھُمْ “ پر عطف ہے۔ جملۂ معترضہ میں ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
اللہ تعالیٰ کو سب کچھ اختیار ہے
یہاں سے پھر غزوہ احد کے واقعہ کا تذکرہ شروع ہوتا ہے۔ اسباب النزول صفحہ 116 میں حضرت انس سے نقل کیا ہے کہ غزوہ احد میں آنحضرت ﷺ کے سامنے کے دانت شہید ہوگئے تھے اور آپ کا چہرہ مبارک زخمی ہوگیا تھا۔ چہرہ مبارک سے خون بہہ رہا تھا اور آپ فرما رہے تھے کہ وہ قوم کیسے کامیاب ہوگی جنہوں نے اپنے نبی کے چہرہ کو خون سے رنگ دیا۔ اس حال میں کہ وہ انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ) نازل فرمائی یعنی تمام امور اللہ کی طرف مفوض ہیں اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ آپ کو صبر کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
رجوع بقصہ احد۔
قال اللہ تعالی۔ لیس لک من الامرشئی۔۔ الی۔۔ واللہ غفور رحیم۔
غزوہ احدم میں جب آپ کا دندان مبارک شہید ہوا تو آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ کیسے فلاح پاسکتے ہیں جنہوں نے اپنے پیغمبر کے چہر کو زخمی کیا ہو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی بخاری کی روایت میں ہے کہ آپ نے چند کفار کے لیے جنہوں نے مسلمانوں کو شہید کیا تھا نام بنام صبح کی نماز میں بدعا کی تھی اور لعنت شروع فرمائی اس پر آیت نازل ہوئی (اے محمد ﷺ آپ کو اس کام میں کچھ اختیار نہیں لعنت اور رحمت اور ہدایت اور ضلالت سب اسی کے اختیار میں ہے وہ جو چاہے کرے یا تو وہ ان پر توجہ فرمائے کہ ان کو توبہ کی توفیق دے اور جو لوگ آج آپ کے اور آپ کے دین کے…
Read the full tafseer →195 اس آیت کا تعلق جنگ احد سے ہے صحیح مسلم میں ہے کہ جنگ احد میںحضور ﷺ کا سامنے ایک دانت شہید کردیا گیا۔ اور آپ کے سر مبارک میں بھی زخم آیا۔ آپ زخم سے خون پوچنھ رہے تھے اور ساتھ یہ بھی فرماتے جارہے تھے۔ کیف یقلح قوم شجوا نبیھم ﷺ وکسروا رباعیتہ وھو یدعوھم الی اللہ تعالیٰ (صحیح مسلم ص 108 ج 2) یعنی اس قوم کو کس طرح ہدایت نصیب ہوگی۔ جس نے اپنے پیغمبر کو زخمی کردیا حالانکہ وہ ان کو خدا کی طرف بلاتا ہے گویا کہ آپ نے ان کے لیے توفیق ایمان کو مستبعد سمجھا اور ان کی ہلاکت کے لیے بدعا کرنے کا ارادہ فرمایا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر آپ کا استبعاد دور فرمادیا اور آپ کو ان کے اسلام لانے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–129
ربط آیات :
جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے۔ قرآن پاک کے اس مقام پر اصل تذکرہ تو غزوہ احد کا ہے۔ تاہم درمیان میں اللہ تعالیٰ نے مثال کے طور پر غزوہ بدر کا ذکر بھی کردیا ہے۔ تاکہ اہل اسلام کو تسلی رہے کہ جس مالک الملک نے انہیں نہایت بےسروسامانی کی حالت میں بدر کے مقام پر عظیم فتح سے نوازا تھا ، وہ اپنے بندوں کو بےیارو مددگار نہیں چھوڑے گا۔ واقعہ بدر کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک ہزار فرشتوں کے نزول کی بشارت سنائی ، پھر تین ہزار کا وعدہ فرمایا ، نیز یہ بھی فرمایا کہ اگر مشرکین کی جمعیت میں اچانک اضافہ ہوگیا تو اللہ تعالیٰ آسمانوں سے لیے پانچہزار فرشتوں کو نازل فرما دے گا ، جو اپنے…
Read the full tafseer →لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ 128
أمر
الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته :إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123]
( ا م ر ) الامر
( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔
{ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے
توب
التَّوْبُ : ترک الذنب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
1 ؎ احد کے روز جبکہ عتبہ بن ابی وقاص کے ہاتھ سے آنحضرت ﷺ کے سر مبارک پر زخم شدید پہنچا اور حمزہ ؓ وغیرہ بڑے غازیان اسلام شہید ہوگئے تو حضور ﷺ نے چاہا کہ کفار پر بددعا کریں تاکہ وہ ہلاک ہوجاویں۔ اس امر سے خدا نے منع کیا اور لیس لک من الامریہ آیت نازل ہوئی کیونکہ خدا کو مسلمان کرکے اس قوم سے بڑا کام لینا تھا سو لیا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
لَیْسَ لَـکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ اَوْیَتُوْبَ عَلَیْہِمْ اَوْیُعَذِّبَہُمْ فَاِنَّہُمْ ظٰلِمُوْنَ ۔ وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاََرْضِ ط یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ ع
(اے پیغمبر ! تمہیں اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اللہ ان کی توبہ قبول کرے یا انھیں عذاب دے، بیشک وہ ظالم ہیں۔ اور اللہ ہی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے) (128 تا 129)
سُنتِ الٰہی
اے پیغمبر ! کسی قوم کو فلاح دینے یا نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–128
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ کی نصرت کے بغیر کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ اسی طرح معاف کرنا یا کسی کو عذاب دینا بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے کیونکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔
غزوۂ احد میں مسلمانوں کے سر کردہ جنگجو یہاں تک کہ حضرت حمزہ ؓ بڑی بیدردی کے ساتھ شہید کردیے گئے اور رسول مکرم ﷺ کی ذات اقدس کو بھی زخم آئے، رباعی دانت شہید ہوا اور آپ بےہوش ہو کر ایک گھاٹی میں جا گرے جونہی ہوش سنبھالا تو آپ کی زبان اطہر سے بےساختہ بددعا نکلی :
(کَیْفَ یُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوْا نَبِیَّھُمْ وَکَسَرُوْا رُبَاعِیَتَہٗ وَھُوَ یَدْعُوْھُمْ إِلَی اللّٰہِ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ (لَیْسَ…
Read the full tafseer →تمام اختیارات کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے :
128: لَـیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ اَوْیَتُوْبَ عَلَیْھِمْ اَوْیُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ ۔ (آپ کو اس امر کا کوئی اختیار نہیں)
نحو : لَیْسَ کا اسم شَیْئٌ ہے اور لَکَ اسکی خبر ہے اور مِنَ الْاَمْرِ یہ شَیْئٌ کا حال ہے کیونکہ وہ صفت ہے جس کو پہلے لا یا گیا ہے۔
اَوْیَتُوْبَ عَلَیْھِمْ (یا ان کی توبہ قبول کرے) : اس کا عطف لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَوْیَکْبِتَہُمْ پر ہے۔ اور لَیْسَ لَکَ جملہ معترضہ ہے۔ جو معطوف علیہ اور معطوف کے درمیان حائل ہوگیا ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے اللہ تعالیٰ ان کے معاملے کا مالک ہے خواہ ان کو…
Read the full tafseer →128۔ (آیت)” لیس لک من الامر شیئ “۔
(آیت)” لیس لک من الامر شیئ “۔ کا شان نزول)
اس آیت کے شان نزول میں آئمہ کرام کا اختلاف ہے، بعض حضرات نے کہا کہ اس آیت کا نزول ” بئر معونہ “ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین پر ہوا اور وہ ستر قراء صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین تھے جن کو آپ ﷺ نے جنگ احد سے چار ماہ بعد 4 ہجری صفر کے ماہ میں ستر قراء کو ان کی طرف بھیجا تاکہ ان کو قرآن کریم کی تعلیم دی ، ان صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے امیر منذر بن عمرو تھے مگر عامر بن طفیل (رح) نے ان سب قراء کو شہید کردیا ،
آپ ﷺ کو جب یہ خیر پہنچی تو بہت رنج اور دکھ ہوا ، آپ ﷺ ایک ماہ تک ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
(128 ۔ 129) ۔ اس آیت کے شان نزول علماء نے کئی طرح بیان کی ہے چناچہ صحیح بخاری اور احمدبن حنبل کی مسند میں حضرت ابن عمر ؓ سے اور صحیح بخاری کی ایک اور روایت میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ چند روز تک صبح کی نماز کی دوسری رکعت کے قومہ میں آنحضرت ﷺ نے صفوان بن امیہ اور حارث بن ہشام اور سہیل بن عمر اور قریش کے نام لے کر بدعا کرنی شروع کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی 3۔ اور مسلم اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ احد کی لڑائی کے بعد عتبہ بن ابی وقاص اور ابن قیمہ وغیرہ پر جنہوں نے آنحضرت کو زخمی کیا تھا آپ نے بد دعا کی اس پر یہ آیت اتری 4 اور مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
آیت 127
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد و مقاصد کے لئے کرتا ہے۔
(1) تاکہ کافروں کی ایک جماعت کو کاٹ لے۔ یعنی وہ قتل ہوجائیں یا قید ہوجائیں یا ان کے شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہوجائے، یا مال غنیمت حاصل ہو۔ اس طرح مومنوں کو قوت حاصل ہو اور کافر ذلیل ہوجائیں۔ کیونکہ اسلام کا مقابلہ کرنے اور اسلام سے جنگ کرنے کی قوت انہیں یا افراد سے حاصل ہوتی ہے یا ہتھیاروں سے پامال سے یا زمین سے۔ ان میں سے کسی بھی چیز کا ختم ہونا یا مسلمانوں کے قبضے میں آنا، ان کی قوت ان کی قوت میں کمی کا باعث ہے۔
-2 دوسرا مقصد یہ ہے کہ کافر اپنی قوت و کثرت پر اعتماد کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی خواہش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–130
سود کی ہر صورت حرام ہے
قول باری ہے (لاتاکلوا الربواضعا فامضاعفۃ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو ) قول باری (اضعا فاعفۃ) کے دومعنی بیان کیے گئے ہیں اول تاجیل قرض کی ادائیگی کی مدت میں اضافے کے ساتھ سود کو رقم میں اضافہ کرتے جانا اور ہر مدت کے لیے زائد رقم کی قسط مقررکر دینا۔ دوم سودی رقموں کے ذریعے اپنے مال میں کئی گنا اضافہ کرلینایہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس چیز کا خصوصیت کے ساتھ ذکرکر دیاجائے، وہ اس پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کے ماسواچیزوں کا حکم کے برعکس ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر کئی کئی گنابڑھا کر سود خوری کی تحریم اس پر دلالت کرتی کہ اگر کئی کئی گنا اضافے کی صورت نہ ہو تو سود کھانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
262 کافروں کے ایک گروہ کی بیخ کنی کا مقصد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اللہ جڑ کاٹ دے کافروں کے ایک گروہ کی۔ جو اپنے ظاہری اسباب و وسائل پر مست اور اپنے کبر و غرور کے نشے میں چور تھے، چناچہ ان کے ستر سردار مارے گئے۔ ان کا نشہ ہرن ہوگیا۔ غرور خاک میں مل گیا۔ اور ان کی کمر ٹوٹ گئی۔ یہ ایسے ہوگئے کہ اب ان کے نام بطون اوراق ہی میں باقی رہ گئے اور بس۔ سو اس سے اس مقصد کو ظاہر اور واضح فرما دیا گیا جس کے لئے اہل ایمان کی مدد کی غرض سے فرشتوں کی فوج کو اتارنے کا یہ خاص اہتمام فرمایا گیا ۔ والحمد للہ ۔ سو ایسے معاند اور ہٹ دھرم کافر و منکر جو اپنے کفر وانکار پر اڑ جائیں وہ اللہ کی دھرتی پر ایک ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–130
اللہ کا اختیار
تشریح : غزوہ احد میں جب نبی کریم ﷺ زخمی ہوگئے تو آپ ﷺ کے منہ سے بددعا نکل گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا : وہ قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جو اپنے نبی کے چہرے کو زخمی کردے۔ یہ آیات اسی کے جواب میں نازل ہوئی ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ نہ چاہتے تھے کہ آپ ﷺ بددعا دیں تو اللہ رب العزت نے فرمایا کہ انسان کو اللہ کے کاموں کا بالکل علم نہیں اور نہ ہی کوئی اختیار حاصل ہے۔ یہ علم اور اختیار صرف اللہ کو حاصل ہے کہ وہ جسے چاہے عذاب دے اور جسے چاہے ہدایت دے ہر اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے ایمان کی توفیق دے کر بخش دے اور جسے چاہے کفر کی سزا میں پکڑ لے۔ ویسے اللہ واحد کی یہ دونوں صفات، یعنی رحم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–129
آیات 121- 129
اسرارو معارف
واذ غدوت من اھلک………………فاتقو اللہ لعلکم تشکرون۔
کفار کی اسلام دشمنی اور جوش غضب کا اظہار ان غزوات سے ہوتا ہے جن میں رحمت عالم ﷺ کو بھی شمشیر بکف ہونا پڑا۔ فرمایا کہ وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس سے نکلے ، اور مسلمانوں کو کفار سے مقابلہ کرنے کے لئے ترتیب سے جما رہے تھے۔
یہاں مفہوم سے آگاہی کے لئے واقعات جنگ سے آگاہ ہونا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
یہ غزوہ احد کے واقعات ہیں جو 3 ھ میں وقوع پذیر ہوئی۔ 2 ھ میں مقام بدر پر ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد مشرکین مکہ نے یہ عہد کیا کہ جب تک مسلمانوں سے اس کا بدلہ نہ لیا جائے تب تک چین حرام ہے۔ چناچہ شام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
ف 3 اس آیت میں پیغمبر سے فرمایا کہ بندے کو اختیار نہیں ہر قسم کے اختیار رات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ (ازموضح) تفاسیر میں ہے کہ احد کے دن جب آپ ﷺ کے دندان مبارک شہید ہوگئے اور آپ ﷺ کی چہرہ مبارک زخمی ہوگیا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیف یفلح قوم شجو ابیتھم اور بخاری میں ہے کہ آپ ﷺ نے نمازوں میں قنوت بھی شروع کردی جس میں نام لے کر مشرکین پر لعنت بھجتے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے دعاقنوت ترک کردی اور یہ وقعہ ہے کہ جب کے نام لے کر آپ ﷺ بدعا کرتے تھے وہی قبلیے بعد میں مسلمانوں ہوگئے۔ اسی طرح ا او یتوب علیھم کا منظر سامنے آگیا ابن کثیر ،۔ قرطبی) جنگ احد کے تذکرہ میں سود کی حرمت کی حکم بظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
(3:127) لیقطع۔ قطع سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب (باب فتح) مضارع پر لام جاء مکسور فعل کی علت یا سبب بیان کرنے کے لئے آئے تو اس کے بعد ان مصدری غائب کا آنا ضروری ہے اور مضارع پر اسی ان کی وجہ سے نصب آیا ہے اگر ان مذکور نہ ہو جیسا کہ آیۃ ہذا میں ہے تو محذوف مقدد قرار دیا جائیگا۔ لیکن اگر فعل سے پہلے لا نفی آیا ہو تو لام جر کے بعد ان کو ذکر کرنا لازم ہے۔ جیسے لئلا یکون للناس علیکم حجۃ (2:150)
لیقطع۔ تاکہ کاٹ دے۔ ہلاک کر دے۔
طرفا۔ طرف کی جمع اطراف۔ ایک ٹکڑہ ۔ ایک حصہ۔
یکبتہم۔ مضارع واحد مذکر غائب ہم ضمیر جمع مذکر غائب کبت مصدر باب ضرب تاکہ وہ ان کو ذلیل کرے۔ مضارع پر نصب لام جار مکسور کی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–129
لغات القرآن آیت نمبر 121 تا 129
غدوت (تو صبح کے وقت نکلا) اھلک (تیرے گھر والے) تبوئ (تو جگہ (مورچوں پر) بٹھارہا تھا) مقاعد للقتال (لڑائی کے ٹھکانے (مورچے) ھمت (ارادہ کیا) طائفتین (دونوں جماعتیں) تفشلا (وہ دونوں بزدلی دکھائیں) ولیھما (اللہ ان دونوں کا دوست ہے) فلیتوکل (پھر بھروسہ کرنا چاہیے) اذلة (کمزرر، خوار) الن یکفیکم (کیا تمہیں کافی نہیں ہوگا) ان یمدکم (یہ کہ تمہاری مدد کی جائے) ثلٰثة اٰلاف (تین ہزار) منزلین (اترنے والے) حمسة اٰلافٍ (پانچ ہزار) مسومین (نشان لگے ہوئے (پلے ہوئے) بشرٰی (خوش خبری) لتطمئن (تاکہ تمہیں اطمینان ہو) یقطع (تاکہ کٹ جائے) یکبت (ذلیل کردیتا ہے) ینقلبوا (وہ پلٹ جائیں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
اس آیت میں ہے کہ ان لوگوں کا حال یعنی جہنوں نے جنگ احد میں ظلم کیا ہے۔ اللہ پر چھوڑ دیا جاوے۔ ان میں سے جو حالت کفر میں مرے گا اس کو اللہ تعالیٰ عذاب کرے گا جو اسلام لاوے گا اس کی توبہ قبول ہوگی، چناچہ ایسا ہی ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–128
[45] یہ الفاظ نبی ﷺ نے اس وقت کہے تھے جب میدان جنگ کو جاتے ہوئے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی اپنے تین سو آدمیوں کے ساتھ لشکر اسلامی سے الگ ہوگیا اور مسلمانوں کی تعداد گھٹ کر سات سو رہ گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–129
اللہ کی شان بےنیازی :
(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ آسمان و زمین جو کچھ ہے وہ خدائے متعال کے قبضہ قدرت میں ہے ، زمین کی بستیان اور آسمان کی بلندیاں سب اس کی قوت و عظمت پر دال ہیں ۔ اور کوئی نہیں جو اس کی خدائی سے باہر ہو ۔
وہ اگر بدترین لوگوں کو اپنی آغوش رحمت میں لے لے اور جنت ونعیم کی نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کا موقع دے تو کوئی شخص اسے روک نہیں سکتا اور اگر محبوب ترین اشخاص کو دہکتے ہوئے جہنم میں ڈال دے تو کوئی قوت اسے روک نہیں سکتی وہ باجبروت وباملکوت خدا ہے ، یہ صحیح ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا ، اس کا عدل ورحم اسے شفقت ورحم پر مجبور کریگا مگر جہاں تک اس کے جلال وقدرت کا تعلق ہے ‘ وہ ہر ضابطہ…
Read the full tafseer →ف 3 اے پیغمبر ! آپ کو ان کافروں کے معاملہ میں کوئی اختیار نہیں تفویض کیا گیا ہے ان کے مسلمان ہونے یا کافر رہنے میں آپ کو کوئی دخل نہیں ہے خواہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت و صفقت کے ساتھ توجہ فرمائے اور وہ مسلمان ہوجائیں یا اللہ تعالیٰ ان کو دنیا ہی میں کوئی سزا دے کیونکہ یہ بڑا ظلم کر رہے ہیں اور اپنے ظلم کی وجہ سے سزا کے مستحق ہیں۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بعض سرکش اور ظالموں کے حق میں بددعا کی تھی اس سے آپ کو منع کیا گیا کہ آپ ان کے حق میں ہلاک ہونے کی بددعا نہ کریں بلکہ یہ ہمارا کام ہے کہ ہم ان کو توبہ کی توفیق دے دیں اور وہ مسلمان ہوجائیں یا ان کو سزا دیں اگر وہ کفر پر اصرار کرتے…
Read the full tafseer →ف 3۔ غزوہ احد میں نبی ﷺ کا دندان مبارک شہید ہوگیا اور چہرہ مبارک مجروح ہوگیا تو آپ نے یہ فرمایا کہ ایسی قوم کو کیسے فلاح ہوگی جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ ایسا کیا حالانکہ وہ نبی ان کو خدا کی طرف بلاتا ہے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →آیت لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ کا شان نزول :
241: جنگ احد کا انجام بلاشبہ مسلمانوں کے حق میں اچھا رہا تاہم جو تکلیف مسلمانوں کو پہنچی اور خصوصاً نبی کریم ﷺ جس طرح اس جنگ میں زخمی ہوئے اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ صحیح بخاری میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ” شج النبی “ ﷺ یوم احد فقال کیف یفلح قوم شجوا لذیھم فنزلت لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٍ ۔ یعنی احد کے دن نبی کریم ﷺ کے سر میں زخم آیا تو اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا کس طرح وہ قوم کامیاب ہوگی جنہوں نے اپنے نبی کو زخمی کیا تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ ” اس معاملہ میں تمہیں کوئی دخل نہیں یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ “ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
Commentary
In the previous verses, the battle of Badr was cited in relation to the battle of Uhud. Briefly stated there was the unseen support from Allah Almighty given to Muslims. In the present verses, some details of that support have been mentioned. Also stated is the wisdom behind the sending of angels.
One may naturally ask a question here. When Allah Almighty has endowed His angels with such power that just one of them could over-turn an entire habitation, very much like what happened with the land of the people of Lut (علیہ السلام) which was overturned single-handedly by the angel…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
97. When the Prophet was injured he uttered words of imprecation against the unbelievers: 'How can a people that injures its own Prophet attain salvation?' These verses are in response to that utterance.
Read the full tafseer →