Aal-i-Imraan 3:11

Aal-i-Imraan · from ayah 11

3:11

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ— وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ؕ— كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا ۚ— فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ ؕ— وَاللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۟كَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَۙ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ‌ؕ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ‌ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوۡبِهِمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ

ان کا حال بھی فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا سا ہوگا جنہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تھی تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب (عذاب میں) پکڑ لیا تھا اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Theirs is] like the custom of the people of Pharaoh and those before them. They denied Our signs, so Allah seized them for their sins. And Allah is severe in penalty.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 2 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:11

اُن کا انجام ویسا ہی ہوگا، جیسا فرعون کے ساتھیوں اور اُن سے پہلے کے نافرمانوں کا ہو چکا ہے کہ اُنہوں نے آیات الٰہی کو جھٹلایا، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اور حق یہ ہے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان کا حال بھی فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا سا ہوگا جنہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تھی تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب (عذاب میں) پکڑ لیا تھا اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جیسا آل فرعون کاحال ہوا، اور ان کا جو ان سے پہلے تھے، انہوں نے ہماری آیتوں کوجھٹلایا، پھر اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا، اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کا حال فرعون اور ان سے پہلے کے لوگوں کے معاملے جیسا ہے۔ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، چنانچہ اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ میں لے لیا، اور اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جیسے فرعون والوں اور ان سے اگلوں کا طریقہ، انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو اللہ نے ان کے گناہوں پر ان کو پکڑا اور اللہ کا عذاب سخت،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(ان کا بھی) قومِ فرعون اور ان سے پہلی قوموں جیسا طریقہ ہے، جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو اﷲ نے ان کے گناہوں کے باعث انہیں پکڑ لیا، اور اﷲ سخت عذاب دینے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

(ان کا حال) فرعون کی قوم اور ان لوگوں کے حال کی طرح ہے جو ان سے پہلے تھے، انھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تو اللہ نے انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا اور اللہ بہت سخت عذاب والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان لوگوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے جیسے آل فرعون کا اور ان لوگوں کا تھا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تو اللہ نے ان کے گناہوں کے بدلے انہیں دھر لیا اور اللہ سزا دینے میں بڑا سخت ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کا بھی وہی حال ہونا ہے جو آل فرعون اور ان لوگوں کا ہوا جو ان سے پہلے گزرے۔ انہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تو اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں پکڑ لیا اور اللہ سخت پاداش والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(یہ لوگ اپنے حال و مال کے اعتبار سے ویسے ہی ہیں) جیسا کہ فرعون والے اور وہ لوگ تھے جو کہ ان سے بھی پہلے گزر چکے ہیں، کہ انہوں نے بھی ہمیں جھٹلایا ہماری آیتوں کو، جس کے نتیجے میں اللہ نے (آخرکار) ان کو پکڑا، ان کے گناہوں کے سبب اور اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

جیسا کہ معاملہ فرعون والوں کے ساتھ ہوا اور ان سے قبل والوں کے ساتھ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا سو اللہ نے ان کی گرفت کی ان کے گناہوں کے باعث اور اللہ بڑا سخت دینے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(ان کے ساتھ بھی ویسا ہی معاملہ ہوگا) جیسا کہ آل فرعون اور ان لوگوں کے ساتھ ہوا جو ان سے پہلے گزرے انہوں نے بھی ہماری آیات کو جھٹلایا تھا تو اللہ نے پکڑا ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں اور اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان کا انجام) فرعون کے ساتھیوں اور ان سے پہلے نافرمان لوگوں کا سا ہوگا کہ انہوں نے آیات الٰہی کو جھٹلایا، (نتیجہ یہ ہوا) کہ اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اور حق یہ ہے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

(To them shall happen) the like of what happened to the people of Pharaoh, and those before them. They rejected Our signs, so Allah seized them for their sins. Allah indeed is severe in punishment.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

a case similar to that of the House of Pharaoh and those before them. They denied our signs. So, Allah seized them for their sins. Allah is severe in punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

a case similar to that of the House of Pharaoh and those before them. They denied our signs. So, Allah seized them for their sins. Allah is severe in punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Like the behavior of the people of Fir`awn and those before them; they belied Our Ayat. So Allah punished them for their sins. And Allah is severe in punishment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Like Pharaoh's folk and those who were before them, they disbelieved Our revelations and so Allah seized them for their sins. And Allah is severe in punishment.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Theirs is] like the custom of the people of Pharaoh and those before them. They denied Our signs, so Allah seized them for their sins. And Allah is severe in penalty.

— Saheeh International

They do as the people of Pharaoh and those who lived before them did. They called Our revelations mere lies. God punished them for their sins. God is stern in His retribution.

— Muhammad Sarwar

Like the striving of the people of Firon and those before them; they rejected Our communications, so Allah destroyed them on account of their faults; and Allah is severe in requiting (evil).

— Muhammad Habib Shakir

After the wont of the people of Fir'awn and those before them. They belied Our signs, wherefore Allah laid hold of them for their sins. And Allah is Severe in chastising.

— Abdul Majid Daryabadi

(Their plight will be) no better than that of the people of Pharaoh, and their predecessors: They denied our Signs, and Allah called them to account for their sins. For Allah is strict in punishment.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–11

جہنم کا ایندھن کون لوگ ؟ فرماتا ہے کہ کافر جہنم کی بھٹیاں اور اس میں جلنے والی لکڑیاں ہیں، ان ظالموں کو اس دن کوئی عذر معذرت ان کے کام نہ آئے گی، ان پر لعنت ہے، اور ان کیلئے برا گھر ہے، ان کے مال ان کی اولادیں بھی انہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی، اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گے، جیسا اور جگہ فرمایا آیت (اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۭوَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا) 4۔ النسآء :82) تو ان کے مال و اولاد پر تعجب نہ کرنا اس کی وجہ سے اللہ کا ارادہ انہیں دنیا میں بھی عذاب دینا ہے، ان کی جانیں کفر میں ہی نکلیں گی، اسی طرح ارشاد ہے کافروں کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–13

سورة اٰلِ عِمْرٰن 9 اگرچہ حقیقی فرق سہ چند تھا، لیکن سرسری نگاہ سے دیکھنے والا بھی یہ محسوس کیے بغیر تو نہیں رہ سکتا تھا کہ کفار کا لشکر مسلمانوں سے دو گنا ہے۔ سورة اٰلِ عِمْرٰن 10 جنگ بدر کا واقعہ اس وقت قریبی زمانے ہی میں پیش آچکا تھا، اس لیے اس کے مشاہدات و نتائج کی طرف اشارہ کر کے لوگوں کو عبرت دلائی گئی ہے۔ اس جنگ میں تین باتیں نہایت سبق آموز تھیں ایک یہ کہ مسلمان اور کفار جس شان سے ایک دوسرے کے بالمقابل آئے تھے، اس سے دونوں کا اخلاقی فرق صاف ظاہر ہو رہا تھا۔ ایک طرف کافروں کے لشکر میں شرابوں کے دور چل رہے تھے، ناچنے اور گانے والی لونڈیاں ساتھ آئی تھیں اور خوب داد عیش دی جارہی تھی۔ دوسری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–11

خلاصہ تفسیر بالیقین جو لوگ کفر کرتے ہیں ہرگز ان کے کام نہیں آسکتے، ان کے مال (دولت) اور نہ ان کی اولاد اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ذرہ برابر بھی ایسے لوگ جہنم کا ایندھن ہوں گے (ان لوگوں کا معاملہ ایسا ہے) جیسا معاملہ تھا فرعون والوں کا اور ان سے پہلے والے (کافر) لوگوں کا (وہ معاملہ یہ تھا) کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو (یعنی اخبار و احکام کو) جھوٹا بتلایا اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر دارو گیر فرمائی ان کے گناہوں کے سبب اور اللہ تعالیٰ (کی دارو گیر بڑی سخت ہے کیونکہ ان کی شان یہ ہے کہ وہ) سخت سزا دینے والے ہیں (اسی طرح معاملہ ہوگا کہ انہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی، سو ان کو بھی ایسی ہی سزا ہوگی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 10–11

تفسیر آیت 10-11: راہ حق کی اصل رکاوٹ : اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سے یہاں مراد، جیسا کہ آیت 4 میں گزر چکا ہے، قرآن کے منکرین ہیں۔ ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ مال و اولاد، جن کی محبت آج ان کے لیے ایک سورج سے زیادہ واضح حق کے قبول کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے، انہیں خدا کی پکڑ سے نہیں بچا سکیں گے۔ اس وجہ سے ان کی محبت میں اس خدا کو نہیں بھولنا چاہیے جس کے حقوق سب پر مقدم ہیں اور جس کی پکڑ بھی بےپناہ ہے۔ مال و اولاد کا ذکر یہاں قبول حق کی راہ کے اصل حجاب کی حیثیت سے ہوا ہے۔ آگے آیت 14 میں ان کا ذکر تفصیل کے ساتھ آ رہا ہے۔ درحقیقت انہی کی محبت ہے جو انسان کے لیے قبول حق میں رکاوٹ بنتی ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 8–12

12۔ 1 یہاں کافروں سے مراد یہودی ہیں۔ اور یہ پیش گوئی جلدی پوری ہوگئی۔ چناچہ بنو قینقاع اور بنو نفیر جلا وطن کئے گئے بنو قریظہ قتل کئے گئے پھر خیبر فتح ہوگیا اور تمام یہودیوں پر جزیہ عائد کردیا گیا (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–12

4: اس سے دنیا میں کافروں کے مغلوب ہونے کی پیش گوئی بھی مراد ہوسکتی ہے، اور آخرت میں مغلوب ہونے کی بھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–12

كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ ” ان کا انجام ایسا ہی ہوگا جیسا کہ فرعون کے ساتھیوں کا اور اس کے پہلے کے نافرمانوں کا ہوچکا ہے ۔ کہ انہوں نے آیات الٰہی کو جھٹلایا تو اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑلیا ‘ اور حق یہ ہے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے ۔ “ یہ ایک ایسی مثال ہے جو تاریخ میں بارہا دہرائی گئی ہے ۔ اور اس کے کئی قصے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بڑی تفصیلات کے ساتھ بیان کئے ہیں ۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کے بارے میں اللہ کی سنت ان قصوں میں پائی جاتی ہے ۔ جہاں اللہ چاہے ‘ اپنی اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتا اور جس طرح وہ پکڑے گئے تم بھی خدا کی پکڑ میں آنیوالے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 11–12

آیت 11 کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ لا والَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط تمہاری تو حیثیت ہی کیا ہے ! کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ آل فرعون کا معاملہ یاد کرو ‘ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا ؟ فرعون بہت بڑا شہنشاہ اور بڑے لاؤ لشکر والا تھا ‘ لیکن اس کا کیا حال ہوا ؟ اور اس سے پہلے عاد وثمود جیسی زبردست قومیں اسی جزیرہ نمائے عرب میں رہی ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

12 ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے سب کافروں کو خواہ وہ مشرکین تھے یا یہود مدینہ یا منافقین اور مشرکین مدینہ یا نصاریٰ جو اسلام کے خلاف محاذ آرائی پر اتر آئے تھے۔ متنبہ فرمایا کہ اسلام دشمنی سے باز آجاؤ ورنہ جس طرح آل فرعون اور قوم عاد، ثمود وغیرہ تباہ و برباد کئے جاچکے ہیں۔ تمہارا بھی وہی حشر ہونے والا ہے۔ ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر اور گناہوں کی پاداش میں دھر لیا تھا اور تمہیں بھی دھرے گا کیونکہ اللہ اپنے مسلمان بندوں سے دشمنی رکھنے والوں کو سزا دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

27 ۔ (مجرموں اور باغیوں کو (آیت) ” ذوانتقام “ پر حاشیہ ابھی گزرچکا ہے۔ اسے بھی ملاحظہ فرمالیا جائے۔ اللہ کوئی بےبس اور ہمہ عجز مہاتما نہیں کہ بندوں کو ہر طرح کے ظلم وعدوان کا مرتکب دیکھے اور پھر دم نہ مارے۔ وہ جب سزا دینے ہی پر آجاتا ہے تو سب کو پتہ چل جاتا ہے کہ کوئی گرفت اس کی گرفت سے شدید تر والیم تر نہیں۔ کداب۔ داب کے معنی حالت یا معاملہ کے ہیں۔ الداب العادۃ والشان۔ (قرطبی) یہ مثلیث بےسود ہونے میں ہے۔ گویا تاریخ سے استشہاد ہے کہ جس طرح ماضی میں فرعونیوں کے کام ان کے مال اولاد کچھ نہ آسکا۔ اور عذاب الہی سے انہیں کوئی چیز نہ بچا چکی، اسی طرح ان کافروں کے حق میں بھی یہ سارے مادی سہارے بالکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–12

تفسیر و تشریح قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا (الآیۃ) ممکن ہے کہ کوئی اس آیت میں یہ شبہ کرے کہ آیت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ کفار مغلوب ہوں گے، حالانکہ دنیا کے سب کفار مغلوب نہیں ہیں لیکن یہ سبہ اس لیے نہیں ہوسکتا کہ یہاں کفار سے تمام دنیا کے کفار مراد نہیں ہیں بلکہ اس وقت کے مشرکین اور یہود مراد ہیں، چناچہ مشرکین کو قتل و قید اور یہود کو قتل و قید اور جزیہ اور جلاوطنی کے ذریعہ مغلوب کردیا گیا تھا، چناچہ بنو قینقاع اور بنو نضیر جلاوطن کئے گئے، بنو قریظہ قتل کئے گئے اور فتح خیبر کے بعد تمام یہودیوں پر جزیہ عائد کردیا گیا

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ : لا دأب مصدر ہے دَأبَ فی العمل کام میں محنت کی۔ یعنی ان لوگوں کا فعل کفر و تکذیب انبیاء آ ل فرعون کے عمل کی طرح ہے حضرت ابن عباس ؓ ، عکرمہ ؓ اور مجاہد ؓ کا یہی قول ہے کہ بعض لوگوں نے کہا کہ دأب کا معنی اس جگہ شان ہے یعنی ان کا حال کفر۔ آل فرعون کے حال کی طرح ہے۔ ابو عبیدہ نے دأب کا ترجمہ طریقہ کیا ہے۔ اخفش نے امر ترجمہ کیا ہے نصر بن شمیل نے عادت طریقہ شان حال وغیرہ سے اس لفظ کی تشریح کی ہے۔ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : اور ان لوگوں کے حال کی طرح جو آل فرعون سے پہلے تھے۔ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاَخَذَھُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ : انہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(11) جیسا کہ فرعون والوں کا معاملہ تھا، یعنی آپ کے ساتھ بھی آپ کی قوم قریش نے وہی معاملہ کیا کہ آپ کو جھٹلایا اور ستایا جیسا کہ موسیٰ ؑ کی قوم نے حضرت موسیٰ ؑ کو جھٹلایا اور ان کو ستایا تو ہم غزوۂ بدر کے دن ان کے ساتھ بھی وہ ہی معاملہ کریں گے، یعنی انہیں شرمناک شکست دے کر کمزور مسلمانوں کو غلبہ عطا کریں گے جیسا کہ فرعون وآل فرعون کو غرق کرنے کے ان ان کے ساتھ کیا، پھر اسی طرح موسیٰ ؑ کی قوم کے ساتھ ہم نے سلامتی و عروج کا فیصلہ کیا اور اس طرح قوم موسیٰ ؑ سے پہلے لوگوں کا معاملہ بھی تھا کہ انہوں نے ہماری بھیجی ہوئی کتابوں اور رسولوں کو جھٹلایا، نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے جھٹلانے کے سبب اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 10–11

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ اس کی ترکیب کے لیے دیکھیے سورة انفال (52، 54) یعنی جس طرح کا عذاب قوم فرعون اور پہلی امتوں کو رسولوں کو جھٹلانے کی وجہ سے دیا گیا، اسی طرح کا عذاب ان اموال و اولاد والے کفار کو دیا جائے گا۔ یہاں ان کفار سے مراد وفد نجران، یہود، مشرکین عرب اور دوسرے تمام کفار بھی ہوسکتے ہیں۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 11۔ الداب کا معنی عادت اور طریقہ ہے۔ اور داب الرجل فی علمہ یداب دایا ودؤبا کہا جاتا ہے جب وہ اپنے کام میں کوشش کرے اور خوب محنت کرے اور ادابتہ انا اور اداب بعیرہ جب وہ اونٹ کو چلانے میں خوب تھکا دے۔ اور الدائبان سے مراد رات اور دن ہیں۔ ابو حاتم نے کہا ہے : میں نے یعقوب کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے کداب کہ یہ ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ ہے اور انہوں نے مجھے کہا درآنحالیکہ میں نوجوانی کی حالت میں تھا، کون سی شے پر کداب جائز ہو سکتا ہے ؟ تو۔۔۔۔۔ کہا : میرا گمان ہے کہ یہ دئب یداب دابا سے ہے، تو انہوں نے میری بات کو قبول کرلیا اور میرے چھوٹا ہونے کے باوجود میری عمدہ وضاحت پر اظہار تعجب ومسرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–11

(1) ابن جریرابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کداب ال فرعون “ سے مراد ہے جیسے فرعون والوں کے اعمال۔ (2) ابن المنذر اور ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کداب ال فرعون “ سے مراد ہے ان کے کام کی طرح۔ (3) ابن جریر نے ابن اسحاق اور بیہقی نے دلائل میں ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کداب ال فرعون “ سے مراد ہے جیسے ان کے طریقے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ : فرعون کے پیروکاروں کی عادت کے مطابق ] [وَالَّذِیْنَ : اور ان لوگوں کی جو ] [مِنْ قَبْلِہِمْ : ان سے پہلے تھے ] [کَذَّبُوْا : (کہ) انہوں نے جھٹلایا ] [بِاٰیٰـتِنَا : ہماری نشانیوں کو ] [فَاَخَذَ : تو پکڑا ] [ہُمُ : ان کو ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [بِذُنُوْبِہِمْ : ان کے گناہوں کے سبب سے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [شَدِیْدُ الْعِقَابِ : سخت گرفت کرنے والا ہے ] د ء ب دَأَبَ (ف) دَأْبًا : کسی کام کو لگاتار کرنا ‘ کسی راستے پر مسلسل چلنا۔ دَأْبٌ (اسم ذات بھی ہے) : عادت ‘ دستور۔ آیت زیر مطالعہ۔ دَأْبٌ : لگاتار ‘ مسلسل۔{ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًاج } (یوسف :47)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–11

آخرت میں اموال و اولاد کام نہیں آئیں گے اہل کفر اپنے مالوں پر اور اولاد پر بہت فخر کرتے ہیں اور یہ گمان رکھتے ہیں کہ یہ چیزیں ہمارے لیے بہت فائدہ مند ہیں دنیا میں کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچ ہی جاتا ہے ان کا خیال خام یہ ہے کہ آخرت میں بھی مال اور اولاد سے کام چلے گا اور اللہ کے عذاب سے یہ چیزیں ہم کو بچا لیں گی۔ سورة سبا رکوع نمبر 4 میں کافروں کا قول نقل فرماتے ہوئے ارشاد ہے : (وَ قَالُوْا نَحْنُ اَکْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ) (اور انہوں نے کہا ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں اور ہم کو عذاب ہونے والا نہیں ہے) جب آخرت میں کفر پر عذاب ہوگا تو وہاں مال تو ہونے ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–13

مال واولاد کے نشہ میں حق سے استغنا پر وعید اور تہدید۔ قال تعالی، ان الذین کفروا لن تغنی عنھم۔۔۔ الی۔۔۔ الابصار۔ ربط) ۔ یہ آیتیں بھی نصارائے نجران کے بارے میں نازل ہوئیں دلائل اور براہین سے حق ان پر واضح ہوچکا تھا مگر مال و دولت کے غرور اور نشہ نے ان کو قبول حق اور قبول ہدایت سے باز رکھا اس لیے ان ارباب غرور کی وعید اور تہدید کے لیے یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آخرت میں مال اور اولاد کچھ کام نہیں آئیں گے اور پھر یہ ارشاد فرمایا کہ اب ان کافروں سے یہ کہہ دیں کہ یہ لوگ عنقریب دنیا میں مسلمانوں کے ہاتھ سے مغلوب ہوں گے اور قیامت کے دن جہنم میں ڈال دیے جائیں گے اور پھر واقعہ بدر کو ان کی عبرت کے لیے ذکر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

15 کَدَابِ اٰلِ فِرْعَوْنَ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ ای دابھم کداب ال فرعون اور دابٌ کے معنی حال ہیں یعنی تکذیب و انکار میں ان کافروں کا حلا اور رویہ بالکل وہی ہے جو فرعونیوں اور ان سے پہلے کافروں کا تھا۔ اسی طرح عذاب میں بھی ان کا وہی حال ہوگا جو ان کا ہوا۔ داب ھؤلاء الکفرۃ فی تکذیب الحق کداب من قبلھم من اٰل فرعون وغیرھم (مدارک ج 1 ص 511) ای حال ھؤلاء فی الکفر و استحقاق العذاب کحال ال فرعون (روح ج 3 ص 93) 16 یہ ان کے داب اور حال کی تفسیر ہے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تو اللہ نے انہیں ان کے جرائم کی وجہ سے مبتلائے عذاب کردیا اور ایسے لوگوں کے لیے خدا کا عذاب بہت سخت ہے۔ آیات سے مراد…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–13

ربط آیات : پہلی آیت میں قیامت کا ذکر تھا۔ اس سے پہلے اللہ نے نصارٰ کی تردید فرمائی اور ان کے باطل عقیدے کا رد فرمایا ، توحید کا مسئلہ بیان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی صفات الوہیت کا ذکر کیا اور جن متشابہ لفظوں سے یہود و نصاری استدلال کرتے تھے ، اس کا جواب دیا۔ اب اس آیت میں کفار کے متعلق فرمایا کہ کوئی چیز انہیں خدا کی گرفت سے نہیں بچا سکتی ، حتی کہ ان کے مال و اولاد بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ اس کے بعد جنگ بدر سے متعلق یہود مدینہ کی زبان درازی کا ذکر ہے۔ کہتے تھے کہ اہل مکہ ناتجربہ کار تھے۔ جو مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے ، وگرنہ ہم جیسے آزمودہ کار لوگوں سے واسطہ پڑتا ، تو مسلمانوں کو پتہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ۝ 0 ۙ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۝ 0 ۭ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا۝ 0 ۚ فَاَخَذَھُمُ اللہُ بِذُنُوْبِہِمْ۝ 0 ۭ وَاللہُ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۝ 11 دأب الدَّأْب : إدامة السّير، دَأَبَ في السّير دَأْباً. قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دائِبَيْنِ [إبراهيم/ 33] ، والدّأب : العادة المستمرّة دائما علی حالة، قال تعالی: كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ [ آل عمران/ 11] ، أي : کعادتهم التي يستمرّون عليها . ( د ء ب ) الداب کے معنی مسلسل چلنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ داب السیر دابا ۔ وہ مسلسل چلا ۔ قرآن میں ہے وَسَخّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دائِبَيْنِ [إبراهيم/ 33] اور سورج…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–11

ترکیب : بعد ظرف ہے لا تزغ کا ‘ من لدنک صفت ہے رحمۃ کی یا حال۔ لیوم لام بمعنی فی ای فی یوم لاریب فیہ جملہ موضع جر میں ہے صفت ہے یوم کی الذین موصول وصلہ اسم ان لن تغنی الخ اس کی خبر۔ من اللّٰہ موضع نصب میں ہے۔ تقدیرہ من عذاب اللہ ای لا یدفع اموالہم والا اولادھم من اللّٰہ شیئا مفعول بہ ہے لن تغنی کا اور حال بھی ہوسکتا ہے۔ کداب کاف موضع نصب میں ہے۔ لغت ہو کر مصدر محذوف کی ای کفروا القرا کعادۃ آل فرعون اور ممکن ہے کہ خبر ہو مبتداء محذوف کی ای دابہم کداب آل فرعون۔ تفسیر : یہ بھی راسخین فی العلم کا مقولہ ہے یعنی وہ متشابہات کو علم الٰہی کے حوالہ کرکے اس پر ایمان لا کر یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ اے رب !…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–11

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْہُمْ اَمْوَالُہُمْ وَلَآ اَوْلَادُہُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا ط وَاُولٰٓئِکَ ہُمْ وَقُوْدُالنَّارِ ۔ لا کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ لا وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط کَذَّبُوْا بِاٰیٰـتِـنَاج فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِہِمْ ط وَاللّٰہُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ (بےشک جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہر گزان کے مال ان کے کام نہیں آئیں گے اور نہ ان کی اولاد اللہ کے مقابلے میں، یہی لوگ دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ ان کا بھی وہی حال ہونا ہے جو آل فرعون اور ان لوگوں کا ہوا جو ان سے پہلے گزرے، انھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایاتو اللہ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–14

فہم القرآن ربط کلام : حق سے انحراف اور قوموں کی تباہی میں دنیا پرستی کا عنصر ہمیشہ غالب رہا ہے اس لیے اس کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ ہدایت کے راستے میں جو چیزیں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہیں۔ ان میں سر فہرست عورت، بیٹے، سونا، چاندی، سواری، مال، مویشی اور کھیتی باڑی ہے۔ ہر انسان ان میں سے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ ضرورت سے زیادہ محبت کرتا ہے اور یہی چیز راہ ہدایت میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ خواہشات کے میدان میں عام طور پر سب سے پہلی خواہش عورت کے ساتھ مرد کی وابستگی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بطور آزمائش آدمی کے دل میں ان چیزوں کی محبت اور رغبت پیدا فرمائی ہے تاکہ دنیا کا نظام چلتا رہے۔ اگر عورت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

11: کَدَاْبِ ٰالِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاَخَذَ ھُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِھِمْ ، وَاللّٰہُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ کَدَاْبِ ٰالِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (انکی عادات فرعون اور جو ان سے پہلے ہوئے ان جیسی ہیں) الدأب کا لفظ دأب فی العمل سے لیا گیا۔ جبکہ اس میں کوشش کرے۔ پس انسان کی حالت و کیفیت کی جگہ اس کو لایا گیا۔ نحو و قراءت : کاف محلاً مرفوع ہے تقدیر عبارت یہ ہے۔ دَأب ھٰؤ لاء الکفرۃ فی تکذیب الحق کدأب من قبلھم من آل فرعون وغیرھم کہ ان کفارکا طرز عمل حق کو جھٹلانے میں آل فرعون وغیرہ کی طرح ہے۔ یا یہ کاف محلاً منصوب ہے عامل لن تغنی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11۔ (کداب الی فرعون جیسا معاملہ تھا فرعون والوں کا) (کداب الی فرعون کی تفسیر میں مختلف اقوال) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ و عکرمہ (رح) و مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کا فعل کفر و تکذیب میں فرعون کی طرح تھا ۔ عطاء (رح) کسائی (رح) ابوعبیدہ ؓ فرماتے ہیں کہ ” داب “ سے مراد اہل فرعون کا قحط ہے ۔ اخفش کے نزدیک اس سے آل فرعون کا امر اور ان کی شان مراد ہے ۔ نظر بن شمیل نے کہا اس سے عادت مراد ہے یعنی ان لوگوں کی عادت یہ تھی کہ یہ رسولوں کو جھٹلاتے اور فرعون کی طرح انکار کرتے (والذین من قبلھم اور ان لوگوں کا حال جو اس سے پہلے تھا ) ماقبل ملت کفریہ مثلا قوم عاد وثمود اور اس کے علاوہ (کانوا ۔۔۔۔۔۔۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 10–11

(10 ۔ 11) اوپر کی آیتوں میں یہ ذکر تھا کہ پچھلی کتابوں میں قرآن کی اور قرآن میں پچھلی کتابوں کی صداقت موجود ہے اس پر بھی جو لوگ کلام الہٰی کی آیتوں کو جھٹلائیں گے ان کو سخت عذاب بھگتنا پڑے گا۔ ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اگر ان لوگوں کو یہ خیال ہو کہ جس طرح دنیا کی بعض آفتوں سے یہ لوگ اپنے مال اور اولاد کے سبب سے بچ جاتے ہیں اسی طرح عقبیٰ میں بھی ان کا مال ان کی اولاد ان کے کچھ کام آجائیں گے تو ان لوگوں کا یہ خیال بالکل غلط ہے عقبیٰ میں تو انہی لوگوں کا صدقہ خیرات کا مال اور ان ہی کی نیک اولاد کام آئیں گے جن کے دل میں نور ایمان کی کچھ چمک ہے اور جو لوگ اللہ کے کلام اللہ کے رسول کے جھٹلانے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–13

آیت 10-13 اللہ تعالیٰ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرنے والے، اس کے دین اور اس کی کتاب کا انکار کرنے والے، اپنے کفر اور گناہوں کی وجہ سے سزا اور سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ وہاں انہیں اپنے مالوں اور اولادوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اگرچہ دنیا میں وہ آنے والی مصیبتوں کا ان کے ذریعہ سے مقابلہ کرلیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے (نحن اکثر اھوالا واولادا وما نحن بمعذبین) (سبا :35/37) ” ہمارے مال اور ہماری اولاد میں زیادہ ہیں ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔ “ قیامت کے دن انہیں ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کی انہیں بالکل توقع نہ ہوگی۔ (ویدالھم سیات ماکسبوا وحاق بھم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–12

کفار کے مغلوب ہونے کی پیش گوئی۔ قول باری ہے۔ (قل للذین کفرواستغلبون وتحشرون الی جھنم، آپ کافروں سے کہہ دیجئے کہ تم عنقریب مغلوب کرلیئے جاؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤگے) حضرت ابن عباس قتادہ اور ابن اسحاق سے مروی ہے کہ جب بدر کے معرکے میں قریش پر تباہی آئی تو حضور ﷺ نے سوق قینقاع میں یہود کو جمع کرکے انہیں اسلام کی دعوت دی اور انکار کی صورت میں انہیں اس انتقام خداوندی سے ڈرایاجس کا ظہور قریش پر ہوچکا تھا۔ یہودنے اسلام لانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ قریش کی طرح نہیں ہیں۔ وہ توناتجربہ کار اوربدھوقسم کے لوگ تھے انہیں جنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا اگر ہم سے پنچہ آزمائی کرو گے تو تمہیں معلوم ہوجائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 10–11

18 اہل کفر کا انجام نہایت ہولناک ۔ والعیاذ باللہ : سو اہل کفر کا انجام نہایت ہی ہولناک ہوگا اور ان کو اللہ کے مقابلے میں نہ ان کے مال کچھ کام آسکیں گے اور نہ ان کی اولادیں۔ جن کا یہ اپنے طور پر بڑا زعم اور گھمنڈ رکھتے ہیں۔ اور اعلانیہ اور فخریہ طور پر کہتے ہیں ۔ { نَحْنُ اَکْثَرُ اَمْوَالاً وَّاَوْلادًا } ۔ (سبا۔ 35) کہ " ہم مال و دولت میں بھی سب سے بڑھ کر ہیں اور آل اولاد میں بھی "۔ لہذا ہم ٹھیک اور ہمارا راستہ بھی ٹھیک۔ ورنہ ہمیں یہ سب کچھ کیوں ملتا ؟ اور جب ہم ایسے اور اس قدر مال و دولت اور آل و اولاد رکھنے والے ہیں تو پھر کوئی ہمارا کیا بگاڑ سکتا ہے، مگر حقیقت میں یہ محض ایک دھوکہ ہے جو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–12

کفارو مشرکین کو تنبیہ تشریح : ان آیات میں مشرکین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ جس طرح فرعون اور اس سے پہلی قوموں کو اپنے برے اعمال کی سزا دی گئی تھی تمہیں ان سے عبرت حاصل کرنی چاہئے۔ فرعون اور اس سے پہلی قوموں کا ذکر سورة بقرہ میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ ان آیات میں ایک تو عبرت حاصل کرنے کا سبق دیا گیا ہے اور دوسرے کفار و مشرکین کو خبردار کیا گیا ہے۔ ایسے کفاربہت جلد مغلوب ہوں گے۔ اہل اسلام سے شکست کھائیں گے دنیا میں سزا پانے کے بعد آخرت میں جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ اگلی آیت میں جنگ بدر کی مثال دی جارہی ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–20

آیات 10- 20 اسرارو معارف ان الذین کفروا………………وبئس المھاد۔ بے شک جن لوگوں نے کفر کیا۔ ان کے مال اور اولاد اللہ کے مقابل ذرہ برابر کام نہ آئیں گے یا وہ یہ سمجھ رکھیں کہ ان کے پاس دولت ہے اولاد ہے تو شاید عنداللہ وہ مقبول ہیں اور یہ اللہ کی خوشنودی کی دلیل ہے ہرگز نہیں ! یہ ایک نظام ہے اللہ کا مقرر کردہ جو چل رہا ہے ہاں ! اللہ کی رضامندی کی دلیل دین ہے۔ اگر دین قبول نہ کیا تو مالدار ہوں یا صاحب اولاد ہوں ، دوزخ کا ایندھن ہیں بلکہ ترجمہ تو یوں ہے کہ یہی لوگ دوزخ کا ایندھن ہیں۔ ان کا رویہ تو آل فرعون جیسا ہے یا ان سے پہلے گزرنے والے کافروں جیسا کہ دولت اور ریاست کے لالچ میں حق کو قبول نہ کیا اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 9–11

ف 4 یعنی جس طرح کا عذاب قوم فرعون اور امم سابقہ کو ان کے رسولوں کو جھٹلا نے کی وجہ سے دیا گیا اسی طرح کا عذاب مالدار کفار کو بھی دیا جائے گا۔ یہاں ان کفار سے مراد وفد نجران یہودی مشرکین عرب اور دوسرے تمام کفار بھی ہوسکتے ہیں۔ (ابن کبیر۔ شوکانی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:11) کداب۔ ک حرف تشبیہ یا تمثیل۔ داب کے معنی مسلسل چلنے کے ہیں۔ مسلسل روش۔ عادۃ مستمرہ۔ ایسی عادت جس پر ہمیشہ عمل ہوتا ہے۔ کداب ال فرعون میں اگر اس کو نیا جملہ تصور کیا جائے تو اس صورت میں دابھم محذوف تصور ہوگا۔ اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آیۃ ماقبل میں جن کفار کا ذکر ہوا ہے ان کا طریقہ بھی وہی تھا جو کہ آل فرعون کا اور ان سے پہلے لوگوں کا تھا۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اس کا تعلق آیہ سابقہ میں مذکور کفار کے مال و اولاد سے ہے اور عبارت کچھ یوں ہوگی لن تغنی عنھم اموالہم واولادھم من اللہ شیئا کداب ال فرعون یعنی جس طرح آل فرعون کو اس کا مال اور اس کی اولاد اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکی ان (کفار)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–13

لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 13 لن تغنی (ہرگز کام نہ آئے گا) وقود (ایندھن) داب (طریقہ، دستور) اٰل (اولاد۔ کسی کو مان کر اس کے پیچھے چلنے والے) ستغلبون (عنقریب تم مغلوب کئے جاؤ گے) تحشرون (تم جمع کئے جاؤ گے) فئتین (دوجماعتیں (فئة۔ جماعت) (التقتا (آپس میں دونوں مقابل ہوئے) اخرٰی (دوسری) یرون (وہ دیکھتے ہیں) مثلیھم (اپنے سے دوگنے (مثلی اصل میں مثلین تھا نون گر گیا) رای العین ( دیکھنے والی آنکھ) عبرۃ (نصیحت ، سبق) اولی الابصار (آنکھوں والے (اولو، والا ابصار، بصر) آنکھیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 10 تا 13 نخران سے عیسائیوں کا جو وفد نبی کریم ﷺ سے مذہبی بحث ومناظرہ کے لئے آیا ہوا تھا خطاب ان ہی سے ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–11

سب سے پہلے یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن شریف میں محکم اور متشابہ کو دو معنی میں اللہ تعالیٰ نے استعمال فرمایا ہے۔ حضرت عبدا اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ قرآن شریف میں جو آیتیں عمل کے لئے نازل ہوئی ہیں وہ محکم ہیں، اور جن سے عمل متعلق نہیں صرف بندوں کا ایمان لانا اللہ کا مقصود ہے۔ جیسے صفات الہٰی کی آیات یا قیامت کے حال کی آیات یا حروف مقطعات یہ سب متشابہ ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے متشابہ آیتوں کا مطلب سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں ہے۔ تم محکم آیتوں پر عمل کرو، متشابہ پر صرف ایمان لاؤ۔ (ابن کثیر و درمنثور)

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–12

[3] یعنی وہ آیتیں جن کا مفہوم واضح ہو اور ان کے معافی میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ [4] یعنی وہ آیتیں جن کے مفہوم میں اشتباہ کی گنجائش ہے اور جن کے کئی معنی نکل سکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–11

(ف 1) ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ کذب وافترا کی آخری حد عذاب الہی ہے ، وہ لوگ جو اب تک اسلام کے پیغام صداقت شعار کا انکار کرتے چلے آرہے ہیں ‘ وہ متنبہ رہیں کہ ان کا مال و دولت انہیں ہرگز اللہ کی پکڑ سے نہ بچا سکے گا ، یہ خدا کا قانون ہے ‘ اس کی سنت ہے وہ نافرمانوں کو ہمیشہ سخت سزائیں دیتا رہا ہے ۔ دیکھ لو فرعون کس جاہ وحشم اور کس ٹھاٹھ سے رہتا تھا ، مگر ضرب موسوی کی تاب نہ لاسکا اور بنی اسرائیل کے سامنے دریا میں ڈوب گیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 9–11

ف 2۔ اے ہمارے پروردگار ! جب تو ہم کو ہدایت کرچکا اور تو نے ہم کو سیدھی راہ پر لگا دیا تو ہدایت کرنے کے بعد ہمارے قلوب کو کج نہ کر اور ہمارے دلوں کو زیع اور کجی میں مبتلا نہ کر اور ہم کو اپنے پاس سے خاص رحمت عطا کر یقینا تو بڑا فیاض اور بہت عطا کرنے والا ہے۔ اے ہمارے پروردگار ! یقینا تو سب لوگوں کو میدان حشر میں اس دن جمع کرنے والا ہے جس دن کے واقع ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کیا کرتا ۔ جو وعدہ کرتا ہے اس کو پورا کرتا ہے اور چونکہ قیامت کا اس نے وعدہ فرمایا ہے لہٰذا یہ ضرور پورا ہوگا ۔ مطلب یہ ہے کہ جب آپ نے اپنی کتاب نازل فرما کر اور اپنے رسول کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 11–12

ف 3۔ اوپر کفار کے مغلوب ہونے کی خبر دی گئی ہے آگے اس کی ایک کافی نظیر بطور دلیل کے ارشاد فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں قوم فرعون تھی اور آپ ﷺ کے مقابلہ میں اہل کتاب : 28: ” داب “ کے اصل معنی ہیں کہ کوشش اتنی کی کہ کوشش کر کر کے تھک گئے۔ یہاں مراد ہے ان کا کفر میں سخت زور لگانا اور پیغمبر اسلام ﷺ کے مقابلہ یا مخالفت میں ایک دوسرے کے مددگار بننا۔ جیسا کہ فرعون کے لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ یا مخالفت میں ایک دوسرے کے مددگار ہوئے تھے۔ پھر فرمایا کہ فرعون وران کے لوگوں نے بھی تو موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف وہی کچھ کیا تھا جو اس سے بھی پہلی قوموں کے لوگ اپنے اپنے نبی کے ساتھ کرتے آرہے تھے۔ ان سب نے کیا کیا تھا ؟ یہی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی تعلیم کو ٹھکرا دیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–11

Sequence The text now shifts from the verbal confrontation with disbelievers on the warnings about the coming physical encounter as pointed out in verse 12 - 'You shall soon be overcome (by Muslims) ' while the verses earlier (10 and 11) serve as the introduction.

Read the full tafseer →