Aal-i-Imraan 3:17

Aal-i-Imraan · from ayah 17

3:17

اَلصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰدِقِیْنَ وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْمُنْفِقِیْنَ وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ ۟اَلصّٰــبِرِيۡنَ وَالصّٰدِقِــيۡنَ وَالۡقٰنِتِــيۡنَ وَالۡمُنۡفِقِيۡنَ وَالۡمُسۡتَغۡفِرِيۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ

یہ وہ لوگ ہیں جو (مشکلات میں) صبر کرتے اور سچ بولتے اور عبادت میں لگے رہتے اور (راہ خدا میں) خرچ کرتے اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

The patient, the true, the obedient, those who spend [in the way of Allah], and those who seek forgiveness before dawn.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 2 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:17

یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں، راستباز ہیں، فرمانبردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دعائیں مانگا کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ وہ لوگ ہیں جو (مشکلات میں) صبر کرتے اور سچ بولتے اور عبادت میں لگے رہتے اور (راہ خدا میں) خرچ کرتے اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو صبر کرنے والے اور سچ بولنے والے اور فرمانبرداری کرنے والے اور اللہ کی راه میں خرچ کرنے والے اور پچھلی رات کو بخشش مانگنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ لوگ بڑے صبر کرنے والے ہیں، سچائی کے خوگر ہیں، عبادت گزار ہیں (اللہ کی خوشنودی کے لیے) خرچ کرنے والے ہیں، اور سحری کے اوقات میں استغفار کرتے رہتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

صبر والے اور سچے اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہر سے معافی مانگنے والے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ لوگ) صبر کرنے والے ہیں اور قول و عمل میں سچائی والے ہیں اور ادب و اطاعت میں جھکنے والے ہیں اور اﷲ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں اور رات کے پچھلے پہر (اٹھ کر) اﷲ سے معافی مانگنے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو صبر کرنے والے اور سچ کہنے والے اور حکم ماننے والے اور خرچ کرنے والے اور رات کی آخری گھڑیوں میں بخشش مانگنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں، سچ بولنے والے، فرمانبردار، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے اور رات کے آخری حصہ میں استغفار کرنے والے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو صابر، راستباز، فرمانبردار، راہ خدا میں خرچ کرنے والے اور اوقاتِ سحر میں مغفرت چاہنے والے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو صبر کرنے والے، راستباز، فرمانبرداری کرنے والے، (راہ حق میں) خرچ کرنے والے، اور اپنی بخشش کی دعائیں مانگنے والے ہیں، راتوں کے پچھلے حصوں میں،

— مولانا اسحاق مدنی

(یہ) صبر کرنے والے ہیں اور راستباز ہیں اور فروتنی کرنے والے ہیں اور خرچ کرنے والے ہیں اور پچھلی رات میں گناہوں سے بخشش چاہنے والے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

صبر کرنے والے اور راست باز اور فرماں بردار اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے اور اوقات سحر میں مغفرت چاہنے والے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں، راست باز ہیں، فرمانبردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دعائیں مانگا کرتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

men who are steadfast, truthful, obedient, spend (in the way of Allah) and implore the forgiveness of Allah before daybreak.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(and those who are) the patient, the truthful and the devout, who spend (in Allah‘s way) and who seek forgiveness in pre-dawn hours.

— Muhammad Taqi Usmani

(and those who are) the patient, the truthful and the devout, who spend (in Allah‘s way) and who seek forgiveness in pre-dawn hours.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(They are) the patient, the true believers, and obedient with sincere devotion in worship to Allah. Those who spend [in good] and those who pray and beg Allah's pardon in the last hours of the night.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The steadfast, and the truthful, and the obedient, those who spend (and hoard not), those who pray for pardon in the watches of the night.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The patient, the true, the obedient, those who spend [in the way of Allah], and those who seek forgiveness before dawn.

— Saheeh International

who exercise patience, speak the truth, who are devoted in prayer, spend their property for the cause of God and seek forgiveness from God during the last part of the night.

— Muhammad Sarwar

The patient, and the truthful, and the obedient, and those who spend (benevolently) and those who ask forgiveness in the morning times.

— Muhammad Habib Shakir

The patient ones and the truthful ones and the devout ones and the expanders and the praying ones at early dawn for forgiveness.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who show patience, Firmness and self-control; who are true (in word and deed); who worship devoutly; who spend (in the way of Allah); and who pray for forgiveness in the early hours of the morning.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–17

متقیوں کا تعارف اللہ تعالیٰ اپنے متقی بندوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ وہ کہتے ہیں اے پروردگار ہم تجھ پر اور تیری کتاب پر اور تیرے رسول ﷺ پر ایمان لائے، ہمارے اس ایمان کے باعث جو تیری ذات اور تیری شریعت پر ہے تو ہمارے گناہوں کو اپنے فضل و کرم سے معاف فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے نجات دے، یہ متقی لوگ اللہ کی اطاعت بجا لاتے ہیں اور حرام چیزوں سے الگ رہتے ہیں، صبر کے سہارے کام لیتے ہیں اور اپنے ایمان کے دعوے میں بھی سچے ہیں، کل اچھے اعمال بجا لاتے ہیں خواہ وہ ان کے نفس کو کتنے بھاری پڑیں، اطاعت اور خشوع خضوع والے ہیں، اپنے مال اللہ کی راہ میں جہاں جہاں حکم ہے خرچ کرتے ہیں، صلہ رحمی میں رشتہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 16–17

سورة اٰلِ عِمْرٰن 13 یعنی راہ حق پر پوری استقامت دکھانے والے ہیں۔ کسی نقصان یا مصیبت سے ہمت نہیں ہارتے، کسی ناکامی سے دل شکستہ نہیں ہوتے، کسی لالچ سے پھسل نہیں جاتے اور ایسی حالت میں بھی حق کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے رہتے ہیں، جبکہ بظاہر اس کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہ آتا ہو۔ (ملاحظہ ہو سورة بقرہ، 60)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–17

دوسری آیت میں اسی مضمون کی مزید توضیح کرنے کے لئے فرمایا (قُلْ اَؤ ُ نَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ ۭ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَاَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ) اس میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے ارشاد ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں سے جو دنیا کی ناقص اور فانی نعمتوں میں مست ہوگئے ہیں فرما دیجیے کہ میں تمہیں ان سے بہت بہتر نعمتوں کا پتہ دیتا ہوں، جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں اور اس کے فرمانبرداروں کو ملیں گی، وہ نعمتیں سرسبز باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ہر قسم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حاملین قرآن کا کردار : اَلصّٰبِرِيْنَ الایۃ۔ یہ دوسرا بدل ہے۔ اس سے ان اخلاقی اوصاف کی وضاحت ہوگئی ہے جن سے یہ پاکیزہ صفات گروہ متصف ہے اور اسی سے یہ بات بھی واضح ہو رہی ہے کہ وہ اخلاق و کردار کن اجزا سے مرکب ہے جو قرآن کا حامل ہونے کے لیے ضروری ہے۔ یہ آیت گویا اس کے بالکل ضد اخلاق و کردار پیش کر ہے جو اوپر زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ والی آیت میں نمایاں ہوا۔۔ یہاں صرف پانچ صفات بیان ہوئی ہیں۔ صبر، صدق، قنوت، انفاق، استٖغفار۔ صبر کی حقیقت نرم و گرم ہر طرح کے حالات میں حق پر جزم و استقامت ہے۔ غربت، بیماری، مصیبت، مخالفت، جنگ، غرض جس قسم کے بھی حالات سے آدمی کو دو چار ہونا پڑے عزم و ہمت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–18

18۔ 1 شہادت کے معنی بیان کرنے اور آگاہ کرنے کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا اور بیان کیا اس کے ذریعے سے اس نے اپنی وحدانیت کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی۔ (فتح القدیر) فرشتے اور اہل علم بھی اس کی توحید کی گواہی دیتے ہیں۔ اس میں اہل علم کی بڑی فضیلت اور عظمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کے ناموں کے ساتھ ان کا ذکر فرمایا ہے تاہم اس سے مراد صرف وہ اہل علم ہیں جو کتاب اور سنت کے علم سے بہرہ ور ہیں۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–26

6: جب غزوہ احزاب کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے پیشینگوئی فرمائی تھی کہ روم اور ایران کی سلطنتیں مسلمانوں کے قبضے میں آجائیں گی تو کفار نے بڑا مذاق اڑایا کہ ان لوگوں کو اپنے دفاع کے لئے خندق کھودنی پڑرہی ہے اور ان پر فاقے گزر رہے ہیں مگر دعوے یہ ہیں کہ یہ روم اور ایران فتح کرلیں گے، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں مسلمانوں کو یہ دعا تلقین فرما کر ایک لطیف پیرائے میں ان کا جواب دے دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 16–17

یہاں اب اللہ تعالیٰ ‘ اپنے خاص بندوں کی صفات گنواتے ہیں ‘ یہ کہ اب آپ کے ساتھ ان کا تعلق کیسا ہوتا ہے۔ اور وہ کیا اعمال ہوتے ہیں جن کی بناء بندے جنتوں کے انعامات کے مستحق ہوجاتے ہیں ۔ ان کی دعاؤں میں ان کے منہ سے جو بات نکلتی ہے وہ ان کے تقویٰ اور اللہ خوفی کا نتیجہ ہوتی ہے وہ اللہ سے ڈر کر پہلے ایمان کا اعلان کرتے ہیں ۔ پھر ایمان کو عنداللہ اپنا شفیع بناتے ہیں اور مغفرت طلب کرتے ہیں اور اپنے آپ کو آگ سے بچاتے ہیں ۔ ان کی تمام صفات میں سے ‘ انسانی زندگی کی اقدار میں سے ایک اعلیٰ قدر کا ذکر ہے ۔ خصوصاً جماعت مسلمہ کے لئے ان اقدار کی بہت اہمیت ہے ۔ وہ صبر کرنے والے ہیں ‘ صبر میں انسان ہر رنج…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی اللہ کے راستہ میں بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا کر بھی اس کی فرمانبرداری پر جمے رہتے اور معصیت سے رکے رہتے ہیں۔ زبان کے، دل کے، نیت کے معاملہ کے سچے ہیں۔ پوری تسلیم وانقیاد کے ساتھ خدا کے احکام بجا لاتے ہیں۔ خدا کی دی ہوئی دولت کو اس کے بتلائے ہوئے مواقع میں خرچ کرتے ہیں۔ اور پچھلی رات میں اٹھ کر (جو طمانیت و اجابت کا وقت ہوتا ہے لیکن اٹھنا اس وقت سہل نہیں ہوتا) اپنے رب سے گناہ اور تقصیرات معاف کراتے ہیں۔ (كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ 17؀ وَبِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ 18؀) 51 ۔ الزاریات :18-17) " یعنی اکثر رات عبادت میں گزارتے اور سحر کے وقت استغفار کرتے کہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17 اَلصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰدِقِیْنَ راست بازی میں راست گوئی بھی شامل ہے اور راست کرداری بھی۔ یعنی آپ کا عمل بھی صحیح اور درست ہو اور قول بھی صحیح اور درست ہو۔ وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْمُنْفِقِیْنَ وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بالْاَسْحَارِ وہ جو سحر کا وقت ہے small hours of the morning اس وقت اللہ کے حضور استغفار کرنے والے۔ ایک تو پنج وقتہ نمازیں ہیں ‘ اور ایک خاص وقت ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ہر رات جب رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ سمائے دنیا تک نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے : ھَلْ مِنْ سَاءِلٍ یُعْطٰی ؟ ھَلْ مِنْ دَاعٍ یُسْتَجَابُ لَہٗ ؟ ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 اس آیت میں ایسے متقی لوگوں کی پانچ صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلی صفت صبر ہے۔ صبر ایک جامع اصطلاح ہے جس کا اطلاق عموماً دو طرح سے ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ کسی مصیبت کے پیش آنے پر جزع و فزع سے پرہیز کیا جائے اور اسے اللہ کی رضا کی خاطر خوشدلی سے برداشت کیا جائے اور کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکالی جائے یا ایسی حرکت نہ کی جائے جو اللہ کی رضا کے خلاف ہو۔ اور دوسرے یہ کہ دین کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات و مصائب کو خوشدلی سے برداشت کرتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے جسے دوسرے لفظوں میں استقامت بھی کہتے ہیں اور یہ بھی صبر ہی کی قسم ہے۔ دوسری صفت صادق ہونا ہے۔ صادق کے لفظ کا اطلاق صرف اس شخص پر ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

42 ۔ (آیت) ” بالاسحار “۔ سحر نام اس وقت کا ہے جب رات کی تاریکی صبح کی روشنی سے مل رہی ہو۔ السحر والسحرۃ اختلاط ظلام اخر اللیل بضیاء النھار وجعل اسما لذلک الوقت (راغب) آخر شب کی خصوصیت اس لیے ہے کہ وہ وقت خاص طور پر دلجمعی اور روحانی قوی کی بیداری وبالیدگی کا ہوتا ہے اور نفس پر اس وقت کا اٹھنا شاق بھی زاید ہوتا ہے۔ (آیت) ” الصبرین والصدقین “۔ یعنی صبر کرنے والے اور راستی برتنے والے اپنے سارے معاملات میں۔ (آیت) ” القنتین۔ یعنی فروتنی کرنے والے اللہ کے حضور میں۔ (آیت) ” المنفقین “۔ یعنی خرچ کرنے والے اللہ کی راہ میں۔ عارفوں نے کہا ہے کہ یہ تمام صفات اولیاء اللہ کے ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–17

وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ ، آخر شب کی خصوصیت اس لیے ہے کہ وہ وقت خاص طور پر دل جمعی اور روحانی قویٰ کی بیداری و بالیدگی کا ہوتا ہے اور نفس پر اس وقت کا اٹھنا شاق بھی گزرتا ہے یہ مطلب نہیں کہ استغفار بجز سحر کے وقت کے دوسرے وقت میں نہیں ہوسکتا۔ اَلصَّابِرِیْنَ وَالصَّادِقِیْنَ یعنی صبر کرنے والے، امام رازی نے لکھا ہے کہ فعل کے صیغے کے بجائے اسم فاعل کا صیغہ اس لیے لائے ہیں کہ ان سے اشخاص کی یہ عام اور مستقل عادت ظاہر ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اَلصّٰبِرِيْنَ : نفس کی مخالفت پر جم جانے والے۔ یعنی مصائب میں بےصبر ہونے سے نفس کو روکنے والے خواہشات اور بری باتوں کی پیروی سے باز داشت کرنے والے۔ طاعت الٰہی اور اچھی باتوں کے پابند رہنے والے۔ (1) [ حضرت مؤلف کی مراد یہ ہے کہ عربی زبان میں لفظ صبر کے بعد عن آتا ہے یا علیٰ ۔ بر صورت اوّل صبر کا معنی ہوتا ہے روکنا باز رکھنا اور برشق دویم معنی ہوتا ہے ‘ پابند بنانا آیت میں الصابرینکے بعد نہ عَنْ ہے نہ عَلٰیاس لیے مطلق معنی مراد ہے روکنا بھی اور پابند رکھنا بھی۔ مطلب یہ ہے کہ متقی اپنے نفوس کو بری باتوں سے روکتے اور اچھی باتوں کا پابند بناتے ہیں پہلا وصف سلبی ہے دوسرا وصف ثبوتی۔ سلبی وصف کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 16–17

(16۔ 17) اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں اور ان کے جنت میں مراتب اور ان کے تمام اعمال دنیوی سے بخوبی واقف ہیں، اب آگے اللہ تبارک وتعالیٰ ایسے حضرات کی بعض تفصیلی صفات بیان فرماتے ہیں۔ ایسے اہل ایمان دنیا میں بارگارہ خداوندی میں یہ عرض کرتے ہیں کہ ہم آپ پر اور آپ کے رسول پر ایمان لائے ہیں تو ہمارے زمانہ جاہلیت والے اور جاہلیت کے بعد والے تمام گناہوں کو معاف فرما دیجیے اور ہم سے دوزخ کے عذاب کو دور کو دیجیے یہ ایسے حضرات ہیں جو فرائض خداوندی کی بجا آوری اور گناہوں سے بچنے میں ثابت قدم رہنے والے ہیں اور ایمان میں سچے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تابعداری کرنے والے ہیں اور اللہ کی راہ میں اپنے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلصّٰبِرِيْنَ ”نیکی کرنے پر، گناہ سے بچنے پر، مصیبتیں آنے پر صبر کرنے والے۔ صبر کی یہ تین قسمیں ہیں۔ ”وَالصّٰدِقِيْنَ“ نیت، قول اور فعل میں سچے، حکم ماننے والے، اپنا مال و جان، اپنی اولاد اور اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت خرچ کرنے والے اور یہ سب کچھ کرنے کے باوجود سحریوں (رات کی آخری گھڑیوں) میں اپنی عبادت پر مغرور ہونے کی بجائے اپنی کوتاہیوں کے لیے استغفار کرنے والے۔ اس آیت سے خاص طور پر سحر (پچھلی رات) کے وقت استغفار کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ (دیکھیے ذاریات : 15 تا 18) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے، جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، فرماتا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 16–17

آیت نمبر : 16 تا 17۔ اس میں (آیت) ” الذین، للذین اتقوا “۔ سے بدل ہے، اور اگر چاہو تو مرفوع پڑھ لو او تقدیر کلام ہوگی ھم الذین یا پھر مدح کی بناء پر منصوب پڑھ لو۔ ” ربنا “ اصل میں یا ربنا ہے۔ اننا امنا “ کا معنی ہے یقینا ہم نے تصدیق کی۔ (آیت) ” فاغفرلنا ذنوبنا “۔ یہ مغفرت کی دعا اور التجاء ہے۔ (آیت) ” وقنا عذاب النار “ یہ سورة البقرۃ میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” الصبرین “۔ یعنی یہ گناہوں اور شہوات سے صبر کرنے والے ہیں اور بعض نے کہا کہ وہ طاعات پر صبر کرنے والے ہیں (آیت) ” والصدقین “۔ اور افعال واقوال میں سچ بولنے والے ہیں (آیت) ” والقنتین “۔ اور وہ اطاعت وپیروی کرنے والے ہیں۔ (آیت) ” والمنفقین “۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–17

(1) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ” الصبرین “ آخر تک “ میں الصابرون سے وہ قوم مراد ہیں جو اللہ کی اطاعت پر صبر کرے اور حرام کاموں سے بچنے پر صبر کرے اور ” والصدقین “ سے وہ قوم مراد ہے جو اپنی نیتوں میں سچے ہوں اور ان کے دلوں میں اور ان کی زبانوں میں استقامت ہو اور سچ بولیں چھپے ہوئے بھی اور اعلانیہ بھی اور ” والقنتین “ سے مراد ہے اطاعت کرنے والے اور ” والمستغفرین بالاسحار “ سے مراد ہے نمازی۔ (2) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ” الصبرین “ سے مراد ہے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا اس پر صبر کرنے والے ” والصدقین “ سے مراد ہے کہ اپنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَلصّٰبِرِیْنَ : (جو لوگ رہے) ثابت قدم رہنے والے ] [وَالصّٰدِقِیْنَ : اور سچ کرنے والے ] [وَالْقٰنِتِیْنَ : اور فرماں برداری کرنے والے ] [وَالْمُنْفِقِیْنَ : اور انفاق کرنے والے ] [وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ : اور مغفرت مانگنے والے ] [بِالْاَسْحَارِ : سویرے سویرے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَالْمُنْفِقِیْنَ وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بالْاَسْحَارِ ) اَلصَّابِرِیْنَ (صبر کرنے والے): اس صفت کو مقدم فرمایا کیونکہ صفت صبر ہی ایسی چیز ہے جس کا تمام نیکیوں میں دخل ہے جیسا کہ آیت کریمہ (وَاسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ) کی تفسیر میں عرض کیا گیا کہ صبر کی تین قسمیں ہیں اول نیکیوں پر جما رہنا دوسرے گناہوں کے چھوڑنے پر نفس کو لگائے رہنا اور گناہوں کے تقاضوں کو دبانا تیسرے تکلیفوں پر صبر کرنا۔ مومن بندہ کی زندگی میں ہر موقعہ پر اور ہر عبادت میں مالی ہو یا بدنی اس صفت کی ضرورت پڑتی ہے پھر فرمایا : وَالصَّادِقِیْنَ (سچے لوگ): سچائی بہت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–17

بیان نفاست نعمائے اخرویہ ومستحقین آنہا۔ قال تعالی، قل اء نبئکم بغیر من ذالکم۔۔۔۔ الی۔۔۔ بالاسحار۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں لذات دنیویہ کی حقارت اور خساست کو بیان فرمایا اب ان آیات میں اخروی نعمتوں کی نفاست کو بیان فرماتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ ان نفیس اور لازوال نعمتوں کے اہل اور مستحق کون لوگ ہیں، نیز گزشتہ آیت میں یہ بتلایا تھا کہ دنیا کے سامان سے فقط دنیا کی چند روزہ زندگی میں نفع اٹھایا جاسکتا ہے اب آئندہ آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ مستقل اور پائیدار فائدہ اور دائمی فلاح کے حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے چناچہ فرماتے ہیں کہ اے نبی کریم ﷺ آپ ان لوگوں سے جو شہوات اور لذات کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

24 اَلصّٰبِرِیْنَ محل خبر میں ہے اور مع معطوفات اَلَّذِیْنَ اتَّقَوْا ہی کا تابع ہے۔ اَلصّٰبِرِیْنَ مسئلہ توحید بیان کرنے میں ہر تکلیف اور مصیبت میں صبر واستقلالی سے کام لینے والے۔ اَلصّٰدِقِیْنَ ظاہر و باطن میں سچے باتوں میں بھی اوروں کے ارادوں میں بھی۔ اَلْقٰنِتِیْنَ اللہ کی اطاعت اور عبادت پر ہمیشہ قائم رہنے والے۔ اَلْمُنٰفِقِیْنَ اللہ کی دی ہوئی دولت سے توحید اور دین اسلام کی اشاعت میں خرچ کرنے والے۔ اَلْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ ۔ بوقت سحر نماز پڑھنے والے اور مسئلہ توحید کے بیان میں کوتاہی اور دوسرے گناہوں کیلئے اللہ سے بخشش مانگنے والے۔ الکل من الروح۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–18

ربط آیات : گذشتہ درس میں گمراہی کے اسباب بیان ہوئے تھے۔ عام طور پر انہی اشیاء کی محبت میں گرفتار ہو کر لوگ گمراہی میں مبتلا ہوتے ہیں ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے دین اور آخرت کی زندگی سے غافل ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلا دیا کہ دنیا کی ان مرغوب اشیاء کے مقابلے میں اہل تقوی کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سامان موجود ہے۔ وہاں پر جنت ہے جس میں ہر طرح کی نعمتیں مہیا ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہاں اللہ کی خوشنودی اور رضا حاصل ہوجائے گی۔ جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہوگی۔ اور جس کو کبھی زوال نہیں آئیگا۔ اب آیات زیر درس میں اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے اوصاف بیان فرمائے ہیں۔ یعنی یہ وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلصّٰبِرِيْنَ وَالصّٰدِقِيْنَ وَالْقٰنِـتِيْنَ وَالْمُنْفِقِيْنَ وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بِالْاَسْحَارِ۝ 17 صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–17

(1) یقولون ربنا الخ کہ وہ خدا سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم تجھ پر ایمان لائے تو ہمارے گناہ معاف کر اور عذاب النار سے بچائیو (2) صبر کرنے والے صبر کہتے ہیں محنت کا نفس پر برداشت کرنا خواہ عبادات قائم کرنے میں خواہ نفس کو اس کی خواہشوں سے روکنے میں (3) صادقین سچ بولنے والے اور ہر بات کو سچ کر دکھانے والے (4) خدا کی عبادت کرنے والے (5) منفقین یعنی خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے خواہ بذریعہ صدقہ نافلہ خواہ بذریعہ زکو ٰۃ اپنوں کو دے خواہ بیگانوں کو (6) سحر کے وقت خدا سے استغفار کرنے والے۔ اس وقت شب کی ظلمت دور ہو کر نور پھیلتا ہے رات کا مردہ زندہ ہوتا ہے یہ وقت جود عام اور فیض تام کا وقت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 16–17

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اِنَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۔ ج اَلصَّابِرِیْنَ وَالصَّادِقِیْنَ وَالْقَانِتِیْنَ وَالْمُنْفِقِیْنَ وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ ۔ (جو دعا کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لائے پس ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ جو صبر کرنے والے ‘ راست باز ‘ فرمانبردار ‘ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے اور اوقاتِ سحر میں مغفرت چاہنے والے ہیں) ( 16 تا 17) اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ ‘ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا سے بدل ہے۔ گزشتہ آیت کریمہ میں ان لوگوں کو جنت کی نعمتوں کی بشارت دی گئی تھی جو اپنے اندر تقویٰ پیدا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–18

فہم القرآن ربط کلام : اوصاف حمیدہ کا تقاضا اور خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کی توحید اور انصاف پر قائم رہنا ضروری ہے۔ سورۃ کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی توحید سے ہوئی تھی اور اب پھر اسی مضمون کا اعادہ شہادت کے الفاظ میں ہورہا ہے۔ سب سے پہلے رب ذو الجلال اپنی ذات، صفات اور وحدانیت پر خود گواہی دے رہا ہے کہ میرے بغیر کائنات کا کوئی خالق ومالک نہیں اور میں ہی معبودِ برحق اور واحد ہوں اس کے بعد ملائکہ کی شہادت ڈالی جارہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور بادشاہت کے عینی گواہ ہیں۔ ان کے بعد اہل علم کی گواہی پیش کی جارہی ہے جو انصاف کی گواہی دینے والے اور ہر حال میں اس پر قائم رہنے والے ہیں۔ یہاں ” اُولُوا الْعِلْمِ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

صفاتِ صالحین : 17۔ اَلصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰدِقِیْنَ وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ ۔ اَلصّٰبِرِیْنَ (وہ صبر کرنے والے ہیں۔ طاعات پر اور مصائب پر نحو : یہ بھی امدح فعل کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ وَالصّٰدِقِیْنَ (وہ سچ بولنے والے) حق بات کہہ کر زبانی سچ اور احکام پر عمل کر کے فعلی سچ اور پختہ ارادہ پور اکر کے نیت سے سچائی اختیار کرنے والے ہیں۔ وَالْقٰنِتِیْنَ (اور عاجزی کرنے والے ہیں) دعوت دینے والے ہوں یا اطاعت اختیار کرنے والے ہوں وَالْمُنْفِقِیْنَ ( اور وہ خرچ کرنے والے ہیں) وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ (اور سحری کے وقت استغفار کرنے والے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17۔ (الصابرین والصادقین، صبر کرنے والے اور سچ بولنے والے) یہ دونوں منصوب ہیں علی المدح یا تو صفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں ، عبارت یوں بنے گی ” الصابرین فی اداء الاوامر “ اللہ کے حکم کردہ امور پر عمل کرنے میں جو مشقت پہنچتی ہے اس پر صبر کرنا اور نہی (منع کردہ امور) کے ارتکاب سے بچنا اور تنگی و تکلیف کے وقت صبر کرنا اور اپنی قسموں میں سچے ، قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد کہ وہ اپنی نیت میں سچے اور ان کے دل استقامت والے اور اس پر ان کی زبان تصدیق کرتی ہے پوشیدہ اور ظاہرا بھی (والقانتین اور حکم بجا لانے والے ) اطاعت کرنے والے اور نماز پڑھنے والے (والمنفقین اور خرچ کرنے والے) اور اپنے اموال کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–17

(16 ۔ 17) ۔ اوپر کی آیت کو اللہ تعالیٰ نے واللہ بصیر بالعباد پر ختم فرما کر اس آیت میں اپنے بندوں کا ذکر فرمایا ہے جن کے اعمال نیک اور وہ اپنے اعمال کے سبب سے جنت کی نعمتوں کے پورے مستحق ہیں اور ان کی نشانیاں یہ فرمائیں کہ احکام شرع کے پابند اور اعمال شرع کی تکلیفات پر صابر صادق الاقوال جو کہیں سو کریں۔ نیک کاموں میں اپنا مال خرچ کرنے کو تا دیر عذاب الٰہی سے بچنے کی دعا اور گناہوں کی مغفرت کی دعا میں ہر وقت خصوصاً پچھلی رات کو قریب صبح لگے رہتے ہیں اس وقت کا اس لئے ذکر فرمایا کہ بڑی قبولیت کا وقت ہے۔ چناچہ صحیحین وغیرہ میں صحابہ کی ایک جماعت 3 سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ تہائی رات باقی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 14–17

آیت 14-17 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے لوگوں کے لئے دنیوی مرغوب چیزوں کی محبت مزین کردی ہے۔ ان میں سے مذکورہ بالا اشیاء کو خاص طور پر ذکر کیا ہے کہ دنیا کی مرغوب چیزوں میں سے یہ سب سے بڑھ کر ہیں۔ باقی سب ان کے تابع ہیں۔ جیسے ارشاد ہے : (انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا) (الکھف :8/18” ہم نے زمین پر جو کچھ ہے اسے زمین کی زینت بنایا ہے “ چونکہ یہ چیزیں مزین کردی گئیں ہیں اور ان میں دلوں کو مائل کرنے کا وصف ہے۔ اس لئے لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوگئے اور عملی طور پر لوگوں کی دو قسمیں ہوگئیں۔ ایک قسم کے لوگ وہ ہیں جنہوں نے انہی مادی اشیاء کو اپنا مقصود بنا لیا، ان کی سوچیں، ان کے خیالات، ان کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–21

قول باری ہے (ان الذین یکفرون بایات اللہ ویقتلون النبیین بغیرحق و یقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس فبشرھم یعذاب الیم، جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں جو خلق خدا میں عدل اور راستی کا حکم دینے کے لیئے اٹھیں ان کو دردناک سزا کی خوشخبری سنادو) حضرت ابوعبیدہ بن الجراح سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ قیامت کے دن کس شخص کی سزاسب سے زیادہ سخت ہوگی ؟ آپ نے فرمایا (رجل قتل نبیا اور رجل ھوب معروف تھی عن منکرء اس شخص کی سزاسب سے سخت ہوگی جس نے کسی نبی کو یا امربالمعروف اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

36 اللہ کے اطاعت گزار بندوں کا شعار توبہ و استغفار : یعنی وہ اپنی اطاعت شعاری اور فرمانبرداری کے باوجود اپنی تقصیرات اور کوتاہیوں کا احساس رکھتے، اور اپنے خالق ومالک کے حضور ان کا اقرار و اعتراف کرتے، اور اس سے مغفرت و بخشش کی دعاء و درخواست کرتے ہیں، اور رب تعالیٰ اور اس کے حقوق کی عظمت اور اپنے عجز و انکسار کے پیش نظر وہ رات کے پچھلے حصوں میں جبکہ دنیا غفلت کی نیند سوئی ہوئی ہوتی ہے، وہ اٹھ اٹھ کر اس کے حضور توبہ و استغفار کرتے ہیں، اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، جو کہ دعاؤں کی قبولیت، اور اس کی باران رحمت و عنایت کے نزول کے خاص اوقات ہوتے ہیں۔ اور ان وقتوں میں اٹھنا نفس پر بڑا گراں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 14–17

اللہ تعالیٰ کے انعامات کے اصل حقدار تشریح : ان آیات سے پہلے مسلمانوں اور کفار کی خصوصیات بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہیں۔ ان آیات میں کھرے اور کھوٹے انسان کی پہچان کرائی گئی ہے۔ کیونکہ دنیا کا سازو سامان مثلاً عورتوں کی محبت، اولاد، سونے چاندی کے ڈھیر، عمدہ گھوڑے، مال مویشی اور زرعی زمین وغیرہ یہ سب کچھ انسان کے لئے بڑی کشش رکھتی ہیں اور یہ بہترین زندگی کے اسباب بھی ہیں۔ اسی لئے انسان ان سب چیزوں کو پسند کرتا ہے اور انہی چیزوں کو حاصل کرنے میں کوشش کرتا رہتا ہے۔ رب العزت نے فرمایا کہ یہ سب چیزیں بیشک نعمتیں ہیں۔ مگر یہ سب کچھ امتحان کا باعث بھی بنتی ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ آزمائش ہوتی ہے کہ ان کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–20

آیات 10- 20 اسرارو معارف ان الذین کفروا………………وبئس المھاد۔ بے شک جن لوگوں نے کفر کیا۔ ان کے مال اور اولاد اللہ کے مقابل ذرہ برابر کام نہ آئیں گے یا وہ یہ سمجھ رکھیں کہ ان کے پاس دولت ہے اولاد ہے تو شاید عنداللہ وہ مقبول ہیں اور یہ اللہ کی خوشنودی کی دلیل ہے ہرگز نہیں ! یہ ایک نظام ہے اللہ کا مقرر کردہ جو چل رہا ہے ہاں ! اللہ کی رضامندی کی دلیل دین ہے۔ اگر دین قبول نہ کیا تو مالدار ہوں یا صاحب اولاد ہوں ، دوزخ کا ایندھن ہیں بلکہ ترجمہ تو یوں ہے کہ یہی لوگ دوزخ کا ایندھن ہیں۔ ان کا رویہ تو آل فرعون جیسا ہے یا ان سے پہلے گزرنے والے کافروں جیسا کہ دولت اور ریاست کے لالچ میں حق کو قبول نہ کیا اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اور اس کے محرمات سے پرہیز مشقت اٹھانے والے۔2 اس آیت سے خاص طور پر سحر (پچھلی رات) کے وقت استغفار کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ کتب احادیث میں متعدد صحابی سے یہ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے : جب رات کا یک تہائی یا نصف باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ پہلے آسمان سے پر اتر کر یہ فرماتے ہیں ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اس کو دوں ؟ ہے کو دعا کرنے والا میں اس کی دعا قبول کروں ؟ ہے کوئی استغفار کرنے والا میں اس کی مغفرت کروں ؟ اور ہر رات پکار کر یہی پوچھا جاتا ہے۔ ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:17) والقانتین۔ اطاعت گزار۔ اسم فاعل جمع مذکر معرف باللام قنوت باب نصر سے جس کے معنی خضوع کے ساتھ اطاعت کر التزام کرنے کے ہیں۔ المنفقین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ انفاق مصدر۔ راہ خدا میں خرچ کرنے والے۔ انفق ینفق (باب افعال) سے ۔ خرچ کرنا۔ باب مفاعلہ سے نافق ینافق فی الدین۔ مذہب میں منافقت کرنا۔ المستغفرین۔ اسم فاعل جمع مذکر استغفار مصدر باب استفعال ۔ گناہوں کی معافی مانگنے والے ۔ اسحار۔ سحر کی جمع جس کے معنی رات کی تاریکی کے ساتھ دن کی روشنی کے ملنے کے ہیں۔ اسی لئے سحر صبح کے اول وقت کو کہتے ہیں ۔ اسماء صبح کے اوقات۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 14–18

لغات القرآن آیت نمبر 14 تا 18 زین (خوبصورت، پسندیدہ بنادی گئی) حب الشھوات (مزوں کی محبت (حب، محبت، الشھوات، حواہشیں) القناطیر (ڈھیر (قنطار، ڈھیر) المقنطرۃ (لگے ہوئے ڈھیر) ذھب (سونا) الفضة (چاندی) الخیل المسومة (پلے ہوئے گھوڑے، نشان لگے ہوئے گھوڑے) الانعام (مویشی) الحرث (کھیتی) متاع (سامان) حسن الماٰب (بہترین ٹھکانا) اء نبئکم (کیا میں تمہیں بتاؤں ؟ ) مطھرۃ (پاکیزہ ، صاف ستھری) رضوان (رضاوخوشنودی) ذنوب (گناہ (ذنب کی جمع) القٰنتین (ادب کرنے والے) المنفقین (خرچ کرنے والے) المستغرین (استغفار کرنے والے) بالاسحار (صبح کے وقت (سحر، صبح) اولوالعلم (علم والے) قائم (قائم رہنے والے ، کھڑے رہنے والے)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

دعا کی مقبولیت کا وقت جن کے قول اور ارادے سچے ہوں اس میں آخر شب میں نماز پڑھنے والے بھی داخل ہیں، اور وقت سحر دعا و استغفار والے بھی۔ یہ وقت خلوت واجابت دعا کا ہے۔ چناچہ صحیحین وغیرہ میں صحابہ کی ایک جماعت سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ تہائی رات باقی رہے ہر رات کو اللہ تعالیٰ اول آسمان پر نزول فرما کر یہ فرماتا ہے کہ کوئی دعا یا استغفار کرنے والا ہو تو اس کی دعا اور توبہ قبول کرنے کو اور کوئی کچھ حاجت رکھتا ہو تو اس کی حاجت روائی کو میں موجود ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–17

[5] جنگ بدر (2 ھ) میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی جبکہ کفار کی تعداد ان سے تین گنا زیادہ تھی۔ مسلمانوں کے پاس سامان جنگ نہایت قلیل تھا اور پورے لشکر میں صرف دو گھوڑے اور سات زرہیں تھیں اور اونٹ اتنے کم کہ چار آدمیوں کے حصہ میں ایک پڑتا تھا۔ اس کے برعکس کفار کا لشکر ضروری سامان سے لیس تھا۔ ان میں سات سو ستر سوار تھے اور زرہ پوش ایک سو تھے۔ اس کثرت تعداد کے باوجود کفار کو ذلت آمیز شکست ہوئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–17

اللہ کے بندے : (ف 1) اس سے پہلے کی آیت میں اللہ بندوں کے انعامات گنائے گئے تھے ۔ اس آیت میں یہ بتایا کہ اللہ کے بندے کون ہیں ؟ وہ مومن جنہیں احساس گناہ ہر وقت طلب مغفرت پر مجبور کرتا رہے ، وہ جو صابر ہوں یعنی صبر علی الطاعات ہو ، صبر علی المحارم ہو ، تکلیفوں پر برداشت کی قوت رکھتے ہوں ، باطل کا مقابلہ کرنے کے لئے آمادہ ہوں ، یہ سب چیزیں صبر کے مفہوم میں داخل ہیں ، وہ جو صادق ہوں ، زبان ودل میں ان کے کوئی اختلاف نہ وہ ، سرا وجہرا ان میں کوئی تفاوت نہ پایا جائے ، ان کی خلوتیں جلوتوں سے بہتر ہوں ، وہ جو قانتین ہوں ، فرائض کی بجا آوری میں ہمہ تن رضا کار ہوں ، وہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ اپنے مخاطبین سے دریافت کیجئے کیا میں تم کو ایسی چیزیں بتادوں جو اس دنیوی مذکورہ سامان سے بدرجہا بہتر ہوں لہٰذا سن لو جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کرتے ہیں اور دنیوی خواہشات کے پورا کرنے میں احتیاط سے کام لیتے ہیں ان کے لئے ان کے پروردگار اور مالک کے پاس ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کے لئے ایسی بیویاں ہوں گی جو ہر قسم کے ظاہری اور باطنی عیوب سے پاک اور مبرا ہوں گی اور مزید برآں اللہ تعالیٰ کی جانب سے رضا مندی اور خوشنودی کی بےبہا نعمت ان کو میسر ہوگی اور اللہ تعالیٰ بندوں کے حال اور ان کے اعمال پر پوری نظر رکھتا ہے ۔ یہ اہل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ اخیر شب کی تخصیص اس لئے ہے کہ اس وقت اٹھنے میں مشقت بھی ہے اور وہ وقت قبولیت کا بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نیک لوگ ہی دراصل صبر کرنے والے ہیں : 42: ” وہ صبر کرنے والے ہیں “ صبر کی حقیقت یہ عوام و خواص کی غلط فہمی نے تو پردے ڈال رکھے ہیں الاماشء اللہ۔ صبر اکثر لوگوں کے نزدیک بےبسی و بےکسی کی تصویر ہے اور اس کے معنی اپنے دشمن سے کسی مجبوری کے سبب سے انتقام نہ لے سکنا ہے۔ لیکن کیا واقعہ یہ ہے ؟ صبر کے لغوی معنی ” روکنے “ اور ” سہارنے “ کے ہیں یعنی اپنی نفس کو اضطراب اور گھبراہٹ سے روکنا اور اس کو اپنی جگہ پر ثابت قدم رکھنا اور یہی صبر کے معنوی حقیقت بھی ہے یعنی اس کے معنی بےاختیاری کے خاموشی اور انتقام نہ لے سکنے کی مجبوری کے نہیں بلکہ پامردی ، دل کی مضبوطی ، اخلاقی جرات اور ثبات قدم کے ہیں۔ سیدنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–17

In the second verse that follows (15), the same subject has been further cleared by saying: قُلْ أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيْرٍ‌ مِّن ذَٰلِكُمْ ۚ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِندَ رَ‌بِّهِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ خَالِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَ‌ةٌ وَرِ‌ضْوَانٌ مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ بَصِيرٌ‌ بِالْعِبَادِ ﴿15﴾ Say: "Shall I not tell you what is far better than that? For those who fear Allah, there are with their Lord gardens beneath which rivers flow, where they shall live forever, and wives purified, and approval from Allah. And Allah is watchful over His…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–17

13. That is, they are those who remain steadfast in the cause of Truth; who do not lose heart when they either suffer losses or are subjected to afflictions; who do not despair when they encounter reverses; who are not seduced by temptations. They are the ones who remain faithful to the Truth, even when it apparently stands no chance of prevailing (see also Surah 2, n. 60 above) .

Read the full tafseer →