Explained with ayahs 83–85
اسلامی اصول اور روز جزا
اللہ تعالیٰ کے سچے دین کے سوا جو اس نے اپنی کتابوں میں اپنے رسولوں کی معرفت نازل فرمایا ہے یعنی صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کی عبادت کرنا کوئی شخص کسی اور دین کی تلاش کرے اور اسے مانے اس کی تردید یہاں بیان ہو رہی ہے پھر فرمایا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں اس کی مطیع ہیں خواہ خوشی سے ہوں یا ناخوشی سے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ) 13۔ الرعد :15) یعنی زمین و آسمان کی تمام تر مخلوق اللہ کے سامنے سجدے کرتی ہے اپنی خوشی سے یا جبراً اور جگہ ہے آیت (اَوَلَمْ…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 71
یعنی تمام کائنات اور کائنات کی ہر چیز کا دین تو یہی اسلام، یعنی اللہ کی اطاعت و بندگی ہے، اب تم اس کائنات کے اندر رہتے ہوئے اسلام کو چھوڑ کر کونسا طریقہ زندگی تلاش کر رہے ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب کہ اللہ تعالیٰ نے عہد لیا (حضرات) انبیاء (علیہم السلام) سے کہ جو کچھ تم کو کتاب اور علم (شریعت) دوں (اور) پھر تمہارے پاس کوئی (اور) پیغمبر آوے جو مصداق (اور موافق) ہو اس (علامت) کا جو تمہارے پاس (کی کتاب اور شریعت میں) ہے (یعنی دلائل معتبرہ عند الشرع سے اس کی رسالت ثابت ہو) تو تم ضرور اس رسول (کی رسالت) پر (دل سے) اعتقاد بھی لانا اور (ہاتھ پاؤں سے) اس کی مدد بھی کرنا (پھر یہ عہد بیان کر کے ارشاد فرمایا کہ آیا تم نے قرار کیا اور لیا اس (مضمون) پر میرا عہد (اور حکم قبول کیا) وہ بولے کہ ہم نے اقرار کیا، ارشاد فرمایا تو (اپنے اس اقرار پر) گواہ بھی رہنا (کیونکہ…
Read the full tafseer →اسلام تمام کائنات کا دین ہے : اہل کتاب کے اس تمام گریز و فرار پر اب یہ بانداز استعجاب سوال کیا ہے کہ آخر اسلام اور پیغمبر اسلام سے اس سعی فرار کا مقصد کیا ہے ؟ کیا اللہ کے دین کے سوا یہ اہل کتاب کسی اور دین کے طلبگار ہیں۔ اللہ کا دین ازل سے اسلام ہے۔ یہی دین اس نے تمام نبیوں اور رسولوں کو دیا اور یہی دین اس پوری کائنات کا دین ہے۔ سورج، چاند، ابر، ہوا اور آسمانِ و زمین سب اسی دین کے پیرو ہیں۔ اسلام کی حقیقت اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردینا ہے۔ کسی کی مجال ہے جو خدا کے حکم اور اس کے قانون سے سرتابی کرسکے۔ جو اپنے محدود دائرہ اختیار میں (اور یہ دائرہ اختیار بھی خدا ہی کا قائم کردہ اور اسی کی مشیت…
Read the full tafseer →83۔ 1 جب آسمان اور زمین کی کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت سے باہر نہیں چاہے خوشی سے چاہے ناخوشی سے۔ تو پھر تم اس کے سامنے قبول اسلام سے کیوں گریز کرتے ہو ؟ اگلی آیت میں ایمان لانے کا طریقہ بتلا کر (کہ ہر نبی اور ہر مُنَزل کتاب پر بغیر تفریق کے ایمان لانا ضروری ہے) پھر کہا جا رہا ہے کہ اسلام کے سوا کوئی اور دین قبول نہیں ہوگا کسی اور دین کے پیروکاروں کے حصے میں سوائے کھانے کے اور کچھ نہیں آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
30: مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات میں حکم اللہ تعالیٰ ہی کا چلتا ہے اہل ایمان اللہ کے ہر حکم کو دل وجان سے بخوشی قبول کرتے ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کو مانتے بھی نہ ہوں ان کو بھی چار وناچار اللہ کے ان فیصلوں کے آگے سرجھکانا پڑتا ہے جو وہ اس کائنات کے انتظام کے لئے کرتا ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ اگر کسی کو بیمار کرنے کا فیصلہ فرمالے تو کوئی اسے پسند کرے یا ناپسند ہر حال میں وہ فیصلہ نافذ ہو کر رہتا ہے اور کوئی مومن ہو یا کافر اسے فیصلے کے آگے سرجھکائے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
Read the full tafseer →یہ ہے کہ اسلام اور سرتسلیم خم کرنے کی ایک گہری شکل ‘ ایک ایسی شکل و صورت جو تکوینی ہے جو انسان کے شعور پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جس سے انسانی ضمیر میں اللہ خوفی پیدا ہوتی ہے ۔ ایک عظیم قانون قدرت کی صورت جو قہاروجبار ہے ۔ جو تمام کائنات کی مردہ اور زندہ چیزوں کو ایک ہی سنت الٰہیہ اور شریعت الٰہیہ کے تابع فرمان بناتی ہے ۔ اور جس کے مطابق دونوں کا مال اور انجام ایک ہے ۔ یہ ہے اسلام وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ……………” اور سب نے اسی کی طرف پلٹ کرجانا ہے ۔ “…………لہٰذا یہ سب چیزیں آخرکار لازماً اسی اللہ کو پلٹ کرجائیں گی جو سب کو گھیرے ہوئے ہیں ‘ سب کا مدبر ہے اور نہایت ہی جلال و عظمت کا مالک ہے اور اس انجام…
Read the full tafseer →6 یعنی ہمیشہ سے خدا کا دین اسلام رہا ہے، جس کے معنی ہیں حکمبرداری، مطلب یہ ہے جس وقت حق تعالیٰ کا جو حکم کسی راستباز اور صادق القول پیغمبر کے توسط سے پہنچے اسکے سامنے گردن جھکا دو ۔ پس آج جو احکام و ہدایات سیدالمرسلین خاتم الانبیاء لے کر آئے وہ ہی خدا کا دین ہے۔ کیا اسے چھوڑ کر نجات و فلاح کا کوئی اور راستہ ڈھونڈتے ہیں ؟ خوب سمجھ لیں کہ خدا کا دین چھوڑ کر کہیں ابدی نجات اور حقیقی کامیابی نہیں مل سکتی۔ آدمی کو سزا وار نہیں کہ اپنی خوشی اور شوق ورغبت سے اس خدا کی حکمبرداری اختیار نہ کرے جس کے حکم تکوینی کے نیچے تمام آسمان و زمین کی چیزیں ہیں خواہ وہ حکم تکوینی ان کے ارادہ اور خوشی کے توسط سے ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
آیت 81 وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاق النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَ ‘ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ ط
اس لیے کہ انبیاء و رسل کا ایک طویل سلسلہ چل رہا تھا ‘ اور ہر نبی نے آئندہ آنے والے نبی ﷺ ‘ کی پیشین گوئی کی ہے اور اپنی امت کو اس کا ساتھ دینے کی ہدایت کی ہے۔ اور یہ بھی ختم نبوت کے بارے میں بہت بڑی دلیل ہے کہ ایسی کسی شے کا ذکر قرآن یا حدیث میں نہیں ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے ایسا کوئی عہد لیا گیا ہو یا آپ ﷺ نے اپنی امت کو کسی بعد میں آنے والے نبی کی خبر دے کر اس پر ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہو ‘ بلکہ اس…
Read the full tafseer →73 اللہ کا دین کیا ہے ؟ اللہ کا دین صرف اس کے آگے سر تسلیم خم کردینے کا نام ہے۔ کائنات کی ہر چیز زمین و آسمان، شمس و قمر، ستارے اور سیارے، فرشتے اور ہوائیں غرض جو چیز بھی موجود ہے خواہ یہ اطاعت اضطراری ہو یا اختیاری، بہرحال وہ اللہ کی مطیع فرماں ہے اور اس کے حکم سے سرمو تجاوز نہیں کرسکتی۔ انسانوں اور جنوں کو کسی حد تک فرمانبرداری اور نافرمانی کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ان سے مطالبہ صرف یہ ہے کہ جن کاموں میں انہیں تھوڑا بہت اختیار دیا گیا ہے ان میں بھی وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے کائنات کی تمام اشیاء کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائیں۔ یہی وہ دین ہے جو تمام انبیاء پر نازل ہوا اور اسی کی وہ…
Read the full tafseer →186 ۔ (قیامت کے دن) سو ڈرتے رہنا اس ہستی سے چاہیے جو آج بھی اس قدر بااختیار ہے اور کل بھی سابقہ اسی سے پڑے گا۔ اور اسی کی عبادت میں لگے رہنا چاہیے (آیت) ” یبغون “۔ یہ باطل کے تلاش کرنے والے عام اہل باطل ہیں۔ (آیت) ” دین اللہ “۔ یہاں صراحت کے ساتھ اسلام کے لئے دین اللہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ (آیت) ” اسلم من فی السموت والارض “۔ یہاں مراد ہے انقیاد تکوینی۔ یعنی اس کی مشیت سے باہر تو کوئی بھی نہیں جاسکتا۔ (آیت) ” طوعا “۔ یعنی اپنے ارادہ واختیار سے۔ (آیت) ” کرھا “۔ یہ اشارہ غیر ذوالعقول، حیوانات، نباتات، جمادات وغیرہ کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
کَیْفَ یَھْدِی اللہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانَھِمْ وَشَھِدُوْآ اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌ (الآیۃ) یہاں پھر اسی بات کا اعادہ کیا جا رہا ہے جو اس سے پہلے بارہا بیان کی جا چکی ہے کہ نبی ﷺ کے عہد میں عرب کے یہودی علماء جان چکے تھے اور ان کی زبانوں تک سے اس امر کی شہادت ادا ہوچکی تھی کہ آپ ﷺ نبی برحق ہیں اور جو تعلیم آپ لائے ہیں وہ وہی تعلیم ہے جو پچھلے انبیاء لاتے رہے ہیں اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا وہ محض تعصب، ضد اور دشمنی، اس پرانی عادت کا نتیجہ تھا جس کے وہ صدیوں سے مجرم چلے آرہے تھے۔
Read the full tafseer →اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللّٰهِ يَبْغُوْنَ : کیا وہ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کے طلبگار ہیں اس جملہ کا عطف فاولءِک ھم الفاسقون پر ہے اور استفہام انکاری ہے یا فعل محذوف پر عطف ہے اصلی عبارت اس طرح تھی ایفسقون فغیر دین اللہ یبغون یا اصل میں کلام اس طرح تھا ایتوتون فغیر دین اللہ یبغون .
مفعول کو فعل سے پہلے تخصیص کی وجہ سے ذکر کیا گویا مخصص کا انکار مقصود ہے مطلب یہ ہے کہ کیا دین اللہ کے علاوہ کسی اور ہی دین کو وہ چاہتے ہیں۔ اس سے بطور اشارہ یہ بات معلوم ہوئی کہ دین اللہ کی طلب کے ساتھ دوسرے دین کی طلب نہیں ہوسکتی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ یہود و نصاریٰ میں سے ہر فریق نے دین ابراہیمی پر ہونے کا دعویٰ…
Read the full tafseer →(83) اب اللہ تعالیٰ یہود ونصاری کی دشمنی اور ان کے رسول اکرم ﷺ سے سوال کرنے کا ذکر فرماتے ہیں، انہوں نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ ہم میں سے کون حضرت ابراہیم ؑ کے دین پر ہے، آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم دونوں جماعتوں میں سے کوئی بھی ملت ابراہیمی پر نہیں ہے، وہ بولے ہم آپ کی اس بات سے راضی نہیں ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ کیا اس دین اسلام کے علاوہ اور کسی طریقہ کو چاہتے ہو حالانکہ توحید اور اسلام کے سامنے تمام فرشتے اور مومنین سرجھکائے ہوئے ہیں تمام آسمانوں والے بخوشی اور زمین والے زبردستی اور یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ اخلاص والے لوگ خوشی خوشی اور منافق بےاختیاری سے اسلام میں داخل ہوئے…
Read the full tafseer →طَوْعًا وَّكَرْھًا : اگر کوئی کہے کہ بہت سے انسان اللہ کے فرماں بردار ہیں ہی نہیں تو جواب یہ ہے کہ وہ بھی فرماں بردار ہونے میں بےبس ہیں، ورنہ اپنا سانس یا دل کی دھڑکن یا بھوک و پیاس یا پیشاب و پاخانہ روک کردکھائیں، ہاں اعمال سے متعلق انسان کو ایک حد تک اختیار دیا گیا ہے اور اسی سے متعلق باز پرس ہوگی۔
اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللّٰهِ : یعنی جب آسمان و زمین کی ہر چیز، فرشتے، جن و انس وغیرہ اللہ کے قانون فطرت کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہیں اور اختیاری و غیر اختیاری طور پر اس کے حکم کے تابع ہیں تو یہ لوگ اس کے قانون شریعت ”دِيْنِ اللّٰهِ“ کو چھوڑ کر دوسرا راستہ کیوں اختیار کرتے ہیں، انھیں چاہیے کہ اگر آخرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
آیت نمبر : 83 تا 84۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” افغیر دین اللہ یبغون “۔ کلبی نے کہا ہے : کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں نے نصاری کے ساتھ اپنا جھگڑا حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیا اور عرض کی : ہم میں سے کون زیادہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہے ؟ تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” دونوں فریق آپ کے دین سے بری ہیں “ (یعنی دونوں اس پر نہیں ہیں) تو انہوں نے کہا : نہ ہم آپ کے فیصلے پر راضی ہیں اور نہ ہی ہم آپ کا دین قبول کرتے ہیں، تب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” افغیر دین اللہ یبغون “۔ کیا اللہ تعالیٰ کے دین کے سوا (کوئی اور دین) وہ تلاش کرتے ہیں آیت میں غیر کو یبغون فعل کے سبب نصب دی گئی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
(1) طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” ولہ اسلم من فی السموت والارض طوعا وکرھا “ میں جو مخلوق آسمانوں میں ہے وہ فرشتے ہیں اور جو مخلوق زمین میں ہے اس سے مراد وہ مسلمان جو پیدا ہوا اور کرھا سے مراد دوسری قوموں کے وہ لوگ ہیں جو زنجیروں اور ہتھکڑیوں میں سے جکڑے ہوئے ہوں گے جن کو جنت کی طرف لے جایا جائے گا جبکہ وہ خوش نہ ہوں گے۔
(2) الدیلمی نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لفظ آیت ” ولہ اسلم من فی السموت والارض طوعا وکرھا “ سے مراد ہے کہ فرشتے اس کی اطاعت کرتے ہیں آسمان میں اور انصار صحابہ ؓ اور عبد قیس اس کی اطاعت کرتے…
Read the full tafseer →[اَفَغَیْرَ دِینِ اللّٰہِ : تو کیا اللہ کے دین کے علاوہ ] [یَبْغُوْنَ : وہ لوگ چاہتے ہیں ] [وَ : حالانکہ ] [لَہٗ : اس کا ہی ] [اَسْلَمَ : فرماں بردار ہوا ] [مَنْ : وہ ‘ جو ] [فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [وَالْاَرْضِ : اور زمین میں ہے ] [طَوْعًا : فرماں برداری کرتے ہوئے ] [وَّکَرْہًا : اور ناپسند کرتے ہوئے ] [وَّاِلَیْہِ : اور اس کی طرف ہی ] [یُرْجَعُوْنَ : وہ لوگ لوٹائے جائیں گے ]
ترکیب :” یَبْغُوْنَ “ کا مفعول ” غَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ “ ہے اس لیے ” غَیْرَ “ منصوب ہے ۔ ” طَوْعًا “ اور ” کَرْھًا “ حال ہیں۔ ” اِبْرٰھِیْمَ “ سے ” وَالْاَسْبَاطِ “ تک سب الفاظ ” عَلٰی “ پر عطف ہونے کی وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
دین اسلام ہی اللہ کے نزدیک معتبر ہے
جو دین اللہ نے اپنی مخلوق کے لیے پسند فرمایا ہے وہ دین اسلام ہے جیسا کہ سورة آل عمران کے دوسرے رکوع میں فرمایا (اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ ) (بےشک دین جو معتبر ہے اللہ کے نزدیک وہ اسلام ہی ہے) اور سورة مائدہ میں فرمایا (اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا) (آج میں نے تمہارے لیے دین مکمل کردیا اور تم پر اپنا انعام مکمل کردیا اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کرلیا) اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کا نام اسلام رکھا ہے جس کا معنی فرمانبر دار ہونے کا ہے۔ ساری مخلوق اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–91
خلاصۂ حقیقت اسلام وعدم قبول غیر دین اسلام
قال تعالیٰ افغیر دین اللہ یبغون۔۔ الی۔۔ وما لھم من نصرین
توحید اور رسالت کے بعد دین اسلام کی حقیقت کا خلاصہ بیان فرماتے ہیں کہ اسلام اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا نام ہے اور یہی تمام انبیاء کا دین ہے اور اسلام ہی تمام کائنات کا دین ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اسی دین کی دعوت دینے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں جس کی طرف تمام انبیاء دعوت دیتے چلے آئے آخرت کی نجات کا دارومدار یہی دین اسلام ہے اس کے سوا اللہ کے یہاں کوئی دین قبول نہیں کیا جائے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ کیا یہ لوگ آنے والے رسول پر ایمان لانے اور اس کی نصرت کا پختہ عہد اور پیمان کرنے کے بعد بھی اللہ کے…
Read the full tafseer →119 دِیْنِ اللہِ سے یہاں دین اسلام مراد ہے۔ یعنی تمام انبیاء (علیہم السلام) سے جس آخری پیغمبر (علیہ السلام) کے متعلق عہد لیا گیا تھا۔ اب وہ آچکا اور اس نے بھی اللہ کا وہی دین پیش کیا ہے جو ان سے پہلے تمام انبیاء نے پیش کیا تھا تو معلوم ہوا کہ دین اسلام تمام انبیاء سابقین کا متفق علیہ دین ہے ان کے علاوہ زمین و آسمان کی ساری مخلوقات خواہ وہ جاندار ہو یا غیر جاندار اور خواہ وہ ذی عقل ہو یا غیر ذی عقل سب کا دین اسلام ہے۔ جب تمام انبیاء (علیہم السلام) تمام فرشتے، اور تمام مومنین جن وانس اپنے ارادہ اور اختیار سے دین اسلام کے پابند ہیں اور صرف اللہ ہی کو اپنا معبود ومستعان سمجھتے ہیں اور اسے ہی دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
ربط آیات : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کے عہد و پیمان کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ جو اس نے عام لوگوں اور انبیاء (علیہم السلام) سے لیا۔ اور پھر اس عہد کو توڑنے والوں کی سزا کا بیان بھی آ چکا ہے۔ ایسے لوگوں کو اللہ نے ڈانٹ پلائی ہے۔ اس کے بعد دین اسلام کی صداقت اور حقانیت کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس دین اطاعت فرمانبرداری کو قبول نہیں کرتے جس کا ان سے عہد لیا گیا تھا ، تو پھر کیا اس کے علاوہ کسی اور دین کے متلاشی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عہد و پیمان تو دین توحید کے متعلق لیا تھا۔ اور تمام انبیاء (علیہم السلام) اسی دین کی تعلیم دیتے رہے ہیں لہذا وہ کبھی اس بات کی…
Read the full tafseer →اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللہِ يَبْغُوْنَ وَلَہٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْھًا وَّاِلَيْہِ يُرْجَعُوْنَ 83
غير
أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ،
( غ ی ر ) غیر
اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
ترکیب : غیر منصوب ہے یبغون کی وجہ سے ومن یتبغ ابتغاء سے مشتق ہے جس کے معنی تلاش کرنا یہ شرط غیر الاسلام منصوب ہے صفت ہو کر دنیا کی جو مقدم ہونے سے حال ہوگیا وہو الخ جواب۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں تھا کہ جو نبی تمہارے دین کی تصدیق کرنے والا آئے تو تم پر ضرور ہے کہ اس پر ایمان لائو۔ اس پر یہود و نصاریٰ یہ اعتراض کرتے تھے کہ یہ مسلم لیکن یہ نبی ہمارے دین اور کتاب کا مصدق نہیں کیونکہ الوہیت مسیح اور تثلیث ہمارے دین کا اصل الاصول ہے۔ سو یہ اس کا رد کرتے تھے۔ پھر ہم کیونکر ان پر ایمان لاویں (چنانچہ اب بھی پادری یہی اعتراض کیا کرتے ہیں) اس کا جواب دیا جاتا ہے کہ یہ باتیں تمہارے دین کے اصول نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ وَلَـہٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا وَّاِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ ۔
(کیا یہ اللہ کے دین کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں حالانکہ اسی کے فرمانبردار ہیں طوعاً و کرھاً جو آسمان و زمین میں ہیں اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے) (83)
نہایت تعجب سے سوال کیا جا رہا ہے کہ اہل کتاب دین کے مزاج کو سمجھتے ہیں، وحی الٰہی کے سلسلے کو پہچانتے ہیں، انھیں خوب معلوم ہے کہ تمام کائنات کا مذہب صرف اسلام ہے اور یہی وہ رویہ ہے جس سے کائنات کا نظام باحسن طریق چل رہا ہے۔ اسلام کا معنی اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردینا اور اس کے احکام کی اطاعت میں دے دینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب اور اللہ کے نافرمانوں کو بار بار سوچنا چاہیے کہ تمہاری بد عہدی اور نافرمانی سے رب کی خدائی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اپنے خالق ومالک کی تابعدار ہے۔ جب ساری مخلوق تابعدار اور تمام انبیاء نے نبی ﷺ کی نبوت کا اقرار اور اس سے عہد کیا تو تم نبوت کا انکار اور اللہ کی بغاوت کرنے والے کون ہوتے ہو ؟
اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکامات ماننے کا نام دین ہے۔ اے اہل کتاب اور دنیا جہان کے لوگو ! کیا اللہ تعالیٰ کی اطاعت چھوڑ کر کسی اور کی تابعداری کرنا چاہتے ہو ؟ ذراغور کرو اور سوچو کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی فرمانبرداری میں لگی ہوئی ہے۔ سورج…
Read the full tafseer →دین اسلام کے ہوتے اور دین کی طلب نہیں ہوسکتی :
83: اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ وَلَہٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْ عًا وَّکَرْھًا وَّاِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ ۔ یہاں ہمزہ استفہام انکاری کا فَاعاطفہ پر داخل ہوا۔ جملہ کا عطف جملہ پر ہے۔ مطلب یہ ہوا۔ وہ وہی فاسق ہیں تبھی تو اللہ تعالیٰ کے دین کے علاوہ اور دین کے متلاشی ہیں۔ پھر ہمزہ کو درمیان میں فَا عاطفہ پر داخل کردیا۔ تقدیر عبارت یہ ہے فَاُ ولٰٓپکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ (کیا یہ اللہ کے دین کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں)
دوسری تفسیر : یہ کہ محذوف پر عطف ہو اور عبارت اس طرح ہوا…
Read the full tafseer →(83) (آیت)” افغیر دین اللہ یبغون “۔ اہل کتاب آپس میں اختلاف کیا کرتے تھے، ان میں سے ہر ایک دعوی کرتا تھا کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہے ، یہ جھگڑا لے کر آپ ﷺ کے پاس گئے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ دونوں فریقین ابراہیم (علیہ السلام) کے دین سے بیزار ہیں ، یہ سن کر وہ غصہ ہونے لگے اور کہنے لگے کہ ہم تمہارے فیصلے پر راضی نہیں اور نہ ہی ہم نے آپ کے دین کو اختیار کیا ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” افغیر دین اللہ یبغون “۔ اہل بصرہ (رح) اور حفص بن عاصم (رح) نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے حضرات تاء کے ساتھ پڑھتے ہیں ” ولہ اسلم “ اور اسی کے فرمانبردار ہیں ۔ (آیت)” من فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
(83 ۔ 85) ۔ غصہ کے ایک استفسار کے طور پر اس آیت کا تعلق اوپر کی آیت سے ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا کرنے سے ہزارہا برس پہلے دنیا کے ہر ایک دور کی مصلحت کے موافق ایک قانون قرار دیا ہے۔ جس کو اس دور کی شریعت ٹھہرایا ہے اور اسی مصلحت وقتیہ کے انتظام کے لئے ہر نبی اور امت سے وہ معاہدہ قرار پا چکا ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت میں ہے تو پھر اب جو کوئی اس انتظام الٰہی میں خلل ڈالے گا۔ اور سوائے اس شریعت وقتیہ کے غیر وقتیہ شریعت پر چلے گا وہ اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے کچھ اجر نہ پائے گا۔ اور اس کا کیا کرایا سب اکارت ہے کیونکہ اجر اسی عمل پر ہے جو مرضی کے موافق ہو خلاف مرض الٰہی کام…
Read the full tafseer →یعنی کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کے خواہش مند اور طالب ہیں ؟ یہ خواہش نہ درست ہے نہ مناسب، اس لئے کہ اللہ کے دین سے بہتر کوئی دین نہیں ترجمہ ” حالانکہ تمام آسمانوں والے اور سب زمین والے اللہ ہی کے فرماں بردار ہیں۔ خوشی سے ہوں یا نا خوشی سے “ یعنی تمام مخلوق اس کی محکوم ہے۔ ان میں سے بعض نے اپنی خوشی سے اللہ کی اطاعت قبول کرلی ہے، وہ مومن ہیں جو خوشی سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور کچھ مجبور اً اللہ کے پر میں بردار ہیں۔ اس میں باقی تمام مخلوقات شامل ہیں۔ حتیٰ کہ کافر بھی اللہ کی قضاء وقدر کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نکل نہیں سکتے۔ تمام مخلوق اسی کے پاس واپس جائے گی ‘ وہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–92
راہ خدا میں محبوب چیز قربان کرنا
قول باری ہے (لن تنالوالبرحتی تنفقوامما تحبون، تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیزرکھتے ہو) البر کے معنی دواقوال ہیں اول جنت عمروبن میمون اور سدی سے یہی منقول ہے۔ دوم نیکی کا کام جس کی بناپربندے اجر کے مستحق قرارپاتے ہیں نفقہ سے مراد اللہ کی راہ میں صدقہ وغیرہ کی صورت میں پسند یدہ چیزیں دے دینا ہے۔ یزیدبن ہارون نے حمید سے، انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب درج بالاآیت نازل ہوئی نیزیہ آیت (من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا، کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے) تو حضرت ابوطلحہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا…
Read the full tafseer →172 کائنات کی ہر چیز اللہ کی فرمانبرداری : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حضور سرتسلیم خم ہے : کہ یہ سب کچھ اسی کا مخلوق و مملوک، اور اسی کے حکم کے تابع ہے۔ واضح رہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے احکام دو قسم کے ہیں۔ ایک تکوینی اور دوسرے تشریعی۔ تکوینی سے مراد وہ احکام ہیں، جو اس کی اس وسیع کائنات میں جاری وساری ہیں، جن پر جِنّ وانس وغیرہ کسی مخلوق کا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دخل اور اختیار نہیں بلکہ یہ سب کچھ اس کے ان تکوینی احکام کا پابند ہے۔ اسی لئے ان احکام پر ان کیلئے کوئی اجرو ثواب نہیں، جیسے انسان کا پیدا ہونا، مرجانا، کالا یا گورا ہونا، چھوٹا یا…
Read the full tafseer →دین حق کی ضرورت
تشریح : جب یہود و نصاریٰ نے محمد ﷺ کو ماننے سے انکار کردیا تو اس پر رب العزت فرماتے ہیں کہ کیا ان کو اطاعت الٰہی کا راستہ چھوڑ کر کوئی اور راستہ پسند ہے۔ کیونکہ دین اسلام اور خود ان کا مذہب بھی یہی سکھاتا ہے کہ اللہ ایک ہے۔ صرف اور صرف اسی کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کیونکہ اس جیسی طاقت، عظمت اور بڑائی کہیں اور نظر نہیں آتی۔ دنیا کی ہر چیز زمین آسمان، ہوا، پانی، چاند، سورج اور ستارے سب ہی اسی کے فرمانبردار ہیں اسی کے حکم سے اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں کوئی بھی معمولی سی حکم عدولی نہیں کرسکتا اور پھر ہر وقت یاد رکھنا چاہئے کہ یہ زندگی ختم ہونے والی ہے اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–91
آیات 81- 91
اسرارومعارف
واذاخذ اللہ میثاق النبیین…………………وھوفی الاخرۃ من الخسرین۔
اور یہ نبی جس کا انکار کرنے کے لئے یہود طرح طرح کی حیلہ جو ئیاں کر رہے ہیں یہ تو ایسی عظیم ہستی ہے کہ تمام نوع انسانی کا نبی ہے۔ نہ صرف نبی الامت ہے بلکہ نبی الانبیاء اور امام المرسلین ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اللہ نے تمام انبیاء سے عہد لیا تھا کہ جب تمہیں کتاب و حکمت عطا ہو یعنی تم بحیثیت نبی کے مبعوث کئے جائو۔
یاد رہے کہ کتاب کے ساتھ ہر جگہ حکمت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کتاب الٰہیہ کے معانی بھی من جانب اللہ حکمت کے نام سے انبیاء کو تعلیم کئے جاتے ہیں اور کوئی ایسا معنی جو پیغمبر کے ارشاد کردہ معانی کے مطابق نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–85
ف 1 تشریح کے لیے دیکھئے سورت بقرہ آیت2 یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے مبعوث ہوجا نے کے بعد جو شخص آپ ﷺ کی فرما نبر داری اور اطاعت کا راستہ چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کرے گا یا کسی پہلے راستہ پر چلنا رہے گا وہ چا ہے کتنا ہی توحید پرست کیوں نہ ہو اور پچھلے انبیا ( علیہ السلام) پر ایمان رکھنے والا ہو اگر وہ محمد ﷺ پر ایمان نہیں رکھتا تو اس کی دینداری اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہ ہوگی اور وہ آخرت میں نامراد و ناکام ہوگا۔ اس معنی ہیں آنحضرت ﷺ کا رشاد بھی ہے۔ من عمل عملا لیس علیہ امر نا فھو رد یعنی جس نے کوئی ایسا کام کیا جو ہمارے طریقہ کے مطابق نہیں ہے وہ مردود ہے۔ ابن کثیر۔ شوکانی )
3 یعنی جو لوگ حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
(3:81) اس آیۃ میں میثاق النبیین کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ نبیوں کے بارے میں میثاق لیا گیا۔ دوسرا وہ میثاق جو نبیوں سے لیا گیا تھا۔
بعض مفسرین نے پہلا مطلب اختیار کیا ہے اور ان میں حضرت شاہ ولی اللہ (رح) بھی ہیں اور بعضوں نے دوسرا مطلب اختیار کیا ہے۔ لیکن پہلا مطلب زیادہ قرین قیاس ہے۔ دوسرے مطلب کی صورت میں ماحاصل یہ ہوگا کہ اللہ نے نبیوں میں سے ہر ایک نبی سے یہ عہد لیا تھا کہ اگر کوئی دوسرا رسول اس کے عہد میں مبعوث ہو تو اس کا فرض ہے کہ اس کی تصدیق کرے۔ اور اس کا ساتھ دے۔
تاریخ میں کب اور کہاں ایسے حالات معرض وجود میں آئے کہ ایک امت کی جانب ایک رسول کتاب و حکمت لے کر آیا ہو اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–91
لغات القرآن آیت نمبر 81 تا 91
لتومنن (البتہ تم ضرور ایمان لاؤگے) لن یقبل (ہرگز قبول نہ کیا جائے گا) لتنصرن (البتہ تم ضرور مدد کروگے) لایخفف (کمی نہ کی جائے گی) اصری (میرا بوجھ) لن تقبل (ہرگز قبول نہ کی جائے گی) یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں) الضآلون (گمراہ ہونے والے) طوع (خوشی سے) ملء الارض (زمین بھر) کرہ (زبردستی) لوافتدٰی (اگر وہ بدلہ میں دے) یبتغ (تلاش کرے گا) ۔
تشریح : آیت نمبر 81 تا 91
پچھلی آیات میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں اس کی تردید کردی ہے کہ انبیاء کرام اپنا بندہ بنانے
نہیں آتے بلکہ سچی بات یہ ہے کہ انبیاء کرام لوگوں کو اللہ والا بنانے آتے ہیں۔ ان آیات میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ جبکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا کرنے سے ہزار برس پہلے دنیا کے ہر ایک دور کی مصلحت کے موافق ایک قانون قرار دیا ہے، جس کو اس دور کی شریعت ٹھہرایا ہے اور اسی مصلحت دقتیہ کے انتطام کے لئے ہر نبی اور امت سے وہ معاہدہ قرار پاچکا ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت میں ہے۔ تو پھر اب جو کوئی اس انتظام الہٰی میں خلل ڈالے گا اور سوائے اس شریعت دقتیہ کے غیر دقتیہ شریعت پر چلے گا، وہ اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے کچھ اجر نہ پائے گا اور اس کا سب کیا کرایا اکارت ہے۔ کیونکہ اجر اسی عمل پر ہے جو مرضی الہٰی کے موافق ہو۔ خلاف مرضی الہٰی کام پر تو اور مواخذہ ہوگا اجر کہاں رہا۔ اور آسمان و زمین میں سب پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
[32] یعنی آسمان اور زمین میں جس قدر مخلوق ہے اللہ کی اطاعت کر رہی ہے جمادات، حیوانات اور نباتات زمین میں اور ملائکہ آسمان میں اسی کے حکم کے پابند ہیں اور '' کرہاً '' سے یہی مراد ہے۔ انسانوں میں بھی بہت سے ایسے ہیں جو اپنے ارادہ و اختیار سے اس کی بندگی کر رہے ہیں اور '' طوعاً '' سے اشارہ اسی طرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
اللہ کا دین :
(ف 1) وہ پیام تسکین جو حضور ﷺ اس دنیائے اضطراب کے لئے لے کر آئے وہ اللہ کا خالص دین ہے اور اللہ وہ ہے جسے آسمانوں اور زمینوں کا ذرہ ذرہ مانتا ہے اور جس کا اقرار طوعا وکرہا کسی نہ کسی طرح کرنا ہی پڑتا ہے ۔
جس طرح اس کی ربوبیت عامہ کا انکار فطرت انسانی سے نہیں بن پڑتا ، اسی طرح اس کے دین سے ابا جو ربوبیت کا خاصہ ہے ناممکن ہے کسی نہ کسی وقت اور مشکل میں ہر انسان اس کی اطاعت پر مجبور ہے ، یہ الگ بات ہے کہ وہ زبان سے اس کا اقرار نہیں کرتا ، مگر وہ اپنے افعال وحرکات سے ہمیشہ یہ ثابت کرتا رہتا ہے کہ اس میں اللہ کے بنائے ہوئے قانون کی مخالفت کا کوئی جذبہ نہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
ف 2 ۔ کیا اب یہ لوگ اللہ کے دین یعنی اسلام کے سوا کسی اور طریقہ کے متلاشی ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ اس کے جاہ و جلال کے سامنے تمام مخلوق جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے خوشی اور نا خوشی سے سب کی سب سرافگندہ ہے اور جس قدر خلوق آسمان و زمین میں ہے سب اس کی تابع فرمان ہے خواہ کوئی خوشی سے ہو یا نا خوشی سے کوئی اختیار سے ہو یا بےاختیاری سے اور سب کو اسی کی جناب میں پلٹنا اور واپس ہونا ہے۔ ( تیسیر)
خدا کے دین سے مراد اسلام ہے یہی سب پیغمبروں کا دین رہا ہے اب آخر میں نبی کریم ﷺ اسی دین فطرت کے داعی اور پیغامبر ہیں جو احکام لے کر یہ آئے ہیں ان کو قبول کرو اور ان کی بات مانو اب انہی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
ف 1۔ حاصل مقام یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام تکونیہ کے تو سب مسخر ہیں اور کرہ سے یہی مراد ہے اور بہترے احکام شرعیہ کے بھی مطبع ہیں اور طوع کا یہی مطلب ہے تو ایک قسم حکم کی تو سب ہی پر جاری ہے اور دوسری قسم کو بھی بہتوں نے قبول کر رکھا ہے جس سے حاکم کی عظمت نمایاں ہے اب بعض جو دوسری قسم میں خلاف کرتے ہیں تو کیا کوئی اور اس عظمت کا مالک ہے جس کی موافقت کے لیے یہ مخالفت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →دین الٰہی یعنی اسلام میانہ روی سکھاتا ہے :
169: کیا وہ اللہ کے دین سے بغاوت چاہتے ہیں ؟ بغا کے معنی میانہ روی سے تجاوز کرنے کی خواہش کرنے کے ہیں۔ جس کا صف صاف مطلب یہ ہے کہ دین الٰہی یعنی اسلام میانہ روی سکھاتا ہے اور جو اس کو چھوڑ کر کچھ اور چاہتا ہے وہ میانہ روی سے تجاوز کرنا چاہتا ہے۔ اس طرح اسلم اسلام کے اصلی معنی فرمانبرداری کرنے کے ہیں اور یہی وسیع معنی یہاں مراد لیے گئے ہیں جیسا کہ تم مخلوق ارض و سماء کی طرف اَسْلَمَ منسوب کرنے سے ظاہر ہو رہا ہے۔ ” طوعًا وَّکَرْھًا “ دونوں مصدر ہیں جو حال کی جگہ استعمال ہوئے ہیں یعنی مراد ان سے طائفین و کا رمنی ہیں اور ” طوع “ کے معنی ہیں فرمانبرداری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–84
The infallibility of the Prophets
The verse implies that a person whom Allah invests with the Book, the Wisdom and the power of making decisions, and places him on the great station of prophethood is always faithful to his mission when he communicates the Divine message to people and calls on them to be-come His faithful servants. That he starts moving people away from the worship of only one God and starts asking them to become his own worshippers or the worshippers of some other creatures is something he can never do. If so, this would mean that the one whom Allah had sent as his messenger…
Read the full tafseer →71. The basic principle characterizing the universe, in other words the religion of the universe and of every part of it, is Islam; insofar as the universe is in a state of total obedience and service to the Will of God. Here people are asked if they would follow a way of life different from Islam though they are part of the universe which is characterized by submission to God (islam).
Read the full tafseer →