Explained with ayahs 14–15
دنیا کے حسن اور آخرت کے جمال کا تقابل
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ دنیا کی زندگی کو طرح طرح کی لذتوں سے سجایا گیا ہے ان سب چیزوں میں سب سے پہلے عورتوں کو بیان فرمایا، اس لئے کہ ان کا فتنہ بڑا زبردست ہے۔ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میں نے اپنے بعد مردوں کیلئے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑا، ہاں جب کسی شخص کی نیت نکاح کرکے زنا سے بچنے کی اور اولاد کی کثرت سے ہو تو بیشک یہ نیک کام ہے اس کی رغبت شریعت نے دلائی ہے اور اس کا حکم دیا ہے اور بہت سی حدیثیں نکاح کرنے بلکہ کثرت نکاح کرنے کی فضیلت میں آئی ہیں اور اس امت میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ بیویوں والا ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
سورة اٰلِ عِمْرٰن 11
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ 27۔ (سورة الْبَقَرَة 27)
عربی متن میں ازدواج کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی ہیں ”جوڑے“۔ اور یہ لفظ شوہر اور بیوی دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ شوہر کے لیے بیوی ”زوج“ ہے اور بیوی کے لیے شوہر ”زوج“۔ مگر وہاں یہ ازدواج پاکیزگی کی صفت کے ساتھ ہوں گے۔ اگر دنیا میں کوئی مرد نیک ہے اور اس کی بیوی نیک نہیں ہے، تو آخرت میں ان کا رشتہ کٹ جائے گا اور اس نیک مرد کو کوئی دوسری نیک بیوی دے دی جائے گی۔ اگر یہاں کوئی عورت نیک ہے اور اس کا شوہر بد، تو وہاں وہ اس برے شوہر کی صحبت سے خلاصی پا جائے گی اور کوئی نیک مرد اس کا شریک زندگی بنادیا جائے گا۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
دوسری آیت میں اسی مضمون کی مزید توضیح کرنے کے لئے فرمایا (قُلْ اَؤ ُ نَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ ۭ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَاَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ) اس میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے ارشاد ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں سے جو دنیا کی ناقص اور فانی نعمتوں میں مست ہوگئے ہیں فرما دیجیے کہ میں تمہیں ان سے بہت بہتر نعمتوں کا پتہ دیتا ہوں، جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں اور اس کے فرمانبرداروں کو ملیں گی، وہ نعمتیں سرسبز باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ہر قسم…
Read the full tafseer →مخاطبین کو زاویہ نگاہ بدلنے کی دعوت : یہ مخاطبین کو زاویہ نگاہ بدلنے کی دعوت ہے اس لیے کہ اس کے بدلے بغیر قرآنی اقدار کی طلب دل میں پیدا نہیں ہوسکتی۔ قرآن کے نزدیک انسان کی اصل بیماری اس کی تنگ نظری اور پست حوصلگی ہے۔ وہ اس دنیا کی چند روزہ زندگی کو کل زندگی سمجھ بیٹھا ہے۔ جس کے سبب سے اس کی ساری بھاگ دوڑ اسی دنیا کی مرغوبات و مطلوبات تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے حالانکہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے جو ابدی اور لازوال ہے۔ اگر انسان اس زندگی کی طلب میں تقوی کی روش اختیار کرے یعنی اس دنیا سے متعلق خدا نے جو حدود حرام و حلال ٹھہرا دیے ہیں ان کی پابندی کرے تو اسے آخرت کی ابدی زندگی میں وہ نعمتیں ملیں…
Read the full tafseer →15۔ 1 اس آیت میں اہل ایمان کو بتلایا جا رہا ہے کہ دنیا کی مذکورہ چیزوں میں ہی مت کھو جانا بلکہ ان سے بہتر وہ زندگی اور نعمتیں ہیں جو رب کے پاس ہیں جن کے مستحق اہل تقویٰ ہی ہونگے اس لئے تم تقویٰ اختیار کرو اگر یہ تمہارے اندر پیدا ہوگیا تو یقینا تم دین دنیا کی بھلائیاں اپنے دامن میں سمیٹ لو گے۔
15۔ 2 پاکیزہ یعنی وہ دنیاوی میل کچیل حیض و نفاس اور دیگر آلودگیوں سے پاک ہوں گی اور پاک دامن ہونگی۔ اس سے اگلی دو آیات میں اہل تقویٰ کی صفات کا تذکرہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–26
6: جب غزوہ احزاب کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے پیشینگوئی فرمائی تھی کہ روم اور ایران کی سلطنتیں مسلمانوں کے قبضے میں آجائیں گی تو کفار نے بڑا مذاق اڑایا کہ ان لوگوں کو اپنے دفاع کے لئے خندق کھودنی پڑرہی ہے اور ان پر فاقے گزر رہے ہیں مگر دعوے یہ ہیں کہ یہ روم اور ایران فتح کرلیں گے، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں مسلمانوں کو یہ دعا تلقین فرما کر ایک لطیف پیرائے میں ان کا جواب دے دیا گیا۔
Read the full tafseer →یہ ہے آخرت کا سازوسامان ‘ جس کا تذکرہ قرآن مجید کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اہل تقویٰ مؤمنین کو اس بارے میں خوشخبری دے دیں ۔ نعیم اخروی بھی عموماً انسانی خواہش ہی سے تعلق رکھتی ہیں لیکن اس کے اور اس دنیاوی انعام واکرام کے درمیان ایک بہت ہی بڑا فرق بھی ہے۔ یہ ایک ایسا سازوسامان ہے جس تک صرف ان لوگوں کی رسائی ہوگی ‘ جو اس دنیا میں اہل تقویٰ تھے ‘ جس کے دل خوف اللہ سے بھرے تھے ۔ ان کے دل یاد الٰہی سے معمور تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا خوفی کا شعور بیک وقت روحانی دنیا اور حسی دنیا کی اصلاح کرتا ہے ۔ وہ نفس انسانی کو شہوات میں مستغرق ہونے سے بچاتا ہے ۔ اس کی حفاظت کرتا ہے کہ…
Read the full tafseer →5 یعنی ہر قسم کی صوری و معنوی گندگی سے پاک و صاف ہوں گی۔
6 کہ اس سے بڑھ کر کیا نعمت ہوسکتی ہے بلکہ جنت بھی فی الحقیقت اس لئے مطلوب ہے کہ وہ محل رضا ہے۔
7 بندوں کے تمام اعمال و احوال اس کے سامنے ہیں جو جس جزا و سزا کا مستحق ہوگا۔ بلا کم وکاست دی جائے گی۔ دنیا کی بہار پر مرنے والے اور اس کے فانی مزوں سے پرہیز کرنے والے سب اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچا دیئے جائیں گے۔ یا یہ مطلب لیا جائے کہ پرہیزگار بندوں پر خدا کی نگاہ لطف و کرم ہے جو دنیا کی ابلہ فریب سحر کاریوں سے ان کو محفوظ رکھتی ہے۔ چناچہ حدیث میں آپ نے فرمایا کہ جب خدا کسی بندہ کو محبوب رکھتا ہے تو اسی طرح دنیا سے اس کا پرہیز کرا دیتا ہے جیسے…
Read the full tafseer →آیت 15 قُلْ اَؤُنَبِّءُکُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِکُمْ ط لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ
تقویٰ یہی ہے کہ تم پر اپنے نفس کا بھی حق ہے جو تمہیں ادا کرنا ہے ‘ لیکن ناجائز راستے سے نہیں۔ تمہارے پیٹ کا بھی حق ہے ‘ وہ بھی ادا کرو ‘ لیکن اکل حلال سے۔ تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد کے بھی تم پر حقوق ہیں ‘ جو تمہیں جائز طریقوں سے ادا کرنے ہیں۔ تمہارے جو ملاقاتی آنے والے ہیں ان کا بھی تم پر حق ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رض سے ارشاد فرمایا تھا :
فَاِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّا ‘ وَاِنَّ لِعَیْنِکَ عَلَیْکَ حَقًّا ‘ وَاِنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
16 یعنی وہ لوگ جو مندرجہ بالا اشیاء کے حصول میں شریعت کی حدود وقیود اور حلال و حرام کی تمیز رکھیں ان کے حصول میں اس قدر مستغرق نہ ہوجائیں کہ اللہ کی یاد اور فکر آخرت کو بھول ہی جائیں اور جب ان چیزوں میں سے کوئی چیز یا سب چیزیں انہیں حاصل ہوجائیں تو ان میں اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کریں اور انہیں اسی طرح خرچ کریں جس طرح اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے۔
17 ازواج زوج کی جمع ہے اور زوج ذومعنی لفظ ہے۔ خاوند کے لیے اس کی بیوی اس کا زوج ہے اور بیوی کے لیے اس کا خاوند اس کا زوج ہے۔ یعنی اگر دنیا میں کسی نیک آدمی کی بیوی نہیں تھی تو اسے کوئی نیک بیوی ہی ملے گی اور بدسرشت بیوی جہنم میں ہوگی۔ اسی…
Read the full tafseer →36 ۔ (کیا یہ لحاظ کیفیت، کیا بہ لحاظ کمیت اور کیا یہ لحاظ قیام و دوام) خطاب عام انسانوں سے، رسول اللہ ﷺ کے واسطہ سے ہے۔ (آیت) ” ذلکم “۔ یعنی یہ چیزیں جو سرتا سر بےثبات وبے حقیقت ہیں۔
37 ۔ (آیت) ” الذین اتقوا “ یعنی جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں۔ خوف خدا پر رحمت الہی کے مرتب ومتوجہ ہونے کا ذکر قرآن مجید ہی نہیں اگلے صحیفوں میں بھی بار بار آیا ہے۔ چناچہ توریت کے حوالہ پارۂ اول کے حواشی میں گزر چکے۔ مسیحیوں کے مقدس نوشتے بھی خوف و خشیت کے ذکر سے خالی نہیں۔ ” اور اس کا رحم ان پر جو اس سے ڈرتے ہیں پشت در پشت رہتا ہے (لوقا 1:5) ” آؤ اپنے آپ کو ہر طرح کی جسمانی آلودگی سے پاک کردیں اور خدا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ ، آخر شب کی خصوصیت اس لیے ہے کہ وہ وقت خاص طور پر دل جمعی اور روحانی قویٰ کی بیداری و بالیدگی کا ہوتا ہے اور نفس پر اس وقت کا اٹھنا شاق بھی گزرتا ہے یہ مطلب نہیں کہ استغفار بجز سحر کے وقت کے دوسرے وقت میں نہیں ہوسکتا۔ اَلصَّابِرِیْنَ وَالصَّادِقِیْنَ یعنی صبر کرنے والے، امام رازی نے لکھا ہے کہ فعل کے صیغے کے بجائے اسم فاعل کا صیغہ اس لیے لائے ہیں کہ ان سے اشخاص کی یہ عام اور مستقل عادت ظاہر ہو۔
Read the full tafseer →قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ : آپ کہہ دیجئے کہ کیا ان تمام مذکورہ چیزوں سے بہتر چیز میں تم کو بتاؤں۔ اس جملہ میں کافروں کے لیے زجر ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسول اللہ (باوجود پیغمبر ہونے کے) اس امر میں متردد ہیں کہ کیا رحم و مہربانی کے تقاضے کے تحت اور اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کافروں کو اس بہترین چیز کی اطلاع دیدیں یا کافروں کے انکار اور حق سے نفرت کے پیش نظر ان کو نہ بتائیں۔ پہلے اشارۃً کہا تھا کہ اللہ کا عطا کردہ ثواب دنیوی لذتوں سے بہتر ہے۔ اس جملہ میں اسی مضمون کو پختہ کردیا ہے۔
لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ : جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا ان…
Read the full tafseer →(15) اب اسی طرح آخرت کی نعمتیں ان کا بقا اور ان کی افضیلت بیان فرماتے ہیں، اے محمد ﷺ آپ ان کفار سے فرما دیجیے کہ تمہیں ایسی چیز بتلاؤں جو ان مذکورہ دنیاوی چیزوں سے بہت بہتر ہو ؟ تو سنو ایسے لوگوں کے لیے جو کفر وشرک اور تمام بےحیائی کی باتوں سے ڈرتے ہیں جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے ساتھی ان کے لیے جنت میں ایسے باغات، جن میں درختوں اور مکانوں کے نیچے سے شراب طہور شہد دودھ اور پانی کی نہریں ہیں، یہ لوگ ان بہیشتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے کہ جس میں نہ موت آئے گی اور نہ یہ لوگ وہاں سے نکالے جائیں گے، ان کے لیے ایسی بیویاں ہوں گی جو حیض وغیرہ سے ہر طرح صاف ستھری ہوں گی اور ان کے لیے اللہ…
Read the full tafseer →دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (25) کی تفسیر۔ اس آیت میں مذکور لفظ ’ رِضْوَانٌ“ ”رَضِیَ یَرْضَی (س)“ ناقص واوی سے مصدر ہے، اس کا مصدر ”رِضًا“ بھی آتا ہے، مگر ”َّرِضْوَانٌ“ میں حروف زیادہ ہونے اور تنوین برائے تعظیم ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”عظیم خوشنودی“ کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نعمت جنت کی تمام نعمتوں سے اعلیٰ ہے، اللہ نے فرمایا : (وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ) [ التوبۃ : 72 ] ”اور اللہ کی طرف سے تھوڑی سی خوشنودی سب سے بڑی ہے۔ ‘
Read the full tafseer →آیت نمبر : 15۔
سوال کی انتہاء (آیت) ” من ذلکم “ پر ہے۔ اور (آیت) ” للذین اتقوا “۔ خبر مقدم ہے اور ” جنت “ مبتدا ہونے کے سبب مرفوع ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سوال کی انتہا (آیت) ” عند ربھم “۔ پر ہے اور جنت مبتدا محذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے، تقدیر کلام ہے ذالک جنات (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 410 دارالکتب العلمیہ) اور اس تاویل کی بنا پر جنت کو خیر سے بدل کر مجرور پڑھنا بھی جائز ہے لیکن پہلی صورت میں یہ جائز نہیں۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ آیت اور اس سے پہلے والی آیت حضور ﷺ کے اس قول کی مثل ہے : ” عورت سے چار چیزوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے اس کے مال کی وجہ سے، اس کے حسب کی وجہ سے، اس…
Read the full tafseer →(1) عبد بن حمید ابن المنذر ابن ابی حاتم نے قتادہ رحمۃ اللہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ عمر بن خطاب ؓ فرمایا کرتے تھے۔ اے اللہ ! آپ نے ہمارے لئے دنیا کو مزین کردیا اور ہم کو یہ بھی خبر دی کہ آخرت اس سے بہتر ہے اس میں سے سو ہمارے لئے حصہ بنا دیجئے گا۔ اس چیز پر سے جو بہتر ہو اور باقی رہنے والی ہو۔
Read the full tafseer →[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [اَؤُنَــبِّئُکُمْ : کیا میں خبر دوں تم لوگوں کو ] [بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِکُمْ : اس سے زیادہ بہتر (چیز ) کی ] [لِلَّذِیْنَ : ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ] [اتَّقَوْا : تقویٰ اختیار کیا ] [عِنْدَ رَبِّہِمْ : ان کے رب کے پاس ] [جَنّٰتٌ : ایسے باغات ہیں ] [تَجْرِیْ : بہتی ہیں ] [مِنْ تَحْتِہَا : جن کے دامن میں ] [الْاَنْہٰرُ : نہریں ] [خٰلِدِیْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] [فِیْہَا : ان میں ] [وَاَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ : اور پاک کیے ہوئے جوڑے ہیں ] [وَّرِضْوَانٌ : اور خوشنودی ہے ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [بَصِیْرٌ : دیکھنے والا ہے ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
اہل تقویٰ کا آخرت میں انعام
لوگوں کی دنیاوی مرغوبات ذکر فرمانے کے بعد اس آیت میں آخرت کی نعمتوں کو ذکر فرمایا اور بتادیا کہ ان دنیاوی چیزوں سے بہتر وہ چیزیں ہیں جو آخرت میں نصیب ہوں گی لیکن وہ ہر شخص کو نہیں ملیں گی۔ وہ اہل تقویٰ کو نصیب ہوں گی۔ سب سے بڑا تقویٰ تو یہ ہے کہ انسان کفر اور شرک سے بچے اور ایمان قبول کرے ایمان کے بغیر کوئی عمل صالح معتبر نہیں اور اس کے بعد تقویٰ کے درجات ہیں، کبیرہ گناہوں سے بچنا یہ بھی تقویٰ ہے اور مشتبہات سے بچنا بھی تقویٰ ہے۔ متقی بندوں سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ان کے رب کے پاس انہیں ایسے باغ ملیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ مزید برآں یہ کہ وہ ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
بیان نفاست نعمائے اخرویہ ومستحقین آنہا۔
قال تعالی، قل اء نبئکم بغیر من ذالکم۔۔۔۔ الی۔۔۔ بالاسحار۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں لذات دنیویہ کی حقارت اور خساست کو بیان فرمایا اب ان آیات میں اخروی نعمتوں کی نفاست کو بیان فرماتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ ان نفیس اور لازوال نعمتوں کے اہل اور مستحق کون لوگ ہیں، نیز گزشتہ آیت میں یہ بتلایا تھا کہ دنیا کے سامان سے فقط دنیا کی چند روزہ زندگی میں نفع اٹھایا جاسکتا ہے اب آئندہ آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ مستقل اور پائیدار فائدہ اور دائمی فلاح کے حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے چناچہ فرماتے ہیں کہ اے نبی کریم ﷺ آپ ان لوگوں سے جو شہوات اور لذات کی…
Read the full tafseer →21 یہ ماقبل ہی کی تقریر وتاکید ہے۔ دنیوی سامان اور فانی منافع بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ آخرت کی نعمتیں اور جنت کے منافع۔ کمیت وکیفیت کے اعتبار سے نیز دوام بقاء کے اعتبار سے دنیوی سازوسامان سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ انہ تعالیٰ لما عدد نعم الدنیا بین ان منافع الاخرۃ خیر منھا (کبیر ج 2 ص 620) ذَالِکُمْ کا اشارہ مذکورہ سازوسامان کی طرف ہے۔ حضرت شیخ (رح) نے تبشیر بنعم الجنۃ وترغیب فی الآخرۃ بعد التزیید فی الدین یعنی دنیوی ساز و سامان سے نفرت دلانے کے بعد یہاں اخروی نعمتوں کی بشارت اور ترغیب دی ہے (کذا فی المدارک ج 1 ص 116)
22 لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا خبر مقدوم ہے اور جَنَّاتٍ تَجْرِیْ الخ مع معطوفات مبتدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
اسباب ضلالت :
گذشتہ آیت میں یہ وعید سنائی گئی تھی کہ جو لوگ کفر کے پروگرام کو غالب دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے مال اور اولاد ان کے کچھ کام نہ آئیں گے۔ اور ساتھ یہ بشارت بھی سنا دی کہ ایسے لوگ بالآخر مغلوب ہوں گے ، اور جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے۔ آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے گمراہی کے اسباب بیان فرمائے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے زین للناس حب الشھوات مرغوب چیزوں کی محبت کو لوگوں کے لیے مزین کردیا گیا ہے۔ یعنی ان اشیاء کے لیے لوگوں کے دلوں میں محبت ڈال دی گئی ہے۔ دوسری جگہ قرآن پاک میں موجود ہے۔ انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا۔ یعنی جو کچھ زمین پر موجود ہے۔ ہم نے اسے زینت بنایا ہے۔ اور زیب وزینت کے اس…
Read the full tafseer →قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ 0 ۭ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا وَاَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ وَّرِضْوَانٌ مِّنَ اللہِ 0 ۭ وَاللہُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ 15 ۚ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
والقَوْلُ يستعمل علی أوجه :
أظهرها أن يكون للمرکّب من الحروف المبرز بالنّطق، مفردا کان أو جملة، فالمفرد کقولک : زيد، وخرج . والمرکّب، زيد منطلق، وهل خرج عمرو، ونحو ذلك، وقد يستعمل الجزء الواحد من الأنواع الثلاثة أعني : الاسم والفعل والأداة قَوْلًا، كما قد تسمّى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ترکیب : زین فعل مجہول للناس اس کے ساتھ متعلق حب الشہوات مفعول مالم یسم فاعلہ من النساء الخ اس کا بیان ذلک مبتداء متاع الحیوۃ الدنیا خبر ‘ واللّٰہ مبتداء عندہ جملہ الخ خبر ‘ قل فعل انت اس کا فاعل اؤنبئکم جملہ مقولہ بخیر موضع نصب میں ہے اونبئکم سے من ذالکم موضع نصب میں ہے بسبب خبر کے تقدیرہ بما یفصل ذلک۔ جنت موصوف تجری الخ صفت مکمجموعہ مبتداء للذین اتقوا خبر خالدین فیہا حال ہے محذوف سے ‘ ازواج معطوف ہے جنات پر۔ الذین یقولون موضع صبر میں صفت ہے للذین کی الصابرین الخ موضع جر میں صفت ہے للذین کی۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا اِنَّ فی ذلک لعبرۃ لاولی الابصار کہ ان عجائبِ قدرت میں اہل بصیرت کو عبرت کا…
Read the full tafseer →قُلْ اَؤُنَـبِّئُکُمْ بِخَیْرٍمِّنْ ذٰلِـکُمْ ط لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَاَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ وَّرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ م بِالْعِبَادِ ۔ ج
(اے پیغمبر ! ان سے کہئے کیا میں تمہیں ان چیزوں سے بہتر چیز کی خبر نہ دوں ؟ ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کریں گے ان کے رب کے پاس ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور اللہ کی خوشنودی ہوگی۔ اللہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا ہے) ( 15)
دنیا کی غلامی سے نکالنے کی ایک کوشش
قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : دنیا پرستی کے بجائے آدمی کی نظر آخرت کی دائمی نعمتوں پر ہونی چاہیے ایسا وہی لوگ کرتے ہیں جن میں یہ اوصاف پائے جاتے ہیں۔ اور وہ اپنے رب سے معافی مانگتے ہیں۔
میرے محبوب فرمائیں کہ اے دنیا دارو ! آؤ میں تمہیں ان نعمتوں سے بڑھ کر نعمتیں بتاتا ہوں۔ جو اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے پرہیزگار بندوں کے لیے جنت میں تیار فرمائی ہیں۔ ایسی جنت جس کے نیچے نہریں اور آبشاریں جاری ہیں۔ اس میں متقین کے لیے پارسا و باوفا اور حسن و جمال کی پیکر بیویاں ہوں گی۔ اس جنت کے وارث ایسے پرہیزگار ہوں گے جو نیکی اور پارسائی کے باوجود اپنے رب سے اپنے گناہوں اور خطاؤں کی معافی طلب کرتے اور ہر دم جہنم کی…
Read the full tafseer →15: قُلْ اَؤُ نَبِّئُکُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِکُمْ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَرَبِّھِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَھَّرَۃٌ وَّرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِ ۔ پھر ان کو دنیا میں زہد کا حکم دیا اور فرمایا کہ میں تمہیں اس سے بہتر کی اطلاع و خبر نہ دوں۔ قُلْ اَؤُ نَبِّئُکُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِکُمْ ، (آپ فرما دیں کیا میں تم کو ایسی چیز بتلا دوں جو بہتر ہے ان تمام چیزوں سے) ان تمام سے بہتر جو مذکور ہوئیں۔ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَرَبِّھِمْ جَنّٰتٌ۔ (متقین کیلئے ان کے رب کے ہاں باغات ہیں)
نحو : یہ جملہ مستانفہ ہے۔…
Read the full tafseer →(تفسیر) 15۔:
(قل اؤنبئکم کیا میں تمہیں خبردوں) ” انبئکم “ سے مراد خبر دینا ہے (بخیر۔۔۔۔۔۔۔ من اللہ جو بہتر ہو ان چیزوں سے ایسے لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ان کے مالک کے پاس ایسے ایسے باغ ہیں جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ان کی بیویاں ہیں پاکیزہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشنودی) عام قراء نے اس کو راء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ” رضوان “ ابوبکررحمۃ اللہ علیہ اور عاصم کی قرات میں راء کے ضمہ کے ساتھ ہے ” رضوان “ یہ دونوں طرح پڑھا جاتا ہے جیسے کہ ” عدوان “ اور عدوان “ ہے۔
(جنتیوں کیلئے عظیم خوشخبری)
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(14 ۔ 15) ۔ اوپر کی آیت میں ذکر تھا کہ مال اور اولاد کے سبب سے آدمی خدا کے عذاب سے بچ نہیں سکتا اس ذکر کے بعد جہاد کا ذکر تھا کہ عذاب الٰہی سے بچنے کے لئے آدمی نیک عمل کرے اب مال اور اولاد کا ذکر پورا کرنے کے لئے دنیا میں جن چیزوں پر لوگوں کے دل زیادہ گرویدہ اور راغب ہیں پہلے آیت میں ان چیزوں کا ذکر فرما کر دوسری آیٍت میں ان چیزوں سے لوگوں کو اس طرح بےرغبت کیا ہے کہ خود دنیا کو دنیا کی ہر ایک چیز کو زوال لگا ہوا ہے اس لئے قابل رغبت جنت کی نعمتیں ہیں جن کو کبھی زوال نہیں قطع نظر زوال نہ ہونے کے زبان یا قلم میں یہ طاقت کہاں ہے کہ جنت کی چیزوں کی خوبیاں بالتفصیل بیان کرسکے اس واسطے خود اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
آیت 14-17
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے لوگوں کے لئے دنیوی مرغوب چیزوں کی محبت مزین کردی ہے۔ ان میں سے مذکورہ بالا اشیاء کو خاص طور پر ذکر کیا ہے کہ دنیا کی مرغوب چیزوں میں سے یہ سب سے بڑھ کر ہیں۔ باقی سب ان کے تابع ہیں۔ جیسے ارشاد ہے : (انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا) (الکھف :8/18” ہم نے زمین پر جو کچھ ہے اسے زمین کی زینت بنایا ہے “ چونکہ یہ چیزیں مزین کردی گئیں ہیں اور ان میں دلوں کو مائل کرنے کا وصف ہے۔ اس لئے لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوگئے اور عملی طور پر لوگوں کی دو قسمیں ہوگئیں۔ ایک قسم کے لوگ وہ ہیں جنہوں نے انہی مادی اشیاء کو اپنا مقصود بنا لیا، ان کی سوچیں، ان کے خیالات، ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
قول باری ہے (ان الذین یکفرون بایات اللہ ویقتلون النبیین بغیرحق و یقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس فبشرھم یعذاب الیم، جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں جو خلق خدا میں عدل اور راستی کا حکم دینے کے لیئے اٹھیں ان کو دردناک سزا کی خوشخبری سنادو) حضرت ابوعبیدہ بن الجراح سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ قیامت کے دن کس شخص کی سزاسب سے زیادہ سخت ہوگی ؟ آپ نے فرمایا (رجل قتل نبیا اور رجل ھوب معروف تھی عن منکرء اس شخص کی سزاسب سے سخت ہوگی جس نے کسی نبی کو یا امربالمعروف اور…
Read the full tafseer →32 تقویٰ و پرہیزگاری فوز و فلاح کی اصل اور حقیقی بنیاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے تقوی کی زندگی گزاری ہوگی اور انہوں نے خواہشات نفس کو ترک کر کے رضائے خداوندی کو اپنا نصب العین اور مقصد حیات بنایا ہوگا ان کے لیے ان کے رب کے یہاں ایسی عظیم الشان جنتیں ہونگی جن کے نیچے سے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہہ رہی ہونگی۔ سو ان کو ان کے تقویٰ کے عوض آخرت کی اس حقیقی زندگی میں وہ من چاہی زندگی گزارنے کی سعادت نصیب ہوگی، جو یہاں کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی نصیب نہیں ہوسکتی، کہ وہاں ان کی ہر خواہش پوری ہوگی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْ اَنْفُسُکُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
اللہ تعالیٰ کے انعامات کے اصل حقدار
تشریح : ان آیات سے پہلے مسلمانوں اور کفار کی خصوصیات بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہیں۔ ان آیات میں کھرے اور کھوٹے انسان کی پہچان کرائی گئی ہے۔ کیونکہ دنیا کا سازو سامان مثلاً عورتوں کی محبت، اولاد، سونے چاندی کے ڈھیر، عمدہ گھوڑے، مال مویشی اور زرعی زمین وغیرہ یہ سب کچھ انسان کے لئے بڑی کشش رکھتی ہیں اور یہ بہترین زندگی کے اسباب بھی ہیں۔ اسی لئے انسان ان سب چیزوں کو پسند کرتا ہے اور انہی چیزوں کو حاصل کرنے میں کوشش کرتا رہتا ہے۔ رب العزت نے فرمایا کہ یہ سب چیزیں بیشک نعمتیں ہیں۔ مگر یہ سب کچھ امتحان کا باعث بھی بنتی ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ آزمائش ہوتی ہے کہ ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
آیات 10- 20
اسرارو معارف
ان الذین کفروا………………وبئس المھاد۔
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا۔ ان کے مال اور اولاد اللہ کے مقابل ذرہ برابر کام نہ آئیں گے یا وہ یہ سمجھ رکھیں کہ ان کے پاس دولت ہے اولاد ہے تو شاید عنداللہ وہ مقبول ہیں اور یہ اللہ کی خوشنودی کی دلیل ہے ہرگز نہیں ! یہ ایک نظام ہے اللہ کا مقرر کردہ جو چل رہا ہے ہاں ! اللہ کی رضامندی کی دلیل دین ہے۔ اگر دین قبول نہ کیا تو مالدار ہوں یا صاحب اولاد ہوں ، دوزخ کا ایندھن ہیں بلکہ ترجمہ تو یوں ہے کہ یہی لوگ دوزخ کا ایندھن ہیں۔ ان کا رویہ تو آل فرعون جیسا ہے یا ان سے پہلے گزرنے والے کافروں جیسا کہ دولت اور ریاست کے لالچ میں حق کو قبول نہ کیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 4 حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت زین اللناس نازل ہوئی تو میں نے کہا یا للہ ! اب جب کہ تو نے خود ہے ان چیزوں کو ہمارے لے پسند یدہ بنادیا ہے تو ہم اس فتنہ سے کیسے بچ سکتے ہیں ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جنہیں آخرت میں مذکورہ نعمتیں حاصل ہوں گی وہ ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں اور جن میں وہ صفات پائی جاتی ہیں جن کا اگلی آیت میں ذکر آرہا ہے۔
Read the full tafseer →(3:15) قل۔ ای قل یا محمد۔ اے محمد ﷺ ان کو کہہ دیجئے۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔
اأنبئکم۔ أ استفہامیہ نہیں بلکہ تقریر اور ثبوت کے لئے ہے انبی مضارع واحد متکلم تنبئۃ (باب تفعیل) سے بمعنی خبر دینا۔ بتانا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ کیا میں تم کو بتاؤں، میں تمہیں بتاتا ہوں ۔ خیر۔ افعل التفضیل کا صیغہ۔ بہتر۔ زیادہ اچھی، عمدہ تر، ذلک سے مراد وہ چیزیں اور نعمتیں جو دنیاوی ہیں اور اوپر مذکور ہوتی ہیں ۔ (وہ بہتر چیز کونسی ہے وہ یہ کہ متقیوں کے لئے ان کے رب کے ہاں جنتیں ہیں جن میں نہریں جاری ہیں) ۔
ازواج اور رضوان کا عطف جنت پر ہے۔ اور ان کے لئے ہوں گی پاک بیبیاں اور خدا کی خوشنودی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
لغات القرآن آیت نمبر 14 تا 18
زین (خوبصورت، پسندیدہ بنادی گئی) حب الشھوات (مزوں کی محبت (حب، محبت، الشھوات، حواہشیں) القناطیر (ڈھیر (قنطار، ڈھیر) المقنطرۃ (لگے ہوئے ڈھیر) ذھب (سونا) الفضة (چاندی) الخیل المسومة (پلے ہوئے گھوڑے، نشان لگے ہوئے گھوڑے) الانعام (مویشی) الحرث (کھیتی) متاع (سامان) حسن الماٰب (بہترین ٹھکانا) اء نبئکم (کیا میں تمہیں بتاؤں ؟ ) مطھرۃ (پاکیزہ ، صاف ستھری) رضوان (رضاوخوشنودی) ذنوب (گناہ (ذنب کی جمع) القٰنتین (ادب کرنے والے) المنفقین (خرچ کرنے والے) المستغرین (استغفار کرنے والے) بالاسحار (صبح کے وقت (سحر، صبح) اولوالعلم (علم والے) قائم (قائم رہنے والے ، کھڑے رہنے والے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جنت میں وہ وہ نعمتیں ہیں جن کا حال دنیا میں نہ کسی نے آنکھ سے دیکھا، نہ کسی کان سے سنا، نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے۔ دنیا میں آدمی دنیا کی نعمتوں کی کبھی ناشکری کرتا ہے جس کے سبب سے اللہ کی ناخوشنودی ہو کر دنیا کی نعمتوں میں کمی ہوجاتی ہے۔ جنت میں شروع کی تکلیف کے نہ ہونے سے اللہ تعالیٰ کی ناخوشی کا کھٹکا جنتیوں کو نہیں۔ اس لئے جنت کی نعمتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہمیشہ کی رضا مندی کا ذکر اس آیت میں فرمایا ہے جو سب سے بڑھ کر ایک نعمت ہے۔ انسان کو دنیا کی نعمتوں پر اس قدر گرویدہ نہیں ہونا چاہئے جس سے دین کے کاموں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
[5] جنگ بدر (2 ھ) میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی جبکہ کفار کی تعداد ان سے تین گنا زیادہ تھی۔ مسلمانوں کے پاس سامان جنگ نہایت قلیل تھا اور پورے لشکر میں صرف دو گھوڑے اور سات زرہیں تھیں اور اونٹ اتنے کم کہ چار آدمیوں کے حصہ میں ایک پڑتا تھا۔ اس کے برعکس کفار کا لشکر ضروری سامان سے لیس تھا۔ ان میں سات سو ستر سوار تھے اور زرہ پوش ایک سو تھے۔ اس کثرت تعداد کے باوجود کفار کو ذلت آمیز شکست ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
اللہ کے بندے :
(ف 1) اس سے پہلے کی آیت میں اللہ بندوں کے انعامات گنائے گئے تھے ۔ اس آیت میں یہ بتایا کہ اللہ کے بندے کون ہیں ؟
وہ مومن جنہیں احساس گناہ ہر وقت طلب مغفرت پر مجبور کرتا رہے ، وہ جو صابر ہوں یعنی صبر علی الطاعات ہو ، صبر علی المحارم ہو ، تکلیفوں پر برداشت کی قوت رکھتے ہوں ، باطل کا مقابلہ کرنے کے لئے آمادہ ہوں ، یہ سب چیزیں صبر کے مفہوم میں داخل ہیں ، وہ جو صادق ہوں ، زبان ودل میں ان کے کوئی اختلاف نہ وہ ، سرا وجہرا ان میں کوئی تفاوت نہ پایا جائے ، ان کی خلوتیں جلوتوں سے بہتر ہوں ، وہ جو قانتین ہوں ، فرائض کی بجا آوری میں ہمہ تن رضا کار ہوں ، وہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
ف 1۔ لوگوں کے لئے اشیائے مرغوبہ جیسے عورتیں اور نرینہ اولاد اور سونے چاندی کے ڈھیر کے ڈھیر لگے ہوئے اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور زرعی زمین کی محبت خوش نما ، خوش منظر اور خوش آیند کردی گئی ہے۔ یعنی لوگوں کے لئے ان چیزوں کی محبت کو زینت دیدی گئی ہے لیکن یہ سب چیزیں دنیوی زندگی کا سامان اور جو بر تنے کی چیزیں ہیں اور اچھا ٹھکانہ اور انجام کار کی خوبی تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔
قنطرہ اصل میں عبور کرنے کی چیز کو کہتے ہیں جیسے پل چونکہ مال بھی انسانی زندگی کو عبور کرنے کا ذریعہ ہے اس لئے بکثرت مال کو کہتے ہیں ۔ قناطیر المقنظرہ ، ڈھیر کا ڈھیر مال ، صحابہ ؓ سے مختلف تفسیریں منقول میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 7۔ یہ جو کہا کہ ہم ایمان لے آئے سو آپ ہمارے گناہوں کو معاف کردیجئے، یہ اس وجہ سے ہے کہ بدون ایمان کے مغفرت نہیں ہوتی، پس حاصل یہ ہوا کہ فکر جو مانع ابدی مغفرت کا ہے اس کو ہم مرتفع کرچکے، اب معاف کردیجئے۔
Read the full tafseer →قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَاَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ 1ؕ وَاللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ.(آل عمران 3 : 15)
اس میں نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا ہے کہ آپ ان لوگوں سے جو دنیا کی ناقص اور فانی نعمتوں میں مست ہوگئے ہیں فرما دیجیے کہ میں تمہیں ان سے بہتر نعمتوں کا پتہ دیتا ہوں جو اللہ سے ڈرنے والوں اور اس کی فرمانبرداروں کو ملیں گی وہ نعمتیں سرسبز و شاداب باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ہر قسم کی گندگی سے پاک و صاف بیبیاں ہیں اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
In the second verse that follows (15), the same subject has been further cleared by saying:
قُلْ أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيْرٍ مِّن ذَٰلِكُمْ ۚ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ ﴿15﴾
Say: "Shall I not tell you what is far better than that? For those who fear Allah, there are with their Lord gardens beneath which rivers flow, where they shall live forever, and wives purified, and approval from Allah. And Allah is watchful over His…
Read the full tafseer →11. For explanation see Surah 2, n. 27 above.
12. This shows that God neither showers His favours on people arbitrarily nor makes casual and superficial judgements. He knows full well the deeds and intentions of people. He also knows who merits His rewards and who does not.
Read the full tafseer →