Aal-i-Imraan 3:13

Aal-i-Imraan · from ayah 13

3:13

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا ؕ— فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰی كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ؕ— وَاللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ؕ— اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ ۟قَدۡ كَانَ لَـكُمۡ اٰيَةٌ فِىۡ فِئَتَيۡنِ الۡتَقَتَا ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَاُخۡرٰى كَافِرَةٌ يَّرَوۡنَهُمۡ مِّثۡلَيۡهِمۡ رَاۡىَ الۡعَيۡنِ‌ؕ وَاللّٰهُ يُؤَيِّدُ بِنَصۡرِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ  ‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَعِبۡرَةً لِّاُولِى الۡاَبۡصَارِ

تمہارے لیے دو گروہوں میں جو (جنگ بدر کے دن) آپس میں بھڑ گئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی تھی ایک گروہ (مسلمانوں کا تھا وہ) خدا کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ (کافروں کا تھا وہ) ان کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا مشاہدہ کر رہا تھا اور خدا اپنی نصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے جو اہل بصارت ہیں ان کے لیے اس (واقعے) میں بڑی عبرت ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Already there has been for you a sign in the two armies which met - one fighting in the cause of Allah and another of disbelievers. They saw them [to be] twice their [own] number by [their] eyesight. But Allah supports with His victory whom He wills. Indeed in that is a lesson for those of vision.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 2 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:13

تمہارے لیے اُن دو گروہوں میں ایک نشان عبرت تھا، جو (بدر میں) ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافر تھا دیکھنے والے بچشم سر دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دو چند ہے مگر (نتیجے نے ثابت کر دیا کہ) اللہ اپنی فتح و نصرت سے جس کو چاہتا ہے، مدد دیتا ہے دیدۂ بینا رکھنے والوں کے لیے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تمہارے لیے دو گروہوں میں جو (جنگ بدر کے دن) آپس میں بھڑ گئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی تھی ایک گروہ (مسلمانوں کا تھا وہ) خدا کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ (کافروں کا تھا وہ) ان کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا مشاہدہ کر رہا تھا اور خدا اپنی نصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے جو اہل بصارت ہیں ان کے لیے اس (واقعے) میں بڑی عبرت ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً تمہارے لئے عبرت کی نشانی تھی ان دو جماعتوں میں جو گتھ گئی تھیں، ایک جماعت تو اللہ تعالیٰ کی راه میں لڑ رہی تھی اور دوسرا گروه کافروں کا تھا وه انہیں اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا دیکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی مدد سے قوی کرتا ہے۔ یقیناً اس میں آنکھوں والوں کے لئے بڑی عبرت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تمہارے لیے ان دو گروہوں (کے واقعے) میں بڑی نشانی ہے جو ایک دوسرے سے ٹکرائے تھے۔ ان میں سے ایک گروہ اللہ کے راستے میں لڑ رہا تھا، اور دوسرا کافروں کا گروہ تھا جو اپنے آپ کو کھلی آنکھوں ان سے کئی گنا زیادہ دیکھ رہا تھا۔ اور اللہ جس کی چاہتا ہے اپنی مدد سے تائید کرتا ہے۔ بیشک اس واقعے میں آنکھوں والوں کے لیے عبرت کا بڑا سامان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک تمہارے لئے نشانی تھی دو گروہوں میں جو آپس میں بھڑ پڑے ایک جتھا اللہ کی راہ میں لڑتا اور دوسرا کافر کہ انہیں آنکھوں دیکھا اپنے سے دونا سمجھیں، اور اللہ اپنی مدد سے زور دیتا ہے جسے چاہتا ہے بیشک اس میں عقلمندوں کے لئے ضرور دیکھ کر سیکھنا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک تمہارے لئے ان دو جماعتوں میں ایک نشانی ہے (جو میدانِ بدر میں) آپس میں مقابل ہوئیں، ایک جماعت نے اﷲ کی راہ میں جنگ کی اور دوسری کافر تھی وہ انہیں (اپنی) آنکھوں سے اپنے سے دوگنا دیکھ رہے تھے، اور اﷲ اپنی مدد کے ذریعے جسے چاہتا ہے تقویت دیتا ہے، یقینا اس واقعہ میں آنکھ والوں کے لئے (بڑی) عبرت ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا تمہارے لیے ان دو جماعتوں میں ایک نشانی تھی جو ایک دوسرے کے مقابلے میں آئیں، ایک جماعت اللہ کے راستے میں لڑتی تھی اور دوسری کافر تھی، یہ ان کو آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اپنے سے دو گنا دیکھ رہے تھے اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنی مدد کے ساتھ قوت بخشتا ہے، بلاشبہ اس میں آنکھوں والوں کے لیے یقینا بڑی عبرت ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تمہارے لیے ان دو گروہوں میں نشان عبرت ہے جو (بدر میں) ایک دوسرے کے مقابلہ پر اترے۔ ان میں سے ایک گروہ تو اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافر تھا جو ظاہری آنکھوں سے مسلمانوں کو اپنے سے دو چند دیکھ رہا تھا۔ مگر اللہ تو اپنی مدد سے اس کی تائید کرتا ہے جس کی وہ چاہتا ہے۔ اس واقعہ میں بھی صاحب نظر لوگوں کے لیے سامان عبرت ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جن دو گروہوں میں مڈبھیڑ ہوئی ان کی سرگزشت میں تمہارے لیے نشانی ہے۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا، دوسرا کافر تھا، یہ ان کو کھلم کھلا ان سے دوگنے دیکھتے تھے اور اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی تائید سے مدد فرماتا ہے۔ اس میں آنکھیں رکھنے والوں کے لیے بصیرت ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ بیشک تمہارے لئے (حق و باطل کی پہچان کے لئے) بڑی نشانی تھی ان دو گروہوں (کی مڈ بھیڑ) میں، جن کا (بدر کے مقام پر) باہم مقابلہ ہوا جن میں سے ایک گروہ تو اللہ کی راہ میں (اور اس کی رضا کے لئے) لڑ رہا تھا، اور دوسرا گروہ جو کہ کافروں کا تھا، وہ (عین معرکہ کے وقت) مسلمانوں کو اپنے سے دوگنا دیکھ رہا تھا آنکھوں کے اعتبار سے اور اللہ تائید فرماتا اپنی مدد سے (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی بناء پر) جس کو چاہتا ہے، بیشک اس میں بڑا سامان عبرت ہے چشم بینا رکھنے والوں کے لئے۔

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک تمہارے لئے ایک نشانی (ان) دو گروہوں میں ہے جو باہم مقابل ہوئے ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑرہا تھا اور دوسرا کافر۔ یہ اپنے کو کھلی آنکھوں دیکھ رہے تھے ان سے (یعنی مسلمانوں سے) کئی گنا۔ اللہ اپنی نصرت سے جس کی چاہتا ہے مدد کردیتا ہے۔ بیشک اس (واقعہ) میں اہل بصیرت کے لیے (بڑا) سبق ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تمہارے لیے ایک نشانی آچکی ہے ان دو گروہوں میں جنہوں نے آپس میں جنگ کی ایک گروہ اللہ کی راہ میں جنگ کر رہا تھا اور دوسرا کافر تھا وہ انہیں دیکھ رہے تھے اپنی آنکھوں سے کہ ان سے دوگنے ہیں اور اللہ تعالیٰ تائید فرماتا ہے اپنی نصرت سے جس کی چاہتا ہے اس میں یقیناً ایک عبرت ہے آنکھیں رکھنے والوں کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تمہارے لئے ان دو گروہوں میں ایک نشان عبرت تھا (جو بدر میں ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے)۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافر تھا دیکھنے والے (مؤمنین) کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہے تھے کہ کفار دوگنا ہیں۔ مگر اللہ اپنی قدرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے۔ دیکھنے والوں (گہری نظر) کے لئے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

You have already come across an instructive sign in the two hosts that encountered each other in battle (at Badr): one host fighting in the way of Allah, and the other that of unbelievers. They saw with their own eyes that one host was twice the number of the other. But (the result of the battle has proved that) Allah succours with His victory whomsoever He wills. In this there is surely a lesson for all who have eyes to see.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

:There was a sign for you in the two groups who confronted each other: One group fighting in the way of Allah, and the other disbelieving, seeing themselves as twice their number, with open eyes. And Allah gives strength with His help to whomsoever He wills. Indeed, there is a lesson therein for those who have eyes.

— Muhammad Taqi Usmani

:There was a sign for you in the two groups who confronted each other: One group fighting in the way of Allah, and the other disbelieving, seeing themselves as twice their number, with open eyes. And Allah gives strength with His help to whomsoever He wills. Indeed, there is a lesson therein for those who have eyes.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

There has already been a sign for you in the two armies that met. One was fighting in the cause of Allah, and as for the other, in disbelief. They saw them with their own eyes twice their number. And Allah supports with His aid whom He wills. Verily, in this is a lesson for those who understand.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

There was a token for you in two hosts which met: one army fighting in the way of Allah, and another disbelieving, whom they saw as twice their number, clearly, with their very eyes. Thus Allah strengtheneth with His succour whom He will. Lo! herein verily is a lesson for those who have eyes.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Already there has been for you a sign in the two armies which met - one fighting in the cause of Allah and another of disbelievers. They saw them [to be] twice their [own] number by [their] eyesight. But Allah supports with His victory whom He wills. Indeed in that is a lesson for those of vision.

— Saheeh International

There, certainly, is evidence (of the existence of God) for you in the case of the two armies. One of them fought for the cause of God. The other were disbelievers. The disbelievers appeared to be twice the size of the believers. However, God supports through His help whomever He wants. It is a good lesson for the people of true vision.

— Muhammad Sarwar

Indeed there was a sign for you in the two hosts (which) met together in encounter; one party fighting in the way of Allah and the other unbelieving, whom they saw twice as many as themselves with the sight of the eye and Allah strengthens with His aid whom He pleases; most surely there is a lesson in this for those who have sight.

— Muhammad Habib Shakir

Of a surety there hath been unto you a sign, the two hosts that met, one host fighting in the way of Allah, and the other disbelieving, beholding themselves, with their own eyes, twice as many as they. And Allah aideth with His succour whomsoever He will. Verily herein is a lesson for men of insight.

— Abdul Majid Daryabadi

"There has already been for you a Sign in the two armies that met (in combat): One was fighting in the cause of Allah, the other resisting Allah; these saw with their own eyes Twice their number. But Allah doth support with His aid whom He pleaseth. In this is a warning for such as have eyes to see."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–13

اولین معرکہ حق و باطل اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کافروں سے کہہ دیجئے کہ تم دنیا میں بھی ذلیل و مغلوب کئے جاؤ گے، ہارو گے، ماتحت بنو گے اور قیامت کے دن بھی ہانک کر جہنم میں جمع کئے جاؤ گے جو بدترین بچھونا ہے۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ جب بدر کی جنگ سے حضور ﷺ مظفر و منصور واپس ہوئے تو بنوقینقاع کے بازار میں یہودیوں کو جمع کیا اور فرمایا ! اس سے پہلے کہ قریش کی طرح تمہیں بھی ذلت و پستی دیکھنا پڑے اسلام قبول کرلو، تو اس سرکش جماعت نے جواب دیا کہ چند قریشیوں کو جو فنون جنگ سے ناآشنا تھے، آپ نے انہیں ہرا لیا اور دماغ میں غرور سما گیا، اگر ہم سے لڑائی ہوئی تو ہم بتادیں گے کہ لڑنے والے ایسے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–13

سورة اٰلِ عِمْرٰن 9 اگرچہ حقیقی فرق سہ چند تھا، لیکن سرسری نگاہ سے دیکھنے والا بھی یہ محسوس کیے بغیر تو نہیں رہ سکتا تھا کہ کفار کا لشکر مسلمانوں سے دو گنا ہے۔ سورة اٰلِ عِمْرٰن 10 جنگ بدر کا واقعہ اس وقت قریبی زمانے ہی میں پیش آچکا تھا، اس لیے اس کے مشاہدات و نتائج کی طرف اشارہ کر کے لوگوں کو عبرت دلائی گئی ہے۔ اس جنگ میں تین باتیں نہایت سبق آموز تھیں ایک یہ کہ مسلمان اور کفار جس شان سے ایک دوسرے کے بالمقابل آئے تھے، اس سے دونوں کا اخلاقی فرق صاف ظاہر ہو رہا تھا۔ ایک طرف کافروں کے لشکر میں شرابوں کے دور چل رہے تھے، ناچنے اور گانے والی لونڈیاں ساتھ آئی تھیں اور خوب داد عیش دی جارہی تھی۔ دوسری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ربط آیات پچھلی آیات میں کفار کے مغلوب ہونے کی خبر دی گئی تھی اب اس آیت سے اس کی ایک مثال بطور دلیل کے بیان فرماتے ہیں۔ خلاصہ تفسیر بیشک تمہارے (استدلال کے) لئے بڑا نمونہ دو گروہوں (کے واقعہ) میں جو کہ باہم (بدر کی لڑائی میں) ایک دوسرے سے مقابل ہوئے تھے، ایک گروہ تو (یعنی مسلمان) اللہ کی راہ لڑتے تھے اور دوسرا گروہ وہ کافر لوگ تھے (اور کافر اس قدر زیادہ تھے کہ) یہ کافر اپنے (گروہ) کو دیکھ رہے تھے کہ ان مسلمانوں سے کئی حصے (زیادہ) ہیں (اور دیکھنا بھی کچھ وہم و خیال کا نہیں بلکہ) کھلی آنکھوں دیکھنا (جس کے واقع ہونے میں شبہ نہیں تھا، لیکن کفار کے باوجود اس قدر زیادہ عدد ہونے کے پھر بھی اللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

غزوہ بدر سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت : یہ اوپر والے دعوے کی دلیل ایک ایسے واقعے سے پیش کی گئی ہے جس پر ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرا تھا۔ اشارہ بدر کے واقعے کے طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کے حاملین اور اس کے مخالفین میں اس وقت جو کشمکش برپا ہے اس میں بالآخر شکست مخالفین ہی کو ہوگی۔ اس پیشین گوئی کی صداقت کی ایک نشانی اس معرکے میں موجود ہے جو قریش اور مسلمانوں کے درمیان میں پیش آچکا ہے۔ اس معرکے میں ایک گروہ اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اٹھا تھا، اور دوسرا، جو کفار کا تھا، شیطان کا کلمہ بلند کرنے لیے۔ ہرچند کفار کی تعداد ہزار سے متجاوز تھی اور مسلمان کل تین سو تیرہ تھے لیکن جب مقابلے کی نوبت آئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

13۔ 1 یعنی ہر فریق دوسرے فریق کو اپنے سے دوگنا دیکھتا ہے کافروں کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی انہیں مسلمان دو ہزار کے قریب دکھائی دیتے تھے مقصد اس سے ان کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھانا تھا اور مسلمانوں کی تعداد تین سو سے کچھ اوپر (یا 313) تھی انہیں کافر 60 اور 70 کے درمیان نظر آتے تھے۔ دراں حالانکہ ان کی اصل تعداد ہزار کے قریب (3 گنا) تھی مقصد اس سے مسلمانوں کا عزم و حوصلہ میں اضافہ کرنا تھا۔ اپنے سے تین گنا دیکھ کر ممکن تھا مسلمان مرغوب ہوجاتے جب وہ تین گنا کی بجائے دو گنا نظر آئے تو ان کا حوصلہ پست نہیں ہوا لیکن یہ دوگنا دیکھنے کی کیفیت ابتدا میں تھی پھر جب دونوں گروہ آمنے سامنے صف آرا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

5: پیچھے یہ پیشینگوئی کی گئی تھی کہ کفار مسلمانوں سے مغلوب ہوں گے، اب اس کی ایک مثال دینے کی غرض سے جنگ بدر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں کافروں کا لشکر ایک ہزار مسلح لوگوں پر مشتمل تھا اور مسلمانوں کی تعداد کل تین سو تیرہ تھی، کافر کھلی آنکھوں دیکھ رہے تھے کہ ان کی تعداد کہیں زیادہ ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور کافروں کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس آیت يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ …………… کے دومفہوم ہوسکتے ہیں ‘ یرون کی ضمیر اگر کفار کی طرف ہے اور ہم سے مراد اہل ایمان ہیں تو مفہوم ہوگا کہ اہل کفر کو اپنی ظاہری کثرت کے باجود نظر یوں آرہا تھا کہ اہل اسلام ان سے دوگنا ہیں ۔ اور یوں یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے تائید غیبی تھی کہ کفار کو اہل اسلام زیادہ اور وہ خود تھوڑے نظر آرہے تھے ۔ یوں ان کے قدم اکھڑ گئے اور ان کے دل بیٹھ گئے۔ اور اگر اس کے برعکس لیا جائے یعنی یرون سے مراد ہو کہ مسلمان ھم ان کو دیکھ رہے تھے ۔ تو مفہوم یہ ہوگا کہ مسلمانوں کو وہ اپنے دوگنا نظر آرہے تھے ‘ وہ تین گنا تھے ۔ اس کے باوجود اہل اسلام ثابت قدم رہے ‘ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 جنگ بدر میں کفار تقریباً ایک ہزار تھے جن کے پاس سات سو اونٹ اور ایک سو گھوڑے تھے۔ دوسری طرف مسلمان مجاہدین تین سو سے کچھ اوپر تھے جن کے پاس کل ستّر اُونٹ، دو گھوڑے، چھ زرہیں اور آٹھ تلواریں تھیں۔ اور تماشہ یہ تھا کہ ایک فریق کو حریف مقابل اپنے سے دو گنا نظر آتا تھا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کفار کے دل مسلمانوں کی کثرت کا تصوّر کر کے مرعوب ہوتے تھے اور مسلمان اپنے سے دوگنی تعداد دیکھ کر اور زیادہ حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے اور کامل توکّل و استقلال سے خدا کے وعدہ (فَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَّغْلِبُوْا مِائَتَيْنِ ) 8 ۔ الانفال :66) پر اعتماد کر کے فتح و نصرت کی امید رکھتے تھے۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 قَدْ کَانَ لَکُمْ اٰیَۃٌ فِیْ فِءَتَیْنِ الْتَقَتَا ط یعنی بدر کی جنگ میں ایک طرف مسلمان تھے اور دوسری طرف مشرکین مکہ تھے۔ اس میں تمہارے لیے نشانی موجود ہے۔ فِءَۃٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاُخْرٰی کَافِرَۃٌ یَّرَوْنَہُمْ مِّثْلَیْہِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ط اس کے کئی معانی کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کو تو کھلم کھلا نظر آ رہا تھا کہ ہمارے مقابل ہم سے دوگنی فوج ہے ‘ جبکہ وہ تگنی تھی۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے غزوۂ بدر میں کفار پر ایسا رعب طاری کردیا تھا کہ انہیں نظر آ رہا تھا کہ مسلمان ہم سے دگنے ہیں۔ وَاللّٰہُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِہٖ مَنْ یَّشَآءُ ط اِنَّ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 اس آیت میں روئے سخن سب قسم کے کافروں سے ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان جنگ کا نقشہ پیش فرمایا ہے۔ مسلمان تعداد میں تہائی سے بھی کم تھے۔ تین سو تیرہ اور یہ بعینہ وہی تعداد تھی جو طالوت کے لشکر کی تھی۔ جبکہ مشرکین مکہ کی تعداد ایک ہزار تھی۔ میدان جنگ میں اللہ تعالیٰ نے قلیل ہونے کے باوجود اپنے تابعداروں کو ہی فتح و نصرت عطا فرمائی۔ میدان بدر میں رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو کچھ اس انداز سے کھڑا کیا تھا کہ وہ کافروں کو اپنی اصل تعداد سے دوگنے نظر آتے تھے اور یہ آپ کی ایک جنگی تدبیر تھی۔ اگرچہ مسلمان تعداد، اسلحہ، جنگ اور سامان خوراک ہر لحاظ سے کافروں کے مقابلہ میں کمزور تھے۔ تاہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

29 ۔ (میدان بدر میں 8 جنوری 2 ہجری میں) (آیت) ” ایۃ “۔ نشان اللہ کی قدرت وکارسازی اور رسول اللہ ﷺ کی صداقت کا) (آیت) ” فی فئتین “ یعنی دو گروہوں کے واقعہ میں۔ ایک گروہ مومنین بےسروسامان، دوسرا گروہ مشرکین باسروسامان کا۔ (آیت) ” فءۃ تقاتل فی سبیل اللہ “۔ یہ گروہ مومنین کا تھا۔ تعداد میں قلیل اور سامان میں حقیر۔ تعداد میں کل 313 تھے اور وہ بھی بغیر سامان حرب کے۔ اونٹ اتنے کم کہ چار چار پیادوں کے حصہ میں ایک ایک پڑتا تھا۔ گھوڑے لشکر بھر میں کل دو ، آہنی زر ہیں اتنے آدمیوں میں کل سات۔ (آیت) ” واخری کافرۃ۔ یہ لشکر حکومت مکہ کا تھا۔ تعداد میں مسلمانوں سے سہ چند تھا۔ یعنی 950، افراد پر مشتمل۔ قریش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

قَدْ کَانَ لَکُمْ آیَۃٌ فِیْ فِئَتَیْنِ (الآیۃ) اس آیت میں جنگ بدر کی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے جس میں کفار تقریباً ایک ہزار تھے جن کے پاس سات سو اونٹ اور ایک سو گھوڑے تھے، اور دوسری طرف مسلمان مجاہدین تین سو سے کچھ زائد تھے جن کے پاس ستر اونٹ اور دو گھوڑے اور چھ زر ہیں اور آٹھ تلواریں تھیں، اور تماشہ یہ تھا کہ ہر فریق کو حریف مقابل اپنے سے دوگنا نظر آتا تھا، جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کفار دل میں مسلمانوں کی کثرت کا تصور کرکے مرعوب ہو رہے تھے، اور مسلمان اپنے سے دوگنی تعداد دیکھ کر اور زیادہ حق کی طرف متوجہ ہو رہے تھے، کافروں کی پوری تعداد جو مسلمانوں کی تعداد کی تین گنی تھی منکشف ہوجاتی تو ممکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰيَةٌ : اگر آیت سابقہ میں یہودیوں کو خطاب ہے تو اس میں بھی یہودی ہی مخاطب ہیں اور اگر آیت کا نزول مشرکوں کے متعلق ہے تو یہ خطاب بھی انہی کو ہے۔ برتقدیر اوّل یہ مطلب ہوگا کہ اے گروہ یہود میں جو تمہارے مغلوب ہونے کا دعویٰ کر رہا ہوں اس دعوے کی دلیل کھلی ہوئی ہے بر تقدیر دوم یہ مطلب ہوگا کہ اے گروہ مشرکین میری نبوت کی نشانی اور دلیل واضح ہے۔ فِيْ فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا : ان دونوں گروہوں میں جن کا بدر کے دن مقابلہ ہوا تھا۔ فِءَۃٌ بمعنی فرقہ۔ فَیءٌ لوٹنا۔ لڑائی کے دن بعض لوگ بعض کی طرف (مارنے یا پناہ لینے کے لیے) لوٹتے ہیں اس لیے فرقہ کو فءۃ کہا جاتا ہے۔ (1) [ حضرت مولف کا بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(13) کفار مکہ رسول اکرم ﷺ کی نبوت کی شہادت کے لیے دو جماعتوں میں بڑی نشانی ہے کہ غزوہ بدر میں ایک جماعت رسول اکرم ﷺ کی اور دوسری جماعت ابوسفیان کی تھی، ایک جماعت تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں لڑرہی تھی اور وہ صحابہ کرام ﷺ کی جماعت تھی جو تعداد میں صرف تین سو تیرہ یا کم و بیش تھے ، اور دوسری جماعت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا انکار کرنے والوں کی تھی جو کفار اہل قریش کی جماعت تھی یہ تعداد میں ایک ہزار تھے یہ لوگ کھلی آنکھوں سے اس بات کا مشاہدہ کررہے تھے کہ ہم تعداد میں اصحاب رسول اکرم ﷺ سے کئی گنا زیادہ ہیں اور (آیت) ”قل للذین کفروا“ کے ایک معنی یہ بھی بیان کیے گئے ہیں کہ آپ بنی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰيَةٌ۔۔ : یعنی اوپر جو پیشین گوئی (یہودی) کافروں کے مغلوب اور جہنم واصل ہونے کی ذکر ہوئی ہے اس کے سچ ہونے کے لیے معرکۂ بدر میں بہت بڑی آیت (دلیل) موجود تھی۔ يَّرَوْنَھُمْ مِّثْلَيْهِمْ : اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ مسلمان کفار کو اپنے سے صرف دو گنا دیکھ رہے تھے، حالانکہ وہ ان سے تین گنا تھے، تاکہ مسلمان ثابت قدم رہیں، چناچہ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ دوسرا یہ کہ کفار مسلمانوں کو اپنے سے دو گنا دیکھ رہے تھے، حالانکہ ان کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی اور مسلمان کل 313 تھے، مگر مسلمان دو گنا اس لیے نظرآتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نصرت کے لیے فرشتے بھیج دیے تھے اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 13۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قد کان لکم ایۃ، ایۃ کا معنی علامت ہے اور یہاں کان فرمایا کا نت نہیں فرمایا، کیونکہ ایۃ کی تانیث غیر حقیقی ہے اور کہا گیا ہے : اسے بیان کی طرف لوٹایا گیا ہے، یعنی قدکان لکم بیان (بےشک تمہارے لئے بیان اور وضاحت تھی) تو اس میں معنی کو اپنایا گیا ہے اور لفظ کو چھوڑ دیا گیا ہے : جیسا کہ امری القیس کا قول ہے : برھوھۃ رؤدۃ رخصۃ کخرعوبۃ البانۃ المنفطر : اور اس میں المنفطرۃ نہیں کہا، کیونکہ انہوں نے قضیب کے معنی کو پیش نظر رکھا ہے۔ اور فراء نے کہا ہے : اسے مذکر ذکر کیا ہے کیونکہ ان دونوں کے درمیان صفت سے فاصہ کیا گیا ہے اور جب اسم اور فعل کے درمیان صفت حائل ہوگئی تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–14

مال و دولت عورتیں فتنہ ہیں (1) ابن جریر نے ابن ابی حاتم نے ابوبکر بن حفص بن عمر بن سعد (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب لفظ آیت ” زین للناس حب الشھوت “ نازل ہوئی (آخر تک) تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا اے میرے رب ! اب آپ نے ہی ہمارے لیے اس کو مزین کو دیا اب کیا ہوگا ؟ تو (اس پر) یہ ساری آیت ” قل اؤنبئکم بخیر “ نازل ہوئی۔ (2) ابن المنذر نے اسی طرح روایت نقل کی ہے یہاں تک کہ جب ” قل اؤنبئکم بخیر “ تک پہنچے تو رونے لگے اور عرض کیا جب آپ نے ان (چیزوں) کو مزین کردیا ہے (اب کیا ہوگا) ۔ (3) ابن ابی شیبہ عبد بن حمید ابی حاتم نے سیار بن حکم (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے یہ آیت ” زین للناس حب الشھوت “ پڑھی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَدْ کَانَ : ہوچکی ہے ] [لَــکُمْ : تمہارے لیے ] [اٰیَۃٌ : ایک نشانی ] [فِیْ فِئَتَیْنِ : دو جماعتوں میں جو ] [الْـتَقَتَا : آمنے سامنے ہوئیں ] [فِئَۃٌ : ایک جماعت ] [تُـقَاتِلُ : قتال کرتی ہے ] [فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [وَاُخْرٰی : اور دوسری ] [کَافِرَۃٌ : کافر ہے ] [یَّرَوْنَہُمْ : وہ لوگ سمجھتے ہیں ان کو ] [مِّثْلَیْہِمْ : اپنے کی دو مثالیں (یعنی دوگنا) ] [رَاْیَ الْعَیْنِ : آنکھوں کا دیکھنا (یعنی آنکھوں دیکھے) ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [یُؤَیِّدُ : تائید کرتا ہے ] [بِنَصْرِہٖ : اپنی مدد سے ] [مَنْ : اس کی جسے ] [یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ : بیشک اس میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(اِذِ الْتَقَیْتُمُوْھُمْ ) کو سامنے رکھ کر یوں کہا جائے گا کہ جب ابتدائی مقابلہ کے لیے فریقین آمنے سامنے آئے تو مشرکین مسلمانوں کو اپنے سے دو گنا دیکھ رہے تھے اور جب بالکل ہی مڈ بھیڑ ہونے لگی تو وہ مسلمانوں کو کم دیکھ رہے تھے اور مسلمان ان کو کم دیکھ رہے تھے لفظ ترانی اور ترائی جو صاحب روح المعانی اپنی عبارت میں لائے ہیں اس سے یہ معنی مفہوم ہوتا ہے۔ صاحب روح المعانی نے بعض علماء سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ یرون کی ضمیر مرفوع سے مومنین مراد ہیں اور ضمیر منصوب کافروں کی طرف راجع ہے۔ اس صورت میں ترجمہ یوں ہوگا کہ مومنین کافروں کو اپنے سے دو گنا دیکھ رہے تھے حالانکہ وہ ان سے تین گنا تھے اور ان کو دو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–13

مال واولاد کے نشہ میں حق سے استغنا پر وعید اور تہدید۔ قال تعالی، ان الذین کفروا لن تغنی عنھم۔۔۔ الی۔۔۔ الابصار۔ ربط) ۔ یہ آیتیں بھی نصارائے نجران کے بارے میں نازل ہوئیں دلائل اور براہین سے حق ان پر واضح ہوچکا تھا مگر مال و دولت کے غرور اور نشہ نے ان کو قبول حق اور قبول ہدایت سے باز رکھا اس لیے ان ارباب غرور کی وعید اور تہدید کے لیے یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آخرت میں مال اور اولاد کچھ کام نہیں آئیں گے اور پھر یہ ارشاد فرمایا کہ اب ان کافروں سے یہ کہہ دیں کہ یہ لوگ عنقریب دنیا میں مسلمانوں کے ہاتھ سے مغلوب ہوں گے اور قیامت کے دن جہنم میں ڈال دیے جائیں گے اور پھر واقعہ بدر کو ان کی عبرت کے لیے ذکر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

18 یہ ماقبل کا تتمہ ہے اور قل کے تحت داخل ہے اور اس میں جنگ بدر کی طرف اشارہ ہے۔ اس میں مسلمانوں کی تعداد کافروں کے مقابلہ میں بہت کم تھی مگر مسلمانوں کے رعب اور ان کی ہیبت کا یہ عالم تھا کہ کافروں کو مسلمان اپنے سے دوگنا نظر آتے تھے۔ مسلمانوں کا کافروں کو دوگنا نظر آنا یہ آنحضرت ﷺ کا معجزہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے دلوں پر مسلمانوں کی ہیبت بٹھانے کے لیے اس کا اظہار فرمایا۔ اس آیت سے جنگ بدر میں شریک ہونیوالے صحابہ کرام ؓ کی بہت بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق ارشاد فرمایا۔ فِئَهٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ۔ یعنی وہ ایک ایسی جماعت تھی۔ جو محض اللہ کے دین کی خاطر لڑ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–13

ربط آیات : پہلی آیت میں قیامت کا ذکر تھا۔ اس سے پہلے اللہ نے نصارٰ کی تردید فرمائی اور ان کے باطل عقیدے کا رد فرمایا ، توحید کا مسئلہ بیان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی صفات الوہیت کا ذکر کیا اور جن متشابہ لفظوں سے یہود و نصاری استدلال کرتے تھے ، اس کا جواب دیا۔ اب اس آیت میں کفار کے متعلق فرمایا کہ کوئی چیز انہیں خدا کی گرفت سے نہیں بچا سکتی ، حتی کہ ان کے مال و اولاد بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ اس کے بعد جنگ بدر سے متعلق یہود مدینہ کی زبان درازی کا ذکر ہے۔ کہتے تھے کہ اہل مکہ ناتجربہ کار تھے۔ جو مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے ، وگرنہ ہم جیسے آزمودہ کار لوگوں سے واسطہ پڑتا ، تو مسلمانوں کو پتہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰيَۃٌ فِيْ فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا۝ 0 ۭ فِئَۃٌ تُقَاتِلُ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَاُخْرٰى كَافِرَۃٌ يَّرَوْنَھُمْ مِّثْلَيْہِمْ رَاْيَ الْعَيْنِ۝ 0 ۭ وَاللہُ يُـؤَيِّدُ بِنَصْرِہٖ مَنْ يَّشَاۗءُ۝ 0 ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَۃً لِّاُولِي الْاَبْصَارِ۝ 13 ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

تائید غیبیہ اور نصرت الہی کا ظہور۔ اول یرونہم الخ کہ کفار کو مسلمان لشکر جو بہت قلیل تھا اپنے سے دو چند نظر آنے لگا جس سے ان کے دلوں میں رعب بیٹھ گیا۔ پھر کیا تھا جو کچھ ہے دل ہی تو ہے۔ اس بات کا ثبوت خود اس جماعت کے بہت سے لوگوں سے بھی ہوا جو بعد میں مسلمان ہوگئے تھے۔ یرونہم مثلیہم کے یہی معنی ہیں مگر بعض نے یرون کا فاعل مسلمانوں کو بتایا ہے کہ مسلمان ان کو دو چند دیکھ رہے تھے۔ اس پر خدا نے تائید غیبی کا اظہار کیا۔ آخر کفار نے بڑی شکست کھائی۔ وہ بشارت صادق ہوئی۔ ابو جہل وغیرہ بڑے بڑے کفر کے سردار مارے گئے۔ ستر گرفتار کئے گئے ٗ کچھ بھاگ نکلے۔ واضح ہو کہ کفروا کا اطلاق مشرکین عرب پر بھی ہوتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَدْ کَانَ لَـکُمْ اٰیَۃٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا ط فِئَۃٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاُخْرٰی کَافِرَۃٌ یَّرَوْنَہُمْ مِّثْلَیْہِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ط وَاللّٰہُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّاُوْلِی الْاَبْصَارِ ۔ (تحقیق تمہارے لیے نشانی ہے ان دو گروہوں میں { جو بدر میں } ایک دوسرے سے نبردآزما ہوئے۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا کافر تھا۔ یہ ان کو کھلم کھلا ان سے دو گنا دیکھ رہے تھے اور اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی تائید سے مدد فرماتا ہے۔ اس میں آنکھیں رکھنے والوں کے لیے بصیرت ہے) ( 13) گزشتہ آیت میں دعویٰ کی دلیل سابقہ آیت کریمہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–14

فہم القرآن ربط کلام : حق سے انحراف اور قوموں کی تباہی میں دنیا پرستی کا عنصر ہمیشہ غالب رہا ہے اس لیے اس کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ ہدایت کے راستے میں جو چیزیں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہیں۔ ان میں سر فہرست عورت، بیٹے، سونا، چاندی، سواری، مال، مویشی اور کھیتی باڑی ہے۔ ہر انسان ان میں سے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ ضرورت سے زیادہ محبت کرتا ہے اور یہی چیز راہ ہدایت میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ خواہشات کے میدان میں عام طور پر سب سے پہلی خواہش عورت کے ساتھ مرد کی وابستگی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بطور آزمائش آدمی کے دل میں ان چیزوں کی محبت اور رغبت پیدا فرمائی ہے تاکہ دنیا کا نظام چلتا رہے۔ اگر عورت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

13: قَدْ کَانَ لَکُمْ ٰایَۃٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا فِئَۃٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاُخْرٰی کَافِرَۃٌ یَّرَوْنَھُمْ مِّثْلَیْھِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ وَاللّٰہُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِہٖ مَنْ یَّشَآئُ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّاُ ولِی الْاَبْصَارِ ۔ قَدْ کَانَ لَکُمْ ٰایَۃٌ (تمہارے لئے بڑا نمونہ ہے) کُمْ سے خطاب مشرکین مکہ کو ہے۔ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا (ان دو گروہوں میں جو آپس میں ملے) یعنی بدر کے دن (معرکہ آراء ہوئے) فِئَۃٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (ایک گروہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتا ہے) اور وہ مومن ہیں وَاُخْرٰی (اور دوسرا گروہ) کَافِرَۃٌ یَّرَوْنَھُمْ مِّثْلَیْھِمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13۔ (قد کان لکم ایۃ، تحقیق اس میں نشانیاں ہیں تمہارے لیے) کان کے لفظ کے بجائے کانت کا ذکر نہیں کیا یہ آیت مؤنث ہے اس لیے کہ ان کے بیان کی طرف اس کو لوٹا دیا گیا ہے (آیت)” قدکان “ بیان ہے فراء کہتے ہیں ” کان “ کا لفظ اس وجہ سے ذکر کیا کہ صفت کی حالت اسم اور فعل کے درمیان حائل ہے ، اس وجہ سے فعل کو ذکر کیا ، نحو میں جہاں بھی اس طرح آیا ہے اس کی یہی وجہ مراد لی ہے ، آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اس میں عبرت اور سچائی کی واضح دلالت ہے کہ جو تم کہتے ہو کہ عنقریب تم مغلوب ہوجاؤ گے (فی فتئین ان دو گروہوں میں) ” فتئن “ سے مراد دو جماعتیں ہیں ، ” فئتین “ اصل میں ” افی الحرب “ ہے بمعنی لوٹنا کیونکہ بعض…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–13

(12 ۔ 13) ۔ ابو داؤد اور بیہقی اور تفسیر ابن منذر بن بسند میں معتبر عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب قریش کو مسلمانوں کے ہاتھ سے جنگ بدر میں صدمہ پہنچا جس کا قصہ سورة انفال میں آئے گا تو اس پر یہود نے آنحضرت ﷺ سے ذکر کیا کہ قریش اناڑی اور لڑائی سے ناواقف تھے جس دن آپ سے اور ہم لوگوں سے لڑائی ہوگی اس دن قدر کھل جائے گی کہ لڑائی ایسی ہوتی ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کا کلام سچا ہے۔ آخر کو وہ یہ ہوا جو اس آیت میں تھا کہ ان یہودیوں میں سے بنی قریظہ قتل ہوئے اور بنی نضیر نکالے گئے باقی یہود پر وہ سالانہ خراج قائم ہوگیا جس کو جزیہ کہتے ہیں اور پھر یہ تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–13

آیت 10-13 اللہ تعالیٰ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرنے والے، اس کے دین اور اس کی کتاب کا انکار کرنے والے، اپنے کفر اور گناہوں کی وجہ سے سزا اور سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ وہاں انہیں اپنے مالوں اور اولادوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اگرچہ دنیا میں وہ آنے والی مصیبتوں کا ان کے ذریعہ سے مقابلہ کرلیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے (نحن اکثر اھوالا واولادا وما نحن بمعذبین) (سبا :35/37) ” ہمارے مال اور ہماری اولاد میں زیادہ ہیں ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔ “ قیامت کے دن انہیں ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کی انہیں بالکل توقع نہ ہوگی۔ (ویدالھم سیات ماکسبوا وحاق بھم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (قد کان لکم ایۃ فی فئتین القتال فئۃ تقال فی سبیل اللہ، تمہارے لیئے ان دوگروہوں میں بڑی نشانی تھی جن کا آمناسامنا ہوا تھا ایک گروہ اللہ کے راستے میں قتال کررہا تھا) تاآخر آیت، حضرت ابن مسعود اور حسن بصری سے مروی ہے کہ یہ خطاب اہل ایمان کو ہے۔ اور مسلمان ہی دہ گروہ تھے جو اپنی آنکھوں سے کافروں کو اپنے سے دوچند دیکھ رہے تھے۔ کافروں کو اگرچہ وہ اپنی تعداد سے دوگنادیکھ رہے تھے لیکن کافردرحقیقت مسلمانوں کے مقابلے میں تین گنا تھے کیونکہ ان کی تعدادایک ہزار تھی اور مسلمانوں کی تعدادکچھ اوپر تین سو تھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں کو تقویت دینے کے لیئے کافروں کی تعدادان کی نظروں میں کم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

25 معرکہ حق و باطل میں سامان عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا تمہارے لئے اے لوگو حق اور باطل کے ان دونوں گروہوں کے ٹکراؤ میں بڑا سامان عبرت و بصیرت تھا کہ کس طرح ایک چھوٹی سی جماعت، اپنی قلت تعداد اور قلت وسائل و اَسباب کے باوجود محض اپنی ایمانی قوت کی بناء پر، اور اپنے خالق ومالک کی تائید و حمایت اور اس کی نصرت و امداد کے آسرے اور سہارے پر، اپنے سے کئی گنا بڑی اور ایک ایسی جماعت کا مقابلہ کر رہی تھی، جو کہ آلات حرب و ضرب سے لیس اور تعداد و سامان وغیرہ کے اعتبار سے ان سے کئی گنا بڑھ کر تھی۔ اور پھر اس معرکہ آرائی میں بالآخر فتح و غلبہ بھی اسی چھوٹی جماعت کو نصیب ہوتا ہے، جو ایمانی قوت سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

غزوہ ٔ بدر میں اللہ کی مدد تشریح : اس آیت میں غزوہ بدر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اللہ کی نصرت اور حق و باطل کی بہت بڑی مثال گزری ہے۔ اس جنگ میں تین باتیں نہایت سبق آموز تھیں۔ -1 دونوں گروہوں کا اخلاقی فرق ظاہر تھا۔ -2 مسلمانوں کی کم تعداد اور بےسرو سامانی کفار کا تین گنا زیادہ اور مکمل اسلحہ سے لیس ہونا۔ -3، کفار کا اپنے سازو سامان اور تعداد پر ناز و نخرہ اور تکبر اور مسلمانوں کا اللہ پر بھروسہ اور کامل یقین۔ تفصیلات اس طرح ہیں اس جنگ میں کفار کی تعداد ایک ہزار تھی، سات سو اونٹ، ایک سو گھوڑے اور سب بڑے ماہر، تجربہ کار اور جنگجو تھے۔ جبکہ مسلمان صرف تین سو تیرہ، ستر اونٹ، دوگھوڑے، چھ زر ہیں اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–20

آیات 10- 20 اسرارو معارف ان الذین کفروا………………وبئس المھاد۔ بے شک جن لوگوں نے کفر کیا۔ ان کے مال اور اولاد اللہ کے مقابل ذرہ برابر کام نہ آئیں گے یا وہ یہ سمجھ رکھیں کہ ان کے پاس دولت ہے اولاد ہے تو شاید عنداللہ وہ مقبول ہیں اور یہ اللہ کی خوشنودی کی دلیل ہے ہرگز نہیں ! یہ ایک نظام ہے اللہ کا مقرر کردہ جو چل رہا ہے ہاں ! اللہ کی رضامندی کی دلیل دین ہے۔ اگر دین قبول نہ کیا تو مالدار ہوں یا صاحب اولاد ہوں ، دوزخ کا ایندھن ہیں بلکہ ترجمہ تو یوں ہے کہ یہی لوگ دوزخ کا ایندھن ہیں۔ ان کا رویہ تو آل فرعون جیسا ہے یا ان سے پہلے گزرنے والے کافروں جیسا کہ دولت اور ریاست کے لالچ میں حق کو قبول نہ کیا اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی متذکرہ بالا پیش گوئی کے مبنی پر صداقت ہونے کے لیے معرکہ بدر میں بہت بڑی آیت (دلیل موجود ہے۔ (شوکانی۔ ابن کثیر) یرو نھم مثلھم صیغہ غائب یا کے ساتھ پڑ ھا جائے تو اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ مسلمان کفار کو اپنے سے صرف دو چند دیکھ رہے تھے حالانکہ وہ سہ چند تھے تاکہ مسلمانوں کو ثبات حاصل ہو چناچہ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ دوم یہ کہ کفار مسلمانوں کے اپنے سے دو چند دیکھ رہے تھے حالا ن کہ ان کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی اور مسلمان کل 313 مگر مسلمان دوچند اس لیے نظر آتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کے لیے فرشتے بھیج دیئے تھے۔ اکثر مفسرین نے پہلے معنی کو ترجیح دی ہے اور بعض نے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:13) یرونھم مثلیہم رای العین۔ یرون کی ضمیر کا مرجع فئۃ تقاتل فی سبیل اللہ بھی ہوسکتا ہے اور اخری (کافروں کا گروہ) بھی۔ اسی طرح یرونھم میں ہم ضمیر مسلمانوں کے لئے بھی ہوسکتی ہے اور کفار کے متعلق بھی۔ اس طرح اس فقرہ کے ترجمہ کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) مسلمان کافروں کو اپنے سے دو چند دیکھ رہے تھے۔ (2) مسلمان کافروں کو ان کی اصل تعداد سے دو چند دیکھ رہے تھے۔ (3) مسلمان اپنے آپ کو کافروں سے دو چند دیکھ رہے تھے۔ (4) کفار مسلمانوں کو اپنے سے دو چند دیکھ رہے تھے۔ (5) کفار مسلمانوں کو ان کی تعداد سے دو چند دیکھ رہے تھے۔ (6) کافر اپنے تئیں مسلمانوں سے دو چند دیکھ رہے تھے۔ رای العین مصدر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–13

لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 13 لن تغنی (ہرگز کام نہ آئے گا) وقود (ایندھن) داب (طریقہ، دستور) اٰل (اولاد۔ کسی کو مان کر اس کے پیچھے چلنے والے) ستغلبون (عنقریب تم مغلوب کئے جاؤ گے) تحشرون (تم جمع کئے جاؤ گے) فئتین (دوجماعتیں (فئة۔ جماعت) (التقتا (آپس میں دونوں مقابل ہوئے) اخرٰی (دوسری) یرون (وہ دیکھتے ہیں) مثلیھم (اپنے سے دوگنے (مثلی اصل میں مثلین تھا نون گر گیا) رای العین ( دیکھنے والی آنکھ) عبرۃ (نصیحت ، سبق) اولی الابصار (آنکھوں والے (اولو، والا ابصار، بصر) آنکھیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 10 تا 13 نخران سے عیسائیوں کا جو وفد نبی کریم ﷺ سے مذہبی بحث ومناظرہ کے لئے آیا ہوا تھا خطاب ان ہی سے ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–13

دنیا سے نفرت اور آخرت کی ترغیب کا ذکر شان نزول : ابو داؤد اور بیہقی اور تفسیر ابن منذر میں بسند معتبر حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب قریش کو مسلمانوں کے ہاتھ سے جنگ بدر میں صدمہ پہنچا جس کا قصہ سورة انفال میں آوے گا تو اس پر یہود نے آنحضرت سے ذکر کیا کہ قریش اناڑی اور لڑائی سے ناواقف تھے، جس دن آپ سے ہم لوگوں کی لڑائی ہوگئی اس دن قدر کھل جائے گی کہ لڑائی ایسی ہوتی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :” اللہ سچا ہے اور اللہ کا کلام سچا ہے “۔ آخر کو وہی ہوا جو اس آیت میں لکھا تھا اللہ ہمیشہ حق کا مدد گار ہے۔ اس لئے اللہ کی مدد اہل اسلام کو باوجود قلت لشکر اور قلت سامان جنگ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–17

[5] جنگ بدر (2 ھ) میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی جبکہ کفار کی تعداد ان سے تین گنا زیادہ تھی۔ مسلمانوں کے پاس سامان جنگ نہایت قلیل تھا اور پورے لشکر میں صرف دو گھوڑے اور سات زرہیں تھیں اور اونٹ اتنے کم کہ چار آدمیوں کے حصہ میں ایک پڑتا تھا۔ اس کے برعکس کفار کا لشکر ضروری سامان سے لیس تھا۔ ان میں سات سو ستر سوار تھے اور زرہ پوش ایک سو تھے۔ اس کثرت تعداد کے باوجود کفار کو ذلت آمیز شکست ہوئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–14

ذلت کے اسباب : (ف 1) یہ مژدہ ایمان پرور سننے کے بعد کہ مسلمان ہمیشہ مظفر وکامران رہتا ہے ، سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر کون سی چیزیں مسلمان کو ذلت و پستی کی طرف کھینچ لے جاتی ہیں ، اور وہ کیوں بعض حالات میں اپنے اصلی مقام رفعت و عظمت کو چھوڑ کر قفل وتعبد کی گرانبار زنجیروں کو زینت غلو بنا لیتا ہے ، قرآن حکیم کی زبان میں اس کا سبب ایک اور صرف ایک ہے ، یعنی خواہشات نفس کا ضرورت سے زیادہ احترام ۔ مسلمان خار زار دنیا میں بھیجا گیا ہے ، تاکہ آبلہ پائی کی تمام کی تمام مصیبتوں کو وہ برداشت کرے ، کانٹے کانٹے سے الجھے ، مگر دامن ایمان کو صاف بچا لے جائے ، وہ دنیا کی ہر لذت سے استفادہ کرے مگر جائز حد تک ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 4۔ بلا شبہ تمہارے لئے ان دو جماعتوں میں بڑی عبرت آموز نشانی تھی جو میدان بدر میں ایک دوسرے سے باہم نبرد آزما ہوتی تھیں اور دونوں جماعتیں آپس میں بھڑی تھیں ایک گروہ تو اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا یعنی اعلاء کلمۃ اللہ کی غرض سے جنگ کر رہا تھا اور دوسرا فریق کافروں کا تھا جو کھلی آنکھوں ان کو اپنے سے دو چند دیکھ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی امداد سے قوت دیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے اپنی فتح و نصرت کے ساتھ تائید کرتا ہے۔ یقین جانو ! اس واقعہ میں آنکھیں رکھنے والوں کے لئے بڑی عبرت ہے۔ ( تیسیر) حضرت حق نے کفار کے عنقریب مغلوب ہونے کی جو پیشین گوئی اوپر کی آیت میں فرمائی تھی اس کا اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ بدر کی لڑائی میں۔ 5۔ وایتوں میں آیا ہے کہ اس روز مسلمان تین سو تیرہ تھے اور کفار ایک ہزار تھے، گو یا کفار مسلمانوں سے تین حصے تھے، اس آیت میں اسی کثرت کو بیان فرمایا ہے، کہ کفار آنکھوں سے مشاہدہ کرتے تھے کہ ہمارا گروہ زیادہ ہے مگر پھر بھی انجام دیکھ لیا کہ مسلمان ہی غالب رہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میدان بدر میں دونوں پارٹیوں کا آمنا سامنا : 32: رسول اللہ ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے 8 ربیع الاول 13 نبوی بمطابق 2 ستمبر 622 کو قباء میں داخل ہوئے۔ اس جگہ آپ ﷺ نے چودہ روز قیام کیا اور ازیں بعد مدینہ منورہ تشریف لے ﴾گئے۔ قریش مکہ یہاں بھی امن سے بیٹھنے نہیں دینا چاہتے تھے۔ آئے دنوں شرارتوں پر شراتیں کرتے رہتے تھے۔ بار بار مدینہ پر حملہ آور ہوتے رہتے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے باقاعدہ جہاد فی سبیل اللہ کی اجازت دے دی۔ ادھر قریش مکہ نے عبداللہ بن ابی کو لکھ بھیجا کہ یا تو ” محمد “ کو قتل کردو یا ہم آکر ان کے ساتھ تمہارا بھی فیصلہ کردیتے ہیں۔ لڑائی کی سب سے بڑی ضروی چیز مصارف جنگ کا بندوبست تھا اس لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Sequence In the previous verses, the disbelievers were informed that they will be overcome. Now, cited in this verse is an example of how the prophecy has been fulfilled. Commentary This verse refers to the Battle of Badr in which the disbelievers had about 1000 men, 700 camels and 100 horses, while the Muslim mujahidin were just over 300, having a total of 70 camels, 2 horses, 6 armours and 8 swords. The encounter was certainly strange as each combating group saw the opponent being twice its own numbers. The sighting of so many Muslims inspired awe in the hearts of the disbelievers, while…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

9. The actual disparity between the two armies was roughly three to one, but even a cursory glance was enough to tell the casual observer that the army of unbelievers was about twice as large as that of the believers.

Read the full tafseer →