Explained with ayahs 5–6
خالقِ کل
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آسمان و زمین کے غیب کو وہ بخوبی جانتا ہے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، وہ تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں جس طرح کی چاہتا ہے اچھی، بری نیک اور بد صورتیں عنایت فرماتا ہے، اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں وہ غالب ہے حکمت والا ہے، جبکہ صرف اسی ایک نے تمہیں بنایا، پیدا کیا، پھر تم دوسرے کی عبادت کیوں کرو ؟ وہ لازوال عزتوں والا غیرفانی حکمتوں والا، اٹل احکام والا ہے۔ اس میں اشارہ بلکہ تصریح ہے کہ حضرت عیسیٰ بھی اللہ عزوجل ہی کے پیدا کئے ہوئے اور اسی کی چوکھٹ پر جھکنے والے تھے، جس طرح تمام انسان اس کے پیدا کردہ ہیں انہی انسانوں میں سے ایک آپ بھی ہیں، وہ بھی ماں کے رحم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
سورة اٰلِ عِمْرٰن 3
یعنی وہ کائنات کی تمام حقیقتوں کا جاننے والا ہے۔ لہٰذا جو کتاب اس نے نازل کی ہو، وہ سراسر حق ہی ہونی چاہیے۔ بلکہ خالص حق صرف اسی کتاب میں انسان کو میسر آسکتا ہے، جو اس علیم و دانا کی طرف سے نازل ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
اس کے بعد دوسری آیت میں توحید کی نقلی دلیل بیان فرمائی گئی ہے ارشاد ہے (نزل علیک الکتاب بالحق مصدقا لما بین یدیہ، وانزل التورة والانجیل من قبل ھدی للناس وانزل الفرقان) جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کی توحید کا مضمون جو قرآن نے بیان کیا ہے یہ کچھ قرآن کی یا پیغمبر اسلام ﷺ کی خصوصیت نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی توراة و انجیل وغیرہ کتابیں اور انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ نے بھیجے ہیں، ان سب کا یہی دعوی اور یہی کلمہ تھا، قرآن مجید نے آ کر ان سب کی تصدیق کی ہے، کوئی نیا دعوی پیش نہیں کیا، جس کے سمجھنے یا ماننے میں لوگوں کوئی الجھن ہو۔
آخری دو آیتوں میں توحید کی دلیل کا تکملہ حق تعالیٰ کی صفات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
تفسیر آیت 5، 6: قیام عدل پر صفات الٰہی سے استدلال : اوپر والی آیت میں کتاب الٰہی کے مخالفین یا بالفاظ دیگر عدل و قسط کے ہادمین کے لیے جو سزا مذکور ہوئی ہے یہ اس کی دلیل ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ خدا کی اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اس سے وہ بیخبر رہتا ہے۔ اس سے کوئی بات بھی مخفی نہیں رہتی، خواہ وہ بڑی ہو یا چھوتی، اور خواہ زمین پیش آئے یا آسمانوں میں، خدا کا علم ہر چیز اور ہر جگہ کو محیط ہے اور محیط کیوں نہ ہو، اسی نے تو سب کو پیدا کیا اور وہی ہے جو رحموں کے اندر صورت گری فرماتا ہے تو جس نے پیدا کیا اور جس نے صورت گری فرمائی، کیا وہ بھی بیخبر ہوسکتا ہے الا یعلم من خلق (کیا جس نے پیدا کیا وہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
6۔ 1 خوب صورت یا بد صورت، مذکر یا مونث نیک بخت یا بدبخت، ناقص الخلقت یا تام الخلقت جب رحم مادر میں یہ سارے تصرفات صرف اللہ تعالیٰ ہی کرنے والا ہے تو حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کس طرح ہوسکتے ہیں جو خود بھی اسی مرحلہ تخلیق سے گزر کر دنیا میں آئے ہیں جس کا سلسلہ اللہ نے رحم مادر میں قائم فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
2: اگر انسان اپنی پیدائش کے مختلف مراحل پر غور کرے کہ وہ ماں کے پیٹ میں کس طرح پرورش پاتا ہے اور کس طرح اس کی صورت دوسرے اربوں انسانوں سے بالکل الگ بنتی ہے کہ کبھی دو آدمی سوفیصد ایک جیسے نہیں ہوتے تو اسے یہ تسلیم کرنے میں دیر نہ لگے کہ یہ سب کچھ خدائے واحد کی قدرت اور حکمت کے تحت ہورہا ہے، اس آیت میں اس حقیقت کو بیان کرکے اللہ تعالیٰ کے وجود اس کی وحدانیت اور حکمت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے، اس کے ساتھ اس سے ایک اور پہلو کی وضاحت بھی کی گئی ہے، روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ شہر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آنحضرت ﷺ کے پاس آیا تھا اور اس نے اپنے عقائد کے بارے میں آپ سے گفتگو کی تھی،…
Read the full tafseer →عذاب الٰہی اور انتقام الٰہی کی دہمکی کے بعد انہیں یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ اللہ کی ذات سے کسی کی کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے ۔ اس سے نہ کوئی چیز مخفی ہے اور نہ ہی اس سے کوئی چیز بچ سکتی ہے۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الأرْضِ وَلا فِي السَّمَاءِ ………… ” اللہ وہ ذات ہے جس پر زمین و آسمان دونوں کے اندر پائے جانے والی کوئی شئے مخفی نہیں ہے ۔ “ یہ کہ اس پر کوئی بات مخفی نہیں ہے اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے اس لئے کہ وہی الٰہ ہے ‘ وہی ہے جس نے اس کائنات کو تھاما ہوا ہے ۔ اس لئے اس کا علم محیط ہے ، سورت کے آغاز میں اس کی صفت قیومیت کا ذکر موجود ہے ۔ نیز یہاں خصوصاًاس لئے بھی صفت احاطہ علم…
Read the full tafseer →6 یعنی جس طرح اسکا اقتدار و اختیار کامل ہے، علم بھی محیط ہے، عالم کی کوئی چھوٹی بڑی چیز ایک سیکنڈ کے لئے اس سے غائب نہیں سب مجرم و بری، اور تمام جرموں کی نوعیت و مقدار اس کے علم میں ہے۔ مجرم بھاگ کر روپوش ہونا چاہے تو کہاں ہوسکتا ہے ؟ یہیں سے تنبیہ کردی گئی کہ مسیح (علیہ السلام) خدا نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ ایسا علم محیط ان کو حاصل نہ تھا۔ وہ اسی قدر جانتے تھے جتنا حق تعالیٰ ان کو بتلا دیتا تھا۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے جواب میں خود نصاری نجران نے اقرار کیا اور آج بھی اناجیل مروجہ سے ثابت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
آیت 4 مِنْ قَبْلُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ ط
فرقان کا مصداق قرآن مجید بھی ہے ‘ تورات بھی ہے اور معجزات بھی ہیں۔ سورة الانفال میں یوم الفرقان غزوۂ بدر کے دن کو کہا گیا ہے۔ ہر وہ شے جو حق کو بالکل مبرہن کر دے اور حق و باطل کے مابین امتیاز پیدا کر دے وہ فرقان ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ط۔
یہاں اب تہدید اور دھمکی کا انداز ہے کہ اس قرآن کا معاملہ دنیا کی دوسری کتابوں کی طرح نہ سمجھو کہ مان لیا تب بھی کوئی حرج نہیں ‘ نہ مانا تب بھی کوئی حرج نہیں۔ اگر پڑھنے پر طبیعت راغب ہوئی تو بھی کوئی بات نہیں ‘ طبیعت راغب نہیں ہے تو مت پڑھو ‘ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3 پہلی کتابوں میں تورات، زبور، انجیل، صحف آدم، صحف ابراہیم اور صحف موسیٰ سب شامل ہیں اور یہ کتاب (قرآن کریم) اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ کتب مذکورہ فی الواقعہ منزل من اللہ ہیں۔ تصدیق سے مراد یہ ہرگز نہیں کہ آج کل کی بائبل میں جو مواد پایا جاتا ہے۔ وہ سب منزل من اللہ ہے۔ کیونکہ قرآن کریم ہی سے ثابت ہے کہ اہل کتاب نے، خواہ وہ یہود ہوں یا نصاریٰ اپنی کتابوں میں تحریف کر ڈالی ہے۔ تورات سے مراد یا تو وہ احکام عشرہ ہیں جو حضرت موسیٰ کو تختیوں کی صورت میں عطا ہوئے تھے یا وہ وحی منزل من اللہ ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی۔ لیکن موجودہ بائیبل کے عہد نامہ قدیم میں جسے تورات کا نام دیا جاتا…
Read the full tafseer →1 1 ۔ جاہلی مذہبوں کے حکماء تک آخر جاہلی تھے ! یونان کے نامی گرامی عقلاء وحکماء تک یہ کہہ گئے اور سکھلا گئے کہ علم باری صرف کلیات تک محدود رہتا ہے۔ جزئیات کو محیط نہیں ہوتا۔ اور مسیحیوں نے خیر نبوت کی برکت سے کھلم کھلا اس عقیدہ کو تو نہ مانا، تاہم مرعوب اس ” حکیمانہ “ تعلیم سے اچھے خاصے رہے ،۔ قرآن مجید نے للکار کر بتایا کہ یہ علم باری کا کمال نہیں، عین نقص ہوا، علم باری ہر حیثیت سے کامل ہے اور چھوٹی بڑی ہر چیز پر حاوی۔ (آیت) ” الارض والسمآء “ آسمان اور زمین کے نام اس سلسلہ میں اس لئے دیئے گئے کہ علم انسانی کی وسعت گرفت انہیں حدود کے اندر محدود ہے، ضمنا خطاب مسیحیوں سے بھی ہے کہ تم جو مسیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
آیت نمبر 10 تا 20
ترجمہ : یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلہ میں ہرگز ان کے کچھ کام نہ آئیں گے (یعنی عذاب کو) رفع نہ کریں گے، اور وہی لوگ آگ کے ایندھن ہوں گے، واؤ کے فتحہ کے ساتھ، جس کے ذریعہ آگ جلائی جاتی ہے جیسا کہ معاملہ آل عمران اور ان سے قبل والوں کے ساتھ ہوا، (یعنی) سابقہ امتوں کے ساتھ جیسا کہ عاد وثمود (کے ساتھ) انہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تو اللہ نے ان کے گناہوں کے باعث ان کی گرفت کی یعنی ان کو ہلاک کردیا اور جملہ ” کَذَُبُوْا “ الخ ماقبل کے جملہ ” کَدَأبِ اٰلِ فرعون الخ “ کی تفسیر ہے، اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے، اور جب آپ ﷺ غزوہ بدر سے…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخْفٰى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ : یہ حقیقت ہے کہ اللہ سے زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ مراد یہ ہے کہ سارے جہان میں کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ خواہ کمی ہو یا جزئی چونکہ حس کی رسائی صرف آسمان و زمین تک ہی ہے اس لیے انہی دونوں کا ذکر کیا مگر مراد سارا جہان ہے پھر زمین کا ذکر آسمان سے پہلے کیا کیونکہ یہاں مقصود صرف یہ بیان کرنا ہے کہ بندوں کے اعمال سے اللہ واقف ہے اور وہ اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ (اور بندوں کے اعمال کا مقام زمین ہے اس لیے زمین کا ذکر پہلے کیا)
مذکورہ بالا پورا جملہ اللہ کے حی ہونے کو ثابت کر رہا ہے (ورنہ اس کا علم محیط کل کس طرح…
Read the full tafseer →(5) اللہ تعالیٰ سے وفدبنی نجران اور اسی طرح فرشتوں کی کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
یہ دونوں آیات اللہ تعالیٰ کے (عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ) ہونے کے لیے بھی دلیل ہیں اور سورت کے دعویٰ (ۙاللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ الْـحَيُّ الْقَيُّوْم) کے لیے بھی۔ یہاں پہلے بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو آسمان و زمین کی ہر بڑی اور چھوٹی، ظاہر اور پوشیدہ چیز کا علم ہے، حالانکہ وہ عرش معلی پر ہے اور پھر اس طرف اشارہ کیا کہ عیسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کے ایک بندے ہیں۔ جس طرح دوسرے انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے ماں کے پیٹ میں پیدا کیا اسی طرح عیسیٰ ؑ کو ماں کے پیٹ میں جیسے چاہا پیدا کیا، پھر وہ خدا یا خدا کا بیٹا کیسے ہوسکتا ہے، جیسا کہ نصرانیوں کا غلط عقیدہ ہے۔
ھُوَ الَّذِيْ يُصَوِّرُكُمْ فِي الْاَرْحَامِ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 5۔
یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اشیاء کے بارے تفصیلی علم رکھنے کی خبر ہے اور اس کی مثل قرآن کریم میں کثیر آیات ہیں۔ پس وہ جانتا ہے اسے بھی جو ہوچکا، اسے بھی جو ہوگا اور اسے بھی جو نہ ہوگا، تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کیسے الہ یا اس کے بیٹے ہو سکتے ہیں حالانکہ ان پر کئی اشیاء مخفی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
(1) ابن جریر ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” محکمت “ سے مراد ہے ناسخ آیات حلت اور حرمت کے احکام والی آیات اور حدود اور فرائض والی آیات جن پر ایمان لایا جاتا ہے اور ” المتشبھت “ سے مراد ہے اس کی منسوخ مؤخر آیات مثالیں اور اس کی اقسام جن پر ایمان تو لایا جاتا ہے اور عمل نہیں کیا جاتا۔
(2) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” المحکمات “ سے مراد وہ منسوخ کرنے والی آیات ہیں (جو سابقہ حکم کو منسوخ کرنے والی آیات ہیں (جو سابقہ حکم کو منسوخ کردیتی ہے) جن کی تابعداری کی جاتی ہے اور اسی کے ساتھ عمل کیا جاتا ہے لفظ آیت ”…
Read the full tafseer →[اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ] [لاَ یَخْفٰی : پوشیدہ نہیں ہوتی ] [عَلَیْہِ : اس سے ] [شَیْئٌ : کوئی چیز ] [فِی الْاَرْضِ : زمین میں ] [وَلاَ فِی السَّمَآئِ : اور نہ ہی آسمان میں ]
Read the full tafseer →اللہ پر کوئی چیز مخفی نہیں :
اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ کے علم کی وسعت بیان فرمائی اور فرمایا کہ (اِنَّ اللّٰہَ لَایَخْفٰی عَلَیْہِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ) یعنی اللہ تعالیٰ پر کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ ارض و سماء (آسمان و زمین) سے پورا عالم مراد ہے آسمان و زمین کے علاوہ بھی مخلوقات ہے ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں آسمان و زمین چونکہ نظروں کے سامنے ہیں اور عام طور سے لوگ انہیں جانتے ہیں اس لیے ان کا ذکر فرما دیا۔ لہٰذا من اطلاق الجزء وارادۃ الکل۔
اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اثبات توحید وبیان محکم درابطال الوہیت عیسیٰ بن مریم ومناظرہ نبی کریم ﷺ بانصارائے نجران۔
قال اللہ تعالی، الم اللہ لاالہ الاھوالحی۔۔۔ الی۔۔۔ الحکیم۔
محمد بن اسحاق وغیرہ سے منقول ہے کہ سورة آل عمران کے شروع کی تراسی آیتیں نصارائے نجران کے بارے میں نازل ہوئیں نجران علاقہ یمن میں ایک شہر کا نام ہے جو اس زمانہ میں عیسائیوں کا علمی مرکز تھا نبی کی نبوت و رسالت کی خبر جب اطراف اور اکناف میں پہنچی تو یہ خبر سن کر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد، مناظرہ اور مباحثہ کے لیے نبی کی خدمت میں حاضر ہوا مدینہ منورہ میں اس وفد میں ساتھ سوار تھے جن میں سے چودہ آدمی خاص طور پر بڑے شریف اور معزز تھے اور ان چودہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
6 یہ عقلی دلیل ہے معبود اور مستعان صرف وہی ہوسکتا ہے جو عالم الغیب ہو ہر چیز کو جانتا ہو اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہ ہو اور وہ قادر مطلق ہو اور ہر کام اس کی قدرت کے تحت داخل ہو اس آیت میں پہلی شق بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے اور کوئی چیز اس کے علم محیط سے باہر نہیں اس کے برعکس حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم (علیہما السلام) میں یہ صفت موجود نہیں تھی۔ اس لیے وہ معبود ومستعان نہیں بن سکتے۔ ھُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ یہ عقلی دلیل کا دوسرا حصہ ہے۔ جس میں دوسری شق کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیی ایسا قادر مطلق ہے کہ ماں کے پیٹ میں اپنے اختیار سے بچے کی صورت گری کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف :
سورۃ کا نام آل عمران ہے۔ چونکہ اس سورة میں عمران کی اولاد کا ذکر ہے اس لیے اس کا نام آل عمران ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح پہلی سورة میں بقرہ یعنی گائے کا ذکر ہے ، تو اس کا نام سورة بقرہ ہے۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں ، کہ عمران دو ہیں۔ ایک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد اور دوسرے حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد۔ چونکہ اس سورة میں زیادہ تر حضرت مریم ؓ اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ اس لیے یہاں پر عمران سے مراد حضرت مریم ؓ کے والد ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد بھی پیغمبر نہیں تھے۔ اور حضرت مریم کے والد بھی پیغمبر نہیں۔ البتہ یہ دونوں حضرات نیک ، صالح اور…
Read the full tafseer →اِنَّ اللہَ لَا يَخْفٰى عَلَيْہِ شَيْءٌ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ 5 ۭ
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] .
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔
خفی
خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ترکیب : ھومبتداء الذی الخ خبر ‘ فی الارحام متعلق ہے یصور سے۔ کیف ظرف ہے یشا کا یہ کل جملہ موضع حال میں ہے فاعل یشاء سے ‘ تقدیرہ یصور کم علی مشیتہ ای مرید امنہ آیات محکمت جملہ موضع نصب میں ہے کیونکہ حال ہے کتاب سے۔ اس جملہ میں آیات محکمات صفت و موصوف مبتدا اور منہ خبر۔ ھُنَّ مبتداء ام الکتاب خبر ‘ لفظ ام گرچہ مفرد ہے لیکن معنی جنس کے دیتا ہے اس لئے جمع کی خبر ہوگیا۔ اُخر جمع ہے اخرٰی کی جو مونث ہے۔ آخرا فعل تفضیل کا معطوف ہے آیات پر ‘ متشابہات اس کی صفت ہے ما بمعنی الذی تشابہ منہ صلہ مجموعہ مفعول ہے۔ یتبعون کا ابتغاء مفعول لہ یتبعون کا الفتنۃ مضاف الیہ اور اسی طرح ابتغاء تا ویلہ والراسخون فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَخْفٰی عَلَیْہِ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِ ۔ ط ھُوَالَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآئُ ط لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَ لْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔
(بےشک اللہ ‘ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں، وہی ہے جو تمہاری صورت گری کرتا ہے رحموں میں جس طرح چاہتا ہے، کوئی معبود نہیں بغیر اس کے، وہ غالب اور حکیم ہے) (5 تا 6)
زمین و آسمان میں جو کچھ ہوتا ہے اور انسان جس طرح کے مشاغل میں مصروف رہتا ہے اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا کہ جنگل میں درخت سے کوئی خشک پتہ گرتا ہے یا کوئی پھل ٹپکتا ہے تو وہ اللہ کے علم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
فہم القرآن
ربط کلام : بدلہ اور سزا دینے والی ہستی کے لیے ضروری ہے کہ وہ حالات ‘ واقعات سے اچھی طرح باخبر ہو چناچہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے۔ جس سے زمین و آسمان کی کوئی چیز مخفی نہیں وہ ماں کے رحم میں ہونے والی تبدیلوں کو جانتا ہی نہیں بلکہ جس طرح چاہتا ہے انسان کی شکل و صورت بناتا اور اسے خاص ڈھانچے میں ڈھالتا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ انسان کی ہر نقل و حرکت سے واقف ہے۔
اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان میں کوئی چیز پوشیدہ نہیں وہ زمین کی گہرائیوں اور اس کے ذرّے ذرّے ‘ آسمان کی بلندیوں اور اس کے چپے چپے سے واقف ہے۔ وہ تمہاری پیدائش کے ابتدائی مراحل سے آگاہ ہی نہیں بلکہ ماں کے رحم کے اندر لمحہ بہ لمحہ جو…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ہر ایک کی حالت سے واقف ہے :
5: اِنَّ اللّٰہَ لَایَخْفٰی عَلَیْہِ شَیْئٌ فِی الْاَ رْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِ (یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ پر آسمان و زمین کی کوئی چیز مخفی نہیں) آسمان و زمین سے مراد سارے جہانوں میں ہے جسکی تعبیر فہم انسانی کے قریب کرنے کے لیے آسمان و زمین سے کردی۔
مطلب یہ ہوا کہ وہ کافر کے کفر اور مومن کے ایمان سے واقف ہے اور وہ ہر دو کو اس کا بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →5۔ (آیت)” (ان اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ فی السماء بیشک زمین و آسمان میں کوئی بھی چیز اس کے نزدیک پوشیدہ نہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(5 ۔ 6) حاصل مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ایسا وسیع ہے کہ اس کو زمین و آسمان کی سب غیب کی باتیں معلوم ہیں کوئی اس کے علم سے باہر نہیں ہے اس لئے ماں کے پیٹ میں گورا ‘ کالا ‘ لڑکا ‘’ لڑکی ‘ نیک و بد سب کچھ اس کے علم کے موافق ہوتا ہے اسی کو تقدیر کہتے ہیں اب اس میں ان عیسائی لوگوں کو یہ دھمکی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہہ کر خدا کی توحید میں جو یہ لوگ خلل ڈالتے ہیں اور اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں ذرا ذرا یہ سب باتیں اللہ کو معلوم ہیں اور ان لوگوں کے اعمال نامہ میں یہ سب باتیں لکھی جاتی ہیں وقت مقرر آنے کی دیر ہے پھر یہ لوگ دیکھ لیں گے کہ کیا ہوتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آیت 1-6
اس سورت کی شروع کی اسی (80) سے زیادہ آیات عیسائیوں سے مباحثہ، ان کے مذہب کی تردید اور انہیں سچے دین یعنی اسلام کو قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل ہیں۔ جس طرح سورة بقرہ کی ابتدائی آیات یہود سے مناظرہ پر مشتمل ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اپنی الوہیت کے اعلان سے شروع کی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ وہی ایسا معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ عبادت صرف اسی کی اور اسی کے لئے ہونی چاہیے۔ لہٰذا اس کے سوا جس معبود کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے۔ اللہ ہی سچا معبود ہے جو الوہیت کی تمام صفات سے موصوف ہے جن سب کا تعلق حیات اور قیومیت کی صفات سے ہے۔ (الحی) سے مراد یہ ہے کہ اسے عظیم ترین اور کامل ترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محکمات اور متشابہات کا بیان
قول باری ہے (ھوالذی انزل علیک الکتاب منہ ایات محکمات ھن امرالکتب واخرمتشابھات) وہی خدا ہے جس نے تم پر یہ کتاب نازل کی ہے اس میں دوطرح کی آیتیں ہیں ایک حکمات جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات تاآخر آیت ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی اس تفسیر کے آغاز میں محکم اور متشابہ کے معانی بیان کردیئے ہیں اور یہ بھی واضح کردیا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی دوقسمیں ہیں، ایک کے لحاظ سے پورے قرآن کو اس کے ساتھ موصوف کرنا ورست ہے اور دوسرے کے لحاظ سے قرآن کے بعض حصوں کو اس کے ساتھ مختص کرنا صحیح ہے قول باری ہے (الرکتاب احکمت آیاتہ ثم فصلت من لدن…
Read the full tafseer →8 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان کی کوئی چیز مخفی نہیں۔ پس جس طرح اس کا اقتدار کامل ہے، اسی طرح اس کا علم بھی محیط و شامل ہے۔ لہذا نہ کوئی اس سے چھپ سکتا ہے اور نہ اس کی پکڑ سے بچ سکتا ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ نیز یہاں سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جو اللہ ایسی شان اور قدرت کا مالک ہے اس کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کرکے طرح طرح کے وسیلے اور واسطے گھڑنا، جس طرح کہ اہل بدعت وغیرہ کرتے ہیں سخت بےجا بات اور ایک گمراہ کن مشرکانہ فلسفہ ہے۔ سو وہ وحدہ لاشریک اس طرح کے تمام تصورات سے پاک اور وراء الوراء ہے، اس کو اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
قدرت الٰہی کا بیان
تشریح : اس آیت میں بھی رب العزت کی قدرت کا بیان ہو رہا ہے۔ جیسا کہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ دنیا کی تمام اشیاء جو زمین و آسمان کے درمیان موجود ہیں ان کا انتظام اوردیکھ بھال ہر چیز اللہ کی نظر میں ہے۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس کے علم سے باہر نہیں۔ جیسا کہ ایک قطرہ جو ماں کے رحم میں پڑتا ہے وہ بھی اللہ کی حکمت سے نشوونما پاکر ایک انسان کا بچہ بن کر دنیا میں آموجود ہوتا ہے۔ اس کا نقشہ اس کی سیرت اور اس کا نصیب سب کچھ اللہ کی مرضی اور اس کی اجازت سے مکمل ہوتا ہے۔ کوئی نہیں جان سکتا کہ آنے والا بچہ کیا نصیب کیا شکل اور کیا کردار لے کر آرہا ہے مگر یہ سب اللہ کو معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة آل عمران
آیات 1- 9
اسرارومعارف
الم اللہ لا الہ الا ھو……………لا الہ الا ھوالعزیز الحکیم
جب بات کفار پر نصرت اور غلبہ کی طلب پر پہنچی جو کہ سورة بقرۃ کے آخر میں بطور دعا ہے تو اس سورة میں کفار کے ساتھ معاملات اور تعلقات کو بیان فرمادیا۔ گویا وہی بات آگے چل رہی ہے۔
سب سے پہلے مومن اور کافر میں فرق ارشاد ہوا کہ تو حید باری اور ذات وصفات الٰہیہ میں یہ بات واضح ہے ، کہ ماننے والے مسلم اور نہ ماننے والے کافر۔ گویا دنیا میں انسان کی تقسیم دو طرح پرہ ہے جسے دو قومی نظریہ بھی کہا جاتا ہے ، ایک مومن دوسرے کافر۔ مومنین باہم ایک شے ہیں اور کفر کے اندر پھر قسمیں ہیں مگر بنیادی طور پر سب کافر ایک ہی ملت…
Read the full tafseer →ف 8 اس آیت میں پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو آسمان و زمین کی ہر بڑی اور چھوٹی ظاہر اور پوشیدہ چیز کا علم ہے حالا ن کہ وہ عرش معلی پر ہے۔ (وحیدی) اور پھر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایک بندہ مخلوق ہیں جس طرح دوسرے انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے ماں کے پیٹ میں پیدا کیا اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ماں کے پیٹ میں جیسے چاہا پیدا کیا۔ پھر وہ خدا یا خدا کا کا بیٹا کیسے ہوسکتا ہے جیسے عیسائیوں کا غلط عقیدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(3:4) القرفان۔ فرق سے ہے لیکن وسیع المعانی ہے۔ حق و باطل میں فرق کرنے والا۔ یہاں الفرقان کے متعلق علماء سے مختلف اقوال منقول ہیں۔ قتادہ اور ربیع بن انس نے قرآن لیا ہے ۔ امام رازی (رح) کے نزدیک وہ معجزات مراد ہیں جن سے حق و باطل میں تمیز ہوتی ہے۔ بعض کے نزدیک وہ دلائل ہیں جو حق و باطل کے درمیان فرق کرتے ہیں بعض متاخرین نے اس سے عقل مراد لی ہے۔ امام ابن جریر طبری نے کہا ہے کہ ان کے نزدیک بہترین قول یہ ہے کہ :
الفصل بین الحق والباطل یعنی حق و باطل میں تمیز کرنے والی قوت کو فرقان کہا جاتا ہے۔ روح المعانی میں ہے الفرقان انہ القران فرق بہ بین الحق والباطل فاحل فیہ حلالہ و حرم حرامہ وشرع شرائعہ وحد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 6
نزل (اس نے نازل کیا) عزیز (زبردست) ذوانتقام (انتقام لینے والا) یصور (تصویر بناتا ہے، شکلیں بنایا ہے) الارحام (رحم ) پیٹ) کیف یشاء (جیسے وہ چاہتا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 6
نخران یمن کے ایک علاقہ کا نام ہے۔ فتح مکہ کے بعد نخران کے عیسائیوں کا ایک وفد نبی کریم ﷺ سے مذہبی بحث ومناظرہ کے لیے مدینہ منورہ آیا۔ اس وفد میں چودہ پندرہ آدمی خاص طور پر بڑے معزز اور سردار تھے۔ اس وفد نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق بحث شروع کی تو سورة آل عمران میں تقریباً 83 آیتیں نازل ہوئیں۔ ان آیات کی روشنی میں آنحضرت ﷺ
نے اس وفد کو جوابات دیئے۔
اس وفد نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو…
Read the full tafseer →رسول کریم ﷺ کا مباحثہ عیسائیوں سے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے
شان نزول : 9 ھ میں عیسائی لوگوں کی ایک جماعت شام ویمن کے مابین ایک نجران بستی تھی، وہاں سے ایلچی بن کر آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تھے اور ان عیسائی لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کا بیٹا ہونے میں بڑا مباحثہ کیا۔ اس پر اس سورة کی اکثر آیتیں نازل ہوئیں۔ اور جب وہ عیسائی لوگ مباہلہ کی آیت سے پہلے آیتوں میں طرح طرح کی جو نصیحتیں تھیں ان کو خیال میں نہ لائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہنے کی ہٹ دھرمی پر اڑے رہے تو آخر مباہلہ کی آیت اتری۔ اور اس آیت کے اترتے ہی حضرت محمد ﷺ حضرت علی وفاطمہ وحسن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
[2] فرقان یعنی حق و باطل میں امتیاز کرنے والی قوت، مراد قرآن مجید ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(ف 1) (آیت) ” المصور “۔ خدا تعالیٰ کی لاتعداد صفات ہیں ، ان میں سے ایک صفت مصور بھی ہے ، یعنی کائنات کو ایک موزون شکل میں پیدا کرنے والا ہے ، انسان ہی کو دیکھ لیجئے ، احسن تقویم کا کتنا اچھا مرقع ہے ۔
الہام روحی کے سیاق میں اس کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے ، ہم مذہب کی اہمیت کو پورا محسوس کریں ، اور جانیں کہ تعلق اللہ کے سوا عالم انسانیت کی جو شکل بھی ہوگی ، وہ غیر فطری اور بھونڈی ہوگی ، وہ خدا جو ہمیں مادی صورت میں پیدا کرتا ہے وہ چاہتا ہے ، ہماری روح کی تشکیل بھی ایک خاص ڈھب پر ہو ، اللہ کے پیغمبر ‘ اس کی کتابیں ‘ ان سب کا مقصد انسانیت کی مصوری ہے یعنی انسان کو جسم وروح کے لحاظ سے خوبصورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 2۔ اللہ تعالیٰ ایسا ہے اور اللہ تعالیٰ کی شان ایسی ہے کہ اس کے سوا کوئی دوسرا مستحق عبادت نہیں اور اس کے سوا کوئی دوسرا معبود بنانے کے قابل نہیں وہ زندہ ہے اس کو کبھی موت نہیں آئے گی وہ خود قائم رہنے والا اور تمام کائنات کا سنبھالنے والا ہے ۔ اسی نے اے پیغمبر ﷺ آپ پر یہ کتاب یعنی قرآن نازل کیا ہے جو حق و صداقت پر مشتمل اور ان کتب سماویہ کی جو اس قرآن سے پہلے نازل ہوئی تھیں ۔ تصدیق کرنے والا اور ان کو سچا کرنے والا اور اسی نے اے پیغمبر ﷺ اس قرآن سے پہلے لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے توریت اور انجیل کو نازل فرمایا تھا اور اسی نے فرقان یعنی حق و باطل میں فرق پیدا کرنے والی چیزیں نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
ف 3۔ یعنی ان کا مطلب ظاہر ہے۔
4۔ یعنی غیر ظاہر المعنی کو بھی ان یہ ظاہر المعانی کے موافق بنایا جاتا ہے۔
5۔ یعنی ان کا مطلب خفی ہے خواہ بوجہ مجمل ہونے کے خواہ کسی نص ظاہر المراد کے ساتھ معارج ہونے کے۔
6۔ بعض منکرین توحید کا بعض کلمات موہمہ خلاف توحید سے استدلال ہوسکتا تھا چناچہ بعض نصاری نے لفظ روح اللہ اور کلمة اللہ سے جو کہ قرآن میں واقع ہوا ہے اپنے مدعا پر الزامی طور پر استدلال کیا تھا اس آیت میں اس شبہ کا جواب ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایسے کلمات خفی المراد سے احتجاج درست نہیں بلکہ مدار عقائد کا نصوص واضحہ ہیں، اور خفی المراد پر جبکہ ان کی تفسیر معلوم نہ ہو اجمالا ایمان لے آنا واجب ہے، زیادہ…
Read the full tafseer →علم الٰہی سے کوئی بات پوشیدہ نہیں وہ ہرچیز کو جاننے والا ہے :
12: اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی وسعت علم کو مخصوص الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے اور غرض دراصل حضرت مسیح کی صفات باری سے عاری ہونے کا بیان ہے۔ قرآن کریم کا یہ معجزہ ہر وقت اور ہر حال میں ذہن نشین رہنا چاہیے کہ وہ جس بات کو بیان کرنا چاہتا ہے اس کو ہمیشہ ایسے لطیف طریق پر بیان کرتا ہے کہ کسی دوسرے کو ناگوارنہ گزرے اور جو کچھ اس کو کہنا ہے وہ کہہ بھی دے۔ پھر وہ ایک لفظ میں بہت سا مضمون بیان کردیتا ہے۔ اس جگہ غور کرو کہ بجائے اس کے کہ یہ بیان فرماتا کہ مسیح کو کوئی علم نہ تھا مگر اتنا ہی جتنا کہ ایسے برگزیدہ انسانوں کو ہوتا ہے اور پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
Verse 3 which follows carries the reported proof of the Oneness of Allah. Briefly stated, it means that the principle of توحید tauhid as de-scribed in the Holy Qur'an is not something peculiar to the Qur'an or the Prophet of Islam. On the contrary, Allah Almighty has sent Scrip-tures such as the Torah and the Injil, and His prophets, in earlier times. And this was they all professed and this was they all brought as the message. When the Qur'an came, it simply confirmed their truth. It did not present any new claim which could pose problems for people in its understanding or acceptance.
The…
Read the full tafseer →3. That is, God knows all the facts of the universe. Hence the Book which He has revealed is, of necessity, true. It may be more appropriate to say that the unadulterated Truth can be made available to man only through this Book, which has been revealed by the All-Knowing, All-Wise God.
Read the full tafseer →