Explained with ayahs 10–11
جہنم کا ایندھن کون لوگ ؟
فرماتا ہے کہ کافر جہنم کی بھٹیاں اور اس میں جلنے والی لکڑیاں ہیں، ان ظالموں کو اس دن کوئی عذر معذرت ان کے کام نہ آئے گی، ان پر لعنت ہے، اور ان کیلئے برا گھر ہے، ان کے مال ان کی اولادیں بھی انہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی، اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گے، جیسا اور جگہ فرمایا آیت (اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۭوَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا) 4۔ النسآء :82) تو ان کے مال و اولاد پر تعجب نہ کرنا اس کی وجہ سے اللہ کا ارادہ انہیں دنیا میں بھی عذاب دینا ہے، ان کی جانیں کفر میں ہی نکلیں گی، اسی طرح ارشاد ہے کافروں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
سورة اٰلِ عِمْرٰن 8
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ، 161۔ (سورة الْبَقَرَة 161)
”کفر“ کے اصل معنی چھپانے کے ہیں۔ اسی سے انکار کا مفہوم پیدا ہوا اور یہ لفظ ایمان کے مقابلے میں بولا جانے لگا۔ ایمان کے معنی ہیں ماننا، قبول کرنا، تسلیم کرلینا۔ اس کے برعکس کفر کے معنی ہیں نہ ماننا، رد کردینا، انکار کرنا۔ قرآن کی رو سے کفر کے رویہ کی مختلف صورتیں ہیں
ایک یہ کہ انسان سرے سے خدا ہی کو نہ مانے، یا اس کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم نہ کرے اور اس کو اپنا اور ساری کائنات کا مالک اور معبود ماننے سے انکار کر دے، یا اسے واحد مالک اور معبود نہ مانے۔
دوسرے یہ کہ اللہ کو تو مانے مگر اس کے احکام اور اس کی ہدایات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
خلاصہ تفسیر
بالیقین جو لوگ کفر کرتے ہیں ہرگز ان کے کام نہیں آسکتے، ان کے مال (دولت) اور نہ ان کی اولاد اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ذرہ برابر بھی ایسے لوگ جہنم کا ایندھن ہوں گے (ان لوگوں کا معاملہ ایسا ہے) جیسا معاملہ تھا فرعون والوں کا اور ان سے پہلے والے (کافر) لوگوں کا (وہ معاملہ یہ تھا) کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو (یعنی اخبار و احکام کو) جھوٹا بتلایا اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر دارو گیر فرمائی ان کے گناہوں کے سبب اور اللہ تعالیٰ (کی دارو گیر بڑی سخت ہے کیونکہ ان کی شان یہ ہے کہ وہ) سخت سزا دینے والے ہیں (اسی طرح معاملہ ہوگا کہ انہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی، سو ان کو بھی ایسی ہی سزا ہوگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
تفسیر آیت 10-11: راہ حق کی اصل رکاوٹ : اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سے یہاں مراد، جیسا کہ آیت 4 میں گزر چکا ہے، قرآن کے منکرین ہیں۔ ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ مال و اولاد، جن کی محبت آج ان کے لیے ایک سورج سے زیادہ واضح حق کے قبول کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے، انہیں خدا کی پکڑ سے نہیں بچا سکیں گے۔ اس وجہ سے ان کی محبت میں اس خدا کو نہیں بھولنا چاہیے جس کے حقوق سب پر مقدم ہیں اور جس کی پکڑ بھی بےپناہ ہے۔ مال و اولاد کا ذکر یہاں قبول حق کی راہ کے اصل حجاب کی حیثیت سے ہوا ہے۔ آگے آیت 14 میں ان کا ذکر تفصیل کے ساتھ آ رہا ہے۔ درحقیقت انہی کی محبت ہے جو انسان کے لیے قبول حق میں رکاوٹ بنتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
12۔ 1 یہاں کافروں سے مراد یہودی ہیں۔ اور یہ پیش گوئی جلدی پوری ہوگئی۔ چناچہ بنو قینقاع اور بنو نفیر جلا وطن کئے گئے بنو قریظہ قتل کئے گئے پھر خیبر فتح ہوگیا اور تمام یہودیوں پر جزیہ عائد کردیا گیا (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
4: اس سے دنیا میں کافروں کے مغلوب ہونے کی پیش گوئی بھی مراد ہوسکتی ہے، اور آخرت میں مغلوب ہونے کی بھی۔
Read the full tafseer →یہ آیات بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے کہی گئی ہیں ۔ ان میں یہ دہمکی دی گئی ہے کہ وہ اہل کفر کے انجام پر غور کرلیں ۔ پہلے جو ہوچکا ہے اور آئندہ جو ہونے والا ہے ۔ اس میں ایک لطیف اور عمیق اشارہ ہے اس جانب کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کیا اور بنی اسرائیل کو نجات دی لیکن یہ ہلاکت اس لئے نہ تھی کہ فرعون فرعون تھا بلکہ اس لئے کہ وہ کافر تھا۔ اور نجات بنی اسرائیل بھی اس لئے نہ تھی کہ وہ قوم بنی اسرائیل سے نسبی رشتہ رکھتے تھے ۔ بلکہ اس لئے تھی کہ وہ اہل ایمان تھے ۔ اس لئے اب اگر وہ کفر اور گمراہی کا رویہ اختیار کریں گے تو وہ نجات کے مستحق نہ ہوں گے ۔ اگر وہ گمراہ ہوگئے تو وہ اہل کفر کہلانے سے نہ…
Read the full tafseer →4 قیامت کے ذکر کے ساتھ کافروں کا انجام بھی بتلا دیا کہ ان کو کوئی چیز دنیا و آخرت میں خدائی سزا سے نہیں بچا سکتی۔ جیسا کہ میں ابتداء سورة میں لکھ چکا ہوں۔ ان آیات میں اصلی خطاب وفد " نجران " کو تھا جسے عیسائی مذہب و قوم کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت کہنا چاہیے۔ امام فخر الدین رازی نے محمد بن اسحاق کی سیرت سے نقل کیا ہے کہ جس وقت یہ وفد " نجران " سے بقصد مدینہ روانہ ہوا تو انکا بڑا پادری ابو حارثہ بن علقمہ خچر پر سوار تھا۔ خچر نے ٹھوکر کھائی تو اس کے بھائی کرز بن علقمہ کی زبان سے نکلا " تعس الابعد " (ابعد سے مراد محمد ﷺ تھے۔ العیاذ باللہ) ابو حارثہ نے کہا " تعست امک " کرز نے حیران ہو کر اس کلمہ…
Read the full tafseer →آیت 10 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْہُمْ اَمْوَالُہُمْ وَلَآ اَوْلاَدُہُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْءًا ط
اب یہ ذرا تحدی اور چیلنج کا انداز ہے۔ زمانۂ نزول کے اعتبار سے آپ نے نوٹ کرلیا کہ یہ سورة مبارکہ 3 ھ میں غزوۂ احد کے بعد نازل ہورہی ہے ‘ لیکن یہ رکوع جو زیر مطالعہ ہے اس کے بارے میں گمان غالب ہے کہ یہ غزوۂ بدر کے بعد نازل ہوا۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو بڑی زبردست فتح حاصل ہوئی تھی تو مسلمانوں کا morale بہت بلند تھا۔ لیکن ایسی روایات بھی ملتی ہیں کہ جب مسلمان بدر سے غازی بن کر ‘ فتح یاب ہو کر واپس آئے تو مدینہ منورہ میں جو یہودی قبیلے تھے ان میں سے بعض لوگوں نے کہا کہ مسلمانو ! اتنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
11 یعنی عقل صحیح رکھنے والے بھی اور ٹیڑھی سوچ رکھنے والے، متشابہات کے پیچھے پڑنے والے، خود گمراہ ہونے والے اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے مومن و مشرک سب کو اکٹھا کرکے اور ان پر حجت قائم کرکے ان کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کرے گا۔ ایمان بالآخرت، ایمان بالغیب کا ایسا اہم جزو ہے جو انسان کی زندگی کا رخ بدلنے میں موثر کردار ادا کرتا ہے۔ لہذا یاددہانی کے طور پر اس نظریہ آخرت کو (رَاسِخُوْنَ فِیْ الْعِلْمِ ) اور مومنوں کی دعا کا حصہ بنادیا گیا۔
Read the full tafseer →26 ۔ (آیت) ” النار “۔ یعنی آتش جہنم۔ جہنم کے عذاب آتشیں پر توریت وانجیل کے حوالہ پارہ اول میں گزرچکے۔ آیۃ کریمہ (آیت) ” فاتقوالنار التی وقودھا الناس والحجارۃ “ کے تحت میں ، (آیت) ” من اللہ “ یعنی عذاب الہی سے نہ بچا سکیں گے۔ اے من عذاب اللہ (قرطبی) (آیت) ” لن تغنی عنھم “۔ جاہلی قوموں کا ایک عقیدہ یہ بھی رہا ہے کہ اولاد اگر مرے ہوئے ماں باپ کی طرف سے دان پن کردے تو والدین کی نجات ہوجائے گی خواہ وہ ایمان سے محروم ہی دنیا سے اٹھے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
آیت نمبر 10 تا 20
ترجمہ : یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلہ میں ہرگز ان کے کچھ کام نہ آئیں گے (یعنی عذاب کو) رفع نہ کریں گے، اور وہی لوگ آگ کے ایندھن ہوں گے، واؤ کے فتحہ کے ساتھ، جس کے ذریعہ آگ جلائی جاتی ہے جیسا کہ معاملہ آل عمران اور ان سے قبل والوں کے ساتھ ہوا، (یعنی) سابقہ امتوں کے ساتھ جیسا کہ عاد وثمود (کے ساتھ) انہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تو اللہ نے ان کے گناہوں کے باعث ان کی گرفت کی یعنی ان کو ہلاک کردیا اور جملہ ” کَذَُبُوْا “ الخ ماقبل کے جملہ ” کَدَأبِ اٰلِ فرعون الخ “ کی تفسیر ہے، اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے، اور جب آپ ﷺ غزوہ بدر سے…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : بیشک جن لوگوں نے کفر کیا کفروا کا لفظ مشرکوں کو بھی ہے اور اہل کتاب کو بھی۔
لَنْ تُغْنِىَ عَنْھُمْ اَمْوَالُھُمْ وَلَآ اَوْلَادُھُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا : ان کے مال اور اولاد اللہ کی رحمت یا طاعت کا عوض بالکل نہیں ہوسکتے۔ اس ترجمہ پر شیئاً موصوف محذوف کی صفت ہوگا۔ یعنی اِغْناءً ا شَیءًا اور لن تغنی کا مفعول مطلق بنے گا کیونکہ اغناء (مصدر باب افعال) لازم ہے مفعول بہ کو نہیں چاہتا لیکن اگر ترجمہ اس طرح کیا جائے کہ ان کے مال و اولاد اللہ کے عذاب کے کسی حصہ کو دفع نہیں کرسکیں گے تو چونکہ اس وقت غناء دفع کے معنی کو متضمن ہوگا اس لیے شیئاً مفعول بہ ہوجائے…
Read the full tafseer →(10) کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی یا ابوجہل اور اسکے ساتھی ہرگز ان کے اموال اور اولاد کی زیادتی عذاب الہی کے مقابلہ میں فائدہ مند نہیں ہوسکتی بلآخر یہ لوگ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ اس کی ترکیب کے لیے دیکھیے سورة انفال (52، 54) یعنی جس طرح کا عذاب قوم فرعون اور پہلی امتوں کو رسولوں کو جھٹلانے کی وجہ سے دیا گیا، اسی طرح کا عذاب ان اموال و اولاد والے کفار کو دیا جائے گا۔ یہاں ان کفار سے مراد وفد نجران، یہود، مشرکین عرب اور دوسرے تمام کفار بھی ہوسکتے ہیں۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →آیت نمبر : 10۔
اس کا معنی بین اور واضح ہے، یعنی ان کے اموال اور نہ ان کی اولاد اللہ تعالیٰ کے عذاب میں سے کوئی شے ہر گز ان سے دور نہ کرسکیں گے، اور سلمی نے لن یغنی یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 405 دارالکتب العلمیہ) اس لئے کہ فعل متقدم ہے اور فعل اور فاعل کے درمیان فاصلہ موجود ہے اور حسن نے یغنی اباء کے ساتھ قرات کی ہے مگر آخری یاء کو تخفیف کے لئے سکون دیا ہے جیسا کہ شاعر کا قول ہے۔
کفی بالیاس من اسماء کافی ولیس لیقمھا اذغالی شافی۔
اس میں حق یہ تھا یکہ وہ کافیا کہتا پس اس نے یا کو چھوڑ دیا۔
اور اسی کی مثل فرا نے شعر کہا ہے :
کان ایدیھن بالقاع القرق ایدی جوار یتعاطین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(1) ابن جریرابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کداب ال فرعون “ سے مراد ہے جیسے فرعون والوں کے اعمال۔
(2) ابن المنذر اور ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کداب ال فرعون “ سے مراد ہے ان کے کام کی طرح۔
(3) ابن جریر نے ابن اسحاق اور بیہقی نے دلائل میں ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کداب ال فرعون “ سے مراد ہے جیسے ان کے طریقے۔
Read the full tafseer →[اِنَّ الَّذِیْنَ : یقینا وہ لوگ جنہوں نے ] [کَفَرُوْا : کفر کیا ] [لَنْ تُغْنِیَ : ہرگز کفایت نہ کریں گے ] [عَنْہُمْ : ان کو ] [اَمْوَالُہُمْ : ان کے مال ] [وَلَآ اَوْلاَدُہُمْ : اور نہ ہی ان کی اولادیں ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ سے ] [شَیْئًا : کچھ بھی ] [وَاُولٰٓئِکَ : اور وہ لوگ ] [ہُمْ : وہی ] [وَقُوْدُ النَّارِ : آگ کا ایندھن ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
آخرت میں اموال و اولاد کام نہیں آئیں گے
اہل کفر اپنے مالوں پر اور اولاد پر بہت فخر کرتے ہیں اور یہ گمان رکھتے ہیں کہ یہ چیزیں ہمارے لیے بہت فائدہ مند ہیں دنیا میں کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچ ہی جاتا ہے ان کا خیال خام یہ ہے کہ آخرت میں بھی مال اور اولاد سے کام چلے گا اور اللہ کے عذاب سے یہ چیزیں ہم کو بچا لیں گی۔ سورة سبا رکوع نمبر 4 میں کافروں کا قول نقل فرماتے ہوئے ارشاد ہے : (وَ قَالُوْا نَحْنُ اَکْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ) (اور انہوں نے کہا ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں اور ہم کو عذاب ہونے والا نہیں ہے)
جب آخرت میں کفر پر عذاب ہوگا تو وہاں مال تو ہونے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
مال واولاد کے نشہ میں حق سے استغنا پر وعید اور تہدید۔
قال تعالی، ان الذین کفروا لن تغنی عنھم۔۔۔ الی۔۔۔ الابصار۔
ربط) ۔ یہ آیتیں بھی نصارائے نجران کے بارے میں نازل ہوئیں دلائل اور براہین سے حق ان پر واضح ہوچکا تھا مگر مال و دولت کے غرور اور نشہ نے ان کو قبول حق اور قبول ہدایت سے باز رکھا اس لیے ان ارباب غرور کی وعید اور تہدید کے لیے یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آخرت میں مال اور اولاد کچھ کام نہیں آئیں گے اور پھر یہ ارشاد فرمایا کہ اب ان کافروں سے یہ کہہ دیں کہ یہ لوگ عنقریب دنیا میں مسلمانوں کے ہاتھ سے مغلوب ہوں گے اور قیامت کے دن جہنم میں ڈال دیے جائیں گے اور پھر واقعہ بدر کو ان کی عبرت کے لیے ذکر…
Read the full tafseer →13 عیسائیوں کو ان کے شبہ کا معقول جواب دینے کے بعد دنیوی اور اخروی تخویف سنائی کہ ان معقول اور واضح دلائل کے بعد بھی اگر تم اپنی ضد پر قائم رہو گے اور اللہ کی توحید کی واضح آیات کا انکار کرتے رہو گے تو قوم فرعون کے سے بد انجام کے لیے تیار ہوجاؤ جنہیں دنیا میں عذاب غرق سے ہلاک کیا گیا اور آخرت میں بھی سخت عذاب دیا جائے گا۔ اور جب اللہ کا عذاب آپہنچے گا۔ اس وقت مال و دولت اور اولاد وانصار کام نہیں آئینگے۔
14 جو لوگ توحید کے دلائل واضحہ اور براہین قاطعہ کے باوجود آیات الٰہی کا انکار کریں، توحید کو چھوڑ شرک اختیار کریں، غیر اللہ کی عبادت کریں اور حاجت ومشکلات میں غیر اللہ کو پکاریں۔ ان کی سزا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ربط آیات : پہلی آیت میں قیامت کا ذکر تھا۔ اس سے پہلے اللہ نے نصارٰ کی تردید فرمائی اور ان کے باطل عقیدے کا رد فرمایا ، توحید کا مسئلہ بیان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی صفات الوہیت کا ذکر کیا اور جن متشابہ لفظوں سے یہود و نصاری استدلال کرتے تھے ، اس کا جواب دیا۔ اب اس آیت میں کفار کے متعلق فرمایا کہ کوئی چیز انہیں خدا کی گرفت سے نہیں بچا سکتی ، حتی کہ ان کے مال و اولاد بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ اس کے بعد جنگ بدر سے متعلق یہود مدینہ کی زبان درازی کا ذکر ہے۔ کہتے تھے کہ اہل مکہ ناتجربہ کار تھے۔ جو مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے ، وگرنہ ہم جیسے آزمودہ کار لوگوں سے واسطہ پڑتا ، تو مسلمانوں کو پتہ…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِىَ عَنْھُمْ اَمْوَالُھُمْ وَلَآ اَوْلَادُھُمْ مِّنَ اللہِ شَـيْـــــًٔـا 0 ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمْ وَقُوْدُ النَّارِ 10 ۙ
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ترکیب : بعد ظرف ہے لا تزغ کا ‘ من لدنک صفت ہے رحمۃ کی یا حال۔ لیوم لام بمعنی فی ای فی یوم لاریب فیہ جملہ موضع جر میں ہے صفت ہے یوم کی الذین موصول وصلہ اسم ان لن تغنی الخ اس کی خبر۔ من اللّٰہ موضع نصب میں ہے۔ تقدیرہ من عذاب اللہ ای لا یدفع اموالہم والا اولادھم من اللّٰہ شیئا مفعول بہ ہے لن تغنی کا اور حال بھی ہوسکتا ہے۔ کداب کاف موضع نصب میں ہے۔ لغت ہو کر مصدر محذوف کی ای کفروا القرا کعادۃ آل فرعون اور ممکن ہے کہ خبر ہو مبتداء محذوف کی ای دابہم کداب آل فرعون۔
تفسیر : یہ بھی راسخین فی العلم کا مقولہ ہے یعنی وہ متشابہات کو علم الٰہی کے حوالہ کرکے اس پر ایمان لا کر یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ اے رب !…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْہُمْ اَمْوَالُہُمْ وَلَآ اَوْلَادُہُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا ط وَاُولٰٓئِکَ ہُمْ وَقُوْدُالنَّارِ ۔ لا کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ لا وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط کَذَّبُوْا بِاٰیٰـتِـنَاج فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِہِمْ ط وَاللّٰہُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔
(بےشک جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہر گزان کے مال ان کے کام نہیں آئیں گے اور نہ ان کی اولاد اللہ کے مقابلے میں، یہی لوگ دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ ان کا بھی وہی حال ہونا ہے جو آل فرعون اور ان لوگوں کا ہوا جو ان سے پہلے گزرے، انھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایاتو اللہ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
فہم القرآن
ربط کلام : جس مال اور افرادی قوت کی بنیاد پر اہل مکہ حقائق کا انکار کرتے ہیں آل فرعون بھی اسی بنا پر گمراہ ہوئے اور تباہی کے گھاٹ اترے تھے۔ اہل مکہ بھی عنقریب دنیا میں بدر کے معرکہ میں اور آخرت میں جہنم میں داخل ہونے کی بنا پر کافر ذلیل ہوں گے۔
سورۂ آل عمران کا آغازبڑے جاہ و جلال سے ہوا۔ جس میں واشگاف لہجے میں واضح کیا گیا ہے کہ ہمیشہ قائم و دائم رہنے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ اس نے لوگوں کی رہنمائی کے لیے اپنی آخری کتاب نازل فرمائی ‘ منکروں کے لیے اس کا عذاب بڑا سخت ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے زبردست انتقام لینے والا ہے۔ وہ سب کو اپنے حضور اکٹھا…
Read the full tafseer →10: اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ ا لَنْ تُغْنِیَ عَنْھُمْ اَمْوَالُھُمْ وَلَآ اَوْلَادُھُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًاط وَاُولٰٓپکَ ھُمْ وَقُوْدُ النَّار۔ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔ (بےشک جو لوگ کافر ہوئے) رسول کا انکار کر کے لَنْ تُغْنِیَ عَنْھُمْ ( ہرگز ان کو فائدہ نہیں دیں گے) یا ان سے ہرگز دور نہ کریں گے۔ اَمْوَالُھُمْ وَ لَآ اَوْلَادُھُمْ مِّنَ اللّٰہِ (ان کے مال و اولاد اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کیلئے) یا چھڑانے کے لیے شَیْئًا (کچھ بھی) فائدہ نہ دینا۔ وَاُولٰٓپکَ ھُمْ وَقُوْدُ النَّار (وہ لوگ اس آگ کا ایندھن ہونگے ) ۔
Read the full tafseer →10۔ (ان الذین ۔۔۔۔۔۔ تغنی بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہرگز کام نہیں آسکتے) نہیں نفع دے سکتے اور نہ ہی وہ دور کرسکتے ہیں ۔ (عنھم ۔۔۔۔۔ من اللہ نہ ان کا مال اور نہ ان کی اولاد اللہ سے) کلبی (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد اللہ کا عذاب اور ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ من بمعنی عند کے ہے یعنی اللہ کے نزدیک (شیئا۔۔۔۔ وقودالنار کسی چیز کا اور یہ لوگ ایسے ہیں جو جہنم کی آگ کا ایندھن ہوں گے) ۔۔۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(10 ۔ 11) اوپر کی آیتوں میں یہ ذکر تھا کہ پچھلی کتابوں میں قرآن کی اور قرآن میں پچھلی کتابوں کی صداقت موجود ہے اس پر بھی جو لوگ کلام الہٰی کی آیتوں کو جھٹلائیں گے ان کو سخت عذاب بھگتنا پڑے گا۔ ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اگر ان لوگوں کو یہ خیال ہو کہ جس طرح دنیا کی بعض آفتوں سے یہ لوگ اپنے مال اور اولاد کے سبب سے بچ جاتے ہیں اسی طرح عقبیٰ میں بھی ان کا مال ان کی اولاد ان کے کچھ کام آجائیں گے تو ان لوگوں کا یہ خیال بالکل غلط ہے عقبیٰ میں تو انہی لوگوں کا صدقہ خیرات کا مال اور ان ہی کی نیک اولاد کام آئیں گے جن کے دل میں نور ایمان کی کچھ چمک ہے اور جو لوگ اللہ کے کلام اللہ کے رسول کے جھٹلانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
آیت 10-13
اللہ تعالیٰ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرنے والے، اس کے دین اور اس کی کتاب کا انکار کرنے والے، اپنے کفر اور گناہوں کی وجہ سے سزا اور سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ وہاں انہیں اپنے مالوں اور اولادوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اگرچہ دنیا میں وہ آنے والی مصیبتوں کا ان کے ذریعہ سے مقابلہ کرلیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے (نحن اکثر اھوالا واولادا وما نحن بمعذبین) (سبا :35/37) ” ہمارے مال اور ہماری اولاد میں زیادہ ہیں ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔ “ قیامت کے دن انہیں ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کی انہیں بالکل توقع نہ ہوگی۔ (ویدالھم سیات ماکسبوا وحاق بھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
کفار کے مغلوب ہونے کی پیش گوئی۔
قول باری ہے۔ (قل للذین کفرواستغلبون وتحشرون الی جھنم، آپ کافروں سے کہہ دیجئے کہ تم عنقریب مغلوب کرلیئے جاؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤگے) حضرت ابن عباس قتادہ اور ابن اسحاق سے مروی ہے کہ جب بدر کے معرکے میں قریش پر تباہی آئی تو حضور ﷺ نے سوق قینقاع میں یہود کو جمع کرکے انہیں اسلام کی دعوت دی اور انکار کی صورت میں انہیں اس انتقام خداوندی سے ڈرایاجس کا ظہور قریش پر ہوچکا تھا۔ یہودنے اسلام لانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ قریش کی طرح نہیں ہیں۔ وہ توناتجربہ کار اوربدھوقسم کے لوگ تھے انہیں جنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا اگر ہم سے پنچہ آزمائی کرو گے تو تمہیں معلوم ہوجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
18 اہل کفر کا انجام نہایت ہولناک ۔ والعیاذ باللہ : سو اہل کفر کا انجام نہایت ہی ہولناک ہوگا اور ان کو اللہ کے مقابلے میں نہ ان کے مال کچھ کام آسکیں گے اور نہ ان کی اولادیں۔ جن کا یہ اپنے طور پر بڑا زعم اور گھمنڈ رکھتے ہیں۔ اور اعلانیہ اور فخریہ طور پر کہتے ہیں ۔ { نَحْنُ اَکْثَرُ اَمْوَالاً وَّاَوْلادًا } ۔ (سبا۔ 35) کہ " ہم مال و دولت میں بھی سب سے بڑھ کر ہیں اور آل اولاد میں بھی "۔ لہذا ہم ٹھیک اور ہمارا راستہ بھی ٹھیک۔ ورنہ ہمیں یہ سب کچھ کیوں ملتا ؟ اور جب ہم ایسے اور اس قدر مال و دولت اور آل و اولاد رکھنے والے ہیں تو پھر کوئی ہمارا کیا بگاڑ سکتا ہے، مگر حقیقت میں یہ محض ایک دھوکہ ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
کفارو مشرکین کو تنبیہ
تشریح : ان آیات میں مشرکین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ جس طرح فرعون اور اس سے پہلی قوموں کو اپنے برے اعمال کی سزا دی گئی تھی تمہیں ان سے عبرت حاصل کرنی چاہئے۔ فرعون اور اس سے پہلی قوموں کا ذکر سورة بقرہ میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ ان آیات میں ایک تو عبرت حاصل کرنے کا سبق دیا گیا ہے اور دوسرے کفار و مشرکین کو خبردار کیا گیا ہے۔ ایسے کفاربہت جلد مغلوب ہوں گے۔ اہل اسلام سے شکست کھائیں گے دنیا میں سزا پانے کے بعد آخرت میں جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ اگلی آیت میں جنگ بدر کی مثال دی جارہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
آیات 10- 20
اسرارو معارف
ان الذین کفروا………………وبئس المھاد۔
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا۔ ان کے مال اور اولاد اللہ کے مقابل ذرہ برابر کام نہ آئیں گے یا وہ یہ سمجھ رکھیں کہ ان کے پاس دولت ہے اولاد ہے تو شاید عنداللہ وہ مقبول ہیں اور یہ اللہ کی خوشنودی کی دلیل ہے ہرگز نہیں ! یہ ایک نظام ہے اللہ کا مقرر کردہ جو چل رہا ہے ہاں ! اللہ کی رضامندی کی دلیل دین ہے۔ اگر دین قبول نہ کیا تو مالدار ہوں یا صاحب اولاد ہوں ، دوزخ کا ایندھن ہیں بلکہ ترجمہ تو یوں ہے کہ یہی لوگ دوزخ کا ایندھن ہیں۔ ان کا رویہ تو آل فرعون جیسا ہے یا ان سے پہلے گزرنے والے کافروں جیسا کہ دولت اور ریاست کے لالچ میں حق کو قبول نہ کیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 4 یعنی جس طرح کا عذاب قوم فرعون اور امم سابقہ کو ان کے رسولوں کو جھٹلا نے کی وجہ سے دیا گیا اسی طرح کا عذاب مالدار کفار کو بھی دیا جائے گا۔ یہاں ان کفار سے مراد وفد نجران یہودی مشرکین عرب اور دوسرے تمام کفار بھی ہوسکتے ہیں۔ (ابن کبیر۔ شوکانی )
Read the full tafseer →(3:10) لن تغنی عنہم۔ نفی تاکید بلن۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ الغنی۔ تونگری ، بےنیازی۔ غنی۔ مالدار۔ بےنیاز۔ اغنی عنہ شیئا۔ اس کو کسی حد تک بےنیاز کردینا ۔ ھذا ما یغنی عنک شیئائی تمہارے کسی کام نہ آئے گی۔ تمہارے لئے کسی فائدہ کی نہ ہوگی۔ تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ما اغنی عنہ ما لہ (111:2) اس کا مال اس کے کام نہ آیا۔ لن تغنی عنھم اموالہم ولا اولادھم من اللہ شیئا ان کا مال اور ان کی اولاد ان کو اللہ کی جانب سے کسی حد تک بھی بےنیاز نہ کرسکیں گی یعنی ان کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکیں گے
وقود۔ وقد یقد (ضرب) (آگ کا بھڑکنا) سے ایندھن ۔ نیز وقاد وقید بمعنی ایندھن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 13
لن تغنی (ہرگز کام نہ آئے گا) وقود (ایندھن) داب (طریقہ، دستور) اٰل (اولاد۔ کسی کو مان کر اس کے پیچھے چلنے والے)
ستغلبون (عنقریب تم مغلوب کئے جاؤ گے) تحشرون (تم جمع کئے جاؤ گے) فئتین (دوجماعتیں (فئة۔ جماعت) (التقتا (آپس میں
دونوں مقابل ہوئے) اخرٰی (دوسری) یرون (وہ دیکھتے ہیں) مثلیھم (اپنے سے دوگنے (مثلی اصل میں مثلین تھا نون گر گیا) رای العین ( دیکھنے والی آنکھ) عبرۃ (نصیحت ، سبق) اولی الابصار (آنکھوں والے (اولو، والا ابصار، بصر) آنکھیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 10 تا 13
نخران سے عیسائیوں کا جو وفد نبی کریم ﷺ سے مذہبی بحث ومناظرہ کے لئے آیا ہوا تھا خطاب ان ہی سے ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
سب سے پہلے یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن شریف میں محکم اور متشابہ کو دو معنی میں اللہ تعالیٰ نے استعمال فرمایا ہے۔ حضرت عبدا اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ قرآن شریف میں جو آیتیں عمل کے لئے نازل ہوئی ہیں وہ محکم ہیں، اور جن سے عمل متعلق نہیں صرف بندوں کا ایمان لانا اللہ کا مقصود ہے۔ جیسے صفات الہٰی کی آیات یا قیامت کے حال کی آیات یا حروف مقطعات یہ سب متشابہ ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے متشابہ آیتوں کا مطلب سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں ہے۔ تم محکم آیتوں پر عمل کرو، متشابہ پر صرف ایمان لاؤ۔ (ابن کثیر و درمنثور)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
[3] یعنی وہ آیتیں جن کا مفہوم واضح ہو اور ان کے معافی میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
[4] یعنی وہ آیتیں جن کے مفہوم میں اشتباہ کی گنجائش ہے اور جن کے کئی معنی نکل سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
(ف 1) ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ کذب وافترا کی آخری حد عذاب الہی ہے ، وہ لوگ جو اب تک اسلام کے پیغام صداقت شعار کا انکار کرتے چلے آرہے ہیں ‘ وہ متنبہ رہیں کہ ان کا مال و دولت انہیں ہرگز اللہ کی پکڑ سے نہ بچا سکے گا ، یہ خدا کا قانون ہے ‘ اس کی سنت ہے وہ نافرمانوں کو ہمیشہ سخت سزائیں دیتا رہا ہے ۔
دیکھ لو فرعون کس جاہ وحشم اور کس ٹھاٹھ سے رہتا تھا ، مگر ضرب موسوی کی تاب نہ لاسکا اور بنی اسرائیل کے سامنے دریا میں ڈوب گیا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 2۔ اے ہمارے پروردگار ! جب تو ہم کو ہدایت کرچکا اور تو نے ہم کو سیدھی راہ پر لگا دیا تو ہدایت کرنے کے بعد ہمارے قلوب کو کج نہ کر اور ہمارے دلوں کو زیع اور کجی میں مبتلا نہ کر اور ہم کو اپنے پاس سے خاص رحمت عطا کر یقینا تو بڑا فیاض اور بہت عطا کرنے والا ہے۔
اے ہمارے پروردگار ! یقینا تو سب لوگوں کو میدان حشر میں اس دن جمع کرنے والا ہے جس دن کے واقع ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کیا کرتا ۔ جو وعدہ کرتا ہے اس کو پورا کرتا ہے اور چونکہ قیامت کا اس نے وعدہ فرمایا ہے لہٰذا یہ ضرور پورا ہوگا ۔
مطلب یہ ہے کہ جب آپ نے اپنی کتاب نازل فرما کر اور اپنے رسول کو…
Read the full tafseer →ف 2۔ مقابلہ میں کام آنے کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کی ضرورت نہ ہو، اس کے عوض صرف مال و اولاد نافع اور کافی ہوجاوے، دوسرے یہ کہ مال و اولاد اللہ تعالیٰ کے مقابل ہو کر ان کے عذاب سے بچا لے گی، مقابلہ کا لفظ دونوں جگہ بولا جاتا ہے، سو آیت میں دونوں کی نفی کردی گئی۔
Read the full tafseer →کفر کی راہ اختیار کرنے والوں کو اللہ کی پکڑ سے کوئی نہیں بچا سکتا :
26: جاہل قوموں نے ایسے عقائد خود ہی گھڑ لیے ہیں جن کی کوئی اصل موجود نہیں۔ ان عقیدوں میں سے ایک عقیدہ ان کا یہ بھی ہے کہ اولاد اپنے مرے ہوئے باپ کی طرف سے کچھ ” پن دان “ کرے تو والدین کی نجات ہوجائے گی خواہ وہ ایمان کی دولت سے مالا مال نہ بھی ہوئے ہوں۔
تعجب ہے کہ اسلام نے ماں باپ کی موجودگی میں اولاد کو مجبور کیا ہے کہ وہ ان کی ضروریات زندگی کو پورا کریں اور ان کو ہر لحاظ سے خوش رکھیں اور دنیوی زندگی میں ان کی ہر طرح مدد کریں۔ مالی امداد بھی ان کو دیں اور روحانی امداد کے طور پر ان کی اصلاح کی اسی طرح کوشش کریں کہ ان کو اف تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
Sequence
The text now shifts from the verbal confrontation with disbelievers on the warnings about the coming physical encounter as pointed out in verse 12 - 'You shall soon be overcome (by Muslims) ' while the verses earlier (10 and 11) serve as the introduction.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
8. For explanation see Surah 2, n. 161 above.
Read the full tafseer →