Aal-i-Imraan 3:6

Aal-i-Imraan · from ayah 6

3:6

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ ؕ— لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ۟هُوَ الَّذِىۡ يُصَوِّرُكُمۡ فِى الۡاَرۡحَامِ كَيۡفَ يَشَآءُ ‌ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ

وہی تو ہے جو (ماں کے پیٹ میں) جیسی چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is He who forms you in the wombs however He wills. There is no deity except Him, the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:6

وہی تو ہے جو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں، جیسی چاہتا ہے، بناتا ہے اُس زبردست حکمت والے کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہی تو ہے جو (ماں کے پیٹ میں) جیسی چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔ اس کے سواکوئی معبود برحق نہیں وه غالب ہے، حکمت واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہی ہے جو ماؤں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زبردست اقتدار کا بھی مالک ہے، اعلی درجے کی حکمت کا بھی

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہی ہے کہ تمہاری تصویر بناتا ہے ماؤں کے پیٹ میں جیسی چاہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہی ہے جو (ماؤں کے) رحموں میں تمہاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے، اس کے سوا کوئی لائقِ پرستش نہیں (وہ) بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہی ہے جو رحموں میں تمہاری صورت بناتا ہے، جس طرح چاہتا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہی، جیسے چاہتا ہے تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ زبردست ہے، حکمت والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہی ہے جو تمہاری صورت گری کرتا ہے رحموں کے اندر جس طرح چاہتا ہے۔ نہیں کوئی معبود مگر وہ، وہ غالب اور حکیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ (وحدہ لاشریک) وہی ہے جو تمہاری صورت گری فرماتا ہے تمہاری ماؤں کے رحموں اندر جیسے چاہتا ہے، کوئی معبود نہیں سوائے اس (وحدہ لاشریک) کے، جو بڑا ہی زبردست، نہایت ہی حکمت والا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ وہی (خدا) ہے جو تماری صورت رحموں کے اندر بناتا ہے جس طرح وہ چاہتا ہے۔ کوئی خدا نہیں بجز اس کے۔ وہ بڑا زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہی ہے جو تمہاری صورت گری کرتا ہے (تمہاری ماؤں کے) رحموں میں جس طرح چاہتا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ غالب اور حکیم ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہی تو ہے جو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جیسی چاہتا ہے بناتا ہے۔ اس زبردست، حکمت والے کے سوا اور کوئی اللہ نہیں ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

It is He Who fashions you in the wombs as He wills. There is no God but He; the All-Mighty, the All-Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He is the One Who shapes you in the wombs as He likes. There is no god but He, the Mighty, the Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

He is the One Who shapes you in the wombs as He likes. There is no god but He, the Mighty, the Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He it is Who shapes you in the wombs as He wills. None has the right to be worshipped but He, the Almighty, the All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He it is Who fashioneth you in the wombs as pleaseth Him. There is no Allah save Him, the Almighty, the Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It is He who forms you in the wombs however He wills. There is no deity except Him, the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

It is God who shapes you in the wombs as He wills. He is the only Lord, the Majestic, and All-wise.

— Muhammad Sarwar

He it is Who shapes you in the wombs as He likes; there is no god but He, the Mighty, the Wise

— Muhammad Habib Shakir

He it is Who fashionoth You in the Wombs as He will: there is no god but He, the Mighty, the Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

He it is Who shapes you in the wombs as He pleases. There is no god but He, the Exalted in Might, the Wise.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–6

خالقِ کل اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آسمان و زمین کے غیب کو وہ بخوبی جانتا ہے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، وہ تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں جس طرح کی چاہتا ہے اچھی، بری نیک اور بد صورتیں عنایت فرماتا ہے، اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں وہ غالب ہے حکمت والا ہے، جبکہ صرف اسی ایک نے تمہیں بنایا، پیدا کیا، پھر تم دوسرے کی عبادت کیوں کرو ؟ وہ لازوال عزتوں والا غیرفانی حکمتوں والا، اٹل احکام والا ہے۔ اس میں اشارہ بلکہ تصریح ہے کہ حضرت عیسیٰ بھی اللہ عزوجل ہی کے پیدا کئے ہوئے اور اسی کی چوکھٹ پر جھکنے والے تھے، جس طرح تمام انسان اس کے پیدا کردہ ہیں انہی انسانوں میں سے ایک آپ بھی ہیں، وہ بھی ماں کے رحم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة اٰلِ عِمْرٰن 4 اس میں دو اہم حقیقتوں کی طرف اشارہ ہے ایک یہ کہ تمہاری فطرت کو جیسا وہ جانتا ہے، نہ کوئی دوسرا جان سکتا ہے، نہ تم خود جان سکتے ہو۔ لہٰذا اس کی رہنمائی پر اعتماد کیے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ جس نے تمہارے استقرار حمل سے لے کر بعد کے مراحل تک ہر موقع پر تمہاری چھوٹی سے چھوٹی ضرورتوں تک کو پورا کرنے کا اہتمام کیا، کس طرح ممکن تھا کہ وہ دنیا میں تمہاری ہدایت و رہنمائی کا انتظام نہ کرتا، حالانکہ تم سب سے بڑھ کر اگر کسی چیز کے محتاج ہو، تو وہ یہی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

مذکورہ آیتوں کی مختصر تفسیر یہ ہے اللہ تعالیٰ ایسے ہیں کہ ان کے سوا کوئی قابل معبود بنانے کے نہیں، اور وہ زندہ (جاوید) ہیں، سب چیزوں کے سنبھالنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے پاس قرآن بھیجا ہے واقعیت کے ساتھ اس کیفیت سے کہ وہ تصدیق کرتا ہے ان (آسمانی) کتابوں کی جو اس سے پہلے ہوچکی ہیں اور (اسی طرح) بھیجا تھا توریت اور انجیل کو اس کے قبل لوگوں کی ہدایت کے واسطے (اور اسی سے قرآن کا ہدایت ہونا بھی لازم آگیا، کیونکہ ہدایت کا مصدق بھی ہدایت ہے) اور اللہ تعالیٰ نے (انبیاء (علیہم السلام) کی تصدیق کے واسطے) بھیجے معجزات، بیشک جو لوگ منکر ہیں اللہ تعالیٰ کی (ان) آیتوں کے (جو توحید پر دلالت کرتی ہیں)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 5–6

تفسیر آیت 5، 6: قیام عدل پر صفات الٰہی سے استدلال : اوپر والی آیت میں کتاب الٰہی کے مخالفین یا بالفاظ دیگر عدل و قسط کے ہادمین کے لیے جو سزا مذکور ہوئی ہے یہ اس کی دلیل ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ خدا کی اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اس سے وہ بیخبر رہتا ہے۔ اس سے کوئی بات بھی مخفی نہیں رہتی، خواہ وہ بڑی ہو یا چھوتی، اور خواہ زمین پیش آئے یا آسمانوں میں، خدا کا علم ہر چیز اور ہر جگہ کو محیط ہے اور محیط کیوں نہ ہو، اسی نے تو سب کو پیدا کیا اور وہی ہے جو رحموں کے اندر صورت گری فرماتا ہے تو جس نے پیدا کیا اور جس نے صورت گری فرمائی، کیا وہ بھی بیخبر ہوسکتا ہے الا یعلم من خلق (کیا جس نے پیدا کیا وہ بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 5–6

6۔ 1 خوب صورت یا بد صورت، مذکر یا مونث نیک بخت یا بدبخت، ناقص الخلقت یا تام الخلقت جب رحم مادر میں یہ سارے تصرفات صرف اللہ تعالیٰ ہی کرنے والا ہے تو حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کس طرح ہوسکتے ہیں جو خود بھی اسی مرحلہ تخلیق سے گزر کر دنیا میں آئے ہیں جس کا سلسلہ اللہ نے رحم مادر میں قائم فرمایا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–6

2: اگر انسان اپنی پیدائش کے مختلف مراحل پر غور کرے کہ وہ ماں کے پیٹ میں کس طرح پرورش پاتا ہے اور کس طرح اس کی صورت دوسرے اربوں انسانوں سے بالکل الگ بنتی ہے کہ کبھی دو آدمی سوفیصد ایک جیسے نہیں ہوتے تو اسے یہ تسلیم کرنے میں دیر نہ لگے کہ یہ سب کچھ خدائے واحد کی قدرت اور حکمت کے تحت ہورہا ہے، اس آیت میں اس حقیقت کو بیان کرکے اللہ تعالیٰ کے وجود اس کی وحدانیت اور حکمت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے، اس کے ساتھ اس سے ایک اور پہلو کی وضاحت بھی کی گئی ہے، روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ شہر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آنحضرت ﷺ کے پاس آیا تھا اور اس نے اپنے عقائد کے بارے میں آپ سے گفتگو کی تھی،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وہ رحم مادر میں تمہیں ایک شکل و حرارت دیتا ہے ‘ جس طرح اس کی مشیئت ہوتی ہے پھر وہ تمہیں اس شکل و صورت کے ساتھ مناسب خصوصیات بھی عطا کرتا ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس کے سوا کوئی ذات اس تصویر سازی میں شریک نہیں ہوتی ‘ یہ کام وہ صرف اپنے ارادے اور اپنی مشیئت سے کرتا ہے ۔” جس طرح چاہتا ہے۔ “ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ۔ “ وہ عزیز ہے۔ “ وہ اس تخلیق اور تصویر سازی پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔” وہ حکیم ہے ‘ یہ تمام تخلیقی عمل بڑی گہری ‘ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ اس میں نہ کوئی رکاوٹ آتی ہے ‘ اور نہ اس کام میں اس کے ساتھ کوئی شریک ہے ۔ “ تخلیق انسان کی طرف یہاں اشارہ کرنے کا مقصد یہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی اپنے علم و حکمت کے مطابق کمال قدرت سے جیسا اور جس طرح چاہا ماں کے پیٹ میں تمہارا نقشہ بنایا مذکر، مونث، خوبصورت، بدصورت، جیسا پیدا کرنا تھا کردیا۔ ایک پانی کے قطرہ کو کتنی پلٹیاں دے کر آدمی کی صورت عطا فرمائی۔ جس کی قدرت و صنعت کا یہ حال ہے کیا اس کے علم میں کمی ہوسکتی ہے۔ یا کوئی انسان جو خود بھی بطن مادر کی تاریکیوں میں رہ کر آیا ہو اور عام بچوں کی طرح کھاتا پیتا، پیشاب پا خانہ کرتا ہو، اس خداوند قدوس کا بیٹا یا پوتا کہلایا جاسکتا ہے ؟ (كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ ۭ اِنْ يَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا) 18 ۔ الکہف :5) ۔ عیسائیوں کا سوال تھا کہ جب مسیح کا ظاہری باپ کوئی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6 ہُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآءُ ط۔ پہلی چیز اللہ کے علم سے متعلق تھی اور یہ اللہ کی قدرت سے متعلق ہے۔ وہی ہے جو تمہاری نقشہ کشی کردیتا ہے ‘ صورت بنا دیتا ہے تمہاری ماؤں کے رحموں میں جیسے چاہتا ہے۔ کسی کے پاس کوئی اختیار choice نہیں ہے کہ وہ اپنا نقشہ خود بنائے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 یعنی نطفہ کو کئی مراحل سے گزار کر اسے انسان کی شکل میں پیدا کرتا ہے اور اس کی قدرت کاملہ کا یہ حال ہے دنیا میں کروڑوں، اربوں، انسان پیدا ہوچکے ہیں لیکن کسی کی شکل و صورت دوسرے سے کلی طور پر نہیں ملتی۔ بنیادی اختلاف تو صرف تین قسم کے ہوتے ہیں۔ رنگ کا اختلاف قدو قامت کا اختلاف اور نقوش کا اختلاف لیکن محض ان تین قسم کے اختلاف سے اربوں انسانوں میں سے ہر ایک کو مابہ الامتیاز شکل و صورت عطا فرمانا اسی وحدہ لاشریک کی قدرت کاملہ کا کارنامہ ہے اور اس کی حکمت کاملہ کا تقاضا یہ ہے کہ اس نے استقرار حمل سے لے کر بعد کے تمام مراحل میں جنین کی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت تک کو بھی پورا کرنے کا اہتمام فرمایا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

12 ۔ (خواہ بغیر باپ کے بنائے خواہ باپ کی وساطت سے) قادر وہ ہر طرح اور ہر صورت سے ہے۔ باپ محض واسطہ تخلیق ہوتا ہے اور خالق جس واسطہ کو جب چاہے ہٹا دے۔ (آیت) ” یصورکم “۔ میں خطاب عام ہے۔ سارے انسان مخاطب ہیں (آیت) ” قادر وہ ہر طرح اور ہر صورت سے ہے۔ باپ محض واسطہ تخلیق ہوتا ہے اور خالق جس واسطہ کو جب چاہے ہٹا دے۔ (آیت) ” یصورکم “ میں خطاب عام ہے۔ سارے انسان مخاطب ہیں (آیت) ” فی الارحام “ یعنی ماؤں کے رحم میں۔ اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کی صورت بھی رحم مادر ہی میں بنی تھی، اوپر ذکر اللہ کے علم میں کامل کا آچکا ہے۔ اب اشارہ اس کی قدرت کی طرف ہورہا ہے کہ جس طرح اس کا علم کامل محیط کل وغیر محدود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–10

آیت نمبر 10 تا 20 ترجمہ : یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلہ میں ہرگز ان کے کچھ کام نہ آئیں گے (یعنی عذاب کو) رفع نہ کریں گے، اور وہی لوگ آگ کے ایندھن ہوں گے، واؤ کے فتحہ کے ساتھ، جس کے ذریعہ آگ جلائی جاتی ہے جیسا کہ معاملہ آل عمران اور ان سے قبل والوں کے ساتھ ہوا، (یعنی) سابقہ امتوں کے ساتھ جیسا کہ عاد وثمود (کے ساتھ) انہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تو اللہ نے ان کے گناہوں کے باعث ان کی گرفت کی یعنی ان کو ہلاک کردیا اور جملہ ” کَذَُبُوْا “ الخ ماقبل کے جملہ ” کَدَأبِ اٰلِ فرعون الخ “ کی تفسیر ہے، اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے، اور جب آپ ﷺ غزوہ بدر سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھُوَ الَّذِيْ يُصَوِّرُكُمْ فِي الْاَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاۗءُ : وہی ہے جو ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جیسی چاہتا ہے بنا دیتا ہے۔ یعنی تمہارے رنگ، مختلف شکلیں اور نرو مادہ جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ : اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس کسی کو اس کے سوا نہ علم ہے نہ قدرت ہاں جتنا اس نے عطا کردیا ہے اتنا حاصل ہے۔ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : وہی غالب اور حکمت والا ہے اس میں اللہ کے کمال قدرت اور ہمہ گیر علم کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ ہم سے اللہ کے سچے رسول ﷺ نے فرمایا : تم میں سے ہر ایک کا تخلیقی قوام ماں کے پیٹ کے اندر چالیس روز تک بصورت نطفہ پھر اتنی ہی مدت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(6) وہ ایسی ذات ہے کہ جس طرح چاہتا ہے کوتاہ قد، دراز قد خوبصورت یا بدصورت نیک یا بد لڑکا یا لڑکی بناتا ہے، اس مصور حقیقی کے علاوہ نہ کوئی صورت بنانے والا اور نہ کوئی خالق ہے، جو اس پر ایمان نہ لائے، اس کو عذاب دینے میں بڑی قدرت رکھنے والا اور انسان شکل کے بنانے میں بڑی حکمت والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 5–6

یہ دونوں آیات اللہ تعالیٰ کے (عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ) ہونے کے لیے بھی دلیل ہیں اور سورت کے دعویٰ (ۙاللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ الْـحَيُّ الْقَيُّوْم) کے لیے بھی۔ یہاں پہلے بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو آسمان و زمین کی ہر بڑی اور چھوٹی، ظاہر اور پوشیدہ چیز کا علم ہے، حالانکہ وہ عرش معلی پر ہے اور پھر اس طرف اشارہ کیا کہ عیسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کے ایک بندے ہیں۔ جس طرح دوسرے انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے ماں کے پیٹ میں پیدا کیا اسی طرح عیسیٰ ؑ کو ماں کے پیٹ میں جیسے چاہا پیدا کیا، پھر وہ خدا یا خدا کا بیٹا کیسے ہوسکتا ہے، جیسا کہ نصرانیوں کا غلط عقیدہ ہے۔ ھُوَ الَّذِيْ يُصَوِّرُكُمْ فِي الْاَرْحَامِ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 6۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ھو الذی یصورکم “۔ اللہ تعالیٰ نے ماؤں کے رحموں میں انسان کی تصویریں بنانے کی خبر دی ہے اور رحم کی اصل رحمۃ سے ہے، کیونکہ یہ ان میں سے ہے جن کے ساتھ ایک دوسرے پر رحم کیا جاتا ہے اور صورۃ کا اشتقاق صارہ الی کذا سے ہے جب وہ اس کی طرف مائل ہوجائے، پس صورت مائل ہوتی ہے ایک شبیہ اور ہیئت کی طرف۔ اور یہ آیت اللہ تعالیٰ کی عظمت وشان کو بیان کرتی ہے اور اس کے ضمن میں نجران کے عیسائیوں کا رد ہے۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان میں سے ہیں جنکی تصوریں بنائی گئیں اور یہ ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی عقلمند انکار نہیں کرسکتا۔ اور اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 3–7

(1) ابن جریر ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” محکمت “ سے مراد ہے ناسخ آیات حلت اور حرمت کے احکام والی آیات اور حدود اور فرائض والی آیات جن پر ایمان لایا جاتا ہے اور ” المتشبھت “ سے مراد ہے اس کی منسوخ مؤخر آیات مثالیں اور اس کی اقسام جن پر ایمان تو لایا جاتا ہے اور عمل نہیں کیا جاتا۔ (2) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” المحکمات “ سے مراد وہ منسوخ کرنے والی آیات ہیں (جو سابقہ حکم کو منسوخ کرنے والی آیات ہیں (جو سابقہ حکم کو منسوخ کردیتی ہے) جن کی تابعداری کی جاتی ہے اور اسی کے ساتھ عمل کیا جاتا ہے لفظ آیت ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ہُوَ الَّذِیْ : وہ ہے جو ] [یُصَوِّرُکُمْ : شکل دیتا ہے تم لوگوں کو ] [فِی الْاَرْحَامِ : رحموں میں ] [کَیْفَ : جیسی ] [یَشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [لَآ اِلٰــہَ : کوئی الٰہ نہیں ہے ] [اِلاَّ : سوائے اس کے کہ ] [ہُوَ : وہ ہے ] [الْعَزِیْزُ : جو بالادست ہے ] [الْحَکِیْمُ : جو حکمت والا ہے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ جیسے چاہے رحم مادر میں تصویر بناتا ہے : پھر اللہ جل شانہ کی ایک اور خاص صفت بیان فرمائی اور فرمایا (ھُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآءُ ) کہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جو ماؤں کے رحموں میں جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتیں بنا دیتا ہے یہ ایک ایسی صفت ہے جسے موحد اور مشرک سب ہی مانتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے ماؤں کے رحموں میں تصویریں بنا دیتا ہے کسی کے اعضاء صحیح سالم ہیں کسی میں نقص۔ کوئی کالا ہے کوئی گورا ہے کوئی مذکر ہے کوئی مونث ہے۔ کسی کی ناک اونچی ہے اور کسی کی ناک پھڈی ہے کسی کے ہونٹ موٹے ہیں اور کسی کا ہاتھ ٹیڑھا ہے۔ کان تو ہیں مگر بہرا پیدا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

3۔ ھوالذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء۔ میں اس طرف اشارہ ہے کہ انسانوں کی صورتوں اور شکلوں کا مختلف ہونا مادہ اور طبیعت کا اقتضاء نہیں اور نہ محض اتفاق سے ہے بلکہ یہ اختلاف حق تعالیٰ کے ارادہ اور مشیت کے تابع ہے بلکہ یہ تمام قادر علیم اور عزیز حکیم کی کاری گری ہے۔ 3۔ انزل الفرقان۔ میں فرقان کے معنی میں اختلاف ہے بعض نے فرقان سے معجزات مراد لیے ہیں اور بعضوں نے زبور مراد لی ہے اور بعض نے قرآن کریم مراد لیا ہے امام رازی کے نزدیک مختاریہ ہے کہ اس آیت میں فرقان سے معجزات مراد لیے جائیں جیسا کہ ہم نے تفسیر میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–6

6 یہ عقلی دلیل ہے معبود اور مستعان صرف وہی ہوسکتا ہے جو عالم الغیب ہو ہر چیز کو جانتا ہو اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہ ہو اور وہ قادر مطلق ہو اور ہر کام اس کی قدرت کے تحت داخل ہو اس آیت میں پہلی شق بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے اور کوئی چیز اس کے علم محیط سے باہر نہیں اس کے برعکس حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم (علیہما السلام) میں یہ صفت موجود نہیں تھی۔ اس لیے وہ معبود ومستعان نہیں بن سکتے۔ ھُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ یہ عقلی دلیل کا دوسرا حصہ ہے۔ جس میں دوسری شق کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیی ایسا قادر مطلق ہے کہ ماں کے پیٹ میں اپنے اختیار سے بچے کی صورت گری کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

نام اور کوائف : سورۃ کا نام آل عمران ہے۔ چونکہ اس سورة میں عمران کی اولاد کا ذکر ہے اس لیے اس کا نام آل عمران ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح پہلی سورة میں بقرہ یعنی گائے کا ذکر ہے ، تو اس کا نام سورة بقرہ ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں ، کہ عمران دو ہیں۔ ایک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد اور دوسرے حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد۔ چونکہ اس سورة میں زیادہ تر حضرت مریم ؓ اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ اس لیے یہاں پر عمران سے مراد حضرت مریم ؓ کے والد ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد بھی پیغمبر نہیں تھے۔ اور حضرت مریم کے والد بھی پیغمبر نہیں۔ البتہ یہ دونوں حضرات نیک ، صالح اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ھُوَالَّذِيْ يُصَوِّرُكُمْ فِي الْاَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاۗءُ۝ 0 ۭ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ 6 صور الصُّورَةُ : ما ينتقش به الأعيان، ويتميّز بها غيرها، وذلک ضربان : أحدهما محسوس يدركه الخاصّة والعامّة، بل يدركه الإنسان وكثير من الحیوان، كَصُورَةِ الإنسانِ والفرس، والحمار بالمعاینة، والثاني : معقول يدركه الخاصّة دون العامّة، کالصُّورَةِ التي اختصّ الإنسان بها من العقل، والرّويّة، والمعاني التي خصّ بها شيء بشیء، وإلى الصُّورَتَيْنِ أشار بقوله تعالی: ثُمَّ صَوَّرْناكُمْ [ الأعراف/ 11] ، وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ [ غافر/ 64] ، وقال : فِي أَيِّ صُورَةٍ ما شاء رَكَّبَكَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–6

ترکیب : ھومبتداء الذی الخ خبر ‘ فی الارحام متعلق ہے یصور سے۔ کیف ظرف ہے یشا کا یہ کل جملہ موضع حال میں ہے فاعل یشاء سے ‘ تقدیرہ یصور کم علی مشیتہ ای مرید امنہ آیات محکمت جملہ موضع نصب میں ہے کیونکہ حال ہے کتاب سے۔ اس جملہ میں آیات محکمات صفت و موصوف مبتدا اور منہ خبر۔ ھُنَّ مبتداء ام الکتاب خبر ‘ لفظ ام گرچہ مفرد ہے لیکن معنی جنس کے دیتا ہے اس لئے جمع کی خبر ہوگیا۔ اُخر جمع ہے اخرٰی کی جو مونث ہے۔ آخرا فعل تفضیل کا معطوف ہے آیات پر ‘ متشابہات اس کی صفت ہے ما بمعنی الذی تشابہ منہ صلہ مجموعہ مفعول ہے۔ یتبعون کا ابتغاء مفعول لہ یتبعون کا الفتنۃ مضاف الیہ اور اسی طرح ابتغاء تا ویلہ والراسخون فی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–6

اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَخْفٰی عَلَیْہِ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِ ۔ ط ھُوَالَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآئُ ط لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَ لْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (بےشک اللہ ‘ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں، وہی ہے جو تمہاری صورت گری کرتا ہے رحموں میں جس طرح چاہتا ہے، کوئی معبود نہیں بغیر اس کے، وہ غالب اور حکیم ہے) (5 تا 6) زمین و آسمان میں جو کچھ ہوتا ہے اور انسان جس طرح کے مشاغل میں مصروف رہتا ہے اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا کہ جنگل میں درخت سے کوئی خشک پتہ گرتا ہے یا کوئی پھل ٹپکتا ہے تو وہ اللہ کے علم میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–7

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کتاب مبین ہے جو پہلی کتابوں کا مصدق ہے۔ اس کے احکامات محکم ہیں جن میں کوئی ٹیڑھ اور زیغ نہیں۔ زیغ اور ٹیڑھ تو منکرین کے دلوں میں ہے انہیں معلوم ہونا چاہیے۔ اللہ ان کی حرکات و سکنات اور اعمال و افعال سے واقف ہے وہ دلوں کے اسرار و رموز اور کجی و زیغ بھی جانتا ہے۔ قرآن مجید کو سمجھنے اور اُمّت کے اختلافات کو جاننے کے لیے یہ آیت بنیادی اور کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں یہ وضاحت پائی جاتی ہے کہ قرآن مجید کے احکامات اور ارشادات دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ احکامات ہیں جو الفاظ و معانی اور مفہوم کے اعتبار سے دو اور دو ‘ چار کی طرح واضح ہیں یہی قرآن کی اساس ہیں اور یہ فہم قرآن…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

6: ھُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَ رْحَامِ کَیْفَ یَشَآ ئُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (وہی ہے جو ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جیسی چاہتا ہے بناتا ہے اس کے سواء کوئی معبود نہیں وہ غالب حکمت والا ہے) یُصَوِّرُکُمْ یعنی مختلف شکلیں جیسی چاہتا ہے بناتا ہے۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُوہ اپنی سلطنت پر غالب اور تدبیر میں حکمت والا ہے۔ وفد نجران کی آمد : روایت میں وارد ہے کہ جب نجرانیوں کا وفدآیا۔ جو ساٹھ سواروں پر مشتمل تھا۔ ان کا امیر عاقب اور امیر سفر ایھم تھا اور ابو حارثہ بن علقمہ ان کا پادری اور عالم تھا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے جھگڑا کیا اگر عیسیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6۔ (آیت)” (ھو الذی ۔۔۔۔۔۔ یشاء اللہ وہ ذات ہے جو ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں بناتا ہے جیسی چاہتا ہے) مختلف صورتیں خواہ وہ مذکر ہوں یا مؤنث سفید ہوں یا سیاہ خوبصورت ہوں یا بدصورت ، مکمل ہوں یا ناقص (لا الہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الحکیم اس (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں ، گویا انہوں نے یہ کہا کہ وہ بیٹا کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ اس نے ماں کے پیٹ میں صورت بنائی ۔ عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو صادق ومصدوق ہیں تم میں ہر ایک شخص کو ماں کو پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ رکھا جاتا ہے ، پھر علقمہ بن جاتا ہے، پھر وہ گوشت کا ٹکڑا پھر اس کے بعد فرشتے کو چار چیزیں لکھنے کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–6

(5 ۔ 6) حاصل مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ایسا وسیع ہے کہ اس کو زمین و آسمان کی سب غیب کی باتیں معلوم ہیں کوئی اس کے علم سے باہر نہیں ہے اس لئے ماں کے پیٹ میں گورا ‘ کالا ‘ لڑکا ‘’ لڑکی ‘ نیک و بد سب کچھ اس کے علم کے موافق ہوتا ہے اسی کو تقدیر کہتے ہیں اب اس میں ان عیسائی لوگوں کو یہ دھمکی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہہ کر خدا کی توحید میں جو یہ لوگ خلل ڈالتے ہیں اور اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں ذرا ذرا یہ سب باتیں اللہ کو معلوم ہیں اور ان لوگوں کے اعمال نامہ میں یہ سب باتیں لکھی جاتی ہیں وقت مقرر آنے کی دیر ہے پھر یہ لوگ دیکھ لیں گے کہ کیا ہوتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–6

آیت 1-6 اس سورت کی شروع کی اسی (80) سے زیادہ آیات عیسائیوں سے مباحثہ، ان کے مذہب کی تردید اور انہیں سچے دین یعنی اسلام کو قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل ہیں۔ جس طرح سورة بقرہ کی ابتدائی آیات یہود سے مناظرہ پر مشتمل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اپنی الوہیت کے اعلان سے شروع کی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ وہی ایسا معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ عبادت صرف اسی کی اور اسی کے لئے ہونی چاہیے۔ لہٰذا اس کے سوا جس معبود کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے۔ اللہ ہی سچا معبود ہے جو الوہیت کی تمام صفات سے موصوف ہے جن سب کا تعلق حیات اور قیومیت کی صفات سے ہے۔ (الحی) سے مراد یہ ہے کہ اسے عظیم ترین اور کامل ترین…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–7

بسم اللہ الرحمن الرحیم محکمات اور متشابہات کا بیان قول باری ہے (ھوالذی انزل علیک الکتاب منہ ایات محکمات ھن امرالکتب واخرمتشابھات) وہی خدا ہے جس نے تم پر یہ کتاب نازل کی ہے اس میں دوطرح کی آیتیں ہیں ایک حکمات جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات تاآخر آیت ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی اس تفسیر کے آغاز میں محکم اور متشابہ کے معانی بیان کردیئے ہیں اور یہ بھی واضح کردیا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی دوقسمیں ہیں، ایک کے لحاظ سے پورے قرآن کو اس کے ساتھ موصوف کرنا ورست ہے اور دوسرے کے لحاظ سے قرآن کے بعض حصوں کو اس کے ساتھ مختص کرنا صحیح ہے قول باری ہے (الرکتاب احکمت آیاتہ ثم فصلت من لدن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

9 انسانوں کی صورت گری حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت و حکمت کا ایک عظیم الشان اور بےمثل نمونہ و مظہر : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ وہی ہے جو ماؤں کے رحموں کے اندر انسان کی صورت گری فرماتا ہے جو اس کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و عنایت کا ایک عظیم الشان و بےمثل اور محیر العقول نمونہ و مظہر ہے۔ اس لئے تمہاری فطرت اور فطرت کے تقاضوں سے جس طرح وہ وحدہ لاشریک واقف و آگاہ ہوسکتا ہے، اس طرح نہ دوسرا کوئی ہوسکتا ہے اور نہ خود تم ہوسکتے ہو، کہ کسی کیلئے بھی ایسی واقفیت و آگہی ممکن نہیں۔ اس لئے اس کی ہدایت و رہنمائی پر اعتماد کئے بغیر تمہارے لئے کوئی چارہ کار نہیں کہ اس کے بغیر راہ حق و صواب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–6

قدرت الٰہی کا بیان تشریح : اس آیت میں بھی رب العزت کی قدرت کا بیان ہو رہا ہے۔ جیسا کہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ دنیا کی تمام اشیاء جو زمین و آسمان کے درمیان موجود ہیں ان کا انتظام اوردیکھ بھال ہر چیز اللہ کی نظر میں ہے۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس کے علم سے باہر نہیں۔ جیسا کہ ایک قطرہ جو ماں کے رحم میں پڑتا ہے وہ بھی اللہ کی حکمت سے نشوونما پاکر ایک انسان کا بچہ بن کر دنیا میں آموجود ہوتا ہے۔ اس کا نقشہ اس کی سیرت اور اس کا نصیب سب کچھ اللہ کی مرضی اور اس کی اجازت سے مکمل ہوتا ہے۔ کوئی نہیں جان سکتا کہ آنے والا بچہ کیا نصیب کیا شکل اور کیا کردار لے کر آرہا ہے مگر یہ سب اللہ کو معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

سورة آل عمران آیات 1- 9 اسرارومعارف الم اللہ لا الہ الا ھو……………لا الہ الا ھوالعزیز الحکیم جب بات کفار پر نصرت اور غلبہ کی طلب پر پہنچی جو کہ سورة بقرۃ کے آخر میں بطور دعا ہے تو اس سورة میں کفار کے ساتھ معاملات اور تعلقات کو بیان فرمادیا۔ گویا وہی بات آگے چل رہی ہے۔ سب سے پہلے مومن اور کافر میں فرق ارشاد ہوا کہ تو حید باری اور ذات وصفات الٰہیہ میں یہ بات واضح ہے ، کہ ماننے والے مسلم اور نہ ماننے والے کافر۔ گویا دنیا میں انسان کی تقسیم دو طرح پرہ ہے جسے دو قومی نظریہ بھی کہا جاتا ہے ، ایک مومن دوسرے کافر۔ مومنین باہم ایک شے ہیں اور کفر کے اندر پھر قسمیں ہیں مگر بنیادی طور پر سب کافر ایک ہی ملت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

کیف یشاء۔ یعنی مذکر یا مؤنث اسود احمر تام ناقص وغیرہ اور انسان کی سعادت و شفاعت عمر اور رزق بھی اسی وقت لکھ دیا جاتا ہے جیسا کہ متعدد احادیث میں مذکور ہے۔ (شوکانی۔ ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:6) الحکیم۔ حکمت والا۔ بروزن فعیل صفت کا صیغہ ہے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 6 نزل (اس نے نازل کیا) عزیز (زبردست) ذوانتقام (انتقام لینے والا) یصور (تصویر بناتا ہے، شکلیں بنایا ہے) الارحام (رحم ) پیٹ) کیف یشاء (جیسے وہ چاہتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 نخران یمن کے ایک علاقہ کا نام ہے۔ فتح مکہ کے بعد نخران کے عیسائیوں کا ایک وفد نبی کریم ﷺ سے مذہبی بحث ومناظرہ کے لیے مدینہ منورہ آیا۔ اس وفد میں چودہ پندرہ آدمی خاص طور پر بڑے معزز اور سردار تھے۔ اس وفد نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق بحث شروع کی تو سورة آل عمران میں تقریباً 83 آیتیں نازل ہوئیں۔ ان آیات کی روشنی میں آنحضرت ﷺ نے اس وفد کو جوابات دیئے۔ اس وفد نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ایسا وسیع ہے کہ اس کو آسمان و زمین کی سب غیب کی باتیں معلوم ہیں کوئی بات اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔ اس لئے ماں کے پیٹ میں گورا کالا لڑکا لڑکی نیک وبد سب کچھ اس کے علم کے موافق ہوتا ہے اس کو تقدیر کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–6

[2] فرقان یعنی حق و باطل میں امتیاز کرنے والی قوت، مراد قرآن مجید ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–6

(ف 1) (آیت) ” المصور “۔ خدا تعالیٰ کی لاتعداد صفات ہیں ، ان میں سے ایک صفت مصور بھی ہے ، یعنی کائنات کو ایک موزون شکل میں پیدا کرنے والا ہے ، انسان ہی کو دیکھ لیجئے ، احسن تقویم کا کتنا اچھا مرقع ہے ۔ الہام روحی کے سیاق میں اس کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے ، ہم مذہب کی اہمیت کو پورا محسوس کریں ، اور جانیں کہ تعلق اللہ کے سوا عالم انسانیت کی جو شکل بھی ہوگی ، وہ غیر فطری اور بھونڈی ہوگی ، وہ خدا جو ہمیں مادی صورت میں پیدا کرتا ہے وہ چاہتا ہے ، ہماری روح کی تشکیل بھی ایک خاص ڈھب پر ہو ، اللہ کے پیغمبر ‘ اس کی کتابیں ‘ ان سب کا مقصد انسانیت کی مصوری ہے یعنی انسان کو جسم وروح کے لحاظ سے خوبصورت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز نہ زمین میں پوشیدہ ہے اور نہ آسمان میں وہی تو ہے جو تمہاری مائوں کے پیٹ میں تمہاری صورت جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے اس کے سوا اور کوئی حقیقی معبود اور مستحق عبادت نہیں وہ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ (تیسیر) توحید باری پر ایک اور دلیل بیان فرمائی جس سے اس کا کمال علم اور کمال قدرت معلوم ہوا علم کی یہ حالت ہے کہ زمین و آسمان کی کوئی حقیر سے حقیر چیز بھی اس سے مخفی اور چھپی ہوئی نہیں ۔ تصرفات کا یہ عالم کو ماں کے رحم میں بھی اس یک صفت خالقیت کی کار فرمائیاں جاری ہیں ۔ بچہ کو جیسی چاہتا ہے شکل و صورت عطا کرتا ہے ۔ پانی پر تصور کھینچتا ہے اور جیسی چاہتا ہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–7

ف 3۔ یعنی ان کا مطلب ظاہر ہے۔ 4۔ یعنی غیر ظاہر المعنی کو بھی ان یہ ظاہر المعانی کے موافق بنایا جاتا ہے۔ 5۔ یعنی ان کا مطلب خفی ہے خواہ بوجہ مجمل ہونے کے خواہ کسی نص ظاہر المراد کے ساتھ معارج ہونے کے۔ 6۔ بعض منکرین توحید کا بعض کلمات موہمہ خلاف توحید سے استدلال ہوسکتا تھا چناچہ بعض نصاری نے لفظ روح اللہ اور کلمة اللہ سے جو کہ قرآن میں واقع ہوا ہے اپنے مدعا پر الزامی طور پر استدلال کیا تھا اس آیت میں اس شبہ کا جواب ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایسے کلمات خفی المراد سے احتجاج درست نہیں بلکہ مدار عقائد کا نصوص واضحہ ہیں، اور خفی المراد پر جبکہ ان کی تفسیر معلوم نہ ہو اجمالا ایمان لے آنا واجب ہے، زیادہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ ہی وہ مصور ہے جس نے سب کی تصویریں بنائیں : 14: ” یصور “ تصویر صورت بنانے کا نام ہے اور صورة وہ ہے جس سے کسی چیز کے ” عین “ کا نقش ہوتا ہے اور اس وجہ سے وہ دوسری اشیاء سے الگ ہوجاتی ہے اور یہ دو طرح پر ہے ایک محسوس جسے خاص و عام بلکہ حیوان بھی پہنچانتے ہیں اور دوسرے معقول جسے صرف خواص ہی پہچان سکتے ہیں جیسے وہ صورت جس سے انسان مخصوص ہے یعنی عقل و رویہ اور وہ معانی جن سے ایک شے دوسری سے مخصوص ہوتی ہے اور جہاں اللہ تعالیٰ کے انسان کی صورت بنانے کا ذکر ہے وہاں یہ دونوں صورتیں مراد ہوتی ہیں (امام راغب) جیسے : خَلَقْنَكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ (الاعراف 7 : 11) ” ہم نے تمہیں پیدا کیا تمہاری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–6

Verse 3 which follows carries the reported proof of the Oneness of Allah. Briefly stated, it means that the principle of توحید tauhid as de-scribed in the Holy Qur'an is not something peculiar to the Qur'an or the Prophet of Islam. On the contrary, Allah Almighty has sent Scrip-tures such as the Torah and the Injil, and His prophets, in earlier times. And this was they all professed and this was they all brought as the message. When the Qur'an came, it simply confirmed their truth. It did not present any new claim which could pose problems for people in its understanding or acceptance. The…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4. This refers to two important facts. The first is that no being knows human nature as well as God does; it is thus imperative that man should depend on the guidance revealed by God, something man needs the most. The second is that the Being Who takes care of all of man's requirements, major and minor, from the time of conception onwards, will not fail to provide guidance for man's conduct in this life.

Read the full tafseer →