Explained with ayahs 14–15
دنیا کے حسن اور آخرت کے جمال کا تقابل
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ دنیا کی زندگی کو طرح طرح کی لذتوں سے سجایا گیا ہے ان سب چیزوں میں سب سے پہلے عورتوں کو بیان فرمایا، اس لئے کہ ان کا فتنہ بڑا زبردست ہے۔ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میں نے اپنے بعد مردوں کیلئے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑا، ہاں جب کسی شخص کی نیت نکاح کرکے زنا سے بچنے کی اور اولاد کی کثرت سے ہو تو بیشک یہ نیک کام ہے اس کی رغبت شریعت نے دلائی ہے اور اس کا حکم دیا ہے اور بہت سی حدیثیں نکاح کرنے بلکہ کثرت نکاح کرنے کی فضیلت میں آئی ہیں اور اس امت میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ بیویوں والا ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
سورة اٰلِ عِمْرٰن 11
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ 27۔ (سورة الْبَقَرَة 27)
عربی متن میں ازدواج کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی ہیں ”جوڑے“۔ اور یہ لفظ شوہر اور بیوی دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ شوہر کے لیے بیوی ”زوج“ ہے اور بیوی کے لیے شوہر ”زوج“۔ مگر وہاں یہ ازدواج پاکیزگی کی صفت کے ساتھ ہوں گے۔ اگر دنیا میں کوئی مرد نیک ہے اور اس کی بیوی نیک نہیں ہے، تو آخرت میں ان کا رشتہ کٹ جائے گا اور اس نیک مرد کو کوئی دوسری نیک بیوی دے دی جائے گی۔ اگر یہاں کوئی عورت نیک ہے اور اس کا شوہر بد، تو وہاں وہ اس برے شوہر کی صحبت سے خلاصی پا جائے گی اور کوئی نیک مرد اس کا شریک زندگی بنادیا جائے گا۔ اور…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
ربط آیات
پہلی آیتوں میں کفار و مشرکین کی مخالفت اور ان کے مقابلہ میں جہاد کا ذکر تھا، اور ان آیات میں اسلام و ایمان کی مخالفت اور تمام بد اعمالیوں کی اصل منشاء کو بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ حب دنیا ہے، کوئی جاہ و مال کے لالچ میں حق کی مخالفت اختیار کرتا ہے کوئی نفسانی خواہشات کی وجہ سے اور کوئی اپنی آبائی رسوم کی محبت کے سبب حق کے مقابلہ پر کھڑا ہوجاتا ہے، اور ان ساری چیزوں کا خلاصہ ہے حب دنیا، مختصر تفسیر ان آیات کی یہ ہے۔
خوشنما معلوم ہوتی ہے (اکثر) لوگوں کو محبت مرغوب چیزیں (مثلا) عورتیں ہوئیں بیٹے ہوئے، لگے ہوئے ڈھیر ہوئے سونے اور چاندی کے، نشان لگے ہوئے گھوڑے ہوئے (یا دوسرے)…
Read the full tafseer →’ تزئین ‘ کی حقیقت : شہوات کا لفظ یہاں مشتہیات یعنی مرغوبات کے معنی میں ہے۔ مال و اولاد اور زن و فرزند ان چیزوں میں سے ہیں جو انسان کو بالطبع مرغوں بھی ہیں اور ان کو مرغوب ہونا چاہیے بھی۔ اس لیے کہ یہ چیزیں اس کے ذاتی و نوعی بقا کے لوازم میں سے ہیں لیکن یہاں مجرد ان کی رغبت زیر بحث نہیں ہے بلکہ ان کی تزئین کا ذکر ہے۔ تزئین کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی چیز اس طرح آنکھوں میں کھب جائے کہ آدمی اس کے اثر سے ہر چیز اسی کے رنگ میں دیکھنے لگ جائے۔ یہاں تک کہ اس سے الگ ہو کر اس کے لیے کسی چیز کو دیکھنا ممکن ہی نہ رہا جائے۔ وہ ہر چیز کو تولنے اور پرکھنے کے لیے اسی کو پیمانہ اور کسوٹی قرار دے لے۔ کسی چیز کی…
Read the full tafseer →14۔ 1 شَھَوَات سے مراد یہاں مشتبھات ہیں یعنی وہ چیزیں جو طبعی طور پر انسان کو مرغوب اور پسندیدہ ہیں اس لئے ان میں رغبت اور ان کی محبت ناپسندیدہ نہیں ہے بشرطیکہ اعتدال کے اندر اور شریعت کے دائرے میں رہے۔ ان کی تزیین بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے سب سے پہلے عورت کا ذکر کیا ہے کیونکہ یہ ہر بالغ انسان کی سب سے بڑی ضرورت بھی ہے اور سب سے زیادہ مرغوب بھی۔ خود نبی ﷺ کا فرمان ہے عورت اور خوشبو مجھے محبوب ہے اسی طرح نبی ﷺ نے نیک عورت کو دنیا کی سب سے بہتر متاع قرار دیا ہے اس لئے اس کی محبت شریعت کے دائرے سے تجاوز نہ کرے تو یہ بہترین رفیق زندگی بھی ہے اور زاد آخرت بھی ورنہ یہی عورت مرد کے لئے سب سے بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–26
6: جب غزوہ احزاب کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے پیشینگوئی فرمائی تھی کہ روم اور ایران کی سلطنتیں مسلمانوں کے قبضے میں آجائیں گی تو کفار نے بڑا مذاق اڑایا کہ ان لوگوں کو اپنے دفاع کے لئے خندق کھودنی پڑرہی ہے اور ان پر فاقے گزر رہے ہیں مگر دعوے یہ ہیں کہ یہ روم اور ایران فتح کرلیں گے، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں مسلمانوں کو یہ دعا تلقین فرما کر ایک لطیف پیرائے میں ان کا جواب دے دیا گیا۔
Read the full tafseer →زُيِّنَ لِلنَّاسِ……………” میں فعل مجہول کا صیغہ استعمال کرکے اس طرف اشارہ دیا گیا ہے کہ ان چیزوں کی طرف لوگوں کا میلان بتقضائے فطرت ہے ۔ ان چیزوں کو محبوب بنادیا گیا ہے اور ان کی تزئین کرکے ان کی محبوبیت میں اضافہ کردیا گیا ہے ۔ گویا یہ حقیقت واقعہ کے ایک پہلو کی تصدیق ہے ۔ اس لئے کہ انسان کی شخصیت میں ان چیزوں کی طرف میلان اور رغبت رکھی گئی ہے ۔ یہ اس کے اصل وجود اور اس کی ذات کا حصہ ہے ۔ اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ انسان خواہ مخواہ اس حقیقت کا انکار کرے ۔ نہ خود انسان اپنی ذات میں ان میلانات اور رجحانات کو قابل اعتراض سمجھے ۔ اس کرہ ارض پر انسانی زندگی کی ترقی اور نشوونما کے لئے ان میلانات کا…
Read the full tafseer →2 یعنی جب ان میں پھنس کر آدمی خدا سے غافل ہوجائے۔ اسی لئے حدیث میں فرمایا۔ ماترکت بعدی فتنۃً اَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النَّساءِ (میرے بعد مردوں کے لئے کوئی ضرر رساں فتنہ عورتوں سے بڑھ کر نہیں) ہاں اگر عورت سے مقصود اعفاف اور کثرت اولاد ہو، تو وہ مذموم نہیں بلکہ مطلوب و مندوب ہے۔ چناچہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ دنیا کی بہترین متاع نیک بیوی ہے کہ اگر اس کی طرف دیکھے تو خوش ہو، حکم دے تو فرمانبردار پائے، کہیں غائب ہو تو پیٹھ پیچھے شوہر کے مال اور اپنی عصمت کے معاملہ میں اس کی حفاظت کرے۔ اسی طرح جتنی چیزیں آگے متاع دنیا کے سلسلہ میں بیان ہوئیں سب کا محمود و مذموم ہونا نیت اور طریق کار کے تفاوت…
Read the full tafseer →آیت 14 زُیِّنَ للنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِیْنَ
مرغوبات دنیا میں سے پہلی محبت عورتوں کی گنوائی گئی ہے۔ فرائیڈ کے نزدیک بھی انسانی محرکات میں سب سے قوی اور زبردست محرک potent motive جنسی جذبہ ہے اور یہاں اللہ تعالیٰ نے بھی سب سے پہلے اسی کا ذکر کیا ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کے لیے پیٹ کا مسئلہ فوقیت اختیار کرجاتا ہے اور معاشی ضرورت جنسی جذبے سے بھی شدید تر ہوجاتی ہے ‘ لیکن واقعہ یہ ہے کہ مرد و عورت کے مابین کشش انسانی فطرت کا لازمہ ہے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا ہے :
مَا تَرَکْتُ بَعْدِیْ فِتْنَۃً اَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ 1
میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے…
Read the full tafseer →15 اس آیت میں جن جن اشیاء کا نام لیا گیا ہے۔ ان کی محبت انسان کے دل میں فطری طور پر جاگزیں ہے اور انہی چیزوں سے انسان کی اس دنیا میں آزمائش ہوتی ہے اور انسانوں کی اکثریت اس امتحان میں فیل ہی ہوتی رہی ہے۔ ان چیزوں میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو بذات خود بری ہو۔ اور ان سے محبت کرنا بھی ایک فطری امر ہے اور فطری امر بھی بذات خود برا نہیں ہوتا۔ اگر ان چیزوں کی محبت انسان کے دل میں نہ ڈالی جاتی تو اس دنیا کی رنگینیاں، یہ لہلہاتے کھیت اور باغات اور تہذیب و تمدن کے نظارے کچھ بھی نظر نہ آتا۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نہ تو یہ چیزیں بذات خود بری ہیں اور نہ ہی ان سے محبت اور ان کا حصول بری چیز ہے۔ بری…
Read the full tafseer →33 ۔ اور انہی کی محبت اکثر افراد میں حدود جائز سے تجاوز کرکے معصیت کا سبب بن جاتی ہے۔ (آیت) ” حب الشھوت “۔ شہوات یہاں مشتھات کے معنی میں ہے۔ یعنی مرغوب ودلپسند چیزیں۔ وقد یسمی المشتھی شھوۃ (راغب) جعل الاعیان التی ذکرھا شھوات مبالغۃ فی کونھا مشتھاۃ (کشاف) (آیت) ” من النسآء الخ ان مرغوبات کے نام صرف مثال اور نمونہ کے طور پر لے دیے گئے ہیں۔ ان حصر مراد نہیں۔ (آیت) ” زین للناس “۔ یہ صراحت ہے اس باب میں کہ انسان کی نظر میں ان چیزوں کی رغبت وکشش بہ طور امر طبعی کے ہے اور بذات خود معصیت نہیں۔ انسان ان کے شوق کے ازالہ کا مکلف نہیں صرف انہیں عقل سلیم و احکام شریعت کے ماتحت کرکے رکھنا چاہیے۔
34 ۔ (سو…
Read the full tafseer →زُیْنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّھَوَاتِ (الآیۃ) ان ہی چیزوں کی محبت اکثر افراد میں حدود جائز سے تجاوز کرکے معصیت کا سبب بن جاتی ہے شہوات سے یہاں مراد مشتہات ہیں یعنی وہ چیزیں جو طبعی طور پر انسان کو مرغوب اور پسندیدہ ہیں اس لیے ان کی رغبت و محبت ناپسندیدہ نہیں بشرطیکہ اعتدال کے اندر اور شریعت کے دائرے میں رہے ان کی تزیین بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے۔
Read the full tafseer →زُيِّنَ للنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ : زَیْنٌ (مصدر) شَیْنٌ کے برعکس ہے اس کا مفہوم ہے کسی چیز کا آراستہ، خوبصورت قابل ستائش اور محبوب خاطر ہونا۔ اسباب زینت کبھی (داخلی ہوتے ہیں کبھی خارجی، داخلی اسباب کبھی) غیر مادی ہوتے ہیں جیسے علم عقل وغیرہ اور کبھی مادی بدنی ہوتے ہیں جیسے جسمانی طاقت، حسن قامت، جمال صورت، خارجی اسباب زینت لباس، گھوڑا، سواری، مال، مرتبہ وغیرہ ہیں۔ تزیین (مصدر باب تفعیل۔ متعدی) کسی چیز کو حامل زینت بنا دینا خواہ واقعی وہ حامل زینت ہوجائے جیسے : زَیَّنَا السَّمَآء الدُّنْیَاء بِمَصَابِیْحَ یا محض اعتقادی زینت ہو عتقادی زینت بھی دو طرح کی ہوتی ہے واقع کے مطابق اور غیر مطابق…
Read the full tafseer →(14) اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان دنیاوی نعمتوں کو بیان فرماتے ہیں جو کفار کو بھلی معلوم ہوتی ہیں، ان لوگوں کی محبت مرغوب چیزوں کے ساتھ تھی، مثلا باندیاں اور عورتیں غلام اور لڑکے اور مالوں کے انبار سونے اور چاندی کے سکے۔
اور قناطیر تین اور مقنطرہ نوکو بولتے ہیں اور نشان لگائے ہوئے خوبصورت گھوڑے اور اونٹ گائے بکریاں اور کھیتیاں یہ سب چیزیں ان کو خوشنمامعلوم ہوتی ہیں۔
مگر یہ تمام چیزیں محض دنیاوی زندگی میں فائدہ مند ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیاوی نعمتیں بیان کی ہیں۔ پھر بالآخر ان کا خاتمہ ہوجائے گا اور یہ بھی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ ان مذکورہ چیزوں کی بقا اور زندگی کی مثال گھر کے سامان رکابی…
Read the full tafseer →الشَّهَوٰتِ ”یہ ”شَھْوَۃٌ“ کی جمع ہے جس کا معنی ہے ”کسی مرغوب چیز کی طرف نفس کا کھچ جانا“ یہاں ”الشَّهَوٰتِ“ سے مراد وہ چیزیں ہیں جو طبیعت کو مرغوب ہیں، یعنی مصدر بمعنی اسم مفعول ”مُشْتَھَیَاتٌ“ ہے اور ”مِنَ النِّسَاۗءِ“ میں ”مِنْ“ بیانیہ ہے، یعنی وہ چیزیں یہ ہیں۔ ”َالْقَنَاطِيْرِ“ کا واحد ”قِنْطَارٌ“ ہے، اس کی مقدار میں مختلف اقوال ہیں، مگر سب کا حاصل یہ ہے کہ مال کثیر کو ”قِنْطَارٌ“ کہا جاتا ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی) ہماری زبان میں اس کا ترجمہ ”خزانے“ ہوسکتا ہے۔”مَتَاعُ“ اس سامان کو کہا جاتا ہے جس سے فائدہ حاصل کیا جائے۔ حاصل یہ کہ انسان ان چیزوں کی محبت میں پھنس کر اللہ اور اس کے دین سے غافل…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 14۔
اس میں گیارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” زین للناس “۔ زین تزیین سے ہے اور آراستہ کرنے والے کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہے، ایک گروہ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے اسے آراستہ کیا ہے اور حضرت عمر بن خطاب ؓ کے قول کا ظاہر معنی یہی ہے، اسے بخاری نے ذکر کیا ہے اور قرآن کریم میں ہے :
(آیت) ” انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا “۔ (الکہف : 7)
ترجمہ : بیشک ہم نے بنایا ان چیزوں کو جو زمین پر ہیں ان کے لئے باعث زینت)
اور جب حضرت عمر نے کہا : اے میرے رب ! اس وقت تو نے اسے ہمارے لئے آراستہ کیا ہے پھر یہ آیت نازل ہوئی۔
(آیت) ” قل اؤنبئکم بخیر من ذلکم (آل عمران 15)
ترجمہ : آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
مال و دولت عورتیں فتنہ ہیں
(1) ابن جریر نے ابن ابی حاتم نے ابوبکر بن حفص بن عمر بن سعد (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب لفظ آیت ” زین للناس حب الشھوت “ نازل ہوئی (آخر تک) تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا اے میرے رب ! اب آپ نے ہی ہمارے لیے اس کو مزین کو دیا اب کیا ہوگا ؟ تو (اس پر) یہ ساری آیت ” قل اؤنبئکم بخیر “ نازل ہوئی۔
(2) ابن المنذر نے اسی طرح روایت نقل کی ہے یہاں تک کہ جب ” قل اؤنبئکم بخیر “ تک پہنچے تو رونے لگے اور عرض کیا جب آپ نے ان (چیزوں) کو مزین کردیا ہے (اب کیا ہوگا) ۔
(3) ابن ابی شیبہ عبد بن حمید ابی حاتم نے سیار بن حکم (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے یہ آیت ” زین للناس حب الشھوت “ پڑھی…
Read the full tafseer →[ زُیِّنَ : سجایا گیا ] [لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے ] [حُبُّ الشَّہَوٰتِ : آرزئوں کی محبت کو ] [مِنَ النِّسَآئِ : جیسے عورتوں کی ] [وَالْبَنِیْنَ : اور بیٹوں کی ] [وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَۃِ : اور جمع کیے ہوئے ڈھیروں (کی محبت کو) ] [مِنَ الذَّہَبِ : جیسے سونے کی ] [وَالْفِضَّۃِ : اور چاندی کی ] [وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ : اور نشان زدہ گھوڑوں کی ] [وَالْاَنْعَامِ : اور مویشیوں کی ] [وَالْحَرْثِ : اور کھیتی کی ] [ذٰلِکَ : یہ ] [مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا : دنیوی زندگی کا سامان ہے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [عِنْدَہٗ : اس کے پاس ہی ] [حُسْنُ الْمَاٰبِ : اچھا ٹھکانہ ہے ]
ش ھـ و
شَھَا (ن)…
Read the full tafseer →لوگوں کے لیے دنیاوی مرغوبات مزین کردی گئی ہیں
اس آیت کریمہ میں اجمالی طور پر انسانوں کی مرغوب چیزوں کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ چیزیں چونکہ انسان کو مرغوب اور محبوب ہیں اور ایمان قبول کرنے کی صورت میں بظاہر ان چیزوں کا ضائع ہونا نظر آتا ہے اس لیے عموماً اہل کفر ایمان قبول نہیں کرتے۔ یہودیوں کے سامنے بھی یہی چیزیں تھیں جو ایمان سے مانع تھیں یہ انسان کی بیوقوفی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اللہ کے دین پر چلوں گا تو نعمتیں چھن جائیں گے۔ حالانکہ ایمان کی وجہ سے نعمتیں زیادہ ملتی ہیں یہ بات اور ہے کہ کچھ دن کے لیے بطور امتحان کچھ تکلیف پہنچ جائے۔
خواہش کی چیزیں جو انسان کو مرغوب ہیں وہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں…
Read the full tafseer →بیان حقارت لذات دنیویہ۔
قال تعالی، زین للناس حب الشھوات۔۔۔ الی۔۔۔ حسن الماب۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں کافروں کا حال بیان فرمایا کہ وہ مال دولت کے نشہ میں چور ہیں اس لیے حق کو قبول نہیں کرتے اب ان آیات میں دنیوی لذات کا ہیچ اور فانی ہونا بیان کرتے ہیں کہ یہ تمام عیش و عشرت کے سامان محض چند روزہ ہیں اور عالم جاودانی کے مقابلہ میں بمنزلہ خواب کے ہیں پھر اس کے بعد آئندہ آیات میں حق تعالیٰ نے آخرت کی عظیم الشان اور جلیل القدر نعمتوں کو ذکر فرمایا جو آخرت میں اہل ایمان اور اہل تقوی کو عنایت ہوں گی۔ ان تمام آیات میں وفد نجران کی طرف اشارہ ہے کہ مال وجاہ کی محبت نے حق کے اتباع سے باز رکھا کہ اور نصاری…
Read the full tafseer →ٖ 20 یہ عیسائیوں کے علماء اور گدی نشینوں کے مسئلہ توحید کو نہ ماننے کی وجہ ہے وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے مسئلہ توحید کو مان لیا تو یہ ساری شان و شوکت جاتی رہتی ہے اور سونے چاندی کے لبریز خزانوں سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آجکل کے بہت سے مولوی اور گدی نشین بھی حق بیان نہیں کرتے کیونکہ اس طرح دنیوی ٹھاٹھ اور اندھی آمدنی ہاتھ سے جاتی ہے۔ نیز اس میں ایک شبہ کا جواب بھی ہے۔ شبہ یہ ہے کہ اگر مشرکین مبغوض اور مستحق عذاب ہیں تو ان کے پاس اس قدر دولت کیوں ہے۔ تو اس کا جواب دیا کہ یہ دنیا کی دولت چند روزہ اور بالکل حقیر چیز ہے۔ اس کی وجہ سے تمہیں دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔ جیسے دوسری جگہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
اسباب ضلالت :
گذشتہ آیت میں یہ وعید سنائی گئی تھی کہ جو لوگ کفر کے پروگرام کو غالب دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے مال اور اولاد ان کے کچھ کام نہ آئیں گے۔ اور ساتھ یہ بشارت بھی سنا دی کہ ایسے لوگ بالآخر مغلوب ہوں گے ، اور جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے۔ آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے گمراہی کے اسباب بیان فرمائے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے زین للناس حب الشھوات مرغوب چیزوں کی محبت کو لوگوں کے لیے مزین کردیا گیا ہے۔ یعنی ان اشیاء کے لیے لوگوں کے دلوں میں محبت ڈال دی گئی ہے۔ دوسری جگہ قرآن پاک میں موجود ہے۔ انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا۔ یعنی جو کچھ زمین پر موجود ہے۔ ہم نے اسے زینت بنایا ہے۔ اور زیب وزینت کے اس…
Read the full tafseer →زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَاۗءِ وَالْبَنِيْنَ وَالْقَنَاطِيْرِ الْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ 0 ۭ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا 0 ۚ وَاللہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ 14
زين
الزِّينَةُ الحقیقيّة : ما لا يشين الإنسان في شيء من أحواله لا في الدنیا، ولا في الآخرة، فأمّا ما يزينه في حالة دون حالة فهو من وجه شين،
( زی ن ) الزینہ
زینت حقیقی ہوتی ہے جو انسان کے لئے کسی حالت میں بھی معیوب نہ ہو یعنی نہ دنیا میں اور نہ ہی عقبی ٰ میں اور وہ چیز جو ایک حیثیت سی موجب زینت ہو لیکن دوسری حیثیت سے موجب زینت نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ترکیب : زین فعل مجہول للناس اس کے ساتھ متعلق حب الشہوات مفعول مالم یسم فاعلہ من النساء الخ اس کا بیان ذلک مبتداء متاع الحیوۃ الدنیا خبر ‘ واللّٰہ مبتداء عندہ جملہ الخ خبر ‘ قل فعل انت اس کا فاعل اؤنبئکم جملہ مقولہ بخیر موضع نصب میں ہے اونبئکم سے من ذالکم موضع نصب میں ہے بسبب خبر کے تقدیرہ بما یفصل ذلک۔ جنت موصوف تجری الخ صفت مکمجموعہ مبتداء للذین اتقوا خبر خالدین فیہا حال ہے محذوف سے ‘ ازواج معطوف ہے جنات پر۔ الذین یقولون موضع صبر میں صفت ہے للذین کی الصابرین الخ موضع جر میں صفت ہے للذین کی۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا اِنَّ فی ذلک لعبرۃ لاولی الابصار کہ ان عجائبِ قدرت میں اہل بصیرت کو عبرت کا…
Read the full tafseer →زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآئِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِالْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ط ذٰلِکَ مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ ۔
(مزین کردی گئی ہیں لوگوں کے لیے مرغوباتِ نفس یعنی عورتیں ‘ بیٹے ‘ سونے چاندی کے ڈھیر ‘ نشان زدہ گھوڑے ‘ چوپائے اور کھیتی، یہ دنیوی زندگی کے سروسامان ہیں اور اللہ کے پاس اچھا ٹھکانہ ہے) (14)
آیت نمبر 10 کی مزید تشریح
یہ آیت کریمہ آیت نمبر 10 کی تشریح بھی ہے اور ایک اہم حقیقت کا اظہار بھی۔ آیت نمبر دس میں یہ کہا گیا کہ جو لوگ قرآن اور قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
فہم القرآن
ربط کلام : حق سے انحراف اور قوموں کی تباہی میں دنیا پرستی کا عنصر ہمیشہ غالب رہا ہے اس لیے اس کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔
ہدایت کے راستے میں جو چیزیں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہیں۔ ان میں سر فہرست عورت، بیٹے، سونا، چاندی، سواری، مال، مویشی اور کھیتی باڑی ہے۔ ہر انسان ان میں سے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ ضرورت سے زیادہ محبت کرتا ہے اور یہی چیز راہ ہدایت میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ خواہشات کے میدان میں عام طور پر سب سے پہلی خواہش عورت کے ساتھ مرد کی وابستگی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بطور آزمائش آدمی کے دل میں ان چیزوں کی محبت اور رغبت پیدا فرمائی ہے تاکہ دنیا کا نظام چلتا رہے۔ اگر عورت…
Read the full tafseer →14ـ: زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّھَوٰتِ مِنَ النِّسَآئِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذٰلِکَ مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ ۔ زُیِّنَ لِلنَّاسِ (لوگوں کیلئے مزین کردیا گیا) جمہور کے نزدیک مزین کرنے والے اللہ تعالیٰ ہیں جیسا کہ اس ارشاد میں اِنَّاجَعَلْنَا مَاعَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّھَا لِنَبْلُوَھُمْ (الکہف۔ 7) (بیشک ہم نے زمین کیلئے جو کچھ اس پر ہے اس کو زینت بنایا تاکہ ہم ان کو آزمائیں) مجاہد کی قراءت اس کی دلیل ہے۔ زَیَّنَ لِلنَّاسِ میں فعل معروف کے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 14۔:
(زین ۔۔۔۔۔ الشھوات مزین کی جاتی ہے لوگوں کے لیے مرغوب چیزوں کی محبت) ” شھوات شھوۃ “ کی جمع ہے کسی چیز کی طرف نفس کی رغبت کا ہونا (من اللنساء عورتوں میں سے) اولا اس لیے ذکر کیا چونکہ یہ شیطان کا جال ہیں ۔ (البنین والقناطیر اور بیٹے اور ڈھیر) قناطیر جمع قنطار کی ہے اس میں اختلاف ہے۔
(قنطار کی وضاحت میں مفسرین کے اقوال :)
ربیع بن انس ؓ نے فرمایا قنطار مال کثیر کو کہتے ہیں جس میں مختلف قسم کے اموال ہوں، معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ ”‘ قنطار “ ایک ہزار دو سو اوقیہ ہیں ۔ ہر ایک اوقیہ میں چالیس درہم ہوتے ہیں۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ بارہ سو مثقال مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(14 ۔ 15) ۔ اوپر کی آیت میں ذکر تھا کہ مال اور اولاد کے سبب سے آدمی خدا کے عذاب سے بچ نہیں سکتا اس ذکر کے بعد جہاد کا ذکر تھا کہ عذاب الٰہی سے بچنے کے لئے آدمی نیک عمل کرے اب مال اور اولاد کا ذکر پورا کرنے کے لئے دنیا میں جن چیزوں پر لوگوں کے دل زیادہ گرویدہ اور راغب ہیں پہلے آیت میں ان چیزوں کا ذکر فرما کر دوسری آیٍت میں ان چیزوں سے لوگوں کو اس طرح بےرغبت کیا ہے کہ خود دنیا کو دنیا کی ہر ایک چیز کو زوال لگا ہوا ہے اس لئے قابل رغبت جنت کی نعمتیں ہیں جن کو کبھی زوال نہیں قطع نظر زوال نہ ہونے کے زبان یا قلم میں یہ طاقت کہاں ہے کہ جنت کی چیزوں کی خوبیاں بالتفصیل بیان کرسکے اس واسطے خود اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
آیت 14-17
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے لوگوں کے لئے دنیوی مرغوب چیزوں کی محبت مزین کردی ہے۔ ان میں سے مذکورہ بالا اشیاء کو خاص طور پر ذکر کیا ہے کہ دنیا کی مرغوب چیزوں میں سے یہ سب سے بڑھ کر ہیں۔ باقی سب ان کے تابع ہیں۔ جیسے ارشاد ہے : (انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا) (الکھف :8/18” ہم نے زمین پر جو کچھ ہے اسے زمین کی زینت بنایا ہے “ چونکہ یہ چیزیں مزین کردی گئیں ہیں اور ان میں دلوں کو مائل کرنے کا وصف ہے۔ اس لئے لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوگئے اور عملی طور پر لوگوں کی دو قسمیں ہوگئیں۔ ایک قسم کے لوگ وہ ہیں جنہوں نے انہی مادی اشیاء کو اپنا مقصود بنا لیا، ان کی سوچیں، ان کے خیالات، ان کے…
Read the full tafseer →مرغوبات نفس کیسے خوش آیئند ہیں
قول باری ہے (زین للناس حب الشھوات، لوگوں کے لیئے مرغوبات نفس بڑی خوش آیئندبنادی گئی ہیں) حسن بصری کا قول ہے کہ شیطان نے انہیں خوش آیئندبنایا ہے۔ اس لیئے کہ ان مرغوبات کی ان کے خالق نے جتنی مذمت کی ہے کسی اور نے اتنی مذمت نہیں کی۔ بعض دوسرے مفسرین کا قول ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اس طرح خوش ائیند بنادیا کہ انسانوں کی طبیعتوں میں ان کے حصول کے لیئے ایک دوسرے سے الجھنے کا جذبہ رکھ دیا۔ جس طرح کہ قول باری ہے (اناجعلنا ماعلی الارض زینۃ لھا، ہم نے زمین پر پائی جانے والی تمام اشیاء کو زمین کوزینت بنادی ہے) بعض دوسرے حضرات کا قول ہے کہ مرغوبات میں سے جو اچھی ہیں۔ انہیں…
Read the full tafseer →28 فتنہ و فساد کی ایک جڑ کی نشاندہی : سو مرغوبات نفس کی محبت کا خوشنما بنا دیاجانا فتنہ و فساد کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جس کی بناء پر انہوں نے انہی چیزوں کو اپنا ممطمح نظر اور مقصد حیات بنادیا، یہانتک کہ وہ ان کی محبت میں مستغرق ہو کر اپنے خالق ومالک کو، اور اس کے حقوق کو بھی بھول گئے، اور اپنے انجام اور آخرت سے بھی غافل ہوگئے۔ اور اس طرح وہ اصل مقصد سے منہ موڑ کر اور انہی فانی چیزوں کی تحصیل و تکمیل، اور ان کے جوڑنے جمع کرنے میں مشغول و منہمک ہوگئے۔ اور اس طرح ایسے بدنصیب لوگ متاع عمر کی اپنی پوری پونجی اسی راہ میں صرف کردیتے ہیں، اور اپنی آخرت اور وہاں کی حقیقی زندگی میں خالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
اللہ تعالیٰ کے انعامات کے اصل حقدار
تشریح : ان آیات سے پہلے مسلمانوں اور کفار کی خصوصیات بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہیں۔ ان آیات میں کھرے اور کھوٹے انسان کی پہچان کرائی گئی ہے۔ کیونکہ دنیا کا سازو سامان مثلاً عورتوں کی محبت، اولاد، سونے چاندی کے ڈھیر، عمدہ گھوڑے، مال مویشی اور زرعی زمین وغیرہ یہ سب کچھ انسان کے لئے بڑی کشش رکھتی ہیں اور یہ بہترین زندگی کے اسباب بھی ہیں۔ اسی لئے انسان ان سب چیزوں کو پسند کرتا ہے اور انہی چیزوں کو حاصل کرنے میں کوشش کرتا رہتا ہے۔ رب العزت نے فرمایا کہ یہ سب چیزیں بیشک نعمتیں ہیں۔ مگر یہ سب کچھ امتحان کا باعث بھی بنتی ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ آزمائش ہوتی ہے کہ ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
آیات 10- 20
اسرارو معارف
ان الذین کفروا………………وبئس المھاد۔
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا۔ ان کے مال اور اولاد اللہ کے مقابل ذرہ برابر کام نہ آئیں گے یا وہ یہ سمجھ رکھیں کہ ان کے پاس دولت ہے اولاد ہے تو شاید عنداللہ وہ مقبول ہیں اور یہ اللہ کی خوشنودی کی دلیل ہے ہرگز نہیں ! یہ ایک نظام ہے اللہ کا مقرر کردہ جو چل رہا ہے ہاں ! اللہ کی رضامندی کی دلیل دین ہے۔ اگر دین قبول نہ کیا تو مالدار ہوں یا صاحب اولاد ہوں ، دوزخ کا ایندھن ہیں بلکہ ترجمہ تو یوں ہے کہ یہی لوگ دوزخ کا ایندھن ہیں۔ ان کا رویہ تو آل فرعون جیسا ہے یا ان سے پہلے گزرنے والے کافروں جیسا کہ دولت اور ریاست کے لالچ میں حق کو قبول نہ کیا اور…
Read the full tafseer →ف 3 اشھوات۔ یہ شہوت کی جمع ہے جس کے معنی ہیں (کسی مرغوب چیز کی طرف نفس کا کھینچ جانا) یہاں کا الشہوات سے مراد وہ چیزیں ہیں جو طبعیت کو مرغوب ہیں اور من النساء میں من بیانیہ ہے یعنی وہ چیزیں یہ ہیں۔ القناطیر کا واحد قنطار ہے۔ اس کی مقدار میں مختلف اقوال ہیں مگر سب کا حاصل یہ ہے کہ مال کثیر کو قنطار کہا جاتا ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) ہماری زبان میں اس کا ترجمہ خزانے ہوسکتا ہے اور متاع اس سامان کو کہا جاتا ہے جس سے فائدہ حاصل کیا جائے۔ مزے کا لفظ اس کا تعبیری ترجمہ ہے۔ حاصل یہ کہ انسان ان چیزوں کی محبت میں پھنس کر خدا اور اس کے دین سے غافل ہوجائے اور انہیں تفاخر اور زینت کا ذریعہ سمجھے اور غرور…
Read the full tafseer →(3:14) زین۔ تزئین سے ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ وہ سنوارا گیا۔ مزین کیا گیا۔ اچھا دکھایا گیا۔
قناطیر۔ قنطار کی جمع۔ ڈھیر۔ ابنار۔ کثیر مال۔ پُل ۔ قنطار کی لفظی ساخت بلندی کے مفہوم کو چاہتی ہے اسی لئے اونچی عمارت کو قنطرۃ کہتے ہیں۔ مقنطرۃ۔ ڈھیر کیا ہوا۔ قنطرۃ مصدر باب فعللۃ رباعی مجرد۔
المسومۃ۔ اسم مفعول ۔ واحد مؤنث۔ تسویم مصدر سومۃ سے باب تفعیل نشان زدہ ممتاز۔ سیمۃ سومۃ۔ سیما علامت، نشان ۔ سوم کے معنی کسی چیز کی طلب میں جانا۔ اس مفہوم کے دو اجزاء ہیں۔ جانا اور طلب۔ کبھی صرف دوسرا جزو ملحوظ ہوتا ہے جیسے یسومونکم سوء العذاب (3:49) تمہیں سخت تکلیفیں دینے کی تلاش میں رہتے تھے۔
چرانے کو بھیجنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
لغات القرآن آیت نمبر 14 تا 18
زین (خوبصورت، پسندیدہ بنادی گئی) حب الشھوات (مزوں کی محبت (حب، محبت، الشھوات، حواہشیں) القناطیر (ڈھیر (قنطار، ڈھیر) المقنطرۃ (لگے ہوئے ڈھیر) ذھب (سونا) الفضة (چاندی) الخیل المسومة (پلے ہوئے گھوڑے، نشان لگے ہوئے گھوڑے) الانعام (مویشی) الحرث (کھیتی) متاع (سامان) حسن الماٰب (بہترین ٹھکانا) اء نبئکم (کیا میں تمہیں بتاؤں ؟ ) مطھرۃ (پاکیزہ ، صاف ستھری) رضوان (رضاوخوشنودی) ذنوب (گناہ (ذنب کی جمع) القٰنتین (ادب کرنے والے) المنفقین (خرچ کرنے والے) المستغرین (استغفار کرنے والے) بالاسحار (صبح کے وقت (سحر، صبح) اولوالعلم (علم والے) قائم (قائم رہنے والے ، کھڑے رہنے والے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جنت میں وہ وہ نعمتیں ہیں جن کا حال دنیا میں نہ کسی نے آنکھ سے دیکھا، نہ کسی کان سے سنا، نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے۔ دنیا میں آدمی دنیا کی نعمتوں کی کبھی ناشکری کرتا ہے جس کے سبب سے اللہ کی ناخوشنودی ہو کر دنیا کی نعمتوں میں کمی ہوجاتی ہے۔ جنت میں شروع کی تکلیف کے نہ ہونے سے اللہ تعالیٰ کی ناخوشی کا کھٹکا جنتیوں کو نہیں۔ اس لئے جنت کی نعمتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہمیشہ کی رضا مندی کا ذکر اس آیت میں فرمایا ہے جو سب سے بڑھ کر ایک نعمت ہے۔ انسان کو دنیا کی نعمتوں پر اس قدر گرویدہ نہیں ہونا چاہئے جس سے دین کے کاموں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
[5] جنگ بدر (2 ھ) میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی جبکہ کفار کی تعداد ان سے تین گنا زیادہ تھی۔ مسلمانوں کے پاس سامان جنگ نہایت قلیل تھا اور پورے لشکر میں صرف دو گھوڑے اور سات زرہیں تھیں اور اونٹ اتنے کم کہ چار آدمیوں کے حصہ میں ایک پڑتا تھا۔ اس کے برعکس کفار کا لشکر ضروری سامان سے لیس تھا۔ ان میں سات سو ستر سوار تھے اور زرہ پوش ایک سو تھے۔ اس کثرت تعداد کے باوجود کفار کو ذلت آمیز شکست ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ذلت کے اسباب :
(ف 1) یہ مژدہ ایمان پرور سننے کے بعد کہ مسلمان ہمیشہ مظفر وکامران رہتا ہے ، سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر کون سی چیزیں مسلمان کو ذلت و پستی کی طرف کھینچ لے جاتی ہیں ، اور وہ کیوں بعض حالات میں اپنے اصلی مقام رفعت و عظمت کو چھوڑ کر قفل وتعبد کی گرانبار زنجیروں کو زینت غلو بنا لیتا ہے ، قرآن حکیم کی زبان میں اس کا سبب ایک اور صرف ایک ہے ، یعنی خواہشات نفس کا ضرورت سے زیادہ احترام ۔
مسلمان خار زار دنیا میں بھیجا گیا ہے ، تاکہ آبلہ پائی کی تمام کی تمام مصیبتوں کو وہ برداشت کرے ، کانٹے کانٹے سے الجھے ، مگر دامن ایمان کو صاف بچا لے جائے ، وہ دنیا کی ہر لذت سے استفادہ کرے مگر جائز حد تک ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
ف 1۔ لوگوں کے لئے اشیائے مرغوبہ جیسے عورتیں اور نرینہ اولاد اور سونے چاندی کے ڈھیر کے ڈھیر لگے ہوئے اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور زرعی زمین کی محبت خوش نما ، خوش منظر اور خوش آیند کردی گئی ہے۔ یعنی لوگوں کے لئے ان چیزوں کی محبت کو زینت دیدی گئی ہے لیکن یہ سب چیزیں دنیوی زندگی کا سامان اور جو بر تنے کی چیزیں ہیں اور اچھا ٹھکانہ اور انجام کار کی خوبی تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔
قنطرہ اصل میں عبور کرنے کی چیز کو کہتے ہیں جیسے پل چونکہ مال بھی انسانی زندگی کو عبور کرنے کا ذریعہ ہے اس لئے بکثرت مال کو کہتے ہیں ۔ قناطیر المقنظرہ ، ڈھیر کا ڈھیر مال ، صحابہ ؓ سے مختلف تفسیریں منقول میں…
Read the full tafseer →ف 6۔ یہ جو فرمایا کہ ان چیزوں کی محبت خوشنما معلوم ہوتی ہے اس کا حاصل میرے ذوق میں یہ ہے کہ محبت و میلان غالب حالات میں موجب فتنہ ہوجانے کی وجہ سے ڈر کی چیز تھی، مگر اکثر لوگ اس کو سبب ضرر نہیں جانتے، بلکہ اس میلا کو علی الاطلاق اچھا سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →انسان کا دل لبھانے والی چیزیں کیا ہیں ؟
36: اس آیت میں دنیا کی چند اہم مرغوب چیزوں کا نام لے کر بتلایا گیا ہے کہ لوگوں کی نظروں میں ان کی محبت خوش نماز بنا دی گئی ہے۔ اس لیے بہت سے لوگ اس کی ظاہری رونق پر فریفتہ ہو کر آخرت کو بھلا بیٹھتے ہیں۔ جن چیزوں کا نام اس جگہ لیا گیا ہے وہ عام طور پر انسانی رغبت و محبت کا مرکز ہیں جن کو بالکل اسی ترتیب سے بیان کیا گیا ہے جو فطرت کے اندر مرغوب ہونے کے درجہ کے عین مطابق ہے دیکھو سب سے پہلے عورت اور اس کے بعد اولاد کو بیان کیا گیا ہے۔ دنیا میں انسان جتنی چیزوں کے حاصل کرنے کی فکر میں لگا رہتا ہے سب کا اصل سبب عورت یا اولاد کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد سونے چاندی…
Read the full tafseer →Sequence
That the hostility of disbelievers should be countered with Jihad against them was the theme in several previous verses. Now, in these verses the text explains the reason why the disbelievers indulge in hostility against Islam and Muslims. The reason for this and for all evil deeds is, in fact, the love of the worldly life. There are all sorts of people who line up against the truth - some driven by greed for wealth or power, some goaded by lust and some in defence of false ancestral customs: All this is just to grab a share in the temporal enjoyments of the present life which has…
Read the full tafseer →10. The events and results of the Battle of Badr are briefly reviewed so as to bring home certain lessons to the Muslims. There are three important lessons to be learnt. First, the manner in which the believers and the unbelievers advanced to the battlefield clearly demonstrated the difference in the moral fibre of the two armies. In the army of the unbelievers, the soldiers held drinking parties and were entertained by the songs and dances of slave girls. The prevalent mood of that army was one of self-indulgence. On the other hand, piety, fear of God and moral restraint of the highest order…
Read the full tafseer →