Aal-i-Imraan 3:16

Aal-i-Imraan · from ayah 16

3:16

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۟ۚاَلَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ‌ۚ

جو خدا سے التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو ہم کو ہمارے گناہ معاف فرما اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those who say, "Our Lord, indeed we have believed, so forgive us our sins and protect us from the punishment of the Fire,"

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 2 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:16

یہ وہ لوگ ہیں، جو کہتے ہیں کہ "مالک! ہم ایمان لائے، ہماری خطاؤں سے در گزر فرما اور ہمیں آتش دوزخ سے بچا لے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو خدا سے التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو ہم کو ہمارے گناہ معاف فرما اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان ﻻ چکے اس لئے ہمارے گناه معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ : اے ہمارے پروردگار ہم آپ پر ایمان لے آئے ہیں، اب ہمارے گناہوں کو بخش دیجیے، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیجیے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جو کہتے ہیں ے رب ہمارے! ہم ایمان لائے تو ہمارے گناہ معاف کر اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ وہ لوگ ہیں) جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم یقینا ایمان لے آئے ہیں سو ہمارے گناہ معاف فرما دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! بیشک ہم ایمان لے آئے، سو ہمیں ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو کہتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لے آئے ہیں لہذا ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو یہ دعا کرتے رہتے ہیں، اے ہمارے پر ودگار ! ہم ایمان لائے پس تو ہمارے گناہوں کو بخش اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(یہ خوش نصیب لوگ وہ ہیں) جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم (صدق دل سے) ایمان لائے، پس تو بخش دے ہمارے گناہوں کو، اور بچا دے ہمیں دوزخ کے عذاب سے،

— مولانا اسحاق مدنی

(یہ وہ لوگ ہیں) جو کہتے ہیں کہ اے پروردگار ہم یقیناً ایمان لے آئے سو ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا دے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو یہ کہتے رہتے ہیں پروردگار ! ہم ایمان لے آئے پس ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے، ہماری خطاؤں سے درگزر فرما اور ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا لے

— محترمہ رفعت اعجاز

These are the ones who pray: 'Our Lord! We do indeed believe, so forgive us our sins and keep us safe from the chastisement of the Fire';

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those (are the ones) who say: :Our Lord, surely we have believed, so forgive us our sins and save us from the punishment of the Fire,

— Muhammad Taqi Usmani

Those (are the ones) who say: :Our Lord, surely we have believed, so forgive us our sins and save us from the punishment of the Fire,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who say: "Our Lord! We have indeed believed, so forgive us our sins and save us from the punishment of the Fire."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those who say: Our Lord! Lo! we believe. So forgive us our sins and guard us from the punishment of Fire;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those who say, "Our Lord, indeed we have believed, so forgive us our sins and protect us from the punishment of the Fire,"

— Saheeh International

(Such will be the reward of) those who say, "Lord, we have believed in you. Forgive us our sins and save us from the torment of fire,"

— Muhammad Sarwar

Those who say: Our Lord! surely we believe, therefore forgive us our faults and save us from the chastisement of the fire.

— Muhammad Habib Shakir

Those who say our Lord! verify we! we have believed, wherefore forgive us our sins, and protect us from the torment of the Fire.

— Abdul Majid Daryabadi

(Namely), those who say: "Our Lord! we have indeed believed: forgive us, then, our sins, and save us from the agony of the Fire;"-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–17

متقیوں کا تعارف اللہ تعالیٰ اپنے متقی بندوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ وہ کہتے ہیں اے پروردگار ہم تجھ پر اور تیری کتاب پر اور تیرے رسول ﷺ پر ایمان لائے، ہمارے اس ایمان کے باعث جو تیری ذات اور تیری شریعت پر ہے تو ہمارے گناہوں کو اپنے فضل و کرم سے معاف فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے نجات دے، یہ متقی لوگ اللہ کی اطاعت بجا لاتے ہیں اور حرام چیزوں سے الگ رہتے ہیں، صبر کے سہارے کام لیتے ہیں اور اپنے ایمان کے دعوے میں بھی سچے ہیں، کل اچھے اعمال بجا لاتے ہیں خواہ وہ ان کے نفس کو کتنے بھاری پڑیں، اطاعت اور خشوع خضوع والے ہیں، اپنے مال اللہ کی راہ میں جہاں جہاں حکم ہے خرچ کرتے ہیں، صلہ رحمی میں رشتہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 16–17

سورة اٰلِ عِمْرٰن 13 یعنی راہ حق پر پوری استقامت دکھانے والے ہیں۔ کسی نقصان یا مصیبت سے ہمت نہیں ہارتے، کسی ناکامی سے دل شکستہ نہیں ہوتے، کسی لالچ سے پھسل نہیں جاتے اور ایسی حالت میں بھی حق کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے رہتے ہیں، جبکہ بظاہر اس کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہ آتا ہو۔ (ملاحظہ ہو سورة بقرہ، 60)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–17

دوسری آیت میں اسی مضمون کی مزید توضیح کرنے کے لئے فرمایا (قُلْ اَؤ ُ نَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ ۭ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَاَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ) اس میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے ارشاد ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں سے جو دنیا کی ناقص اور فانی نعمتوں میں مست ہوگئے ہیں فرما دیجیے کہ میں تمہیں ان سے بہت بہتر نعمتوں کا پتہ دیتا ہوں، جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں اور اس کے فرمانبرداروں کو ملیں گی، وہ نعمتیں سرسبز باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ہر قسم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اَلَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ الایۃ (پچھلی آیت میں موجود جملہ) لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا سے بدل ہے۔ یہ تفصیل ان لوگوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو قرآن کی اس دعوت کو قبول کر کے آخرت سے غافل کرنے والی مرغوبات سے دستکش ہوگئے اور اپنی پچھلی زندگی کی خود فراموشیوں سے تائب ہو کر ایمان و عمل صالح کی پاکیزہ زندگی میں آگئے۔ ساتھ ہی اس میں ایک خاموش تبلیغ بھی ان لوگوں کے لیے ہے جو اس راہ پر آنے سے ہچکچا رہے تھے اور اپنی اس ہچکچاہٹ کے لیے مختلف قسم کے حیلے بہانے پیدا کر رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–18

18۔ 1 شہادت کے معنی بیان کرنے اور آگاہ کرنے کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا اور بیان کیا اس کے ذریعے سے اس نے اپنی وحدانیت کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی۔ (فتح القدیر) فرشتے اور اہل علم بھی اس کی توحید کی گواہی دیتے ہیں۔ اس میں اہل علم کی بڑی فضیلت اور عظمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کے ناموں کے ساتھ ان کا ذکر فرمایا ہے تاہم اس سے مراد صرف وہ اہل علم ہیں جو کتاب اور سنت کے علم سے بہرہ ور ہیں۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–26

6: جب غزوہ احزاب کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے پیشینگوئی فرمائی تھی کہ روم اور ایران کی سلطنتیں مسلمانوں کے قبضے میں آجائیں گی تو کفار نے بڑا مذاق اڑایا کہ ان لوگوں کو اپنے دفاع کے لئے خندق کھودنی پڑرہی ہے اور ان پر فاقے گزر رہے ہیں مگر دعوے یہ ہیں کہ یہ روم اور ایران فتح کرلیں گے، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں مسلمانوں کو یہ دعا تلقین فرما کر ایک لطیف پیرائے میں ان کا جواب دے دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 16–17

یہاں اب اللہ تعالیٰ ‘ اپنے خاص بندوں کی صفات گنواتے ہیں ‘ یہ کہ اب آپ کے ساتھ ان کا تعلق کیسا ہوتا ہے۔ اور وہ کیا اعمال ہوتے ہیں جن کی بناء بندے جنتوں کے انعامات کے مستحق ہوجاتے ہیں ۔ ان کی دعاؤں میں ان کے منہ سے جو بات نکلتی ہے وہ ان کے تقویٰ اور اللہ خوفی کا نتیجہ ہوتی ہے وہ اللہ سے ڈر کر پہلے ایمان کا اعلان کرتے ہیں ۔ پھر ایمان کو عنداللہ اپنا شفیع بناتے ہیں اور مغفرت طلب کرتے ہیں اور اپنے آپ کو آگ سے بچاتے ہیں ۔ ان کی تمام صفات میں سے ‘ انسانی زندگی کی اقدار میں سے ایک اعلیٰ قدر کا ذکر ہے ۔ خصوصاً جماعت مسلمہ کے لئے ان اقدار کی بہت اہمیت ہے ۔ وہ صبر کرنے والے ہیں ‘ صبر میں انسان ہر رنج…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16 اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اِنَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَاب النَّارِ آگے ان کی مدح میں الفاظ استعمال ہو رہے ہیں کہ جو یہ دعائیں کرتے ہیں ان کے یہ اوصاف ہیں۔ اس میں گویا تلقین ہے کہ اگر اللہ سے یہ دعا کرنا چاہتے ہو کہ اللہ تمہارے گناہ بخش دے اور تمہیں جہنم کے عذاب سے بچا لے تو اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–16

16 یعنی وہ لوگ جو مندرجہ بالا اشیاء کے حصول میں شریعت کی حدود وقیود اور حلال و حرام کی تمیز رکھیں ان کے حصول میں اس قدر مستغرق نہ ہوجائیں کہ اللہ کی یاد اور فکر آخرت کو بھول ہی جائیں اور جب ان چیزوں میں سے کوئی چیز یا سب چیزیں انہیں حاصل ہوجائیں تو ان میں اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کریں اور انہیں اسی طرح خرچ کریں جس طرح اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے۔ 17 ازواج زوج کی جمع ہے اور زوج ذومعنی لفظ ہے۔ خاوند کے لیے اس کی بیوی اس کا زوج ہے اور بیوی کے لیے اس کا خاوند اس کا زوج ہے۔ یعنی اگر دنیا میں کسی نیک آدمی کی بیوی نہیں تھی تو اسے کوئی نیک بیوی ہی ملے گی اور بدسرشت بیوی جہنم میں ہوگی۔ اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

41 ۔ یہ کہنے والے کون ہیں ؟ وہی ہوتے ہیں جن کا ذکر (آیت) ” الذین اتقوا “۔ کے ماتحت چل رہا ہے۔ یہ اپنے اعمال واحوال پر نازاں ہونا الگ رہا الٹے فرط خشیت وہیبت سے اپنی مغفرت وحسن خاتمہ کے لئے مناجات کرتے رہتے ہیں (آیت) ” امنا “۔ یعنی ہم اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ اور اس کی شریعت پر ایمان لے آئے (آیت) ” امنا فاغفرلنا “۔ ایمان پر معا طلب مغفرت کو مرتب کرتے ہیں نکتہ یہ ہے کہ مغفرت میں اصل حائل عدم ایمان ہی تو ہوتا ہے۔ جب یہ مانع رفع ہوگیا تو اب کیا ہے۔ اب ہماری باقی خطاؤں، لغزشوں کو تو معاف کر ہی دیجئے۔ ایمان بہت بڑی نعمت ہے اور اس کی انتہائی اہمیت اس آیت سے ظاہر ہورہی ہے۔ امام المفسرین امام رازی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–17

وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ ، آخر شب کی خصوصیت اس لیے ہے کہ وہ وقت خاص طور پر دل جمعی اور روحانی قویٰ کی بیداری و بالیدگی کا ہوتا ہے اور نفس پر اس وقت کا اٹھنا شاق بھی گزرتا ہے یہ مطلب نہیں کہ استغفار بجز سحر کے وقت کے دوسرے وقت میں نہیں ہوسکتا۔ اَلصَّابِرِیْنَ وَالصَّادِقِیْنَ یعنی صبر کرنے والے، امام رازی نے لکھا ہے کہ فعل کے صیغے کے بجائے اسم فاعل کا صیغہ اس لیے لائے ہیں کہ ان سے اشخاص کی یہ عام اور مستقل عادت ظاہر ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اَلَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اِنَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَاب النَّارِ : یعنی اللہ خوب دیکھ رہا ہے ان پرہیزگار بندوں کو جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہم بلاشبہ ایمان لے آئے پس ہمارے گناہ بخش دے اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ فاغْفِرْ میں فاء سببیت کے لیے ہے (یعنی کلام سابق کلام لاحق کی علت ہے) مراد یہ ہے کہ ہم ایمان لے آئے اس لیے تو ہمارے گناہ بخش دے اس آیت میں ثبوت ہے اس امر کا کہ صرف ایمان مغفرت کا استحقاق پیدا کردیتا ہے حضرت معاذ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : بندوں پر اللہ کا حق ہے کہ اس کی عبادت کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ قرار دیں اور اللہ پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 16–17

(16۔ 17) اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں اور ان کے جنت میں مراتب اور ان کے تمام اعمال دنیوی سے بخوبی واقف ہیں، اب آگے اللہ تبارک وتعالیٰ ایسے حضرات کی بعض تفصیلی صفات بیان فرماتے ہیں۔ ایسے اہل ایمان دنیا میں بارگارہ خداوندی میں یہ عرض کرتے ہیں کہ ہم آپ پر اور آپ کے رسول پر ایمان لائے ہیں تو ہمارے زمانہ جاہلیت والے اور جاہلیت کے بعد والے تمام گناہوں کو معاف فرما دیجیے اور ہم سے دوزخ کے عذاب کو دور کو دیجیے یہ ایسے حضرات ہیں جو فرائض خداوندی کی بجا آوری اور گناہوں سے بچنے میں ثابت قدم رہنے والے ہیں اور ایمان میں سچے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تابعداری کرنے والے ہیں اور اللہ کی راہ میں اپنے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کے متقی بندے، جنھیں آخرت میں مذکورہ نعمتیں حاصل ہوں گی، وہ ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں اور جن میں وہ صفات پائی جاتی ہیں جن کا اگلی آیت میں ذکر آ رہا ہے۔ اِنَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا : اس دعا میں اپنے ایمان لانے کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی ہے، اس سے دعا کے لیے عمل کا وسیلہ پیش کرنا ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ (اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ) میں ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 16–17

آیت نمبر : 16 تا 17۔ اس میں (آیت) ” الذین، للذین اتقوا “۔ سے بدل ہے، اور اگر چاہو تو مرفوع پڑھ لو او تقدیر کلام ہوگی ھم الذین یا پھر مدح کی بناء پر منصوب پڑھ لو۔ ” ربنا “ اصل میں یا ربنا ہے۔ اننا امنا “ کا معنی ہے یقینا ہم نے تصدیق کی۔ (آیت) ” فاغفرلنا ذنوبنا “۔ یہ مغفرت کی دعا اور التجاء ہے۔ (آیت) ” وقنا عذاب النار “ یہ سورة البقرۃ میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” الصبرین “۔ یعنی یہ گناہوں اور شہوات سے صبر کرنے والے ہیں اور بعض نے کہا کہ وہ طاعات پر صبر کرنے والے ہیں (آیت) ” والصدقین “۔ اور افعال واقوال میں سچ بولنے والے ہیں (آیت) ” والقنتین “۔ اور وہ اطاعت وپیروی کرنے والے ہیں۔ (آیت) ” والمنفقین “۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–17

(1) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ” الصبرین “ آخر تک “ میں الصابرون سے وہ قوم مراد ہیں جو اللہ کی اطاعت پر صبر کرے اور حرام کاموں سے بچنے پر صبر کرے اور ” والصدقین “ سے وہ قوم مراد ہے جو اپنی نیتوں میں سچے ہوں اور ان کے دلوں میں اور ان کی زبانوں میں استقامت ہو اور سچ بولیں چھپے ہوئے بھی اور اعلانیہ بھی اور ” والقنتین “ سے مراد ہے اطاعت کرنے والے اور ” والمستغفرین بالاسحار “ سے مراد ہے نمازی۔ (2) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ” الصبرین “ سے مراد ہے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا اس پر صبر کرنے والے ” والصدقین “ سے مراد ہے کہ اپنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَلَّذِیْنَ : جو لوگ ] [یَقُوْلُوْنَ : کہتے ہیں ] [رَبَّـنَـآ : اے ہمارے ربّ ] [اِنَّــنَــآ اٰمَنَّا : بیشک ہم ایمان لائے ] [فَاغْفِرْ : پس تو بخش دے ] [لَـنَا : ہمارے لیے ] [ذُنُوْبَنَا : ہمارے گناہوں کو ] [وَ : اور ] [قِنَا : تو بچا ہم کو ] [عَذَابَ النَّارِ : آگ کے عذاب سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–16

اہل تقویٰ کا آخرت میں انعام لوگوں کی دنیاوی مرغوبات ذکر فرمانے کے بعد اس آیت میں آخرت کی نعمتوں کو ذکر فرمایا اور بتادیا کہ ان دنیاوی چیزوں سے بہتر وہ چیزیں ہیں جو آخرت میں نصیب ہوں گی لیکن وہ ہر شخص کو نہیں ملیں گی۔ وہ اہل تقویٰ کو نصیب ہوں گی۔ سب سے بڑا تقویٰ تو یہ ہے کہ انسان کفر اور شرک سے بچے اور ایمان قبول کرے ایمان کے بغیر کوئی عمل صالح معتبر نہیں اور اس کے بعد تقویٰ کے درجات ہیں، کبیرہ گناہوں سے بچنا یہ بھی تقویٰ ہے اور مشتبہات سے بچنا بھی تقویٰ ہے۔ متقی بندوں سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ان کے رب کے پاس انہیں ایسے باغ ملیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ مزید برآں یہ کہ وہ ان میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–17

بیان نفاست نعمائے اخرویہ ومستحقین آنہا۔ قال تعالی، قل اء نبئکم بغیر من ذالکم۔۔۔۔ الی۔۔۔ بالاسحار۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں لذات دنیویہ کی حقارت اور خساست کو بیان فرمایا اب ان آیات میں اخروی نعمتوں کی نفاست کو بیان فرماتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ ان نفیس اور لازوال نعمتوں کے اہل اور مستحق کون لوگ ہیں، نیز گزشتہ آیت میں یہ بتلایا تھا کہ دنیا کے سامان سے فقط دنیا کی چند روزہ زندگی میں نفع اٹھایا جاسکتا ہے اب آئندہ آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ مستقل اور پائیدار فائدہ اور دائمی فلاح کے حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے چناچہ فرماتے ہیں کہ اے نبی کریم ﷺ آپ ان لوگوں سے جو شہوات اور لذات کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

23 اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ محل خبر میں ہے اور اَلْعِبَاد، لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا کی نعت یا اس سے بدل ہے۔ وان یکون فی حیز الخبر علی انہ تابع للذین اتقوا نعتا او بدلا (روح ج 3 ص 102) یعنی جن لوگوں کے لیے مذکورہ اخروی نعمتیں ہیں وہ اپنے ایمان اور اعمال پر نازاں و شاداں نہیں رہتے بلکہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے اور اس کی رحمت کی پناہ ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ اس آیت میں نفس ایمان پر طلب مغفرت کو متفرع کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفس ایمان ہی سے بندہ اللہ کی رحمت ومغفرت اور جہنم سے رستگاری کا مستحق ہوجاتا ہے اور باقی طاعات اس کیلئے موقوف علیہ نہیں ہیں۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–18

ربط آیات : گذشتہ درس میں گمراہی کے اسباب بیان ہوئے تھے۔ عام طور پر انہی اشیاء کی محبت میں گرفتار ہو کر لوگ گمراہی میں مبتلا ہوتے ہیں ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے دین اور آخرت کی زندگی سے غافل ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلا دیا کہ دنیا کی ان مرغوب اشیاء کے مقابلے میں اہل تقوی کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سامان موجود ہے۔ وہاں پر جنت ہے جس میں ہر طرح کی نعمتیں مہیا ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہاں اللہ کی خوشنودی اور رضا حاصل ہوجائے گی۔ جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہوگی۔ اور جس کو کبھی زوال نہیں آئیگا۔ اب آیات زیر درس میں اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے اوصاف بیان فرمائے ہیں۔ یعنی یہ وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اِنَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۝ 16 ۚ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–17

(1) یقولون ربنا الخ کہ وہ خدا سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم تجھ پر ایمان لائے تو ہمارے گناہ معاف کر اور عذاب النار سے بچائیو (2) صبر کرنے والے صبر کہتے ہیں محنت کا نفس پر برداشت کرنا خواہ عبادات قائم کرنے میں خواہ نفس کو اس کی خواہشوں سے روکنے میں (3) صادقین سچ بولنے والے اور ہر بات کو سچ کر دکھانے والے (4) خدا کی عبادت کرنے والے (5) منفقین یعنی خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے خواہ بذریعہ صدقہ نافلہ خواہ بذریعہ زکو ٰۃ اپنوں کو دے خواہ بیگانوں کو (6) سحر کے وقت خدا سے استغفار کرنے والے۔ اس وقت شب کی ظلمت دور ہو کر نور پھیلتا ہے رات کا مردہ زندہ ہوتا ہے یہ وقت جود عام اور فیض تام کا وقت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 16–17

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اِنَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۔ ج اَلصَّابِرِیْنَ وَالصَّادِقِیْنَ وَالْقَانِتِیْنَ وَالْمُنْفِقِیْنَ وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ ۔ (جو دعا کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لائے پس ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ جو صبر کرنے والے ‘ راست باز ‘ فرمانبردار ‘ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے اور اوقاتِ سحر میں مغفرت چاہنے والے ہیں) ( 16 تا 17) اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ ‘ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا سے بدل ہے۔ گزشتہ آیت کریمہ میں ان لوگوں کو جنت کی نعمتوں کی بشارت دی گئی تھی جو اپنے اندر تقویٰ پیدا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–18

فہم القرآن ربط کلام : اوصاف حمیدہ کا تقاضا اور خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کی توحید اور انصاف پر قائم رہنا ضروری ہے۔ سورۃ کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی توحید سے ہوئی تھی اور اب پھر اسی مضمون کا اعادہ شہادت کے الفاظ میں ہورہا ہے۔ سب سے پہلے رب ذو الجلال اپنی ذات، صفات اور وحدانیت پر خود گواہی دے رہا ہے کہ میرے بغیر کائنات کا کوئی خالق ومالک نہیں اور میں ہی معبودِ برحق اور واحد ہوں اس کے بعد ملائکہ کی شہادت ڈالی جارہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور بادشاہت کے عینی گواہ ہیں۔ ان کے بعد اہل علم کی گواہی پیش کی جارہی ہے جو انصاف کی گواہی دینے والے اور ہر حال میں اس پر قائم رہنے والے ہیں۔ یہاں ” اُولُوا الْعِلْمِ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16 : اَ لَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اِنَّنَآ ٰامَنَّا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۔ اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ : (وہ لوگ جو کہتے ہیں) نحو : یہ امدح فعل کی وجہ سے منصوب ہے یا محذوف مبتداء کی خبر ہونے کی بناء پر مرفوع ہے یا متقین کی صفت ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔ عباد کی صفت ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔ رَبَّنَآ اِنَّنَا ٰامَنَّا (اے ہمارے رب ہم ایمان لائے) تیری دعوت کو قبول کرتے ہوئے۔ فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا (تو ہمارے گناہ ہمیں بخش دے) اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے۔ وَقِنَا عَذَابَ النَّار : (اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا) اپنے فضل و کرم سے

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 16۔: (الذین یقولون ایسے لوگ جو یہ کہتے ہیں) اگر تو چاہے بنا دے ہمارے لیے جگہ ” الذین “ سے مراد خضوع وخشوع رکھنے والے مراد ہیں ، (للذین اتقوا ان لوگوں سے جو ڈرتے ہیں) اگر چاہیں تو بنالیں یہ مرفوع ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے یا منصوب ہے مفعول بہ ہونے کی وجہ سے فعل محذوف اعنی ہے ۔ (ربنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ امنا اے ہمارے رب ! بیشک ہم ایمان لائے) تصدیق کی (فاغفرلنا ذنوبنا بخش دے ہمارے گناہوں کو) ہم پر پردہ ڈال اور ہمیں ہمارے گناہوں کی سزا نہ دے (وقنا عذاب النار اور ہمیں بچا آگ کے عذاب سے) ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–17

(16 ۔ 17) ۔ اوپر کی آیت کو اللہ تعالیٰ نے واللہ بصیر بالعباد پر ختم فرما کر اس آیت میں اپنے بندوں کا ذکر فرمایا ہے جن کے اعمال نیک اور وہ اپنے اعمال کے سبب سے جنت کی نعمتوں کے پورے مستحق ہیں اور ان کی نشانیاں یہ فرمائیں کہ احکام شرع کے پابند اور اعمال شرع کی تکلیفات پر صابر صادق الاقوال جو کہیں سو کریں۔ نیک کاموں میں اپنا مال خرچ کرنے کو تا دیر عذاب الٰہی سے بچنے کی دعا اور گناہوں کی مغفرت کی دعا میں ہر وقت خصوصاً پچھلی رات کو قریب صبح لگے رہتے ہیں اس وقت کا اس لئے ذکر فرمایا کہ بڑی قبولیت کا وقت ہے۔ چناچہ صحیحین وغیرہ میں صحابہ کی ایک جماعت 3 سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ تہائی رات باقی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 14–17

آیت 14-17 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے لوگوں کے لئے دنیوی مرغوب چیزوں کی محبت مزین کردی ہے۔ ان میں سے مذکورہ بالا اشیاء کو خاص طور پر ذکر کیا ہے کہ دنیا کی مرغوب چیزوں میں سے یہ سب سے بڑھ کر ہیں۔ باقی سب ان کے تابع ہیں۔ جیسے ارشاد ہے : (انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا) (الکھف :8/18” ہم نے زمین پر جو کچھ ہے اسے زمین کی زینت بنایا ہے “ چونکہ یہ چیزیں مزین کردی گئیں ہیں اور ان میں دلوں کو مائل کرنے کا وصف ہے۔ اس لئے لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوگئے اور عملی طور پر لوگوں کی دو قسمیں ہوگئیں۔ ایک قسم کے لوگ وہ ہیں جنہوں نے انہی مادی اشیاء کو اپنا مقصود بنا لیا، ان کی سوچیں، ان کے خیالات، ان کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–21

قول باری ہے (ان الذین یکفرون بایات اللہ ویقتلون النبیین بغیرحق و یقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس فبشرھم یعذاب الیم، جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں جو خلق خدا میں عدل اور راستی کا حکم دینے کے لیئے اٹھیں ان کو دردناک سزا کی خوشخبری سنادو) حضرت ابوعبیدہ بن الجراح سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ قیامت کے دن کس شخص کی سزاسب سے زیادہ سخت ہوگی ؟ آپ نے فرمایا (رجل قتل نبیا اور رجل ھوب معروف تھی عن منکرء اس شخص کی سزاسب سے سخت ہوگی جس نے کسی نبی کو یا امربالمعروف اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

35 ایمان کے وسیلے سے دعا : سو ایسے خوش نصیب لوگ اپنے رب کے حضور دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے۔ پس تو بخشش فرما دے ہمارے گناہوں کی اور ہمیں بچا دے دوزخ کی آگ سے۔ سو اس میں ایمان کے وسیلے اور صدقے میں عذاب دوزخ سے بچنے کی دعاء و درخواست کی تعلیم و تلقین ہے۔ یعنی ایمان و یقین کی اسی دولت کے طفیل جو تو نے ہم کو بخشی ہے اور جس سے تو نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں نوازا ہے، اسی کے طفیل ہمارا کام بنا دے کہ جو لغزشیں اور خطائیں ہم سے سرزد ہوگئیں، یا آئندہ ہونگی ان سب کی بخشش فرما کر ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے، اور دوزخ کے عذاب سے بچانے کی درخواست کا بطور خاص ذکر فرمایا گیا کہ جس کو اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 14–17

اللہ تعالیٰ کے انعامات کے اصل حقدار تشریح : ان آیات سے پہلے مسلمانوں اور کفار کی خصوصیات بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہیں۔ ان آیات میں کھرے اور کھوٹے انسان کی پہچان کرائی گئی ہے۔ کیونکہ دنیا کا سازو سامان مثلاً عورتوں کی محبت، اولاد، سونے چاندی کے ڈھیر، عمدہ گھوڑے، مال مویشی اور زرعی زمین وغیرہ یہ سب کچھ انسان کے لئے بڑی کشش رکھتی ہیں اور یہ بہترین زندگی کے اسباب بھی ہیں۔ اسی لئے انسان ان سب چیزوں کو پسند کرتا ہے اور انہی چیزوں کو حاصل کرنے میں کوشش کرتا رہتا ہے۔ رب العزت نے فرمایا کہ یہ سب چیزیں بیشک نعمتیں ہیں۔ مگر یہ سب کچھ امتحان کا باعث بھی بنتی ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ آزمائش ہوتی ہے کہ ان کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–20

آیات 10- 20 اسرارو معارف ان الذین کفروا………………وبئس المھاد۔ بے شک جن لوگوں نے کفر کیا۔ ان کے مال اور اولاد اللہ کے مقابل ذرہ برابر کام نہ آئیں گے یا وہ یہ سمجھ رکھیں کہ ان کے پاس دولت ہے اولاد ہے تو شاید عنداللہ وہ مقبول ہیں اور یہ اللہ کی خوشنودی کی دلیل ہے ہرگز نہیں ! یہ ایک نظام ہے اللہ کا مقرر کردہ جو چل رہا ہے ہاں ! اللہ کی رضامندی کی دلیل دین ہے۔ اگر دین قبول نہ کیا تو مالدار ہوں یا صاحب اولاد ہوں ، دوزخ کا ایندھن ہیں بلکہ ترجمہ تو یوں ہے کہ یہی لوگ دوزخ کا ایندھن ہیں۔ ان کا رویہ تو آل فرعون جیسا ہے یا ان سے پہلے گزرنے والے کافروں جیسا کہ دولت اور ریاست کے لالچ میں حق کو قبول نہ کیا اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 15–16

ف 4 حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت زین اللناس نازل ہوئی تو میں نے کہا یا للہ ! اب جب کہ تو نے خود ہے ان چیزوں کو ہمارے لے پسند یدہ بنادیا ہے تو ہم اس فتنہ سے کیسے بچ سکتے ہیں ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جنہیں آخرت میں مذکورہ نعمتیں حاصل ہوں گی وہ ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں اور جن میں وہ صفات پائی جاتی ہیں جن کا اگلی آیت میں ذکر آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:16) قنا۔ ق نا۔ ق واحد مذکر حاضر۔ امر معروف نا ضمیر جمع متکلم مفعول ۔ وقی (لفیف مفروق) (باب ضرب) وقی یقی وقایۃ۔ وفی یوفی۔ ق۔ لاتق گردان امر یوں ہوگی۔ ق۔ قیا۔ قوا۔ قی ۔ قیاقین۔ ق اصل میں اضرب کے وزن پر اوقی تھا۔ عمل تعلیل سے او شروع میں اور ی ساکن آخر میں گرگئی۔ قنا۔ ہم کو بچا۔ ہم کو محفوظ رکھ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 14–18

لغات القرآن آیت نمبر 14 تا 18 زین (خوبصورت، پسندیدہ بنادی گئی) حب الشھوات (مزوں کی محبت (حب، محبت، الشھوات، حواہشیں) القناطیر (ڈھیر (قنطار، ڈھیر) المقنطرۃ (لگے ہوئے ڈھیر) ذھب (سونا) الفضة (چاندی) الخیل المسومة (پلے ہوئے گھوڑے، نشان لگے ہوئے گھوڑے) الانعام (مویشی) الحرث (کھیتی) متاع (سامان) حسن الماٰب (بہترین ٹھکانا) اء نبئکم (کیا میں تمہیں بتاؤں ؟ ) مطھرۃ (پاکیزہ ، صاف ستھری) رضوان (رضاوخوشنودی) ذنوب (گناہ (ذنب کی جمع) القٰنتین (ادب کرنے والے) المنفقین (خرچ کرنے والے) المستغرین (استغفار کرنے والے) بالاسحار (صبح کے وقت (سحر، صبح) اولوالعلم (علم والے) قائم (قائم رہنے والے ، کھڑے رہنے والے)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–16

صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جنت میں وہ وہ نعمتیں ہیں جن کا حال دنیا میں نہ کسی نے آنکھ سے دیکھا، نہ کسی کان سے سنا، نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے۔ دنیا میں آدمی دنیا کی نعمتوں کی کبھی ناشکری کرتا ہے جس کے سبب سے اللہ کی ناخوشنودی ہو کر دنیا کی نعمتوں میں کمی ہوجاتی ہے۔ جنت میں شروع کی تکلیف کے نہ ہونے سے اللہ تعالیٰ کی ناخوشی کا کھٹکا جنتیوں کو نہیں۔ اس لئے جنت کی نعمتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہمیشہ کی رضا مندی کا ذکر اس آیت میں فرمایا ہے جو سب سے بڑھ کر ایک نعمت ہے۔ انسان کو دنیا کی نعمتوں پر اس قدر گرویدہ نہیں ہونا چاہئے جس سے دین کے کاموں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–17

[5] جنگ بدر (2 ھ) میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی جبکہ کفار کی تعداد ان سے تین گنا زیادہ تھی۔ مسلمانوں کے پاس سامان جنگ نہایت قلیل تھا اور پورے لشکر میں صرف دو گھوڑے اور سات زرہیں تھیں اور اونٹ اتنے کم کہ چار آدمیوں کے حصہ میں ایک پڑتا تھا۔ اس کے برعکس کفار کا لشکر ضروری سامان سے لیس تھا۔ ان میں سات سو ستر سوار تھے اور زرہ پوش ایک سو تھے۔ اس کثرت تعداد کے باوجود کفار کو ذلت آمیز شکست ہوئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–17

اللہ کے بندے : (ف 1) اس سے پہلے کی آیت میں اللہ بندوں کے انعامات گنائے گئے تھے ۔ اس آیت میں یہ بتایا کہ اللہ کے بندے کون ہیں ؟ وہ مومن جنہیں احساس گناہ ہر وقت طلب مغفرت پر مجبور کرتا رہے ، وہ جو صابر ہوں یعنی صبر علی الطاعات ہو ، صبر علی المحارم ہو ، تکلیفوں پر برداشت کی قوت رکھتے ہوں ، باطل کا مقابلہ کرنے کے لئے آمادہ ہوں ، یہ سب چیزیں صبر کے مفہوم میں داخل ہیں ، وہ جو صادق ہوں ، زبان ودل میں ان کے کوئی اختلاف نہ وہ ، سرا وجہرا ان میں کوئی تفاوت نہ پایا جائے ، ان کی خلوتیں جلوتوں سے بہتر ہوں ، وہ جو قانتین ہوں ، فرائض کی بجا آوری میں ہمہ تن رضا کار ہوں ، وہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 14–16

ف 1۔ لوگوں کے لئے اشیائے مرغوبہ جیسے عورتیں اور نرینہ اولاد اور سونے چاندی کے ڈھیر کے ڈھیر لگے ہوئے اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور زرعی زمین کی محبت خوش نما ، خوش منظر اور خوش آیند کردی گئی ہے۔ یعنی لوگوں کے لئے ان چیزوں کی محبت کو زینت دیدی گئی ہے لیکن یہ سب چیزیں دنیوی زندگی کا سامان اور جو بر تنے کی چیزیں ہیں اور اچھا ٹھکانہ اور انجام کار کی خوبی تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ قنطرہ اصل میں عبور کرنے کی چیز کو کہتے ہیں جیسے پل چونکہ مال بھی انسانی زندگی کو عبور کرنے کا ذریعہ ہے اس لئے بکثرت مال کو کہتے ہیں ۔ قناطیر المقنظرہ ، ڈھیر کا ڈھیر مال ، صحابہ ؓ سے مختلف تفسیریں منقول میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 15–16

ف 7۔ یہ جو کہا کہ ہم ایمان لے آئے سو آپ ہمارے گناہوں کو معاف کردیجئے، یہ اس وجہ سے ہے کہ بدون ایمان کے مغفرت نہیں ہوتی، پس حاصل یہ ہوا کہ فکر جو مانع ابدی مغفرت کا ہے اس کو ہم مرتفع کرچکے، اب معاف کردیجئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جن لوگوں کی پکار ایک اور صرف ایک ہی ہے : 41: اے ہمارے رب ! ہم تجھ پر ایمان لائے ہیں پس ہمارے گناہ بخش دے اور عذاب جہنم سے ہمیں بچا لے۔ یہ کہنے والے کون ہیں ؟ وہی ہیں جن کا ذکر الَّذِیْنَ اتَّقَوْا کے ماتحت چل رہا ہے۔ یہ اپنے اعمال و احوال پر نازاں ہونا تو الگ رہا الٹے فرط خشیت وہیبت سے اپنی مغفرت اور حسن خاتمہ کے لیے مناجات کرتے رہتے ہیں اور منجات میں سب سے پہلے اقراری ہیں کہ ہم اللہ اور اس کے رسول اور اس کی شریعت پر ایمان لائے ہیں اور پھر ایمان پر معاً طلب مغفرت کو مرتب کرتے ہیں اور اس میں نکتہ یہ ہے کہ مغفرت میں اصل حائل عدم ایمان ہی ہوتا ہے۔ جب یہ مانع نہ رہا بلکہ رفع ہوگیا تو اب کیا ہے ؟…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–17

In the second verse that follows (15), the same subject has been further cleared by saying: قُلْ أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيْرٍ‌ مِّن ذَٰلِكُمْ ۚ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِندَ رَ‌بِّهِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ خَالِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَ‌ةٌ وَرِ‌ضْوَانٌ مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ بَصِيرٌ‌ بِالْعِبَادِ ﴿15﴾ Say: "Shall I not tell you what is far better than that? For those who fear Allah, there are with their Lord gardens beneath which rivers flow, where they shall live forever, and wives purified, and approval from Allah. And Allah is watchful over His…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–17

13. That is, they are those who remain steadfast in the cause of Truth; who do not lose heart when they either suffer losses or are subjected to afflictions; who do not despair when they encounter reverses; who are not seduced by temptations. They are the ones who remain faithful to the Truth, even when it apparently stands no chance of prevailing (see also Surah 2, n. 60 above) .

Read the full tafseer →