Explained with ayahs 21–22
انبیاء کے قاتل بنو اسرائیل
یہاں ان اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے جو گناہ اور حرام کام کرتے رہتے تھے اور اللہ کی پہلی اور بعد کی باتوں کو جو اس نے اپنے رسولوں کے ذریعہ پہنچائیں جھٹلاتے رہتے تھے، اتنا ہی نہیں بلکہ پیغمبروں کو مار ڈالتے بلکہ اس قدر سرکش تھے کہ جو لوگ انہیں عدل و انصاف کی بات کہیں انہیں بےدریغ تہ تیغ کردیا کرتے تھے، حدیث میں ہے حق کو نہ ماننا اور حق والوں کو ذلیل جاننا یہی کبر و غرور ہے کہ مسند ابو حاتم میں ہے حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب کسے ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جو کسی نبی کو مار ڈالے یا کسی ایسے شخص کو جو بھلائی کا بتانے والا اور…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 20
یعنی انہوں نے اپنی قوتیں اور کوششیں ایسی راہ میں صرف کی ہیں جس کا نتیجہ دنیا میں بھی خراب ہے اور آخرت میں بھی خراب۔
سورة اٰلِ عِمْرٰن 21
یعنی کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جو ان کی اس غلط سعی و عمل کو سپھل بنا سکے، یا کم از کم بد انجامی ہی سے بچا سکے۔ جن جن قوتوں پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں کہ وہ دنیا میں یا آخرت میں یا دونوں جگہ ان کے کام آئیں گی، ان میں سے فی الواقع کوئی بھی ان کی مددگار ثابت نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
خلاصہ تفسیر
ربط آیات
شروع سورة میں کلام کا زیادہ رخ نصاری کی طرف تھا، پھر آیت بالا میں (الذین اوتوا الکتاب) کا عنوان نصاری اور یہود دونوں کو شامل تھا، اب ان آیات میں یہود کے بعض خاص احوال کا بیان ہے، روح المعانی میں بروایت ابن ابی حاتم ؒ اس آیت کی تفسیر میں خود حضور ﷺ سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل نے تینتالیس (43) نبیوں کو ایک وقت میں قتل کیا، ان کی نصیحت کے لئے ایک سو ستر (170) بزرگ کھڑے ہوئے، اسی دن ان کا بھی کام تمام کردیا۔ (بیان القرآن)
بیشک جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ (جیسے یہود کہ انجیل اور قرآن کو نہیں مانتے تھے) اور قتل کرتے ہیں پیغمبروں کو (اور وہ قتل کرنا خود ان کے…
Read the full tafseer →حبط عمل کی حقیقت : حبط عمل سے مطلب ہے کوششوں اور محنتوں کا اکارت ہوجانا۔ ظاہر ہے کہ وہ ساری دینداریاں جو سیدنا مسیح کے الفاظ میں، مچھر کو چھاننے اور اونٹ کو نگلنے کے مترادف تھیں، ان کے آخرت میں نتیجہ خیز ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ رہیں وہ کوششیں اور تدبیریں جو وہ قرآن و اسلام یا دوسرے لفظوں میں اللہ تعالیٰ کے نظام عدل و قسط کی مخالفت میں صرف کر رہے تھے تو اس آیت نے ان کے بھی اکارت ہونے کی پیشین گوئی کردی اس لیے کہ اس آیت میں دنیا اور آخرت دونوں میں ان کے اعمال کے اکارت ہونے کا ذکر ہوا ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ اس ذلت و نامرادی سے بچانے میں ان کا کوئی مددگار ان کی کوئی مدد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
23۔ 1 ان اہل کتاب سے مراد مدینے کے یہودی ہیں جن کی اکثریت قبول اسلام سے محروم رہی اور وہ اسلام مسلمانوں اور نبی ﷺ کے خلاف مکر و سازشوں میں مصروف رہے تاآنکہ ان کے دو قبیلے جلا وطن اور ایک قبیلہ قتل کردیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–26
6: جب غزوہ احزاب کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے پیشینگوئی فرمائی تھی کہ روم اور ایران کی سلطنتیں مسلمانوں کے قبضے میں آجائیں گی تو کفار نے بڑا مذاق اڑایا کہ ان لوگوں کو اپنے دفاع کے لئے خندق کھودنی پڑرہی ہے اور ان پر فاقے گزر رہے ہیں مگر دعوے یہ ہیں کہ یہ روم اور ایران فتح کرلیں گے، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں مسلمانوں کو یہ دعا تلقین فرما کر ایک لطیف پیرائے میں ان کا جواب دے دیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
یہ ہے ان لوگوں کا حتمی انجام ‘ ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا ‘ یہ عذاب دنیا وآخرت دونوں میں ہوگا ۔ یہاں بھی وہ اس کی توقع کریں اور آخرت میں تو یقینی ہے ہی………دنیا اور آخرت میں ان کے اعمال باطل ہوں گے ‘ بےاثر ہوں گے ۔ یہ عجیب تصویر کشی ہے ‘ حبوط کا لغوی معنی ہے ۔ کسی مویشی کا زہریلی گھاس چر کر پھول ۔ بظاہر تو اس صورت میں ایک مویشی خوب موٹاتازہ ہوجاتا ہے ‘ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آخر کار برباد اور ہلاک ہوجاتا ہے ‘ یہاں بظاہر تو ان کے بڑے بڑے کارنامے ہیں لیکن قیامت میں ان کا کوئی فائدہ نہ ہوگا اور نہ ان کا کوئی حامی و مددگار ہوگا۔
قرآن کریم نے آیات الٰہی کا انکار کے ساتھ ساتھ انبیاء (علیہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
6 حدیث میں ہے کہ " بنی اسرائیل " نے ایک دن میں تینتالیس نبی اور ایک سو ستّر یا ایک سو بارہ صالحین کو شہید کیا۔ یہاں نصاریٰ نجران اور دوسرے کفار کو سنایا جارہا ہے کہ احکام الہٰی سے منکر ہو کر انبیاء اور انصاف پسند ناصحین سے مقابلہ کرنا اور پرلے درجہ کی شقاوت و سنگدلی سے ان کے خون میں ہاتھ رنگنا معمولی چیز نہیں۔ ایسے لوگ سخت دردناک عذاب کے مستحق اور دونوں جہان کی کامیابی سے محروم ہیں۔ ان کی محنت برباد اور ان کی کوششیں اکارت ہونگی اور دنیا و آخرت میں جب سزا ملے گی تو کوئی بچانے والا اور مدد کرنے والا نہ ملے گا۔
Read the full tafseer →آیت 22 اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِز ۔
قریش کو یہ زعم تھا کہ ہم خدام کعبہ ہیں اور ہمارے پاس جو یہ لوگ حج کرنے آتے ہیں ہم ان کو کھانا کھلاتے ہیں ‘ پانی پلاتے ہیں ‘ ہماری ان خدمات کے عوض ہمیں بخش دیا جائے گا۔ فرمایا وہ سارے اعمال حبط ہوجائیں گے۔ اگر تو صحیح صحیح پورے دین کو اختیار کرو گے تو ٹھیک ہے ‘ ورنہ چاہے خیرات اور بھلائی کے بڑے سے بڑے کام کیے ہوں ‘ لوگوں کی فلاح و بہبود کے ادارے قائم کردیے ہوں ‘ اللہ کی نگاہ میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
25 انبیاء اور صالحین کے قتل ناحق کا کام دور نبوی کے یہود نے نہیں کیا تھا بلکہ ان کے اسلاف نے کیا تھا اور یہ واقعات اتنے مشہور و معروف تھے کہ کسی کو مجال انکار نہ تھی۔ پھر چونکہ دور نبوی کے یہودی اپنے اسلاف کے ایسے کارناموں پر راضی اور خوش تھے۔ لہذا قرآن نے بجا طور پر انہیں مخاطب کیا ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے تینتالیس (43) پیغمبروں کو ایک ہی دن صبح کے وقت قتل کیا یہ کام بنی اسرائیل کے علماء اپنی حکومت کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعہ سرانجام دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو حکومت کے ذریعہ سولی پر چڑھانے کی مذموم کوشش کی تھی۔ جب یہ لوگ اتنے انبیاء کو قتل…
Read the full tafseer →57 ۔ (سزا کے وقت کہ انہیں عذاب سے چھڑا لے۔ یا اس میں کچھ تخفیف ہی کرادے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ذَالِکَ بِأَنُّھُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ ، یعنی اس کتاب کے ماننے سے گریز اور روگردانی کی وجہ سے ان کا یہ زعم باطل ہے کہ اول تو وہ جہنم میں جائیں گے ہی نہیں اور اگر گئے بھی تو صرف چند دن کے لیے جائیں گے، ان من گھڑت باتوں نے ان کو دھوکے اور فریب میں ڈال رکھا ہے، یعنی یہ لوگ اپنے آپ کو خدا چہیتا سمجھ بیٹھے ہیں جس کی وجہ سے یہ اس خیال خام میں مبتلا ہیں کہ ہم خواہ کچھ بھی کریں بہر حال جنت ہماری ہے ہم اہل ایمان ہیں اور ہم فلاں کی اولاد ہیں اور فلاں کی امت ہیں آگ کی کیا مجال کہ ہم کو چھو بھی جائے اور اگر بالفرض چھوئے گی بھی تو بس چند روز کے لیے گناہوں کی…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ : یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال رائیگاں ہوگئے۔
فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ : پس ان کے لیے دنیا میں لعنت اور رسوائی ہے اور آخرت میں عذاب۔
وَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ : اور ان کا کوئی حمایتی نہیں کہ اعمال کو برباد ہونے سے بچا لے اور عذاب کو دفع کرسکے۔
ابن المنذر، ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ کی روایت سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ یہودیوں کے مدرسہ میں یہود کی ایک جماعت کے پاس تشریف لے گئے اور ان کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی۔ نعیم بن عمرو اور حارث بن زید نے پوچھا محمد ﷺ تم کس دین پر ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ابراہیم…
Read the full tafseer →(22) ایسے لوگوں کی سب نیکیاں ضائع ہوگئیں اور ان کو آخرت میں بھی اس پر کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ خیبر والوں میں سے بنی قریضہ اور بنی نظیر نے زانی کے سنگسار کرنے سے انکار کیا تھا، اس کا اللہ تعالیٰ ذکر فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ۔۔ : اس میں اہل کتاب کی مذمت ہے، جن کی پوری تاریخ شاہد ہے کہ انھوں نے نہ صرف احکام الٰہی پر عمل کرنے سے انکار کیا بلکہ انبیاء اور ان لوگوں کو قتل کرتے رہے جنھوں نے کبھی ان کے سامنے دعوت حق پیش کی اور یہ تکبر کی آخری حد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس شخص کے دل میں ذرہ برابر کبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ ایک آدمی نے عرض کیا : ”ایک آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا خوبصورت ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر تو حق کے انکار اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔“ [ مسلم،
الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
آیت نمبر : 21 تا 22۔
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین یکفرون بایت اللہ ویقتلون النبین “۔ ابو العباس المبرد نے کہا ہے : بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ تھے ان کے پاس انبیاء (علیہم السلام) انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کے لئے آئے تو انہوں نے قتل کردیا اور پھر ان کے بعد مومنین میں سے کچھ لوگ اٹھے اور انہوں نے اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے انہیں قتل کردیا اور پھر ان کے بعد مومنین میں سے کچھ لوگ اٹھے، اور انہوں نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے انہیں بھی قتل کردیا، پس انہیں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور اسی طرح معقل بن ابی مسکین نے کہا ہے انبیاء علیہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(1) ابن اسحق، ابن جریر، ابن المنذر، اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیت المدارس میں یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس تشریف لے گئے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا تو نعمان بن عمر اور حارث بن زید نے کہا اے محمد ﷺ آپ کون سے دین پر ہیں تب آپ نے فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) کے دین وملت پر تو انہوں نے کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) تو یہودی تھے رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا تم دونوں تورات شریف لے آؤ وہ ہمارے اور تمہارے درمیان ہے (جو فیصلہ کرے گی) تو انہوں نے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یدعون الی کتب اللہ…
Read the full tafseer →[اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ : یہ وہ لوگ ہیں ] [حَبِطَتْ : اکارت ہوئے ] [اَعْمَالُہُمْ : جن کے اعمال ] [فِی الدُّنْیَا : دنیا میں ] [وَالْاٰخِرَۃِ : اور آخرت میں ] [ وَمَا لَہُمْ : اور ان کے لیے نہیں ہے ] [مِّنْ نّٰصِرِیْنَ : کوئی بھی مدد کرنے والا ]
Read the full tafseer →کافروں کے اعمال اکارت ہیں :
پھر فرمایا (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ مَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ) کہ ان لوگوں کے سارے اعمال دنیا و آخرت میں اکارت چلے گئے دنیا میں ان کے جان و مال محفوظ نہ رہے اور کسی طرح کی مدح اور تعریف کے مستحق نہ ہوئے اور آخرت میں بھی ان کے اعمال نے کچھ کام نہ دیا کیونکہ ان اعمال کا کوئی ثواب نہ ملا اور ان کے اعمال عذاب دفع کرنے کا ذریعہ نہ بن سکے، آخرت میں ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا جو کسی طرح کی مدد یا سفارش کرسکے۔
جو اعمال برے ہوں ان پر تو ثواب ملنے کا کوئی سوال ہی نہیں جو اعمال نیکی کے نام سے کیے ہوں ان کے حبط ہونے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
ذکر بعض احوال شنیعہ یہود بےبہود۔
قال تعالی، ان لذین یکفرون بایت اللہ ویقتلون النبیبن۔۔۔ الی۔۔۔ لایظلمون۔
شروع سورت میں روئے سخن زیادہ تر نصاری کی طرف تھا اور گزشتہ آیات میں اہل کتاب کے عنوان سے یہود اور نصاری دونوں کو خطاب تھا اب ان آیات میں خاص یہود کے بعض افعال کی متعدد آیات میں یہود کا قاتل انبیاء ہونا بیان ہوا ہے اس لیے اس آیت سے خصوصیت کے ساتھ یہود کو خطاب شروع ہوتا ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء کو دیدہ و دانستہ جان بوجھ کر ناحق قتل کرتے ہیں یعنی خود بھی جانتے ہیں کہ ہمارا یہ فعل سراسر ناحق ہے مگر حق کی عداوت اور دنیا کی محبت میں اتنے اندھے…
Read the full tafseer →32:۔ اُولئِکَ کا اشارہ مذکورہ صفات شنیعہ (کفر بآیات اللہ، قتل انبیاء (علیہم السلام) وقتل آمرین بالقسط) کے حاملین کی طرف ہے۔ اور دنیا میں اعمال کے بےنتیجہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں وہ ان تمام حقوق سے محروم رہیں جن کا ایک مسلمان مستحق ہوتا ہے۔ مثلاً مال وجان کی حفاظت اور استحقاق مدح وغیرہ اور آخرت میں اعمال کے ضائع ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ آخرت میں ان کے اعمال بےاثر ثابت ہونگے۔ اور دفع عذاب اور جلب ثواب کا سبب نہیں بن سکیں گے۔ ای اولئک المتصفون بتلک الصفات الشنیعۃ الذین بطلت اعمالھم وسقطت عن حیز الاعتبار وخدلت عن الثمره فی الدنیا حیث لم تحقن دمائھم واموالھم ولم یستحقوا بھا مدحا وثناء وفی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی ہٹ دھرمی کا ذکر کیا تھا۔ کہ اہل کتاب نے دین میں اختلاف نہیں کیا مگر علم آجانے کے بعد محض سرکشی ، حسد ، عناد ، اور بغض کی وجہ سے انہوں نے دنیا کے جاہ و مال ، ریاست اور اقتدار کی خاطر دین حق کو قبول نہ کیا نیز یہ بھی بیان ہوا کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرے گا۔ وہ اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتا۔ اس کے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ وہ اللہ کے سچے دین کو مان لے۔ صحیح عقیدہ اختیار کرلے اور خدا تعالیٰ کا مطیع و فرمانبردار ہوجائے۔
آیات سے انکار :
ان آیات میں بھی اہل کتاب کا ہی ذکر ہے۔ فرمایا ان الذین یکفرون بایات اللہ ، جو لوگ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ 0 ۡوَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ 22
حبط
وحَبْط العمل علی أضرب :
أحدها :
أن تکون الأعمال دنیوية فلا تغني في القیامة غناء، كما أشار إليه بقوله : وَقَدِمْنا إِلى ما عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْناهُ هَباءً مَنْثُوراً [ الفرقان/ 23]
والثاني :
أن تکون أعمالا أخروية، لکن لم يقصد بها صاحبها وجه اللہ تعالی، كما روي :
«أنه يؤتی يوم القیامة برجل فيقال له : بم کان اشتغالک ؟ قال : بقراءة القرآن، فيقال له : قد کنت تقرأ ليقال : هو قارئ، وقد قيل ذلك، فيؤمر به إلى النار» «1» .
والثالث :
أن تکون أعمالا صالحة، ولکن بإزائها سيئات توفي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ترکیب : ومن اتبعن من موضع رفع میں ہے عطف ہے اسلمت کی ‘ ت پر واتبعن کی ی حذف ہوئی ہے رؤس الآت کی مشابہت سے اور قائم بھی کی جاتی ہے کیونکہ اصل ہے۔ الذین موصول وصلہ مع معطوف اسم ان فبشرھم اس کی خبر اوراس پر اس لئے دخل ہوئی کہ الذین کا صلہ فعل تھا تاکہ معلوم ہو یہ بشارت جزائے کفر ہے اور ان اس کو مانع نہیں۔
تفسیر : جبکہ بدلیل قوی ثابت کردیا گیا کہ دین برحق عند اللہ اسلام ہے اور جو کچھ اختلافات لوگوں نے پیدا کئے ہیں۔ وہ ضد اور تعصب سے ہیں اس پر بھی ناانصاف حجت کئے چلے جاتے ہیں تو اب کی تمام بیہودہ گفتگو اور کل شکوک شبہات کا عجیب لطف کے ساتھ جو اب اپنے نبی کو تعلیم فرماتا ہے کہ جس کے آگے منصف مزاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِحَقٍّ لا وَّیَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ لا فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَا لُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ز وَمَا لَہُمْ مِّنْ النّٰصِرِیْنَ ۔
(جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے رہے ہیں اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں اور ان لوگوں کو قتل کرتے رہے ہیں جو لوگوں میں عدل و راستی کا حکم دینے کے لیے اٹھے۔ ان کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہوگئے اور ان کا کوئی مددگار نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب ہی پہلے کفر کرنے والے ہیں ان کے کفر کی بنیاد ان کا من ساختہ عقیدہ ہے کہ ہم چند دن جہنم میں جائیں گے حالانکہ وہاں ایک کے اعمال دوسرے کے لیے فائدہ مند نہیں ہوں گے۔
اینبی ﷺ ! کیا آپ نے اہل کتاب کے رویّے پر غور نہیں فرمایا کہ جب بھی انہیں تنازعات کا فیصلہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے تو بلاوا سنتے ہی ان میں ایک گروہ سراسر منہ پھیر لیتا ہے۔ ایسا اس لیے کرتا ہے کہ ان کا دعو ٰی ہے کہ ہمیں جہنم کی آگ مَس نہیں کرے گی سوائے چند دنوں کے جن میں ہمارے بزرگوں نے بچھڑے کی عبادت کی تھی۔ دراصل ان کا خود ساختہ دین ہی ان کے لیے فریب نفس اور ہدایت کے لیے…
Read the full tafseer →22: اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰ خِرَۃِ وَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۔ (یہ وہی لوگ ہیں جن کے اعمال ضائع ہوگئے۔ دنیا اور آخرت میں) پس دنیا میں تو لعنت و رسوائی انکا مقدر ہے۔ اور آخرت میں عذاب ہے۔ وَمَالَہُمْ مِنْ نّٰصِرِیْنَ (اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا) ۔ جو بربادی اعمال اور گرفتاری عذاب سے بچا سکے نٰصِرِیْنَ کو آیات کے وقوف کی رعایت سے جمع لائے ورنہ واحد نکرہ نفی کے عموم کو ظاہر کرتا ہے۔
Read the full tafseer →22۔ (اولئک ۔۔۔۔۔ ناصرین، یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال غارت ہوگئے دنیا میں اور آخرت میں ان کا کوئی حامی اور مددگار نہ ہوگا) دنیا میں اعمال کے باطل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ قبول نہیں کیے جائیں گے اور آخرت میں اس کا کوئی بدلہ نہیں دیا جائے گا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(21 ۔ 22) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو آخری شریعت کی پابندی کی تاکید کا حکم فرمایا تھا کہ اہل کتاب مشرکین مکہ سب کو یہ حکم پہنچا دو اس حکم کی تعمیل میں مدینہ منورہ کے گردونواح میں جو یہود رہتے تھے وہ اکثر حجتیں کیا کرتے تھے رجم کی آیت کے منکر ہوگئے۔ اسی طرح اور طرح طرح کے فساد کرتے تھے جن سے اللہ کے رسول ﷺ کو رنج ہوا کرتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی تسکین فرمائی کہ یہ لوگ جو کچھ برتاؤ اے اللہ کے رسول تمہارے ساتھ کر رہے ہیں ان کی یہ عادت نئی نہیں ہے ان کے بڑے تورات اور انجیل کے احکام پہنچانے والے انبیاء اور ان کے نائب علماء کے ساتھ بڑی بڑی بد سلوکیاں کے ساتھ پیش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
آیت 21-22
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کی خبر دی ہے، عظیم ترین جرائم کے مرتکب ہیں۔ اس سے بڑا جرم کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ کی ان آیات کا انکار کیا جائے جو اس حق کا قطعی ثبوت پیش کرتی ہیں، جس کا انکار کرنے والا انتہائی درجے کے کفر وعناد میں مبتلا ہے۔ وہ اللہ کے نبیوں کو قتل کرتے ہیں جن کا حق اللہ کے حق کے بعد سب سے بڑا ہے، جن کی اطاعت کرنا، ان پر ایمان لانا، ان کا احترام کرنا اور ان کی مدد کرنا، اللہ نے فرض قرار دیا ہے۔ لیکن انہوں نے اس کے بالکل برعکس عمل کیا۔ وہ انصاف کا حکم دینے والوں کو بھی قتل کرتے ہیں۔ انصاف سے مراد نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ہے جو احسان اور خیر خواہی ہے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
حضور کی خصوصیات گذشتہ الہامی کتب میں تھیں
قول باری ہے (الم ترا کی الذین او توانصییا من الکتب یدعون الی کتاب اللہ لیحکم بینھم ثم یتولیفریق منھم وھم معرضون، آپ نے دیکھا نہیں کہ جن لوگوں کو کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ ملا ہے۔ ان کا حال کیا ہے ؟ انہیں جب کتاب الہی کی طرف بلایاجاتا ہے تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق اس سے پہلوتہی کرتا ہے اور اس فیصلے کی طرف آنے سے منہ پھیرجاتا ہے) حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ اس سے یہود مراد ہیں۔ انہیں تورات کی طرف بلا گیا جو اللہ کی کتاب ہے جس میں دوسری تمام آسمانی کتابوں کی طرح حضور ﷺ کے متعلق بشارت موجود ہے۔ اللہ نے انہیں حضور ﷺ کی نبوت کی صداقت…
Read the full tafseer →48 انبیاء و صلحاء کے قاتلوں کے سب عمل اکارت : کہ دنیا میں جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی جو نعمت انکو حاصل تھی اس سے یہ لوگ محروم اور مباح الدم ہوگئے، اور ذلت و خواری کے مستحق بن گئے۔ اور آخرت میں دوزخ کی آگ کا ایندھن بن گئے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرات انبیاء و صلحاء کے قتل کا جرم کس قدر سنگین اور کتنا ہولناک جرم ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ ان لوگوں کے عمل دو قسم کے تھے۔ ایک وہ جن کو یہ لوگ اپنے طور پر نیکی اور ثواب کا کام سمجھ کر رہے تھے کہ یہ ان کو آخرت میں کام آئیں گے۔ سو ان کے ایسے کاموں کے آخرت میں ان کے کام آنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ وہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
کفار کے اعمال اور سزا
تشریح : اس سبق میں یہود و نصار ٰی کے بارے میں وضاحت کی جارہی ہے کہ یہ تمام لوگ نہ صرف خود اپنے دشمن ہیں، بلکہ ہر صالح شخص اور نبیوں کے دشمن ہیں، صرف اس لئے کہ وہ نیکی کی ترغیب دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ ان تمام برے لوگوں کو بتا دو کہ ان کے لئے دنیا و آخرت دونوں میں عذاب ہی عذاب ہے۔ اللہ ان سے سخت ناراض ہے اس لیے آخرت میں ان کو درد ناک عذاب دیگا۔ کیونکہ انہوں نے ہمیشہ نبیوں، رسولوں، اور نیک لوگوں کو قتل کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیات 21- 30
اسرارو معارف
ان الذین یکفرون………………لا یظلمون۔
بعض طبائع مسخ ہوجاتے ہیں اور ایسے برباد ہوتے ہیں کہ نسلوں تک میں ان کا اثر پایا جاتا ہے فرمایا یہ معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ آج کے اہل کتاب صرف آپ ﷺ کی نبوت کا ہی انکار نہیں کر رہے بلکہ جن کے یہ متبع ہیں۔ وہ تو انبیاء (علیہم السلام) کو ظلماً قتل بھی کرتے تھے بلکہ جن لوگوں نے انصاف کا حکم دیا یا سچی اور کھری بات کہی تو انہیں بھی قتل کردیا۔
تو اے نبی ! ﷺ ان کو دردناک عذاب کی بشارت یعنی اطلاع دے دی۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ نبی اسرائیل یعنی یہودنے دن کے اول حصہ میں محض اقتدار اور حکومت کے لالچ میں چالیس انبیاء کو قتل کردیا حالانکہ وہ خوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 1 ۔ اس آیت میں کتاب اللہ سے مراد تو رات وانجیل ہے اور مطلب یہ ہے کہ جن انھیں خود ان کی کتاب کو طرف دعوت دی جاتی ہے کہ چلو انہی کو حکم مان لو اور بتا و کہ ان میں آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے یا نہیں تو یہ اس سے بھی پہلو تہی کر جاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں جیسے ان کو کسی چیز کا علم ہی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(3:22) حبطت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ وہ اکارت ہوگئے۔ وہ مٹ گئے۔ وہ ضائع ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 22
حاجوک (وہ تجھ سے جھگڑتے ہیں (حاجون، ک) اسلمت (میں نے جھکادیا) وجھی (اپنا چہرہ) اتبعن (میری اتباع کی (اتبع، ن، ی) امیین (ان پڑھ، جاہل (امی، ان پڑھ) البلغ (پہنچادینا) عباد (بندے (عبد، بندہ) القسط (انصاف) حبطت (ضائع ہوگئے) ۔
تشریح : آیت نمبر 19 تا 22
سورة آل عمران کی آیت 19 سے 22 تک میں اللہ تعالیٰ نے بالکل واضح طریقے سے بتادیا ہے کہ اسلام کسی قوم ، ذات یا برادری کا نام نہیں اور جو دین نبی کریم ﷺ لے کر تشریف لائے وہ کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے جو آج ہی کہی جارہی ہو بلکہ اللہ کے تمام رسول اور انبیاء کرام (علیہ السلام) مختلف زمانوں میں الگ الگ دین لے کر نہیں آئے سب نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی جناب میں بےادبی کفر ہے اور یہ بھی کہ کفر سے تمام اعمال اکارت ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
[6] اللہ تعالیٰ کی یہ گواہی کتب آسمانی سے بھی ظاہر ہے اور مصنوعات فطرت سے بھی۔ پہلی دلیل نقلی کا حکم رکھتی ہے اور دوسری دلیل عقلی کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
یہودیوں کا غرور مذہبی :
(ف 1) یہودیوں کو قرآن مجید کی طرف دعوت دی جاتی اور کہا کہ اس چشمہ فیض سے استفادہ کرو تو وہ اعتراض کرتے رہو کہتے کہ جہنم میں اگر جائیں گے بھی تو چند روز کے لئے ، اس لئے میں کسی دوسرے مذہب کو قبول کرنے کی ضرورت ہی نہیں ۔ فرمایا ، یہ فریب نفس ہے ، اللہ تعالیٰ کے ہاں بخشش ومغفرت ہی کے لئے جو حق کو قبول کرتا ہے اور نیک رہتا ہے ، صرف یہودی یا عیسائی کہلانا کافی نہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ف 1۔ بلا شبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی آیات اور اس کی ہدایت کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کو ناحق جانتے ہوئے قتل کر ڈالتے ہیں اور خدا کی مخلوق میں سے جو لوگ عدل و راستی اور حق و انصاف کی تعلیم و ترغیب دیتے ہیں ان کو بھی قتل کر ڈالتے ہیں ۔ سوائے پیغمبر ایسے لوگوں کو درد ناک عذاب کی خوش خبری دے دیجئے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا و آخرت دونوں میں ضائع ہوگئے اور ان کے تمام اعمال صالحہ غارت ہوگئے اور ان کا کوئی حامی و مدد گار نہ ہوگا یعنی عذاب کے وقت ۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ خصائل مذکورہ بنی اسرائیل میں سے فرقہ یہود کے ہیں اور اگرچہ یہ کام سابقہ لوگوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ف 4۔ دنیا میں غارت ہونا یہ کہ ان کے ساتھ معاملہ اہل اسلام کا سا نہ ہوگا، اور آخرت میں یہ کہ ان کی مغفرت نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہوگئے۔ کیوں ؟ اس لیے کہ انہوں نے اپنی قوتیں اور کوششیں ایسی راہ میں صرف کی ہیں جس کا نتیجہ دنیا میں بھی خراب ہے اور آخرت میں بھی خراب۔ ان کا مددگار کوئی نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جو ان کے اس غلط کو صحیح بنا دے یا کماز کم بد انجامی سے بچا سکے۔ جن جن قوتوں پر وہ بھروسہ رکھتے تھے کہ وہ دنیا میں یا آخرت میں یا دونوں جگہوں میں انکے کام آئیں گے ان میں سے فی الواقع کوئی بھی ان کی مددگار ثابت نہ ہوگی کیونکہ یہ طے شدہ بات ہے اور طے بھی کس نے کی ؟ خود اللہ تعالیٰ نے اس لیے اس میں ترمیم نہ کی جاسکتی ہے نہ کرائی جاسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
In the earlier part of the Surah, the text mostly beamed at the Christians. In verse 20, 'those who have been given the Book' includes both Christians and Jews. Now, verses 21-22 here, talk about some of the unusual doings of Jews. Ruh al-Ma'ani while commenting on this verse reports a hadith from the Holy Prophet ﷺ as narrated by Ibn Abi Hatim ؓ . While explaining this verse, he said that Bani Isra'i1 slew forty three prophets at one and the same time. One hundred and seventy pious, elders stood up asking them to uphold justice. They slew them as well on the same day. (Bayan a1-Qura'n)
In…
Read the full tafseer →20. They have spent their efforts and energies in a manner leading to catastrophic results in this world and the Next.
21. No power can make these misdeeds either bear good fruit or prevent them bearing evil fruit. The powers upon which the wrong-doers rely for support in this world and in the World to Come will not be of any help to them.
Read the full tafseer →