Explained with ayahs 21–22
انبیاء کے قاتل بنو اسرائیل
یہاں ان اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے جو گناہ اور حرام کام کرتے رہتے تھے اور اللہ کی پہلی اور بعد کی باتوں کو جو اس نے اپنے رسولوں کے ذریعہ پہنچائیں جھٹلاتے رہتے تھے، اتنا ہی نہیں بلکہ پیغمبروں کو مار ڈالتے بلکہ اس قدر سرکش تھے کہ جو لوگ انہیں عدل و انصاف کی بات کہیں انہیں بےدریغ تہ تیغ کردیا کرتے تھے، حدیث میں ہے حق کو نہ ماننا اور حق والوں کو ذلیل جاننا یہی کبر و غرور ہے کہ مسند ابو حاتم میں ہے حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب کسے ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جو کسی نبی کو مار ڈالے یا کسی ایسے شخص کو جو بھلائی کا بتانے والا اور…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 19
یہ طنزیہ انداز بیان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے جن کرتوتوں پر وہ آج بہت خوش ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ ہم بہت خوب کام کر رہے ہیں، انہیں بتادو کہ تمہارے ان اعمال کا انجام یہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
خلاصہ تفسیر
ربط آیات
شروع سورة میں کلام کا زیادہ رخ نصاری کی طرف تھا، پھر آیت بالا میں (الذین اوتوا الکتاب) کا عنوان نصاری اور یہود دونوں کو شامل تھا، اب ان آیات میں یہود کے بعض خاص احوال کا بیان ہے، روح المعانی میں بروایت ابن ابی حاتم ؒ اس آیت کی تفسیر میں خود حضور ﷺ سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل نے تینتالیس (43) نبیوں کو ایک وقت میں قتل کیا، ان کی نصیحت کے لئے ایک سو ستر (170) بزرگ کھڑے ہوئے، اسی دن ان کا بھی کام تمام کردیا۔ (بیان القرآن)
بیشک جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ (جیسے یہود کہ انجیل اور قرآن کو نہیں مانتے تھے) اور قتل کرتے ہیں پیغمبروں کو (اور وہ قتل کرنا خود ان کے…
Read the full tafseer →یَقْتُلُوْنَ النَّـبِيّٖنَ بِغَيْرِ حَقٍّ میں ’ بغیر حق“ کے الفاظ سے ایک تو یہود کے اس جرم کی سنگینی کا اظہار ہو رہا ہے، کیونکہ قتل ناحق بجائے خود ایک سنگین جرم ہے اور اگر یہ قتل ناحق کسی نبی کا ہو تو پھر تو اس کی سنگینی کا پوچھنا ہی کیا ہے۔ دوسرے اس سے حق کی عظمت کا اظہار ہو رہا ہے کہ حق سب سے بالا تر چیز ہے یہاں تک کہ انبیا بھی اس کے تحت آتے ہیں۔ اس حقیقت کا اظہار ہمارے نبی کریم ﷺ نے مختلف طریقوں سے فرمایا ہے۔ الَّذِيْنَ يَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ سے مراد وہ مصلحین و مجددین ہیں جو عام لوگوں کے اندر سے اٹھے اور جنہوں نے یہود و نصاری کی تحریفات و بدعات کی اصلاح اور ان کی زندگیوں کو از سر نو خدا…
Read the full tafseer →21۔ 1 یعنی ان کی سرکشی و بغاوت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ صرف نبیوں کو ہی انہوں نے ناحق قتل نہیں کیا بلکہ ان تک کو بھی قتل کر ڈالا جو عدل و انصاف کی بات کرتے تھے۔ یعنی وہ مومنین مخلصین اور داعیان حق جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ نبیوں کے ساتھ ان کا تذکرہ فرما کر اللہ تعالیٰ نے ان کی عظمت و فضیلت بھی واضح کردی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–26
6: جب غزوہ احزاب کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے پیشینگوئی فرمائی تھی کہ روم اور ایران کی سلطنتیں مسلمانوں کے قبضے میں آجائیں گی تو کفار نے بڑا مذاق اڑایا کہ ان لوگوں کو اپنے دفاع کے لئے خندق کھودنی پڑرہی ہے اور ان پر فاقے گزر رہے ہیں مگر دعوے یہ ہیں کہ یہ روم اور ایران فتح کرلیں گے، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں مسلمانوں کو یہ دعا تلقین فرما کر ایک لطیف پیرائے میں ان کا جواب دے دیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
یہ ہے ان لوگوں کا حتمی انجام ‘ ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا ‘ یہ عذاب دنیا وآخرت دونوں میں ہوگا ۔ یہاں بھی وہ اس کی توقع کریں اور آخرت میں تو یقینی ہے ہی………دنیا اور آخرت میں ان کے اعمال باطل ہوں گے ‘ بےاثر ہوں گے ۔ یہ عجیب تصویر کشی ہے ‘ حبوط کا لغوی معنی ہے ۔ کسی مویشی کا زہریلی گھاس چر کر پھول ۔ بظاہر تو اس صورت میں ایک مویشی خوب موٹاتازہ ہوجاتا ہے ‘ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آخر کار برباد اور ہلاک ہوجاتا ہے ‘ یہاں بظاہر تو ان کے بڑے بڑے کارنامے ہیں لیکن قیامت میں ان کا کوئی فائدہ نہ ہوگا اور نہ ان کا کوئی حامی و مددگار ہوگا۔
قرآن کریم نے آیات الٰہی کا انکار کے ساتھ ساتھ انبیاء (علیہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
6 حدیث میں ہے کہ " بنی اسرائیل " نے ایک دن میں تینتالیس نبی اور ایک سو ستّر یا ایک سو بارہ صالحین کو شہید کیا۔ یہاں نصاریٰ نجران اور دوسرے کفار کو سنایا جارہا ہے کہ احکام الہٰی سے منکر ہو کر انبیاء اور انصاف پسند ناصحین سے مقابلہ کرنا اور پرلے درجہ کی شقاوت و سنگدلی سے ان کے خون میں ہاتھ رنگنا معمولی چیز نہیں۔ ایسے لوگ سخت دردناک عذاب کے مستحق اور دونوں جہان کی کامیابی سے محروم ہیں۔ ان کی محنت برباد اور ان کی کوششیں اکارت ہونگی اور دنیا و آخرت میں جب سزا ملے گی تو کوئی بچانے والا اور مدد کرنے والا نہ ملے گا۔
Read the full tafseer →آیت 21 اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّیَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِلا
اس لیے کہ انصاف کی بات تو بالعموم کسی کو پسند نہیں ہوتی۔ اَلْحَقُّ مُرٌّ حق بات کڑوی ہوتی ہے۔ بہت سے مواقع پر کسی حق گو انسان کو حق گوئی کی پاداش میں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔ یہاں پھر عدل و قسط کا معاملہ آیا ہے۔ اللہ خود قَآءِمًا بالْقِسْطِہے اور اللہ کے محبوب بندے وہی ہیں جو عدل کا حکم دیں ‘ انصاف کا ڈنکا بجانے کی کوشش کریں۔ تو فرمایا کہ جو ایسے لوگوں کو قتل کریں۔۔
فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔
لفظ بشارتیہاں طنز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
25 انبیاء اور صالحین کے قتل ناحق کا کام دور نبوی کے یہود نے نہیں کیا تھا بلکہ ان کے اسلاف نے کیا تھا اور یہ واقعات اتنے مشہور و معروف تھے کہ کسی کو مجال انکار نہ تھی۔ پھر چونکہ دور نبوی کے یہودی اپنے اسلاف کے ایسے کارناموں پر راضی اور خوش تھے۔ لہذا قرآن نے بجا طور پر انہیں مخاطب کیا ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے تینتالیس (43) پیغمبروں کو ایک ہی دن صبح کے وقت قتل کیا یہ کام بنی اسرائیل کے علماء اپنی حکومت کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعہ سرانجام دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو حکومت کے ذریعہ سولی پر چڑھانے کی مذموم کوشش کی تھی۔ جب یہ لوگ اتنے انبیاء کو قتل…
Read the full tafseer →55 ۔ (آیت) ” یکفروان بایت اللہ “۔ کسی کتاب الہی سے یا اس کے کسی جزء سے انکار یہ سب کفربایات اللہ کی صورتیں ہیں۔ (آیت) ” بغیر حق “۔ یعنی خود قاتلوں کے بھی آئین، قانون وضابطہ کے خلاف، ورنہ قتل انبیاء فی الحقیقت اور عنداللہ تو ہمیشہ ہی ناحق رہے گا۔ یہود کے قتل انبیاء اور قتل ناحق پر حاشیہ پارہ اول رکوع 7 میں گزر چکا۔
56 ۔ (آخرت میں) (آیت) ” یامرون بالقسط “۔ یعنی لوگوں کو اخلاق ومعاملات میں عدل کی ہدایتیں کرتے رہتے ہیں، ظاہر ہے کہ مراد انبیاء اور ان کے نائبین ہیں۔ (آیت) ” یقتلون۔ یہ سب اشارے یہود کی حق دشمنی سے متعلق اور ان کی تاریخ کی جانب ہیں۔ عہد عتیق کے متعدد صحیفوں میں یہود کی حق بیزاری کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آیت نمبر 21 تا 30
ترجمہ : جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور نبیوں کو ناحق قتل کر ڈالتے ہیں اور ایک قراءت میں ” یُقَاتِلُوْنَ “ ہے اور ان لوگوں کو جو انصاف کا حکم دیتے ہیں مار ڈالتے ہیں، اور وہ یہود ہیں، روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے تینتالیس نبیوں کا قتل کیا ہے، ان کو ایک سو ستر بنی اسرائیل کے عابدوں نے منع کیا تو ان کو بھی اسی دن قتل کردیا، انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری دیدیجئے (بجائے خبر کے) خوشخبری کا ذکر ان کے ساتھ مذاق کے طور پر ہے اور اِنَّ کی خبر ہے فاء داخل ہوئی ہے اس کے اسم موصول کے شرط کے ساتھ مشابہ ہونے کی وجہ سے، یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے اعمال دنیا و آخرت میں (یعنی) صدقہ اور…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ : بیشک جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔ الذین یکفرون سے یہودی مراد ہیں انہوں نے قرآن اور انجیل کا انکار کیا تھا اور تورات کی ان آیات کا بھی جن میں رسول اللہ کے اوصاف بیان کئے گئے تھے۔
وَيَقْتُلُوْنَ النَّـبِيّٖنَ : اور انبیاء کو قتل کرتے ہیں یعنی ان کے اسلاف نے انبیاء کو قتل کیا تھا اور انہوں نے اپنے اسلاف کے اس فعل کو پسند کیا تو گویا یہ بھی قاتل ہوگئے خود بھی رسول اللہ کی شان میں وہی فعل کرنا چاہتے ہیں جو ان کے اسلاف دوسرے انبیاء کے ساتھ کرچکے تھے چناچہ حضور ﷺ سے انہوں نے لڑائیاں کیں۔ آپ ﷺ پر جادو کیا، آپ کو زہر دیا جس کے اثر سے آپ کی…
Read the full tafseer →(21) بیشک جو لوگ انکار کرتے ہیں محمد ﷺ کے نبی برحق ہونے کا اور قرآن کریم کے کتاب الہی ہونے کا اور انبیاء کرام کو قتل کرتے ہیں حالانکہ یہ قتل کرنا خود ان کے نزدیک بھی برا ہے نیز ایسے مومنین کو بھی قتل کرتے ہیں جو انبیاء کرام پر ایمان لائے اور توحید کا حکم دیتے ہیں تو ایسے مومنین کے قاتلین کو ایک درد ناک سزا کی خبر سنا دیجیے کہ جس کی شدت ان کے جسموں سے گزر کر دلوں تک سرایت کرجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ۔۔ : اس میں اہل کتاب کی مذمت ہے، جن کی پوری تاریخ شاہد ہے کہ انھوں نے نہ صرف احکام الٰہی پر عمل کرنے سے انکار کیا بلکہ انبیاء اور ان لوگوں کو قتل کرتے رہے جنھوں نے کبھی ان کے سامنے دعوت حق پیش کی اور یہ تکبر کی آخری حد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس شخص کے دل میں ذرہ برابر کبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ ایک آدمی نے عرض کیا : ”ایک آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا خوبصورت ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر تو حق کے انکار اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔“ [ مسلم،
الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
آیت نمبر : 21 تا 22۔
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین یکفرون بایت اللہ ویقتلون النبین “۔ ابو العباس المبرد نے کہا ہے : بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ تھے ان کے پاس انبیاء (علیہم السلام) انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کے لئے آئے تو انہوں نے قتل کردیا اور پھر ان کے بعد مومنین میں سے کچھ لوگ اٹھے اور انہوں نے اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے انہیں قتل کردیا اور پھر ان کے بعد مومنین میں سے کچھ لوگ اٹھے، اور انہوں نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے انہیں بھی قتل کردیا، پس انہیں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور اسی طرح معقل بن ابی مسکین نے کہا ہے انبیاء علیہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو عبیدہ بن جراح ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! قیامت کے دن کون سخت عذاب میں ہوگا آپ نے فرمایا وہ آدمی جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہوگا یا اس آدمی کو جو برے کام کا حکم کرتا ہو اور نیک کام سے روکتا ہو پھر رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ” ویقتلون النبیین بغیر حق ویقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس “ سے ” وما لہم من نصرین “ تک پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابو عبیدہ ! بنی اسرائیل نے تینتالیس نبیوں کو دن کے اول حصہ میں ایک ہی وقت میں قتل کیا پھر نبی اسرائیل کے لوگوں میں ایک سو ستر آدمی کھڑے ہوئے اور نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا تو اسی…
Read the full tafseer →[اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک وہ لوگ جو ] [یَکْفُرُوْنَ : انکار کرتے ہیں ] [بِاٰیٰتِ اللّٰہِ : اللہ کی آیات کا ] [وَیَقْتُلُوْنَ : اور قتل کرتے ہیں ] [النَّبِیّٖنَ : نبیوں کو ] [بِغَیْرِ حَقٍّ : کسی حق کے بغیر ] [وَّیَـقْتُلُوْنَ : اور وہ لوگ قتل کرتے ہیں ] [الَّذِیْنَ : ان لوگوں کو جو ] [یَاْمُرُوْنَ : ترغیب دیتے ہیں ] [بِالْقِسْطِ : حق کے مطابق ہونے کی ] [مِنَ النَّاسِ : لوگوں میں سے ] [فَـبَشِّرْ : تو آپ ﷺ بشارت دے دیجیے ] [ہُم : ان کو ] [بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ : ایک دردناک عذاب کی ]
Read the full tafseer →کافروں کے لیے عذاب کی و عید
اس آیت شریفہ میں و عید ہے تمام کافروں کے لیے جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں جن میں یہود و نصاریٰ بھی داخل ہیں اور خاص کر یہودیوں کا ذکر فرمایا کہ وہ نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں۔ جن یہودیوں نے حضرات انبیاء (علیہ السلام) کو قتل کیا وہ تو قاتل تھے ہی اور جو یہودی نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں تھے وہ بھی چونکہ اپنے اسلاف کی حرکتوں سے بیزار نہیں تھے اس لیے ان کی طرف بھی قتل کا اسناد کیا گیا۔ نیز ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جو ایسے حضرات کو قتل کرتے رہے جو انصاف کا حکم کرتے تھے جن لوگوں نے حضرات انبیاء (علیہ السلام) کو قتل کیا ان سے کوئی بعید نہیں کہ ان امتیوں کو قتل کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
ذکر بعض احوال شنیعہ یہود بےبہود۔
قال تعالی، ان لذین یکفرون بایت اللہ ویقتلون النبیبن۔۔۔ الی۔۔۔ لایظلمون۔
شروع سورت میں روئے سخن زیادہ تر نصاری کی طرف تھا اور گزشتہ آیات میں اہل کتاب کے عنوان سے یہود اور نصاری دونوں کو خطاب تھا اب ان آیات میں خاص یہود کے بعض افعال کی متعدد آیات میں یہود کا قاتل انبیاء ہونا بیان ہوا ہے اس لیے اس آیت سے خصوصیت کے ساتھ یہود کو خطاب شروع ہوتا ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء کو دیدہ و دانستہ جان بوجھ کر ناحق قتل کرتے ہیں یعنی خود بھی جانتے ہیں کہ ہمارا یہ فعل سراسر ناحق ہے مگر حق کی عداوت اور دنیا کی محبت میں اتنے اندھے…
Read the full tafseer →31 :۔ یہ منکرین اور توحید کے مبلغین کے قاتلوں کیلئے زجر اور اخروی تخویف ہے۔ اَلَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ضد اور عناد کیوجہ سے حق کو قبول نہیں کرتے اور مسئلہ توحید کو نہیں مانتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی ہٹ دھرمی کا ذکر کیا تھا۔ کہ اہل کتاب نے دین میں اختلاف نہیں کیا مگر علم آجانے کے بعد محض سرکشی ، حسد ، عناد ، اور بغض کی وجہ سے انہوں نے دنیا کے جاہ و مال ، ریاست اور اقتدار کی خاطر دین حق کو قبول نہ کیا نیز یہ بھی بیان ہوا کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرے گا۔ وہ اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتا۔ اس کے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ وہ اللہ کے سچے دین کو مان لے۔ صحیح عقیدہ اختیار کرلے اور خدا تعالیٰ کا مطیع و فرمانبردار ہوجائے۔
آیات سے انکار :
ان آیات میں بھی اہل کتاب کا ہی ذکر ہے۔ فرمایا ان الذین یکفرون بایات اللہ ، جو لوگ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللہِ وَيَقْتُلُوْنَ النَّـبِيّٖنَ بِغَيْرِ حَقٍّ 0 ۙ وَّيَقْتُلُوْنَ الَّذِيْنَ يَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ 0 ۙ فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 21
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ترکیب : ومن اتبعن من موضع رفع میں ہے عطف ہے اسلمت کی ‘ ت پر واتبعن کی ی حذف ہوئی ہے رؤس الآت کی مشابہت سے اور قائم بھی کی جاتی ہے کیونکہ اصل ہے۔ الذین موصول وصلہ مع معطوف اسم ان فبشرھم اس کی خبر اوراس پر اس لئے دخل ہوئی کہ الذین کا صلہ فعل تھا تاکہ معلوم ہو یہ بشارت جزائے کفر ہے اور ان اس کو مانع نہیں۔
تفسیر : جبکہ بدلیل قوی ثابت کردیا گیا کہ دین برحق عند اللہ اسلام ہے اور جو کچھ اختلافات لوگوں نے پیدا کئے ہیں۔ وہ ضد اور تعصب سے ہیں اس پر بھی ناانصاف حجت کئے چلے جاتے ہیں تو اب کی تمام بیہودہ گفتگو اور کل شکوک شبہات کا عجیب لطف کے ساتھ جو اب اپنے نبی کو تعلیم فرماتا ہے کہ جس کے آگے منصف مزاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِحَقٍّ لا وَّیَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ لا فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَا لُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ز وَمَا لَہُمْ مِّنْ النّٰصِرِیْنَ ۔
(جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے رہے ہیں اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں اور ان لوگوں کو قتل کرتے رہے ہیں جو لوگوں میں عدل و راستی کا حکم دینے کے لیے اٹھے۔ ان کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہوگئے اور ان کا کوئی مددگار نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
فہم القرآن
ربط کلام : اسلام چھوڑ کر جس نے کفر کا راستہ اختیار کیا، انبیاء اور نیک لوگوں کو قتل کیا اس کے لیے سزا عذاب الیم ہے۔
اہل کتاب اور کفار کو باربار اسلام کی دعوت دی گئی۔ لیکن انہوں نے تسلیم کرنے کے بجائے انکار اور مخالفت کا راستہ اپنایا بالخصوص یہودیوں کی یہ تاریخ ہے کہ جب بھی ان کے پاس کوئی نبی اور مصلح آیا تو انہوں نے سمع و اطاعت کی بجائے ان کے خلاف سازشوں اور تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ علامہ ابن جریر نے کئی حوالوں کے ساتھ تحریر فرمایا ہے کہ یہودی اس قدر سازشی اور تخریب کار تھے کہ انہوں نے ایک ہی دن میں صبح کے وقت 43 انبیاء کرام (علیہ السلام) اور دن کے پچھلے پہر 170 مذہبی رہنماؤں کو…
Read the full tafseer →21 : اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ ۔ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّیَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْھُمْ بِعَذابٍ اَلِیْمٍ ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ (بےشک جو لوگ کفر کرتے ہیں) سے مراداہل کتاب ہیں۔ جو اپنے آبائو و اجداد کے فعل قتل انبیاء پر راضی تھے۔ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ (اللہ کی آیات کے ساتھ اور انبیاء کو قتل کرتے) بِغَیْرِ حَقٍّ : (ناجائز) یہ َیَقْتُلُوْنَ کا حال مؤکد ہے کیونکہ کسی بھی نبی برحق کا قتل تو بہر حال ناحق ہی ہے۔
(ان کے معاملے کی شناعت بیان کردی کہ خود بھی ناحق سمجھنے کے باوجود…
Read the full tafseer →(اہل کتاب کا رسول اللہ ﷺ سے مناظرہ)
(تفسیر) 21۔:
(ان ۔۔۔۔۔ اللہ بیشک جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں) اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں آیات سے مراد قرآن ہے ۔ (آیت)” الذین یکفرون “ سے مراد یہود و نصاری (آیت)” ویقتلون ۔۔۔۔۔ من الناس “ اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے ہیں اور جو لوگ انصاف کرنے کا حکم کرتے ہیں) حمزہ نے ” یقتلون “ کی جگہ ” یقاتلون الذین یامرون “ ذکر کیا ہے۔
ابن جریج (رح) نے کہا کہ بنی اسرائیل کے انبیاء پر وحی اترتی تھی ان کے پاس کتاب نہیں آئی تھی اس وحی کے مطابق وہ اپنی قوم کو نصیحت کرتے تھے تو انبیاء کرام (علیہم السلام) کو شہید کردیا جاتا ۔ پھر انبیاء کرام (علیہم السلام) کے پیروکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(21 ۔ 22) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو آخری شریعت کی پابندی کی تاکید کا حکم فرمایا تھا کہ اہل کتاب مشرکین مکہ سب کو یہ حکم پہنچا دو اس حکم کی تعمیل میں مدینہ منورہ کے گردونواح میں جو یہود رہتے تھے وہ اکثر حجتیں کیا کرتے تھے رجم کی آیت کے منکر ہوگئے۔ اسی طرح اور طرح طرح کے فساد کرتے تھے جن سے اللہ کے رسول ﷺ کو رنج ہوا کرتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی تسکین فرمائی کہ یہ لوگ جو کچھ برتاؤ اے اللہ کے رسول تمہارے ساتھ کر رہے ہیں ان کی یہ عادت نئی نہیں ہے ان کے بڑے تورات اور انجیل کے احکام پہنچانے والے انبیاء اور ان کے نائب علماء کے ساتھ بڑی بڑی بد سلوکیاں کے ساتھ پیش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
آیت 21-22
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کی خبر دی ہے، عظیم ترین جرائم کے مرتکب ہیں۔ اس سے بڑا جرم کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ کی ان آیات کا انکار کیا جائے جو اس حق کا قطعی ثبوت پیش کرتی ہیں، جس کا انکار کرنے والا انتہائی درجے کے کفر وعناد میں مبتلا ہے۔ وہ اللہ کے نبیوں کو قتل کرتے ہیں جن کا حق اللہ کے حق کے بعد سب سے بڑا ہے، جن کی اطاعت کرنا، ان پر ایمان لانا، ان کا احترام کرنا اور ان کی مدد کرنا، اللہ نے فرض قرار دیا ہے۔ لیکن انہوں نے اس کے بالکل برعکس عمل کیا۔ وہ انصاف کا حکم دینے والوں کو بھی قتل کرتے ہیں۔ انصاف سے مراد نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ہے جو احسان اور خیر خواہی ہے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
قول باری ہے (ان الذین یکفرون بایات اللہ ویقتلون النبیین بغیرحق و یقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس فبشرھم یعذاب الیم، جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں جو خلق خدا میں عدل اور راستی کا حکم دینے کے لیئے اٹھیں ان کو دردناک سزا کی خوشخبری سنادو) حضرت ابوعبیدہ بن الجراح سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ قیامت کے دن کس شخص کی سزاسب سے زیادہ سخت ہوگی ؟ آپ نے فرمایا (رجل قتل نبیا اور رجل ھوب معروف تھی عن منکرء اس شخص کی سزاسب سے سخت ہوگی جس نے کسی نبی کو یا امربالمعروف اور…
Read the full tafseer →45 نبیوں کا قتل بغیر کسی حق کے۔ والعیاذ باللہ : یعنی " نکرہ تحت النفی " عموم کیلئے مفید ہے۔ اور حضرات انبیائے کرام کے قتل کے حق ہونے کی کوئی صورت تو ممکن ہی نہیں کہ وہ پاکیزہ ہستیاں ہر طرح کے جرم اور ہر قسم کے عیب و قصور سے پاک و بری ہوتی ہیں۔ سو " بغیر حق " کے اندر پائے جانے والے اسی مفہوم کو ہم نے اپنے ترجمہ میں واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ والحمدللہ ۔ پس عام طور پر اس موقع پر جو ترجمہ " ناحق " طور پر وغیرہ الفاظ سے کیا جاتا ہے، وہ حقیقت میں اس کا پورا ترجمہ نہیں بنتا۔ کیونکہ ناحق وغیرہ دراصل ترجمہ ہے " بغیر الحق " کا، جبکہ یہاں ارشاد ہے " بِغَیْر حَقٍّ " تنکیر کے ساتھ، اور عربی بلاغت و مفہوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
کفار کے اعمال اور سزا
تشریح : اس سبق میں یہود و نصار ٰی کے بارے میں وضاحت کی جارہی ہے کہ یہ تمام لوگ نہ صرف خود اپنے دشمن ہیں، بلکہ ہر صالح شخص اور نبیوں کے دشمن ہیں، صرف اس لئے کہ وہ نیکی کی ترغیب دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ ان تمام برے لوگوں کو بتا دو کہ ان کے لئے دنیا و آخرت دونوں میں عذاب ہی عذاب ہے۔ اللہ ان سے سخت ناراض ہے اس لیے آخرت میں ان کو درد ناک عذاب دیگا۔ کیونکہ انہوں نے ہمیشہ نبیوں، رسولوں، اور نیک لوگوں کو قتل کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیات 21- 30
اسرارو معارف
ان الذین یکفرون………………لا یظلمون۔
بعض طبائع مسخ ہوجاتے ہیں اور ایسے برباد ہوتے ہیں کہ نسلوں تک میں ان کا اثر پایا جاتا ہے فرمایا یہ معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ آج کے اہل کتاب صرف آپ ﷺ کی نبوت کا ہی انکار نہیں کر رہے بلکہ جن کے یہ متبع ہیں۔ وہ تو انبیاء (علیہم السلام) کو ظلماً قتل بھی کرتے تھے بلکہ جن لوگوں نے انصاف کا حکم دیا یا سچی اور کھری بات کہی تو انہیں بھی قتل کردیا۔
تو اے نبی ! ﷺ ان کو دردناک عذاب کی بشارت یعنی اطلاع دے دی۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ نبی اسرائیل یعنی یہودنے دن کے اول حصہ میں محض اقتدار اور حکومت کے لالچ میں چالیس انبیاء کو قتل کردیا حالانکہ وہ خوب…
Read the full tafseer →8 اس میں اہل کتاب کی مذمت ہے جن کی پوری تاریخ شاہد ہے کہ انہوں نے نہ صرف احکام الہیٰ پر عمل کرن سے انکار کیا بلکہ انبیا اور ان لوگوں کو قتل کرتے رہے ہم میں جنہوں نے کبھی ان کے سامنے دعوت حق پیش کی اور یہ انہتائی تکبر ہے۔ حضرت ابو عبیدہ ؓ بن جراح نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ قیامت کے دن سب سے سخت عذاب کس شخص کو دیا جائے گا آپ ﷺ نے فرمایا : اس کو جس نے کسی نبی یا امر المعروف ونہی عن المنکر کرنے والے شخص کو قتل کیا۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (ابن جریر۔ْ ابن کثیر )
Read the full tafseer →(3:21) یامرون بالقسط۔ جو عدل و انصاف کا حکم کرتے تھے۔
الیم۔ دردناک ۔ الم ۔ درد۔ دکھ۔ تکلیف۔ جمع آلام ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 22
حاجوک (وہ تجھ سے جھگڑتے ہیں (حاجون، ک) اسلمت (میں نے جھکادیا) وجھی (اپنا چہرہ) اتبعن (میری اتباع کی (اتبع، ن، ی) امیین (ان پڑھ، جاہل (امی، ان پڑھ) البلغ (پہنچادینا) عباد (بندے (عبد، بندہ) القسط (انصاف) حبطت (ضائع ہوگئے) ۔
تشریح : آیت نمبر 19 تا 22
سورة آل عمران کی آیت 19 سے 22 تک میں اللہ تعالیٰ نے بالکل واضح طریقے سے بتادیا ہے کہ اسلام کسی قوم ، ذات یا برادری کا نام نہیں اور جو دین نبی کریم ﷺ لے کر تشریف لائے وہ کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے جو آج ہی کہی جارہی ہو بلکہ اللہ کے تمام رسول اور انبیاء کرام (علیہ السلام) مختلف زمانوں میں الگ الگ دین لے کر نہیں آئے سب نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی جناب میں بےادبی کفر ہے اور یہ بھی کہ کفر سے تمام اعمال اکارت ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
[6] اللہ تعالیٰ کی یہ گواہی کتب آسمانی سے بھی ظاہر ہے اور مصنوعات فطرت سے بھی۔ پہلی دلیل نقلی کا حکم رکھتی ہے اور دوسری دلیل عقلی کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
شہید انبیاء :
(ف 1) قساوت قلبی اور شومئی قسمت کی بدترین صورت ہے کہ کوئی شخص اپنے محسن سے دشمن کا ساسلوک کرے ۔ انبیاء (علیہم السلام) نسل انسانی کے سب سے بڑے محسن ہوتے ہیں ، کیونکہ وہ روح وجسم کی تربیت واصلاح کے لئے آتے ہیں اور ہر مصیبت کو برداشت کرنے کے لئے آمادہ ہوتے ہیں ، مگر حق وصداقت اور فلاں و بہبود انسانی سے دستبردار ہونے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہوتے ۔
یہودی ہمیشہ ضدی رہے ہیں ، ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے پہیم اور مسلسل نبی بھیجے ، تاکہ وہ راہ راست پر آجائیں ، مگر وہ وہیں رہے اور ان کے جمود وتساہل میں ذرہ برابر تحریک پیدا نہیں ہوئی بلکہ تمرد ہوگئے اور بعض کو شہید ہی کر ڈالا ، اور اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ف 4 ۔ بلا شبہ دین حق اور پسندیدہ دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی یعنی اہل کتاب نے اسلام کی صداقت سے اختلاف نہیں کیا مگر اس وقت جب کہ ان کو اسلام کی حقانیت اور صداقت کا علم پہنچ چکا ۔ اس علم کے پہنچ جانے کے بعد ان لوگوں نے دین حق سے اختلاف کیا اور یہ اختلاف بھی محض باہم حسد اور ایک دوسرے سے بڑھنے کی خاطر کیا اور جو شخص اللہ کی آیتوں کا انکار کرے گا اور کافرانہ روشن اختیار کرے گا تو یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ بہت جلد اس کا حساب لینے والا ہے پھر اگر اب بھی یہ لوگ اے پیغمبر ! آپ سے کج بحثی اور خواہ مخواہ کی کٹ حجتی کریں تو آپ ان سے فرما دیجئے کہ میں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ف 4۔ دنیا میں غارت ہونا یہ کہ ان کے ساتھ معاملہ اہل اسلام کا سا نہ ہوگا، اور آخرت میں یہ کہ ان کی مغفرت نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →اللہ سے مقابلہ کرنے والوں کو جان لینا چاہیے کہ مقابلہ کس سے ہے ؟
60: کتاب الٰہی خصوصاً قرآن کریم سے یا اس کے کسی جز سے انکار یہ سب ” کفربایت اللہ “ ہے۔ جو لوگ اتنے چھوٹ ہیں کہ انہوں نے کتاب اللہ کا انکار کردیا ہے ان سے کیا توقع ہو سکتی ہے۔ اب ان کا مقابلہ گویا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ بس ان کو خود ہی جان لینا چاہیے کہ اللہ سے مقابلہ کر کے کیا وہ کامیاب ہو سکتے ہیں ؟ جو خود ہی موت کو ماسی کہے اس کو رنے ہی دو ۔
ایسے ہی تو لوگ تھے جو انبیاء اللہ تک کے قتل کے مرتکب ہوئے اور ان کو بےدریغ قتل کیا۔ وہ ان ہی کے آباء تھے اور آج یہ بھی کیا کر رہے ہیں ؟ کہ جو لوگ حق و صداقت کا حکم دینے والے ہیں یہ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
In the earlier part of the Surah, the text mostly beamed at the Christians. In verse 20, 'those who have been given the Book' includes both Christians and Jews. Now, verses 21-22 here, talk about some of the unusual doings of Jews. Ruh al-Ma'ani while commenting on this verse reports a hadith from the Holy Prophet ﷺ as narrated by Ibn Abi Hatim ؓ . While explaining this verse, he said that Bani Isra'i1 slew forty three prophets at one and the same time. One hundred and seventy pious, elders stood up asking them to uphold justice. They slew them as well on the same day. (Bayan a1-Qura'n)
In…
Read the full tafseer →19. This is a sarcastic remark. Its purpose is to bring home to them that the misdeeds about which they are so jubilant, and which they regard as their proud achievements, will ultimately lead them to a painful end.
Read the full tafseer →