Explained with ayahs 18–20
اللہ وحدہ لاشریک اپنی وحدت کا خود شاہد
اللہ تعالیٰ خود شہادت دیتا ہے بس اس کی شہادت کافی ہے وہ سب سے زیادہ سچا گواہ ہے، سب سے زیادہ سچی بات اسی کی ہے، وہ فرماتا ہے کہ تمام مخلوق اس کی غلام ہے اور اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ اور اسی کی طرف محتاج ہے، وہ سب سے بےنیاز ہے، الوہیت میں اللہ ہونے میں وہ یکتا اور لاشریک ہے، اس کے سوا کوئی پوجے جانے کے لائق نہیں، جیسے فرمان ہے آیت (لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ) 4۔ النسآء :166) یعنی لیکن اللہ تعالیٰ بذریعہ اس کتاب کے جو وہ تیری طرف اپنے علم سے اتار رہا ہے، گواہی دے رہا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 16
یعنی اللہ کے نزدیک انسان کے لیے صرف ایک ہی نظام زندگی اور ایک ہی طریقہ حیات صحیح و درست ہے، اور وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کو اپنا مالک و معبود تسلیم کرے اور اس کی بندگی و غلامی میں اپنے آپ کو بالکل سپرد کردے اور اس کی بندگی بجا لانے کا طریقہ خود نہ ایجاد کرے، بلکہ اس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے جو ہدایت بھیجی ہے، ہر کمی و بیشی کے بغیر صرف اسی کی پیروی کرے۔ اسی طرز فکر و عمل کا نام ”اسلام“ ہے اور یہ بات سراسر بجا ہے کہ کائنات کا خالق ومالک اپنی مخلوق اور رعیت کے لیے اس اسلام کے سوا کسی دوسرے طرز عمل کو جائز تسلیم نہ کرے۔ آدمی اپنی حماقت سے اپنے آپ کو دہریت سے لے کر شرک و بت…
Read the full tafseer →دین اور اسلام کے الفاظ کی تشریح
عربی زبان میں لفظ دین کے چند معنی ہیں، جس میں ایک معنی ہیں طریقہ اور روش، قرآن کریم کی اصطلاح میں لفظ دین ان اصول و احکام کے لئے بولا جاتا ہے جو حضرت آدم ؑ سے خاتم الانبیاء ﷺ تک سب انبیاء میں مشترک ہیں، اور لفظ " شریعت " یا " منہاج " یا بعد کی اصطلاحات میں لفظ " مذہب " فروعی احکام کے لئے بولے جاتے ہیں، جو مختلف زمانوں اور مختلف امتوں میں مختلف ہوتے چلے آئے ہیں، قرآن کریم کا ارشاد ہے
(شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا۔ 42: 13) " یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین جاری فرمایا جس کی وصیت تم سے پہلے نوح ؑ کو اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کو کی گئی تھی "
اس سے…
Read the full tafseer →”الدین“ سے مراد دین حقیقی، یعنی وہ دین جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے اتارا اس پر الف لام اسی طرح کا ہے جس طرح کا ”الکتب“ پر ہے۔ اس کی وضاحت تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں ہم کرچکے ہیں۔ ”العلم“ سے مراد علم حق ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق کو واضح کرنے اور اختلاف کو دور کردینے کے لیے نازل ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ عدل و قسط کو قائم کرنے والا ہے اس وجہ سے اس نے بندوں کو صحیح زندگی گزارنے کا طیرقہ بتانے کے لیے ایک دین عدل و قسط کی میزان ہے۔ یہی دین اس کائنات کے تمام نظام تکوینی میں نافذ ہے۔ اسی دین پر فطرتِ انسانی کی تخلیق ہوئی ہے۔ یہی دین اس نے ابتدا سے تمام نبیوں اور…
Read the full tafseer →19۔ 1 اسلام وہی دین ہے جس کی دعوت وتعلیم ہر پیغمبر اپنے اپنے دور میں دیتے رہے ہیں اور اس کی کامل ترین شکل وہ ہے جسے نبی آخرزماں حضرت محمد ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش کیا جس میں توحید و رسالت اور آخرت پر اس طرح یقین و ایمان رکھنا ہے جس طرح نبی کریم ﷺ نے بتلایا ہے محض یہ عقیدہ رکھ لینا کہ اللہ ایک ہے یا کچھ اچھے عمل کرلینا یہ اسلام نہیں نہ اس سے نجات آخرت ملے گی۔ ایمان و اسلام اور دین عند اللہ قبول نہیں ہوگا۔ (الفرقان) برکتوں والی ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ جہانوں کا ڈرانے والا ہو اور حدیث میں ہے نبی ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو یہودی یا نصرانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–26
6: جب غزوہ احزاب کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے پیشینگوئی فرمائی تھی کہ روم اور ایران کی سلطنتیں مسلمانوں کے قبضے میں آجائیں گی تو کفار نے بڑا مذاق اڑایا کہ ان لوگوں کو اپنے دفاع کے لئے خندق کھودنی پڑرہی ہے اور ان پر فاقے گزر رہے ہیں مگر دعوے یہ ہیں کہ یہ روم اور ایران فتح کرلیں گے، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں مسلمانوں کو یہ دعا تلقین فرما کر ایک لطیف پیرائے میں ان کا جواب دے دیا گیا۔
Read the full tafseer →اب اس حقیقت پر جسے اس ایک آیت میں دو بار دہرایا گیا ‘ اس کا فطری نتیجہ مرتب کیا جاتا ہے وہ یہ کہ خدائی ایک ہے تو پھر بندگی اور انقیاد بھی صرف اسی خدائی کے لئے ہے ۔
غرض تصور یہ ہے کہ ایک الٰہ ہے ۔ اس لئے ایک ہی نظام ہے ‘ پھر اس الٰہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہے۔ نہ ان کے تصور میں اس کے سوا کوئی تصور ہو ‘ نہ ان کی زندگی کا کوئی گوشہ اس نظام سے آزاد ہو……………جب اللہ ایک ہے تو پھر بندگی اور انقیاد بھی اسی کے لئے ہے ۔ اور یہی اللہ اس بات کا حقدار بھی ہے کہ لوگ اس کے مطیع فرمان ہوں ‘ ان کے قانونی نظام میں شریعت نافذ ہو اور ان کی اقدار حیات اور حسن وقبح کے پیمانوں میں یہ شریعت معیار ہو ۔ اور ان کی پوری…
Read the full tafseer →1 " اسلام " کے اصلی معنی سونپ دینے کے ہیں۔ " مذہب اسلام " کو بھی اسی لحاظ سے اسلام کہا جاتا ہے کہ ایک مسلم اپنے کو ہمہ تن خدائے واحد کے سپرد کردینے اور اس کے احکام کے سامنے گردن ڈال دینے کا اقرار کرتا ہے۔ گویا " اسلام " انقیاد و تسلیم کا اور " مسلمانی " حکمبرداری کا دوسرا نام ہوا۔ یوں تو شروع سے اخیر تک تمام پیغمبر یہ ہی مذہب اسلام لے کے آئے اور اپنے اپنے زمانہ میں اپنی اپنی قوم کو مناسب وقت احکام پہنچا کر طاعت و فرمانبرداری اور خالص خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلاتے رہے ہیں لیکن اس سلسلہ میں خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ نے تمام دنیا کو جو اکمل، جامع ترین، عالمگیر اور ناقابل تنسیخ ہدایات…
Read the full tafseer →آیت 19 اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلاَمُ قف
اللہ کا پسندیدہ اور اللہ کے ہاں منظور شدہ دین ایک ہی ہے اور وہ اسلام ہے۔ سورة البقرۃ اور سورة آل عمران کی نسبت زوجیت کے حوالے سے یہ بات سمجھ لیجیے کہ سورة البقرۃ میں ایمان پر زیادہ زور ہے اور سورة آل عمران میں اسلام پر۔ سورة البقرۃ کے آغاز میں بھی ایمانیات کا تذکرہ ہے ‘ درمیان میں آیت البر میں بھی ایمانیات کا بیان ہے اور آخری آیات میں بھی ایمانیات کا ذکر ہے : اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ط جبکہ اس سورة مبارکہ میں اسلام کو emphasize کیا گیا ہے۔ یہاں فرمایا : اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
22 دین سے مراد ایسا نظام زندگی یا ضابطہ حیات ہے جسے انسان اس دنیا کے لیے یا دنیا و آخرت دونوں کے لیے بہتر سمجھ کر اختیار کرتا ہے۔ اس لحاظ سے یہودیت، نصرانیت، دہریت، بدھ مت، سکھ، اسلام، کمیونزم، سوشلزم، جمہوریت وغیرہ سب کے سب دین ہیں۔ لیکن اللہ کے ہاں ان میں سے قابل قبول دین صرف اور صرف اسلام ہے۔ اسلام کا معنی ہے اللہ کے احکام و ارشادات کے سامنے سرتسلیم خم کردینا اور برضا ورغبت اللہ کا مطیع و منقاد بن جانا ہے اور صرف اسلام ہی ایسا دین ہے جو دنیوی فلاح اور اخروی نجات کا ضامن ہے۔ دنیا میں جتنے بھی انبیاء و رسل مبعوث ہوئے وہ سب دین اسلام ہی کی دعوت دیتے رہے وہ یہی کہتے رہے کہ اللہ کے مطیع و…
Read the full tafseer →46 ۔ (نہ کہ مطلقا ہر وہ چیز جسے دین کے نام سے موسوم کردیاجائے) یہ رد ہے بادشاہ اکبر اور دوسرے بددینوں کے اس عقیدہ کا، کہ ہر دین دین حق ہے، اور ہر مسلک خدا ہی کی راہ ہے۔ اور دیر وحرم کفر و ایمان میں فرق صرف لفظی واصطلاحی ہے۔ خط مستقیم حقیقت یہ ہے کہ دو نقطوں کے درمیان صرف ایک ہی ممکن ہے باقی سب خطوط مخنی وکج ہوں گے، راہ مستقیم خدا اور بندے کے درمیان صرف ایک ہی ہے اور اسلام ہے جو انبیاء وہادیان حق کا دین ہمیشہ سے چلا آرہا ہے۔ (آیت) ” الدین “۔ یعنی دین مقبول (آیت) ” الدین “۔ اور (آیت) ” الاسلام “ دونوں کا معرفہ ہونا حصر کے معنی دے رہا ہے یعنی دین مقبول صرف یہی ہے۔ وتعریف الجزئین للحصرای لادین…
Read the full tafseer →اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامَ ، اسلام وہی دین ہے جس کی دعوت وتعلیم ہر پیغمبر اپنے اپنے دور میں دیتے رہے ہیں اور اب اس کی کامل ترین شکل وہ ہے جسے پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش کیا، جس میں توحید، رسالت اور آخرت پر اسی طرح یقین و ایمان رکھنا ضروری ہے جس طرح نبی کریم ﷺ نے بتلایا ہے۔ اب محض یہ عقیدہ رکھ لینا کہ اللہ ایک ہے اور کچھ نیک اعمال کرلینا اسلام نہیں نہ اس سے نجات حاصل ہوگی۔
Read the full tafseer →اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ : یعنی اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہی ہے کسائی کی قراءت میں اَنَّ الدِّیْنَ آیا ہے
اب اگر اسلام کو عین ایمان کہا جائے تو انہ لا الہ الا ھو سے یہ بدل الکل ہوگا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ : لا الہ الا اللہ کی شہادت اور اس بات کا اقرار کہ تمام پیغمبر جو کچھ لائے ہیں اللہ کی طرف سے لائے ہیں یہی وہ دین اللہ ہے جس کو اللہ نے پیغمبروں کو دے کر بھیجا ہے اور اپنے اولیاء کو اس کا راستہ بتایا ہے اس کے علاوہ اور کسی دین کو وہ قبول نہیں کرے گا نہ ثواب دے گا۔
(یا بدل کل من البعض ہوگا اگر) اسلام کے اندر ایمان کو داخل قرار دیا جائے ( اور ایمان کو عین اسلام نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →(19) بیشک اللہ کا پسندیدہ دین اسلام ہے اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ اس مقام پر تقدیم وتاخیر ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے اور اس حقیقت کی اللہ تعالیٰ اور تمام فرشتوں اور انبیاء کرام اور مومنین نے گواہی دی ہے یہ آیت شام کے دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تھا کہ کون سی گواہی کتاب اللہ میں سب سے بڑی ہے چناچہ آپ نے یہ آیت بیان کی اور وہ مشرف بااسلام ہوگئے، یہود ونصاری نے اسلام اور رسول اکرم ﷺ کے بارے میں باوجود اس کے کہ ان کی کتابوں میں اس چیز کے متعلق دلیل پہنچ چکی تھی جو اختلاف کیا ہے اس کا مقصد محض حسد ہے اور جو…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے، یعنی اپنے آپ کو اللہ کے احکام کے تابع کردینا، جو اس کے رسول مختلف اوقات میں لے کر آتے رہے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کے آخر میں خاتم الانبیاء کو مبعوث فرمایا اور محمد ﷺ کے راستے کے سوا اپنے تک پہنچنے والے تمام راستوں کو بند کردیا۔ اب اگر آپ ﷺ کی شریعت کے سوا کوئی اور دین لے کر اللہ کے پاس جائے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، فرمایا : (وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ ۚ) [ آل عمران : 85 ] ”اور جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔“
اب جو شخص رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 19۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ”۔ ان الدین عنداللہ الاسلام “۔ اس آیت میں دین سے مراد طاعت اور ملت ہے اور اسلام بمعنی ایمان اور طاعات ہے، ابو العالیہ نے یہی کہا ہے اور اسی پر جمہور متکلمین ہیں (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 413 دارالکتب العلمیہ) اور حدیث جبریل (4) (صحیح بخاری، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 12، ایضا حدیث نمبر 48، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) کے مطابق اور اسلام کے مسمی میں دراصل تغایر ہے، (یعنی دونوں لفظوں کا اطلاق علیحدہ علیحدہ معنی پر ہوتا ہے) اور کبھی معنی مردافہ کے ساتھ بھی استعمال ہوتے ہیں اور دونوں میں ہر ایک کو دوسرے کا نام دے دیا جاتا ہے، جیسا کہ وفد عبد القیس کی حدیث میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو عبیدہ بن جراح ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! قیامت کے دن کون سخت عذاب میں ہوگا آپ نے فرمایا وہ آدمی جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہوگا یا اس آدمی کو جو برے کام کا حکم کرتا ہو اور نیک کام سے روکتا ہو پھر رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ” ویقتلون النبیین بغیر حق ویقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس “ سے ” وما لہم من نصرین “ تک پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابو عبیدہ ! بنی اسرائیل نے تینتالیس نبیوں کو دن کے اول حصہ میں ایک ہی وقت میں قتل کیا پھر نبی اسرائیل کے لوگوں میں ایک سو ستر آدمی کھڑے ہوئے اور نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا تو اسی…
Read the full tafseer →[اِنَّ : یقینا ] [الدِّیْنَ : دین ] [عِنْدَ اللّٰہِ : اللہ کے ہاں ] [الْاِسْلاَمُ : اسلام ہی ہے ] [وَمَا اخْتَلَفَ : اور اختلاف نہیں کیا ] [الَّذِیْنَ : ان لوگوں نے جن کو ] [اُوْتُوا : دی گئی ] [الْکِتٰبَ : کتاب ‘] [اِلاَّ : مگر ] [مِنْم بَعْدِ مَا : اس کے بعد جو ] [جَآئَ : آیا ] [ہُمُ : ان کے پاس ] [الْعِلْمُ : علم ‘] [بَغْیًا : سرکشی کرتے ہوئے ] [بَیْنَہُمْ : آپس میں ] [وَمَنْ یَّـکْفُرْ : اور جو انکار کرتا ہے ] [بِاٰیٰتِ اللّٰہِ : اللہ کی آیات کا ] [فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [سَرِیْعُ الْحِسَابِ : حساب لینے میں تیز ہے ]
Read the full tafseer →اللہ کے نزدیک صرف دین اسلام معتبر ہے :
اس کے بعد فرمایا (اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ ) اس میں اعلان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی معتبر ہے۔ وہی ذریعہ نجات ہے اگر کسی نے اللہ کو مانا لیکن اللہ کے دین کو نہ مانا جو اس کے نزدیک معتبر ہے تو وہ گمراہ ہے آخرت میں اس کی نجات نہ ہوگی اسی سورت کے رکوع 9 میں فرمایا (وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ ) (اور جو شخص اسلام کے علاوہ کسی دین کو تلاش کرے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا) اسلام کا لغوی معنی فرمانبر دار ہونے کا ہے جو دین اللہ پاک نے اپنے بندوں کے لیے تجویز فرمایا اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
بیاں حقانیت اسلام و جواب مجادلہ مخالفین اسلام۔
قال تعالی، ان الدین عنداللہ۔۔۔ الی۔۔۔ بالعباد۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں توحید کی شہادت کو ذکر فرمایا جو اسلام کی جڑ اور بنیاد ہے اب اس آیت میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول اور پسندیدہ دین صرف دین اسلام ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق وہ دین کہ جو اللہ کے نزدیک مقبول اور پسندیدہ ہے وہ صرف اسلام ہے نہ کہ یہودیت اور نصرانیت، اس لیے کہ اسلام کے معنی اپنے آپ کو ایک خدا کے حوالہ اور سپرد کردینے کے ہیں اور مسلم اور مسلمان اس بندہ کو کہتے ہیں کہ جس نے ہمہ تن اپنے آپ کو خدائے واحد کے سپرد کردیا ہو اور اس کے احکام کے سامنے گردن ڈال دی ہو اور…
Read the full tafseer →27:۔ یہ ماقبل ہی کی تاکید وتائید ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کے یہاں پسندیدہ دین صرف اسلام ہی ہے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کا دین بھی اسلام ہی تھا اور کتب سابقہ میں بھی یہی دین پیش کیا گیا۔ ہر قسم کی عبادت اور اطاعت کو خالصاً اللہ کے لیے کرنے اور صرف اللہ ہی کو عبادت وطاعت کا مستحق سمجھنے کا نام اسلام ہے۔ قال ابن الانباری المسلم معانہ المخلص للہ عبادتہ فالاسلام معناہ اخلاص الدین والعقیدۃ للہ تعالیٰ (کبیر ج 2 ص 628) سورة انعام رکوع 20 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ قلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِیْن۔ لَاشَرِیْکَ لَهٗ وَبِذَالِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ربط آیات : پہلی آیات میں دین کا مبنیٰ ، جڑ اور بنیاد مسئلہ توحید اور اللہ کی صفات کو قرار دیا گیا تھا۔ اب اس آیت میں اللہ نے اسلام کی حقانیت بیان فرمائی ہے مشرکین عرب اور ایران کے مجوسی دعویٰ کرتے تھے کہ ان کے ادیان سچے ہیں۔ اہل کتاب یعنی یہود اور نصاری اس معاملے میں زیادہ ہی غلو کرتے تھے وہ اپنے علاوہ ہر دوسرے مذہب کو غلط بتاتے تھے اور نجات کو صرف اپنے ہی دین میں بند سمجھتے تھے۔ حالانکہ یہود و نصاری کے پاس کوئی حقیقت اس وقت نہ تھی۔ اور نہ آج ہے۔ انہوں نے انبیاء کے اصل دین کو بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ اور کفر و شرک میں مبتلا ہوچکے تھے۔
اس سے قبل گمراہی کے اسباب بھی بیان ہوچکے ہیں۔ حق و صداقت کی…
Read the full tafseer →اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ 0 ۣ وَمَا اخْتَلَـفَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَھُمُ الْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَھُمْ 0 ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِاٰيٰتِ اللہِ فَاِنَّ اللہَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ 19
دين
والدِّينُ يقال للطاعة والجزاء، واستعیر للشریعة، والدِّينُ کالملّة، لكنّه يقال اعتبارا بالطاعة والانقیاد للشریعة، قال إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19]
( د ی ن ) دين
الدین کے معنی طاعت اور جزا کے کے آتے ہیں اور دین ملت کی طرح ہے لیکن شریعت کی طاعت اور فرمانبردار ی کے لحاظ سے اسے دین کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ترکیب : شہد فعل اللّٰہ فاعل ‘ انہ یہ جملہ بیان شہادت والملائکۃ واولوا العلم معطوف ہے لفظ اللّٰہ پر قائما بالقسط حال ہے فاعل شہد سے ‘ الدین اسم ان الاسلام خبر عنداللہ ظرف ومن مبتدا یکفر خبر اور ممکن ہے کہ من شرطیہ یکفر الخ شرط فان اللّٰہ جزا۔
تفسیر : اس بیان کو تمام کرکے پھر مسئلہ توحید کی طرف رجوع کیا جاتا ہے پہلے فرمایا تھا کہ دنیا اور اس کے نعماء فانی ہیں اور دار آخرت اور وہاں کی نعمتیں باقی ہیں اور وہ نعمتیں ان کے لیے ہیں جو کہتے ہیں ربنا اننا آمنا الخ یعنی جن کی قوت نظریہ ایمان ‘ کامل توحید اور اس کی صفات پر یقین ہے اور قوۃِ عملیہ بھی کامل ہے جیسا کہ الصابرین الخ میں اشارہ ہے اب یہاں اس…
Read the full tafseer →اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ قف وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتَابَ اِلَّا مِنْ م بَعْدِ مَا جَآئَ ہُمُ الْعِلْمُ بَغْیًا م بَیْنَہُمْ ط وَمَنْ یَّـکْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔
(بےشک اصل دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے۔ اہل کتاب نے تو اس میں اختلاف علم حق کے آجانے کے بعد آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کے لیے کیا۔ جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کریں گے تو اللہ بہت جلد حساب چکا دینے والا ہے) (19)
دین کا مفہوم
دین درحقیقت ضابطہ حیات ‘ طرز زندگی اور آئین کو کہتے ہیں۔ ہر مہذب اور متمدن قوم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی ترتیب و تہذیب کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : توحید اور اسلام دونوں مترادف ہیں۔ توحید اور اسلام کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کردے۔
کائنات کا پورا نظام مالک واحد کی ذات اور اس کے حکم کے تابع اور عدل وقسط کے اصول پر چل رہا ہے۔ یہی توحید کی روح اور اس کا تقاضا ہے کہ بنی نوع انسان کے انفرادی اور اجتماعی معاملات بھی تقاضائے توحید کے مطابق چلنے چاہییں۔ توحید ہی اسلام کی بنیاد ہے اور یہی ایسا دین ہے جو اللہ کے نزدیک پسندیدہ، معتبر اور مقبول ہے۔ جس کے بنیادی ارکان اور اصول ہمیشہ سے ایک رہے اور تمام انبیاء کرام اسی اسلام کی دعوت دیتے رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو ایک جماعت…
Read the full tafseer →19: اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ ، وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اِلَّا مِنْم بَعْدِ مَاجَآ ئَ ھُمُ الْعِلْمُ بَغْیًام بَیْنَھُمْ وَمَنْ یَّکْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ : (بےشک دین اللہ کے ہاں اسلام ہی ہے) یہ جملہ مستانفہ ہے (یہ جمہور کی قراءت کے مطابق ہے)
قراءت : کسائی نے اَنَّ الدِّیْنَ پڑھا۔ اس صورت میں اَنَّہٗ لآ اِلٰہ اِلَّا ھُو سے بدل ہے یعنی شہد اللّٰہ اَنَّ الدین الایۃ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دین اللہ تعالیٰ کے ہاں اسلام ہے۔
آیت کی فضیلت :
ہیثمی نے مجمع الزوائدجلد نمبر 6۔ 1 ور…
Read the full tafseer →(تفسیر) 19۔:
(ان الدین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنداللہ “۔ بیشک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہے) وہ دین جس سے اللہ راضی ہوجائے جیسا کہ فرمایا (آیت)” ورضیت لکم الاسلام دینا “۔ اور دوسری جگہ فرمایا (آیت)” ومن یبتغ غیر الاسلام دینا “۔ کسائی (رح) ” ان الدین “ میں ہمزہ کو مفتوح پڑھا ہے اور کہا ہے کہ یہ رد ہے پہلے کلام پر تقدیری عبارت یوں ہوگی ، ” شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو وشھد ان الدین عند اللہ الاسلام اوشھد اللہ ان الدین عند اللہ الاسلام بانہ لا الہ الا ھو “۔
(الاسلام کی تعریف)
الاسلام کی تعریف سلامتی میں داخل ہوجانا اور وہ پیروی اور طاعت کرنا جیسا کہ کہا جاتا ہے ” اسلم “ یعنی داخل ہوجا سلامتی میں اور سلامتی والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(18 ۔ 20) جن نجرانی عیسائی لوگوں کا اوپر ذکر تھا یہ آیتیں بھی انہی کے ذکر میں ہیں۔ لیکن توحید پر تو آخر یہود عیسائی مشرکین مکہ سب کو لانا اللہ کو منظور ہے۔ اس لئے توحید کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں اس کا ذکر تصدیق کے طور پر کیا ہے کہ اول صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک سب او لوالعزم انبیاء اور ان کے ساتھی اسی توحید کے دین پر تھے کبھی کوئی شر کی دین اللہ کو پسند نہیں ہوا اسی طرح اللہ کے فرشتے آسمان پر ہمیشہ سے اس توحید کا دم بھرتے ہیں اور اب یہی توحید نبی آخر الزمان کے دین میں ہے جس پیغمبر کو اللہ تعالیٰ نے وقت مقررہ پر اس توحید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت 18-20
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا پختہ ترین ثبوت پیش کیا ہے، وہ ہے اللہ عزو جل کی اپنی گواہی اور اس کی مخلوق میں سے معزز ترین افراد یعنی فرشتوں اور علماء کی گواہی۔ اللہ تعالیٰ کی گواہی یہ ہے کہ اس نے توحید پر دلائل وبراہین قاطعہ قائم فرمائے ہیں۔ آفاق وانفس کے دلائل اس عظیم اصول پر قائم ہیں۔ اللہ کا جو بندہ بھی توحید کا علم لے کر کھڑا ہوا۔ اللہ نے ہمیشہ توحید کے منکروں اور مشرکوں کے خلاف اس کی مدد کی ہے۔ بندوں کو جو بھی نعمت حاصل ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ مشکلات کو اس کے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا۔ مخلوق کے تمام افراد عاجز ہیں جو نہ اپنے آپ کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان سے بچا سکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
قول باری ہے (ان الذین یکفرون بایات اللہ ویقتلون النبیین بغیرحق و یقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس فبشرھم یعذاب الیم، جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں جو خلق خدا میں عدل اور راستی کا حکم دینے کے لیئے اٹھیں ان کو دردناک سزا کی خوشخبری سنادو) حضرت ابوعبیدہ بن الجراح سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ قیامت کے دن کس شخص کی سزاسب سے زیادہ سخت ہوگی ؟ آپ نے فرمایا (رجل قتل نبیا اور رجل ھوب معروف تھی عن منکرء اس شخص کی سزاسب سے سخت ہوگی جس نے کسی نبی کو یا امربالمعروف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
37 اللہ کی گواہی اس کی وحدانیت ویکتائی پر : اور اس نے یہ گواہی اپنے انبیاء و رسل کرام کے ذریعے بھی دی، کہ سب نے ہمیشہ یہی اولین پیغام دنیا کو دیا کہ اے لوگو ! ایک اللہ ہی کی بندگی کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی بھی معبود نہیں، اور اپنی نازل فرمودہ کتب و صحف کے ذریعے بھی اس نے یہی گواہی دی، کہ ان سب میں بھی یہی پیغام تھا۔ نیز اپنے تخلیق فرمودہ اس صحیفہ کائنات میں بھی اس نے اپنی وحدانیت ویکتائی کی گواہی اس قدر موثر اور قوی انداز میں ودیعت فرما دی کہ اس کی ہر ہر چیز پکار پکار کر اپنی زبان حال سے یہ گواہی دے رہی ہے کہ وہ وحدہ لاشریک ہے ۔ فِفِیْ کُلّ شَیْئٍ لَہٗ شَاہِدٌ ۔ یَدُلُّ عَلٰی اَنَّہٗ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
حقیقی دین، اسلام ہی ہے
تشریح : دین اور اسلام کی وضاحت میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ دین کا مطلب کیا ہے۔ دین سے مراد مذہب ہے۔ مذہب کے معنی ہیں کہ سوچ کے اور عمل کے وہ طریقے کہ جن سے انسان اور قوم کی بنیاد نیکی، راست بازی اور کامیابی پر رکھی جائے، یعنی وہ اصول اور قوانین جو اللہ کی طرف سے بندے کو دیئے جائیں تاکہ انسانی قوانین کی بجائے الٰہی قوانین کو اختیار کیا جائے، کیونکہ اللہ کامل و اکمل ہے جب کہ بندہ خطاؤں کا پتلا ہے۔ تو اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ اسلام کا مطلب ہے کہ مکمل طور پر اللہ کا فرمانبردار بن جانا اور بندہ دل و جان سے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
آیات 10- 20
اسرارو معارف
ان الذین کفروا………………وبئس المھاد۔
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا۔ ان کے مال اور اولاد اللہ کے مقابل ذرہ برابر کام نہ آئیں گے یا وہ یہ سمجھ رکھیں کہ ان کے پاس دولت ہے اولاد ہے تو شاید عنداللہ وہ مقبول ہیں اور یہ اللہ کی خوشنودی کی دلیل ہے ہرگز نہیں ! یہ ایک نظام ہے اللہ کا مقرر کردہ جو چل رہا ہے ہاں ! اللہ کی رضامندی کی دلیل دین ہے۔ اگر دین قبول نہ کیا تو مالدار ہوں یا صاحب اولاد ہوں ، دوزخ کا ایندھن ہیں بلکہ ترجمہ تو یوں ہے کہ یہی لوگ دوزخ کا ایندھن ہیں۔ ان کا رویہ تو آل فرعون جیسا ہے یا ان سے پہلے گزرنے والے کافروں جیسا کہ دولت اور ریاست کے لالچ میں حق کو قبول نہ کیا اور…
Read the full tafseer →ف 4 دین اسلام کا نام ہے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہو ہوئے طریقہ کے مطابق اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کی عبادت کرنے اور اسی کے احکام کے مطابق اپنی پوری زندگی گزارنے کا۔ اس آیت میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جس دین کا اعتبار ہے وہ صرف یہی اسلام ہے۔ نیز جو شخص آنحضرت صلی اللہ ﷺ کی رسالت کا قائل نہیں ہے اور نہ آپ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اپنا عمل اور عقیدہ ہی درست کرتا ہے اس کا دین اللہ تعالیٰ کے ہاں معتبر نہیں ہے خواہ وہ توحید کا قائل ہو اور دوسرے ایمانیات کا قرار کرتا ہو۔ (م۔ ع) اسلام۔ ایمان اور دین اپنی حقیقت کے اعتبار سے تینوں ایک ہیں۔ (قرطبی)5 یعنی اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیا…
Read the full tafseer →(3:19) وما اختلف۔ میں ما نافیہ ہے اور ماجاء ہم میں ما بیانیہ ہے۔
بغیا بینھم۔ بوجہ باہمی حسد و مخالفت کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 22
حاجوک (وہ تجھ سے جھگڑتے ہیں (حاجون، ک) اسلمت (میں نے جھکادیا) وجھی (اپنا چہرہ) اتبعن (میری اتباع کی (اتبع، ن، ی) امیین (ان پڑھ، جاہل (امی، ان پڑھ) البلغ (پہنچادینا) عباد (بندے (عبد، بندہ) القسط (انصاف) حبطت (ضائع ہوگئے) ۔
تشریح : آیت نمبر 19 تا 22
سورة آل عمران کی آیت 19 سے 22 تک میں اللہ تعالیٰ نے بالکل واضح طریقے سے بتادیا ہے کہ اسلام کسی قوم ، ذات یا برادری کا نام نہیں اور جو دین نبی کریم ﷺ لے کر تشریف لائے وہ کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے جو آج ہی کہی جارہی ہو بلکہ اللہ کے تمام رسول اور انبیاء کرام (علیہ السلام) مختلف زمانوں میں الگ الگ دین لے کر نہیں آئے سب نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
اس آیت کے نازل ہونے پر 360 بتوں کا گر جانا
شان نزول : احبار شام میں سے دو شخص رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب انہوں نے مدینہ طیبہ دیکھا تو ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ نبی آخر الزماں کے شہر کی یہی صفت ہے جو اس شہر میں پائی جاتی ہے “۔ جب حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے توبموجب توریت کے حضور کو پہچان لیا اور عرض کیا :” آپ محمد ﷺ ہیں “ حضور ﷺ نے فرمایا :” ہاں “۔ پھر عرض کیا :” کیا آپ احمد ہیں “ ۔ ۔۔ ۔ فرمایا :” ہاں ! “۔ ۔۔ ۔ پھر عرض کیا :” ہم ایک سوال کرتے ہیں اگر آپ نے ٹھیک جواب دے دیا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے “۔ فرمایا :” سوال کرو “۔ انہوں نے عرض کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے بڑی شہادت کون سی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
[6] اللہ تعالیٰ کی یہ گواہی کتب آسمانی سے بھی ظاہر ہے اور مصنوعات فطرت سے بھی۔ پہلی دلیل نقلی کا حکم رکھتی ہے اور دوسری دلیل عقلی کا۔
Read the full tafseer →صداقت کی ایک ہی راہ :
(ف 2) سچائی اور صداقت کی ایک ہی راہ ہے جس کا نام اسلام کی منزل مقصود تک اور شاہد عرفان تک بجز اسلام کے اور کوئی راستہ نہیں جاتا ، اللہ کی محبت ، اس کی توحید اور نسل انسانی کی فلاح و بہبود کا سامان جس قدر اسلام میں میسر ہے ، دوسرا کوئی مذہب اس کا مدعی نہیں ہو سکتا ، اس لئے اسلام کے سوا جس قدر راستے ہیں وہ مخدوش ہیں ، منزل مقصود سے دور لے جانے والے ہیں اور گمراہ کرنے والے ہیں ، اس لئے کہ نسل انسانی کا مشترکہ مذہب صرف اسلام ہے ، ساری دنیا کو یہی مذہب عنایت کیا گیا ، سب کو یہی پیغام ہدایت سنایا گیا ، وہ پیغام جو آسمان سے زمین پر نازل ہوا ، وہ ایک ہے ، اس میں کوئی اختلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 3۔ اللہ تعالیٰ نے خود بہ نفس نفیس اس امر کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی دوسرا معبود ہونے کے لائق نہیں اور اس کی نشان یہ ہے کہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ ہر چیز کا انتظام رکھنے والا ہے اور فرشتوں نے اور دوسرے اہل علم نے بھی حضرت حق کی توحید اور اس کے یکتا ہونے پر شہادت دی ہے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ اس معبود برحق کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں وہ کمال قوت اور کمال علم و حکمت کا مالک ہے۔ ( تیسیر)
بغوی نے روایت کیا ہے کہ دو یہودی عالم شام سے مدینہ آئے تھے ۔ انہوں نے مدینہ کو دیکھ کر کہا کہ یہ شہر تو بالکل اس شہر کے مشابہ ہے جو نبی آخر الزماں کا وطن ہوگا اور جس کا ذکرہماری کتابوں میں موجود ہے اس پر ایک…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی اسلام کے حق ہونے میں کوئی وجہ شبہ کی نہیں بلکہ علمائے یہود میں مادہ دوسروں سے بڑا بننے کا ہے، اور اسلام لانے میں یہ سرداری جو ان کو اب عوام پر حاصل ہے فوت ہوتی تھی اس لئے اسلام کو قبول نہیں کیا بلکہ الٹا اس کو باطل بتلانے لگے۔
Read the full tafseer →” دین “ کے لفظ نے جزاء کی حقیقت واضح کردی :
51: قرآن کریم نے نہ صرف اس موقع پر بلکہ عام طور پر جزاء کے لیے ” الدین “ کا لفظ اختیار کیا ہے اور اسی لیے وہ قیامت کو بھی عموماً ” یوم الدین “ سے تعبیر کرتا ہے۔ یہ تعبیر اس لیے اختیار کی گئی کہ جزاء کے بارے میں جو اعتقاد پیدا کرنا چاہتا تھا اس کے لیے یہی تعبیر سب سے زیادہ موزوں اور واقعی ہی تعبیر تھی وہ جزاء کو اعمال کا قدرتی نتیجہ اور مکافات قرار دیتا ہے۔
نزول قرآن کے وقت پیروان مذہب کا عالمگیراعتقاد یہ تھا کہ جزا محض خدا کی خوشنودی اور اس کے قہرو غضب کا نتیجہ ہے اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی اکثر لوگ مسلمان کہلانے کے باوجود یہی اعتقاد رکھتے…
Read the full tafseer →Din دین and Islam اسلام : An Explanation of the Two words:
The word, Din (دین) has more than one meaning in the Arabic language, one of them being 'the way'. In the terminology of the Qur'an, the word, Din دین is used to stand for principles and injunctions which are common to all prophets (علیہم السلام) from Sayyidna Adam (علیہ السلام) to the last of the prophets, Sayyidna Muhammad al-Mustafa ﷺ . The words, 'shari'ah (شریعہ) or 'al-minhaj' (المنھاج) or the word, 'madhhab' (مذھب) from among the later-day terms, are used to cover subsidiary injunctions, which have been different during…
Read the full tafseer →16. In the sight of God there is only one system of life and way of conduct which is both in accord with reality and morally right. This consists of man's acknowledging God as his Lord and the sole object of his worship and devotion; of surrendering himself unreservedly to God in obedience and service. In doing so he should follow in toto the guidance communicated by God through His Messengers rather than try to devise ways of serving God according to his own lights. This mode of thought and action is known as Islam, and it is only reasonable that the Lord and Creator of the universe should…
Read the full tafseer →