Explained with ayahs 23–25
جھوٹے دعوے
یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ اپنے اس دعوے میں بھی جھوٹے ہیں کہ ان کا توراۃ و انجیل پر ایمان ہے کیونکہ ان کتابوں کی ہدایت کے مطابق جب انہیں اس نبی آخرالزمان کی اطاعت کی طرف بلایا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر کے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں، اس سے ان کی اعلیٰ درجہ کی سرکشی تکبر اور عناد و مخالفت ظاہر ہو رہی ہے، اس مخالفت حق اور بےجا سرکشی پر انہیں اس چیز نے دلیر کردیا ہے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں نہ ہونے کے باوجود اپنی طرف سے جھوٹ بنا کر کے یہ بات بنا لی ہے کہ ہم تو صرف چند روز ہی آگ میں رہیں گے یعنی فقط سات روز، دنیا کے حساب کے ہر ہزار سال کے پیچھے ایک دن، اس کی پوری تفسیر…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 22
یعنی ان سے کہا جاتا ہے کہ خدائی کتاب کو آخری سند مان لو، اس کے فیصلے کے آگے سر جھکا دو اور جو کچھ اس کی رو سے حق ثابت ہو، اسے حق اور جو اس کی رو سے باطل ثابت ہو، اسے باطل تسلیم کرلو۔ واضح رہے کہ اس مقام پر خدا کی کتاب سے مراد تورات و انجیل ہے اور ”کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ پانے والوں“ سے مراد یہود و نصاریٰ کے علما ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
(اے محمد ﷺ کیا آپ نے ایسے لوگ نہیں دیکھے جن کو کتاب (سماوی یعنی توراۃ) کا ایک (کافی) حصہ دیا گیا (کہ اگر ہدایت کے طالب ہوتے تو وہ حصہ اس غرض کی تکمیل کے لئے کافی تھا) اور اسی کتاب اللہ کی طرف اس غرض سے ان کو بلایا بھی جاتا ہے کہ وہ ان کے درمیان (مذہبی اختلاف کا) فیصلہ کردے پھر (بھی) ان میں سے بعض لوگ انحراف کرتے ہیں بےرخی کرتے ہوئے (اور) یہ (بےاعتنائی) اس سبب سے ہے کہ وہ لوگ یوں کہتے ہیں (اور یہی ان کا اعتقاد ہے) کہ ہم کو صرف گنتی کے تھوڑے دنوں تک دوزخ کی آگ لگے گی (پھر مغفرت ہوجاوے گی) اور ان کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ان کی تراشی ہوئی باتوں نے (جیسے اسی تراشے ہوئے عقیدہ نے ان کو دھوکہ دیا کہ…
Read the full tafseer →”اَلَمْ تَرَ“ کے خطاب کی نوعیت : ”اَلَمْ تَرَ“ کے خطاب پر ہم سورة بقرہ میں لکھ چکے ہیں۔ ہر جگہ اس کو واحد کے معنی میں لینا صحیح نہیں ہے، اس کا خطاب جماعت سے بھی ہوتا ہے، گویا فرداً فرداً جماعت کا ہر فرد مخاطب ہوتا ہے۔ پھر یہ محض ایک سادہ خطاب ہی نہیں ہے بلکہ یہ فی الجملہ اظہار تعجب کا مفہوم بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔ ”نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ“ سے مراد تورات اور انجیل وغیرہ ہیں اور کتاب اللہ سے مراد قرآن مجید ہے۔ جس طرح پچھلے آسمانی مذاہب اور شریعت اسلامی میں نسبت جز اور کل کی ہے اسی طرح دوسرے آسمانی صحیفوں اور قرآن میں بھی نسبت جز اور کل کی ہے۔ اللہ کی شریعت انسانی ذہن اور انسانی معاشرہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
23۔ 1 ان اہل کتاب سے مراد مدینے کے یہودی ہیں جن کی اکثریت قبول اسلام سے محروم رہی اور وہ اسلام مسلمانوں اور نبی ﷺ کے خلاف مکر و سازشوں میں مصروف رہے تاآنکہ ان کے دو قبیلے جلا وطن اور ایک قبیلہ قتل کردیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–26
6: جب غزوہ احزاب کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے پیشینگوئی فرمائی تھی کہ روم اور ایران کی سلطنتیں مسلمانوں کے قبضے میں آجائیں گی تو کفار نے بڑا مذاق اڑایا کہ ان لوگوں کو اپنے دفاع کے لئے خندق کھودنی پڑرہی ہے اور ان پر فاقے گزر رہے ہیں مگر دعوے یہ ہیں کہ یہ روم اور ایران فتح کرلیں گے، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں مسلمانوں کو یہ دعا تلقین فرما کر ایک لطیف پیرائے میں ان کا جواب دے دیا گیا۔
Read the full tafseer →یہ سوال سوالیہ ہے اور اسی سے ان کے اس عجیب اور متضاد موقف کی تشہیر مطلوب ہے ۔ یہ موقف ان لوگوں نے اختیار کیا ہے جنہیں کتاب الٰہی کا ایک حصہ بھی خوش قسمتی سے ملا۔ مثلاً یہود کو تورات اور عیسائیوں کو انجیل کی شکل میں ‘ اور یہ کتابیں کتاب اللہ کا حصہ اس اعتبار سے ہیں کہ کتاب اللہ تو وہ تمام ریکارڈ ہے جو اللہ کی طرف سے کسی بھی زمان ومکان میں کسی نبی پر اترا ۔ کیونکہ اللہ کے ہاں اللہ بھی ایک ہے ۔ نگہبانی بھی ایک ہے ۔ اور حقیقتاً کتاب بھی ایک ہے ۔ یہود ونصاریٰ کو تو اس کا ایک حصہ ملا اور مسلمانوں کو پوری کتاب ملی ۔ اس لئے کہ قرآن کریم اصول الدین کا جامع ہے ۔ اور سابقہ کتب کی توثیق کرتا ہے ۔ یہ سوال…
Read the full tafseer →7 یعنی تھوڑا بہت حصہ تورات اور انجیل وغیرہ کا جو ان کی تحریفات لفظی و معنوی سے بچ بچا کر رہ گیا ہے یا جو تھوڑا بہت حصہ فہم کتاب کا ملا۔
8 یعنی جب انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ قرآن کریم کی طرف آؤ جو خود تمہاری تسلیم کردہ کتابوں کی بشارات کے موافق آیا اور تمہارے اختلافات کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے والا ہے۔ تو ان کے علماء کا ایک فریق تغافل برت کر منہ پھیر لیتا ہے۔ حالانکہ قرآن کی طرف دعوت فی الحقیقت تورات و انجیل کی طرف دعوت دینا ہے۔ بلکہ کچھ بعید نہیں کہ اس جگہ کتاب اللہ سے مراد تورات و انجیل ہی ہو۔ یعنی لو ہم تمہارے نزاعات کا فیصلہ تمہاری ہی کتاب پر چھوڑتے ہیں مگر غضب تو یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات اور…
Read the full tafseer →آیت 23 اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ
اُوْتُوْا مجہول کا صیغہ ہے اور یاد رہے کہ جہاں مذمت کا پہلو ہوتا ہے وہاں مجہول کا صیغہ آتا ہے۔
یُدْعَوْنَ اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ وَہُمْ مُّعْرِضُوْنَ ۔
یعنی کتاب کو مانتے بھی ہیں لیکن اس کے فیصلے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →27 اس آیت میں ( اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ 23) 3 ۔ آل عمران :23) سے مراد یہود کے وہ علماء ہیں جو تورات کا کچھ نہ کچھ علم رکھتے تھے۔ لیکن علم کے باوجود کتاب اللہ کے احکام میں تحریف ان کی عادت ثانیہ بن چکی تھی۔ تورات میں شادی شدہ زانی مرد اور عورت کے لیے واضح طور پر رجم کا حکم موجود تھا۔ پہلے تو ان علماء نے یہ کام کیا کہ جب کوئی شریف اور مالدار یا معزز آدمی زنا کا مرتکب ہوتا تو مختلف شرعی حیلوں سے اس کی سزا کو ساقط کردیتے اور کمزور آدمیوں پر حد جاری کرتے۔ بعد میں انہوں نے سب طرح کے لوگوں کے لیے ایک درمیانی راہ نکالی اور طے یہ کیا کہ زانی کی سزا ہی ایسی…
Read the full tafseer →58 ۔ حق وداعیان حق سے یہ مسلسل انحراف واعراض تاریخ بنی اسرائیل کا کوئی نیا یا انوکھا واقعہ نہیں۔ ان کے مقدس نوشتے اور صحیفے ان شکایات سے بھرے پڑے ہیں۔ مثلا :۔ ” تم کا ہے کو مجھ سے محبت کروگے، تم سب مجھ سے پھرگئے ہو “۔ (یرمیاہ۔ 2:28، 29) نیز ہوسیع 10:27) مفصل حاشیے پارۂ اول رکوع 6:7 کے ذیل میں گزر چکے۔ (آیت) ” الم تر “۔ خطاب یہاں رسول اللہ ﷺ سے ہے (آیت) ” من الکتب “۔ ذکر وہی یہود کا چل رہا ہے۔ الکتاب یہاں بطور اسم جنس استعمال ہوا ہے۔ یعنی کتاب الہی اپنے عمومی وکلی مفہوم میں۔ اور اسی کا ایک جزء توریت ہے۔ (آیت) ” کتب اللہ “۔ اسی عمومی وکلی کتاب کا دوسرا جزء قرآن ہے اور وہی یہاں مراد ہے (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ذَالِکَ بِأَنُّھُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ ، یعنی اس کتاب کے ماننے سے گریز اور روگردانی کی وجہ سے ان کا یہ زعم باطل ہے کہ اول تو وہ جہنم میں جائیں گے ہی نہیں اور اگر گئے بھی تو صرف چند دن کے لیے جائیں گے، ان من گھڑت باتوں نے ان کو دھوکے اور فریب میں ڈال رکھا ہے، یعنی یہ لوگ اپنے آپ کو خدا چہیتا سمجھ بیٹھے ہیں جس کی وجہ سے یہ اس خیال خام میں مبتلا ہیں کہ ہم خواہ کچھ بھی کریں بہر حال جنت ہماری ہے ہم اہل ایمان ہیں اور ہم فلاں کی اولاد ہیں اور فلاں کی امت ہیں آگ کی کیا مجال کہ ہم کو چھو بھی جائے اور اگر بالفرض چھوئے گی بھی تو بس چند روز کے لیے گناہوں کی…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ : یہ استفہام تقریری اور تعجب آفریں ہے۔ نصیباً میں تنوین تحقیر ہے اور مِنَ الکتاب میں مِن تبعیض یا بیان کے لیے ہے اور الکتاب سے مراد ہے تورات یا عام آسمانی کتابیں۔ یعنی دیکھو تو بڑی عجیب بات ہے کہ جن لوگوں کو تورات کا ایک حقیر حصہ (یعنی تورات کا تھوڑا سا علم) دیدیا گیا ہے کہ نہ وہ کتاب کے اندرونی مضامین سے واقف ہیں نہ پوری تورات کے احکام پر ان کا ایمان ہے۔
يُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ : ان کو تورات (کے فیصلہ) کی طرف بلایا جاتا ہے یعنی محمد ﷺ
ان کو تورات کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ کلبی نے بروایت ابو صالح حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا…
Read the full tafseer →(23) اے محمد ﷺ کیا آپ نے ایسے لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں علم توریت کا ایک کافی حصہ دیا گیا ہے (جس میں رجم وغیرہ کا بھی بیان ہے)
اور اسی غرض نے قرآن کریم کی طرف ان کو بلایا بھی جاتا ہے تاکہ ان شادی شدہ مرد و عورت کے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کریں کہ جنہوں نے خیبر میں زنا کیا ہے، ایسے مجرموں کے سنگسار کرنے کا اپنی کتاب کے مطابق فیصلہ کریں اس میں سے بنو قریظہ اور اہل خیبر توریت کے اس واضح حکم سے دور بھاگتے ہیں اور اس کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اعراض وتکذیب محض اس وجہ سے ہے کہ ان کا اعتقاد یہ ہے کہ ہمیں آخرت میں دوزخ کی آگ صرف چالیس دن کے لیے چھوئے گی ،
شان نزول : (آیت) ”الم تر الی الذین اوتوا (الخ)
اب…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا۔۔ : اس آیت میں ”كِتٰبِ اللّٰهِ“ سے مراد تورات اور انجیل ہیں اور مطلب یہ ہے کہ جب انھیں خود ان کی کتابوں کی طرف دعوت دی جاتی ہے کہ چلو انھی کو حکم مان لو اور بتاؤ کہ ان میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے یا نہیں تو یہ اس سے بھی پہلو تہی کر جاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں جیسے انھیں کسی چیز کا علم ہی نہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 23۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ آیت اس سبب سے نازل ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ بیت المدارس میں یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس تشریف لے گئے اور آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا، تو نعیم بن عمرو اور حارث بن زید نے آپ سے کہا : اے محمد ﷺ آپ کون سے دین پر ہیں ؟ تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا ” بلاشبہ میں ملت ابراہیم (علیہ السلام) پر ہوں۔ “ تو ان دونوں نے کہا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو یہودی تھے، تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :“ تم میرے پاس تورات لے آؤ پس وہی ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گی ، “ تو ان دونوں نے اس کا انکار کردیا تب یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(1) ابن اسحق، ابن جریر، ابن المنذر، اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیت المدارس میں یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس تشریف لے گئے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا تو نعمان بن عمر اور حارث بن زید نے کہا اے محمد ﷺ آپ کون سے دین پر ہیں تب آپ نے فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) کے دین وملت پر تو انہوں نے کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) تو یہودی تھے رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا تم دونوں تورات شریف لے آؤ وہ ہمارے اور تمہارے درمیان ہے (جو فیصلہ کرے گی) تو انہوں نے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یدعون الی کتب اللہ…
Read the full tafseer →[اَلَمْ تَرَ : کیا تو نے غور ہی نہیں کیا ] [اِلَی الَّذِیْنَ : ان (کی حالت) کی طرف جن کو ] [اُوْتُوْا : دیا گیا ] [نَصِیْبًا : ایک حصہ ] [مِّنَ الْکِتٰبِ : کتاب سے ] [یُدْعَوْنَ : (جب) وہ لوگ بلائے جاتے ہیں ] [اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ : اللہ کی کتاب کی طرف ] [لِیَحْکُمَ : تاکہ وہ فیصلہ کرے ] [بَیْنَہُمْ : ان کے مابین ] [ثُمَّ : پھر ] [یَتَوَلّٰی : بےرُخی کرتا ہے ] [فَرِیْقٌ : ایک فریق ] [مِّنْہُمْ : ان میں سے ] [وَہُمْ : اور وہ لوگ ] [مُّعْرِضُوْنَ : اعراض کرنے والے ہیں ]
غ ر ر
غَـرَّ (ن) غَرًّا : دھوکا دینا ‘ فریب دینا۔ آیت زیر مطالعہ۔
غُرُوْرٌ (فُعُوْلٌ کے وزن پر جمع) : دھوکے۔ { وَمَا…
Read the full tafseer →یہودیوں کا اللہ کی کتاب سے اعراض کرنا اور خوش فہمی میں مبتلا ہونا
روح المعانی صفحہ 110: ج 3 میں ابن اسحاق سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیت المدر اس میں تشریف لے گئے (جو یہودیوں کی مذہبی اور تعلیمی جگہ تھی) وہاں یہودی جمع تھے آنحضرت ﷺ نے توحید کی دعوت دی۔ ان لوگوں میں نعمان بن عمرو اور حارث بن زید دو آدمی تھے انہوں نے کہا کہ اے محمد ! آپ کس دین پر ہیں آپ نے فرمایا میں ابراہیم کی ملت پر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ابراہیم تو یہودی تھے آپ نے فرمایا کہ تورات لے آؤ وہ ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گی وہ تورات لانے پر راضی نہ ہوئے اور اس کا فیصلہ ماننے سے انکار کر بیٹھے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
ذکر بعض احوال شنیعہ یہود بےبہود۔
قال تعالی، ان لذین یکفرون بایت اللہ ویقتلون النبیبن۔۔۔ الی۔۔۔ لایظلمون۔
شروع سورت میں روئے سخن زیادہ تر نصاری کی طرف تھا اور گزشتہ آیات میں اہل کتاب کے عنوان سے یہود اور نصاری دونوں کو خطاب تھا اب ان آیات میں خاص یہود کے بعض افعال کی متعدد آیات میں یہود کا قاتل انبیاء ہونا بیان ہوا ہے اس لیے اس آیت سے خصوصیت کے ساتھ یہود کو خطاب شروع ہوتا ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء کو دیدہ و دانستہ جان بوجھ کر ناحق قتل کرتے ہیں یعنی خود بھی جانتے ہیں کہ ہمارا یہ فعل سراسر ناحق ہے مگر حق کی عداوت اور دنیا کی محبت میں اتنے اندھے…
Read the full tafseer →33 اس آیت میں اہل کتاب کے غایت تمرد اور ان کی اتنہائی سرکشی کا شکوہ کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ کی کتاب سے اعراض کر کے گمراہ اور ضدی مولویوں کی عبارتوں سے تمسک کرتے ہیں۔ اَلَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْباً مِّنَ الْکِتٰبِ سے اہل کتاب کے عالم مراد ہیں اور کتاب اللہ سے مراد تورات وانجیل ہے۔ وکانوا یرعون الی حکم التوراۃ والانجیل وکانوا یوبون (کبیر ج 2 ص 634) حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہود کو دین اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے آپ سے پوچھا کہ تمہارا دین کونسا ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ میں دین ابراہیم (علیہ السلام) پر ہوں جو شرک و باطل سے بیزار اور توحید کے داعی اور پرستار تھے اس پر وہ کہنے لگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی ہٹ دھرمی کا ذکر کیا تھا۔ کہ اہل کتاب نے دین میں اختلاف نہیں کیا مگر علم آجانے کے بعد محض سرکشی ، حسد ، عناد ، اور بغض کی وجہ سے انہوں نے دنیا کے جاہ و مال ، ریاست اور اقتدار کی خاطر دین حق کو قبول نہ کیا نیز یہ بھی بیان ہوا کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرے گا۔ وہ اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتا۔ اس کے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ وہ اللہ کے سچے دین کو مان لے۔ صحیح عقیدہ اختیار کرلے اور خدا تعالیٰ کا مطیع و فرمانبردار ہوجائے۔
آیات سے انکار :
ان آیات میں بھی اہل کتاب کا ہی ذکر ہے۔ فرمایا ان الذین یکفرون بایات اللہ ، جو لوگ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللہِ لِيَحْكُمَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ يَتَوَلّٰى فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ وَھُمْ مُّعْرِضُوْنَ 23
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ترکیب : یدعون موضع حال میں ہے الذی سے اور ھم معرضون جملہ موضع رفع میں ہے ‘ صفت ہے فریق کی یا حال ہے ضمیر محرور سے۔ ذلک مبتداء بانہم خبر فکیف موضع نصب میں ہے اور عامل اس میں محذوف ہے تقدیرہ کیف یصنعون۔ لا ریب فیہ جملہ صفت ہے یوم کی ووفیت اس پر معطوف والعائد محذوف۔
تفسیر : یہ ان اہل کتاب کی ایک خصلت بد بیان کی جاتی ہے اور اس کا سبب بھی بتایا جاتا ہے کہ مذہب انبیائی میں تحریف کرکے انہوں نے چند ڈھکوسلے بنا رکھے ہیں جن کے اعتماد پر وہ ایسا کرتے ہیں۔ خصلت بد یہ تھی کہ جب ان کو باہمی منازعات کے فیصلہ کے لئے کتاب اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا کہ جو کتاب اللہ کہہ دے ٗ اس کو مانو تو وہ روٹھ کر چلے جاتے…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْـکِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ وَہُمْ مُّعْرِضُوْنَ ۔
(کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جنھیں کتاب الٰہی کا ایک حصہ دیا گیا وہی بلائے جا رہے ہیں اللہ کی کتاب کی طرف تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو ایک گروہ ان میں سے پیٹھ پھیر لیتا ہے، یہ لوگ ہیں ہی روگردانی کرنے والے) (23)
یہود پر تنقید کا سبب
یہود مدینہ کی آبادی میں غالب عنصر کی حیثیت رکھتے تھے۔ اپنے مال و دولت، اپنی کاروباری وسعت، اپنے علم اور اپنی مشیخیت کے باعث اوس و خزرج کے لوگوں پر ان کا بےپناہ اثر تھا۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب ہی پہلے کفر کرنے والے ہیں ان کے کفر کی بنیاد ان کا من ساختہ عقیدہ ہے کہ ہم چند دن جہنم میں جائیں گے حالانکہ وہاں ایک کے اعمال دوسرے کے لیے فائدہ مند نہیں ہوں گے۔
اینبی ﷺ ! کیا آپ نے اہل کتاب کے رویّے پر غور نہیں فرمایا کہ جب بھی انہیں تنازعات کا فیصلہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے تو بلاوا سنتے ہی ان میں ایک گروہ سراسر منہ پھیر لیتا ہے۔ ایسا اس لیے کرتا ہے کہ ان کا دعو ٰی ہے کہ ہمیں جہنم کی آگ مَس نہیں کرے گی سوائے چند دنوں کے جن میں ہمارے بزرگوں نے بچھڑے کی عبادت کی تھی۔ دراصل ان کا خود ساختہ دین ہی ان کے لیے فریب نفس اور ہدایت کے لیے…
Read the full tafseer →23۔ اَلَمْ تَرَاِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْانَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ ۔ ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ وَھُمْ مُّعْرِضُوْنَ ۔ (کیا نہیں دیکھے آپ نے ایسے لوگ جو دیئے گئے کتاب کا ایک حصہ وہ بلائے جاتے ہیں اللہ کی کتاب کی طرف تاکہ وہ فیصلہ کرے ان کے درمیان پھر ایک جماعت ان میں سے منہ موڑنے والی ہے) ۔ الَّذِیْنَ اُوْتُوْاسے مراد احبار یہود ہیں جنہوں نے تورات کا وافر حصہ پایا تھا مِنْ تبعیض کے لیے یا بیان کیلئے ہے یُدْعَوْنَ یہ الذین سے حال واقع ہے کتاب اللہ سے مراد تورات یا قرآن مجید ہے۔
کتاب یا نبی فیصلہ کرے :
لیحکم بینھم تاکہ وہ کتاب ان کے…
Read the full tafseer →23۔ (الم تر ۔۔۔۔۔ الکتاب کیا آپ نے ایسے لوگ نہیں دیکھے جن کو کتاب کا ایک حصہ دیا گیا) اس سے مراد یہود ہیں (یدعون ۔۔۔۔ اللہ ان کو بلایا جاتا ہے اللہ کی کتاب کی طرف) اس کتاب کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ۔
(کتاب اللہ کی تفسیر میں مختلف اقوال)
قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہودیوں کو کتاب اللہ کی طرف یعنی قرآن کے فیصلہ کی طرف بلایا گیا اور وہ اس سے اعراض کرنے لگے ۔
ضحاک (رح) نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے روایت کیا ہے کہ اللہ نے یہود و نصاری اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان قرآن کو فیصلہ کن قرار دیا تو قرآن نے یہود و نصاری کے درمیان یہ فیصلہ کردیا کہ یہ حق پر نہیں ہیں اور وہ اس فیصلے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
(23 ۔ 25) ۔ ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے اپنی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ اور چند یہود کا ایک مدرسہ میں آمنا سامنا ہوا آپ نے ان سے اسلام لانے کو کہا ان میں دو شخص یہودی نعیم بن عمر و اور حارث بن زید نے آپ سے سوچھا کہ آخر آپ کس دین پر ہیں آپ نے فرمایا میں دین اور ملت ابراہیمی پر ہوں انہوں نے جواب دیا کہ حضرت ابراہیم تو خود دین یہود پر تھے پھر آپ ہم سے اور کونسا دین اختیار کراتے ہیں آپ نے فرمایا اگر حضرت ابراہیم دین یہود پر تھے تو تورات میں ضرور اس کا ذکر ہوگا۔ اگر تم سچے ہو تو لاؤ تورات میں کہاں یہ بات لکھی ہے دکھاؤ۔ ان دونوں شخصوں نے تورات کے لانے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
آیت 23-25
اللہ تعالیٰ اہل کتاب کی حالت بیان فرما رہا ہے جن پر انعام کرتے ہوئے اللہ نے انہیں اپنی کتاب دی۔ ان کا فرض تھا کہ سب سے زیادہ وہ اس پر قائم رہتے اور سب سے پہلے وہ اس کے احکام کو تسلیم کرتے، لیکن اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں بتارہا ہے کہ انہیں جب کتاب کے فیصلے (کو قبول کرنے) کی طرف بلایا جاتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں۔ اپنے بدنوں کے ساتھ بھی منہ پھیرتے ہیں اور دلوں کے ساتھ بھی انکار کرتے ہیں۔ یہ انتہائی قابل مذمت رویہ ہے۔ اس میں ہمارے لئے تنبیہ ہے کہ ان جیسا کام نہ کریں، ورنہ ہم بھی اس مذمت کے مستحق ہوں گے اور ہمیں بھی ان جیسی سزا مل سکتی ہے۔ بلکہ جس کو اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
حضور کی خصوصیات گذشتہ الہامی کتب میں تھیں
قول باری ہے (الم ترا کی الذین او توانصییا من الکتب یدعون الی کتاب اللہ لیحکم بینھم ثم یتولیفریق منھم وھم معرضون، آپ نے دیکھا نہیں کہ جن لوگوں کو کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ ملا ہے۔ ان کا حال کیا ہے ؟ انہیں جب کتاب الہی کی طرف بلایاجاتا ہے تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق اس سے پہلوتہی کرتا ہے اور اس فیصلے کی طرف آنے سے منہ پھیرجاتا ہے) حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ اس سے یہود مراد ہیں۔ انہیں تورات کی طرف بلا گیا جو اللہ کی کتاب ہے جس میں دوسری تمام آسمانی کتابوں کی طرح حضور ﷺ کے متعلق بشارت موجود ہے۔ اللہ نے انہیں حضور ﷺ کی نبوت کی صداقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
50 اہل کتاب کے قابل تعجب حال کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جن کو کتاب کا ایک حصہ دیا گیا جس کے یہ حامل بھی ہیں اور اس پر ایمان کے دعویدار بھی۔ اور جس کی تعلیمات پر عمل کرنا اور کرانا ان کی ذمہ داری تھی اور ہے۔ ان سب باتوں کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ لوگ ایسی ہر دعوت پر فوراً لبیک کہتے اور آگے بڑھ کر اس کو قبول کرتے، جو اللہ کی طرف سے ان کو ملتی، اور اس کے مقتضیٰ پر یہ لوگ دل و جان سے عمل کرتے ہیں۔ مگر یہ اس کے برعکس اس سے منہ موڑتے اور اعراض کرتے ہیں، بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر دوسروں کو بھی اس سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح ضلال واضلال کے دوہرے جرم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
عیسائیوں کا جھوٹا عقیدہ اور انجام
تشریح : اس مقام پر اللہ کی کتاب سے مراد تورات اور انجیل ہے اور کتاب کا کچھ حصہ پانے والوں سے مراد یہود و نصار ٰی کے علماء ہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ یہود و نصار ٰی نہ اپنی آسمانی کتابوں پر عمل کرتے ہیں اور نہ ان باتوں کی پرواہ کرتے ہیں کہ آخرت میں سزا ملے گی۔ کیونکہ ان کا خیال ہے کہ وہ تو اللہ کے بڑے پیارے ہیں ان کو تو دوزخ میں ڈالاہی نہ جائے گا اور اگر سزا ملی بھی تو چند دن کے لئے ملے گی۔ اسی خیال سے وہ نیکی سے دور اور بدی سے نزدیک رہ کر زندگیاں گزار رہے ہیں۔ حالانکہ قرآن پاک اور ان کی کتابوں میں بار بار اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ قیامت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیات 21- 30
اسرارو معارف
ان الذین یکفرون………………لا یظلمون۔
بعض طبائع مسخ ہوجاتے ہیں اور ایسے برباد ہوتے ہیں کہ نسلوں تک میں ان کا اثر پایا جاتا ہے فرمایا یہ معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ آج کے اہل کتاب صرف آپ ﷺ کی نبوت کا ہی انکار نہیں کر رہے بلکہ جن کے یہ متبع ہیں۔ وہ تو انبیاء (علیہم السلام) کو ظلماً قتل بھی کرتے تھے بلکہ جن لوگوں نے انصاف کا حکم دیا یا سچی اور کھری بات کہی تو انہیں بھی قتل کردیا۔
تو اے نبی ! ﷺ ان کو دردناک عذاب کی بشارت یعنی اطلاع دے دی۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ نبی اسرائیل یعنی یہودنے دن کے اول حصہ میں محض اقتدار اور حکومت کے لالچ میں چالیس انبیاء کو قتل کردیا حالانکہ وہ خوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 1 ۔ اس آیت میں کتاب اللہ سے مراد تو رات وانجیل ہے اور مطلب یہ ہے کہ جن انھیں خود ان کی کتاب کو طرف دعوت دی جاتی ہے کہ چلو انہی کو حکم مان لو اور بتا و کہ ان میں آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے یا نہیں تو یہ اس سے بھی پہلو تہی کر جاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں جیسے ان کو کسی چیز کا علم ہی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(3:23) یدعون۔ مضارع مجہول۔ جمع مذکر غائب دعوۃ سے۔ بلائے جائیں گے۔ بلائے جاتے ہیں۔
لیحکم میں حکم کی اضافت کتاب اللہ کی طرف ہے۔
ثمحرف عطف ہے اور پہلی چیز سے دوسری کے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے یہاں معطوف علیہ محذوف ہے اور عبارت کچھ یوں ہوگی وہم یعلمون انہ ھو الحق ثم یتولی فریق منھم۔ یہاں علم ہونے کے بعد ان کی روگردانی کا فعل مذکور ہے استبعاد لتولیہم
معرضون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ روگردانی کرنے والے۔ منہ موڑنے والے۔ اجتناب کرنے والے۔ ہم معرضون یا تو فریق کی صفت ہے۔ وہم قوم لایزال الاعراض دینہم (وہ ایک ایسا ٹولہ تھا کہ دین سے روگردانی سے باز نہیں آتا تھا۔ یا فریق کا حال ہے اور فریق ذوالحال ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 25
نصیب (حصہ) یدعون (وہ پکارے گئے (پکارے جاتے ہیں) لیحکم (تاکہ وہ فیصلہ کردے) یتولیٰ (پلٹ جاتا ہے منہ پھیر لیتا ہے) معرضون (وہ بےرخی اختیار کرتے ہیں، منہ پھیرتے ہیں) غرھم (اس نے ان کو دھوکہ میں ڈال دیا) یفترون (وہ گھڑتے ہیں) جمعنھم (ہم نے ان کو جمع کیا (ہم ان کو جمع کریں گے) وفیت (پوراپورا دیا (جائے گا) ۔
تشریح : آیت نمبر 23 تا 25
سورة ال عمران کی آیت 23 سے 25 تک کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو اس بات کے دعویدار تھے کہ ہم اہل کتاب ہیں اور اس پر انہیں ناز بھی تھا جب ان کو ان ہی کی کتاب کی طرف یہ کہہ کر بلایا جاتا ہے کہ تم اپنے فیصلے اپنی ہی کتاب کے ذریعے کرلو تو وہ بجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ اور چند یہود کا ایک مدرسہ میں آمنا سامنا ہوا۔ آپ نے ان کو اسلام کی دعوت دی۔ اس پر دو شخص نعیم بن عمر اور حارث بن زید نے آپ سے پوچھا کہ آپ کس دین پر ہیں۔ آپ نے فرمایا :” میں ملت ابراہیمی پر ہوں “۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم تو خود دین یہود پر تھے۔ پھر آپ ہم میں سے کون سا دین اختیار کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا :” اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دین یہود پر تھے تو توریت میں کہیں اس کا ذکر ہوگا اگر تم سچے ہو تو توریت لا کر دکھاؤ “۔ دونوں شخصوں نے توریت لانے سے انکار کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہود کو قائل کرنے کے لئے یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →[7] یہاں اللہ کی کتاب سے مراد تورات ہے۔
[8] یعنی جب یہود سے کہا جاتا ہے کہ اپنی کتاب تورات کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کردو اور جو اس کی رو سے حق ثابت ہو اس کو حق اور جو اس کی رو سے باطل ثابت ہو اسے باطل تسلیم کرلو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
یہودیوں کا غرور مذہبی :
(ف 1) یہودیوں کو قرآن مجید کی طرف دعوت دی جاتی اور کہا کہ اس چشمہ فیض سے استفادہ کرو تو وہ اعتراض کرتے رہو کہتے کہ جہنم میں اگر جائیں گے بھی تو چند روز کے لئے ، اس لئے میں کسی دوسرے مذہب کو قبول کرنے کی ضرورت ہی نہیں ۔ فرمایا ، یہ فریب نفس ہے ، اللہ تعالیٰ کے ہاں بخشش ومغفرت ہی کے لئے جو حق کو قبول کرتا ہے اور نیک رہتا ہے ، صرف یہودی یا عیسائی کہلانا کافی نہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ف 1۔ بلا شبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی آیات اور اس کی ہدایت کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کو ناحق جانتے ہوئے قتل کر ڈالتے ہیں اور خدا کی مخلوق میں سے جو لوگ عدل و راستی اور حق و انصاف کی تعلیم و ترغیب دیتے ہیں ان کو بھی قتل کر ڈالتے ہیں ۔ سوائے پیغمبر ایسے لوگوں کو درد ناک عذاب کی خوش خبری دے دیجئے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا و آخرت دونوں میں ضائع ہوگئے اور ان کے تمام اعمال صالحہ غارت ہوگئے اور ان کا کوئی حامی و مدد گار نہ ہوگا یعنی عذاب کے وقت ۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ خصائل مذکورہ بنی اسرائیل میں سے فرقہ یہود کے ہیں اور اگرچہ یہ کام سابقہ لوگوں نے…
Read the full tafseer →ف 5۔ اگر ہدایت کے طالب ہوتے تو وہ حصہ اس غرض کی تکمیل کے لئے کافی تھا۔
Read the full tafseer →ان کو کتاب اللہ کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو منہ پھیر جاتے ہیں :
63: تم نے دیکھا کہ جن لوگوں کو کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ ملا ہے ان کا حال کیا ہے ؟ وہ کون ہیں جن کو کتاب سے کچھ حصہ ملا ہے ؟ ظاہر ہے کہ علماء قوم ہی ہیں۔ انہیں جب بلایا جاتا ہے۔ کہاں بلایا جاتا ہے ؟ کتاب اللہ کی طرف بلوایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے یعنی ان سے کہا جاتا ہے کہ کتاب اللہ کو آخری سند مان لو۔ اس کے فیصلے کے آگے سر جھکا دو اور جو کچھ اس کی رو سے حق ثابت ہو اسے حق اور جو اس کی رو سے باطل ثابت ہو اسے باطل تسلیم کرلو تو وہ منہ پھیر جاتے ہیں۔
یہ گمراہی عوام کی گمراہی نہیں بلکہ علمائے اہل کتاب کی گمراہی تھی کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
While dealing with the subject of Jews, as in verses 21-22, the text goes on to censure a particular claim of theirs in the present verse. The address is to the Holy Prophet ﷺ and the reference is to the Torah given to the Jews who would have found it enough for them if they were really looking forward to guidance. But they elect to be in-different because they say and believe that the fire of Hell will not touch them except for a few days, after which, according to their supposition, they would be forgiven. This, it has been said, is self-deception caused by what they have been forging for…
Read the full tafseer →22. They are asked to acknowledge the Book of God as the final arbiter in all matters, and to submit to its judgement, accepting as right whatever this Book holds to be right, and as wrong whatever it holds to be wrong. The Book of God referred to here is the Torah and the Injil, while the expression 'those who have been given a portion of the Book' refers to the Jewish and Christian religious scholars. (For the Quranic view of the Torah and the Injil see n. 2 above - Ed.)
Read the full tafseer →