Explained with ayahs 7–9
ہماری سمجھ سے بلند آیات
یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ قرآن میں ایسی آیتیں بھی ہیں جن کا بیان بہت واضح بالکل صاف اور سیدھا ہے۔ ہر شخص اس کے مطلب کو سمجھ سکتا ہے، اور بعض آیتیں ایسی بھی ہیں جن کے مطلب تک عام ذہنوں کی رسائی نہیں ہوسکتی، اب جو لوگ نہ سمجھ میں آنے والی آیتوں کے مفہوم کو پہلی قسم کی آیتوں کی روشنی میں سمجھ لیں یعنی جس مسئلہ کی صراحت جس آیت میں پائیں لے لیں، وہ تو راستی پر ہیں اور جو صاف اور صریح آیتوں کو چھوڑ کر ایسی آیتوں کو دلیل بنائیں جو ان کے فہم سے بالاتر ہیں، ان میں الجھ جائیں تو منہ کے بل گرپڑیں، ام الکتاب یعنی کتاب اللہ اصل اصولوں کی وہ صاف اور واضح آیتیں ہیں، شک و شبہ میں نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
سورة اٰلِ عِمْرٰن 8
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ، 161۔ (سورة الْبَقَرَة 161)
”کفر“ کے اصل معنی چھپانے کے ہیں۔ اسی سے انکار کا مفہوم پیدا ہوا اور یہ لفظ ایمان کے مقابلے میں بولا جانے لگا۔ ایمان کے معنی ہیں ماننا، قبول کرنا، تسلیم کرلینا۔ اس کے برعکس کفر کے معنی ہیں نہ ماننا، رد کردینا، انکار کرنا۔ قرآن کی رو سے کفر کے رویہ کی مختلف صورتیں ہیں
ایک یہ کہ انسان سرے سے خدا ہی کو نہ مانے، یا اس کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم نہ کرے اور اس کو اپنا اور ساری کائنات کا مالک اور معبود ماننے سے انکار کر دے، یا اسے واحد مالک اور معبود نہ مانے۔
دوسرے یہ کہ اللہ کو تو مانے مگر اس کے احکام اور اس کی ہدایات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ربط آیات
پچھلی آیت میں حق پرستوں کے ایک کمال کا ذکر تھا کہ وہ باوجود علمی کمال رکھنے کے اس پر مغرور نہیں تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے استقامت کی دعا کرتے تھے، اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ ان کے دوسرے کمال کو بیان فرما رہے ہیں۔
خلاصہ تفسیر
اے ہمارے پروردگار ہمارے دلوں کو کج نہ کیجئے بعد اس کے کہ آپ ہم کو (حق کی طرف) ہدایت کرچکے ہیں اور ہم کو اپنے پاس سے رحمت (خاصہ) عطا فرمایئے (وہ رحمت یہ ہے کہ راہ مستقیم پر قائم رہیں) بلاشبہ آپ بڑے عطا فرمانے والے ہیں، اے ہمارے پروردگار (ہم یہ دعا کجی سے بچنے کی اور حق پر قائم رہنے کی کسی دنیاوی غرض سے نہیں مانگتے بلکہ محض آخرت کی نجات کے واسطے، کیونکہ ہمارا عقیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
تفسیر آیت 8۔ 9: ان دونوں آیتوں میں کوئی لغوی یا نحوی اشکال نہیں ہے۔ زیغ کے لفظ کی تحقیق اوپر گزر چکی ہے۔ یہ راسخین فی العلم کی دعا ہے جس سے اس امر کا اظہار ہورہا ہے کہ وہ اپنے دین کے معاملے میں اتنے بےپروا نہیں ہیں کہ خواہ مخواہ شبہات اور شکوک کو بلاوے بھیج کر بلائیں اور اپنے ایمان و اسلام کو خطرے میں ڈالیں بلکہ وہ اپنے ایمان کی سلامتی کے لیے برابر اپنے پروردگار سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ دین میں ان کے جمے ہوئے قدم اکھڑنے نہ پائیں اور جب فتنوں کی یورش ہو تو خدائے وہاب اپنے پاس سے ان کے لیے وہ روحانی کمک بھیجے جو ان کے ثبات قدم کا ذریعہ بنے۔ دوسری آیت میں اس یقین کا اظہار ہے جو ان راسخین کے اندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
12۔ 1 یہاں کافروں سے مراد یہودی ہیں۔ اور یہ پیش گوئی جلدی پوری ہوگئی۔ چناچہ بنو قینقاع اور بنو نفیر جلا وطن کئے گئے بنو قریظہ قتل کئے گئے پھر خیبر فتح ہوگیا اور تمام یہودیوں پر جزیہ عائد کردیا گیا (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
4: اس سے دنیا میں کافروں کے مغلوب ہونے کی پیش گوئی بھی مراد ہوسکتی ہے، اور آخرت میں مغلوب ہونے کی بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں ان کا اپنے رب کے ساتھ یہ تعلق ہے ‘ اور یہ ایسا تعلق ہے جو ایک صحیح مومن کا ہونا چاہئے ‘ جو اللہ کے کلام اور اللہ کے عہد پر پورا بھروسہ ہونے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے فضل و رحمت کے صحیح شعور کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے ‘ خصوصاً اس وقت جب ایک مومن اللہ کی قضا وقدر پر پختہ یقین بھی رکھتا ہو اور اللہ کا خوف بھی اس کے دل میں موجزن ہو۔ اور ایک مومن نہ غافل ہوتا ہے ‘ نہ مغرور ہوتا ہے ‘ نہ اپنے روز وشب میں کبھی اپنے فرائض بھولتا ہے۔
قلب مومن کی ضلالت اور گمراہی کے بعد دولت ایمان ملنے کی بڑی قدر دانی ہوتی ہے ۔ اور کسی دھندلے تصور کے بعد اپنی آنکھوں سے حقیقت کو…
Read the full tafseer →2 یعنی راسخین فی العلم اپنے کمال علمی اور قوت ایمانی پر مغرور و مطمئن نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ حق تعالیٰ سے استقامت اور مزید فضل و عنایت کے طلبگار رہتے ہیں تاکہ کمائی ہوئی پونجی ضائع نہ ہوجائے اور خدا نکردہ دل سیدھے ہونے کے بعد کج نہ کردیئے جائیں۔ حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ (امت کو سنانے کے لئے) اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے ــ" یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلیٰ دِیْنِکَ "
Read the full tafseer →آیت 8 رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً ج اِنَّکَ اَنْتَ الْوَہَّابُ
ہمیں جو بھی ملے گا تیری ہی بارگاہ سے ملے گا۔ تو ہی فیاض حقیقی ہے۔
Read the full tafseer →10 علم میں پختہ کار لوگوں کا شیوہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ وہ متشابہات کی تاویل کے پیچھے نہیں پڑتے۔ بلکہ اللہ سے یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ جو فتنہ انگیز لوگ متشابہات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ان کی فکر ہمارے فکر پر کہیں اثر انداز نہ ہوجائے اور اپنی رحمت خاص سے ہمیں ایسے فتنہ پرور لوگوں کے افکار و عقائد سے بچائے رکھ اور صحیح عقل و فکر عطا فرما۔
Read the full tafseer →22 ۔ یعنی ہم کو اس صراط مستقیم پر قائم رکھ اور ہمارا حال کہیں یہود ونصاری کا سانہ ہوجائے، جو کتاب ونبوت کے بھی بھی گمراہ ہوگئے، یہ ساری دعا (آیت) ” الرسخون فی العلم “ کی زبان سے ہے۔ یعنی علم دین میں پختہ کاروں کی زبان سے، یہ لوگ اپنے رسوخ فی العلم اور پختہ کاری پر نازاں نہیں ہوتے بلکہ اس نعمت کے زوال سے ہمیشہ ڈرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” من لدنک رحمۃ “۔ انہیں خود اپنے کسی عمل پر نازیا دعوی نہیں ہوتا۔ یہ نہیں کہتے کہ ہمارے حسن عمل کے انعام میں راہ راست پر قائم رکھ بلکہ کہتے ہیں کہ محض اپنے فضل وکرم لطف و عنایت سے راہ ہدایت پر مستقیم رکھ۔ ای من عندک ومن قبلک فضلا لا عن سبب بین ولا عمل (قرطبی) گویا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
آیت نمبر 10 تا 20
ترجمہ : یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلہ میں ہرگز ان کے کچھ کام نہ آئیں گے (یعنی عذاب کو) رفع نہ کریں گے، اور وہی لوگ آگ کے ایندھن ہوں گے، واؤ کے فتحہ کے ساتھ، جس کے ذریعہ آگ جلائی جاتی ہے جیسا کہ معاملہ آل عمران اور ان سے قبل والوں کے ساتھ ہوا، (یعنی) سابقہ امتوں کے ساتھ جیسا کہ عاد وثمود (کے ساتھ) انہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تو اللہ نے ان کے گناہوں کے باعث ان کی گرفت کی یعنی ان کو ہلاک کردیا اور جملہ ” کَذَُبُوْا “ الخ ماقبل کے جملہ ” کَدَأبِ اٰلِ فرعون الخ “ کی تفسیر ہے، اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے، اور جب آپ ﷺ غزوہ بدر سے…
Read the full tafseer →رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا : اے ہمارے رب ہمارے دلوں کو حق کی طرف سے نہ پھیر دے۔ ٹیڑھا نہ کردے جس طرح تو نے ان لوگوں کے دلوں کو حق سے پھیردیا ہے جن کے قلوب میں کجی ہے۔ یہ جملہ راسخین فی العلم کا مقولہ بھی ہوسکتا ہے یعنی وہ یہ کہتے ہیں اور اللہ کی طرف سے تعلیم اور حکم بھی ہوسکتا ہے کہ جب متشابہات پر پہنچو تو یوں کہو کہ اے ہمارے رب۔۔
بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا : اسکے بعد کتاب بھیج کر تو نے ہم کو ہدایت کردی اور محکم و متشابہ پر ایمان لانے کی توفیق عنایت کردی۔
وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً : اور ہم کو اپنے پاس سے رحمت یعنی توفیق اور ثبات ایمانی عطا فرما۔
اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(8۔ 9) اہل ایمان یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہدایت حق عطا کردینے کے بعد ہمارے دلوں کو حق سے دور نہ کیجیے اور اسلام پر ہمیں ثابت قدم رکھیے اور ہم سے پہلے مسلمانوں کو یا یہ کہ رسول اکرم ﷺ کو آپ نبوت اور دین اسلام عطا فرمانے والے ہیں اور یہ وہ یہ بھی کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار آپ مرنے کے بعد تمام انسانوں کو بلاشبہ ایسے دن جمع کرنے والے ہیں، جس کے واقع ہونے میں ذرا بھی شک نہیں۔
مرنے کے بعد زندہ ہونا، حساب، پل صراط، جنت، دوزخ، اور میزان عمل ان میں بلاشبہ کوئی وعدہ خلافی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
یہ وہ دعا ہے جو راسخ فی العلم حضرات اللہ تعالیٰ کے حضور کرتے رہتے ہیں، ہدایت پر ثابت قدمی کی دعا کے ساتھ قیامت کے دن اللہ کے سامنے پیش ہونے کا یقین بھی ہر وقت ان کے پیش نگاہ رہتا ہے، ان کی اصل کوشش اور دعا دنیا کے لیے نہیں بلکہ آخرت کے لیے ہوتی ہے۔ ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ! ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ)”اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔“ [ ترمذی، الدعوات، باب دعاء یا مقلب القلوب !۔۔ : 3522، وصححہ الألبانی ]
Read the full tafseer →آیت نمبر : 8۔
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ربنا لا تزغ قلوبنا اس کلام میں حذف ہے، تقدیر کلام ہے یقولون وہ کہتے ہیں اور یہ راسخین کی جانب سے بطور حکایت ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ معنی اس طرح ہو قل یا محمد ﷺ (اے محمد ﷺ آپ کہئے) اور کہا جاتا ہے : ازاغۃ القلب (دل کو ٹیڑھا کرنے) سے مراد فساد برپا کرنا اور دین سے اعراض برتنا ہے کیا وہ خوفزدہ ہو رہے تھے حالانکہ انہیں ہدایت دے دی گئی کہ اللہ تعالیٰ انہیں فساد کی طرف منتقل کر دے گا ؟ تو جواب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انکی راہنمائی فرما دی تو وہ یہ التجا کرنے لگے کہ وہ انہیں اعمال میں سے کسی ایسے عمل کے ساتھ نہ آزمائے…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر ابن ابی حاتم نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے لفظ آیت یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک (اے دلوں کے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ) پھر یہ دعا پڑھی لفظ آیت ” ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب “۔
دین پر ثابت قدمی کی دعاء
(2) ابن ابی شیبہ احمد ترمذی بن جریر طبرانی ابن مردویہ نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اکثر اپنی دعا میں یوں فرماتے تھے لفظ آیت ” اللہم مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک “ (اے اللہ دلوں کے پلٹنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا دل پلٹ دئیے جاتے ہیں ؟…
Read the full tafseer →[رَبَّـنَا : (اور وہ لوگ کہتے ہیں) اے ہمارے ربّ ] [لاَ تُزِغْ : تو ٹیڑھا مت کر ] [قُلُوْبَنَا : ہمارے دلوں کو ] [بَعْدَ اِذْ : اس کے بعد کہ جب ] [ہَدَیْتَنَا : تو نے ہدایت دی ہم کو ] [وَ : اور ] [ہَبْ : تو عطا کر ] [لَـنَا : ہم کو ] [مِنْ لَّدُنْکَ : اپنے خزانے سے ] [رَحْمَۃً : رحمت ] [اِنَّکَ : بیشک تو ] [اَنْتَ الْوَہَّابُ : ہی بےانتہا عطا کرنے والا ہے ]
ل د ن
لَدُنَ (ک) لَدَانَۃً : نرم ہونا۔
لَدُنْ (یہ ظرفِ زمان اور ظرفِ مکان ہے) : (1) کسی کام کی ابتداء کا وقت۔ (2) کسی کے خزانے میں ‘ کسی کے پاس۔ آیت زیر مطالعہ۔
و ھـ ب
وَھَبَ (ف) وَھْبًا اور ھِبَۃً : کسی استحقاق یا معاوضہ کے بغیر دینا ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
راسخین فی العلم کی دعاء
ان دونوں آیتوں میں ان لوگوں کی دعا نقل فرمائی ہے جنہیں رسوخ فی العلم حاصل ہے۔ وہ یوں دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! آپ نے ہم کو ہدایت عطا فرمائی ہے۔ ہم کو ہدایت پر ہی رکھئے ہمارے دلوں میں کجی اور ٹیڑھا پن پیدا نہ فرمائیے۔ جو لوگ دلوں کی کجی کی وجہ سے متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں ہمیں ان میں سے نہ کیجیے اور اپنے پاس سے ہمیں بڑی رحمت عطا فرمائیے۔ یہ رحمت عامہ ہمیں دنیا میں بھی شامل ہو۔ اور آخرت میں بھی شامل ہو۔ ہمارا ایمان محکمات پر بھی رہے اور متشابہات پر بھی رہے۔ درحقیقت یہ دعا بہت اہم ہے اور یہ دعا برابر کرتے رہنا چاہیے۔ بہت سے لوگوں نے ہدایت اختیار کرنے کے بعد گمراہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
تقسیم آیات بسوئے محکمات ومتشابہات مع تقسیم سامعین بسوئے زائغین فہم وراسخین علم۔
قال اللہ تعالی، ھوالذی انزل علیک الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔ المیعاد۔
جب دلائل واضحہ سے توحید کا اثبات اور تثلیث اور ابنیت کا رد اور ابطال ہوگیا تو نصاری نے عاجز ہو کر بطور معارضہ یہ کہا کہ آپ بھی حضرت مسیح کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ مانتے ہیں پس یہی الفاظ ہمارے مدعا کے اثبات کے لیے کافی ہیں۔ حق جل شانہ نے ان آیات میں ان کے اس شبہ کا جواب ایک عام ضابطہ اور قاعدہ کے شکل میں دیا جس کے سمجھ لینے کے بعد صدہا اور ہزارہا شبہات اور اشکالات اور نزاعات اور مناقشات کا خاتمہ ہوجاتا ہے وہ یہ کہ قرآن کریم بلکہ تمام کتب الٰہیہ میں آیات…
Read the full tafseer →11 یہ راسخین فی العلم کی دعا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم متشابہات پر ایمان لائے اور ان کے صحیح علم کو تیرے حوالے کیا اور ظن وتخمین سے ان پر رائے زنی سے اجتناب کیا اے اللہ ہمیں ہدایت کی اسی راہ پر قائم رکھنا اور ہمارے دلوں کو باطل کی طرف مائل نہ کرنا اور اپنی رحمت سے دستگیری فرمانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ربط آیات :
گذشتہ درس میں بیان کیا جا چکا ہے۔ کہ سورة آل عمران کے اہم مضامین میں سے مسئلہ توحید اور اس کے عقلی و نقلی دلائل ہیں۔ پھر قرآن پاک کی صداقت و حقانیت کا تذکرہ ہے۔ اور بعض دوسرے مضامین بھی بیان ہوئے ۔ سابقہ آیات میں مسئلہ توحید کو اجاگر کیا گیا تھا۔ اور سابقہ کتب کا تذکرہ تھا۔ جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں تک ہدایت کا سامان بہم پہنچاتا رہا۔ ان ہدایات کا انکار کرنے والوں کے لیے سخت سزا کی وعید تھی۔ اور لوگوں کو یاد دلایا گیا تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ وہ ہر انسان کی ہر حرکت سے واقف ہے۔ بلکہ ماں کے رحم میں انسان کی شکل و صورت بنانے والی بھی وہی ذات ہے۔ پھر اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَۃً 0 ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ 8
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ترکیب : بعد ظرف ہے لا تزغ کا ‘ من لدنک صفت ہے رحمۃ کی یا حال۔ لیوم لام بمعنی فی ای فی یوم لاریب فیہ جملہ موضع جر میں ہے صفت ہے یوم کی الذین موصول وصلہ اسم ان لن تغنی الخ اس کی خبر۔ من اللّٰہ موضع نصب میں ہے۔ تقدیرہ من عذاب اللہ ای لا یدفع اموالہم والا اولادھم من اللّٰہ شیئا مفعول بہ ہے لن تغنی کا اور حال بھی ہوسکتا ہے۔ کداب کاف موضع نصب میں ہے۔ لغت ہو کر مصدر محذوف کی ای کفروا القرا کعادۃ آل فرعون اور ممکن ہے کہ خبر ہو مبتداء محذوف کی ای دابہم کداب آل فرعون۔
تفسیر : یہ بھی راسخین فی العلم کا مقولہ ہے یعنی وہ متشابہات کو علم الٰہی کے حوالہ کرکے اس پر ایمان لا کر یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ اے رب !…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْـکَ رَحْمَۃً ج اِنَّـکَ اَنْتَ الْوَہَّابُ ۔ رَبَّنَـآ اِنَّـکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْہِ ط اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ۔ ع
(اے ہمارے پروردگار ! ہمارے دلوں کو ہدایت بخشنے کے بعد کج نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما۔ تو نہایت بخشنے والا ہے۔ اور ہمارے پروردگار ! تو یقینا سب لوگوں کو ایک ایسے دن میں جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں۔ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا) (8 تا 9)
راسخین فی العلم کی دعا
یہ ان لوگوں کی دعا ہے جنھیں اللہ نے علم میں رسوخ عطا فرمایا ہے اور جن…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حقیقت جاننے کے باوجود ٹیڑھا پن اور کج روی اختیار کرنا عقل مندی نہیں۔ عقل مندی تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی طلب اور کج روی سے دوری اختیار کی جائے۔
اس سے پہلے قرآن فہمی کے بارے میں کج بحث، فتنہ جو اور گمراہ لوگوں کا ذکر کرنے کے بعد علم میں یدطولیٰ رکھنے والے علماء کی مثبت سوچ، عاجزی اور اعتراف حقیقت کے اظہار کا ذکر ہوا ہے۔ ایسے علماء کی یہ بھی خوبی ہوتی ہے کہ وہ اپنی بصیرت پر ناز ‘ موقف پر فخر اور علم پر اترانے کے بجائے اپنے رب سے آرزوئیں کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت عطا کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو کجی اور گمراہی سے بچائے رکھنا کیونکہ کتنے ہی علم والے ہیں جن…
Read the full tafseer →ترغیب دعا :
8: رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْھَدَیْتَنَاوَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃًج اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ ۔ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْھَدَیْتَنَا : (اے ہمارے رب تو ہمارے دلوں کو حق سے نہ پھیر کہ ان میں ٹیڑھا پن پیدا ہوجائے) بَعْدَ اِذْھَدَیْتَنَا (اس کے بعد کہ تو نے محکم پر عمل اور متشابہ کو تسلیم کرنے کی طرف راہنمائی فرمائی) وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً (اور تو اپنی طرف سے توفیق و ثابت قدمی کی نعمت عنایت فرما) اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ ( بیشک آپ و ہاب ہیں) یعنی بہت زیادہ ہبہ کرنے والے ہیں۔ یہ آیت راسخین کا مقولہ ہے اور جملہ مستانفہ ہونے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 8۔:
(آیت)” ربنا لاتزغ قلوبنا “۔ اے ہمارے رب ہمارے دلوں کو نہ پھیر۔ یہ جملہ راسخین فی العلم کا ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمارے دلوں کو نہ پھیر حق سے باطل کی طرف ، ہدایت سے گمراہی کی طرف جس طرح کہ تو نے ان لوگوں کے دلوں کو حق سے پھیر دیا ہے جن کے دل میں کجی ہے ۔ (بعد اذ ھدیتنا ہدایت دینے کے بعد) اپنے دین کی توفیق دی اور کتاب بھیج کر تو نے ہم کو ہدایت دی اور محکم ومتشابہہ پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی (وھب لنا من لدنک رحمۃ “ اور ہم کو اپنے پاس سے رحمت عطا فرمایا) اپنی طرف سے ثابت قدمی اور ثبات ایمانی عطا فرما، امام ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد گناہ اور مغفرت ہے ۔ (انک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
(7 ۔ 9) سب سے پہلے یہ ایک بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن شریف میں محکم اور متشابہ کو دو معنے میں اللہ تعالیٰ نے استعمال فرمایا ہے ایک استعمال کی رو سے تو سارے قرآن کو ایک جگہ محکم فرمایا ہے اور دوسری جگہ متشابہ جس استعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ سارا قرآن محکم بھی ہے اور متشابہ بھی ہے چناچہ فرمایا ہے کہ کتاب احکمت ایاتہ (11۔ 1) پھر دوسری جگہ فرمایا کتابا متشابہا (39۔ 23) اس محکم کے یہ معنی ہیں کہ سارا قرآن فصاحت و بلاغت اور اخبار غیب میں محکم ہے کسی جگہ قرآن شریف کے ان اوصاف میں خلل واقع نہیں ہوا ہے چناچہ اسی وجہ سے عرب کے فصیح وبلیغ مشرک لوگ باوجود سخت مخالف ہونے کے قرآن شریف کی کسی ایک آیت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
آیت 7
قرآن مجید سب کا سب محکم (پختہ، مضبوط) ہے جیسے اللہ نے فرمایا : (کتب احکمت ایتہ ثم فصلت من لدن حکیم خبیر) (ھود :1/11) ” یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں محکم ہیں۔ پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے “ لہٰذا یہ انتہائی مضبوطی، عدل اور احسان پر مشتمل ہیں۔ (ومن احسن من اللہ حکماً لقوم یوقنون) (المائدہ :50/5) ” یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ سے بہتر فیصلہ کس کا ہوسکتا ہے “ ایک لحاظ سے قرآن سب کا سب متشابہ ہے۔ یعنی یہ حسن و بلاغت کے لحاظ سے ایک دوسرے کی تصدیق کرنے کی بنا پر اور ایک دوسرے سے لفظی اور معنوی مطابقت رکھنے کی وجہ سے ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ اس آیت میں جس محکم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
کفار کے مغلوب ہونے کی پیش گوئی۔
قول باری ہے۔ (قل للذین کفرواستغلبون وتحشرون الی جھنم، آپ کافروں سے کہہ دیجئے کہ تم عنقریب مغلوب کرلیئے جاؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤگے) حضرت ابن عباس قتادہ اور ابن اسحاق سے مروی ہے کہ جب بدر کے معرکے میں قریش پر تباہی آئی تو حضور ﷺ نے سوق قینقاع میں یہود کو جمع کرکے انہیں اسلام کی دعوت دی اور انکار کی صورت میں انہیں اس انتقام خداوندی سے ڈرایاجس کا ظہور قریش پر ہوچکا تھا۔ یہودنے اسلام لانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ قریش کی طرح نہیں ہیں۔ وہ توناتجربہ کار اوربدھوقسم کے لوگ تھے انہیں جنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا اگر ہم سے پنچہ آزمائی کرو گے تو تمہیں معلوم ہوجائے…
Read the full tafseer →16 وہّاب کا معنی و مفہوم ؟ : یعنی " الوھاب " چونکہ مبالغے کا صیغہ ہے، اس لئے اس کا مفاد یہ ہے کہ وہ سب کچھ بخشنے والا، ہر کسی کو بخشنے والا، اور بےحد و حساب عطاء کرنے والا ہے۔ اور اس کی بخشش وعطاء کا یہ عالم ہے کہ ایک ایک لمحہ کے اندر اس کی نعمتوں کے جس قدر خزانے تقسیم ہو رہے ہیں، ان کی بھی نہ کوئی حد ہے نہ حساب۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز چونکہ یہاں پر مبتداء و خبر دونوں معرفہ ہیں، اس لئے اس میں حصر کا معنی پیدا ہوگیا کہ یہ سب کچھ صرف اور صرف اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ملتا ہے، جو وہ محض اپنی رحمت و عنایت سے عطا فرماتا ہے۔ جل و علاشانہ ۔ واضح رہے کہ اسی لفظِ " وہاب " کے ساتھ جو کہ اللہ پاک کی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
دعائے استقامت
تشریح : انسان اللہ سے دعا کرتا ہے کہ ہمارے ایمان کو سلامت رکھنا کیونکہ اس کی توفیق تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ نبی اکرم ﷺ کس قدر بڑے پیغمبر تھے پھر بھی اللہ سے ایمان کی سلامتی کی دعا کرتے رہتے تھے۔ ظاہر ہے کہ دنیا میں چاروں طرف بیشمار دنیاوی رنگینیاں اور شیطانی بہکاوے ہیں انسان کسی بھی وقت پھسل سکتا ہے۔ لیکن اگر دست بدعاپھیلائے رکھے کہ اے رب ! تو جو کہ وہاب یعنی سب کچھ عطا کرنے والا ہے ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان کی سلامتی عطا کر دے تو پھر کوئی مشکل ہے اور نہ کوئی پریشانی۔ پھر انسان دعا کرتا ہے اے ہمارے رب ! بیشک تو ہم سب کو ایک مقرر دن ضرور اپنے حضور جمع کرنے والا ہے۔ اس دن کے آنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة آل عمران
آیات 1- 9
اسرارومعارف
الم اللہ لا الہ الا ھو……………لا الہ الا ھوالعزیز الحکیم
جب بات کفار پر نصرت اور غلبہ کی طلب پر پہنچی جو کہ سورة بقرۃ کے آخر میں بطور دعا ہے تو اس سورة میں کفار کے ساتھ معاملات اور تعلقات کو بیان فرمادیا۔ گویا وہی بات آگے چل رہی ہے۔
سب سے پہلے مومن اور کافر میں فرق ارشاد ہوا کہ تو حید باری اور ذات وصفات الٰہیہ میں یہ بات واضح ہے ، کہ ماننے والے مسلم اور نہ ماننے والے کافر۔ گویا دنیا میں انسان کی تقسیم دو طرح پرہ ہے جسے دو قومی نظریہ بھی کہا جاتا ہے ، ایک مومن دوسرے کافر۔ مومنین باہم ایک شے ہیں اور کفر کے اندر پھر قسمیں ہیں مگر بنیادی طور پر سب کافر ایک ہی ملت…
Read the full tafseer →ف 3 یہ وہ دعا ہے جو علم میں راسخ حضرت اللہ کے حضور کرتے رہتے ہیں۔ حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے۔ یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک اے اللہ میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ ) ، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (ابن جریر )
Read the full tafseer →(3:8) لاتزغ دیکھو ۔ زیغ آیۃ مندرجہ بالا (3:7) فعل نہی۔ واحد مذکر حاضر۔ تو کج نہ کر۔ تو نہ پھیر۔
ھب واحد مذکر حاضر۔ امر ۔ وھب ۔ ھبۃ مصدر باب فتح۔ تو عطا کر ۔ تو بخشش کر۔
وھاب۔ مبالغہ کا صیغہ ہے بہت عطا کرنے والا۔ بہت زیادہ بخشش کرنے والا۔ اس سے قبل ان اور ک اور انت کو لا کر اللہ تعالیٰ کی صفت واہبہ میں سخت تاکید پیدا کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہوگا : یقینا وہاب تو تو ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 9
محکمٰت (جسکا مطلب اور مفہوم واضح ہو) ام الکتٰب (کتاب کی جڑوبنیاد) متشٰبھٰت (جس سے مطلب اور مفہوم کے مختلف پہلو نکلتے ہوں) زیغ (ٹیڑھا پن) ماتشابه (وہ کہ کئی ملتے ہوں) ابتغاء (تلاش کرنا) تاویله (اسکی تاویل ، اسکی اصل روح) الراسخون (پختہ، پکے) یذکر (دھیان دیتا ہے) لاتزغ (ٹیڑھا نہ کرنا) ھدیتنا (تو نے ہمیں ہدایت دے دی) ھب (عطا فرما) لدنک (تیرے پاس (لدن، ک) الوھاب (دینے والا، عطاکرنیوالا) جامع الناس (لوگوں کو جمع کرنیوالا) لاتخلف (نہیں خلاف کرتا ہے) المیعاد (وعدہ)
تشریح : آیت نمبر 7 تا 9
آیات محکمات وہ آیتیں ہیں جن کا مطلب اور مفہوم ایسے شخص پر بالکل واضح ہو کو قواعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
سب سے پہلے یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن شریف میں محکم اور متشابہ کو دو معنی میں اللہ تعالیٰ نے استعمال فرمایا ہے۔ حضرت عبدا اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ قرآن شریف میں جو آیتیں عمل کے لئے نازل ہوئی ہیں وہ محکم ہیں، اور جن سے عمل متعلق نہیں صرف بندوں کا ایمان لانا اللہ کا مقصود ہے۔ جیسے صفات الہٰی کی آیات یا قیامت کے حال کی آیات یا حروف مقطعات یہ سب متشابہ ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے متشابہ آیتوں کا مطلب سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں ہے۔ تم محکم آیتوں پر عمل کرو، متشابہ پر صرف ایمان لاؤ۔ (ابن کثیر و درمنثور)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
[3] یعنی وہ آیتیں جن کا مفہوم واضح ہو اور ان کے معافی میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
[4] یعنی وہ آیتیں جن کے مفہوم میں اشتباہ کی گنجائش ہے اور جن کے کئی معنی نکل سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
(ف 1) ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ کذب وافترا کی آخری حد عذاب الہی ہے ، وہ لوگ جو اب تک اسلام کے پیغام صداقت شعار کا انکار کرتے چلے آرہے ہیں ‘ وہ متنبہ رہیں کہ ان کا مال و دولت انہیں ہرگز اللہ کی پکڑ سے نہ بچا سکے گا ، یہ خدا کا قانون ہے ‘ اس کی سنت ہے وہ نافرمانوں کو ہمیشہ سخت سزائیں دیتا رہا ہے ۔
دیکھ لو فرعون کس جاہ وحشم اور کس ٹھاٹھ سے رہتا تھا ، مگر ضرب موسوی کی تاب نہ لاسکا اور بنی اسرائیل کے سامنے دریا میں ڈوب گیا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ف 1۔ اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے آپ پر کتاب یعنی قرآن نازل فرمایا اس قرآن میں دو طرح کی آیتیں ہیں کچھ آیتیں اس قرآن میں سے محکمات ہیں یعنی جن کی مراد میں اشتباہ اور ان کے مطلب میں خفان ہیں ہے بلکہ ان کا مطلب ظاہ رہے اور وہ آیات محکمات قرآن و احکام کا اصلی مدار اور اصل بنیاد ہیں اور دوسری آیتیں متشابہات ہیں جن کا مطلب اور مفہوم خفی ہے اور ان میں اشتباہ کی گاجائش ہے لہٰذا جن لوگوں کے دلوں میں کجی اور ڈیڑھ پن ہے ۔ وہ قرآن کے اس حصہ اور ان آیات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جو مختلف المعنی اور مشتبہ المراد ہیں تا کہ یہ لوگ دین میں کوئی شورش و فتنہ تلاش کریں نیز ان کی یہ غرض ہوتی ہے کہ اش مشتبہ المراد…
Read the full tafseer →ف 7۔ حق پرستوں کا دسرا کامل مذکور ہے کہ باوجود وصول الی الحق کے اس پر نازل نہیں، بلکہ حق تعالیٰ سے استقامت علی الحق کی دعا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →صاحب عقل لوگوں کی صدائے حال اس طرح ہوتی ہے :
23: مطلب یہ ہے کہ صاحب عقل لوگ اپنے رب سے اس طرح پکار پکار کر دعائیں کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم کو اس راہ مستقیم پر قائم رکھ اور ہمارا حال بھی یہودو نصاریٰ کا سانہ ہوجائے جو کتاب و نبوت کے بعد گمراہ ہوگئے اور متشابہات میں ہی الجھ کر رہ گئے۔ یہ ساری دعا اور اسی طرح کی دوسری دعائیں الراسخون فی العلم ہی کی زبانوں سے نکلتی ہیں جو دعا کرتے وقت بھی سمجھ سوچ کر دعا کرتے ہیں اندھے بہرے ہو کر دعا نہیں کرتے۔ جن کے دل اس حقیقت پر یقین کر گئے ہیں ان کے دلوں میں یہ دعائیں اٹھ کر زبان سے جاری ہوجاتی ہیں اور اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ علم دین میں پختہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
Sequence
The previous verse mentioned 'those well-grounded in knowledge' who, in spite of their excellent knowledge, were not proud of their excellence. Instead of that, they elected to have faith in what comes from their Lord. The present verse mentions yet another excellence of theirs - that they pray for steadfastness on the right path, not for any worldly gains, but for salvation in the life-to-come.
Commentary
The first verse (8) shows us that guidance and straying are from Allah alone. When Allah intends to guide someone, He makes his heart tilt towards what is good and right; and when…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
8. For explanation see Surah 2, n. 161 above.
Read the full tafseer →