Explained with ayahs 7–9
ہماری سمجھ سے بلند آیات
یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ قرآن میں ایسی آیتیں بھی ہیں جن کا بیان بہت واضح بالکل صاف اور سیدھا ہے۔ ہر شخص اس کے مطلب کو سمجھ سکتا ہے، اور بعض آیتیں ایسی بھی ہیں جن کے مطلب تک عام ذہنوں کی رسائی نہیں ہوسکتی، اب جو لوگ نہ سمجھ میں آنے والی آیتوں کے مفہوم کو پہلی قسم کی آیتوں کی روشنی میں سمجھ لیں یعنی جس مسئلہ کی صراحت جس آیت میں پائیں لے لیں، وہ تو راستی پر ہیں اور جو صاف اور صریح آیتوں کو چھوڑ کر ایسی آیتوں کو دلیل بنائیں جو ان کے فہم سے بالاتر ہیں، ان میں الجھ جائیں تو منہ کے بل گرپڑیں، ام الکتاب یعنی کتاب اللہ اصل اصولوں کی وہ صاف اور واضح آیتیں ہیں، شک و شبہ میں نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
سورة اٰلِ عِمْرٰن 8
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ، 161۔ (سورة الْبَقَرَة 161)
”کفر“ کے اصل معنی چھپانے کے ہیں۔ اسی سے انکار کا مفہوم پیدا ہوا اور یہ لفظ ایمان کے مقابلے میں بولا جانے لگا۔ ایمان کے معنی ہیں ماننا، قبول کرنا، تسلیم کرلینا۔ اس کے برعکس کفر کے معنی ہیں نہ ماننا، رد کردینا، انکار کرنا۔ قرآن کی رو سے کفر کے رویہ کی مختلف صورتیں ہیں
ایک یہ کہ انسان سرے سے خدا ہی کو نہ مانے، یا اس کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم نہ کرے اور اس کو اپنا اور ساری کائنات کا مالک اور معبود ماننے سے انکار کر دے، یا اسے واحد مالک اور معبود نہ مانے۔
دوسرے یہ کہ اللہ کو تو مانے مگر اس کے احکام اور اس کی ہدایات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ربط آیات
پچھلی آیت میں حق پرستوں کے ایک کمال کا ذکر تھا کہ وہ باوجود علمی کمال رکھنے کے اس پر مغرور نہیں تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے استقامت کی دعا کرتے تھے، اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ ان کے دوسرے کمال کو بیان فرما رہے ہیں۔
خلاصہ تفسیر
اے ہمارے پروردگار ہمارے دلوں کو کج نہ کیجئے بعد اس کے کہ آپ ہم کو (حق کی طرف) ہدایت کرچکے ہیں اور ہم کو اپنے پاس سے رحمت (خاصہ) عطا فرمایئے (وہ رحمت یہ ہے کہ راہ مستقیم پر قائم رہیں) بلاشبہ آپ بڑے عطا فرمانے والے ہیں، اے ہمارے پروردگار (ہم یہ دعا کجی سے بچنے کی اور حق پر قائم رہنے کی کسی دنیاوی غرض سے نہیں مانگتے بلکہ محض آخرت کی نجات کے واسطے، کیونکہ ہمارا عقیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
تفسیر آیت 8۔ 9: ان دونوں آیتوں میں کوئی لغوی یا نحوی اشکال نہیں ہے۔ زیغ کے لفظ کی تحقیق اوپر گزر چکی ہے۔ یہ راسخین فی العلم کی دعا ہے جس سے اس امر کا اظہار ہورہا ہے کہ وہ اپنے دین کے معاملے میں اتنے بےپروا نہیں ہیں کہ خواہ مخواہ شبہات اور شکوک کو بلاوے بھیج کر بلائیں اور اپنے ایمان و اسلام کو خطرے میں ڈالیں بلکہ وہ اپنے ایمان کی سلامتی کے لیے برابر اپنے پروردگار سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ دین میں ان کے جمے ہوئے قدم اکھڑنے نہ پائیں اور جب فتنوں کی یورش ہو تو خدائے وہاب اپنے پاس سے ان کے لیے وہ روحانی کمک بھیجے جو ان کے ثبات قدم کا ذریعہ بنے۔ دوسری آیت میں اس یقین کا اظہار ہے جو ان راسخین کے اندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
12۔ 1 یہاں کافروں سے مراد یہودی ہیں۔ اور یہ پیش گوئی جلدی پوری ہوگئی۔ چناچہ بنو قینقاع اور بنو نفیر جلا وطن کئے گئے بنو قریظہ قتل کئے گئے پھر خیبر فتح ہوگیا اور تمام یہودیوں پر جزیہ عائد کردیا گیا (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
4: اس سے دنیا میں کافروں کے مغلوب ہونے کی پیش گوئی بھی مراد ہوسکتی ہے، اور آخرت میں مغلوب ہونے کی بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں ان کا اپنے رب کے ساتھ یہ تعلق ہے ‘ اور یہ ایسا تعلق ہے جو ایک صحیح مومن کا ہونا چاہئے ‘ جو اللہ کے کلام اور اللہ کے عہد پر پورا بھروسہ ہونے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے فضل و رحمت کے صحیح شعور کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے ‘ خصوصاً اس وقت جب ایک مومن اللہ کی قضا وقدر پر پختہ یقین بھی رکھتا ہو اور اللہ کا خوف بھی اس کے دل میں موجزن ہو۔ اور ایک مومن نہ غافل ہوتا ہے ‘ نہ مغرور ہوتا ہے ‘ نہ اپنے روز وشب میں کبھی اپنے فرائض بھولتا ہے۔
قلب مومن کی ضلالت اور گمراہی کے بعد دولت ایمان ملنے کی بڑی قدر دانی ہوتی ہے ۔ اور کسی دھندلے تصور کے بعد اپنی آنکھوں سے حقیقت کو…
Read the full tafseer →3 وہ دن ضرور آکر رہے گا اور " زائغین " (کجرو) جن مسائل میں جھگڑتے تھے سب کا دو ٹوک فیصلہ ہوجائے گا۔ پھر ہر ایک مجرم کو اپنی کجروی اور ہٹ دھرمی کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ اسی خوف سے ہم انکے راستہ سے بیزار اور آپ کی رحمت و استقامت کے طالب ہوتے ہیں۔ ہمارا زائغین کے خلاف راستہ اختیار کرنا کسی بدنیتی اور نفسانیت کی بنا پر نہیں محض اخروی فلاح مقصود ہے۔
Read the full tafseer →آیت 9 رَبَّنَآ اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لاَّ رَیْبَ فِیْہِ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ
اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ لہٰذا جو اس نے بتایا ہے وہ ہو کر رہے گا اور قیامت کا دن آکر رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
11 یعنی عقل صحیح رکھنے والے بھی اور ٹیڑھی سوچ رکھنے والے، متشابہات کے پیچھے پڑنے والے، خود گمراہ ہونے والے اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے مومن و مشرک سب کو اکٹھا کرکے اور ان پر حجت قائم کرکے ان کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کرے گا۔ ایمان بالآخرت، ایمان بالغیب کا ایسا اہم جزو ہے جو انسان کی زندگی کا رخ بدلنے میں موثر کردار ادا کرتا ہے۔ لہذا یاددہانی کے طور پر اس نظریہ آخرت کو (رَاسِخُوْنَ فِیْ الْعِلْمِ ) اور مومنوں کی دعا کا حصہ بنادیا گیا۔
Read the full tafseer →24 ۔ (اس لیے قیامت کا آنا برحق اور بندوں کو اس کی یاد اور اس کا اہتمام ضروری) مومنین، کاملین کی یہ دعائیں خوف آخرت سے ہوتی ہیں، کسی مادی دنیوی غرض سے نہیں۔ (آیت) ” جامع الناس “۔ یعنی لوگوں کی موت کے بعد اٹھانے والا اور اکٹھا کرنے والا۔ ای باعثھم ومحییھم بعد تفرقھم (قرطبی)
25 ۔ (جیسا کہ بعض جاہل قوموں اور فرقوں نے گمان کر رکھا ہے) جاہلی قوموں کے عجیب عجیب معتقدات میں سے یہ عقیدے بھی ہیں کہ خدا کے لئے جائز ہے کہ وعدہ کرکے بھول جائے یا وعدہ کا ایفاء اسے خلاف مصلحت نظر آئے اور اس لئے اسے وہ ٹال جائے۔ اور افسوس ہے کہ بعض مسلمان کہلانے والے فرقوں نے ان خرافات میں ان کی تقلید شروع کردی ہے۔ خلف وعید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
آیت نمبر 10 تا 20
ترجمہ : یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلہ میں ہرگز ان کے کچھ کام نہ آئیں گے (یعنی عذاب کو) رفع نہ کریں گے، اور وہی لوگ آگ کے ایندھن ہوں گے، واؤ کے فتحہ کے ساتھ، جس کے ذریعہ آگ جلائی جاتی ہے جیسا کہ معاملہ آل عمران اور ان سے قبل والوں کے ساتھ ہوا، (یعنی) سابقہ امتوں کے ساتھ جیسا کہ عاد وثمود (کے ساتھ) انہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تو اللہ نے ان کے گناہوں کے باعث ان کی گرفت کی یعنی ان کو ہلاک کردیا اور جملہ ” کَذَُبُوْا “ الخ ماقبل کے جملہ ” کَدَأبِ اٰلِ فرعون الخ “ کی تفسیر ہے، اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے، اور جب آپ ﷺ غزوہ بدر سے…
Read the full tafseer →رَبَّنَآ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ : اے ہمارے رب تو لوگوں کو ضرور جمع کرے گا قیامت کے فیصلہ کے لیے یا قیامت کے دن۔ مؤخر الذکر شق پر لیوم کا لام فی کے معنی میں ہوگا۔
لَّا رَيْبَ فِيْهِ : جس کے واقع ہونے میں کوئی شک نہیں نہ اس دن اعمال کی جزاء و سزاء واقع ہونے میں کوئی شک ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ : یہ یقینی بات ہے کہ اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرے گا۔ میعاد بروزن مفعال وَعْدٌ سے ماخوذ ہے۔ بھلائی کا وعدہ کرکے خلاف ورزی کرنا شان الوہیت کے لیے عیب ہے اس لیے ناممکن ہے ہاں وعید عذاب کی خلاف ورزی بصورت مغفرت ہمارے نزدیک جائز ہے خواہ توبہ کی ہو یا نہ کی ہو۔ وعید یہ معتزلہ کا قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(8۔ 9) اہل ایمان یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہدایت حق عطا کردینے کے بعد ہمارے دلوں کو حق سے دور نہ کیجیے اور اسلام پر ہمیں ثابت قدم رکھیے اور ہم سے پہلے مسلمانوں کو یا یہ کہ رسول اکرم ﷺ کو آپ نبوت اور دین اسلام عطا فرمانے والے ہیں اور یہ وہ یہ بھی کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار آپ مرنے کے بعد تمام انسانوں کو بلاشبہ ایسے دن جمع کرنے والے ہیں، جس کے واقع ہونے میں ذرا بھی شک نہیں۔
مرنے کے بعد زندہ ہونا، حساب، پل صراط، جنت، دوزخ، اور میزان عمل ان میں بلاشبہ کوئی وعدہ خلافی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
یہ وہ دعا ہے جو راسخ فی العلم حضرات اللہ تعالیٰ کے حضور کرتے رہتے ہیں، ہدایت پر ثابت قدمی کی دعا کے ساتھ قیامت کے دن اللہ کے سامنے پیش ہونے کا یقین بھی ہر وقت ان کے پیش نگاہ رہتا ہے، ان کی اصل کوشش اور دعا دنیا کے لیے نہیں بلکہ آخرت کے لیے ہوتی ہے۔ ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ! ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ)”اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔“ [ ترمذی، الدعوات، باب دعاء یا مقلب القلوب !۔۔ : 3522، وصححہ الألبانی ]
Read the full tafseer →آیت نمبر : 9۔
یعنی تو لوگوں کے متفرق ہونے کے بعد انہیں اٹھانے والا اور انہیں لانے والا ہے اور اس میں قیامت کے دن کے لئے دوبارہ اٹھائے جانے کا اقرار ہے۔ زجاج نے کہا ہے : یہی وہ تاویل ہے جس کا علم راسخین فی العلم کو ہوا اور انہوں نے اس کا اقرار کیا اور انہوں نے اختلاف کیا جنہوں نے اس کی اتباع کی جوان پر دوبارہ اٹھائے جانے کے معاملہ میں مشتبہ ہوگیا یہاں تک کہ انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ اور الریب کا معنی شک ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 405 دارالکتب العلمیہ) اور اس کے محامل (محمول ہونے کے محل) سورة البقرہ میں گزر چکے ہیں اور میعاد مفعال کے وزن پر الوعد سے ماخوذ ہے۔
Read the full tafseer →(1) ابن النجار نے اپنی تاریخ میں جعفر بن محمد خلدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا گیا کہ آپ نے فرمایا جو شخص یہ آیت کسی ایسی چیز پر پڑھے گا جو اس سے گم ہوگئی تو اللہ تعالیٰ اس کو اس پر لوٹا دیں گے لفظ آیت ” ربنا انک جامع الناس لیوم لا ریب فیہ ان اللہ لا یخلف المیعاد “ اے اللہ اے لوگوں کے جمع کرنے والے اس دن کے لیے جس میں کوئی شک نہیں میرے اور میرے مال کو جمع فرما دے بلا شبہ آپ ہر چیز پر قادر ہیں۔
Read the full tafseer →[رَبَّـنَـآ : (اور وہ کہتے ہیں) اے ہمارے ربّ ] [اِنَّکَ : یقینا تو ] [جَامِعُ النَّاسِ : لوگوں کو جمع کرنے والا ہے ] [لِیَوْمٍ : ایک ایسے دن کے لیے ] [لاَّ رَیْبَ : کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے ] [فِیْہِ : جس میں ] [اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ] [لاَ یُخْلِفُ : خلاف نہیں کرتا ] [الْمِیْعَادَ : وعدے کے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
راسخین فی العلم کی دعاء
ان دونوں آیتوں میں ان لوگوں کی دعا نقل فرمائی ہے جنہیں رسوخ فی العلم حاصل ہے۔ وہ یوں دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! آپ نے ہم کو ہدایت عطا فرمائی ہے۔ ہم کو ہدایت پر ہی رکھئے ہمارے دلوں میں کجی اور ٹیڑھا پن پیدا نہ فرمائیے۔ جو لوگ دلوں کی کجی کی وجہ سے متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں ہمیں ان میں سے نہ کیجیے اور اپنے پاس سے ہمیں بڑی رحمت عطا فرمائیے۔ یہ رحمت عامہ ہمیں دنیا میں بھی شامل ہو۔ اور آخرت میں بھی شامل ہو۔ ہمارا ایمان محکمات پر بھی رہے اور متشابہات پر بھی رہے۔ درحقیقت یہ دعا بہت اہم ہے اور یہ دعا برابر کرتے رہنا چاہیے۔ بہت سے لوگوں نے ہدایت اختیار کرنے کے بعد گمراہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
تقسیم آیات بسوئے محکمات ومتشابہات مع تقسیم سامعین بسوئے زائغین فہم وراسخین علم۔
قال اللہ تعالی، ھوالذی انزل علیک الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔ المیعاد۔
جب دلائل واضحہ سے توحید کا اثبات اور تثلیث اور ابنیت کا رد اور ابطال ہوگیا تو نصاری نے عاجز ہو کر بطور معارضہ یہ کہا کہ آپ بھی حضرت مسیح کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ مانتے ہیں پس یہی الفاظ ہمارے مدعا کے اثبات کے لیے کافی ہیں۔ حق جل شانہ نے ان آیات میں ان کے اس شبہ کا جواب ایک عام ضابطہ اور قاعدہ کے شکل میں دیا جس کے سمجھ لینے کے بعد صدہا اور ہزارہا شبہات اور اشکالات اور نزاعات اور مناقشات کا خاتمہ ہوجاتا ہے وہ یہ کہ قرآن کریم بلکہ تمام کتب الٰہیہ میں آیات…
Read the full tafseer →12 یہ بھی راسخین کی دعا ہی کا حصہ ہے۔ اس میں اعتراف ہے کہ قیامت ضرورآئے گی اور اللہ تعالیٰ تمام بنی آدم کو حشر میں جمع کرے گا۔ اور سب سے حساب لے گا۔ اللہ کے نیک بندے ہر وقت فکر آخرت میں لگے رہتے ہیں اور خدا کے سامنے حساب و کتاب کے نظارے سے ہر وقت ترساں اور لرزاں رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ربط آیات :
گذشتہ درس میں بیان کیا جا چکا ہے۔ کہ سورة آل عمران کے اہم مضامین میں سے مسئلہ توحید اور اس کے عقلی و نقلی دلائل ہیں۔ پھر قرآن پاک کی صداقت و حقانیت کا تذکرہ ہے۔ اور بعض دوسرے مضامین بھی بیان ہوئے ۔ سابقہ آیات میں مسئلہ توحید کو اجاگر کیا گیا تھا۔ اور سابقہ کتب کا تذکرہ تھا۔ جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں تک ہدایت کا سامان بہم پہنچاتا رہا۔ ان ہدایات کا انکار کرنے والوں کے لیے سخت سزا کی وعید تھی۔ اور لوگوں کو یاد دلایا گیا تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ وہ ہر انسان کی ہر حرکت سے واقف ہے۔ بلکہ ماں کے رحم میں انسان کی شکل و صورت بنانے والی بھی وہی ذات ہے۔ پھر اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَۃً 0 ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ 8
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ترکیب : بعد ظرف ہے لا تزغ کا ‘ من لدنک صفت ہے رحمۃ کی یا حال۔ لیوم لام بمعنی فی ای فی یوم لاریب فیہ جملہ موضع جر میں ہے صفت ہے یوم کی الذین موصول وصلہ اسم ان لن تغنی الخ اس کی خبر۔ من اللّٰہ موضع نصب میں ہے۔ تقدیرہ من عذاب اللہ ای لا یدفع اموالہم والا اولادھم من اللّٰہ شیئا مفعول بہ ہے لن تغنی کا اور حال بھی ہوسکتا ہے۔ کداب کاف موضع نصب میں ہے۔ لغت ہو کر مصدر محذوف کی ای کفروا القرا کعادۃ آل فرعون اور ممکن ہے کہ خبر ہو مبتداء محذوف کی ای دابہم کداب آل فرعون۔
تفسیر : یہ بھی راسخین فی العلم کا مقولہ ہے یعنی وہ متشابہات کو علم الٰہی کے حوالہ کرکے اس پر ایمان لا کر یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ اے رب !…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْـکَ رَحْمَۃً ج اِنَّـکَ اَنْتَ الْوَہَّابُ ۔ رَبَّنَـآ اِنَّـکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْہِ ط اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ۔ ع
(اے ہمارے پروردگار ! ہمارے دلوں کو ہدایت بخشنے کے بعد کج نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما۔ تو نہایت بخشنے والا ہے۔ اور ہمارے پروردگار ! تو یقینا سب لوگوں کو ایک ایسے دن میں جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں۔ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا) (8 تا 9)
راسخین فی العلم کی دعا
یہ ان لوگوں کی دعا ہے جنھیں اللہ نے علم میں رسوخ عطا فرمایا ہے اور جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
فہم القرآن
ربط کلام : جس مال اور افرادی قوت کی بنیاد پر اہل مکہ حقائق کا انکار کرتے ہیں آل فرعون بھی اسی بنا پر گمراہ ہوئے اور تباہی کے گھاٹ اترے تھے۔ اہل مکہ بھی عنقریب دنیا میں بدر کے معرکہ میں اور آخرت میں جہنم میں داخل ہونے کی بنا پر کافر ذلیل ہوں گے۔
سورۂ آل عمران کا آغازبڑے جاہ و جلال سے ہوا۔ جس میں واشگاف لہجے میں واضح کیا گیا ہے کہ ہمیشہ قائم و دائم رہنے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ اس نے لوگوں کی رہنمائی کے لیے اپنی آخری کتاب نازل فرمائی ‘ منکروں کے لیے اس کا عذاب بڑا سخت ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے زبردست انتقام لینے والا ہے۔ وہ سب کو اپنے حضور اکٹھا…
Read the full tafseer →الٰہ ہونا اور وعدہ خلافی متضاد ہیں :
9: رَبَّنَآ اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّارَیْبَ فِیْہِ اِنَّ اللّٰہَ لَایُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ۔ رَبَّنَآ اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ (اے ہمارے رب بیشک آپ لوگوں کو جمع کرنے والے ہیں اس دن میں) یعنی لوگوں کو آپ حساب کے لیے جمع کرنے والے ہیں۔ قیامت کے دن یا قیامت کے فیصلے کے لیے۔ لَّارَیْبَ فِیْہ (جس کے واقع ہونے میں شک نہیں) اِنَّ اللّٰہَ لَایُخْلِفُ الْمِیْعَادَ (بےشک اللہ تعالیٰ وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتے) میعاد کے معنی وعدہ ہے مطلب یہ ہے کہ الوہیت وعدے کی خلاف ورزی کے منافی ہے جیسے کہتے ہیں۔ ان الجواد لا یخیب سائلہ سخی اپنے سائل کو ناکام…
Read the full tafseer →9۔ (ربنا۔۔۔۔۔۔ لیوم اے ہمارے رب ! بیشک تو لوگوں کو قیامت کے دن جمع کرنے والا ہے) فیصلے کے دن ۔ بعض نے کہا کہ لیوم میں لام بمعنی (فی) کے ہے (لاریب فیہ جس کے واقع ہونے میں کوئی شک نہیں) اس دن کے واقع ہونے کے بارے میں کوئی شک نہیں اور وہ قیامت کا دن ہے ۔ (ان اللہ لایخلف المیعاد بیشک اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا) میعاد فعال کے وزن پر ہے وعد سے ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
(7 ۔ 9) سب سے پہلے یہ ایک بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن شریف میں محکم اور متشابہ کو دو معنے میں اللہ تعالیٰ نے استعمال فرمایا ہے ایک استعمال کی رو سے تو سارے قرآن کو ایک جگہ محکم فرمایا ہے اور دوسری جگہ متشابہ جس استعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ سارا قرآن محکم بھی ہے اور متشابہ بھی ہے چناچہ فرمایا ہے کہ کتاب احکمت ایاتہ (11۔ 1) پھر دوسری جگہ فرمایا کتابا متشابہا (39۔ 23) اس محکم کے یہ معنی ہیں کہ سارا قرآن فصاحت و بلاغت اور اخبار غیب میں محکم ہے کسی جگہ قرآن شریف کے ان اوصاف میں خلل واقع نہیں ہوا ہے چناچہ اسی وجہ سے عرب کے فصیح وبلیغ مشرک لوگ باوجود سخت مخالف ہونے کے قرآن شریف کی کسی ایک آیت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
آیت 7
قرآن مجید سب کا سب محکم (پختہ، مضبوط) ہے جیسے اللہ نے فرمایا : (کتب احکمت ایتہ ثم فصلت من لدن حکیم خبیر) (ھود :1/11) ” یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں محکم ہیں۔ پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے “ لہٰذا یہ انتہائی مضبوطی، عدل اور احسان پر مشتمل ہیں۔ (ومن احسن من اللہ حکماً لقوم یوقنون) (المائدہ :50/5) ” یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ سے بہتر فیصلہ کس کا ہوسکتا ہے “ ایک لحاظ سے قرآن سب کا سب متشابہ ہے۔ یعنی یہ حسن و بلاغت کے لحاظ سے ایک دوسرے کی تصدیق کرنے کی بنا پر اور ایک دوسرے سے لفظی اور معنوی مطابقت رکھنے کی وجہ سے ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ اس آیت میں جس محکم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
کفار کے مغلوب ہونے کی پیش گوئی۔
قول باری ہے۔ (قل للذین کفرواستغلبون وتحشرون الی جھنم، آپ کافروں سے کہہ دیجئے کہ تم عنقریب مغلوب کرلیئے جاؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤگے) حضرت ابن عباس قتادہ اور ابن اسحاق سے مروی ہے کہ جب بدر کے معرکے میں قریش پر تباہی آئی تو حضور ﷺ نے سوق قینقاع میں یہود کو جمع کرکے انہیں اسلام کی دعوت دی اور انکار کی صورت میں انہیں اس انتقام خداوندی سے ڈرایاجس کا ظہور قریش پر ہوچکا تھا۔ یہودنے اسلام لانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ قریش کی طرح نہیں ہیں۔ وہ توناتجربہ کار اوربدھوقسم کے لوگ تھے انہیں جنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا اگر ہم سے پنچہ آزمائی کرو گے تو تمہیں معلوم ہوجائے…
Read the full tafseer →17 اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتا : لہذا اس عظیم الشان اور ہولناک دن نے بہرحال واقع ہونا ہے، تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ وبدلہ ملے۔ پس تو اے ہمارے خالق ومالک، ہمیں اپنے کرم اور اپنی رحمت و عنایت سے اس دن کی ہولناکیوں اور ناکامیوں سے محفوظ رکھنا، اور اس کی رسوائی سے بچانا، کہ تیرے کرم اور تیری عنایت کے سوا ہمارے پاس کوئی سہارا نہیں۔ محض تیرا ہی آسرا اور سہارا ہے۔ تَبَارَکْتَ و تَعالَیْتَ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے " راسخین فی العلم " کی اس دعا کو ذکر فرمایا گیا ہے، جو وہ اپنے رب کے حضور اپنے ایمان و یقین کی دولت کی حفاظت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
دعائے استقامت
تشریح : انسان اللہ سے دعا کرتا ہے کہ ہمارے ایمان کو سلامت رکھنا کیونکہ اس کی توفیق تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ نبی اکرم ﷺ کس قدر بڑے پیغمبر تھے پھر بھی اللہ سے ایمان کی سلامتی کی دعا کرتے رہتے تھے۔ ظاہر ہے کہ دنیا میں چاروں طرف بیشمار دنیاوی رنگینیاں اور شیطانی بہکاوے ہیں انسان کسی بھی وقت پھسل سکتا ہے۔ لیکن اگر دست بدعاپھیلائے رکھے کہ اے رب ! تو جو کہ وہاب یعنی سب کچھ عطا کرنے والا ہے ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان کی سلامتی عطا کر دے تو پھر کوئی مشکل ہے اور نہ کوئی پریشانی۔ پھر انسان دعا کرتا ہے اے ہمارے رب ! بیشک تو ہم سب کو ایک مقرر دن ضرور اپنے حضور جمع کرنے والا ہے۔ اس دن کے آنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة آل عمران
آیات 1- 9
اسرارومعارف
الم اللہ لا الہ الا ھو……………لا الہ الا ھوالعزیز الحکیم
جب بات کفار پر نصرت اور غلبہ کی طلب پر پہنچی جو کہ سورة بقرۃ کے آخر میں بطور دعا ہے تو اس سورة میں کفار کے ساتھ معاملات اور تعلقات کو بیان فرمادیا۔ گویا وہی بات آگے چل رہی ہے۔
سب سے پہلے مومن اور کافر میں فرق ارشاد ہوا کہ تو حید باری اور ذات وصفات الٰہیہ میں یہ بات واضح ہے ، کہ ماننے والے مسلم اور نہ ماننے والے کافر۔ گویا دنیا میں انسان کی تقسیم دو طرح پرہ ہے جسے دو قومی نظریہ بھی کہا جاتا ہے ، ایک مومن دوسرے کافر۔ مومنین باہم ایک شے ہیں اور کفر کے اندر پھر قسمیں ہیں مگر بنیادی طور پر سب کافر ایک ہی ملت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 4 یعنی جس طرح کا عذاب قوم فرعون اور امم سابقہ کو ان کے رسولوں کو جھٹلا نے کی وجہ سے دیا گیا اسی طرح کا عذاب مالدار کفار کو بھی دیا جائے گا۔ یہاں ان کفار سے مراد وفد نجران یہودی مشرکین عرب اور دوسرے تمام کفار بھی ہوسکتے ہیں۔ (ابن کبیر۔ شوکانی )
Read the full tafseer →(3:9) المیعاد۔ وعدہ۔ ظرف زمان بھی ہے وقت وعدہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 9
محکمٰت (جسکا مطلب اور مفہوم واضح ہو) ام الکتٰب (کتاب کی جڑوبنیاد) متشٰبھٰت (جس سے مطلب اور مفہوم کے مختلف پہلو نکلتے ہوں) زیغ (ٹیڑھا پن) ماتشابه (وہ کہ کئی ملتے ہوں) ابتغاء (تلاش کرنا) تاویله (اسکی تاویل ، اسکی اصل روح) الراسخون (پختہ، پکے) یذکر (دھیان دیتا ہے) لاتزغ (ٹیڑھا نہ کرنا) ھدیتنا (تو نے ہمیں ہدایت دے دی) ھب (عطا فرما) لدنک (تیرے پاس (لدن، ک) الوھاب (دینے والا، عطاکرنیوالا) جامع الناس (لوگوں کو جمع کرنیوالا) لاتخلف (نہیں خلاف کرتا ہے) المیعاد (وعدہ)
تشریح : آیت نمبر 7 تا 9
آیات محکمات وہ آیتیں ہیں جن کا مطلب اور مفہوم ایسے شخص پر بالکل واضح ہو کو قواعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
سب سے پہلے یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن شریف میں محکم اور متشابہ کو دو معنی میں اللہ تعالیٰ نے استعمال فرمایا ہے۔ حضرت عبدا اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ قرآن شریف میں جو آیتیں عمل کے لئے نازل ہوئی ہیں وہ محکم ہیں، اور جن سے عمل متعلق نہیں صرف بندوں کا ایمان لانا اللہ کا مقصود ہے۔ جیسے صفات الہٰی کی آیات یا قیامت کے حال کی آیات یا حروف مقطعات یہ سب متشابہ ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے متشابہ آیتوں کا مطلب سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں ہے۔ تم محکم آیتوں پر عمل کرو، متشابہ پر صرف ایمان لاؤ۔ (ابن کثیر و درمنثور)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
[3] یعنی وہ آیتیں جن کا مفہوم واضح ہو اور ان کے معافی میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
[4] یعنی وہ آیتیں جن کے مفہوم میں اشتباہ کی گنجائش ہے اور جن کے کئی معنی نکل سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
(ف 1) ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ کذب وافترا کی آخری حد عذاب الہی ہے ، وہ لوگ جو اب تک اسلام کے پیغام صداقت شعار کا انکار کرتے چلے آرہے ہیں ‘ وہ متنبہ رہیں کہ ان کا مال و دولت انہیں ہرگز اللہ کی پکڑ سے نہ بچا سکے گا ، یہ خدا کا قانون ہے ‘ اس کی سنت ہے وہ نافرمانوں کو ہمیشہ سخت سزائیں دیتا رہا ہے ۔
دیکھ لو فرعون کس جاہ وحشم اور کس ٹھاٹھ سے رہتا تھا ، مگر ضرب موسوی کی تاب نہ لاسکا اور بنی اسرائیل کے سامنے دریا میں ڈوب گیا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 2۔ اے ہمارے پروردگار ! جب تو ہم کو ہدایت کرچکا اور تو نے ہم کو سیدھی راہ پر لگا دیا تو ہدایت کرنے کے بعد ہمارے قلوب کو کج نہ کر اور ہمارے دلوں کو زیع اور کجی میں مبتلا نہ کر اور ہم کو اپنے پاس سے خاص رحمت عطا کر یقینا تو بڑا فیاض اور بہت عطا کرنے والا ہے۔
اے ہمارے پروردگار ! یقینا تو سب لوگوں کو میدان حشر میں اس دن جمع کرنے والا ہے جس دن کے واقع ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کیا کرتا ۔ جو وعدہ کرتا ہے اس کو پورا کرتا ہے اور چونکہ قیامت کا اس نے وعدہ فرمایا ہے لہٰذا یہ ضرور پورا ہوگا ۔
مطلب یہ ہے کہ جب آپ نے اپنی کتاب نازل فرما کر اور اپنے رسول کو…
Read the full tafseer →ف 1۔ یہاں تک محاجہ باللسان کا بیان تھا آگے محاجہ بالسنان کا بیان اور لقمہ شمشیر و زیر نگیں ہونے کی وعید ہے، جو صراحة اس آیت میں مذکور ہے۔ قل للذین کفروا اور اس سے پہلے کی آیت بطور تمہید کے ہے۔
Read the full tafseer →سب لوگوں کا جمع ہونا موعود ہے اور اللہ اپنے وعدے کا خلاف نہیں کرتا :
25: اوپر جو دعا سکھائی گئی ہے یہ آیت بھی اسی دعا کا حصہ ہے۔ جس میں سب انسانوں کے جمع ہونے کا اعتراف ہے۔ یہ جمع ہونا کیا ہے ؟ اس لیے کہ سب لوگ اپنے اپنے کئے کا جواب دیں۔ گویا اس بات کا اعتراف ہے کہ ہمیں اپنے اعمال کی جزا سزا ضرور مل کر رہے گی ہمیں اس میں کسی طرح شک نہیں ہے اور اس لیے بھی کہ یہ جمع کرنا تیرا وعدہ ہے اور تیرا وعدہ کبھی خطا نہیں ہوتا۔ مؤمنین کاملین کی یہ دعائیں خوف آختر سے ہوتی ہیں کسی مادی اور دنیوی غرض سے نہیں۔ جاہل قوموں کے عجیب عجیب اعتقادات ہوتے ہیں ان ہی عقیدوں میں سے ایک یہ عقیدہ بھی ہے کہ خدا کے لیے جائز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
Sequence
The previous verse mentioned 'those well-grounded in knowledge' who, in spite of their excellent knowledge, were not proud of their excellence. Instead of that, they elected to have faith in what comes from their Lord. The present verse mentions yet another excellence of theirs - that they pray for steadfastness on the right path, not for any worldly gains, but for salvation in the life-to-come.
Commentary
The first verse (8) shows us that guidance and straying are from Allah alone. When Allah intends to guide someone, He makes his heart tilt towards what is good and right; and when…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
8. For explanation see Surah 2, n. 161 above.
Read the full tafseer →