Aal-i-Imraan 3:18

Aal-i-Imraan · from ayah 18

3:18

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۙ— وَالْمَلٰٓىِٕكَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَآىِٕمًا بِالْقِسْطِ ؕ— لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ۟ؕشَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ وَاُولُوا الۡعِلۡمِ قَآئِمًا ۢ بِالۡقِسۡطِ‌ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُؕ

خدا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور علم والے لوگ جو انصاف پر قائم ہیں وہ بھی (گواہی دیتے ہیں کہ) اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah witnesses that there is no deity except Him, and [so do] the angels and those of knowledge - [that He is] maintaining [creation] in justice. There is no deity except Him, the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 2 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:18

اللہ نے خود شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، او ر (یہی شہادت) فرشتوں اور سب اہل علم نے بھی دی ہے وہ انصاف پر قائم ہے اُس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی خدا نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور علم والے لوگ جو انصاف پر قائم ہیں وہ بھی (گواہی دیتے ہیں کہ) اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وه عدل کو قائم رکھنے واﻻ ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ نے خود اس بات کی گواہی دی ہے، اور فرشتوں اور اہل علم نے بھی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے انصاف کے ساتھ (کائنات) کا انتظام سنبھالا ہوا ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جس کا اقتدار بھی کامل ہے حکمت بھی کامل۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور عالموں نے انصاف سے قائم ہوکر اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اﷲ نے اس بات پر گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی (اور ساتھ یہ بھی) کہ وہ ہر تدبیر عدل کے ساتھ فرمانے والا ہے، اس کے سوا کوئی لائقِ پرستش نہیں وہی غالب حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ نے گواہی دی کہ بیشک حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ نے خود بھی اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اور فرشتوں نے بھی اور اہل علم نے بھی راستی اور انصاف کے ساتھ یہی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہی زبردست ہے، حکمت والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ، فرشتوں اور علم کی گواہی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ عدل وقسط کا قائم رکھنے والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ غالب اور حکمت والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

گواہی دی اللہ نے خود اس بات کی کہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، سوائے اس (وحدہ لاشریک) کے، اور اس کے فرشتوں نے بھی (یہی گواہی دی) اور اہل علم نے بھی، وہی قائم رکھنے والا ہے (عدل و) انصاف کو، کوئی بھی بندگی کے لائق نہیں سوائے اس (وحدہ لاشریک) کے، جو بڑا ہی زبردست، نہایت ہی حکمت والا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ کی گواہی ہے کہ کوئی معبود نہیں ہے بجز اس کے اور فرشتوں اور اہل علم کی (بھی گواہی یہی ہے۔) اور وہ عدل سے انتظام رکھنے والا معبود ہے۔ کوئی معبود نہیں ہے بجز اس زبردست حکمت والے کے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ خود گواہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور سارے فرشتے (گواہ ہیں) اور اہل علم بھی (اس پر گواہ ہیں) وہ عدل وقسط کا قائم کرنے والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زبردست ہے کمال حکمت والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ نے خود شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور (یہی شہادت) فرشتوں اور اہل علم نے بھی دی ہے۔ وہ انصاف پر قائم ہے۔ اس زبردست حکیم کے سوا بالکل کوئی سچا معبود نہیں ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah Himself bears witness that there is no God but He; and likewise do the angels and the men possessed of knowledge bear witness in truth and justice that there is no God but He, the All-Mighty, the All-Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah bears witness that there is no god but He __ and (so do) the angels and the men of knowledge __ being the One who maintains equity. There is no god but He, the Mighty, the Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah bears witness that there is no god but He __ and (so do) the angels and the men of knowledge __ being the One who maintains equity. There is no god but He, the Mighty, the Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah bears witness that none has the right to be worshipped but He, and the angels, and those having knowledge (also bear witness to this); (He always) maintains His creation in justice. None has the right to be worshipped but He, the Almighty, the All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah (Himself) is Witness that there is no Allah save Him. And the angels and the men of learning (too are witness). Maintaining His creation in justice, there is no Allah save Him the Almighty, the Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah witnesses that there is no deity except Him, and [so do] the angels and those of knowledge - [that He is] maintaining [creation] in justice. There is no deity except Him, the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

God Himself testifies that He is the only Lord. The angels and the men of knowledge and justice testify that God is the only Lord, the Majestic, and All-wise.

— Muhammad Sarwar

Allah bears witness that there is no god but He, and (so do) the angels and those possessed of knowledge, maintaining His creation with justice; there is no god but He, the Mighty, the Wise.

— Muhammad Habib Shakir

Allah beareth witness - and also the angles and those endued with knowledge that there is no god but He, the Maintainer of equity: there is no god but He, the Mighty, the Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

There is no god but He: That is the witness of Allah, His angels, and those endued with knowledge, standing firm on justice. There is no god but He, the Exalted in Power, the Wise.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–20

اللہ وحدہ لاشریک اپنی وحدت کا خود شاہد اللہ تعالیٰ خود شہادت دیتا ہے بس اس کی شہادت کافی ہے وہ سب سے زیادہ سچا گواہ ہے، سب سے زیادہ سچی بات اسی کی ہے، وہ فرماتا ہے کہ تمام مخلوق اس کی غلام ہے اور اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ اور اسی کی طرف محتاج ہے، وہ سب سے بےنیاز ہے، الوہیت میں اللہ ہونے میں وہ یکتا اور لاشریک ہے، اس کے سوا کوئی پوجے جانے کے لائق نہیں، جیسے فرمان ہے آیت (لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ) 4۔ النسآء :166) یعنی لیکن اللہ تعالیٰ بذریعہ اس کتاب کے جو وہ تیری طرف اپنے علم سے اتار رہا ہے، گواہی دے رہا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة اٰلِ عِمْرٰن 14 یعنی اللہ جو کائنات کی تمام حقیقتوں کا براہ راست علم رکھتا ہے، جو تمام موجودات کو بےحجاب دیکھ رہا ہے، جس کی نگاہ سے زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں، یہ اس کی شہادت ہے۔۔۔۔ اور اس سے بڑھ کر معتبر عینی شہادت اور کس کی ہوگی۔۔۔۔ کہ پورے عالم وجود میں اس کی اپنی ذات کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں ہے، جو خدائی کی صفات سے متصف ہو، خدائی کے اقتدار کی مالک ہو، اور خدائی کے حقوق کی مستحق ہو۔ سورة اٰلِ عِمْرٰن 15 اللہ کے بعد سب سے زیادہ معتبر شہادت فرشتوں کی ہے، کیونکہ وہ سلطنت کائنات کے انتظامی اہل کار ہیں اور وہ براہ راست اپنے ذاتی علم کی بنا پر شہادت دے رہے ہیں کہ اس سلطنت میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر ربط آیات سابقہ آیات میں توحید کا بیان ہوا ہے مذکورہ آیتوں میں سے پہلی آیت میں بھی توحید خداوندی کا مضمون ایک خاص انداز سے بیان فرمایا گیا ہے کہ اس پر تین شہادتوں کا ذکر ہے ایک خود اللہ جل شانہ کی شہادت دوسرے اس کے فرشتوں کی، تیسرے اہل علم اللہ جل شانہ کی شہادت تو بطور مجاز ہے مراد یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کی ذات وصفات اور اس کے تمام مظاہر و مصنوعات اللہ تعالیٰ کی توحید کی کھلی نشانیاں ہیں۔ ہر گیا ہے کہ از زمین روید وحدہ لا شریک لہ گوید اس کے علاوہ اس کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول اور کتابیں بھی اس کی توحید پر شاہد ہیں، اور یہ سب چیزیں حق تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو گویا خود اس کی شہادت اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

توحید اور قسط کی شہادت کے تین پہلو : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور قائم بالقسط ہونے پر اپنی، اپنے فرشتوں اور اہل علم کی شہادت کا حوالہ دیا ہے۔ یہ شہادت تین مختلف پہلوؤں سے ہے۔ 1۔ آفاق کی شہادت : ایک تو آفاق کی شہادت ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اس کائنات کے خالق نے اس کو جس طرح بنایا ہے اور جس طرح اس کے نظام کو چلا رہا ہے اس سے اس بات کی ساف شہادت مل رہے ہیں کہ وہ ایک ہی ہے، کوئی اس کا ساجھی نہیں ہے۔ قرآن نے اس شہادت کو توحید کی دلیل کے عنوان سے اتنی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اس کے شواہد نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر اسی نظام کائنات سے قرآن نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس کے ہر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–18

18۔ 1 شہادت کے معنی بیان کرنے اور آگاہ کرنے کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا اور بیان کیا اس کے ذریعے سے اس نے اپنی وحدانیت کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی۔ (فتح القدیر) فرشتے اور اہل علم بھی اس کی توحید کی گواہی دیتے ہیں۔ اس میں اہل علم کی بڑی فضیلت اور عظمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کے ناموں کے ساتھ ان کا ذکر فرمایا ہے تاہم اس سے مراد صرف وہ اہل علم ہیں جو کتاب اور سنت کے علم سے بہرہ ور ہیں۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–26

6: جب غزوہ احزاب کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے پیشینگوئی فرمائی تھی کہ روم اور ایران کی سلطنتیں مسلمانوں کے قبضے میں آجائیں گی تو کفار نے بڑا مذاق اڑایا کہ ان لوگوں کو اپنے دفاع کے لئے خندق کھودنی پڑرہی ہے اور ان پر فاقے گزر رہے ہیں مگر دعوے یہ ہیں کہ یہ روم اور ایران فتح کرلیں گے، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں مسلمانوں کو یہ دعا تلقین فرما کر ایک لطیف پیرائے میں ان کا جواب دے دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ وہ پہلی حقیقت ہے ‘ جس پر اسلام کے نظریاتی تصورات قائم ہیں یعنی عقیدہ توحید ‘ الوہیت میں توحید ‘ قیومیت میں توحید اور یہ کہ اس کائنات کی پوری نگہبانی اصول انصاف وعدل پر منجانب اللہ ہورہی ہے ۔ اس پہلی حقیقت کے ساتھ اس سورت میں کلام کا آغاز ہوا تھا اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ …………… ” اللہ وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور وہ زندہ جاوید اور نگہبان ہے۔ “ اس آغاز سے ایک تو اسلامی عقیدہ کا اظہار اور توضیح مقصود تھی اور دوسری جانب سے اہل کتاب کے پھیلائے ہوئے شبہات کا رد مطلوب تھا ۔ ایک تو خود اہل کتاب کے لئے ان کے موروثی عقیدہ توحید کی تشریح اور توضیح بھی مقصود تھی ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 ابتداء میں نصاریٰ ـ" نجران " سے خطاب تھا اور نہایت لطیف انداز سے الوہیت مسیح کے عقیدہ کا ابطال اور توحید خالص کا اعلان کر کے ایمان لانے کی ترغیب دی گئی تھی۔ درمیان میں ان موانع کا ذکر فرمایا جو انسان کو وضوح حق کے باوجود شرف ایمان سے محروم رکھتے ہیں۔ یعنی مال و اولاد اور سامان عیش و عشرت۔ ان آیات میں مومنین کی صفات بیان کرنے کے بعد پھر اصل مضمون توحید وغیرہ کی طرف عود کیا گیا ہے۔ یعنی توحید خالص کے ماننے میں کیا تردّد ہوسکتا ہے۔ جبکہ خود حق تعالیٰ اپنی تمام کتابوں میں برابر اس مضمون کی گواہی دیتا رہا ہے۔ اور اس کی فعلی کتاب (صحیفہء کائنات) کا ایک ایک ورق بلکہ ایک ایک نقطہ شہادت دیتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 18 شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ الاَّ ہُوَلا سب سے بڑی گواہی تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے ‘ جو کتب سماویہ سے بھی ظاہر ہے اور مظاہر فطرت سے بھی۔ وَالْمَلآءِکَۃُ وَاُولُوا الْعِلْمِ اولوالعلم وہی لوگ ہیں جنہیں قرآن کہیں اولوالالباب قرار دیتا ہے اور کہیں ان کے لیے الَّذِیْنَ یَعْقِلُوْنَجیسے الفاظ آتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آیات آفاقی کے حوالے سے اللہ کو پہچان لیتے ہیں اور مان لیتے ہیں کہ وہی معبود برحق ہے۔ سورة البقرۃ کے بیسویں رکوع کی پہلی آیت ہم نے پڑھی تھی جسے میں آیت الآیاتقرار دیتا ہوں۔ اس میں بہت سے مظاہر فطرت بیان کر کے فرمایا گیا : لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ان میں یقیناً…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

21 اللہ تعالیٰ کی گواہی تو اس لحاظ سے سب سے زیادہ معتبر ہے کہ وہ خود خالق کائنات ہے اور اسے ٹھیک ٹھیک علم ہے کہ اس کائنات کی تخلیق و تدبیر میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ دوسرے نمبر پر فرشتوں کی گواہی اس لحاظ سے معتبر ہے کہ وہ مدبرات امر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق کائنات کی تدبیر و انتظام و انصرام انہیں کے سپرد ہے، اگر کائنات میں دوسرا الٰہ بھی ہوتا تو انہیں یقینا اس کا علم ہونا چاہئے تھا۔ تیسرے نمبر پر ان لوگوں کی گواہی معتبر ہے جو اہل علم ہوں۔ کائنات میں غور و فکر کرنے والے ہوں اور ایسے تمام لوگوں کی گواہی بھی یہی ہے کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی دوسرا الٰہ یا اس کا شریک نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

43 ۔ (اس لیے شرک ہر درجہ اور نوعیت کا باطل ہے) (آیت) ” شھد اللہ “۔ اللہ کی یہ گواہی کتب آسمانی سے بھی ظاہر ہورہی ہے۔ اور صحیفہ کائنات سے بھی۔ ومن وحدانیتہ ینسب الدلائل الدالۃ علیھا وانزال الایات القاطعۃ بھا۔ (بیضاوی) کتب الہی کی شہادت دلیل نقلی کا حکم رکھتی ہے۔ اور مصنوعات فطرت کی دلالت دلیل عقلی کا (آیت) ”۔ المآئکۃ “۔ یہ وہی مخلوق ہے جسے اکثر مشرک قومیں دیوتا کالقب دے کر شریک خدائی سمجھ رہی ہیں۔ (آیت) ” اولوالعلم “۔ ” علم “ سے مراد حقایق ہے نہ کہ علوم دنیوی۔ محققین نے آیت سے علماء کا خاص شرف وفضل نکالا ہے۔ فی ھذہ الایۃ دلیل علی فض (رح) العلم وشرف العلماء مآئکتہ کما فرفی اسم العلماء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

شَھِدَ اللہُ اَنَّہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ (الآیۃ) شہادت کے معنیٰ بیان کرنے اور آگاہ کرنے کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا اور بیان کیا اس کے ذریعہ سے اس نے اپنی وحدانیت کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔ فرشتہ اور اہل علم بھی اس کی توحید کی گواہی دیتے ہیں اس میں اہل علم کی بڑی فضیلت اور عظمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اور فرشتوں کے ناموں کے ساتھ اہل علم کا بھی ذکر فرمایا ہے تاہم اس سے مراد صرف وہ اہل علم ہیں جو کتاب و سنت کے علم سے بہرہ ور ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

شَهِدَ اللّٰهُ : اللہ شاہد ہے یعنی عقلی دلائل قائم کرکے اور کتابیں نازل فرما کے اس نے واضح طور پر بیان کردیا ہے۔ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ : کہ وہی ہے اس کے سوا کوئی معبود موجود نہیں ہے۔ بغوی نے بروایت کلبی بیان کیا ہے کہ شام کے یہودی علماء میں سے دو عالم رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہونے کے ارادہ سے آئے مدینہ کو دیکھ کر ایک نے دوسرے سے کہا یہ شہر تو اس شہر سے بہت ہی مشابہ ہے جہاں نبی آخر الزماں ﷺ کا ظہور ہوگا۔ جب دونوں خدمت گرامی میں پہنچے تو اپنی کتاب میں بیان کردہ صفات کو حضور ﷺ کی صفات سے مطابق پا کر پہچان لیا اور عرض کیا : کیا آپ محمد ہیں۔ رسول اللہ نے فرمایا : ہاں بولے کیا آپ احمد ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(18) اب اللہ تعالیٰ اپنی توحید کو خود بیان فرماتے ہیں اگرچہ اس کی ذات کے علاوہ اور کوئی بھی اس کی توحید کے متعلق گواہی نہ دے تب بھی اس ذات الہی کو کوئی فرق نہیں پڑتا تاہم فرشتے اور انبیاء کرام اور مومنین بھی اس کی توحید کی قولی وعملی گواہی دیتے ہیں۔ اور معبود حقیقی ہر ایک چیز کا اعتدال کے ساتھ انتظام رکھنے والے ہیں اور جو اس پر ایمان نہ لائے اس سے انتقام لینے میں غالب اور حکمت والے ہیں اور اس نے بات کو حکم دیا کہ اس اللہ کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کی جائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ) : اللہ تعالیٰ کے ہاں معتبر دین اسلام ہے، جیسا کہ آئندہ آیت میں آ رہا ہے اور اسلام کی بنیاد توحید الٰہی پر ہے۔ اس حقیقت سے وفد نجران اور تمام دنیا کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔ ”شَهِدَ“ کا معنی ”بَیَّنَ وَ اَعْلَمَ“ یعنی بیان کیا اور آگاہ کیا ہے۔ (فتح القدیر) شاہد وہ ہے جو اپنے یقینی علم کے ساتھ آگاہ کرے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق اور ساری کائنات میں موجود بیشمار دلائل اور نشانیوں کے ساتھ اور اپنے رسولوں کے ذریعے سے پیغام بھیج کر شہادت دی اور آگاہ کیا ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس حال میں کہ وہ اپنی مخلوق کے تمام معاملات و احوال میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 18۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) حضرت سعید بن جبیر ؓ نے بیان کیا ہے کہ کعبہ معظمہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ تمام سجدے میں گر گئے، (1) (زاد المیسر، جلد 1، صفحہ 294) اور کلبی نے کہا ہے : جب رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ کے پاس اہل شام کے علماء میں سے دو عالم حاضر ہوئے، جب ان دونوں نے مدینہ طیبہ کو دیکھا تو ان میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی کو کہا : یہ شہر اس نبی مکرم ﷺ کے شہر کے اوصاف کے ساتھ کتنی زیادہ مشابہت رکھتا ہے جو آخر زمانہ میں تشریف لائے گا، چناچہ جب وہ دونوں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو انہوں نے آپ کی علامات اور صفات کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن السنی نے عمل یوم ولیلہ میں اور ابو منصور الشجامی نے اربعین میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ فاتحہ الکتاب آیۃ الکرسی اور آل عمران میں سے دو آیتیں (یعنی) لفظ آیت ” شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو والملئکۃ واولوا العلم قائما بالقسط لا الہ الا ھو العزیز الحکیم۔ ان الدین عند اللہ الاسلام “ اور ” قل اللہم ملک الملک تؤتی الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشاء وتعز من تشاء وتذل من تشاء بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر۔ تولج الیل فی النھار وتولج النھار فی الیل وتخرج الحی من المیت وتخرج المیت من الحی وترزق من تشاء بغیر حساب۔ “ تک یہ (آیتیں) عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں ان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[شَہِدَ : گواہی دی ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [اَنَّــہٗ لَآ اِلٰــہَ : کہ کسی قسم کا کوئی الٰہ نہیں ہے ] [اِلاَّ : سوائے ] [ہُوَ : اس کے ‘] [وَالْمَلٰٓئِکَۃُ : اور فرشتوں نے ] [وَاُولُوا الْعِلْمِ : اور علم والوں نے ‘] [قَــآئِمًا : نگرانی کرنے والا ہوتے ہوئے ] [بِالْقِسْطِ : حق کی ] [لَآ اِلٰــہَ : کسی قسم کا کوئی الٰہ نہیں ہے ] [اِلاَّ : سوائے ] [ہُوَ : اس کے ] [الْعَزِیْزُ : جو بالادست ہے ] [الْحَکِیْمُ : حکمت والا ہے ] ترکیب :” شَھِدَ “ کے فاعل ” اَللّٰہُ ‘ اَلْمَلٰٓئِکَۃُ “ اور ” اُولُوا الْعِلْمِ “ ہیں۔ ” اِلاَّ ھُوَ “ کا حال ہونے کی وجہ سے ” قَائِمًا “ منصوب ہے۔ ” اِنَّ “ کا اسم ”…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

توحید پر گواہی روح المعانی صفحہ 104: ج 3 اور معالم التنزیل صفحہ 285: ج 1 میں کلبی سے نقل کیا ہے کہ شام کے علماء یہود میں سے دو عالم مدینہ منورہ آئے انہوں نے مدینہ کو دیکھا ان میں سے ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ یہ شہر تو ہو بہو وہی معلوم ہوتا ہے جس کے بارے میں ہم نے پڑھا ہے کہ نبی آخر الزمان ﷺ اس شہر میں قیام پذیر ہوں گے جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو انہیں صفات کے ساتھ پہچان لیا جو انہیں پہلے سے معلوم تھیں انہوں نے دریافت کیا کہ آپ محمد ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں محمد ہوں ! پھر سوال کیا کہ آپ احمد ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں احمد ہوں ! کہنے لگے کہ ہم ایک شہادت کے بارے میں آپ سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

رجوع بسوئے مضمون توحید۔ قال تعالی۔ ابتداء سورت میں نصارائے نجران سے خطاب تھا جس میں توحید کا اثبات اور الوہیت مسیح کا ابطال تھا درمیان میں اور مناسبت مضامین کا ذکر فرمایا اب پھر اصل مضمون توحید کی طرف رجوع فرماتے ہیں کہ جو اصل ایمان ہے کیونکہ توحید کی شہادت ایمان کی اصل الاصول ہے اور توحید ہی پر اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور خوشنودی کا دارومدار ہے گواہی دی اللہ تعالیٰ نے اس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں چناچہ اللہ تعالیٰ اپنی کتابوں اور صحیفوں میں برابر اس مضمون کی گواہی دیتا رہا اور صحیفہ کائنات کا ایک ایک ورق اس کی توحید کی شہادت دے رہا ہے وفی کل شئی لہ شاھد۔۔۔ یدل علی انہ واحد، ہر گیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

25:۔ ذکر مضمون توحید بار دوم۔ یہ دلیل نقلی کی طرف اشارہ ہے یعنی اللہ کی شہادت کتب سابقہ میں اور فرشتوں کی شہات انبیاء (علیہم السلام) کے پاس اور علماء ربانیین بھی لکھ گئے ہیں۔ اور قَائِماً بِالْقِسْطِ تینوں سے حال ہے۔ اس میں توحید پر دلیل نقلی کی تین قسموں سے استدلال کیا گیا ہے۔ (1) دلیل نقلی کتب سابقہ سے (2) دلیل نقلی فرشتوں سے اور (3) دلیل نقلی انبیاء (علیہم السلام) اور علماء ربا نیین سے شَھِدَ اللہُ سے مراد ہے اللہ کی شہادت کتب سابقہ میں اس سے قسم اوّل کی طرف اشارہ ہے اور شہادت ملائکہ سے قسم دوم اور شہادت اولی العلم سے قسم سوم مراد ہے۔ 26 یہ دلائل ثلثہ کا نتیجہ اور ثمرہ ہے اور یہ دونوں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–18

ربط آیات : گذشتہ درس میں گمراہی کے اسباب بیان ہوئے تھے۔ عام طور پر انہی اشیاء کی محبت میں گرفتار ہو کر لوگ گمراہی میں مبتلا ہوتے ہیں ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے دین اور آخرت کی زندگی سے غافل ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلا دیا کہ دنیا کی ان مرغوب اشیاء کے مقابلے میں اہل تقوی کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سامان موجود ہے۔ وہاں پر جنت ہے جس میں ہر طرح کی نعمتیں مہیا ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہاں اللہ کی خوشنودی اور رضا حاصل ہوجائے گی۔ جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہوگی۔ اور جس کو کبھی زوال نہیں آئیگا۔ اب آیات زیر درس میں اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے اوصاف بیان فرمائے ہیں۔ یعنی یہ وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

شَہِدَ اللہُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ۝ 0 ۙ وَالْمَلٰۗىِٕكَۃُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَاۗىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ۝ 0 ۭ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ 18 ۭ شهد وشَهِدْتُ يقال علی ضربین : أحدهما جار مجری العلم، وبلفظه تقام الشّهادة، ويقال : أَشْهَدُ بکذا، ولا يرضی من الشّاهد أن يقول : أعلم، بل يحتاج أن يقول : أشهد . والثاني يجري مجری القسم، فيقول : أشهد بالله أنّ زيدا منطلق، فيكون قسما، ومنهم من يقول : إن قال : أشهد، ولم يقل : بالله يكون قسما، ويجري علمت مجراه في القسم، فيجاب بجواب القسم ( ش ھ د ) المشھود والشھادۃ شھدت کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1) علم کی جگہ آتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–19

ترکیب : شہد فعل اللّٰہ فاعل ‘ انہ یہ جملہ بیان شہادت والملائکۃ واولوا العلم معطوف ہے لفظ اللّٰہ پر قائما بالقسط حال ہے فاعل شہد سے ‘ الدین اسم ان الاسلام خبر عنداللہ ظرف ومن مبتدا یکفر خبر اور ممکن ہے کہ من شرطیہ یکفر الخ شرط فان اللّٰہ جزا۔ تفسیر : اس بیان کو تمام کرکے پھر مسئلہ توحید کی طرف رجوع کیا جاتا ہے پہلے فرمایا تھا کہ دنیا اور اس کے نعماء فانی ہیں اور دار آخرت اور وہاں کی نعمتیں باقی ہیں اور وہ نعمتیں ان کے لیے ہیں جو کہتے ہیں ربنا اننا آمنا الخ یعنی جن کی قوت نظریہ ایمان ‘ کامل توحید اور اس کی صفات پر یقین ہے اور قوۃِ عملیہ بھی کامل ہے جیسا کہ الصابرین الخ میں اشارہ ہے اب یہاں اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

شَہِدَاللّٰہُ اَنَّـہٗ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَ لا وَالْمَلٰٓئِکَۃُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَـآئِمًا م بِالْقِسْطِ ط لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ ط (اللہ نے شہادت دی ہے اس بات کی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور ( یہی گواہی دی ہے) فرشتوں نے اور اہل علم نے (اور ان سب نے یہ بھی گواہی دی کہ وہ) عدل و انصاف کو قائم فرمانے والا ہے۔ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے وہ غالب اور حکمت والا ہے) (18) اس سورة کے آغاز میں یہی مضمون گزر چکا ہے۔ اب دوبارہ اسی مضمون کو ایک دوسرے پہلو سے ‘ لیکن ایک شاندار تمہید کے ساتھ بیان فرمایا جارہا ہے۔ پہلے صرف یہ بات بیان فرمائی تھی کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–18

فہم القرآن ربط کلام : اوصاف حمیدہ کا تقاضا اور خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کی توحید اور انصاف پر قائم رہنا ضروری ہے۔ سورۃ کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی توحید سے ہوئی تھی اور اب پھر اسی مضمون کا اعادہ شہادت کے الفاظ میں ہورہا ہے۔ سب سے پہلے رب ذو الجلال اپنی ذات، صفات اور وحدانیت پر خود گواہی دے رہا ہے کہ میرے بغیر کائنات کا کوئی خالق ومالک نہیں اور میں ہی معبودِ برحق اور واحد ہوں اس کے بعد ملائکہ کی شہادت ڈالی جارہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور بادشاہت کے عینی گواہ ہیں۔ ان کے بعد اہل علم کی گواہی پیش کی جارہی ہے جو انصاف کی گواہی دینے والے اور ہر حال میں اس پر قائم رہنے والے ہیں۔ یہاں ” اُولُوا الْعِلْمِ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سب سے بڑی شہادت : 18 : شَھِدَ اللّٰہُ اَ نَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ ، وَالْمَلٰٓپکَۃُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَآپمًام بِالْقِسْطِ ۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ شَھِدَ اللّٰہُ (اللہ گواہ ہے) یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا یا فرمایا اَنَّہٗ (اس کا) لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ ، وَالْمَلٰٓپکَۃُ (اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں) اس وجہ سے کہ انہوں نے اس کی عظیم قدرت کو آنکھوں سے دیکھا۔ وَاُولُوا الْعِلْمِ (اور علم والے) یعنی انبیاء ( علیہ السلام) اور علماء گواہی دیتے ہیں کہ قآپمًام بِالْقِسْطِ (وہ اعتدال کے ساتھ انتظام رکھنے والے ہیں) وہ رزق اجل ثواب و عقاب کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

18۔ (شہد ۔۔۔۔۔۔ الا ھو گواہی دی اللہ تعالیٰ نے اس کی کہ اس ذات کے سوا کوئی معبود نہیں) (شان نزول) یہ آیت نجران کے نصاری کے بارے میں نازل ہوئی۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ شام کے احبار میں سے حبران آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جب اس نے مدینہ منورہ کے شہر کو دیکھا تو ایک ساتھی نے دوسرے سے کہا کہ یہ شہر اس شہر کے بہت ہی مشابہ ہے جس میں نبی آخر الزمان ﷺ تشریف لائیں گے جب وہ دونوں شخص اس شہر میں داخل ہوگئے تو وہ اس شہر کی صفات کو جان گئے پھر آپ ﷺ کے پاس حاضر ہو کر کہنے لگے کہ آپ محمد ﷺ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جی ہاں۔ پھر ان دونوں نے پوچھا کہ آپ احمد ہیں ۔ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ میں محمد ہوں احمد ہوں ، ان دونوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 18–20

(18 ۔ 20) جن نجرانی عیسائی لوگوں کا اوپر ذکر تھا یہ آیتیں بھی انہی کے ذکر میں ہیں۔ لیکن توحید پر تو آخر یہود عیسائی مشرکین مکہ سب کو لانا اللہ کو منظور ہے۔ اس لئے توحید کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں اس کا ذکر تصدیق کے طور پر کیا ہے کہ اول صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک سب او لوالعزم انبیاء اور ان کے ساتھی اسی توحید کے دین پر تھے کبھی کوئی شر کی دین اللہ کو پسند نہیں ہوا اسی طرح اللہ کے فرشتے آسمان پر ہمیشہ سے اس توحید کا دم بھرتے ہیں اور اب یہی توحید نبی آخر الزمان کے دین میں ہے جس پیغمبر کو اللہ تعالیٰ نے وقت مقررہ پر اس توحید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–20

آیت 18-20 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا پختہ ترین ثبوت پیش کیا ہے، وہ ہے اللہ عزو جل کی اپنی گواہی اور اس کی مخلوق میں سے معزز ترین افراد یعنی فرشتوں اور علماء کی گواہی۔ اللہ تعالیٰ کی گواہی یہ ہے کہ اس نے توحید پر دلائل وبراہین قاطعہ قائم فرمائے ہیں۔ آفاق وانفس کے دلائل اس عظیم اصول پر قائم ہیں۔ اللہ کا جو بندہ بھی توحید کا علم لے کر کھڑا ہوا۔ اللہ نے ہمیشہ توحید کے منکروں اور مشرکوں کے خلاف اس کی مدد کی ہے۔ بندوں کو جو بھی نعمت حاصل ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ مشکلات کو اس کے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا۔ مخلوق کے تمام افراد عاجز ہیں جو نہ اپنے آپ کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان سے بچا سکتے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–21

قول باری ہے (ان الذین یکفرون بایات اللہ ویقتلون النبیین بغیرحق و یقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس فبشرھم یعذاب الیم، جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں جو خلق خدا میں عدل اور راستی کا حکم دینے کے لیئے اٹھیں ان کو دردناک سزا کی خوشخبری سنادو) حضرت ابوعبیدہ بن الجراح سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ قیامت کے دن کس شخص کی سزاسب سے زیادہ سخت ہوگی ؟ آپ نے فرمایا (رجل قتل نبیا اور رجل ھوب معروف تھی عن منکرء اس شخص کی سزاسب سے سخت ہوگی جس نے کسی نبی کو یا امربالمعروف اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 18–19

37 اللہ کی گواہی اس کی وحدانیت ویکتائی پر : اور اس نے یہ گواہی اپنے انبیاء و رسل کرام کے ذریعے بھی دی، کہ سب نے ہمیشہ یہی اولین پیغام دنیا کو دیا کہ اے لوگو ! ایک اللہ ہی کی بندگی کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی بھی معبود نہیں، اور اپنی نازل فرمودہ کتب و صحف کے ذریعے بھی اس نے یہی گواہی دی، کہ ان سب میں بھی یہی پیغام تھا۔ نیز اپنے تخلیق فرمودہ اس صحیفہ کائنات میں بھی اس نے اپنی وحدانیت ویکتائی کی گواہی اس قدر موثر اور قوی انداز میں ودیعت فرما دی کہ اس کی ہر ہر چیز پکار پکار کر اپنی زبان حال سے یہ گواہی دے رہی ہے کہ وہ وحدہ لاشریک ہے ۔ فِفِیْ کُلّ شَیْئٍ لَہٗ شَاہِدٌ ۔ یَدُلُّ عَلٰی اَنَّہٗ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

توحید کی گواہی تشریح : سابقہ آیات کی طرح اس آیت میں بھی توحید کا پیغام ایک انوکھے انداز سے دیا گیا ہے۔ اس پر تین شہادتوں کا ذکر ہے۔ ایک خود اللہ جل شانہ کی شہادت، دوسری اس کے فرشتوں کی، تیسری اہل علم کی۔ اللہ جل شانہ کی شہادت تو بطور مجاز ہے، مراد یہ ہے کہ رب العزت کی ذات وصفات اور اس کے تمام مظاہر و مصنوعات توحید الٰہی کی کھلی نشانیاں ہیں۔ دوسری شہادت فرشتوں کی ہے جو کہ اللہ کی مقرب ترین مخلوق ہے۔ تیسری شہادت اہل علم کی ہے جس سے مراد انبیاء (علیہ السلام) ہیں مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ عرفات میں رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی تو اس کے بعد فرمایا : اے پروردگار ! میں بھی اس پر شاہد ہوں۔ (ابن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–20

آیات 10- 20 اسرارو معارف ان الذین کفروا………………وبئس المھاد۔ بے شک جن لوگوں نے کفر کیا۔ ان کے مال اور اولاد اللہ کے مقابل ذرہ برابر کام نہ آئیں گے یا وہ یہ سمجھ رکھیں کہ ان کے پاس دولت ہے اولاد ہے تو شاید عنداللہ وہ مقبول ہیں اور یہ اللہ کی خوشنودی کی دلیل ہے ہرگز نہیں ! یہ ایک نظام ہے اللہ کا مقرر کردہ جو چل رہا ہے ہاں ! اللہ کی رضامندی کی دلیل دین ہے۔ اگر دین قبول نہ کیا تو مالدار ہوں یا صاحب اولاد ہوں ، دوزخ کا ایندھن ہیں بلکہ ترجمہ تو یوں ہے کہ یہی لوگ دوزخ کا ایندھن ہیں۔ ان کا رویہ تو آل فرعون جیسا ہے یا ان سے پہلے گزرنے والے کافروں جیسا کہ دولت اور ریاست کے لالچ میں حق کو قبول نہ کیا اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 قائما القسط حال من الا وم الشرد یعنی قا ٗم بالقسط حال من الا الشر یفتد اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو اس پوری کائنات کا خالق رازق اور مدتبر ہے وہ خود یہ گواہی دے رہا ہے اور اس کی گواہی سے بڑھ کر سچی اور منبی بر حقیت کسی کی گواہی ہوسکتی ہے کہ اپنی مخلوقات کا صرف وہی معبود ہے اور اس کا ہر کام اس کا ئنات میں جو بھی ہو ہستی ہے وہ اسی کی پیدا کردہ اسی کی متحاج اور اس کے رزق پر جینے وا لی ہے اور پھر یہی گواہی فرشتے اور وہ تمام اہل علم بھی دے ر ہے رہیں جو کتاب وسنت کے ماہر ہیں اور جن ہو نوں نے اس کا ئنات کی حقیقت اور اس کے مبدائ اور معاد پر خوب غور کیا ہے۔ (شوکانی۔ ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:18) شھد اللہ اللہ تعالیٰ نے گواہی دی۔ اس صورت میں اس کا مصدر شھادۃ ہے اور اگر شھود سے ہو تو معنی ہوں گے اس نے پایا والملئکم واولوا العلم۔ واؤ حرف عطف ہے اور ملائکہ اور اولوا العلم معطوف اللہ معطوف علیہ معطوف ہمیشہ معطوف علیہ کے حکم میں ہوتا ہے پس فعل شہد کا اطلاق ان ہر دو معطوف پر بھی ہوگا یعنی اللہ کی گمراہی دیتا ہے اور فرشتے اور اہل علم بھی گواہی دے رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ لا الہ الا ھو۔ صاحب تفسیر خازن لکھتے ہیں ومعناہ انہ تعالیٰ قائم ب تدبیر خلقہ وقائم بارزاقھم ومجازیہم باعمالہم۔ ابو الاعلیٰ مودودی اس کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں : اور فرشتے اور سب اہل علم بھی راستی اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 14–18

لغات القرآن آیت نمبر 14 تا 18 زین (خوبصورت، پسندیدہ بنادی گئی) حب الشھوات (مزوں کی محبت (حب، محبت، الشھوات، حواہشیں) القناطیر (ڈھیر (قنطار، ڈھیر) المقنطرۃ (لگے ہوئے ڈھیر) ذھب (سونا) الفضة (چاندی) الخیل المسومة (پلے ہوئے گھوڑے، نشان لگے ہوئے گھوڑے) الانعام (مویشی) الحرث (کھیتی) متاع (سامان) حسن الماٰب (بہترین ٹھکانا) اء نبئکم (کیا میں تمہیں بتاؤں ؟ ) مطھرۃ (پاکیزہ ، صاف ستھری) رضوان (رضاوخوشنودی) ذنوب (گناہ (ذنب کی جمع) القٰنتین (ادب کرنے والے) المنفقین (خرچ کرنے والے) المستغرین (استغفار کرنے والے) بالاسحار (صبح کے وقت (سحر، صبح) اولوالعلم (علم والے) قائم (قائم رہنے والے ، کھڑے رہنے والے)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–20

اس آیت کے نازل ہونے پر 360 بتوں کا گر جانا شان نزول : احبار شام میں سے دو شخص رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب انہوں نے مدینہ طیبہ دیکھا تو ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ نبی آخر الزماں کے شہر کی یہی صفت ہے جو اس شہر میں پائی جاتی ہے “۔ جب حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے توبموجب توریت کے حضور کو پہچان لیا اور عرض کیا :” آپ محمد ﷺ ہیں “ حضور ﷺ نے فرمایا :” ہاں “۔ پھر عرض کیا :” کیا آپ احمد ہیں “ ۔ ۔۔ ۔ فرمایا :” ہاں ! “۔ ۔۔ ۔ پھر عرض کیا :” ہم ایک سوال کرتے ہیں اگر آپ نے ٹھیک جواب دے دیا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے “۔ فرمایا :” سوال کرو “۔ انہوں نے عرض کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے بڑی شہادت کون سی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–22

[6] اللہ تعالیٰ کی یہ گواہی کتب آسمانی سے بھی ظاہر ہے اور مصنوعات فطرت سے بھی۔ پہلی دلیل نقلی کا حکم رکھتی ہے اور دوسری دلیل عقلی کا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

خدا کی گواہی : (ف 1) خدا کی توحید ایک اصل اور حقیقی عقیدہ ہے ، جس میں کبھی اختلاف نہیں ہوا لیکن مشرکین بایں ہمہ اس محسوس صداقت سے ہمیشہ محروم رہتے ہیں ، اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ خدا کی شہادت ، فرشتوں کی شہادت اور علماء کی شہادت ہمیشہ توحید ہی کے حق میں رہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ خدا برست موحدوں کی اعانت کی ہے انبیاء بھی توحید ہی کا پیغام لے کر زمین پر آئے ہیں اور علماء حق نے بھی عجز توحید کے کسی پر قناعت نہیں کی یہ تین شہادتیں ہیں اور ان کے اثبات کے لئے تین زبردست دلائل ہیں ، کفر و ایمان کی ساری تاریخ پڑھ جاؤ ، تمہیں کبھی بھی حق دبتا ہوا نظر نہ آئے گا ، کتابیں اور صحیفے جو خدا کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 18–19

ف 3۔ اللہ تعالیٰ نے خود بہ نفس نفیس اس امر کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی دوسرا معبود ہونے کے لائق نہیں اور اس کی نشان یہ ہے کہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ ہر چیز کا انتظام رکھنے والا ہے اور فرشتوں نے اور دوسرے اہل علم نے بھی حضرت حق کی توحید اور اس کے یکتا ہونے پر شہادت دی ہے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ اس معبود برحق کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں وہ کمال قوت اور کمال علم و حکمت کا مالک ہے۔ ( تیسیر) بغوی نے روایت کیا ہے کہ دو یہودی عالم شام سے مدینہ آئے تھے ۔ انہوں نے مدینہ کو دیکھ کر کہا کہ یہ شہر تو بالکل اس شہر کے مشابہ ہے جو نبی آخر الزماں کا وطن ہوگا اور جس کا ذکرہماری کتابوں میں موجود ہے اس پر ایک…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ قائما بالقسط کی صفت غالبا اس لئے بڑھادی کہ وہ ایسے نہیں کہ صرف اپنی تعظیم و عبادت ہی کراتے ہوں، بلکہ وہ سب کے کام بھی بناتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

الٰه صرف اور صرف ایک ہے اور وہ اللہ ہی کی ذات ہے : 46: ’ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا ہُوَ : ہُوَبھی اسم ذات باری تعالیٰ ہے اور اسمائے حسنیٰ میں سب سے پہلے واقع ہوا ہے۔ ھُوَ صرف اشارہ اور اشارہ اس وقت کیا جاتا ہے جب کہ مشار الیہ نظر آئے یا اس کی بابت کوئی اطلاع و خبر دی جارہی ہو۔ اسم ھُوَ ایک حرف ہے اس میں جو حرف ” واؤ “ نظر آتا ہے وہ پیش کو کھینچ کر پڑھنے کے سبب پیدا ہوا ہے۔ اس لیے بھی یہ اسم مقدس دراصل وحدت مسمّٰى کی دلیل ہے اس کے سوائے کسی اور اسم میں ایسی مشابہت نہیں ہے۔ ھُوَ وہ اسم اعظم ہے جس کے انوار کی تجلیات سے پروردگار کے خصوصی اسرار ظاہر ہوتے ہیں اور جب کہ یہ اسم اشارہ ہے تو بیان کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The subject of توحید Tauhid (Oneness of Allah) which began with the opening of Surah 'Al-` Imran reappears in the first verse in a very special manner. Out of the three witnesses mentioned here, the evidence of Allah Almighty is in a figurative sense. It means that the being and the attributes of Allah and the manifestations of His power and creativity all over are open signs of His Oneness. Then there are the Messengers and Books sent by Allah, all confirming. that truth. The second testimony mentioned is that of angels who are close to Allah. They carry out His instructions and bear…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

14. The testimony in question is from God Himself, Who knows directly all the realities of the universe, Who observes every existing thing without obstruction. It is the testimony of the One from Whose sight nothing is hidden, and who can be a better first-hand witness than He? His testimony is that no one but He is possessed of the attributes of godhead; no one has the power to govern the universe, and no one has the right to claim the rights which belong exclusively to God. 15. After God, the most trustworthy testimony is that of the angels, for they carry out the administration of the…

Read the full tafseer →