Aal-i-Imraan 3:84

Aal-i-Imraan · from ayah 84

3:84

قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَمَاۤ اُنْزِلَ عَلٰۤی اِبْرٰهِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی وَالنَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ ۪— لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ ؗ— وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ ۟قُلۡ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ عَلٰٓى اِبۡرٰهِيۡمَ وَ اِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ وَالۡاَسۡبَاطِ وَمَاۤ اُوۡتِىَ مُوۡسٰى وَ عِيۡسٰى وَالنَّبِيُّوۡنَ مِنۡ رَّبِّهِمۡ ۖ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ وَنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَ

کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو کتاب ہم پر نازل ہوئی اور جو صحیفے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر اترے اور جو کتابیں موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے انبیاء کو پروردگار کی طرف سے ملیں سب پر ایمان لائے ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرماں بردار ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "We have believed in Allah and in what was revealed to us and what was revealed to Abraham, Ishmael, Isaac, Jacob, and the Descendants, and in what was given to Moses and Jesus and to the prophets from their Lord. We make no distinction between any of them, and we are Muslims [submitting] to Him."

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 9 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:84

اے نبیؐ! کہو کہ "ہم اللہ کو مانتے ہیں، اُس تعلیم کو مانتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے، اُن تعلیمات کو بھی مانتے ہیں جو ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ پر نازل ہوئی تھیں اور اُن ہدایات پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو موسیٰؑ اور عیسیٰؑ اور دوسرے پیغمبروں کو اُن کے رب کی طرف سے دی گئیں ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے تابع فرمان (مسلم) ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو کتاب ہم پر نازل ہوئی اور جو صحیفے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر اترے اور جو کتابیں موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے انبیاء کو پروردگار کی طرف سے ملیں سب پر ایمان لائے ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرماں بردار ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجئے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو کچھ ہم پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ اور یعقوب ؑ اوران کی اوﻻد پر اتارا گیا اور جو کچھ موسیٰ وعیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیئے گئے، ان سب پر ایمان ﻻئے، ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر اتاری گئی اس پر، اور اس (ہدایت) پر جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور (ان کی) اولاد پر ان کے پروردگار کی طرف سے اتاری گئی، اور ان باتوں پر جو موسیٰ ، عیسیٰ اور (دوسرے) پیغمبروں کو عطا کی گئیں۔ ہم ان (پیغمبروں) میں سے کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے، اور ہم اسی (ایک اللہ) کے آگے سرجھکائے ہوئے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اُسی کی طرف پھیریں گے، یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اترا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں پر اور جو کچھ ملا موسیٰ اور عیسیٰ اور انبیاء کو ان کے رب سے، ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے حضور گردن جھکائے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ فرمائیں: ہم اﷲ پر ایمان لائے ہیں اور جو کچھ ہم پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب (علیھم السلام) اور ان کی اولاد پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ موسٰی اور عیسٰی اور جملہ انبیاء (علیھم السلام) کو ان کے رب کی طرف سے عطا کیا گیا ہے (سب پر ایمان لائے ہیں)، ہم ان میں سے کسی پر بھی ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے تابع فرمان ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہم پر نازل کیا گیا اور جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد پر نازل کیا گیا اور جو موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا، ہم ان میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہہ دیجئے کہ ہم تو اس چیز پر ایمان لاتے ہیں جو ہم پر اتاری گئی اور اس پر بھی جو حضرت ابراہیم، اسمٰعیل، اسحق، یعقوب اور اس کی اولاد پر نازل ہوئی اور ان (کتابوں) پر بھی جو حضرت موسیٰ و عیسیٰ اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے دی گئیں۔ ہم ان کے درمیان کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی اللہ کے تابع فرمان ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم کہہ دو کہ ہم تو اللہ پر اور اس چیز پر ایمان لائے جو ہم پر اتاری گئی اور اس چیز پر جو ابراہیم اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد پر اتاری گئی اور اس چیز پر جو موسیٰ ، عیسیٰ اور دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی جانب سے دی گئی، ہم ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو کوئی مانے یا نہ مانے ہم تو بہر حال ایمان لائے اللہ پر اور اس (وحی و کتاب) پر جو اتاری گئی ہم پر، اور اس پر بھی جو اتاری گئی ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، اور ان کی اولاد پر، اور اس سب پر بھی جو کچھ کہ دیا گیا موسیٰ ، عیسیٰ اور دوسرے نبیوں کو، ان کے رب کی جانب سے، ہم ان میں سے کسی ایک کی بھی تفریق نہیں کرتے، ہم خالص اسی کے فرمانبردار ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجئے کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس پر جو ہمارے اوپر اتارا گیا ہے اور اس پر جو ابراہیم ؑ اور اسمعیل ؑ اور اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ اور اولاد یعقوب پر اتارا گیا ہے اور اس پر جو موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ اور (دوسرے) نبیوں کو دیا گیا ان کے پروردگار کی طرف سے۔ ہم ان میں باہم کوئی فرق نہیں کرتے۔ اور ہم تو (اسی) اللہ کے فرمانبردار ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہیے ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو نازل کیا گیا ہم پر اور جو کچھ نازل کیا گیا ابراہیم ؑ اسماعیل ؑ اسحاق ؑ یعقوب ؑ اور ان کی اولاد پر اور جو بھی موسیٰ ؑ عیسیٰ ؑ اور تمام انبیاء ؑ کو دیا گیا ان کے رب کی طرف سے ہم ان میں سے کسی ایک کے مابین بھی کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم تو اللہ ہی کے فرمانبردار ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اے نبی ﷺ کہو کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں، اس تعلیم کو مانتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے، ان تعلیمات کو بھی مانتے ہیں جو ابراہیم، اسماعیل، اسحق، یعقوب اور اولاد یعقوب پر نازل ہوئی تھیں، اور (ان ہدایات پر بھی) ایمان رکھتے ہیں جو موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئیں، ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے تابع فرمان ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: 'We believe in Allah and what was revealed to us and what was revealed to Abraham and Ishmael and to Issac and Jacob and his descendents, and the teachings which Allah gave to Moses and Jesus and to other Prophets. We make no distinction between any of them and to Him do we submit.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :We believe in Allah and in what has been revealed to us and in what was revealed to Ibrahim, Ismai'l, IsHaq , Ya'qub and the descendants, and in what has been given to Musa, lsa, and the prophets, from their Lord: We do not differentiate between any of them; and to Him we submit ourselves.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :We believe in Allah and in what has been revealed to us and in what was revealed to Ibrahim, Ismail, IsHaq , Yaqub and the descendants, and in what has been given to Musa, lsa, and the prophets, from their Lord: We do not differentiate between any of them; and to Him we submit ourselves.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "We believe in Allah and in what has been sent down to us, and what was sent down to Ibrahim, Isma`il, Ishaq, Ya`qub and Al-Asbat, and what was given to Musa, `Isa and the Prophets from their Lord. We make no distinction between one another among them and to Him (Allah) we have submitted."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (O Muhammad): We believe in Allah and that which is revealed unto us and that which was revealed unto Abraham and Ishmael and Isaac and Jacob and the tribes, and that which was vouchsafed unto Moses and Jesus and the prophets from their Lord. We make no distinction between any of them, and unto Him we have surrendered.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "We have believed in Allah and in what was revealed to us and what was revealed to Abraham, Ishmael, Isaac, Jacob, and the Descendants, and in what was given to Moses and Jesus and to the prophets from their Lord. We make no distinction between any of them, and we are Muslims [submitting] to Him."

— Saheeh International

(Muhammad), say, "We believe in God and in that which has been revealed to us and in that which was revealed to Abraham, Ishmael, Isaac, Jacob, and their descendants. We believe in that which was given to Moses, Jesus, and the Prophets by their Lord. We make no distinction between them and we have submitted ourselves to the will of God".

— Muhammad Sarwar

Say: We believe in Allah and what has been revealed to us, and what was revealed to Ibrahim and Ismail and Ishaq and Yaqoub and the tribes, and what was given to Musa and Isa and to the prophets from their Lord; we do not make any distinction between any of them, and to Him do we submit.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: we believe in Allah and in that which is sent down unto us, and that which was sent down unto Ibrahim and Isma'il and Is-haq and Ya'qub and the tribes, and that which was vouchsafed unto Musa and 'Isa and other prophets from their Lord: we differentiate not between any of them, and unto Him we are submistive.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "We believe in Allah, and in what has been revealed to us and what was revealed to Abraham, Isma'il, Isaac, Jacob, and the Tribes, and in (the Books) given to Moses, Jesus, and the prophets, from their Lord: We make no distinction between one and another among them, and to Allah do we bow our will (in Islam)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:84

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 83–85

اسلامی اصول اور روز جزا اللہ تعالیٰ کے سچے دین کے سوا جو اس نے اپنی کتابوں میں اپنے رسولوں کی معرفت نازل فرمایا ہے یعنی صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کی عبادت کرنا کوئی شخص کسی اور دین کی تلاش کرے اور اسے مانے اس کی تردید یہاں بیان ہو رہی ہے پھر فرمایا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں اس کی مطیع ہیں خواہ خوشی سے ہوں یا ناخوشی سے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ) 13۔ الرعد :15) یعنی زمین و آسمان کی تمام تر مخلوق اللہ کے سامنے سجدے کرتی ہے اپنی خوشی سے یا جبراً اور جگہ ہے آیت (اَوَلَمْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة اٰلِ عِمْرٰن 72 یعنی ہمارا طریقہ یہ نہیں ہے کہ کسی نبی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں، کسی کو جھوٹا کہیں اور کسی کو سچا۔ ہم تعصب اور حمیت جاہلیہ سے پاک ہیں۔ دنیا میں جہاں، جو اللہ کا بندہ بھی اللہ کی طرف سے حق لے کر آیا ہے، ہم اس کے بر حق ہونے پر شہادت دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 81–84

اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب کہ اللہ تعالیٰ نے عہد لیا (حضرات) انبیاء (علیہم السلام) سے کہ جو کچھ تم کو کتاب اور علم (شریعت) دوں (اور) پھر تمہارے پاس کوئی (اور) پیغمبر آوے جو مصداق (اور موافق) ہو اس (علامت) کا جو تمہارے پاس (کی کتاب اور شریعت میں) ہے (یعنی دلائل معتبرہ عند الشرع سے اس کی رسالت ثابت ہو) تو تم ضرور اس رسول (کی رسالت) پر (دل سے) اعتقاد بھی لانا اور (ہاتھ پاؤں سے) اس کی مدد بھی کرنا (پھر یہ عہد بیان کر کے ارشاد فرمایا کہ آیا تم نے قرار کیا اور لیا اس (مضمون) پر میرا عہد (اور حکم قبول کیا) وہ بولے کہ ہم نے اقرار کیا، ارشاد فرمایا تو (اپنے اس اقرار پر) گواہ بھی رہنا (کیونکہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اسلام کا کلمہ جامعہ : یہ آیت بعینہ سورة بقرہ میں بھی گزر چکی ہے۔ وہاں اس کے تمام الفاظ اور مطالب پر بحث ہوچکی ہے ملاحظہ ہو آیت 136 بقرہ۔ یہ پیغمبر ﷺ کی زبان سے اسلام کے کلمہ جامعہ کا اعلان کرایا گیا ہے اور سیاق کلام یہ ہے کہ یہ اہل کتاب اگر اسلام کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں تو انہیں ان کی خواہش کے حوالہ کرو۔ شیطان جس وادی میں چاہے ان کو ٹھوکر کھلائے۔ تم ان کے پیچھے اپنی اوقات رائیگاں نہ کرو بلکہ اعلان کردو کہ ہم تو اللہ اور اس کے اس دین پر ایمان لائے جو تمام انبیا کا دین ہے۔ ہم ان انبیا میں کوئی تفریق نہیں کرتے کہ کسی کو مانیں، کسی کو نہ مانیں۔ ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہم خدا ہی کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

84۔ 1 یعنی تمام سچے نبیوں پر ایمان لانا کہ وہ اپنے اپنے وقت میں اللہ کی طرف سے مبعوث تھے نیز ان پر جو الہامی کتابیں نازل ہوئیں ان کی بابت بھی عقیدہ رکھنا کہ وہ آسمانی کتابیں تھیں اور واقعۃً اللہ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں ضروری ہے۔ گو اب عمل صرف قرآن کریم پر ہی ہوگا کیونکہ قرآن نے پچھلی کتابوں کو منسوخ کردیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 84–90

31: یعنی جب تک وہ کفر سے توبہ کر کے ایمان نہیں لائیں گے، دوسرے گناہوں سے ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 84–85

یہ ہے اسلامی تصور حیات ‘ جو بہت وسیع ہے اور اس میں تمام سابقہ رسالتیں شامل ہیں اور اسلامی نظام کے جھنڈے تلے وہ تمام رسول جمع ہیں جنہوں نے کبھی بھی رسالت خداوندی کا فریضہ سر انجام دیا ۔ اسلامی نظام کی اساس عقیدہ توحید پر ہے اور اس کے تصور کے مطابق تمام انبیاء کا منبع ہدایت ایک ہے یعنی ذات باری اور ذات باری ‘ اور تمام انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہے ۔ یہاں یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ پہلی آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ اللہ کی ذات پر ایمان لانے کا حکم ہے ۔ پھر اس کتاب پر ایمان لانے کا حکم ہے جو مسلمانوں پر نازل ہوئی اور پھر ان کتابوں پر ایمان لانے کا ذکر ہے جو مسلمانوں سے قبل دوسرے انبیاء پر نازل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی جو کچھ جس زمانہ میں خدا کی طرف سے اترا۔ یا کسی پیغمبر کو دیا گیا، ہم بلا تفریق سب کو حق مانتے ہیں۔ ایک مسلم فرمانبردار کا یہ وتیرہ نہیں کہ خدا کے بعض پیغمبروں کو مانے بعض کو نہ مانے، گویا اخیر میں ونحن لہ مسلمون کہہ کر اسلام کی حقیقت بتلا دی اور آگاہ کردیا کہ اسلام کسی نبی برحق اور کسی آسمانی کتاب کی تکذیب کا روا دار نہیں۔ اس کے نزدیک جس طرح قرآن کریم اور پیغمبر عربی ﷺ کا نہ ماننا کفر ہے ایسے ہی کسی ایک نبی یا کتاب سماوی کا انکار کرنے سے بھی انسان کافر ہوجاتا ہے۔ بیشک پیغمبر آخر الزمان کی یہ ہی شان ہونی چاہیے کہ وہ تمام پہلی کتابوں اور نبوتوں کا مصدق ہو۔ اور اس طرح کی تمام اقوام کو جن…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 84–85

آیت 84 قُلْ اٰمَنَّا باللّٰہِ وَمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا یاد رہے کہ سورة البقرۃ کی آیت 136 میں تھوڑے سے لفظی فرق کے ساتھ یہی مضمون بیان ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

74 یعنی ہمارا یہ طریقہ نہیں کہ ہم کسی نبی پر ایمان لائیں اور کسی پر نہ لائیں، کسی کو جھوٹا کہیں اور کسی کو سچا اور چونکہ سب بلحاظ درجہ نبوت برابر ہیں۔ لہذا ہم ان کے درمیان کچھ فرق نہیں کرتے۔ حمیت جاہلیہ سے کام لینا ہمارا شیوہ نہیں۔ بلکہ اللہ کا جو بندہ بھی اللہ کی طرف سے حق لے کر آیا ہے ہم اس کے برحق ہونے پر شہادت دیتے ہیں۔ (انبیاء کے درمیان تفریق کی مزید وضاحت کے لیے سورة بقرہ کی آیت 285 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

187 ۔ یہاں یہ حقیقت ایک بار پھر دہرادی گئی ہے کہ اسلام کوئی نیا، نوپیدا اور انوکھا دین نہیں۔ وہی پرانا دین توحید ہے۔ سارے انبیاء ومرسلین اسی کی تبلیغ کرتے چلے آئے ہیں۔ اور مسلمان کا ایمان سارے پیغمبروں پر یکساں ہوتا ہے۔ (آیت) ” قل۔ یعنی اے پیغمبر آپ اپنی امت کی طرف سے کہہ دیجئے (آیت) ” انزل علینا “۔ یعنی قرآن مجید، نزول قرآن کا انتساب جس طرح عموما پیغمبر کی طرف کیا گیا ہے، اسی طرح کبھی کبھی پیغمبر کی امت کی جانب بھی کردیا گیا ہے۔ اور فعل انزال کا صلہ قرآن مجید میں حرف علی اور الی دونوں کے ساتھ آتا ہے۔ (آیت) ’ ’ الاسباط “۔ یعنی اولاد یعقوب میں سے جو جو پیغمبر ہوئے ہیں۔ اس لفظ پر حاشیہ پارۂ اول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 83–86

کَیْفَ یَھْدِی اللہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانَھِمْ وَشَھِدُوْآ اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌ (الآیۃ) یہاں پھر اسی بات کا اعادہ کیا جا رہا ہے جو اس سے پہلے بارہا بیان کی جا چکی ہے کہ نبی ﷺ کے عہد میں عرب کے یہودی علماء جان چکے تھے اور ان کی زبانوں تک سے اس امر کی شہادت ادا ہوچکی تھی کہ آپ ﷺ نبی برحق ہیں اور جو تعلیم آپ لائے ہیں وہ وہی تعلیم ہے جو پچھلے انبیاء لاتے رہے ہیں اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا وہ محض تعصب، ضد اور دشمنی، اس پرانی عادت کا نتیجہ تھا جس کے وہ صدیوں سے مجرم چلے آرہے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قُلْ اٰمَنَّا : آپ کہہ دیں کہ ہم مانتے ہیں یہ خطاب یا رسول اللہ کو ہے آپ کی عظمت کے اظہار کے لیے شاہانہ طریقۂ کلام کا حکم دیا یا یہ حکم دیا کہ اپنے ساتھ اپنے متبعین کو بھی شامل قرار دے کر اظہار ایمان کرو۔ یا خطاب ہر مؤمن کو ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ اپنے ساتھ ہر مؤمن بھائی کو شامل سمجھ کر اظہار ایمان کریں۔ بِاللّٰهِ : تنہا اللہ کو وما انزل علینا اور اس قرآن کو جو ہم پر اتارا گیا ہے اگر خطاب ہر مؤمن کو مانا جائے تو ہم پر نازل ہونے سے مراد ہوگا رسول اللہ کی وساطت سے ہم تک پہنچنا۔ یا یوں تاویل کی جائے گی کہ اگر جماعت کے کسی ایک فرد کی طرف کسی فعل کی نسبت کی جائے (اور وہ فرد اہم ہو) تو پوری جماعت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(84) اے محمد ﷺ آپ خاص دین اسلام کے لیے فرما دیجیے کہ ہم اس ذات وحدہ لاشریک پر اور قرآن کریم اور حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی کتاب اور ان کی کتاب پر حضرت اسماعیل ؑ اور ان کی کتاب پر حضرت اسحاق ؑ اور ان کی کتاب پر حضرت یعقوب ؑ اور ان کی کتاب پر، اور حضرت یعقوب ؑ کی اولاد میں جو انبیاء گزرے ہیں ان پر اور ان کی کتابوں پر حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی کتاب پر اور حضرت عیسیٰ ؑ ان کی کتاب پر اور کلی طور پر تمام انبیاء کرام اور ان کی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں، ہم ان انبیاء کرام میں سے کسی کا بھی انکار نہیں کرتے یا یہ کہ نبوت واسلام میں کسی میں بھی باہمی تفریق نہیں کرتے اور ہم اس ذات الہی کی عبادت کرنے والے اور…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ اٰمَنَّا باللّٰهِ۔۔ : اس آیت کی تشریح کے لیے سورة بقرہ کی آیت (136) دیکھیے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 83–84

آیت نمبر : 83 تا 84۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” افغیر دین اللہ یبغون “۔ کلبی نے کہا ہے : کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں نے نصاری کے ساتھ اپنا جھگڑا حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیا اور عرض کی : ہم میں سے کون زیادہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہے ؟ تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” دونوں فریق آپ کے دین سے بری ہیں “ (یعنی دونوں اس پر نہیں ہیں) تو انہوں نے کہا : نہ ہم آپ کے فیصلے پر راضی ہیں اور نہ ہی ہم آپ کا دین قبول کرتے ہیں، تب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” افغیر دین اللہ یبغون “۔ کیا اللہ تعالیٰ کے دین کے سوا (کوئی اور دین) وہ تلاش کرتے ہیں آیت میں غیر کو یبغون فعل کے سبب نصب دی گئی ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 84–85

(1) احمدو طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا قیامت کے دن اعمال آئیں گے نماز آئے گی اور کہے گی اے میرے رب میں نماز ہوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بلاشبہ تو خیر پر ہے اور صدقہ آئے گا وہ کہے گا اے میرے رب میں صدقہ ہوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو بھی خیر پر ہے پھر روزہ آئے گا وہ کہے گا میں روزہ ہوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بلاشبہ تو بھی خیر پر ہے پھر اس طرح سارے اعمال آئیں گے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بلاشبہ تو خیر پر ہے پھر اسلام آئے گا وہ کہے گا اے میرے رب ! آپ سلام ہیں اور میں اسلام ہوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بلاشبہ تو خیر پر ہے آج کے دن تیری وجہ سے پکڑوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہیے ] [اٰمَنَّا : ہم ایمان لائے ] [بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [وَمَآ : اور اس پر جو ] [اُنْزِلَ : اُتارا گیا ] [عَلَیْنَا : ہم پر ] [وَمَآ : اور اس پر جو ] [اُنْزِلَ : اتارا گیا ] [عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) پر ] [وَاِسْمٰعِیْلَ : اور اسماعیل (علیہ السلام) پر ] [وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق (علیہ السلام) پر ] [وَیَعْقُوْبَ : اور یعقوب (علیہ السلام) پر ] [وَالْاَسْبَاطِ : اور (ان کی) نسل پر ] [وَمَآ : اور جو ] [اُوْتِیَ : دیا گیا ] [مُوْسٰی : موسٰی (علیہ السلام) کو ] [وَعِیْسٰی : اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ] [وَالنَّبِیُّوْنَ : اور نبیوں کو ] [مِنْ رَّبِّہِمْ : ان کے رب…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 83–84

دین اسلام ہی اللہ کے نزدیک معتبر ہے جو دین اللہ نے اپنی مخلوق کے لیے پسند فرمایا ہے وہ دین اسلام ہے جیسا کہ سورة آل عمران کے دوسرے رکوع میں فرمایا (اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ ) (بےشک دین جو معتبر ہے اللہ کے نزدیک وہ اسلام ہی ہے) اور سورة مائدہ میں فرمایا (اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا) (آج میں نے تمہارے لیے دین مکمل کردیا اور تم پر اپنا انعام مکمل کردیا اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کرلیا) اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کا نام اسلام رکھا ہے جس کا معنی فرمانبر دار ہونے کا ہے۔ ساری مخلوق اللہ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–91

خلاصۂ حقیقت اسلام وعدم قبول غیر دین اسلام قال تعالیٰ افغیر دین اللہ یبغون۔۔ الی۔۔ وما لھم من نصرین توحید اور رسالت کے بعد دین اسلام کی حقیقت کا خلاصہ بیان فرماتے ہیں کہ اسلام اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا نام ہے اور یہی تمام انبیاء کا دین ہے اور اسلام ہی تمام کائنات کا دین ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اسی دین کی دعوت دینے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں جس کی طرف تمام انبیاء دعوت دیتے چلے آئے آخرت کی نجات کا دارومدار یہی دین اسلام ہے اس کے سوا اللہ کے یہاں کوئی دین قبول نہیں کیا جائے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ کیا یہ لوگ آنے والے رسول پر ایمان لانے اور اس کی نصرت کا پختہ عہد اور پیمان کرنے کے بعد بھی اللہ کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

120 پہلے بیان فرمایا کہ وہ معہود پیغمبر اپنے سے پہلے تمام پیغمبروں کی تصدیق کرے گا اس آیت میں آنحضرت ﷺ اور آپ کی امت کو اس تصدیق کے اعلان و اظہار کا حکم دیا گیا۔ یعنی اعلان کردو کہ اللہ نے جو احکام ہم پر نازل فرمائے۔ ہمارا اس پر بھی ایمان ہے اور پہلے انبیاء پر جو کچھ اترا ہم اسے بھی برحق مانتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ سب کا مشن ایک تھا اور سب کو دین توحید ہی دے کر بھیجا گیا۔ 121 حضرت موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) اگرچہ اسباط میں شامل تھے۔ مگر خطاب چونکہ یہود ونصاریٰ سے ہے اس لیے ان کا ذکر اہتمام سے کیا گیا۔ 122 یہاں تفریق سے تکذیب وتصدیق میں تفریق مراد ہے۔ یعنی یہ کہ بعض کو مانا جائے اور بعض…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 83–85

ربط آیات : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کے عہد و پیمان کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ جو اس نے عام لوگوں اور انبیاء (علیہم السلام) سے لیا۔ اور پھر اس عہد کو توڑنے والوں کی سزا کا بیان بھی آ چکا ہے۔ ایسے لوگوں کو اللہ نے ڈانٹ پلائی ہے۔ اس کے بعد دین اسلام کی صداقت اور حقانیت کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس دین اطاعت فرمانبرداری کو قبول نہیں کرتے جس کا ان سے عہد لیا گیا تھا ، تو پھر کیا اس کے علاوہ کسی اور دین کے متلاشی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عہد و پیمان تو دین توحید کے متعلق لیا تھا۔ اور تمام انبیاء (علیہم السلام) اسی دین کی تعلیم دیتے رہے ہیں لہذا وہ کبھی اس بات کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اٰمَنَّا بِاللہِ وَمَآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ عَلٰٓى اِبْرٰہِيْمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْـبَاطِ وَمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَالنَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّہِمْ۝ 0 ۠ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ۝ 0 ۡوَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ۝ 84 أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 83–85

ترکیب : غیر منصوب ہے یبغون کی وجہ سے ومن یتبغ ابتغاء سے مشتق ہے جس کے معنی تلاش کرنا یہ شرط غیر الاسلام منصوب ہے صفت ہو کر دنیا کی جو مقدم ہونے سے حال ہوگیا وہو الخ جواب۔ تفسیر : پہلی آیتوں میں تھا کہ جو نبی تمہارے دین کی تصدیق کرنے والا آئے تو تم پر ضرور ہے کہ اس پر ایمان لائو۔ اس پر یہود و نصاریٰ یہ اعتراض کرتے تھے کہ یہ مسلم لیکن یہ نبی ہمارے دین اور کتاب کا مصدق نہیں کیونکہ الوہیت مسیح اور تثلیث ہمارے دین کا اصل الاصول ہے۔ سو یہ اس کا رد کرتے تھے۔ پھر ہم کیونکر ان پر ایمان لاویں (چنانچہ اب بھی پادری یہی اعتراض کیا کرتے ہیں) اس کا جواب دیا جاتا ہے کہ یہ باتیں تمہارے دین کے اصول نہیں بلکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَـآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَمَـآ اُنْزِلَ عَلٰٓی اِبْرٰہِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی وَالنَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّہِمْ ص لاَ نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍمِّنْہُمْ ز وَنَحْنُ لَـہٗ مُسْلِمُوْنَ ۔ (آپ کہہ دیجیے ! ہم تو اللہ پر اور اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے اور اس چیز پر جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد پر اتاری گئی ہے اور اس چیز پر جو موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی جانب سے دی گئی۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 84–86

فہم القرآن ربط کلام : انبیاء کے مشن اور نظام کائنات کے خلاف چلنے والے کفار کی دنیا میں سزا اور آخرت میں اس کا انجام۔ اکثر مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ایمان کے بعد کفر اختیار کرنے والوں سے مراد اہل کتاب ہیں۔ کیونکہ تورات اور انجیل کے حوالے سے وہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے بارے میں قلبی طور پر مانتے ہیں کہ یہ حق ہے۔ اس فرمان کے مخاطب اہل کتاب ہوں یا مرتدین آپ کی رسالت کی حقیقت کے ٹھوس دلائل جاننے کے باوجود جو بھی تسلیم ورضا کارویّہ اختیار نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت عطا نہیں کیا کرتا۔ جو شخص اپنے آپ پر ظلم کرنے کے درپے ہوجائے اس کا ہاتھ پکڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ ہر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

84: قُلْ ٰامَنَّا بِاللّٰہِ وَمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَمَآ اُنْزِلَ عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰی وَالنَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّھِمْ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ ۔ (کہہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور جو ہم پر اتارا گیا) اس میں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی طرف سے اور ایمان والوں کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی خبر دیں۔ اسی لئے قُلْ صیغہ واحد کا اور ٰامَنَّا میں جمع کا صیغہ اور ضمیر لائی گئی۔ یا اپنی طرف سے اس انداز سے بات کریں جیسے بادشاہ بات کرتے ہیں۔ یہ انداز اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 84۔: (آیت)” قل امنا باللہ واما انزل علینا وما انزل علی ابراھیم واسماعیل واسحق و یعقوب والاسباط وما اوتی موسیٰ و عیسیٰ والنبیون من ربھم لا نفرق بین احد منھم ونحن لہ مسلمون “۔ مختلف ملتوں اور ادیان کا ذکر کیا اور اس میں لوگوں کے اضطراب کو بیان کیا پھر آپ ﷺ کو حکم دیا کہ وہ یہ فرمائیں (آیت)” امنا باللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ الایۃ “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 83–85

(83 ۔ 85) ۔ غصہ کے ایک استفسار کے طور پر اس آیت کا تعلق اوپر کی آیت سے ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا کرنے سے ہزارہا برس پہلے دنیا کے ہر ایک دور کی مصلحت کے موافق ایک قانون قرار دیا ہے۔ جس کو اس دور کی شریعت ٹھہرایا ہے اور اسی مصلحت وقتیہ کے انتظام کے لئے ہر نبی اور امت سے وہ معاہدہ قرار پا چکا ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت میں ہے تو پھر اب جو کوئی اس انتظام الٰہی میں خلل ڈالے گا۔ اور سوائے اس شریعت وقتیہ کے غیر وقتیہ شریعت پر چلے گا وہ اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے کچھ اجر نہ پائے گا۔ اور اس کا کیا کرایا سب اکارت ہے کیونکہ اجر اسی عمل پر ہے جو مرضی کے موافق ہو خلاف مرض الٰہی کام…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 79–92

راہ خدا میں محبوب چیز قربان کرنا قول باری ہے (لن تنالوالبرحتی تنفقوامما تحبون، تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیزرکھتے ہو) البر کے معنی دواقوال ہیں اول جنت عمروبن میمون اور سدی سے یہی منقول ہے۔ دوم نیکی کا کام جس کی بناپربندے اجر کے مستحق قرارپاتے ہیں نفقہ سے مراد اللہ کی راہ میں صدقہ وغیرہ کی صورت میں پسند یدہ چیزیں دے دینا ہے۔ یزیدبن ہارون نے حمید سے، انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب درج بالاآیت نازل ہوئی نیزیہ آیت (من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا، کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے) تو حضرت ابوطلحہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

176 تفریق بین الرسل جائز نہیں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرات انبیائے کرام کے درمیان تفریق جائز نہیں : یعنی ہم ایسا نہیں کرتے کہ کسی پر ایمان لائیں اور کسی پر نہ لائیں، بلکہ ہم سب کو مانتے، اور سب پر ایمان رکھتے ہیں، کہ یہ سب ایک ہی دین حق یعنی اسلام کے ماننے والے اور ایک ہی معبود برحق کی اطاعت اور عبادت و بندگی کا درس دینے والے، اور ایک ہی دعوت کے علمبردار تھے۔ پس ان کے درمیان درجات و مراتب کا فرق اگرچہ موجود تھا، اس لیے ان کے تو ہم قائل ہیں لیکن ان کے درمیان تفریق کرنا کہ کسی کو مانا جائے اور کسی کو نہ مانا جائے، تو یہ جائز نہیں ہے۔ اور نہ ہی ہم اس کے روادار ہیں، بلکہ ہم بلا تفریق و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 84–85

انبیاء کا سلسلہ اور اسلام تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کو دین محمدی یعنی دین اسلام کی مقبولیت اور صداقت کے بارے میں اعلان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ وضاحت سے لوگوں کو بتا دیں کہ ہم لوگ مسلمان ہیں جو کچھ ہم پر نازل ہوا اور جو کچھ ہم سے پہلے نبیوں پر نازل ہوا، ہم ان سب کو مانتے ہیں۔ یہ نہیں کہ کسی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں۔ ہمارے لئے تمام انبیاء عزت کے قابل ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اسماعیل (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) یعقوب (علیہ السلام) ، اولاد یعقوب (علیہ السلام) سب ہمارے لئے عزت و احترام کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کی تعلیمات کو ہم مانتے ہیں اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 81–91

آیات 81- 91 اسرارومعارف واذاخذ اللہ میثاق النبیین…………………وھوفی الاخرۃ من الخسرین۔ اور یہ نبی جس کا انکار کرنے کے لئے یہود طرح طرح کی حیلہ جو ئیاں کر رہے ہیں یہ تو ایسی عظیم ہستی ہے کہ تمام نوع انسانی کا نبی ہے۔ نہ صرف نبی الامت ہے بلکہ نبی الانبیاء اور امام المرسلین ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اللہ نے تمام انبیاء سے عہد لیا تھا کہ جب تمہیں کتاب و حکمت عطا ہو یعنی تم بحیثیت نبی کے مبعوث کئے جائو۔ یاد رہے کہ کتاب کے ساتھ ہر جگہ حکمت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کتاب الٰہیہ کے معانی بھی من جانب اللہ حکمت کے نام سے انبیاء کو تعلیم کئے جاتے ہیں اور کوئی ایسا معنی جو پیغمبر کے ارشاد کردہ معانی کے مطابق نہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 82–85

ف 1 تشریح کے لیے دیکھئے سورت بقرہ آیت2 یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے مبعوث ہوجا نے کے بعد جو شخص آپ ﷺ کی فرما نبر داری اور اطاعت کا راستہ چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کرے گا یا کسی پہلے راستہ پر چلنا رہے گا وہ چا ہے کتنا ہی توحید پرست کیوں نہ ہو اور پچھلے انبیا ( علیہ السلام) پر ایمان رکھنے والا ہو اگر وہ محمد ﷺ پر ایمان نہیں رکھتا تو اس کی دینداری اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہ ہوگی اور وہ آخرت میں نامراد و ناکام ہوگا۔ اس معنی ہیں آنحضرت ﷺ کا رشاد بھی ہے۔ من عمل عملا لیس علیہ امر نا فھو رد یعنی جس نے کوئی ایسا کام کیا جو ہمارے طریقہ کے مطابق نہیں ہے وہ مردود ہے۔ ابن کثیر۔ شوکانی ) 3 یعنی جو لوگ حق…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:84) اسباط۔ قبیلے۔ ایک دادا کی اولاد۔ سبط کی جمع جس کے معنی پوتے اور نواسے دونوں کے ہیں۔ مگر نواسے کے معنی میں اس کا استعمال زیادہ آتا ہے یہاں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 81–91

لغات القرآن آیت نمبر 81 تا 91 لتومنن (البتہ تم ضرور ایمان لاؤگے) لن یقبل (ہرگز قبول نہ کیا جائے گا) لتنصرن (البتہ تم ضرور مدد کروگے) لایخفف (کمی نہ کی جائے گی) اصری (میرا بوجھ) لن تقبل (ہرگز قبول نہ کی جائے گی) یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں) الضآلون (گمراہ ہونے والے) طوع (خوشی سے) ملء الارض (زمین بھر) کرہ (زبردستی) لوافتدٰی (اگر وہ بدلہ میں دے) یبتغ (تلاش کرے گا) ۔ تشریح : آیت نمبر 81 تا 91 پچھلی آیات میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں اس کی تردید کردی ہے کہ انبیاء کرام اپنا بندہ بنانے نہیں آتے بلکہ سچی بات یہ ہے کہ انبیاء کرام لوگوں کو اللہ والا بنانے آتے ہیں۔ ان آیات میں یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 83–84

اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ جبکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا کرنے سے ہزار برس پہلے دنیا کے ہر ایک دور کی مصلحت کے موافق ایک قانون قرار دیا ہے، جس کو اس دور کی شریعت ٹھہرایا ہے اور اسی مصلحت دقتیہ کے انتطام کے لئے ہر نبی اور امت سے وہ معاہدہ قرار پاچکا ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت میں ہے۔ تو پھر اب جو کوئی اس انتظام الہٰی میں خلل ڈالے گا اور سوائے اس شریعت دقتیہ کے غیر دقتیہ شریعت پر چلے گا، وہ اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے کچھ اجر نہ پائے گا اور اس کا سب کیا کرایا اکارت ہے۔ کیونکہ اجر اسی عمل پر ہے جو مرضی الہٰی کے موافق ہو۔ خلاف مرضی الہٰی کام پر تو اور مواخذہ ہوگا اجر کہاں رہا۔ اور آسمان و زمین میں سب پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 83–85

[32] یعنی آسمان اور زمین میں جس قدر مخلوق ہے اللہ کی اطاعت کر رہی ہے جمادات، حیوانات اور نباتات زمین میں اور ملائکہ آسمان میں اسی کے حکم کے پابند ہیں اور '' کرہاً '' سے یہی مراد ہے۔ انسانوں میں بھی بہت سے ایسے ہیں جو اپنے ارادہ و اختیار سے اس کی بندگی کر رہے ہیں اور '' طوعاً '' سے اشارہ اسی طرف ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) اللہ کا دین وہ ہے جسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت مسیح (علیہ السلام) تک سب نے پیش کیا ، اس لئے ضروری ہے کہ ہر مسلم بلاتفریق احدے سب پر ایمان لائے اور یہ یقین رکھے کہ خدا کے پیغمبر ﷺ برحق ہیں اور یہ کہ حق تمام قوموں میں مشترکہ حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے ، سچائی اور صداقت کو جہاں پائے جس صورت میں پائے قابل قبول سمجھے اور کسی تعصب وجہالت سے کام نہ لے ۔ حل لغات : الاسباط : جمع سبط ۔ بمعنی اولاد ۔ الاسلام ، عاجزی وفروتنی ، یہاں دین کامل مراد ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 83–84

ف 2 ۔ کیا اب یہ لوگ اللہ کے دین یعنی اسلام کے سوا کسی اور طریقہ کے متلاشی ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ اس کے جاہ و جلال کے سامنے تمام مخلوق جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے خوشی اور نا خوشی سے سب کی سب سرافگندہ ہے اور جس قدر خلوق آسمان و زمین میں ہے سب اس کی تابع فرمان ہے خواہ کوئی خوشی سے ہو یا نا خوشی سے کوئی اختیار سے ہو یا بےاختیاری سے اور سب کو اسی کی جناب میں پلٹنا اور واپس ہونا ہے۔ ( تیسیر) خدا کے دین سے مراد اسلام ہے یہی سب پیغمبروں کا دین رہا ہے اب آخر میں نبی کریم ﷺ اسی دین فطرت کے داعی اور پیغامبر ہیں جو احکام لے کر یہ آئے ہیں ان کو قبول کرو اور ان کی بات مانو اب انہی کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 84–86

ف 2۔ یہ مطلب نہیں کہ ایسوں کو کبھی توفیق اسلام کی نہیں دیتے بلکہ مقصود ان کے اسی دعوے مذکور کی نفی کرنا ہے وہ کہتے تھے کہ ہم نے جو اسلام چھوڑ کر یہ طریق اختیار کیا ہے تو ہم کو خدا نے ہدایت دی ہے خلاصہ نفی کا یہ ہوا کہ جو شخص کفر کا بےڈھنگا راستہ اختیار کرے وہ ہدایت خداوندی پر نہیں اس لیے وہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھ کو خدا نے ہدایت دی ہے کیونکہ کفر ہدایت کا راستہ نہیں بلکہ ایسے لوگ یقینا گمراہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اب اعلان کیا جا رہا ہے کہ سب نبیوں کی نبوت کا اقرار ایمان کی شرط ہے : 170: ” اے پیغمبر اسلام ! تم کہہ دو “ الخ یہ خطاب یا تو رسول اللہ ﷺ کو ہے اور آپ ﷺ کی عظمت کے پیش نظر شاہانہ طریقہ کلام کا حکم دیا اور یا یہ حکم دیا کہ اپنے ساتھ اپنے متبعین کو بھی شامل قرار دے کر اظہار ایمان کرو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خطاب تو ہر مومن کو ہے اور حکم دیا جا رہا ہے کہ اپنے ساتھ دوسرے مومن بھائیوں کو شامل سمجھ کر اظہار ایمان کرو۔ ” ہم ایمان لتے ہیں اس پر جو کچھ ہم پر نازل ہوا “ یعنی قرآن کریم پر جو ہم پر اتارا گیا ہے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے جو کچھ ہم تک پہنچا ہے اور ظاہر ہے کہ وہ بھی قرآن کریم میں ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 79–84

The infallibility of the Prophets The verse implies that a person whom Allah invests with the Book, the Wisdom and the power of making decisions, and places him on the great station of prophethood is always faithful to his mission when he communicates the Divine message to people and calls on them to be-come His faithful servants. That he starts moving people away from the worship of only one God and starts asking them to become his own worshippers or the worshippers of some other creatures is something he can never do. If so, this would mean that the one whom Allah had sent as his messenger…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

72. They are told that it is not the habit of Muslims either to believe in Prophets and disbelieve in others or to affirm to the truth of some call others false. Muslims are free from narrow prejudices and chauvinistic loyalties. The true attitude of Muslims is to bear witness to truth of every Messenger of God, irrespective of where and when he appears.

Read the full tafseer →