Explained with ayahs 83–85
اسلامی اصول اور روز جزا
اللہ تعالیٰ کے سچے دین کے سوا جو اس نے اپنی کتابوں میں اپنے رسولوں کی معرفت نازل فرمایا ہے یعنی صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کی عبادت کرنا کوئی شخص کسی اور دین کی تلاش کرے اور اسے مانے اس کی تردید یہاں بیان ہو رہی ہے پھر فرمایا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں اس کی مطیع ہیں خواہ خوشی سے ہوں یا ناخوشی سے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ) 13۔ الرعد :15) یعنی زمین و آسمان کی تمام تر مخلوق اللہ کے سامنے سجدے کرتی ہے اپنی خوشی سے یا جبراً اور جگہ ہے آیت (اَوَلَمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
سورة اٰلِ عِمْرٰن 73
یہاں پھر اسی بات کا اعادہ کیا گیا ہے جو اس سے قبل بارہا بیان کی جا چکی ہے کہ نبی محمد ﷺ کے عہد میں عرب کے یہودی علماء جان چکے تھے اور ان کی زبانوں تک سے اس امر کی شہادت ادا ہوچکی تھی کہ آپ نبی برحق ہیں اور جو تعلیم آپ لائے ہیں وہ وہی تعلیم ہے جو پچھلے انبیاء لا تے رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا وہ محض تعصب، ضد اور دشمنی حق کی اس پرانی عادت کا نتیجہ تھا جس کے وہ صدیوں سے مجرم چلے آرہے تھے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور جو شخص اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کو طلب کرے گا تو وہ (دین) اس (شخص) سے (خدا تعالیٰ کے نزدیک) مقبول و (منظور) نہ ہوگا اور (وہ شخص) آخرت میں تباہ کاروں میں سے ہوگا (یعنی نجات نہ پائے گا)۔
معارف و مسائل
اسلام کی تعریف اور اس کا مدار نجات ہونا
" اسلام " کے لفظی معنی اطاعت و فرمانبرداری کے ہیں، اور اصطلاح میں خاص اس دین کی اطاعت کا نام " اسلام " ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے، کیونکہ اصول دین تمام انبیاء (علیہم السلام) کی شریعتوں میں ایک ہی ہیں۔ پھر لفظ " اسلام " کبھی تو اس عام مفہوم کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی صرف اس آخری…
Read the full tafseer →اسلام کے حق میں دلائل واضح کردینے کے بعد اب یہ صاف الفاظ میں اعلان فرمادیا کہ جو لوگ اسلام کے سوا کسی اور دین کے طالب بنیں گے یا اس پر جمے رہیں گے، عام اس کہ وہ یہودیت ہو یا نصرانیت یا کوئی اور دین، وہ اللہ کے ہاں قبول نہ ہوگا، ایسے لوگ آخرت میں محروم و نامراد ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
89۔ 1 انصار میں سے ایک مسلمان مرتد ہوگیا اور مشرکوں سے جا ملا لیکن جلدی ہی اسے ندامت ہوئی اور اس نے لوگوں کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ تک پیغام بھجوایا کہ میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئیں ان آیات سے معلوم ہوا کہ مرتد کی سزا اگرچہ بہت سخت ہے کیونکہ اس نے حق پہچاننے کے بعد بغض اور عناد اور سرکشی سے حق سے انکار کیا تاہم اگر کوئی خلوص دل سے توبہ اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے اس کی توبہ قابل قبول ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
31: یعنی جب تک وہ کفر سے توبہ کر کے ایمان نہیں لائیں گے، دوسرے گناہوں سے ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
یہ ہے اسلامی تصور حیات ‘ جو بہت وسیع ہے اور اس میں تمام سابقہ رسالتیں شامل ہیں اور اسلامی نظام کے جھنڈے تلے وہ تمام رسول جمع ہیں جنہوں نے کبھی بھی رسالت خداوندی کا فریضہ سر انجام دیا ۔ اسلامی نظام کی اساس عقیدہ توحید پر ہے اور اس کے تصور کے مطابق تمام انبیاء کا منبع ہدایت ایک ہے یعنی ذات باری اور ذات باری ‘ اور تمام انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہے ۔
یہاں یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ پہلی آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ اللہ کی ذات پر ایمان لانے کا حکم ہے ۔ پھر اس کتاب پر ایمان لانے کا حکم ہے جو مسلمانوں پر نازل ہوئی اور پھر ان کتابوں پر ایمان لانے کا ذکر ہے جو مسلمانوں سے قبل دوسرے انبیاء پر نازل…
Read the full tafseer →2 یعنی جب خدا کا دین (اسلام) اپنی مکمل صورت میں آپہنچا تو کوئی جھوٹا یا نامکمل دین قبول نہیں کیا جاسکتا۔ طلوع آفتاب کے بعد مٹی کے چراغ جلانا یا گیس بجلی اور ستاروں کی روشنی تلاش کرنا محض لغو اور کھلی حماقت ہے۔ مقامی نبوتوں اور ہدایتوں کا عہد گزر چکا۔ اب سب سے بڑی آخری اور عالمگیر نبوت و ہدایت سے ہی روشنی حاصل کرنی چاہیے کہ یہ ہی تمام روشنیوں کا خزانہ ہے جس میں پہلی تمام روشنیاں مدغم ہوچکی ہیں۔ فانک شمس والملوک کواکب۔ اذاطلعت لم یبد منھن کو کب۔
3 یعنی ثواب و کامیابی سے قطعاً محروم ہو۔ اس سے بڑا خسارہ کیا ہوگا کہ راس المال ہی کھو بیٹھا۔ حق تعالیٰ نے جس صحیح فطرت پر پیدا کیا تھا اپنے سوء اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
آیت 84 قُلْ اٰمَنَّا باللّٰہِ وَمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا
یاد رہے کہ سورة البقرۃ کی آیت 136 میں تھوڑے سے لفظی فرق کے ساتھ یہی مضمون بیان ہوا ہے۔
Read the full tafseer →75 اس آیت میں پہلی بات کو ہی دوسرے الفاظ میں دہرایا گیا ہے۔ یعنی دور نبوی کے یہود و نصاریٰ کی زبانوں سے اس امر کی شہادت ادا ہوچکی تھی کہ آپ جو تعلیم لائے ہیں وہ وہی ہے جو سابقہ انبیاء کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے جو مخالفت کی تو اس کی وجہ محض تعصب اور مفاد پرستی تھی۔ لہذا ایسے لوگوں کا کوئی عمل بھی قابل قبول نہ ہوگا اور آخرت میں ان کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہے جس کے بدلے انہیں دردناک عذاب برداشت کرنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →190 ۔ (آیت) ” الاسلام “۔ سے یہاں کھلی ہوئی مراد اصطلاحی دین اسلام ہے۔ ورنہ لفظی معنی کے لحاظ سے تو کائنات کا ذرہ ذرہ مسلم ہے۔ اعلم ان ظاہر ھذہ الایۃ یدل علی ان الایمان ھو الاسلام (کبیر) (آیت) ” ان الدین عند اللہ الاسلام “۔ وغیرہ متعدد آیتوں میں یہ مضمون صاف صاف بیان ہوچکا ہے کہ سچا اور مقبول دین صرف یہی دین ہے۔ جس کی کتاب قرآن مجید ہے۔ اور جس کے لانے والے اور سکھانے والے محمد رسول اللہ ﷺ ہیں، اس ایک دین کے علاوہ اور جتنے بھی دین و مذہب چلے ہوئے ہیں سب کی مثال کھوٹے اور جعلی سکوں کی سی ہے کہ کہنے کو سکے وہ بھی ہیں۔ لیکن جب چل نہ سکے تو ان کا سکہ ہونا نہ ہونا برابر۔ یہ آیت اس حقیقت کو اور زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
کَیْفَ یَھْدِی اللہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانَھِمْ وَشَھِدُوْآ اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌ (الآیۃ) یہاں پھر اسی بات کا اعادہ کیا جا رہا ہے جو اس سے پہلے بارہا بیان کی جا چکی ہے کہ نبی ﷺ کے عہد میں عرب کے یہودی علماء جان چکے تھے اور ان کی زبانوں تک سے اس امر کی شہادت ادا ہوچکی تھی کہ آپ ﷺ نبی برحق ہیں اور جو تعلیم آپ لائے ہیں وہ وہی تعلیم ہے جو پچھلے انبیاء لاتے رہے ہیں اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا وہ محض تعصب، ضد اور دشمنی، اس پرانی عادت کا نتیجہ تھا جس کے وہ صدیوں سے مجرم چلے آرہے تھے۔
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا : جو طلب کرے گا سوائے اسلام کے کوئی دوسرا دین اسلام سے مراد ہے توحید اور اللہ کی فرماں برداری یا دین محمدی جو تمام مذاہب کا ناسخ ہے۔ دیناً یا تمیز ہے یا یبتغ کا مفعول۔ اس صورت میں غیر الاسلام حال ہوگا جو دیناً کے نکرہ ہونے کی وجہ سے پہلے ذکر کردیا گیا ہے۔
فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ : تو ہر گز اس سے قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ دین اللہ کے حکم اور پسند کے خلاف ہوگا۔
وَھُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ : اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا کیونکہ وہ اسلام کا تارک اور دوسرے دین کا طالب ہے اس نے اپنی فطرت سلیمہ کو بگاڑ لیا ہے اس لیے…
Read the full tafseer →(85) اور جو شخص اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کو طلب کرے گا تو وہ جنت اور اس کی نعمتوں سے محروم ہونے والوں اور دوزخ میں جانے والوں اور آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
شان نزول : (آیت) ”ومن یبتغ غیر الاسلام“ (الخ)
سعید بن منصور نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب (آیت) ”ومن یبتغ غیر الاسلام“۔ یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو یہودی بولے کہ وہ مسلمان ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ نے حج بیت اللہ فرض کیا ہے وہ بولے ان پر فرض نہیں ہے اور حج کرنے سے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی (آیت) ”ومن کفر فان اللہ غنی“ (الخ) کہ جو منکر ہو تو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّبْتَـغِ۔۔ : یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے مبعوث ہوجانے کے بعد جو شخص آپ کی فرماں برداری اور اطاعت کا راستہ چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کرے گا، یا کسی پہلے راستے پر چلتا رہے گا، وہ چاہے کتنا توحید پرست کیوں نہ ہو اور پچھلے انبیاء پر ایمان رکھنے والا ہو، اگر وہ محمد ﷺ پر ایمان نہیں رکھتا تو اس کی دین داری اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہوگی اور وہ آخرت میں نامراد و ناکام ہوگا۔ واضح رہے کہ اگرچہ تمام انبیاء کا دین اسلام تھا، مگر آخری پیغمبر ﷺ کی تشریف آوری کے بعد اسلام صرف آپ کی پیروی کا نام ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں بھی اب اسلام سے یہی مراد ہوتا ہے، اس معنی میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 85۔
(آیت) ” غیر یبتغ “ فعل کا مفعول ہے اور دینا تفسیر کی بناء پر منصوب ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ دینا یبتغ فعل کے سبب منصوب ہو اور غیر الدین سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہو۔
حضرت مجاہد (رح) اور سدی (رح) نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت جلاس بن سوید کے بھائی حارث ابن سوید کے بارے میں نازل ہوئی ہے وہ انصار میں سے تھا وہ اور اس کے ساتھ بارہ افراد دین اسلام سے مرتد ہوگئے اور وہ مکہ میں کفار سے جا ملے تو یہ آیت نازل ہوئی، پھر اس نے اپنے بھائی کی طرف پیغام بھیجا جبکہ وہ توبہ کا طابت ہے حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے یہی مروی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : اس نے ان آیات کے نازل ہونے کے بعد اسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
(1) احمدو طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا قیامت کے دن اعمال آئیں گے نماز آئے گی اور کہے گی اے میرے رب میں نماز ہوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بلاشبہ تو خیر پر ہے اور صدقہ آئے گا وہ کہے گا اے میرے رب میں صدقہ ہوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو بھی خیر پر ہے پھر روزہ آئے گا وہ کہے گا میں روزہ ہوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بلاشبہ تو بھی خیر پر ہے پھر اس طرح سارے اعمال آئیں گے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بلاشبہ تو خیر پر ہے پھر اسلام آئے گا وہ کہے گا اے میرے رب ! آپ سلام ہیں اور میں اسلام ہوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بلاشبہ تو خیر پر ہے آج کے دن تیری وجہ سے پکڑوں…
Read the full tafseer →[وَمَنْ : اور جس نے ] [یَّـبْـتَغِ : طلب کیا ] [غَیْرَ الْاِسْلاَمِ : اسلام کے علاوہ کو ] [دِیْنًا : بطور دین کے ] [فَلَنْ یُّقْبَلَ : تو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا ] [مِنْہُ : اس سے ] [وَہُوَ : اور وہ ] [فِی الْاٰخِرَۃِ : آخرت میں ] [مِنَ الْخٰسِرِیْنَ : خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا ]
Read the full tafseer →دین اسلام کے سوا کوئی دین عند اللہ مقبول نہیں :
آخر میں فرمایا : (وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَ ھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ) (یعنی جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو طلب کرے گا تو ہرگز اس سے قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں تباہ کاروں میں سے ہوگا) دین اسلام جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کے ذریعہ بھیجا اور اسی کو آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ لے کر آئے جس کا سورة مائدہ میں اعلان فرمایا : (اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا) یہ دین اسلام ہی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–91
خلاصۂ حقیقت اسلام وعدم قبول غیر دین اسلام
قال تعالیٰ افغیر دین اللہ یبغون۔۔ الی۔۔ وما لھم من نصرین
توحید اور رسالت کے بعد دین اسلام کی حقیقت کا خلاصہ بیان فرماتے ہیں کہ اسلام اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا نام ہے اور یہی تمام انبیاء کا دین ہے اور اسلام ہی تمام کائنات کا دین ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اسی دین کی دعوت دینے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں جس کی طرف تمام انبیاء دعوت دیتے چلے آئے آخرت کی نجات کا دارومدار یہی دین اسلام ہے اس کے سوا اللہ کے یہاں کوئی دین قبول نہیں کیا جائے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ کیا یہ لوگ آنے والے رسول پر ایمان لانے اور اس کی نصرت کا پختہ عہد اور پیمان کرنے کے بعد بھی اللہ کے…
Read the full tafseer →123 دین اسلام کی حقانیت اور اس کے پسندیدہ حق ہونے کا اعلان کرنے کے بعد اسلام سے اعراض کرنے والوں کو تخویف اخروی کے ساتھ زجر فرمایا کہ جو شخص دین اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے اور توحید کو چھوڑ کر شرک اختیار کرے تو وہ عنداللہ مقبول نہیں ہوگا اور اس کے تمام اعمال رائیگاں ہونگے اور وہ آخرت میں ان اعمال سے محروم ہو کر دائمی عذاب میں مبتلا ہوگا یہی خسران آخرت کا مفہوم ہے۔ والخسران فی الآخرۃ ھو حرمان الثواب و حصول العقاب (روح ج 3 ص 216) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
ربط آیات : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کے عہد و پیمان کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ جو اس نے عام لوگوں اور انبیاء (علیہم السلام) سے لیا۔ اور پھر اس عہد کو توڑنے والوں کی سزا کا بیان بھی آ چکا ہے۔ ایسے لوگوں کو اللہ نے ڈانٹ پلائی ہے۔ اس کے بعد دین اسلام کی صداقت اور حقانیت کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس دین اطاعت فرمانبرداری کو قبول نہیں کرتے جس کا ان سے عہد لیا گیا تھا ، تو پھر کیا اس کے علاوہ کسی اور دین کے متلاشی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عہد و پیمان تو دین توحید کے متعلق لیا تھا۔ اور تمام انبیاء (علیہم السلام) اسی دین کی تعلیم دیتے رہے ہیں لہذا وہ کبھی اس بات کی…
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْہُ 0 ۚ وَھُوَفِي الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 85
وأمّا الابتغاء
فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20]
( ب غ ی ) البغی
الا بتغاء
یہ خاص کر کوشش کے ساتھ کسی چیز کو طلب کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اگر اچھی چیز کی طلب ہو تو یہ کوشش بھی محمود ہوگی ( ورنہ مذموم ) چناچہ فرمایا : ۔ { ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ } ( سورة الإسراء 28) اپنے پروردگار کی رحمت ( یعنی فراخ دستی ) کے انتظار میں ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
ترکیب : غیر منصوب ہے یبغون کی وجہ سے ومن یتبغ ابتغاء سے مشتق ہے جس کے معنی تلاش کرنا یہ شرط غیر الاسلام منصوب ہے صفت ہو کر دنیا کی جو مقدم ہونے سے حال ہوگیا وہو الخ جواب۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں تھا کہ جو نبی تمہارے دین کی تصدیق کرنے والا آئے تو تم پر ضرور ہے کہ اس پر ایمان لائو۔ اس پر یہود و نصاریٰ یہ اعتراض کرتے تھے کہ یہ مسلم لیکن یہ نبی ہمارے دین اور کتاب کا مصدق نہیں کیونکہ الوہیت مسیح اور تثلیث ہمارے دین کا اصل الاصول ہے۔ سو یہ اس کا رد کرتے تھے۔ پھر ہم کیونکر ان پر ایمان لاویں (چنانچہ اب بھی پادری یہی اعتراض کیا کرتے ہیں) اس کا جواب دیا جاتا ہے کہ یہ باتیں تمہارے دین کے اصول نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →وَمَنْ یَّـبْتَغِ غَیْرَالْاِسْلاَمِ دِیْنًا فَلَنْ یُّـقْـبَـلَ مِنْـہُ ج وَہُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ ۔
(اور جو اسلام کے سوا کسی اور دین کا خواہش مند ہے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نامرادوں میں سے ہوگا) (85)
فیصلہ کن بات کہہ دینے کے بعد ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو دین ہر پیغمبر لے کر آیا وہ صرف اسلام ہے۔ اسے دشمنوں کے جبر سے نہ بدلا جاسکتا ہے اور نہ واپس لیا جاسکتا ہے۔ اس میں کامل اطاعت اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی ہے۔ امت کے تعامل نے اس کی ایک ایک چیز کو واضح کردیا ہے۔ اس کا پورا نظام بفضلہ تعالیٰ محفوظ ہے۔ آج اگر کوئی روشن خیالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء کے مشن اور نظام کائنات کے خلاف چلنے والے کفار کی دنیا میں سزا اور آخرت میں اس کا انجام۔
اکثر مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ایمان کے بعد کفر اختیار کرنے والوں سے مراد اہل کتاب ہیں۔ کیونکہ تورات اور انجیل کے حوالے سے وہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے بارے میں قلبی طور پر مانتے ہیں کہ یہ حق ہے۔ اس فرمان کے مخاطب اہل کتاب ہوں یا مرتدین آپ کی رسالت کی حقیقت کے ٹھوس دلائل جاننے کے باوجود جو بھی تسلیم ورضا کارویّہ اختیار نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت عطا نہیں کیا کرتا۔ جو شخص اپنے آپ پر ظلم کرنے کے درپے ہوجائے اس کا ہاتھ پکڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ ہر…
Read the full tafseer →مرتدین کا حکم :
85: وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ ۔ وَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (جو اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین تلاش کرے) دین اسلام سے مراد توحید اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری یا دین محمدی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام۔ دِیْنًا یہ یَّبْتَغِسے تمیز ہے۔ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ ( پس وہ ہرگز اس سے قبول نہ کی جائے گی اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا) یعنی ان لوگوں میں سے ہوگا۔ یہ ان لوگوں کے متعلق اتری جو مکہ میں اسلام لائے پھر اسلام سے ارتداد اختیار کرکے اہل مکہ سے جاملے۔
Read the full tafseer →85۔ (آیت)” ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ “۔ اس آیت کا نزول بارہ آدمیوں کے بارے میں ہوا یہ لوگ مرتد ہو کر مدینہ سے مکہ کو چلے گئے تھے انہیں میں حارث بن سوید انصاری بھی تھے (اور یہ مرتد ہو کر چلے گئے تھے لیکن پھر سچے دل سے توبہ کرکے واپس آگئے تھے) (آیت)” وھو فی الاخرہ من الخاسرین “۔
86۔ (آیت)” کیف یھدی اللہ قوما کفروا بعد ایمانھم “۔ کیف حرف استفہام جحد کے معنی میں ہے عبارت یوں ہوں ی (آیت)” لایھدی اللہ “۔ کہ اللہ ان کو ہدایت نہیں دے گا اور بعض نے کہا کہ اللہ ان کو آخرت میں کیسے ہدایت دے گا جنت اور ثواب کی طرف۔ (آیت)” وشھدوا ان الرسول حق وجاء ھم البینت ، واللہ لا یھدی القوم الظالمین “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
(83 ۔ 85) ۔ غصہ کے ایک استفسار کے طور پر اس آیت کا تعلق اوپر کی آیت سے ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا کرنے سے ہزارہا برس پہلے دنیا کے ہر ایک دور کی مصلحت کے موافق ایک قانون قرار دیا ہے۔ جس کو اس دور کی شریعت ٹھہرایا ہے اور اسی مصلحت وقتیہ کے انتظام کے لئے ہر نبی اور امت سے وہ معاہدہ قرار پا چکا ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت میں ہے تو پھر اب جو کوئی اس انتظام الٰہی میں خلل ڈالے گا۔ اور سوائے اس شریعت وقتیہ کے غیر وقتیہ شریعت پر چلے گا وہ اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے کچھ اجر نہ پائے گا۔ اور اس کا کیا کرایا سب اکارت ہے کیونکہ اجر اسی عمل پر ہے جو مرضی کے موافق ہو خلاف مرض الٰہی کام…
Read the full tafseer →اللہ نے بندوں کے لیے دین اسلام پسند کیا ہے۔ جو شخض اللہ کے اس پسندیدہ دین کے علاوہ کسی اور دین پر چلے گا ‘ اس کا عمل ناقابل قبول ہوگا۔ کیونکہ دین اسلام میں اخلاص کے ساتھ اللہ کی اطاعت قبول کرنا اور رسولوں کی فرماں برداری کرنا شامل ہے۔ جب تک یہ کام نہ کرے ‘ اس وقت تک اس نے اللہ کے عذاب سے نجات دینے والا ‘ اور اللہ کے ثواب کا باعث بننے والا عمل نہیں کیا۔ اور اسلام کے سواہر مذہب باطل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–92
راہ خدا میں محبوب چیز قربان کرنا
قول باری ہے (لن تنالوالبرحتی تنفقوامما تحبون، تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیزرکھتے ہو) البر کے معنی دواقوال ہیں اول جنت عمروبن میمون اور سدی سے یہی منقول ہے۔ دوم نیکی کا کام جس کی بناپربندے اجر کے مستحق قرارپاتے ہیں نفقہ سے مراد اللہ کی راہ میں صدقہ وغیرہ کی صورت میں پسند یدہ چیزیں دے دینا ہے۔ یزیدبن ہارون نے حمید سے، انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب درج بالاآیت نازل ہوئی نیزیہ آیت (من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا، کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے) تو حضرت ابوطلحہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا…
Read the full tafseer →177 دین اللہ تعالیٰ کے یہاں صرف اسلام ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دین اللہ تعالیٰ کے یہاں صرف اسلام ہے۔ پس اسلام کے سوا کوئی بھی دین اللہ تعالیٰ کے یہاں قابل قبول نہیں : کہ وہ سب ناحق ہے۔ دین حق تو صرف اسلام ہے۔ جس میں انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کا سامان ہے۔ اب جس نے اس سے منہ موڑ کر کسی اور طریقہ و دین کو اپنایا اس نے راہ حق و صواب سے روگردانی کی۔ اور وہ نجات کی بجائے ہلاکت و تباہی کے راستے پر چل پڑا۔ تو پھر اس سے ایسے کسی بناوٹی دین کو اللہ پاک کے یہاں آخر کیونکر قبول کیا جاسکتا ہے ؟ لہٰذا ہدایت و نجات اور دنیا و آخرت کی فوز و فلاح کا راستہ ایک اور صرف ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
انبیاء کا سلسلہ اور اسلام
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کو دین محمدی یعنی دین اسلام کی مقبولیت اور صداقت کے بارے میں اعلان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ وضاحت سے لوگوں کو بتا دیں کہ ہم لوگ مسلمان ہیں جو کچھ ہم پر نازل ہوا اور جو کچھ ہم سے پہلے نبیوں پر نازل ہوا، ہم ان سب کو مانتے ہیں۔ یہ نہیں کہ کسی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں۔ ہمارے لئے تمام انبیاء عزت کے قابل ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اسماعیل (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) یعقوب (علیہ السلام) ، اولاد یعقوب (علیہ السلام) سب ہمارے لئے عزت و احترام کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کی تعلیمات کو ہم مانتے ہیں اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–91
آیات 81- 91
اسرارومعارف
واذاخذ اللہ میثاق النبیین…………………وھوفی الاخرۃ من الخسرین۔
اور یہ نبی جس کا انکار کرنے کے لئے یہود طرح طرح کی حیلہ جو ئیاں کر رہے ہیں یہ تو ایسی عظیم ہستی ہے کہ تمام نوع انسانی کا نبی ہے۔ نہ صرف نبی الامت ہے بلکہ نبی الانبیاء اور امام المرسلین ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اللہ نے تمام انبیاء سے عہد لیا تھا کہ جب تمہیں کتاب و حکمت عطا ہو یعنی تم بحیثیت نبی کے مبعوث کئے جائو۔
یاد رہے کہ کتاب کے ساتھ ہر جگہ حکمت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کتاب الٰہیہ کے معانی بھی من جانب اللہ حکمت کے نام سے انبیاء کو تعلیم کئے جاتے ہیں اور کوئی ایسا معنی جو پیغمبر کے ارشاد کردہ معانی کے مطابق نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–85
ف 1 تشریح کے لیے دیکھئے سورت بقرہ آیت2 یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے مبعوث ہوجا نے کے بعد جو شخص آپ ﷺ کی فرما نبر داری اور اطاعت کا راستہ چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کرے گا یا کسی پہلے راستہ پر چلنا رہے گا وہ چا ہے کتنا ہی توحید پرست کیوں نہ ہو اور پچھلے انبیا ( علیہ السلام) پر ایمان رکھنے والا ہو اگر وہ محمد ﷺ پر ایمان نہیں رکھتا تو اس کی دینداری اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہ ہوگی اور وہ آخرت میں نامراد و ناکام ہوگا۔ اس معنی ہیں آنحضرت ﷺ کا رشاد بھی ہے۔ من عمل عملا لیس علیہ امر نا فھو رد یعنی جس نے کوئی ایسا کام کیا جو ہمارے طریقہ کے مطابق نہیں ہے وہ مردود ہے۔ ابن کثیر۔ شوکانی )
3 یعنی جو لوگ حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–90
(3:85) یبتغ۔ اصل میں ینتغی تھا۔ من عامل کی وجہ سے غ جو آخری متحرک حرف تھا ساکن ہوگیا۔ ی بوجہ ساکنین کے گرگئی۔ ی کی موجودگی کو ظاہر کرنے کے لئے غ مکسور کردی گئی مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ ابتغاء مصدر۔ چاہے۔ ڈھونڈھے۔ طلب کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–91
لغات القرآن آیت نمبر 81 تا 91
لتومنن (البتہ تم ضرور ایمان لاؤگے) لن یقبل (ہرگز قبول نہ کیا جائے گا) لتنصرن (البتہ تم ضرور مدد کروگے) لایخفف (کمی نہ کی جائے گی) اصری (میرا بوجھ) لن تقبل (ہرگز قبول نہ کی جائے گی) یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں) الضآلون (گمراہ ہونے والے) طوع (خوشی سے) ملء الارض (زمین بھر) کرہ (زبردستی) لوافتدٰی (اگر وہ بدلہ میں دے) یبتغ (تلاش کرے گا) ۔
تشریح : آیت نمبر 81 تا 91
پچھلی آیات میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں اس کی تردید کردی ہے کہ انبیاء کرام اپنا بندہ بنانے
نہیں آتے بلکہ سچی بات یہ ہے کہ انبیاء کرام لوگوں کو اللہ والا بنانے آتے ہیں۔ ان آیات میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
اسلام کے سوا کوئی راستہ خدا تک پینچنے کے لئے نہیں
شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت یہود ونصاریٰ کے حق میں نازل ہوئی کہ آنحضرت ﷺ نے نبی ہونے سے پہلے یہود لوگ آنحضرت ﷺ کو نبی برحق مانتے تھے اور آپ کا نام لے کر فتح کی دعا مانگتے تھے۔ جب آحضرت ﷺ نبی ہوئے تو مرتدوں کی طرح آپ سے پھرگئے اور کافر ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو کیسے توفیق ایمان دے جو جان بوجھ کر منکر ہوگئے، حضور ﷺ کے معجزات دیکھ چکے تھے۔ حارث بن سوید انصاری اور طعمہ بن ابریق وغیرہ کو کفار کے ساتھ جاملنے کے بعد ندامت ہوئی تو انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں کو جو مدینہ میں تھے یہ پیام کہلا بھیجا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے دریافت کریں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
[32] یعنی آسمان اور زمین میں جس قدر مخلوق ہے اللہ کی اطاعت کر رہی ہے جمادات، حیوانات اور نباتات زمین میں اور ملائکہ آسمان میں اسی کے حکم کے پابند ہیں اور '' کرہاً '' سے یہی مراد ہے۔ انسانوں میں بھی بہت سے ایسے ہیں جو اپنے ارادہ و اختیار سے اس کی بندگی کر رہے ہیں اور '' طوعاً '' سے اشارہ اسی طرف ہے۔
Read the full tafseer →دین مقبول :
(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ خدا پرستی کے تمام راستے جو شاہراہ اسلام سے الگ ہیں شاہد حقیقت تک رسائی نہیں رکھتے اور بجز دین حنیف کے تمام ادیان باطل ‘ محدوش اور غیر محفوظ ہیں ، اس لئے جو چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حریم عزت و عظمت تک پہنچے ، ضرور ہے کہ اپنے لئے اسلام کی سیدھی اور محفوظ رہ اختیار کرلے ، ورنہ ہر طریق غیر مصائب ‘ نادرست اور نامکمل ہے ،
اسلام سے پہلے جس قدر تعلیمات موجود تھیں ، وہ وقتی ضروریات کے لئے تھیں اور جب تک ان کی ضروریات کے لئے تھیں اور جب تک ان کی ضرورت رہی ‘ ان کو باقی رکھی گیا ، مگر آفتاب حقیقت کے طلوع ہونے پر یہ انجم باوجود اپنی تابانی کے آنکھوں سے اوجھل…
Read the full tafseer →ف 3۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ اسلام کا ماحصل بیان کرنے کی غرض سے فرما دیجئے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور وہ احکام جو ہم پر نازل کئے گئے ہیں ان پر بھی ایمان لائے اور اس حکم پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ابراہیم (علیہ السلام) پر اور اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی ہر اولاد میں سے جو نبی ہوئے ہیں ان پر نازل کیا گیا ہے اور ہم اس چیز پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے نبیوں کو عطا کی گئی تھی ہم ان پیغمبروں میں سے کسی ایک کو بھی ایمان لانے میں جدا نہیں کرتے یعنی تفریق اس طرح کہ کسی پر ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
ف 2۔ یہ مطلب نہیں کہ ایسوں کو کبھی توفیق اسلام کی نہیں دیتے بلکہ مقصود ان کے اسی دعوے مذکور کی نفی کرنا ہے وہ کہتے تھے کہ ہم نے جو اسلام چھوڑ کر یہ طریق اختیار کیا ہے تو ہم کو خدا نے ہدایت دی ہے خلاصہ نفی کا یہ ہوا کہ جو شخص کفر کا بےڈھنگا راستہ اختیار کرے وہ ہدایت خداوندی پر نہیں اس لیے وہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھ کو خدا نے ہدایت دی ہے کیونکہ کفر ہدایت کا راستہ نہیں بلکہ ایسے لوگ یقینا گمراہ ہیں۔
Read the full tafseer →دین اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا دین قبول کرنے والوں کا حال :
171: اگر کوئی تاجر راس المال ہی کو ضائع کر دے تو وہ کیا تجارت کرے گا ؟ دین اسلام کو چھوڑنے والوں کا بھی ایسا ہی حال ہے کہ گویا انہوں نے راس الامال ہی کو ضائع کردیا۔ دین اسلام ہی تو وہ دین ہے جو سب انبیاء کرام (علیہم السلام) کا موعود دین ہے اور یہی دین ہے جو سارے رسولوں کی تصدیق کا ضامن ہے اور بلحاظ اپنے معنی کے سارے ذرات عالم کا مذہب بھی ہے تو جو شخص ایسے کامل اور مکمل دین کو چھوڑ کر کسی ناقص دین کو قبول کرے گا وہ خسارہ میں ہے اور خسارہ بھی وہ جو راس المال میں ہو اس لیے اس نے اپنے راس المال کو تباہ کردیا اور یاد رہے کہ دین اسلام میں…
Read the full tafseer →Commentary
The literal meaning of 'Islam' is 'submission and obedience.' As a term 'Islam' stands for submission to that particular religion which Allah Almighty has sent through his prophets (علیہم السلام) to guide human beings, because fundamental principles are the same in the religious codes of all prophets (علیہم السلام) .
Correspondingly, there are occasions when 'Islam' is used in that general sense, while there are other occasions when it is used exclusively to identify the Last Shari'ah which was revealed to the Last of the Prophets (علیہ السلام) . Both these kinds of application…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
73. This is a repetition of the statement made earlier, namely that the Jewish rabbis of Arabia in the time of the Prophet (peace be on him) knew, and sometimes even testified to verbally, that Muhammad was a true Prophet and that his teachings were the same as those of the earlier Prophets. (See for instance Qur'an 2: 89 - Ed.) Their subsequent attitude - namely that of rejection and opposition - was the outcome of prejudice and intransigence, born out of their centuries-old hostility to the Truth.
Read the full tafseer →