Explained with ayahs 12–13
اولین معرکہ حق و باطل
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کافروں سے کہہ دیجئے کہ تم دنیا میں بھی ذلیل و مغلوب کئے جاؤ گے، ہارو گے، ماتحت بنو گے اور قیامت کے دن بھی ہانک کر جہنم میں جمع کئے جاؤ گے جو بدترین بچھونا ہے۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ جب بدر کی جنگ سے حضور ﷺ مظفر و منصور واپس ہوئے تو بنوقینقاع کے بازار میں یہودیوں کو جمع کیا اور فرمایا ! اس سے پہلے کہ قریش کی طرح تمہیں بھی ذلت و پستی دیکھنا پڑے اسلام قبول کرلو، تو اس سرکش جماعت نے جواب دیا کہ چند قریشیوں کو جو فنون جنگ سے ناآشنا تھے، آپ نے انہیں ہرا لیا اور دماغ میں غرور سما گیا، اگر ہم سے لڑائی ہوئی تو ہم بتادیں گے کہ لڑنے والے ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
سورة اٰلِ عِمْرٰن 9
اگرچہ حقیقی فرق سہ چند تھا، لیکن سرسری نگاہ سے دیکھنے والا بھی یہ محسوس کیے بغیر تو نہیں رہ سکتا تھا کہ کفار کا لشکر مسلمانوں سے دو گنا ہے۔
سورة اٰلِ عِمْرٰن 10
جنگ بدر کا واقعہ اس وقت قریبی زمانے ہی میں پیش آچکا تھا، اس لیے اس کے مشاہدات و نتائج کی طرف اشارہ کر کے لوگوں کو عبرت دلائی گئی ہے۔ اس جنگ میں تین باتیں نہایت سبق آموز تھیں
ایک یہ کہ مسلمان اور کفار جس شان سے ایک دوسرے کے بالمقابل آئے تھے، اس سے دونوں کا اخلاقی فرق صاف ظاہر ہو رہا تھا۔ ایک طرف کافروں کے لشکر میں شرابوں کے دور چل رہے تھے، ناچنے اور گانے والی لونڈیاں ساتھ آئی تھیں اور خوب داد عیش دی جارہی تھی۔ دوسری…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
قل للذین کفروا ستغلبون ممکن ہے کوئی اس آیت سے یہ شبہ کرے کہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار مغلوب ہوں گے، حالانکہ سب کفار دنیا کے مغلوب نہیں ہیں لیکن یہ شبہ اس لئے نہیں ہوسکتا کہ یہاں کفار سے مراد تمام دنیا بھر کے کفار نہیں ہیں، بلکہ اس وقت کے مشرکین اور یہود مراد ہیں، چناچہ مشرکین کو قتل و قید اور یہود کو قتل و قید کے ساتھ ساتھ جزیہ اور جلا وطنی کے ذریعہ مغلوب کیا گیا تھا۔
Read the full tafseer →منکرین قرآن کو عذاب کی دھمکی : اب یہ صاف صاف قرآن کے تمام منکرین کو دھمکی ہے کہ تم قرآن کے خلاف یہ سازشیں جو کر رہے ہو، کامیاب ہونے والی نہیں ہیں، تم قرآن کے حاملین کے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے اور تمہارے یہ اسباب و وسائل جن پر تمہیں بڑا ناز ہے اور تعداد کی یہ کثرت جس پر تمہیں بڑا بھروسا ہے، یہ چیزیں ذرا بھی کام آنے والی ثابت نہیں ہوں گی۔ تم دنیا میں بھی مغلوب ہوگے اور آخرت میں بھی جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور اس جہنم کو کوئی سہل چیز نہ خیال کرو، یہ نہایت برا ٹھکانا ہے۔ اس تنبیہ کی ضرور اس وجہ سے تھی کہ جو چیز انسان نے دیھی نہ ہو اول تو اس کا صحیح صحیح اندازہ ہی نہیں کر پاتا اور اگر کسی حد تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
12۔ 1 یہاں کافروں سے مراد یہودی ہیں۔ اور یہ پیش گوئی جلدی پوری ہوگئی۔ چناچہ بنو قینقاع اور بنو نفیر جلا وطن کئے گئے بنو قریظہ قتل کئے گئے پھر خیبر فتح ہوگیا اور تمام یہودیوں پر جزیہ عائد کردیا گیا (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
4: اس سے دنیا میں کافروں کے مغلوب ہونے کی پیش گوئی بھی مراد ہوسکتی ہے، اور آخرت میں مغلوب ہونے کی بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ
” ان کا انجام ایسا ہی ہوگا جیسا کہ فرعون کے ساتھیوں کا اور اس کے پہلے کے نافرمانوں کا ہوچکا ہے ۔ کہ انہوں نے آیات الٰہی کو جھٹلایا تو اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑلیا ‘ اور حق یہ ہے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے ۔ “
یہ ایک ایسی مثال ہے جو تاریخ میں بارہا دہرائی گئی ہے ۔ اور اس کے کئی قصے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بڑی تفصیلات کے ساتھ بیان کئے ہیں ۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کے بارے میں اللہ کی سنت ان قصوں میں پائی جاتی ہے ۔ جہاں اللہ چاہے ‘ اپنی اس…
Read the full tafseer →6 یعنی وقت آگیا ہے کہ تم سب کیا یہود، کیا نصاریٰ اور کیا مشرکین عنقریب خدائی لشکر کے سامنے مغلوب ہو کر ہتھیار ڈالو گے، یہ تو دنیا کی ذلت ہوئی اور آخرت میں جو گرم مکان تیار ہے وہ الگ رہا بعض روایات میں ہے کہ " بدر " سے فاتحانہ واپسی کے بعد حضور ﷺ نے یہود کو فرمایا کہ تم حق کو قبول کرلو، ورنہ جو حال قریش کا ہوا، تمہارا ہوگا۔ کہنے لگے۔ اے محمد ﷺ اس دھوکہ میں نہ رہیئے کہ تم نے قریش کے چند ناتجربہ کاروں پر فتح حاصل کرلی۔ ہم سے مقابلہ ہوا تو پتہ لگ جائے گا کہ ہم (جنگ آزمودہ سپاہی اور بہادر) آدمی ہیں اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ بعض کہتے ہیں کہ " بدر " کی فتح دیکھ کر " یہود " کچھ تصدیق کی طرف مائل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
آیت 11 کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ لا والَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط
تمہاری تو حیثیت ہی کیا ہے ! کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ آل فرعون کا معاملہ یاد کرو ‘ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا ؟ فرعون بہت بڑا شہنشاہ اور بڑے لاؤ لشکر والا تھا ‘ لیکن اس کا کیا حال ہوا ؟ اور اس سے پہلے عاد وثمود جیسی زبردست قومیں اسی جزیرہ نمائے عرب میں رہی ہیں۔
Read the full tafseer →13 اس آیت میں اگرچہ روئے خطاب سب قسم کے کافروں سے ہے تاہم یہود مدینہ بالخصوص اس آیت کے مخاطب ہیں۔ ہوا یہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر میں مسلمانوں کو فتح عظیم عطا فرمائی اور اس سے متاثر ہو کر عبداللہ بن ابی (رئیس منافقین) نے اپنے ساتھیوں سمیت اسلام قبول کرلیا تو رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے درمیان بسنے والے یہود بنو قینقاع کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اے یہود ! اسلام قبول کرلو تو عافیت میں رہو گے ورنہ تمہارا بھی وہی حشر ہوگا جو مشرکین مکہ کا ہوا ہے لیکن وہ بجائے نصیحت قبول کرنے کے شیخی میں آگئے کہنے لگے کہ مکہ کے کافر تو جاہل اور فنون جنگ سے ناآشنا تھے جو پٹ گئے، ہم سے سابقہ پڑا تو سمجھ آجائے گی۔…
Read the full tafseer →28 ۔ (آیت) ” تحشرون الی جھنم “ کا تعلق تو ظاہر ہے کہ آخرت ہی سے ہے۔ سوال آیت کے وعید اول (آیت) ” ستغلبون “ سے متعلق ہے کہ دشمنان دین کی اس مغلوبیت ومقہوریت کا تحقق کہاں ہوگا ؟ آخرت میں تو خیرہوہی گا لیکن آیا اس کے قبل اہل حق کے ہاتھوں میں اس دنیا میں بھی ؟ اہل تفسیر نے بالاتفاق اس کا جواب اثبات میں دیا ہے اور تصریح کی ہے کہ اس کا وقوع عنقریب اس دنیا میں ہوگا۔ چناچہ ہوا (آیت) ” ان الذین کفروا “۔ باقی یہ کہ اس سے کافروں کا کون ساگروہ متعین طور پر مراد ہے بعض نے پیشگوئی کا مصداق بدر میں حکومت مکہ کی ہزیمت کو ٹھہرایا ہے۔ المراد مشرکی مکۃ (معالم عن مقاتل) قل لمشر کی مکۃ ستغلبون یعنی یوم بدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
تفسیر و تشریح
قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا (الآیۃ) ممکن ہے کہ کوئی اس آیت میں یہ شبہ کرے کہ آیت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ کفار مغلوب ہوں گے، حالانکہ دنیا کے سب کفار مغلوب نہیں ہیں لیکن یہ سبہ اس لیے نہیں ہوسکتا کہ یہاں کفار سے تمام دنیا کے کفار مراد نہیں ہیں بلکہ اس وقت کے مشرکین اور یہود مراد ہیں، چناچہ مشرکین کو قتل و قید اور یہود کو قتل و قید اور جزیہ اور جلاوطنی کے ذریعہ مغلوب کردیا گیا تھا، چناچہ بنو قینقاع اور بنو نضیر جلاوطن کئے گئے، بنو قریظہ قتل کئے گئے اور فتح خیبر کے بعد تمام یہودیوں پر جزیہ عائد کردیا گیا
Read the full tafseer →قُلْ لِّـلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : کافروں سے یعنی ان یہودیوں سے کہہ دو کہ۔
سَـتُغْلَبُوْنَ : عنقریب تم مغلوب ہو گے اپنی یہ پشین گوئی اللہ نے پوری کردکھائی بنی قریظہ کو قتل اور بنی نضیرکودیس بدر کیا گیا خیبر فتح ہوا اور وہاں کے یہودیوں پر جزیہ مقرر کیا گیا۔
مقاتل نے بیان کیا کہ ان آیات کا نزول بدر کے واقعہ سے پہلے ہوا تھا اور الذین کفروا سے مشرکین مکہ مراد ہیں یعنی مکہ کے کافروں سے کہہ دو کہ تم بدر کے دن مغلوب ہو گے چناچہ اس آیت کے نزول کے بعدرسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن ان سے فرمایا کہ اللہ تم پر غالب آگیا اور تم کو ہنکا کر جہنم کی طرف لے گیا۔
کلبی نے بروایت ابو صالح حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے…
Read the full tafseer →(12) اے محمد ﷺ آپ ان کفار مکہ سے یہ بھی فرما دیجیے کہ تم دنیا میں بھی بدر کے دن مارے جاؤ گے اور پھر قیامت کے روز جہنم میں جمع کیے جاؤ گے، وہ بہت بدترین ٹھکانہ ہے۔
شان نزول : (آیت) ”قل للذین کفروا (الخ)
امام ابوداؤد ؒ نے اپنی سنن میں اور بیہقی ؒ نے دلائل میں بواسطہ ابن اسحاق محمد بن ابی سعید ؒ یا عکرمہ ؒ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا اہل بدر سے جو واقعہ پیش آیا، اس کے بعد جب آپ مدینہ منور لوٹ کر تشریف لائے تو آپ بازار بنی قینقاع میں تشریف لے گئے جو یہودیوں کا اجتماع کا مرکز تھا اور ان سے فرمایا اے گروہ یہود ایمان لے آؤ، قبل اس کے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بھی وہ معاملہ کرے…
Read the full tafseer →قُلْ لِّـلَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔۔ : یہاں کافروں سے مراد یہودی ہیں، اس آیت کے نزول کے بعد بنو قریظہ کے قتل، بنو نضیر کے جلاوطن اور خیبر کے فتح ہوجانے سے قرآن کی یہ پیشین گوئی بحمد اللہ حرف بحرف سچ ثابت ہوئی۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →آیت نمبر : 12۔
کفروا “۔ سے مراد یہودی ہیں، محمد بن اسحاق (رح) نے بیان کیا ہے : جب رسول اللہ ﷺ نے میدان بدر میں قریش کو شکست سے دو چار کیا (اور فتح و کامرانی کے ساتھ) مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو جمع کیا اور فرمایا : ” اے گروہ یہود ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اس کی مثل عذاب سے جو اس نے بدر کے دن قریش پر نازل کیا قبل اس کے کہ وہ تم پر بھی وہی نازل کرے جو ان پر نازل کیا، تحقیق تم جانتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجا ہوا نبی ہوں تم اسے اپنی کتاب میں بھی پاتے ہو اور اللہ تعالیٰ نے تم سے عہد بھی لے رکھا ہے۔ “ تو انہوں نے کہا : اے محمد ﷺ تجھے یہ بات دھوکہ نہ دے کہ تو نے ان لوگوں کو قتل…
Read the full tafseer →(1) ابن اسحاق ابن جریر اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب بدر میں جو کچھ (فتح) پہنچی اور مدینہ منورہ واپس لوٹے تو آپ ﷺ نے یہود کو بنو قینقاع کے بازار میں جمع کیا اور فرمایا اے یہود کے گروہ ! اسلام لے آؤ پہلے اس کے کہ تم کو وہ مصیبت پہنچ جائے جو قریش کو پہنچی تو انہوں نے کہا اے محمد ! اپنے میں غرور نہ کر اگر تو نے قریش میں سے کچھ لوگوں کو قتل کیا ہے تو وہ ناتجربہ کار تھے وہ لڑنا نہیں جانتے تھے اللہ کی قسم ! اگر آپ نے ہم سے قتال کیا تو آپ پہچان لیں گے کہ ہم (کیسے جنگجو) لوگ ہیں اور ہم جیسے (بہادر) لوگوں سے آپ کا واسطہ نہیں پڑا اس پر اللہ تعالیٰ نے اتارا…
Read the full tafseer →[قُلْ : آپ ‘ کہہ دیجیے ] [لِّلَّذِیْنَ : ان لوگوں سے جنہوں نے ] [کَفَرُوْا : کفر کیا ] [سَتُغْلَبُوْنَ : تم لوگ مغلوب ہو گے ] [وَتُحْشَرُوْنَ : اور تم لوگ اکٹھا کیا جائوگے ] [اِلٰی جَہَنَّمَ : جہنم کی طرف ] [وَبِئْسَ الْمِہَادُ : اور کتنا برا ٹھکانہ ہے (وہ) ]
Read the full tafseer →یہودیوں کو نصیحت کہ واقعہ بدر سے عبرت لیں
روح المعانی میں صفحہ 94: ج 3 بحوالہ بیہقی وغیرہ حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو بدر میں فتحیابی ہوئی تو آپ نے بدر سے واپس ہو کر یہودیوں کو بنی قینقاع کے بازار میں جمع فرمایا اور فرمایا اے یہودیو ! اسلام قبول کرو اس سے پہلے کہ تم کو بھی وہی مصیبت پہنچ جائے جو قریش کو پہنچی، یہ سن کر یہودیوں نے کہا کہ اے محمد ﷺ ! تم اس دھوکے میں نہ رہو کہ تم نے قریش کے چند ایسے افراد کو قتل کردیا جو اناڑی ناتجربہ کار تھے جنگ کرنا نہیں جانتے تھے، تم یہ خیال نہ کرو کہ ہمارے مقابلہ میں بھی کامیاب ہوجاؤ گے۔ خدا کی قسم ! اگر تم نے ہم سے جنگ کی تو تمہیں پتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
مال واولاد کے نشہ میں حق سے استغنا پر وعید اور تہدید۔
قال تعالی، ان الذین کفروا لن تغنی عنھم۔۔۔ الی۔۔۔ الابصار۔
ربط) ۔ یہ آیتیں بھی نصارائے نجران کے بارے میں نازل ہوئیں دلائل اور براہین سے حق ان پر واضح ہوچکا تھا مگر مال و دولت کے غرور اور نشہ نے ان کو قبول حق اور قبول ہدایت سے باز رکھا اس لیے ان ارباب غرور کی وعید اور تہدید کے لیے یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آخرت میں مال اور اولاد کچھ کام نہیں آئیں گے اور پھر یہ ارشاد فرمایا کہ اب ان کافروں سے یہ کہہ دیں کہ یہ لوگ عنقریب دنیا میں مسلمانوں کے ہاتھ سے مغلوب ہوں گے اور قیامت کے دن جہنم میں ڈال دیے جائیں گے اور پھر واقعہ بدر کو ان کی عبرت کے لیے ذکر…
Read the full tafseer →17 یہ تخویف دنیوی کا ایک نمونہ ہے۔ اس میں کفار کی مغضوبیت اور ان کا مستحق عذاب ہونا بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ربط آیات : پہلی آیت میں قیامت کا ذکر تھا۔ اس سے پہلے اللہ نے نصارٰ کی تردید فرمائی اور ان کے باطل عقیدے کا رد فرمایا ، توحید کا مسئلہ بیان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی صفات الوہیت کا ذکر کیا اور جن متشابہ لفظوں سے یہود و نصاری استدلال کرتے تھے ، اس کا جواب دیا۔ اب اس آیت میں کفار کے متعلق فرمایا کہ کوئی چیز انہیں خدا کی گرفت سے نہیں بچا سکتی ، حتی کہ ان کے مال و اولاد بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ اس کے بعد جنگ بدر سے متعلق یہود مدینہ کی زبان درازی کا ذکر ہے۔ کہتے تھے کہ اہل مکہ ناتجربہ کار تھے۔ جو مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے ، وگرنہ ہم جیسے آزمودہ کار لوگوں سے واسطہ پڑتا ، تو مسلمانوں کو پتہ…
Read the full tafseer →قُلْ لِّـلَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَـتُغْلَبُوْنَ وَتُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَہَنَّمَ 0 ۭ وَبِئْسَ الْمِہَادُ 12
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا…
Read the full tafseer →ترکیب : آیۃ اسم کان لکم خبر ‘ فی فئتین موصوف التقتا صفت مجموعہ صفت ہے آیۃ کی اور ممکن ہے فی فئتین خبر ہو اور لکم کان سے
متعلق ہو فئۃ موصوف تقاتل فی سبیل اللّٰہ صفت مجموعہ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای احد ہا فئۃ الخ واخری لغت ہے مبتداء محذوف کی ای وفئۃ اخری۔ کافرۃ خبر یرونہم اس کا فاعل المسلمون وقیل الکفار مثلیہم ای مثل مسلمین او مثل عسکرھم مفعول ثانی رای العین مفعول مطلق یہ جملہ محل نسب میں ہے کیونکہ صفت ہے فئتین کی۔
تفسیر : نیک اور بد بندوں کی سیرت بیان فرما کر اس مقام سے کچھ حال بدوں کا بیان فرماتا ہے جنہوں نے نہ صرف یہی ایک جرم کیا تھا کہ آیات اللہ کی تکذیب کی تھی بلکہ نیک بندوں کے ساتھ طرح…
Read the full tafseer →قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰی جَہَنَّمَط وَبِئْسَ الْمِہَادُ ۔
(اے پیغمبر ! کہہ دیجیے، ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا ہے کہ قریب ہے وہ وقت کہ تم مغلوب ہوجاؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ جہنم بہت ہی برا ٹھکانہ ہے) (12)
یہود کو وارننگ
لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا سے یوں تو ہر طرح کے کافر مراد ہیں ‘ لیکن یہاں معلوم ہوتا ہے خطاب بطور خاص یہود سے ہے۔ اوس و خزرج کے تمام لوگ ان آیات کے نزول تک ‘ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ لیکن اکثریت چونکہ مسلمان ہوچکی تھی اس لیے ان کی طرف سے کسی بڑی رکاوٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ان میں جو منافقین تھے وہ اسلام اور مسلمانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
فہم القرآن
ربط کلام : حق سے انحراف اور قوموں کی تباہی میں دنیا پرستی کا عنصر ہمیشہ غالب رہا ہے اس لیے اس کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔
ہدایت کے راستے میں جو چیزیں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہیں۔ ان میں سر فہرست عورت، بیٹے، سونا، چاندی، سواری، مال، مویشی اور کھیتی باڑی ہے۔ ہر انسان ان میں سے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ ضرورت سے زیادہ محبت کرتا ہے اور یہی چیز راہ ہدایت میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ خواہشات کے میدان میں عام طور پر سب سے پہلی خواہش عورت کے ساتھ مرد کی وابستگی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بطور آزمائش آدمی کے دل میں ان چیزوں کی محبت اور رغبت پیدا فرمائی ہے تاکہ دنیا کا نظام چلتا رہے۔ اگر عورت…
Read the full tafseer →12: قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَتُحْشَرُوْنَ اِلٰی جَھَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِہَادُ ۔ قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا (آپ کفار کو کہہ دیں) کفار سے مراد یہاں مشرکین مکہ ہیں۔ سَتُغْلَبُوْنَ (عنقریب تم مغلوب ہوگے) یعنی بدر کے دن۔ وَتُحْشَرُوْنَ اِلٰی جَھَنَّمَ ( اور تم کو جہنم کی طرف جمع کیا جائے گا) یعنی گہرے کنوئیں سے جہنم کی طرف اکٹھا کریں گے۔
قراءت : حمزہ و علی نے تُحْشَرُوْنَ کو یاء سے یُحْشَرُوْنَ پڑھا ہے۔
اس طرح ستغلبون کو سیغلبون۔ وَبِئْسَ الْمِہَادُ (اور وہ بدترین ٹھکانہ ہے) مھاد مستقر کو کہتے ہیں اور وہ جہنم ہے۔
Read the full tafseer →(تفسیر) 12۔:
(قل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جھنم کہہ دیں ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا عنقریب تم مغلوب کیے جاؤ گے اور جہنم کی طرف جمع کر کے لے جاؤ گے) حمزہ (رح) اور کسائی (رح) نے ” ستغلبون “ اور ” تحشرون “ کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے ، ” یغلبون ویحشرون “۔ اور دوسرے حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے خطاب کے صیغہ کے ساتھ ، مطلب یہ ہوگا کہ تم ان کو کہہ دو کہ تم عنقریب مغلوب کیے جاؤ گے اور جمع کیے جاؤ گے۔
(آیات کا شان نزول)
مقاتل کے نزدیک یہ کفار مشرکین کے بارے میں ہے، آیت کا معنی ہوگا کہ آپ مکہ کے کفار سے کہہ دیں کہ عنقریب تم بدر کے میدان میں مغلوب کیے جاؤ گے اور تمہیں جمع کیا جائے گا قیامت کے دن جہنم میں، جب یہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(12 ۔ 13) ۔ ابو داؤد اور بیہقی اور تفسیر ابن منذر بن بسند میں معتبر عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب قریش کو مسلمانوں کے ہاتھ سے جنگ بدر میں صدمہ پہنچا جس کا قصہ سورة انفال میں آئے گا تو اس پر یہود نے آنحضرت ﷺ سے ذکر کیا کہ قریش اناڑی اور لڑائی سے ناواقف تھے جس دن آپ سے اور ہم لوگوں سے لڑائی ہوگی اس دن قدر کھل جائے گی کہ لڑائی ایسی ہوتی ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کا کلام سچا ہے۔ آخر کو وہ یہ ہوا جو اس آیت میں تھا کہ ان یہودیوں میں سے بنی قریظہ قتل ہوئے اور بنی نضیر نکالے گئے باقی یہود پر وہ سالانہ خراج قائم ہوگیا جس کو جزیہ کہتے ہیں اور پھر یہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
آیت 10-13
اللہ تعالیٰ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرنے والے، اس کے دین اور اس کی کتاب کا انکار کرنے والے، اپنے کفر اور گناہوں کی وجہ سے سزا اور سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ وہاں انہیں اپنے مالوں اور اولادوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اگرچہ دنیا میں وہ آنے والی مصیبتوں کا ان کے ذریعہ سے مقابلہ کرلیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے (نحن اکثر اھوالا واولادا وما نحن بمعذبین) (سبا :35/37) ” ہمارے مال اور ہماری اولاد میں زیادہ ہیں ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔ “ قیامت کے دن انہیں ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کی انہیں بالکل توقع نہ ہوگی۔ (ویدالھم سیات ماکسبوا وحاق بھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
کفار کے مغلوب ہونے کی پیش گوئی۔
قول باری ہے۔ (قل للذین کفرواستغلبون وتحشرون الی جھنم، آپ کافروں سے کہہ دیجئے کہ تم عنقریب مغلوب کرلیئے جاؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤگے) حضرت ابن عباس قتادہ اور ابن اسحاق سے مروی ہے کہ جب بدر کے معرکے میں قریش پر تباہی آئی تو حضور ﷺ نے سوق قینقاع میں یہود کو جمع کرکے انہیں اسلام کی دعوت دی اور انکار کی صورت میں انہیں اس انتقام خداوندی سے ڈرایاجس کا ظہور قریش پر ہوچکا تھا۔ یہودنے اسلام لانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ قریش کی طرح نہیں ہیں۔ وہ توناتجربہ کار اوربدھوقسم کے لوگ تھے انہیں جنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا اگر ہم سے پنچہ آزمائی کرو گے تو تمہیں معلوم ہوجائے…
Read the full tafseer →22 کفر و انکار کا نتیجہ ذلت و رسوائی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کافروں سے کہہ دو کہ تم لوگوں کو عنقریب مغلوب ہونا پڑے گا جیسا کہ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد مشرکین مکہ کا حال بدر و اَحزاب وغیرہ کے معرکوں میں ہوا۔ اور جیسا کہ قبائل یہود بنو قینقاع، بنو نضیر، اور بنو قریظہ کا حال مدینہ طیبہ میں ہوا کہ ان کو قتل، قید، اور جلاوطنی وغیرہ کی ذلتیں اپنے ہاتھوں کی کمائی کی بناء پر اٹھانا پڑیں، اور پھر فتح مکہ اور فتح خیبر کے بعد ان سب کی ایسی تذلیل ہوئی کہ ارض حر میں کو ان کے وجود اور ان کے کفر سے ہمیشہ کیلئے پاک و صاف کردیا گیا۔ اور اس کے بعد بھی جب کبھی ایسے کھلے کفر کا مقابلہ سچے اہل ایمان سے ہوا تو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
کفارو مشرکین کو تنبیہ
تشریح : ان آیات میں مشرکین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ جس طرح فرعون اور اس سے پہلی قوموں کو اپنے برے اعمال کی سزا دی گئی تھی تمہیں ان سے عبرت حاصل کرنی چاہئے۔ فرعون اور اس سے پہلی قوموں کا ذکر سورة بقرہ میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ ان آیات میں ایک تو عبرت حاصل کرنے کا سبق دیا گیا ہے اور دوسرے کفار و مشرکین کو خبردار کیا گیا ہے۔ ایسے کفاربہت جلد مغلوب ہوں گے۔ اہل اسلام سے شکست کھائیں گے دنیا میں سزا پانے کے بعد آخرت میں جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ اگلی آیت میں جنگ بدر کی مثال دی جارہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
آیات 10- 20
اسرارو معارف
ان الذین کفروا………………وبئس المھاد۔
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا۔ ان کے مال اور اولاد اللہ کے مقابل ذرہ برابر کام نہ آئیں گے یا وہ یہ سمجھ رکھیں کہ ان کے پاس دولت ہے اولاد ہے تو شاید عنداللہ وہ مقبول ہیں اور یہ اللہ کی خوشنودی کی دلیل ہے ہرگز نہیں ! یہ ایک نظام ہے اللہ کا مقرر کردہ جو چل رہا ہے ہاں ! اللہ کی رضامندی کی دلیل دین ہے۔ اگر دین قبول نہ کیا تو مالدار ہوں یا صاحب اولاد ہوں ، دوزخ کا ایندھن ہیں بلکہ ترجمہ تو یوں ہے کہ یہی لوگ دوزخ کا ایندھن ہیں۔ ان کا رویہ تو آل فرعون جیسا ہے یا ان سے پہلے گزرنے والے کافروں جیسا کہ دولت اور ریاست کے لالچ میں حق کو قبول نہ کیا اور…
Read the full tafseer →ف 1 عاصم بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب آنحضرت ﷺ عزوہ بدر سے واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے یہود کو سوق بنی قینقاع میں جمع کر کے فرمایا۔ اے گروہ یہود تم مسلمان ہوجاؤ اس سے قبل کہ تمہا را بھی وہی حشر ہو جو قریش بدر میں ہوا ہے۔ وہ بولے محمد ﷺ ! تم اس گھمنڈ میں نہ رہو کہ تم نے قریش کے ایک ناتجربہ کار گروہ کو جو لڑنا نہیں جانتا تھا۔ مار ڈالا ہے۔ جب تمہارا ہم سے مقابلہ ہوگا تو معلوم ہوجائے گا اصل آدمی یعنی ماہرین جنگ تو ہم ہیں جن کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ اور اس سے اگلی آیت نازل فرمائی۔ (ابن کثیر) اس کے نزول کے بعد بنو قریظہ کے قتل۔ بنی نضیر کے جلا وطن اور خیبر کے فتح ہوجانے سے قرآن کی…
Read the full tafseer →(3:12) تحشرون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر الحشر (باب نصر) کے معنی لوگوں کو ان کے ٹھکانے سے مجبور کرکے نکال کر لڑائی وغیرہ کی طرف لے جانے کے ہیں۔ چناچہ ایک روایت میں ہے کہ النساء لا یحشرون عورتوں کو جنگ کے لئے نہ نکالا جائے۔ تم جمع کئے جاؤ گے۔
المھاد۔ اسم۔ بچھونا۔ مراد ٹھکانہ۔ قرارگاہ۔ مھد گہوارہ۔ زمین۔ مھود۔ جمع
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 13
لن تغنی (ہرگز کام نہ آئے گا) وقود (ایندھن) داب (طریقہ، دستور) اٰل (اولاد۔ کسی کو مان کر اس کے پیچھے چلنے والے)
ستغلبون (عنقریب تم مغلوب کئے جاؤ گے) تحشرون (تم جمع کئے جاؤ گے) فئتین (دوجماعتیں (فئة۔ جماعت) (التقتا (آپس میں
دونوں مقابل ہوئے) اخرٰی (دوسری) یرون (وہ دیکھتے ہیں) مثلیھم (اپنے سے دوگنے (مثلی اصل میں مثلین تھا نون گر گیا) رای العین ( دیکھنے والی آنکھ) عبرۃ (نصیحت ، سبق) اولی الابصار (آنکھوں والے (اولو، والا ابصار، بصر) آنکھیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 10 تا 13
نخران سے عیسائیوں کا جو وفد نبی کریم ﷺ سے مذہبی بحث ومناظرہ کے لئے آیا ہوا تھا خطاب ان ہی سے ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
دنیا سے نفرت اور آخرت کی ترغیب کا ذکر
شان نزول : ابو داؤد اور بیہقی اور تفسیر ابن منذر میں بسند معتبر حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب قریش کو مسلمانوں کے ہاتھ سے جنگ بدر میں صدمہ پہنچا جس کا قصہ سورة انفال میں آوے گا تو اس پر یہود نے آنحضرت سے ذکر کیا کہ قریش اناڑی اور لڑائی سے ناواقف تھے، جس دن آپ سے ہم لوگوں کی لڑائی ہوگئی اس دن قدر کھل جائے گی کہ لڑائی ایسی ہوتی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :” اللہ سچا ہے اور اللہ کا کلام سچا ہے “۔ آخر کو وہی ہوا جو اس آیت میں لکھا تھا اللہ ہمیشہ حق کا مدد گار ہے۔ اس لئے اللہ کی مدد اہل اسلام کو باوجود قلت لشکر اور قلت سامان جنگ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
[3] یعنی وہ آیتیں جن کا مفہوم واضح ہو اور ان کے معافی میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
[4] یعنی وہ آیتیں جن کے مفہوم میں اشتباہ کی گنجائش ہے اور جن کے کئی معنی نکل سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →ایمان کی فتح اور کفر کی شکست :
(ف 2) (آیت) ” قل للذین کفروا ستغلبون “ میں یہود کو مخاطب کرکے فرمایا گیا کہ تم عنقریب مسلمانوں کے غلبہ واقتدار کے قائل ہو جاؤگے ، تمہیں تمہاری بستیوں سے نکال دیا جائے گا اور تمہارے باغات ویران کر دئے جائیں گے ، یہ اس لئے یہود کو اپنے مال و دولت پر بہت نازل تھا اور وہ قوت و عظمت کے نشہ میں سرشار تھے ، ضرورت تھی کہ انہیں خواب غفلت سے بیدار کیا جائے ، ضمنا اس آیت میں کفر کی دائمی مغلوبیت کی طرف اشارہ کردیا ، یعنی علو واقتدار ‘ بلندی وقوت صرف ایمان کے حصہ میں آئی ہے ، کفر ہمیشہ ہمیشہ پست اور ذلیل رہے گا ، چناچہ ان کے سامنے بدر کا نقشہ رکھا ۔ مسلمان کل تین سوتیرہ…
Read the full tafseer →ف 3۔ بلا شبہ جن لوگوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کر رکھی ہے ان کو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں نہ ان کے مال کچھ کام آئیں گے اور نہ ان کی اولاد اور ایسے ہی لوگ جہنم کا ایندھن ہوں گے ان لوگوں کا حال اور ان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ۔ جیسا فرعون والوں کا اور ان کا جو آل فرعون سے پہلے ہو گزرے ہیں کہ انہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ، چناچہ اس تکذیب کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا اور اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔
اے پیغمبر ﷺ ! جن لوگوں نے دین حق کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم لوگ بہت جلد مغلوب کئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ف 3۔ اوپر کفار کے مغلوب ہونے کی خبر دی گئی ہے آگے اس کی ایک کافی نظیر بطور دلیل کے ارشاد فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →مخالفین کو للکارا جارہا ہے کہ اپنا پورا زور لگا لو :
30: كها جاتا ہے کہ ” جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے “ للکارتا کون ہے ؟ جس میں پوری طاقت و قوت ہوتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ “ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں “ اس جگہ اعلان اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا جارہا ہے اور حکم الٰہی ہو رہا ہے کہ ان کفر کی روش اختیار کرنے والوں کو بتاؤ کہ خوب کان کھول کر سن لو کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم مغلوب کردیے جاؤ گے اور تمہارا یہ زور اس طرح بیٹھ جائے گا جس طرح پانی کا جھاگ کہ پانی کا زور ختم ہوا اور جھاگ کا نشان تک باقی نہ رہا ، گویا اس طرح ان پر یہ بات واضح کی جاتی رہی ہے کہ اس دنیا میں بھی تمہارا زور اب زیادہ…
Read the full tafseer →Commentary
Some readers of verse 12: قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ just cited, above may have some doubt about disbelievers being overcome because this is not the case with all disbelievers of the world. But, this doubt is unfounded as the disbelievers referred to here are the disbelievers and Jews of that particular time - from among whom, the pagans were overcome when killed or taken prisoners, and the Jews were overcome through killing or imprisonment as well as through Jizya and extradition. Therefore, this 'overcoming' of disbelievers mentioned in the verse simply does not…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
8. For explanation see Surah 2, n. 161 above.
Read the full tafseer →