Explained with ayahs 18–20
اللہ وحدہ لاشریک اپنی وحدت کا خود شاہد
اللہ تعالیٰ خود شہادت دیتا ہے بس اس کی شہادت کافی ہے وہ سب سے زیادہ سچا گواہ ہے، سب سے زیادہ سچی بات اسی کی ہے، وہ فرماتا ہے کہ تمام مخلوق اس کی غلام ہے اور اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ اور اسی کی طرف محتاج ہے، وہ سب سے بےنیاز ہے، الوہیت میں اللہ ہونے میں وہ یکتا اور لاشریک ہے، اس کے سوا کوئی پوجے جانے کے لائق نہیں، جیسے فرمان ہے آیت (لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ) 4۔ النسآء :166) یعنی لیکن اللہ تعالیٰ بذریعہ اس کتاب کے جو وہ تیری طرف اپنے علم سے اتار رہا ہے، گواہی دے رہا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 18
دوسرے الفاظ میں اس بات کو یوں سمجھیے کہ ”میں اور میرے پیرو تو اس ٹھیٹھ اسلام کے قائل ہوچکے ہیں جو خدا کا اصل دین ہے۔ اب تم بتاؤ کہ کیا تم اپنے اور اپنے اسلاف کے بڑھائے ہوئے حاشیوں کو چھوڑ کر اس اصلی و حقیقی دین کی طرف آتے ہو“۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
ربط آیات
شروع سورت میں توحید کا اثبات اور تثلیث کا رد کیا گیا تھا، ان آیات میں مشرکین اور منکرین اہل کتاب کی حجتوں کا جواب دیا گیا ہے۔ (اسلام کے حق ہونے پر دلیل قائم ہونے کے بعد) پھر بھی اگر یہ لوگ آپ ﷺ سے (خوامخواہ کی) حجتیں نکالیں تو آپ (جواب میں) فرمادیجیے کہ (تم مانو یا نہ مانو) میں تو اپنا رخ خاص اللہ کی طرف کرچکا اور جو میرے پیروکار تھے وہ بھی (اپنا رخ خاص اللہ کی طرف کرچکے۔ یہ کنایہ ہے اس سے کہ ہم سب اسلام اختیار کرچکے جس میں اعتقاد الوہیت کے اعتبار سے قلب کا رخ خاص اللہ ہی کی طرف ہوتا ہے، کیونکہ دوسرے مذاہب میں کچھ کچھ شرک ہوگیا تھا) اور (اس جواب کے بعد دریافت فرمانے کے…
Read the full tafseer →”اَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلّٰهِ : میں نے اپنا چہرہ اللہ کے حوالے کیا“ اپنی ذات کو اللہ کے حوالے کرنے کی تعبیر ہے۔ چہرہ انسان کی ذات کا سب سے اعلی و اشرف حصہ ہے۔ جب سب سے اعلی و اشرف حصہ حوالے کردیا تو گویا سب کچھ حوالے کردیا۔ یہ اسی طرح کی تعبیر ہے جس طرح ہم کسی کی اطاعت کی تعبیر کے لیے سر جھکا دینا بولتے ہیں۔ اس تعبیر میں غایت درجہ تذلل و نیاز مندی اور سپردگی پائی جاتی ہے۔ موقع دلیل ہے کہ یہاں یہ اسلوب اصلاً تو اسلام لانے کے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے لیکن ساتھ ہی اس سے اسلام کی اصل روح بھی واضح ہوگئی ہے تاکہ دینداری کے ان مدعیوں کو، جو اسلام کی مخالفت میں بحث وجدال کے لیے آستینیں…
Read the full tafseer →20۔ 1 ان پڑھ لوگوں سے مراد مشرکین عرب ہیں جو اہل کتاب کے مقابلے میں بلعموم ان پڑھ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–26
6: جب غزوہ احزاب کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے پیشینگوئی فرمائی تھی کہ روم اور ایران کی سلطنتیں مسلمانوں کے قبضے میں آجائیں گی تو کفار نے بڑا مذاق اڑایا کہ ان لوگوں کو اپنے دفاع کے لئے خندق کھودنی پڑرہی ہے اور ان پر فاقے گزر رہے ہیں مگر دعوے یہ ہیں کہ یہ روم اور ایران فتح کرلیں گے، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں مسلمانوں کو یہ دعا تلقین فرما کر ایک لطیف پیرائے میں ان کا جواب دے دیا گیا۔
Read the full tafseer →اب مزید وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ بہت کچھ کہہ دیا گیا ‘ اس لئے اب یا تو تم لوگ اللہ وحدہ کی الوہیت کا اعتراف کرو ‘ اس کی نگہبانی کا اعتراف کرو اور نتیجتاً اتباع اور انقیاد کرو ورنہ پھر تمہیں اس کا کوئی حل نہ ملے گا ۔ اور یہ مباحثہ یونہی جاری رہے گا ۔ اور تم توحید اور اسلام سے محروم رہو گے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ کو صرف ایک لفظ ایسا بتاتے ہیں جو بیک وقت نظریہ حیات اور نظام زندگی کا مظہر ہے ۔ اور وہ یہ کہ اگر پھر بھی یہ لوگ تم سے جھگڑیں تو تم صاف کہہ دو کہ ہم نے اس کے آگے سر تسلیم خم کردیا ہے۔ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ…………میں اسلام لایا اور میرے متبعین بھی ‘ یہاں اہل ایمان کو متبعین کہہ کر…
Read the full tafseer →4 جیسا کہ دو فوائد پہلے نقل کیے جا چکے۔ وہ جھگڑتے تھے کہ ہم بھی مسلمان ہیں۔ یہاں ان کو بتلایا گیا کہ ایسا (فرضی) اسلام کس کام کا۔ آؤ دیکھو، اسلام اسے کہتے ہیں جو محمد ﷺ اور ان کے جاں نثار ساتھیوں کے پاس ہے۔ ابھی بیان ہوچکا کہ اسلام نام ہے تسلیم وانقیاد کا یعنی بندہ ہمہ تن اپنے کو خدا کے ہاتھ میں دیدے سو محمد ﷺ اور مہاجرین و انصار کو دیکھ لو کس طرح انہوں نے شرک، بت پرستی، بداخلاقی، فسق و فجور اور ظلم وعدوان کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جان، مال، وطن، کنبہ، بیوی بچے، غرض تمام مرغوب و محبوب چیزیں حق تعالیٰ کی خوشنودی پر نثار کردیں اور کس طرح ان کا چہرہ اور آنکھیں ہر وقت حکم الہٰی کی طرف لگی رہتی ہیں…
Read the full tafseer →آیت 20 فَاِنْ حَآجُّوْکَ
دلیل بازی اور مناظرے کی روش اختیار کریں۔
فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْہِیَ لِلّٰہِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ط۔
آپ ﷺ ان سے دو ٹوک انداز میں یہ آخری بات کہہ دیں کہ ہم نے تو اللہ کے آگے سراطاعت خم کردیا ہے۔ ہم نے ایک راستہ اختیار کرلیا ہے۔ تم جدھر جانا چاہتے ہوجاؤ ‘ جس پگڈنڈی پر مڑنا چاہتے ہو مڑ جاؤ ‘ جس کھائی میں گرنا چاہتے ہو گر جاؤ۔ لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ الکافرون۔
وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَالْاُمِّیّٖنَ ءَ اَسْلَمْتُمْ ط
کیا تم بھی سرتسلیم خم کرتے ہو یا نہیں ؟ تابع ہوتے ہو یا نہیں ؟ اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہو یا نہیں ؟
فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
22 دین سے مراد ایسا نظام زندگی یا ضابطہ حیات ہے جسے انسان اس دنیا کے لیے یا دنیا و آخرت دونوں کے لیے بہتر سمجھ کر اختیار کرتا ہے۔ اس لحاظ سے یہودیت، نصرانیت، دہریت، بدھ مت، سکھ، اسلام، کمیونزم، سوشلزم، جمہوریت وغیرہ سب کے سب دین ہیں۔ لیکن اللہ کے ہاں ان میں سے قابل قبول دین صرف اور صرف اسلام ہے۔ اسلام کا معنی ہے اللہ کے احکام و ارشادات کے سامنے سرتسلیم خم کردینا اور برضا ورغبت اللہ کا مطیع و منقاد بن جانا ہے اور صرف اسلام ہی ایسا دین ہے جو دنیوی فلاح اور اخروی نجات کا ضامن ہے۔ دنیا میں جتنے بھی انبیاء و رسل مبعوث ہوئے وہ سب دین اسلام ہی کی دعوت دیتے رہے وہ یہی کہتے رہے کہ اللہ کے مطیع و…
Read the full tafseer →49 ۔ (خواہ مخواہ از راہ عناد اور پوری تبلیغ کے بعد بھی) اشارہ اہل کتاب کی جانب عموما ہے اور نصرانیوں کی جانب خصوصا۔ (آیت) حاجوک “ ای جادلوک بالاقاویل المزورۃ والمغالطات (قرطبی)
50 ۔ (اب تم مانو یا نہ مانو۔ تمہیں اختیار ہے) (آیت) ” اسلمت وجھی للہ “۔ پورا رخ اللہ کی جانب کرلینا مترادف ہے اسلام کے یعنی میں اپنا سب کچھ اللہ کے سپرد کرچکا۔ (آیت) ” ومن اتبعن “۔ میں ہوسکتا ہے کہ وعطف کا نہ ہو، بلکہ مع کا مرادف ہو۔ (ویجوزان یکون الواو بمعنی مع (کشاف) اہل طریق نے یہیں سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ جب وضوح حق کی پوری کوشش ہولے اور مخاطب پھر بھی قبول نہ کرے تو اب بحث ومباحثۃ قیل وقال ترک کردینا چاہیے۔
51 ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آیت نمبر 21 تا 30
ترجمہ : جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور نبیوں کو ناحق قتل کر ڈالتے ہیں اور ایک قراءت میں ” یُقَاتِلُوْنَ “ ہے اور ان لوگوں کو جو انصاف کا حکم دیتے ہیں مار ڈالتے ہیں، اور وہ یہود ہیں، روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے تینتالیس نبیوں کا قتل کیا ہے، ان کو ایک سو ستر بنی اسرائیل کے عابدوں نے منع کیا تو ان کو بھی اسی دن قتل کردیا، انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری دیدیجئے (بجائے خبر کے) خوشخبری کا ذکر ان کے ساتھ مذاق کے طور پر ہے اور اِنَّ کی خبر ہے فاء داخل ہوئی ہے اس کے اسم موصول کے شرط کے ساتھ مشابہ ہونے کی وجہ سے، یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے اعمال دنیا و آخرت میں (یعنی) صدقہ اور…
Read the full tafseer →فَاِنْ حَاۗجُّوْكَ : پس اے محمد ﷺ اگر وہ آپ سے مناظرہ کریں اور یہودی اور عیسائی کہیں کہ یہودیت اور نصرانیت تو نسب ہے (مذہب نہیں ہے) دین تو ہمارا اسلام ہے۔
فَقُلْ : تو آپ ان سے کہہ دیں کہ لفظ اسلام میں کوئی جھگڑا نہیں۔
اَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلّٰهِ : (بلکہ اسلام کی حقیقت بحث طلب ہے) میں تو اللہ کا فرماں بردار ہوگیا اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار نہیں دیتا اس کے احکام کے مقابل اپنی خواہش کی پیروی نہیں کرتا بلکہ دل، زبان اور سارے اعضاء کو اسی کی اطاعت میں لگا دیا ہے۔ انسان کے (بیرونی) اعضاء میں چہرہ کا درجہ سب سے زیادہ ہے اس لیے چہرہ کا ذکر کیا ورنہ مراد تمام باطنی اور ظاہری اعضاء ہیں یا یہ مطلب ہے…
Read the full tafseer →(20) ان لوگوں کو دین اسلام کے بارے میں جو رسول اکرم ﷺ کے ساتھ دشمنی تھی اب اللہ تعالیٰ اس کو بیان فرماتے ہیں کہ اگر یہود و نصاری نے اس کے بعد بھی آپ سے دین میں جھگڑا کیا تو آپ فرما دیجیے کہ میں تو اپنے دین اور عمل کو خالص اللہ تعالیٰ کے لیے کرچکا ہوں اور میرے صحابہ کرام ؓ بھی ایسا ہی کرچکے ہیں اور اے نبی آپ یہود و نصاری اور اہل عرب سے فرما دیجیے کہ ہم اسلام لائے ہیں کیا تم بھی اس طرح اسلام لاتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر وہ اسلام لے آئیں تو راہ راست پر آگئے اور اگر انہوں نے اس سے روگردانی کی تو آپ پر تو احکام کا پہنچا دینا فرض ہے باقی ان منکرین حق سے اللہ تعالیٰ خود سمجھ لیں گے کہ حقیقت…
Read the full tafseer →(فَاِنْ حَاۗجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلّٰهِ): اسلام کی حقانیت اور رسول اللہ ﷺ کا صدق ثابت ہوجانے کے باوجود بھی اگر اہل کتاب کفر و عناد کی راہ اختیار کرتے ہیں تو آپ کہہ دیجیے کہ میں نے تو اپنا ظاہر و باطن اللہ کے سامنے جھکا دیا ہے اور یہی حال میرا اتباع کرنے والے مسلمانوں کا بھی ہے اور اہل کتاب یہود و نصاریٰ اور امی لوگوں، یعنی مشرکین عرب، سب سے کہہ دیجیے کہ اگر تم اسلام لے آؤ گے تو صراط مستقیم پر گامزن ہوجاؤ گے اور اگر روگردانی کرو گے تو میرا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب تو تمہیں اللہ ہی کو دینا ہوگا۔
اس آیت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے عرب و عجم کے تمام ملوک و امراء کو دعوتی…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 20 :
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فان حاجوک فقل اسلمت وجھی للہ ومن اتبعن “۔ یعنی اگر وہ جھوٹین من گھڑت اقوال اور مغالطون کے ساتھ آپ سے جھگڑا کریں، تو آپ اپنا معاملہ اس کی طرف منسوب کیجئے جس کا ایمان اور تبلیغ میں سے آپ کو مکلف بنایا گیا ہے اور آپ کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہی ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 413 دارالکتب العلمیہ) اور قول باری تعالیٰ : ” وجھی “ بمعنی ذاتی ہے (یعنی میں نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکا دیا ہے) اور حدیث طیبہ میں بھی ہے : سجد وجھی للذی خلقہ وصورہ (2) (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، جلد 1، صفحہ 263) (میری ذات نے اسے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو عبیدہ بن جراح ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! قیامت کے دن کون سخت عذاب میں ہوگا آپ نے فرمایا وہ آدمی جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہوگا یا اس آدمی کو جو برے کام کا حکم کرتا ہو اور نیک کام سے روکتا ہو پھر رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ” ویقتلون النبیین بغیر حق ویقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس “ سے ” وما لہم من نصرین “ تک پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابو عبیدہ ! بنی اسرائیل نے تینتالیس نبیوں کو دن کے اول حصہ میں ایک ہی وقت میں قتل کیا پھر نبی اسرائیل کے لوگوں میں ایک سو ستر آدمی کھڑے ہوئے اور نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا تو اسی…
Read the full tafseer →[فَاِنْ : پھر اگر ] [حَآجُّوْکَ : وہ لوگ دلیل بازی کریں آپ ﷺ سے ] [فَقُلْ : تو آپ ﷺ کہہ دیں ] [اَسْلَمْتُ : میں نے فرماں ] [بردار کیا ] [وَجْہِیَ : اپنے چہرے کو ] [لِلّٰہِ : اللہ کا ] [وَمَنِ : اور اس نے جس نے ] [اتَّــبَـعَنِ : میری پیروی کی ] [وَقُلْ : اور آپ کہہ دیں ] [لِّلَّذِیْنَ : ان سے جن کو ] [اُوْتُوا : دی گئی ] [الْکِتٰبَ : کتاب ] [وَالْاُمِّیّٖنَ : اور اَن پڑھ لوگوں سے ] [ئَ : کیا ] [ اَسْلَمْتُمْ : تم لوگوں نے فرماں برداری قبول کی ] [فَاِنْ : پھر اگر ] [اَسْلَمُوْا : وہ لوگ فرماں برداری قبول کرلیں ] [فَقَدِ اہْتَدَوْا : تو انہوں نے ہدایت پالی ] [وَاِنْ : اور اگر ] [تَوَلَّوْا : وہ…
Read the full tafseer →لفظ اسلام کا مادہ سلامتی ہے جو شخص اسلام قبول کرے گا دنیا و آخرت کی آفات اور مصائب اور عذاب اور تکالیف سے محفوظ رہے گا اسے ہر طرح کی سلامتی ملے گی۔ مضمون بالا سورة بقرہ کی آیت (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا وَ النَّصٰرٰی وَ الصّٰبِءِیْنَ ) اور دوسری آیت (اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗٓ اَسْلِمْ ) کے ذیل میں بھی بیان ہوچکا ہے اہل کتاب یہود و نصاریٰ نے جو اختلاف کیا اور داعی اسلام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے خلاف راستہ اختیار کیا ان کا یہ اختلاف جہالت سے نہیں بلکہ یہ جاننے کے بعد ہے کہ یہ واقعی اللہ کے رسول ہیں اسلام کی حقانیت کی دلیل پہنچ گئی پھر بھی ضدا ضدی کا مزاج رکھنے کے جذبات نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
بیاں حقانیت اسلام و جواب مجادلہ مخالفین اسلام۔
قال تعالی، ان الدین عنداللہ۔۔۔ الی۔۔۔ بالعباد۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں توحید کی شہادت کو ذکر فرمایا جو اسلام کی جڑ اور بنیاد ہے اب اس آیت میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول اور پسندیدہ دین صرف دین اسلام ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق وہ دین کہ جو اللہ کے نزدیک مقبول اور پسندیدہ ہے وہ صرف اسلام ہے نہ کہ یہودیت اور نصرانیت، اس لیے کہ اسلام کے معنی اپنے آپ کو ایک خدا کے حوالہ اور سپرد کردینے کے ہیں اور مسلم اور مسلمان اس بندہ کو کہتے ہیں کہ جس نے ہمہ تن اپنے آپ کو خدائے واحد کے سپرد کردیا ہو اور اس کے احکام کے سامنے گردن ڈال دی ہو اور…
Read the full tafseer →ٖ 29 اگر عوم اہل کتاب اپنے گمراہ اور ضدی مولویوں اور پیروں کے شرکیہ اقوال اور عبارتیں پیش کریں تو آپ اس کا صاف صاف جواب دیدیں کہ توحید کے عقلی اور نقلی قطعی دلائل کے مقابلے میں یہ شرکیہ عبارتیں ناقابل تسلیم ہیں اس لیے میں اور میرے تمام متبعین صرف اللہ ہی کو اپنا حاکم اور معبود سمجھتے ہیں صرف اسی کی عبادت کرتے اور صرف اسے ہی پکارتے ہیں۔
ٖ 30 اَسْلَمْتُمْ صورۃً استفہام ہے لیکن معنیً امر ہے۔ ھو استفہام فی معرض التقریر والمقصود منہ الامر (کبیر ج 2 ص 631) اور اُمِّیِّیْنَ سے مراد مشرکین عرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ آپ اہل کتاب اور مشرکین عرب سے فرمائیں کہ وہ اسلام قبول کرلیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ربط آیات : پہلی آیات میں دین کا مبنیٰ ، جڑ اور بنیاد مسئلہ توحید اور اللہ کی صفات کو قرار دیا گیا تھا۔ اب اس آیت میں اللہ نے اسلام کی حقانیت بیان فرمائی ہے مشرکین عرب اور ایران کے مجوسی دعویٰ کرتے تھے کہ ان کے ادیان سچے ہیں۔ اہل کتاب یعنی یہود اور نصاری اس معاملے میں زیادہ ہی غلو کرتے تھے وہ اپنے علاوہ ہر دوسرے مذہب کو غلط بتاتے تھے اور نجات کو صرف اپنے ہی دین میں بند سمجھتے تھے۔ حالانکہ یہود و نصاری کے پاس کوئی حقیقت اس وقت نہ تھی۔ اور نہ آج ہے۔ انہوں نے انبیاء کے اصل دین کو بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ اور کفر و شرک میں مبتلا ہوچکے تھے۔
اس سے قبل گمراہی کے اسباب بھی بیان ہوچکے ہیں۔ حق و صداقت کی…
Read the full tafseer →فَاِنْ حَاۗجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْہِيَ لِلہِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ 0 ۭ وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ 0 ۭ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا 0 ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ 0 ۭ وَاللہُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ 20 ۧ
حاجَّة
والمُحاجَّة : أن يطلب کلّ واحد أن يردّ الآخر عن حجّته ومحجّته، قال تعالی: وَحاجَّهُ قَوْمُهُ قالَ : أَتُحاجُّونِّي فِي اللَّهِ [ الأنعام/ 80] ، فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ [ آل عمران/ 61] ، وقال تعالی: لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 65] ، وقال تعالی: ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ترکیب : ومن اتبعن من موضع رفع میں ہے عطف ہے اسلمت کی ‘ ت پر واتبعن کی ی حذف ہوئی ہے رؤس الآت کی مشابہت سے اور قائم بھی کی جاتی ہے کیونکہ اصل ہے۔ الذین موصول وصلہ مع معطوف اسم ان فبشرھم اس کی خبر اوراس پر اس لئے دخل ہوئی کہ الذین کا صلہ فعل تھا تاکہ معلوم ہو یہ بشارت جزائے کفر ہے اور ان اس کو مانع نہیں۔
تفسیر : جبکہ بدلیل قوی ثابت کردیا گیا کہ دین برحق عند اللہ اسلام ہے اور جو کچھ اختلافات لوگوں نے پیدا کئے ہیں۔ وہ ضد اور تعصب سے ہیں اس پر بھی ناانصاف حجت کئے چلے جاتے ہیں تو اب کی تمام بیہودہ گفتگو اور کل شکوک شبہات کا عجیب لطف کے ساتھ جو اب اپنے نبی کو تعلیم فرماتا ہے کہ جس کے آگے منصف مزاج…
Read the full tafseer →فَاِنْ حَآجُّوْکَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْہِیَ لِلّٰہِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ط وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتَابَ وَالْاُمِّیّٖنَ ئَ اَسْلَمْتُمْ ط فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِاھْتَدَوْا ج وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰـغُ ط وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ م بِالْعِبَادِ ۔ ع
(اب اگر یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں تو ان سے کہہ دیجیے کہ میں نے اور میرے پیروئوں نے تو اپنے آپ کو اللہ کے حوالہ کردیا ہے پھر اہل کتاب اور امیوں سے پوچھو کہ کیا تم بھی اس طرح اسلام لاتے ہو ؟ اگر وہ بھی اس طرح اسلام لے آئیں تو وہ راہ راست پا گئے اور اگر وہ اعراض کریں تو تمہارے اوپر ذمہ داری صرف پہنچا دینے کی ہے۔ اللہ اپنے بندوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
فہم القرآن
ربط کلام : اسلام چھوڑ کر جس نے کفر کا راستہ اختیار کیا، انبیاء اور نیک لوگوں کو قتل کیا اس کے لیے سزا عذاب الیم ہے۔
اہل کتاب اور کفار کو باربار اسلام کی دعوت دی گئی۔ لیکن انہوں نے تسلیم کرنے کے بجائے انکار اور مخالفت کا راستہ اپنایا بالخصوص یہودیوں کی یہ تاریخ ہے کہ جب بھی ان کے پاس کوئی نبی اور مصلح آیا تو انہوں نے سمع و اطاعت کی بجائے ان کے خلاف سازشوں اور تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ علامہ ابن جریر نے کئی حوالوں کے ساتھ تحریر فرمایا ہے کہ یہودی اس قدر سازشی اور تخریب کار تھے کہ انہوں نے ایک ہی دن میں صبح کے وقت 43 انبیاء کرام (علیہ السلام) اور دن کے پچھلے پہر 170 مذہبی رہنماؤں کو…
Read the full tafseer →مجادلین خاص و عام :
20: فَاِنْ حَآ جُّوْ کَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْھِیَ لِلّٰہِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَالْاُمِّیّٖنَ ئَ اَسْلَمْتُمْ ۔ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا۔ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ ، وَاللّٰہُ بَصِیْرٌمبِالْعِبَادِ ۔ فَاِنْ حَآ جُّوْ کَ (پس اگر وہ آپ سے اس بارے میں مجادلہ کریں) کہ اللہ تعالیٰ کا دین تو اسلام ہی ہے۔ مجادلہ کرنے والوں سے مراد جمہور کے نزدیک وفد بنی نجران ہے۔ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْھِیَ لِلّٰہِ (تو آپ ان سے کہہ دیں میں نے اپنے نفس اور تمام اعضاء کو اللہ وحدہ کے سپرد کردیا ہے) اور میں نے اس کی عبادت میں کسی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 20۔:
(آیت)” فان حاجوک پھر اگر (اے محمد) محمد آپ سے مناظرہ کریں) اے محمد ! اگر وہ آپ سے دین کے معاملے میں جھگڑا کریں یہ جھگڑا کرنے والے یہود و نصاری ہیں۔
اگر یہ لوگ آپ سے کہیں کہ یہودیت اور نصرانیت تو نسب ہے مذہب نہیں ہے دین تو ہمارا اسلام ہے اور ہم اسی پر ہیں (فقل ۔۔۔۔۔ لہ تو آپ ان سے کہہ دیں کہ میں تو اللہ کا فرمان بردار ہوگیا) میں نے اسی کو پیروی کی اپنے دل سے اپنی زبان سے اور تمام اعضاء سووجوارح سے سے یہاں آیت میں چہرے کو خصوصی طور پر ذکر کیا کیونکہ یہ اشرف الاعضاء ہے کہ جب چہرے سے خشوع و خضوع آئے گا تو تمام اعضاء سے خشوع و خضوع صادر ہوگا ، فراء نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ میں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(18 ۔ 20) جن نجرانی عیسائی لوگوں کا اوپر ذکر تھا یہ آیتیں بھی انہی کے ذکر میں ہیں۔ لیکن توحید پر تو آخر یہود عیسائی مشرکین مکہ سب کو لانا اللہ کو منظور ہے۔ اس لئے توحید کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں اس کا ذکر تصدیق کے طور پر کیا ہے کہ اول صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک سب او لوالعزم انبیاء اور ان کے ساتھی اسی توحید کے دین پر تھے کبھی کوئی شر کی دین اللہ کو پسند نہیں ہوا اسی طرح اللہ کے فرشتے آسمان پر ہمیشہ سے اس توحید کا دم بھرتے ہیں اور اب یہی توحید نبی آخر الزمان کے دین میں ہے جس پیغمبر کو اللہ تعالیٰ نے وقت مقررہ پر اس توحید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت 18-20
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا پختہ ترین ثبوت پیش کیا ہے، وہ ہے اللہ عزو جل کی اپنی گواہی اور اس کی مخلوق میں سے معزز ترین افراد یعنی فرشتوں اور علماء کی گواہی۔ اللہ تعالیٰ کی گواہی یہ ہے کہ اس نے توحید پر دلائل وبراہین قاطعہ قائم فرمائے ہیں۔ آفاق وانفس کے دلائل اس عظیم اصول پر قائم ہیں۔ اللہ کا جو بندہ بھی توحید کا علم لے کر کھڑا ہوا۔ اللہ نے ہمیشہ توحید کے منکروں اور مشرکوں کے خلاف اس کی مدد کی ہے۔ بندوں کو جو بھی نعمت حاصل ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ مشکلات کو اس کے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا۔ مخلوق کے تمام افراد عاجز ہیں جو نہ اپنے آپ کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان سے بچا سکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
قول باری ہے (ان الذین یکفرون بایات اللہ ویقتلون النبیین بغیرحق و یقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس فبشرھم یعذاب الیم، جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں جو خلق خدا میں عدل اور راستی کا حکم دینے کے لیئے اٹھیں ان کو دردناک سزا کی خوشخبری سنادو) حضرت ابوعبیدہ بن الجراح سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ قیامت کے دن کس شخص کی سزاسب سے زیادہ سخت ہوگی ؟ آپ نے فرمایا (رجل قتل نبیا اور رجل ھوب معروف تھی عن منکرء اس شخص کی سزاسب سے سخت ہوگی جس نے کسی نبی کو یا امربالمعروف اور…
Read the full tafseer →41 اہل باطل سے اظہار بیزاری : یعنی ہم نے تو بصدق و رضا دین حق کو قبول کرلیا اور توحید کے عقیدہ صافیہ کو اپنا لیا۔ تم مانو یا نہ مانو تمہاری مرضی۔ ہم تو بہرحال اس راہ حق و صواب سے ہٹنے والے نہیں۔ یہ منکرین و معاندین کیلئے اہل حق کا آخری جواب ہے، جیسا کہ سورة کافرون میں ارشاد فرمایا گیا { لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنٌ } (الکافرون۔ 6) ۔ سو یہ اہل باطل سے اظہار بیزاری ہے کہ تم لوگ اگر نہیں مانتے تو ہمارا راستہ اور تمہارا راستہ الگ ہے کہ ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں۔ پیغمبر کا کام حق کا پیغام پہنچا دینا ہے اور بس۔ اس سے آگے بڑھ کر اس کا منوا لینا نہ پیغمبر کے بس میں ہوتا ہے اور نہ ہی یہ ان کی ذمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
حقیقی دین، اسلام ہی ہے
تشریح : دین اور اسلام کی وضاحت میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ دین کا مطلب کیا ہے۔ دین سے مراد مذہب ہے۔ مذہب کے معنی ہیں کہ سوچ کے اور عمل کے وہ طریقے کہ جن سے انسان اور قوم کی بنیاد نیکی، راست بازی اور کامیابی پر رکھی جائے، یعنی وہ اصول اور قوانین جو اللہ کی طرف سے بندے کو دیئے جائیں تاکہ انسانی قوانین کی بجائے الٰہی قوانین کو اختیار کیا جائے، کیونکہ اللہ کامل و اکمل ہے جب کہ بندہ خطاؤں کا پتلا ہے۔ تو اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ اسلام کا مطلب ہے کہ مکمل طور پر اللہ کا فرمانبردار بن جانا اور بندہ دل و جان سے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
آیات 10- 20
اسرارو معارف
ان الذین کفروا………………وبئس المھاد۔
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا۔ ان کے مال اور اولاد اللہ کے مقابل ذرہ برابر کام نہ آئیں گے یا وہ یہ سمجھ رکھیں کہ ان کے پاس دولت ہے اولاد ہے تو شاید عنداللہ وہ مقبول ہیں اور یہ اللہ کی خوشنودی کی دلیل ہے ہرگز نہیں ! یہ ایک نظام ہے اللہ کا مقرر کردہ جو چل رہا ہے ہاں ! اللہ کی رضامندی کی دلیل دین ہے۔ اگر دین قبول نہ کیا تو مالدار ہوں یا صاحب اولاد ہوں ، دوزخ کا ایندھن ہیں بلکہ ترجمہ تو یوں ہے کہ یہی لوگ دوزخ کا ایندھن ہیں۔ ان کا رویہ تو آل فرعون جیسا ہے یا ان سے پہلے گزرنے والے کافروں جیسا کہ دولت اور ریاست کے لالچ میں حق کو قبول نہ کیا اور…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جلد محاسبہ ہونے والا ہے اور آیت الہیٰ سے کفر کی سزا مل کر رہے گی۔7 اوتوا اہل کتاب اور مشرکین عرب سب کو مالعموم اسلام کی دعوت دو ۔ جنا نچہ آنحضرت ﷺ نے اس آّیت کے مطابق عرب وعجم کے تمام ملوک وامر گو دعوت خطوط لکھے اور اپنی عمومی رسالت کا اعلان کیا۔ ایک حدیث میں ہے بعث الی الا حمر ولا اسود۔ کہ عرب و عجم کی طرف معبوث کیا گیا ہوں۔۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : والذی نفس محمد بیدہ ولا یسمع بی احدمن ھذہ الا متہ یھوددی ولا نصر انی ومات ولم یومن بالذی ارسلت بہ الا کان من اھل النار کہ قسم ہے اس ذات پاکی کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے اس امت میں…
Read the full tafseer →(3:20) ومن اتبعن۔ اتبعن اصل میں اتبعنی تھا۔ اور وہ جنہوں نے میری پیروی کی۔
الامیین۔ مشرکین عرب جو اہل یہود اور نصاری کے علاوہ تھے۔ امی کے معنی اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جو نہ لکھ سکے نہ پڑھ سکے۔ اس زمانہ میں عرب کی یہ مخصوص صفت تھی کہ وہ اکثر و بیشتر بےپڑھے لکھے تھے اور اس صفت میں دوسری قوموں سے ممتاز تھے۔
تولوا۔ ماضی جمع مذکر غائب تولی سے۔ اگر تولی کا لفظ متعدی بنفسہٖ ہو تو معنی ولایت (دوستی) اور قریب تریں مواضع سے اس کے حصول کو چاہتا ہے۔ جیسے ولیت سمعی کذا۔ میں نے اپنے کان کو فلاں چیز پر لگایا۔ یا جیسے قرآن حکیم میں ہے ومن یتولی اللہ ورسولہ (5:56) اور جو شخص خدا اور اس کے رسول سے دوستی کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 22
حاجوک (وہ تجھ سے جھگڑتے ہیں (حاجون، ک) اسلمت (میں نے جھکادیا) وجھی (اپنا چہرہ) اتبعن (میری اتباع کی (اتبع، ن، ی) امیین (ان پڑھ، جاہل (امی، ان پڑھ) البلغ (پہنچادینا) عباد (بندے (عبد، بندہ) القسط (انصاف) حبطت (ضائع ہوگئے) ۔
تشریح : آیت نمبر 19 تا 22
سورة آل عمران کی آیت 19 سے 22 تک میں اللہ تعالیٰ نے بالکل واضح طریقے سے بتادیا ہے کہ اسلام کسی قوم ، ذات یا برادری کا نام نہیں اور جو دین نبی کریم ﷺ لے کر تشریف لائے وہ کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے جو آج ہی کہی جارہی ہو بلکہ اللہ کے تمام رسول اور انبیاء کرام (علیہ السلام) مختلف زمانوں میں الگ الگ دین لے کر نہیں آئے سب نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
اس آیت کے نازل ہونے پر 360 بتوں کا گر جانا
شان نزول : احبار شام میں سے دو شخص رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب انہوں نے مدینہ طیبہ دیکھا تو ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ نبی آخر الزماں کے شہر کی یہی صفت ہے جو اس شہر میں پائی جاتی ہے “۔ جب حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے توبموجب توریت کے حضور کو پہچان لیا اور عرض کیا :” آپ محمد ﷺ ہیں “ حضور ﷺ نے فرمایا :” ہاں “۔ پھر عرض کیا :” کیا آپ احمد ہیں “ ۔ ۔۔ ۔ فرمایا :” ہاں ! “۔ ۔۔ ۔ پھر عرض کیا :” ہم ایک سوال کرتے ہیں اگر آپ نے ٹھیک جواب دے دیا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے “۔ فرمایا :” سوال کرو “۔ انہوں نے عرض کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے بڑی شہادت کون سی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
[6] اللہ تعالیٰ کی یہ گواہی کتب آسمانی سے بھی ظاہر ہے اور مصنوعات فطرت سے بھی۔ پہلی دلیل نقلی کا حکم رکھتی ہے اور دوسری دلیل عقلی کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
شہید انبیاء :
(ف 1) قساوت قلبی اور شومئی قسمت کی بدترین صورت ہے کہ کوئی شخص اپنے محسن سے دشمن کا ساسلوک کرے ۔ انبیاء (علیہم السلام) نسل انسانی کے سب سے بڑے محسن ہوتے ہیں ، کیونکہ وہ روح وجسم کی تربیت واصلاح کے لئے آتے ہیں اور ہر مصیبت کو برداشت کرنے کے لئے آمادہ ہوتے ہیں ، مگر حق وصداقت اور فلاں و بہبود انسانی سے دستبردار ہونے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہوتے ۔
یہودی ہمیشہ ضدی رہے ہیں ، ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے پہیم اور مسلسل نبی بھیجے ، تاکہ وہ راہ راست پر آجائیں ، مگر وہ وہیں رہے اور ان کے جمود وتساہل میں ذرہ برابر تحریک پیدا نہیں ہوئی بلکہ تمرد ہوگئے اور بعض کو شہید ہی کر ڈالا ، اور اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ف 4 ۔ بلا شبہ دین حق اور پسندیدہ دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی یعنی اہل کتاب نے اسلام کی صداقت سے اختلاف نہیں کیا مگر اس وقت جب کہ ان کو اسلام کی حقانیت اور صداقت کا علم پہنچ چکا ۔ اس علم کے پہنچ جانے کے بعد ان لوگوں نے دین حق سے اختلاف کیا اور یہ اختلاف بھی محض باہم حسد اور ایک دوسرے سے بڑھنے کی خاطر کیا اور جو شخص اللہ کی آیتوں کا انکار کرے گا اور کافرانہ روشن اختیار کرے گا تو یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ بہت جلد اس کا حساب لینے والا ہے پھر اگر اب بھی یہ لوگ اے پیغمبر ! آپ سے کج بحثی اور خواہ مخواہ کی کٹ حجتی کریں تو آپ ان سے فرما دیجئے کہ میں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ف 4۔ دنیا میں غارت ہونا یہ کہ ان کے ساتھ معاملہ اہل اسلام کا سا نہ ہوگا، اور آخرت میں یہ کہ ان کی مغفرت نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →جھگڑنے والوں سے مراد اہل کتاب اور خصوصاً نصاریٰ ہیں :
56: اہل کتاب ہی وہ لوگ تھے جن کو پیغمبر اسلام ﷺ سے جھگڑنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ اس لیے کہ وہ اپنی مذہبی کتابوں تورات و انجیل میں نبی اعظم و آخر ﷺ کے نشانات اپنی آنکھوں سے دیکھ اور کانوں سے سن چکے تھے اور اس بات کی طلبگار بھی تھے کہ وہ نبی اعظم ﷺ جل آئے تاکہ اس کی رسالت کا اقرار کر کے اس کی ہدایت پر عل کر کے ہم دنیا و آخرت میں آمیاب ہوں۔ لیکن جب وہ موعود نبی اعظم و آخر ﷺ مبعوث ہوگیا اور انہوں نے اس کو اچھی طرح پہچان بھی لیا کیونکہ ان کے پاس نشانات و علامات اس نبی اعظم و آخر ﷺ کی موجود تھیں تو انہوں نے بجائے اقرار کے انکار کردیا کیوں ؟ محض اس…
Read the full tafseer →The Surah began with the confirmation of Divine Oneness and the refutation of Trinity. Answered here are argumentations in which the disbelievers and deniers among the people of the Book persist - even after the truth of Islam has been proved conclusively. The advice against such ongoing. and unnecessary disputations is that the acceptance or rejection of disputers should be of no use to a believer who simply has to declare that he and those with him have entered the fold of Islam being in no doubt about its truth. The Holy Prophet ﷺ was entrusted with the mission of calling the people of the…
Read the full tafseer →18. The Prophet (peace be on him) is asked to tell them in effect: I and my followers have embraced the original, unadulterated Islam which is the true religion enjoined by God. Tell us, now, if you are prepared to give up the accretions introduced by your forefathers, and embrace this original, true religion?'
Read the full tafseer →