Explained with ayahs 7–9
ہماری سمجھ سے بلند آیات
یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ قرآن میں ایسی آیتیں بھی ہیں جن کا بیان بہت واضح بالکل صاف اور سیدھا ہے۔ ہر شخص اس کے مطلب کو سمجھ سکتا ہے، اور بعض آیتیں ایسی بھی ہیں جن کے مطلب تک عام ذہنوں کی رسائی نہیں ہوسکتی، اب جو لوگ نہ سمجھ میں آنے والی آیتوں کے مفہوم کو پہلی قسم کی آیتوں کی روشنی میں سمجھ لیں یعنی جس مسئلہ کی صراحت جس آیت میں پائیں لے لیں، وہ تو راستی پر ہیں اور جو صاف اور صریح آیتوں کو چھوڑ کر ایسی آیتوں کو دلیل بنائیں جو ان کے فہم سے بالاتر ہیں، ان میں الجھ جائیں تو منہ کے بل گرپڑیں، ام الکتاب یعنی کتاب اللہ اصل اصولوں کی وہ صاف اور واضح آیتیں ہیں، شک و شبہ میں نہ…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 5
محکم پکی اور پختہ چیز کو کہتے ہیں۔ ”آیات محکمات“ سے مراد وہ آیات ہیں، جن کی زبان بالکل صاف ہے، جن کا مفہوم متعین کرنے میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہے، جن کے الفاظ معنی و مدعا پر صاف اور صریح دلالت کرتے ہیں، جنہیں تاویلات کا تختہ مشق بنانے کا موقع مشکل ہی سے کسی کو مل سکتا ہے۔ یہ آیات ”کتاب کی اصل بنیاد ہیں“ ، یعنی قرآن جس غرض کے لیے نازل ہوا ہے، اس غرض کو یہی آیتیں پورا کرتی ہیں۔ انہی میں اسلام کی طرف دنیا کی دعوت دی گئی ہے، انہی میں عبرت اور نصیحت کی باتیں فرمائی گئی ہیں، انہی میں گمراہیوں کی تردید اور راہ راست کی توضیح کی گئی ہے۔ انہی میں دین کے بنیادی اصول بیان کیے گئے…
Read the full tafseer →ربط آیات
پچھلی چار آیتوں میں توحید باری تعالیٰ کا اثبات تھا، اس آیت میں توحید کے خلاف بعض شبہات کا جواب ہے، واقعہ اس کا یہ ہے کہ ایک دفعہ نجران کے کچھ نصاری حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور مذہبی گفتگو شروع کی، آپ ﷺ نے نصاری کے عقیدہ تثلیث کی تردید بڑی تفصیل سے فرما کر توحید باری تعالیٰ کو ثابت کیا، آپ ﷺ نے اپنے دعوے پر اللہ تعالیٰ کی صفات حیات دائمہ، قدرت کاملہ، علم محیط اور قدرت تخلیق میں اللہ تعالیٰ کے یکتا اور منفرد ہونے سے استدلال کیا، اور یہ سب مقدمات نصاری کو تسلیم کرنا پڑے، جب توحید ثابت ہوگئی تو اسی سے تثلیث کے عقیدہ کا بطلان بھی ثابت ہوگیا، ان لوگوں نے قرآن کے ان الفاظ پر اپنے کچھ…
Read the full tafseer →آیات نمبر 7 تا 17 کا خلاصہ مضمون : قرآن کے نزول کی ضرورت واضح کرنے کے بعد اب یہ بات واضح کی جا رہی ہے کہ کس طرح کے لوگ ہیں جو اس قرآن کا انکار کر رہے ہیں اور وہ کیا چیزیں ہیں جن کو وہ اپنے اس انکار کے لیے بہانہ بنا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں فرمایا ہے کہ انکار کی راہ ان لوگوں نے اختیار کی ہے جن کے دلوں میں کجی اور جن کی طبیعتوں میں فتنہ پسندی ہے۔ اپنے اس ذوق کی وجہ سے وہ قرآن کی اصل تعلیمات سے کوئی لگاؤ نہیں رکھتے۔ وہ اس میں صرف ایسی چیزیں ڈھونڈھتے ہیں جن کی آڑ لے کر وہ قرآن کے خلاف لوگوں کے دلوں میں کچھ شبہات و شکوک پیدا کرسکیں اور اس طرح خود بھی راہ حق سے گریز اختیار کریں اور جس حد تک ان کا زور…
Read the full tafseer →7۔ 1 محکمات سے مراد وہ آیات ہیں جن میں اوامر ونواہی، احکام و مسائل اور قصص و حکایات ہیں جن کا مفہوم واضح اور اٹل ہے اور ان کے سمجھنے میں کسی کو اشکال پیش نہیں آتا اس کے برعکس آیات متشابھات ہیں مثلا اللہ کی ہستی قضا و قدر کے مسائل، جنت و دوزخ، ملائکہ وغیرہ یعنی ماوراء عقل حقائق جن کی حقیقت سمجھنے سے عقل انسانی قاصر ہو یا ان میں ایسی تاویل کی گنجائش ہو یا کم از کم ایسا ابہام ہو جس سے عوام کو گمراہی میں ڈالنا ممکن ہو۔ اس لئے آگے کہا جا رہا ہے کہ جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے وہ آیات متشابہ کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کے ذریعے سے فتنے برپا کرتے ہیں جیسے عیسائی ہیں۔ قرآن نے حضرت عیسیٰ ؑ کو عبد اللہ…
Read the full tafseer →3: اس آیت کو سمجھنے کے لئے پہلے اس حقیقت کا احساس ضروری ہے کہ اس کائنات کی بیشمار چیزیں ایسی ہیں جو انسان کی سمجھ سے بالاتر ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا وجود اور اس کی وحدانیت تو ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر انسان اپنی عقل سے معلوم کرسکتا ہے، لیکن اس کی ذات اور صفات کی تفصیلات انسان کی محدود عقل سے ماورا ہیں، قرآن کریم نے جہاں اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا ذکر فرمایا ہے ان سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ ظاہر کی گئی ہے، لیکن کوئی شخص ان صفات کی حقیقت اور کنہ کی فلسفیانہ کھوج میں پڑجائے توحیرانی یا گمراہی کے سوا اسے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، کیونکہ وہ اپنی محدود عقل سے اللہ تعالیٰ کی ان لامحدود…
Read the full tafseer →ایک روایت میں آتا ہے کہ وفد نجران کے عیسائیوں نے رسول ﷺ سے پوچھا کہ کیا آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ آپ حضرت عیسیٰ کو کلمۃ اللہ اور روح اللہ سمجھتے ہیں ؟ وہ ان الفاظ سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اپنے عقائد باطلہ ثابت کرنا چاہتے تھے ۔ مثلاً یہ کہ وہ بشر نہیں ‘ روح اللہ ہیں اور روح اللہ کی وہ اپنی تعبیرات کرتے تھے ۔ لیکن وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں قرآن کریم کی ان آیات کی بات بھی نہ کرتے تھے ۔ جو اس موضوع پر محکمات تھیں ‘ جن میں اللہ کی بےقید وحدانیت کا ذکر تھا۔ اور جن میں اس بات کی قطعی تردیدکردی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک یا اس کا کوئی لڑکا ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان…
Read the full tafseer →ف 1 نصاریٰ نجران نے تمام دلائل سے عاجز ہو کر بطور معارضہ کہا تھا کہ آخر آپ حضرت مسیح کو " کلمۃ اللہ " اور " روح اللہ " مانتے ہیں۔ بس ہمارے اثبات مدعا کیلئے یہ الفاظ کافی ہیں۔ یہاں اسکا تحقیقی جواب ایک عام اصول اور ضابطہ کی صورت میں دیا جس کے سمجھ لینے کے بعد ہزاروں نزاعات و مناقشات کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ اسکو یوں سمجھو کہ قرآن کریم بلکہ تمام کتب الہٰیہ میں دو قسم کی آیات پائی جاتی ہیں ایک وہ جن کی مراد معلوم و متعین ہو، خواہ اس لئے کہ لغت و ترکیب وغیرہ کے لحاظ سے الفاظ میں کوئی ابہام و اجمال نہیں نہ عبارت کئی معنیٰ کا احتمال رکھتی ہے نہ جو مدلول سمجھا گیا وہ عام قواعد مسلمہ کے مخالف ہے۔ اور یا…
Read the full tafseer →آیت 7 ہُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ
کسی کسی جگہ نَزَّلَ کے بجائے اَنْزَلَ کا لفظ بھی آجاتا ہے ‘ اور یہ آہنگ rhythm کے اعتبار سے ہوتا ہے ‘ کیونکہ قرآن مجید کا اپنا ایک ملکوتی غنا Divine Music ہے ‘ اس میں اگر آہنگ کے حوالے سے ضرورت ہو تو یہ الفاظ ایک دوسرے کی جگہ آجاتے ہیں۔
مِنْہُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ہُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ
محکم اور پختہ آیات وہ ہیں جن کا مفہوم بالکل واضح ہو اور جنہیں ادھر سے ادھر کرنے کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ اس کتاب کی جڑ ‘ بنیاد اور اساس وہی ہیں۔
وَاُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ ط
جن کا حقیقی اور صحیح صحیح مفہوم معین کرنا بہت مشکل بلکہ عام حالات میں ناممکن ہے۔ اس کی تفصیل تعارف…
Read the full tafseer →6 محکم آیات وہ ہیں جن کا مطلب واضح ہو، ان میں کسی قسم کا اشتباہ نہ ہو اور نہ ہی کوئی دوسرا مطلب لیا جاسکتا ہو اور ان سے مراد حلال و حرام سے متعلق احکام اور اوامرو نواہی ہیں، اور یہی چیزیں انسان کی ہدایت کے لیے کافی ہیں۔ چونکہ قرآن کا اصل موضوع انسان کی ہدایت ہے اور محکمات سے انسان کو پوری رہنمائی مل جاتی ہے۔ لہذا محکمات کو ہی ام الکتاب کا نام دیا گیا اور یہی وہ آیات ہیں جن کے متعلق قرآن کا دعویٰ ہے کہ ہم نے قرآن کو آسان بنادیا ہے۔
7 متشابہات ایسی آیات ہیں جن کا مفہوم ذہن انسانی کی دسترس سے بالا ہوتا ہے۔ انسان کی عقل چونکہ محدود ہے اور کائنات اور اس کے حقائق لامحدود ہیں۔ لہذا اللہ تعالیٰ جب…
Read the full tafseer →15 ۔ (اور وہی بہ طور معیار کے بن کر ان پر باقی کلام کو پیش کرنا چاہیے) (آیت) ” محکمت “ محکم قرآن مجید کی وہ واضح وصریح آیتیں ہیں جن کی دلالتیں متعین ہیں اور ان کے معانی میں کوئی خفاواشتباہ نہیں۔ المحکم مالا یعرض فیہ شبھۃ من حیث اللفظ ولا من حیث المغنی (راغب) واضحۃ المعنی ظاہرۃ الدلالۃ محکمۃ العبارۃ محفوظۃ من الاحتمال والاشتباہ (روح) المحکمات فی ای القران ما عرف تاویلہ وفھم معناہ وتفسیرہ (قرطبی) عن جابر بن عبد اللہ والشعبی وسفیان الثوری) قال النحاس احسن ماقیل فی المحکمات ان المحکمات ما کان قائما بنفسہ لا یحتاج ان یرجع فیہ الی غیرہ (قرطبی) فالمراد بہ اللفظ الذی لااشتراک فیہ ولایحتمل عنہ سامعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
آیت نمبر 10 تا 20
ترجمہ : یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلہ میں ہرگز ان کے کچھ کام نہ آئیں گے (یعنی عذاب کو) رفع نہ کریں گے، اور وہی لوگ آگ کے ایندھن ہوں گے، واؤ کے فتحہ کے ساتھ، جس کے ذریعہ آگ جلائی جاتی ہے جیسا کہ معاملہ آل عمران اور ان سے قبل والوں کے ساتھ ہوا، (یعنی) سابقہ امتوں کے ساتھ جیسا کہ عاد وثمود (کے ساتھ) انہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تو اللہ نے ان کے گناہوں کے باعث ان کی گرفت کی یعنی ان کو ہلاک کردیا اور جملہ ” کَذَُبُوْا “ الخ ماقبل کے جملہ ” کَدَأبِ اٰلِ فرعون الخ “ کی تفسیر ہے، اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے، اور جب آپ ﷺ غزوہ بدر سے…
Read the full tafseer →ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ : وہی ہے جس نے آپ ﷺ کے اوپر کتاب یعنی قرآن اتارا۔
مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ : جس کی کچھ مضبوط آیات ہیں یعنی ایسی محکم آیات ہیں جن کو زبان داں شخص سن کر اشتباہ میں نہیں رہتا۔ نہ ظاہری الفاظ اس کے لیے شبہ آفریں ہوتے ہیں نہ مفہوم کلام نہ مقتضائے کلام خواہ غور کرنے کے بغیر ہی مفہوم اور مقتضاء سمجھ میں آجاتا ہو جیسے آیت : قل تعالو اتل ما حرم ربکم علیکم اور آیت : و قضٰی ربک ان لا تعبدوا الا ایاہ اور آیت : لیس کمثلہ شی و ھو السمیع البصیر یا غور و تامل کے بعدکلام کا مقتضاء سمجھ میں آجاتا ہو۔ شارع کی طرف سے بیان کرنے کی ضرورت نہ ہو۔ جیسے آیت : السارق…
Read the full tafseer →(7) اسی ذات نے جبرائیل امین ؑ کے ذریعے تم پر قرآن کریم کو نازل کیا، جس میں اکثر حصہ ہر طرح کے شک وشبہ سے محفوظ ہے یعنی حلال و حرام، جائز ناجائز غرضیکہ تمام اصولی وبنیادی چیزوں کو بیان فرمانے والا ہے، اس میں سے کوئی چیز بھی منسوخ نہیں ہوئی، یہ آیات ہی کتاب اللہ کی جڑ اور بنیاد ہیں اور ہر ایک کتاب آسمانی پر عمل کرنے کے لیے اصل اصول ہیں جیسا کہ فرمان الہی (آیت) ”۔ قل تعالوا اتل ما حرم ربکم“۔ اور دوسری آیات ایسی ہیں جو یہودیوں کے لیے مشتبہ المراد (یعنی جن کے مفہوم میں قطعیت نہیں ہے) جیسا کہ اس کی ایک مثال حروف مقطعات ہیں اور یہ بھی معنی بیان کیے گئے کہ ان متشابہ آیات پر عمل منسوخ کردیا گیا اور جن…
Read the full tafseer →ایک جگہ قرآن مجید کی تمام آیات کو محکم کہا گیا ہے، چناچہ فرمایا : (الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ) [ ھود : 1 ] ’ الۗرٰ ، ایک کتاب ہے جس کی آیات محکم کی گئیں۔“ اور دوسری جگہ تمام آیات کو متشابہ، چناچہ فرمایا : (اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ ڰ) [ الزمر : 23 ] ”اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، ایسی کتاب جو آپس میں ملتی جلتی ہے۔“ اور یہاں بعض آیات کو متشابہ قرار دیا ہے، بعض کو محکم، مگر اس میں کوئی تعارض نہیں۔ تمام آیات کے محکم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پورے قرآن میں کوئی کمی یا خرابی نہیں، نہایت مضبوط اور محکم ہے اور متشابہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 7۔
اس میں نو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) امام مسلم نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا : رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
(آیت) ” ھو الذین انزل علیک الکتب منہ ایت محکمت ھن ام الکتب واخر متشبھت، فاما الذین فی قلوبھم زیغ فیتبعون ما تشابہ منہ ابتغآء الفتنۃ وابتغآء تاویلہ، وما یعلم تاویلہ الا اللہ والرسخون فی العلم یقولون امنا بہ کل من عند ربنا وما یذکر الا اولو الالباب (7) الم المومنین نے بیان کیا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو قرآن کریم کی متشابہ آیتوں کی پیروی کرتے ہیں تو وہی وہ لوگو ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے یہ نام دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
(1) ابن جریر ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” محکمت “ سے مراد ہے ناسخ آیات حلت اور حرمت کے احکام والی آیات اور حدود اور فرائض والی آیات جن پر ایمان لایا جاتا ہے اور ” المتشبھت “ سے مراد ہے اس کی منسوخ مؤخر آیات مثالیں اور اس کی اقسام جن پر ایمان تو لایا جاتا ہے اور عمل نہیں کیا جاتا۔
(2) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” المحکمات “ سے مراد وہ منسوخ کرنے والی آیات ہیں (جو سابقہ حکم کو منسوخ کرنے والی آیات ہیں (جو سابقہ حکم کو منسوخ کردیتی ہے) جن کی تابعداری کی جاتی ہے اور اسی کے ساتھ عمل کیا جاتا ہے لفظ آیت ”…
Read the full tafseer →[ہُوَ الَّذِیْ : وہ ہے جس نے ] [اَنْزَلَ : اتاری ] [عَلَیْکَ : آپ ﷺ پر ] [الْکِتٰبَ : یہ کتاب ] [مِنْہُ : اس میں ہیں ] [اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ : پختہ کی ہوئی (یعنی واضح) آیات ] [ہُنَّ : یہ سب ] [اُمُّ الْکِتٰبِ : اس کتاب کی اصل ہیں ] [وَاُخَرُ : اور دوسری ] [مُتَشٰبِہٰتٌ : باہم ملنے جلنے والی (یعنی غیر واضح ) ہیں ] [فَاَمَّا الَّذِیْنَ : پس وہ جو ہیں ] [فِیْ قُلُوْبِہِمْ : جن کے دلوں میں ] [زَیْغٌ : کجی ہے ] [فَـیَتَّبِعُوْنَ : تو وہ لوگ پیچھا کرتے ہیں ] [مَا : اس کا جو ] [تَشَابَہَ : باہم ملتا جلتا (یعنی غیر واضح) ہوا ] [مِنْہُ : اس میں سے ] [ابْتِغَـآئَ الْفِتْنَۃِ : آزمائش کی جستجو کرتے ہوئے ]…
Read the full tafseer →محکمات اور متشابہات کا مطلب
اس آیت شریفہ میں ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن میں بہت سی آیات محکمات ہیں اور بہت سی آیات متشابہات ہیں، اور بعض آیات میں تمام آیات کو محکم بتایا ہے جیسا کہ سورة ھود میں فرمایا ہے (کِتٰبٌ اُحْکِمَتْ اٰیَاتُہٗ ) اور بعض جگہ پورے قرآن کو متشابہ فرمایا جیسا کہ سورة زمر میں فرمایا : (اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَثَانِیَ ) ان مواقع میں محکم اور متشابہ کا وہ معنی مراد نہیں ہے جو سورة آل عمران کی مذکورہ بالا آیت میں مراد ہے جو ابھی مذکور ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
پورا قرآن محکم اس اعتبار سے ہے کہ وہ سارا حق ہے لفظی اور معنوی اعتبار سے بالکل صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
تقسیم آیات بسوئے محکمات ومتشابہات مع تقسیم سامعین بسوئے زائغین فہم وراسخین علم۔
قال اللہ تعالی، ھوالذی انزل علیک الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔ المیعاد۔
جب دلائل واضحہ سے توحید کا اثبات اور تثلیث اور ابنیت کا رد اور ابطال ہوگیا تو نصاری نے عاجز ہو کر بطور معارضہ یہ کہا کہ آپ بھی حضرت مسیح کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ مانتے ہیں پس یہی الفاظ ہمارے مدعا کے اثبات کے لیے کافی ہیں۔ حق جل شانہ نے ان آیات میں ان کے اس شبہ کا جواب ایک عام ضابطہ اور قاعدہ کے شکل میں دیا جس کے سمجھ لینے کے بعد صدہا اور ہزارہا شبہات اور اشکالات اور نزاعات اور مناقشات کا خاتمہ ہوجاتا ہے وہ یہ کہ قرآن کریم بلکہ تمام کتب الٰہیہ میں آیات…
Read the full tafseer →7 اس میں شک نہیں کہ یہ کتاب تو خدا ہی نے نازل کی ہے۔ جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق روح اللہ اور کلمۃ اللہ کے الفاظ موجود ہیں مگر اس کی آیتیں اپنے مفہوم ومعنی کے اعتبار سے دو قسم کی ہیں ایک محکم دوم متشابہ، محکم تو وہ ہیں جن کا معنی متفق علیہ اور مفہوم معقول اور قابل فہم ہو اور متشابہ وہ ہیں جن کی تاویل مختلف فیہ ہو اور ان کا ظاہر فہم سے بالا ہو۔ مثلاً حروف مقطعات اور ید اللہ، روح اللہ اور کلمۃ اللہ وغیرہ۔ المحکماتھی المتفق علی تاویلھا والمعقول معناھا والمتشابھات فی المختلف فی تاویلھا (المعتصر من مختصر مشکل الآثار طحاوی ج 2 ص 164) ھُنَّ اُمُّ الْکِتَابِ ۔ یعنی کتاب کی اصل اور مرکزی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ربط آیات :
گذشتہ درس میں بیان کیا جا چکا ہے۔ کہ سورة آل عمران کے اہم مضامین میں سے مسئلہ توحید اور اس کے عقلی و نقلی دلائل ہیں۔ پھر قرآن پاک کی صداقت و حقانیت کا تذکرہ ہے۔ اور بعض دوسرے مضامین بھی بیان ہوئے ۔ سابقہ آیات میں مسئلہ توحید کو اجاگر کیا گیا تھا۔ اور سابقہ کتب کا تذکرہ تھا۔ جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں تک ہدایت کا سامان بہم پہنچاتا رہا۔ ان ہدایات کا انکار کرنے والوں کے لیے سخت سزا کی وعید تھی۔ اور لوگوں کو یاد دلایا گیا تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ وہ ہر انسان کی ہر حرکت سے واقف ہے۔ بلکہ ماں کے رحم میں انسان کی شکل و صورت بنانے والی بھی وہی ذات ہے۔ پھر اس سے…
Read the full tafseer →ھُوَالَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْہُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ 0 ۭ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِہِمْ زَيْـغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَاۗءَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَاۗءَ تَاْوِيْلِہٖ 0 ۚ۬ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَہٗٓ اِلَّا اللہُ 0 ۘؔ وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ 0 ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا 0 ۚ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ 7
كتب
والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/…
Read the full tafseer →1 ؎ مستحکم یعنی صاف صاف اصول دین بیان کرتے ہیں۔ 12 منہ
فائدہ : محکم اور متشابہ کے معنی لغت میں مضبوط اور ملتے جلتے کے ہیں۔ عرب محکم مضبوط بنیاد کو کہتے ہیں کہ جو دو چیزیں آپس میں ملتی جلتی ہوں ان کو متشابہ کہتے ہیں اور اسی لئے قرآن کو کتابا متشابہا فرمایا کہ حسن و خوبی میں باہم ہر ایک آیت دوسرے سے برابر ہے۔ ان معنی کے لحاظ سے تمام قرآن پر متشابہ کا اطلاق ہوسکتا ہے اور محکم کے معنی لغوی مضبوط اور حق ہونے کے ہیں۔ اس لحاظ سے تمام قرآن کو محکم بھی کہہ سکتے ہیں جیسا کہ فرماتا ہے الر کتاب حکمت آیاتہ یہ دونوں لغوی معنی باہم کچھ منافات نہیں رکھتے مگر بعض ناسمجھ پادری اس نکتہ کو نہ سمجھے۔ انہوں نے ان…
Read the full tafseer →ھُوَالَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْـکِتٰبَ مِنْہُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْـکِتٰبِ وَاُخَرُمُتَشٰبِہٰتٌ ط فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْـہُ ابْتِغَـآئَ الْفِتْـنَۃِ وَابْتِغَـآئَ تَاْوِیْلِہٖ ج ص ومَایَعْلَمُ تَاْوِیْلَـہٗٓ اِلَّااللّٰہُ مؔ وَالرَّاسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہٖلا کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاج وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُوْلُوا الْاَلْـبَابِ ۔
(وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی اس کی کچھ آیتیں محکم ہیں جو اصل کتاب کا درجہ رکھتی ہیں اور دوسری کچھ آیتیں متشابہ ہیں۔ پس جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے ‘ وہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کتاب مبین ہے جو پہلی کتابوں کا مصدق ہے۔ اس کے احکامات محکم ہیں جن میں کوئی ٹیڑھ اور زیغ نہیں۔ زیغ اور ٹیڑھ تو منکرین کے دلوں میں ہے انہیں معلوم ہونا چاہیے۔ اللہ ان کی حرکات و سکنات اور اعمال و افعال سے واقف ہے وہ دلوں کے اسرار و رموز اور کجی و زیغ بھی جانتا ہے۔
قرآن مجید کو سمجھنے اور اُمّت کے اختلافات کو جاننے کے لیے یہ آیت بنیادی اور کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں یہ وضاحت پائی جاتی ہے کہ قرآن مجید کے احکامات اور ارشادات دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ احکامات ہیں جو الفاظ و معانی اور مفہوم کے اعتبار سے دو اور دو ‘ چار کی طرح واضح ہیں یہی قرآن کی اساس ہیں اور یہ فہم قرآن…
Read the full tafseer →7 : ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ ٰایٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِھٰتٌ۔ فََاَ مَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَاتَشَا بَہَ مِنْہُ ابْتِغَآ ئَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَآئَ تَاْوِیْلِہٖ وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہٗٓ اِلاَّ اللّٰہُ وَالرّٰ سِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ ٰامَنَّابِہٖ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ ۔ (وہی ہے جس نے آپ پر کتاب اتاری جس کی کچھ آیات محکم ہیں اور وہ کتاب کی اصل ہیں۔ اور دوسری متشابہات ہیں پس جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ متشابہات کے پیچھے چلتے ہیں۔ فتنہ…
Read the full tafseer →آیات محکمات کی تشریح :
(تفسیر) 7۔:
(آیت)” (ھو الذی ۔۔۔۔۔۔۔ محکمات وہی ہے جس نے نازل کیا تم پر کتاب جس کی کچھ آیات مضبوط تھیں) محکمات سے مراد مبینات ، مفصلات ہیں ، ان کو محکمات اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں احکام ہیں ، گویا ان میں ایسے احکام ہیں جس میں مخلوقات کو تصرف کرنے سے روکا گیا ہے ، ان میں احکام کے ظاہر اور واضح ہونے کی وجہ سے (ھن ام الکتاب آیات محکمہ اصول و فرائض ہیں) اس کا اصل ہر وہ کام جو احکام کی طرف واپس لوٹے ، اسی لیے ” ھن ام الکتاب “ کہا ہے اور امہات الکتاب نہیں کہا اس لیے کہ اس میں تمام آیات اس کے احکام مکمل اور مجتمع ہیں ، گویا کہ یہ آیت واحدہ کے حکم میں ہیں اور اللہ کا کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
(7 ۔ 9) سب سے پہلے یہ ایک بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن شریف میں محکم اور متشابہ کو دو معنے میں اللہ تعالیٰ نے استعمال فرمایا ہے ایک استعمال کی رو سے تو سارے قرآن کو ایک جگہ محکم فرمایا ہے اور دوسری جگہ متشابہ جس استعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ سارا قرآن محکم بھی ہے اور متشابہ بھی ہے چناچہ فرمایا ہے کہ کتاب احکمت ایاتہ (11۔ 1) پھر دوسری جگہ فرمایا کتابا متشابہا (39۔ 23) اس محکم کے یہ معنی ہیں کہ سارا قرآن فصاحت و بلاغت اور اخبار غیب میں محکم ہے کسی جگہ قرآن شریف کے ان اوصاف میں خلل واقع نہیں ہوا ہے چناچہ اسی وجہ سے عرب کے فصیح وبلیغ مشرک لوگ باوجود سخت مخالف ہونے کے قرآن شریف کی کسی ایک آیت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
آیت 7
قرآن مجید سب کا سب محکم (پختہ، مضبوط) ہے جیسے اللہ نے فرمایا : (کتب احکمت ایتہ ثم فصلت من لدن حکیم خبیر) (ھود :1/11) ” یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں محکم ہیں۔ پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے “ لہٰذا یہ انتہائی مضبوطی، عدل اور احسان پر مشتمل ہیں۔ (ومن احسن من اللہ حکماً لقوم یوقنون) (المائدہ :50/5) ” یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ سے بہتر فیصلہ کس کا ہوسکتا ہے “ ایک لحاظ سے قرآن سب کا سب متشابہ ہے۔ یعنی یہ حسن و بلاغت کے لحاظ سے ایک دوسرے کی تصدیق کرنے کی بنا پر اور ایک دوسرے سے لفظی اور معنوی مطابقت رکھنے کی وجہ سے ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ اس آیت میں جس محکم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محکمات اور متشابہات کا بیان
قول باری ہے (ھوالذی انزل علیک الکتاب منہ ایات محکمات ھن امرالکتب واخرمتشابھات) وہی خدا ہے جس نے تم پر یہ کتاب نازل کی ہے اس میں دوطرح کی آیتیں ہیں ایک حکمات جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات تاآخر آیت ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی اس تفسیر کے آغاز میں محکم اور متشابہ کے معانی بیان کردیئے ہیں اور یہ بھی واضح کردیا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی دوقسمیں ہیں، ایک کے لحاظ سے پورے قرآن کو اس کے ساتھ موصوف کرنا ورست ہے اور دوسرے کے لحاظ سے قرآن کے بعض حصوں کو اس کے ساتھ مختص کرنا صحیح ہے قول باری ہے (الرکتاب احکمت آیاتہ ثم فصلت من لدن…
Read the full tafseer →10 " محکم " کا معنیٰ اور اس سے مراد ؟ : سو ایسی آیات کریمات وہ ہوتی ہیں جن کے مفاہیم واضح، اور ان کی مراد متعین ہوتی ہے۔ ور ان کے مفہوم و مراد کو سمجھنے میں کوئی اشتباہ نہیں ہوتا۔ واضح رہے کہ " محکم " اِحکام سے ماخوذ ہے۔ جس کے اصل اور لغوی معنی پختگی اور مضبوطی کے ہوتے ہیں۔ سو اس اعتبار سے قرآن حکیم کی سب ہی آیات محکم اور پختہ ہیں، کہ وہ سب ہی اپنے ظاہر و باطن، الفاظ و معانی، تراکیب و مبانی، اور اپنے مطالب و مقاصد، کے اعتبار سے نہایت مضبوط اور محکم ہیں، جن میں کسی طرح کا کوئی خلل اور فتور راہ نہیں پاسکتا۔ سو اس اعتبار سے قرآن حکیم کی سب ہی آیات محکم ہیں۔ چناچہ سورة ھود میں ارشاد فرمایا گیا {…
Read the full tafseer →محکم اور متشابہ آیات
تشریح : اس آیت میں سب سے پہلے رب کا بیان ہے کہ وہ وہی ذات اکبر ہے جس نے تم پر حکمت والی کتاب نازل فرمائی ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ اس کتاب میں دو قسم کی آیات بیان کی گئی ہیں۔ ایک محکمات اور دوسری متشابہات۔
محکمات ان آیات کو کہتے ہیں جو عام فہم ہوں اور جن کا مطلب واضح ملتا ہو اور جن کے ایک ہی معنی نکلتے ہوں۔ یہی آیات ہمیں راہ راست دکھاتی ہیں، علم و حکمت سکھاتی ہیں، نیکی اور بدی کا فرق بتاتی ہیں۔ اور بہترین زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتی ہیں سب سے بڑھ کر یہ کہ جنت و دوزخ کا راستہ بھی انہی آیات میں دکھایا جاتا ہے اور جو لوگ ایمان کامل رکھتے ہیں وہ انہی آیات کو ہر وقت سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة آل عمران
آیات 1- 9
اسرارومعارف
الم اللہ لا الہ الا ھو……………لا الہ الا ھوالعزیز الحکیم
جب بات کفار پر نصرت اور غلبہ کی طلب پر پہنچی جو کہ سورة بقرۃ کے آخر میں بطور دعا ہے تو اس سورة میں کفار کے ساتھ معاملات اور تعلقات کو بیان فرمادیا۔ گویا وہی بات آگے چل رہی ہے۔
سب سے پہلے مومن اور کافر میں فرق ارشاد ہوا کہ تو حید باری اور ذات وصفات الٰہیہ میں یہ بات واضح ہے ، کہ ماننے والے مسلم اور نہ ماننے والے کافر۔ گویا دنیا میں انسان کی تقسیم دو طرح پرہ ہے جسے دو قومی نظریہ بھی کہا جاتا ہے ، ایک مومن دوسرے کافر۔ مومنین باہم ایک شے ہیں اور کفر کے اندر پھر قسمیں ہیں مگر بنیادی طور پر سب کافر ایک ہی ملت…
Read the full tafseer →ف 1 محکمات وہ آیات ہیں جن کا مفہوم بالکل واضح اور صریح ہے اور ان میں کسی قسم کی تاویل کی کنجائش نہیں ان کو ام الکتاب قرار دیا ہے۔۔ یعنی میں لوگوں کو دین کی طرف دعوت دی گئی ہے اور انہی میں دین کے بنیادی عقائد، عبادات اور احکام بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن مجید کے نصائح عبر اور انسانی گمراہیوں کی نشانی دہی بھی انہی آیات میں لی گئی ہے۔ متشابہات جن کا مفہوم سمجھنے میں اکثر لوگوں کی اشتباہ ہوجاتا ہے ان میں تاویل کی گنجائش نکل سکتی ہے جن میں ایسے حقائق کا بیان ہے جب پر مجمل طور پر ایمان لانا تو ضروری ہے لیکن ان کی تفصیلات کو جا ننا انسان کے لیے ضروری ہے اور نہ عقل استعداد کے ساتھ ممکن ہے۔ جیسے حروف…
Read the full tafseer →(3:7) محکمت۔ اسم مفعول جمو مؤنث۔ محکم۔ مفرد ۔ احکام مصدر (افعال) پختہ ۔ درست۔ جن کے معانی اور الفاظ میں اجمال اور اشتباہ نہ ہو۔ لفظ اپنے معانی پر واضح دلالت کرتا ہو اور غیر مراد کا احتمال نہ ہو ۔
اخر۔ اخری کی جمع جو اخر کی تانیث ہے۔
متشابھت۔ اسم فال جمع مؤنث۔ متشابھۃ مفرد۔ قرآن حکیم میں متشابہات سے کیا مراد ہے اس کے معنی کی تشریح علماء نے مختلف طور پر کی ہے عام فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر ظاہراً مراد کا علم نہ ہو سکے تو وہ متشابہ ہے۔
نوٹ : تفسیر بیان القرآن میں حضرت حکیم الامت تھانوی (رح) نے ایک جامع رسالہ موسوم بہ رسالۃ التواجہ بما یتعلق بالتشابہ تحریر فرمایا ہے جو ازحد مفید ہے اور آل عمران کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 9
محکمٰت (جسکا مطلب اور مفہوم واضح ہو) ام الکتٰب (کتاب کی جڑوبنیاد) متشٰبھٰت (جس سے مطلب اور مفہوم کے مختلف پہلو نکلتے ہوں) زیغ (ٹیڑھا پن) ماتشابه (وہ کہ کئی ملتے ہوں) ابتغاء (تلاش کرنا) تاویله (اسکی تاویل ، اسکی اصل روح) الراسخون (پختہ، پکے) یذکر (دھیان دیتا ہے) لاتزغ (ٹیڑھا نہ کرنا) ھدیتنا (تو نے ہمیں ہدایت دے دی) ھب (عطا فرما) لدنک (تیرے پاس (لدن، ک) الوھاب (دینے والا، عطاکرنیوالا) جامع الناس (لوگوں کو جمع کرنیوالا) لاتخلف (نہیں خلاف کرتا ہے) المیعاد (وعدہ)
تشریح : آیت نمبر 7 تا 9
آیات محکمات وہ آیتیں ہیں جن کا مطلب اور مفہوم ایسے شخص پر بالکل واضح ہو کو قواعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
سب سے پہلے یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن شریف میں محکم اور متشابہ کو دو معنی میں اللہ تعالیٰ نے استعمال فرمایا ہے۔ حضرت عبدا اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ قرآن شریف میں جو آیتیں عمل کے لئے نازل ہوئی ہیں وہ محکم ہیں، اور جن سے عمل متعلق نہیں صرف بندوں کا ایمان لانا اللہ کا مقصود ہے۔ جیسے صفات الہٰی کی آیات یا قیامت کے حال کی آیات یا حروف مقطعات یہ سب متشابہ ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے متشابہ آیتوں کا مطلب سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں ہے۔ تم محکم آیتوں پر عمل کرو، متشابہ پر صرف ایمان لاؤ۔ (ابن کثیر و درمنثور)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
[3] یعنی وہ آیتیں جن کا مفہوم واضح ہو اور ان کے معافی میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
[4] یعنی وہ آیتیں جن کے مفہوم میں اشتباہ کی گنجائش ہے اور جن کے کئی معنی نکل سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →متشابہات :
(ف 2) قرآن حکیم کی تقسیم محکمات ومتشابہات میں دائر ہے ، وہ لوگ جن کے دل نور ہدایت سے مستتیز ہیں ‘ اس تقسیم کو قدرتی اور طبعی خیال کرتے ہیں ، مگر وہ لوگ جن کا مقصد راہ راست سے بھٹک جانا ہے ، وہ محکمات کو جو اساس دین میں چھوڑ دیتے ہیں اور متشابہات جو محض برسبیل استطرادوتوثیق کے لئے بیان کی گئی ہیں ، وجہ نزاع ومخاصمت بنا لیتے ہیں اور گمراہ ہوجاتے ہیں ۔
قرآن حکیم میں عقائد سے لے کر معاشرت کے ادنی سے ادنی مسائل تک سب کو بیان کیا گیا ہے اور پھر ایک ایک مطلب ومقصد کو متعدد وسائل اور اسالیب بیان سے ادا کیا گیا ہے کبھی تشبیہ سے کام لیا جاتا ہے اور کبھی استعارے سے کبھی حقیقت جلوہ آرا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ف 1۔ اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے آپ پر کتاب یعنی قرآن نازل فرمایا اس قرآن میں دو طرح کی آیتیں ہیں کچھ آیتیں اس قرآن میں سے محکمات ہیں یعنی جن کی مراد میں اشتباہ اور ان کے مطلب میں خفان ہیں ہے بلکہ ان کا مطلب ظاہ رہے اور وہ آیات محکمات قرآن و احکام کا اصلی مدار اور اصل بنیاد ہیں اور دوسری آیتیں متشابہات ہیں جن کا مطلب اور مفہوم خفی ہے اور ان میں اشتباہ کی گاجائش ہے لہٰذا جن لوگوں کے دلوں میں کجی اور ڈیڑھ پن ہے ۔ وہ قرآن کے اس حصہ اور ان آیات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جو مختلف المعنی اور مشتبہ المراد ہیں تا کہ یہ لوگ دین میں کوئی شورش و فتنہ تلاش کریں نیز ان کی یہ غرض ہوتی ہے کہ اش مشتبہ المراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
ف 3۔ یعنی ان کا مطلب ظاہر ہے۔
4۔ یعنی غیر ظاہر المعنی کو بھی ان یہ ظاہر المعانی کے موافق بنایا جاتا ہے۔
5۔ یعنی ان کا مطلب خفی ہے خواہ بوجہ مجمل ہونے کے خواہ کسی نص ظاہر المراد کے ساتھ معارج ہونے کے۔
6۔ بعض منکرین توحید کا بعض کلمات موہمہ خلاف توحید سے استدلال ہوسکتا تھا چناچہ بعض نصاری نے لفظ روح اللہ اور کلمة اللہ سے جو کہ قرآن میں واقع ہوا ہے اپنے مدعا پر الزامی طور پر استدلال کیا تھا اس آیت میں اس شبہ کا جواب ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایسے کلمات خفی المراد سے احتجاج درست نہیں بلکہ مدار عقائد کا نصوص واضحہ ہیں، اور خفی المراد پر جبکہ ان کی تفسیر معلوم نہ ہو اجمالا ایمان لے آنا واجب ہے، زیادہ…
Read the full tafseer →محکمات و متشابہات کی حقیقت کیا ہے ؟
16: یہاں اس اصل عظیم کو بیان کیا جارہا ہے کہ کتاب اللہ کی تعلیم دو اصولی قسموں پر مشتمل ہے۔ ایک قسم محکمات کی ہے اور دوسری متشابہات کی۔ محکمات سے مراد وہ مطالب ہیں جو اصل و بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے انسانی عقل کے لیے صاف صاف اور کھلے احکام ہیں مثلاً توحید و رسالت ، اوامرونواہی ، حلال و حرام اور متشابہات سے مراد وہ مطالبیں جن کا تعلق ماوراء عقل حقائق سے ہے اور انسانی علم و حواس کے ذریعہ ان کا ادراک نہیں ہوسکتا۔ مثلاً اللہ کی ذات ، مرنے کے بعد زندگی ، عالم آخرت کے احوال ، عذاب وثواب کی اصل حقیقت ، پس ناگزیر طور پر ان کا بیان ایسے پیرایہ میں کیا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Moving from the affirmation of the principle of Allah's Oneness, the text now answers some doubts raised against it. As stated briefly a little earlier, this verse was revealed in a specific background. Once a group of Christians came to the Holy Prophet ﷺ and started talking about religion. The Holy Prophet ﷺ ، refuted their doctrine of Trinity in details and proved the Oneness of Allah with reference to the eternal existence, the perfect power, the all encompassing knowledge; and the most unique creativity of Allah Almighty who had to be One and indivisible. The Christians had to accept…
Read the full tafseer →5. Muhkam means that which has been made firmly and perfectly. The muhkam verses mentioned here are those Qur'anic verses which are embodied in clear and lucid language and whose meaning is not liable to any ambiguity and equivocation. The words of these verses are clear pointers to their true meaning and, therefore, it is difficult to subject them to arbitrary interpretation. Such verses form the core of the Holy Book; they are the verses which fulfil the true purpose for which the Qur'an was revealed, and they invite the whole world to Islam. They embody admonition and instruction as well…
Read the full tafseer →