Explained with ayahs 81–82
انبیاء سے عہد و میثاق
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ تک کے تمام انبیاء کرام سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ لیا کہ جب کبھی ان میں سے کسی کو بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کتاب و حکمت دے اور وہ بڑے مرتبے تک پہنچ جائے پھر اس کے بعد اسی کے زمانے میں رسول ﷺ آجائے تو اس پر ایمان لانا اور اس کی نصرت و امداد کرنا اس کا فرض ہوگا یہ نہ ہو کہ اپنے علم و نبوت کی وجہ سے اپنے بعد والے نبی کی اتباع اور امداد سے رک جائے، پھر ان سے پوچھا کہ کیا تم اقرار کرتے ہو ؟ اور اسی عہد و میثاق پر مجھے ضامن ٹھہراتے ہو۔ سب نے کہا ہاں ہمارا اقرار ہے تو فرمایا گواہ رہو اور میں خود بھی گواہ ہوں۔ اب اس عہد و میثاق سے جو…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 70
اس ارشاد سے مقصود اہل کتاب کو متنبہ کرنا ہے کہ تم اللہ کے عہد کو توڑ رہے ہو، محمد ﷺ کا انکار اور ان کی مخالفت کر کے اس میثاق کی خلاف ورزی کر رہے ہو، جو تمہارے انبیاء سے لیا گیا تھا، لہٰذا اب تم فاسق ہوچکے ہو، یعنی اللہ کی اطاعت سے نکل گئے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب کہ اللہ تعالیٰ نے عہد لیا (حضرات) انبیاء (علیہم السلام) سے کہ جو کچھ تم کو کتاب اور علم (شریعت) دوں (اور) پھر تمہارے پاس کوئی (اور) پیغمبر آوے جو مصداق (اور موافق) ہو اس (علامت) کا جو تمہارے پاس (کی کتاب اور شریعت میں) ہے (یعنی دلائل معتبرہ عند الشرع سے اس کی رسالت ثابت ہو) تو تم ضرور اس رسول (کی رسالت) پر (دل سے) اعتقاد بھی لانا اور (ہاتھ پاؤں سے) اس کی مدد بھی کرنا (پھر یہ عہد بیان کر کے ارشاد فرمایا کہ آیا تم نے قرار کیا اور لیا اس (مضمون) پر میرا عہد (اور حکم قبول کیا) وہ بولے کہ ہم نے اقرار کیا، ارشاد فرمایا تو (اپنے اس اقرار پر) گواہ بھی رہنا (کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
تفسیر آیت 81-82: انبیاء کے باب میں بنی اسرائیل سے میثاق : ”میثاق النبیین“ میں اضافت فاعل کی طرف نہیں بلکہ مفعول کی طرف ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ انبیا سے میثاق لیا گیا بلکہ یہ مطلب ہے کہ انبیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے میثاق لیا۔ یہ میثاق، جیسا کہ آیت میں ذکر ہے، اس بات کے لیے تھا کہ بنی اسرائیل چونکہ کتاب و حکمت کے حامل اور امین بنائے گئے ہیں اس وجہ سے ان کے اس منصب کا فطری تقاضا یہ ہے کہ جو انبیاء آئیں خاص طور پر آخری نبی جب آئیں تو سب سے آگے بڑھ کر ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔ اس عہد کا ذکر قرآن میں مختلف اسلوبوں سے ہوا ہے۔ مثلاً سورة مائدہ میں ہے ”وَلَقَدْ أَخَذَ…
Read the full tafseer →82۔ 1 یہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) اور دیگر اہل مذہب کو تنبہہ ہے کہ بعثت محمدی کے بعد بھی ان پر ایمان لانے کے بجائے اپنے اپنے مذہب پر قائم رہنا اس عہد کے خلاف ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبیوں کے واسطے سے ہر امت سے لیا اور اس عہد سے انحراف کفر ہے۔ فسق یہاں کفر کے معنی میں ہے کیونکہ نبوت محمدی سے انکار صرف فسق نہیں سراسر کفر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
30: مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات میں حکم اللہ تعالیٰ ہی کا چلتا ہے اہل ایمان اللہ کے ہر حکم کو دل وجان سے بخوشی قبول کرتے ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کو مانتے بھی نہ ہوں ان کو بھی چار وناچار اللہ کے ان فیصلوں کے آگے سرجھکانا پڑتا ہے جو وہ اس کائنات کے انتظام کے لئے کرتا ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ اگر کسی کو بیمار کرنے کا فیصلہ فرمالے تو کوئی اسے پسند کرے یا ناپسند ہر حال میں وہ فیصلہ نافذ ہو کر رہتا ہے اور کوئی مومن ہو یا کافر اسے فیصلے کے آگے سرجھکائے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
Read the full tafseer →حقیقت یہ ہے کہ نبی آخر الزمان کی اطاعت سے صرف فاسق ہی منہ موڑسکتا ہے اور اللہ کے اس دین سے وہی شخص منہ موڑ سکتا ہے جو شاذ اور مردود ہو ‘ وہ اس کائنات کے پورے طبیعی نظام میں شاذ ہوگا اور مردود ہوگا اور اس پوری تابع فرمان کائنات میں بھی فساد کنندہ ‘ اور شر انگیز ہوگا۔
اللہ کا دین ایک ہے ‘ سب رسول ایک دین لے کر آئے ‘ سب نے اس پر پختہ معاہدہ کیا ۔ اللہ کا عہد بھی ایک ہے ‘ جس کے فریق تمام رسول ہیں ۔ لہٰذا اس دین پر ایمان لانا ‘ اس رسول پر ایمان لانا اور اتباع کرنا ‘ اس رسول کی نصرت کرنا اور اسلامی نظام قائم کرنا اور تمام دوسرے نظاموں کا مقابلہ کرنا دراصل اس عہد کی وفاداری ہے ۔ اس لئے جس شخص نے بھی…
Read the full tafseer →5 جس چیز کا عہد خدا نے تمام انبیاء سے لیا اور انبیاء نے اپنی اپنی امتوں سے اب اگر دنیا میں کوئی شخص اس سے روگردانی کرے تو بلاشبہ پرلے درجہ کا بدعہد اور نافرمان ہوگا۔ بائبل، اعمال رسل، باب 3، آیت 21 میں ہے۔ " ضرور ہے کہ آسمان اسے لئے رہے اس وقت تک کہ سب چیزیں جن کا ذکر خدا نے اپنے سب پاک نبیوں کی زبانی شروع سے کیا۔ اپنی حالت پر آویں کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے باپ دادوں سے کہا کہ خداوند جو تمہارا خدا ہے، تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لئے ایک نبی میری مانند اٹھائے گا۔ جو کچھ وہ تمہیں کہے اس کی سب سنو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
آیت 81 وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاق النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَ ‘ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ ط
اس لیے کہ انبیاء و رسل کا ایک طویل سلسلہ چل رہا تھا ‘ اور ہر نبی نے آئندہ آنے والے نبی ﷺ ‘ کی پیشین گوئی کی ہے اور اپنی امت کو اس کا ساتھ دینے کی ہدایت کی ہے۔ اور یہ بھی ختم نبوت کے بارے میں بہت بڑی دلیل ہے کہ ایسی کسی شے کا ذکر قرآن یا حدیث میں نہیں ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے ایسا کوئی عہد لیا گیا ہو یا آپ ﷺ نے اپنی امت کو کسی بعد میں آنے والے نبی کی خبر دے کر اس پر ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہو ‘ بلکہ اس…
Read the full tafseer →72 اس پختہ عہد اور بشارتوں کے بعد بھی جو شخص تعصب کی راہ اختیار کرے اور اپنے آپ کو دین کا اجارہ دار سمجھے اور مخالفت پر کمر بستہ ہوجائے تو اس سے زیادہ نافرمانی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے ؟ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ جب عیسائیوں سے کہا جاتا ہے کہ تمہیں قرآن پر ایمان لانا چاہئے کیونکہ یہ تمہاری کتاب انجیل کی تصدیق کرتا ہے ؟ تو وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ قرآن نہ تو عقیدہ الوہیت مسیح کی تصدیق کرتا ہے نہ مسیح کی ابنیت کو تسلیم کرتا ہے، نہ عقیدہ تثلیث کو اور نہ کفارہ مسیح کو تسلیم کرتا ہے۔ حالانکہ ہماری اناجیل سے یہ سب کچھ ثابت ہے۔ پھر ہم آپ کے قرآن پر کیسے ایمان لائیں اور کیوں کر اسے الہامی کتاب…
Read the full tafseer →185 ۔ (آیت) ” فمن تولی “۔ یعنی مومنوں میں جو کوئی اس عہد سے اعراض کرے گا، خود انبیاء معصومین سے تو اس کا احتمال ہی نہیں۔ اس لئے لامحالہ افراد امت مراد ہوں گے۔ ھذا الحکم بالنبسۃ الی اتباعھم (بحر)
Read the full tafseer →فَمَنْ تَوَلّٰی بَعْدَ ذَالِکَ فَاُولٰئِکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ ، اس ارشاد کا مقصود اہل کتاب کو تنبیہ کرنا ہے کہ تم اللہ کے عہد کو توڑ رہے ہو محمد ﷺ کا انکار ان کی مخالفت کرکے اس میثاق کی خلاف ورزی کر رہے ہو جو تمہارے انبیاء سے لیا گیا تھا لہٰذا اب تم ایمان کی حدود سے نکل چکے۔ یعنی اللہ کی اطاعت سے خارج ہوگئے۔ اگر نبی ﷺ کی بعثت انبیاء کے زمانہ میں پوتی تو ان سب کے نبی آپ ہی ہوتے اور وہ تمام انبیاء آپ کی امت میں شمار ہوتے اس سے معلوم ہوا کہ آپ کی شان محض نبی امت کی نہیں بلکہ نبی الانبیاء کی بھی ہے، چناچہ ایک حدیث میں آپ خود ارشاد فرماتے ہیں۔ اگر آج موسیٰ (علیہ السلام) بھی زندہ ہوتے تو ان کو بھی…
Read the full tafseer →فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ : اب اس اقرار کے بعد جس نے پیغمبروں کے اتباع سے اپنا رخ پھیرا۔ یہ رخ پھیرنے والے یہود و نصاریٰ ہیں۔
فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ : پس وہی ایمان سے خارج یعنی کافر ہیں یہ آیت صراحتًابتا رہی ہے کہ انبیاء اور ان کی امتوں سے سب سے عہد لیا گیا تھا مگر پیشواؤں کے ذکر کے بعد متبعین کے ذکر کی ضرورت نہ تھی اسلئے پیشواؤں ہی کے ذکر پر اکتفا کیا۔
Read the full tafseer →(82) اب امتوں میں سے اس عہد میثاق سے روگردانی کریں گے تو ایسے ہی لوگ بےحکمی کرنے والے کافر ہیں ،
Read the full tafseer →فَمَنْ تَوَلّٰى۔۔ : اس آیت میں اہل کتاب کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تم رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لا کر دراصل اس عہد کی خلاف ورزی کر رہے ہو جو تمہارے انبیاء سے اور ان کے ذریعے تم سے لیا گیا ہے، اب بتاؤ تمہارے فاسق ہونے میں کوئی شک و شبہ ہوسکتا ہے ؟ (رازی)
Read the full tafseer →آیت نمبر : 82۔
من شرطیہ ہے پس انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں میں سے جس نے وعدہ لئے جانے کے بعد ایمان سے منہ پھیرا (آیت) ” فاولئک ھم الفسقون “۔ پس وہ ایمان سے خارج ہیں اور فاسق بمعنی خارج، یہ پہلے گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
(1) طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” ولہ اسلم من فی السموت والارض طوعا وکرھا “ میں جو مخلوق آسمانوں میں ہے وہ فرشتے ہیں اور جو مخلوق زمین میں ہے اس سے مراد وہ مسلمان جو پیدا ہوا اور کرھا سے مراد دوسری قوموں کے وہ لوگ ہیں جو زنجیروں اور ہتھکڑیوں میں سے جکڑے ہوئے ہوں گے جن کو جنت کی طرف لے جایا جائے گا جبکہ وہ خوش نہ ہوں گے۔
(2) الدیلمی نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لفظ آیت ” ولہ اسلم من فی السموت والارض طوعا وکرھا “ سے مراد ہے کہ فرشتے اس کی اطاعت کرتے ہیں آسمان میں اور انصار صحابہ ؓ اور عبد قیس اس کی اطاعت کرتے…
Read the full tafseer →[فَمَنْ : پھر جو ] [تَوَلّٰی : روگردانی کرے ] [بَعْدَ ذٰلِکَ : اس کے بعد ] [فَاُولٰٓئِکَ : تو وہ لوگ ] [ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ : ہی نافرمانی کرنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کا عہد لینا
ان دو آیتوں میں اس عہد کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے لیا۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے یہ عہد لیا کہ تمہاری موجودگی میں جو دوسرا کوئی نبی آئے گا اس پر ایمان لانا اور اپنی امت کو بھی اس پر ایمان لانے کی دعوت دینا تبلیغ کرنا اور اس نبی کی مدد کرنا۔ اگر تمہاری موجودگی میں کوئی نبی نہ آئے تو اپنی امت کو تاکید کردینا کہ اس نبی پر ایمان لانا جو میرے بعد آئے اور اس کی تصدیق اور اس کی مدد کرنا۔ اسی سلسلہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عہد لیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائیں۔ اور عیسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
تذکیر میثاق انبیاء وتوبیخ بر انحراف ازاں
قال تعالیٰ واذ اخذ اللہ میثاق النبیین۔۔۔ الی۔۔۔ فاولئک ھم الفسقون
(ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ عبادت اور بندگی خاص اللہ کا حق ہے یہ ناممکن ہے کہ کوئی نبی اپنی بندگی کی تعلیم دے اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ انبیاء کا حق یہ ہے کہ لوگ ان پر ایمان لائیں اور بےچون وچرا ان کی اطاعت کریں اور ہر قسم کی ان کی مدد کریں ہر نبی کے زمانہ میں ہر امت سے یہی عہد لیا گیا ہے جس سے اہل کتاب اعراض اور روگردانی کر رہے ہیں اور پختہ عہد کے بعد روگردانی کرنا صریح فسق ہے اور اس آیت کے اخیر میں فمن تولی بعد ذلک فاولئک ھم الفسقون میں فسق سے یہی بد عہدی مراد ہے چناچہ فرماتے…
Read the full tafseer →118 مذکورہ عہد چونکہ انبیاء (علیہم السلام) کی تبعیت میں ان کی امتوں سے بھی لیا گیا تھا۔ اس لیے یہاں اعراض کرنے والوں اور عہد توڑنے والوں سے امتیں ہی مراد ہیں۔ کیونکہ عہد شکنی کبیرہ گناہ ہے۔ جس کا صدور انبیاء (علیہم السلام) سے ناممکن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
ربط آیات : گذشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ جب حضور ﷺ وفد نجران کو بحث میں لاجواب کر رہے تھے ، تو ایک یہودی نے کہا ، کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم لوگ آپ کی پرستش شروع کریں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ جس انسان کو نبوت سے سرفراز فرمائے ، اس کی یہ شان نہیں ہے۔ کہ وہ اللہ کی بجائے لوگوں کو اپنی عبادت کی طرف بلائے یہ اٹل بات ہے کہ نبی ہمیشہ خدا تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا ہے۔ وہ تو کہتا ہے۔ کہ اللہ والے ہوجآ ۔ وہ ملائکہ یا انبیاء کی عبادت کا حکم نہیں دیتا۔ اس معاملہ میں انبیاء کی بریت واضح کرنے کے بعد آمدہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے میثاق النبیین کا تذکرہ فرمایا ہے۔…
Read the full tafseer →فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ 82
ولي
وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه .
فمن الأوّل قوله :
وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] .
ومن الثاني قوله :
فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ،
( و ل ی ) الولاء والتوالی
اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ…
Read the full tafseer →ترکیب : بما کنتم صفت ‘ ربانیین کی اور ممکن ہے کہ رب سببیہ ای ہوکونوا بہذا السبب تب یہ کان سے متعلق ہوگا اور ما مصدریہ اے بتعلیمکم الکتاب۔ لما اتینکم اگر بکسرلام پڑھا جاوے تو یہ لازم یا اخذ سے متعلق ہوگا ای اخذ لہٰذا المعنی مگر مضاف محذوف ہوگا ای لرعایۃ ما اتیتکم یا میثاق سے متعلق ہوگا۔ ای یو ثقنا علیہم لذلک اور ما یا موصولہ موصوفہ ہوگا اور عائد محذوف اس سے من کتاب حال ہوگا اور جو لام کو بالفتح پڑھا جاوے تب ما بمعنی الذی مبتداء ہوگا اور لام تاکید قسم کے لئے ہوگا اور خبر یا من کتب و حکمۃ ہوگی یا لتومنن بہ اور یا ما شرطیہ اور لام قسم کے لئے ہے اور لتؤمنن اس کی شرط اور لام جواب قسم میں واقع ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
وَاِذْ اَخَذَاللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُـکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّـہٗ ط قَالَ ئَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ ط قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا ط قَالَ فَاشْہَدُوْا وَ اَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰہِدِیْنَ ۔ فَمَنْ تَوَلّٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔
(اور یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب اور حکمت سے دوں پھر تمہارے پاس کوئی رسول اس کی تصدیق کرنے والا آئے جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس رسول پر ایمان لانا اور ضرور اس کی نصرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب اور اللہ کے نافرمانوں کو بار بار سوچنا چاہیے کہ تمہاری بد عہدی اور نافرمانی سے رب کی خدائی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اپنے خالق ومالک کی تابعدار ہے۔ جب ساری مخلوق تابعدار اور تمام انبیاء نے نبی ﷺ کی نبوت کا اقرار اور اس سے عہد کیا تو تم نبوت کا انکار اور اللہ کی بغاوت کرنے والے کون ہوتے ہو ؟
اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکامات ماننے کا نام دین ہے۔ اے اہل کتاب اور دنیا جہان کے لوگو ! کیا اللہ تعالیٰ کی اطاعت چھوڑ کر کسی اور کی تابعداری کرنا چاہتے ہو ؟ ذراغور کرو اور سوچو کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی فرمانبرداری میں لگی ہوئی ہے۔ سورج…
Read the full tafseer →82: فَمَنْ تَوَلّٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُ ولٰٓپکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ (جو اس تاکید اور پختہ عہد کے بعد اس سے منہ موڑے گا) اور قبول کرلینے کے بعد اس عہد کو توڑ دے اور آنے والے پیغمبر پر ایمان سے اعراض کرے۔ فَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ (وہ وہی فاسق ہیں) یعنی سرکش کفار ہیں۔
Read the full tafseer →(تفسیر) 82۔:
(آیت)” فمن تولی بعد ذلک “۔ اس اقرار کے بعد جس نے روگردانی کی ۔ (آیت)” فاولئک ھم الفاسقون “ جو نافرمان ایمان سے خارج ہوئے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
(81 ۔ 82) ۔ یہ وہی معاہدہ ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت کی تفسیر میں گذرا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے نبی سے اس کے ما بعد میں آنے والے نبی کی بابت یہ عہد کیا ہے کہ اگر پہلا نبی ما بعد میں آنے والے نبی کا زمانہ پائے تو خود اس پر ایمان لائے جب ضرورت پڑے اس کی مدد کرے ورنہ اپنی امت کو اس کے موافق وصیت کر جائے یہ معاہدہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع ہو کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ختم ہوتا ہے چناچہ اس معاہدہ کی بنا پر اوپر کی حدیث میں آپ نے یہ فرمایا ہے کہ اگر میرے زمانہ میں موسیٰ و ” عیسیٰ (علیہما السلام) “ زندہ 1 ہوتے تو وہ بھی میری فرماں برداری قبول کرتے، اس معاہدہ کو یاد دلا کر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اس نے نبیوں سے پختہ عہد و پیمان لیا، کیونکہ انہیں کتاب دی ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور حکمت دی ہے جو حق و باطل کے درمیان اور ہدایت و گمراہی کے درمیان فرق کرنے والی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی رسول بھیجے جو ان کے پاس آنے والی وحی اور کتاب کو سچامانے۔ تو تمام نبیوں کو چاہیے کہ اس پر ایمان لائیں۔ اس کی تصدیق کریں اور اپنی امتوں کو بھی اس پر ایمان و تصدیق کا حکم دیں۔ چناچہ اللہ نے تمام انبیاء (علیہ السلام) پر واجب کیا ہے کہ ایک دوسرے پر ایمان لائیں اور ایک دوسرے کی تصدیق کریں، کیونکہ ان کے پاس جو بھی احکام آئے ہیں اللہ کی طرف سے ہیں۔ اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–92
راہ خدا میں محبوب چیز قربان کرنا
قول باری ہے (لن تنالوالبرحتی تنفقوامما تحبون، تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیزرکھتے ہو) البر کے معنی دواقوال ہیں اول جنت عمروبن میمون اور سدی سے یہی منقول ہے۔ دوم نیکی کا کام جس کی بناپربندے اجر کے مستحق قرارپاتے ہیں نفقہ سے مراد اللہ کی راہ میں صدقہ وغیرہ کی صورت میں پسند یدہ چیزیں دے دینا ہے۔ یزیدبن ہارون نے حمید سے، انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب درج بالاآیت نازل ہوئی نیزیہ آیت (من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا، کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے) تو حضرت ابوطلحہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
169 حضرات انبیائے کرام کے عہد کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھی یاد کرو کہ جب اللہ نے اپنے پیغمبروں سے یہ عہد لیا۔ سو تمام انبیائے کرام سے یہ عہد لیا گیا کہ تم نے ہر بعد میں والے بنی پر ایمان لانا اور ان کا ساتھ دینا ہے کہ سب کا پیغام ایک ہی اور مشترک ہے۔ سو تم نے ان کی مدد کرنی ہے، اپنی جان و مال اور ہر اس وسیلہ و ذریعہ سے، جو تمہیں میسر ہو کہ حق ایک ہے اور اس کیلئے تعاون و تناصر سب کی مجموعی ذمہ داری اور ہر ایک سے مطلوب ہے۔ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی شرائع میں فروع و جزئیات کے اعتبار سے اگرچہ اپنے اپنے زمانے کے لحاظ سے کچھ اختلاف رہا ہو، لیکن اصول و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
انبیاء سے لیا گیا عہد
تشریح : اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کا یہ بندوبست کیا کہ ہر قوم کے لئے مختلف اوقات میں نبی بھیجے جاتے رہے تاکہ لوگوں کو نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ وعدہ بھی اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے لیا کہ تم اپنی قوم کو یہ سبق بھی اچھی طرح دے دینا کہ جو بنی تمہارے پاس آئے تو اس کی کتاب اور شریعت تم خود بھی مانو گے اور تمہاری امت بھی اس پر پورا پورا یقین کرے گی تو اس پر تمام نبیوں نے اللہ سے وعدہ کیا کہ جو بھی نبی ان کے بعد آئے گا وہ اس پر ایمان لائیں گے بلکہ اس کی پوری پوری مدد بھی کریں گے۔ مزید تاکید کے لئے اللہ رب العزت نے دوبارہ پوچھا : کیا تم اپنے عہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–91
آیات 81- 91
اسرارومعارف
واذاخذ اللہ میثاق النبیین…………………وھوفی الاخرۃ من الخسرین۔
اور یہ نبی جس کا انکار کرنے کے لئے یہود طرح طرح کی حیلہ جو ئیاں کر رہے ہیں یہ تو ایسی عظیم ہستی ہے کہ تمام نوع انسانی کا نبی ہے۔ نہ صرف نبی الامت ہے بلکہ نبی الانبیاء اور امام المرسلین ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اللہ نے تمام انبیاء سے عہد لیا تھا کہ جب تمہیں کتاب و حکمت عطا ہو یعنی تم بحیثیت نبی کے مبعوث کئے جائو۔
یاد رہے کہ کتاب کے ساتھ ہر جگہ حکمت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کتاب الٰہیہ کے معانی بھی من جانب اللہ حکمت کے نام سے انبیاء کو تعلیم کئے جاتے ہیں اور کوئی ایسا معنی جو پیغمبر کے ارشاد کردہ معانی کے مطابق نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–85
ف 1 تشریح کے لیے دیکھئے سورت بقرہ آیت2 یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے مبعوث ہوجا نے کے بعد جو شخص آپ ﷺ کی فرما نبر داری اور اطاعت کا راستہ چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کرے گا یا کسی پہلے راستہ پر چلنا رہے گا وہ چا ہے کتنا ہی توحید پرست کیوں نہ ہو اور پچھلے انبیا ( علیہ السلام) پر ایمان رکھنے والا ہو اگر وہ محمد ﷺ پر ایمان نہیں رکھتا تو اس کی دینداری اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہ ہوگی اور وہ آخرت میں نامراد و ناکام ہوگا۔ اس معنی ہیں آنحضرت ﷺ کا رشاد بھی ہے۔ من عمل عملا لیس علیہ امر نا فھو رد یعنی جس نے کوئی ایسا کام کیا جو ہمارے طریقہ کے مطابق نہیں ہے وہ مردود ہے۔ ابن کثیر۔ شوکانی )
3 یعنی جو لوگ حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
(3:81) اس آیۃ میں میثاق النبیین کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ نبیوں کے بارے میں میثاق لیا گیا۔ دوسرا وہ میثاق جو نبیوں سے لیا گیا تھا۔
بعض مفسرین نے پہلا مطلب اختیار کیا ہے اور ان میں حضرت شاہ ولی اللہ (رح) بھی ہیں اور بعضوں نے دوسرا مطلب اختیار کیا ہے۔ لیکن پہلا مطلب زیادہ قرین قیاس ہے۔ دوسرے مطلب کی صورت میں ماحاصل یہ ہوگا کہ اللہ نے نبیوں میں سے ہر ایک نبی سے یہ عہد لیا تھا کہ اگر کوئی دوسرا رسول اس کے عہد میں مبعوث ہو تو اس کا فرض ہے کہ اس کی تصدیق کرے۔ اور اس کا ساتھ دے۔
تاریخ میں کب اور کہاں ایسے حالات معرض وجود میں آئے کہ ایک امت کی جانب ایک رسول کتاب و حکمت لے کر آیا ہو اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–91
لغات القرآن آیت نمبر 81 تا 91
لتومنن (البتہ تم ضرور ایمان لاؤگے) لن یقبل (ہرگز قبول نہ کیا جائے گا) لتنصرن (البتہ تم ضرور مدد کروگے) لایخفف (کمی نہ کی جائے گی) اصری (میرا بوجھ) لن تقبل (ہرگز قبول نہ کی جائے گی) یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں) الضآلون (گمراہ ہونے والے) طوع (خوشی سے) ملء الارض (زمین بھر) کرہ (زبردستی) لوافتدٰی (اگر وہ بدلہ میں دے) یبتغ (تلاش کرے گا) ۔
تشریح : آیت نمبر 81 تا 91
پچھلی آیات میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں اس کی تردید کردی ہے کہ انبیاء کرام اپنا بندہ بنانے
نہیں آتے بلکہ سچی بات یہ ہے کہ انبیاء کرام لوگوں کو اللہ والا بنانے آتے ہیں۔ ان آیات میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
اللہ تعالیٰ سے معاہدہ
یہ وہی معاہدہ ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت کی تفسیر میں گزرا۔ حاصل یہ ہے اللہ تعالیٰ نے پہلے نبی سے اس کے مابعد میں آنے والے نبی کی بابت عہد لیا ہے کہ اگر پہلا نبی مابعد میں آنے والے نبی کا زمانہ پاوے تو خود اس پر ایمان لاوے۔ جب ضرورت پڑے اس کی مدد کرے ورنہ اپنی امت کو اس کے موافق وصیت کر جاوے۔ یہ معاہدہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع ہو کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ختم ہوتا ہے۔ چناچہ اس معاہدہ کی بنا پر اوپر کی حدیث میں آپ نے یہ فرمایا ہے کہ اگر میرے زمانہ میں موسیٰ وعیسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو وہ بھی میری فرمابرداری قبول کرتے۔ اس معاہدہ کو یاد دلا کر اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
[31] جو عہد پیغمبروں سے لیا گیا ہو وہ اس کے پیروؤں پر آپ سے آپ عائد ہوجاتا ہے۔ یہاں اتنی بات اور سمجھ لینی چاہئے کہ محمد ﷺ سے پہلے ہر نبی سے یہ عہد لیا جاتا رہا ہے اور اسی بنا پر ہر نبی نے اپنی امت کو بعد کے آنے والے نبی کی خبر دی اور اس کا ساتھ دینے کی ہدایت کی۔ لیکن نہ قرآن میں، نہ حدیث میں، کہیں بھی اس بات کا پتہ نہیں چلتا کہ نبی اکرم ﷺ سے ایسا عہد لیا گیا ہو یا آپ نے کسی بعد کے آنے والے نبی کی خبر دے کر اس پر ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
اللہ کا دین :
(ف 1) وہ پیام تسکین جو حضور ﷺ اس دنیائے اضطراب کے لئے لے کر آئے وہ اللہ کا خالص دین ہے اور اللہ وہ ہے جسے آسمانوں اور زمینوں کا ذرہ ذرہ مانتا ہے اور جس کا اقرار طوعا وکرہا کسی نہ کسی طرح کرنا ہی پڑتا ہے ۔
جس طرح اس کی ربوبیت عامہ کا انکار فطرت انسانی سے نہیں بن پڑتا ، اسی طرح اس کے دین سے ابا جو ربوبیت کا خاصہ ہے ناممکن ہے کسی نہ کسی وقت اور مشکل میں ہر انسان اس کی اطاعت پر مجبور ہے ، یہ الگ بات ہے کہ وہ زبان سے اس کا اقرار نہیں کرتا ، مگر وہ اپنے افعال وحرکات سے ہمیشہ یہ ثابت کرتا رہتا ہے کہ اس میں اللہ کے بنائے ہوئے قانون کی مخالفت کا کوئی جذبہ نہیں ۔
Read the full tafseer →ف 1 ۔ پھر جو شخص اس پختہ عہد کے بعد انبیاء کی امتوں میں سے پھر جائے گا تو ایسے ہی لوگ فاسق اور بےحکم ہیں۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ یہ عہد اگرچہ بظاہر انبیاء سے تھا لیکن طبعا ً ان کی امم کے ساتھ تھا ۔ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام تو بوجہ عصمت اور معصوم ہونے کے ایسا نہیں کرسکتے کہ قول وقرار کے بعد عہد شکنی کریں البتہ امم سے اس کا امکان ہے اس لئے ہم نے تیسیر میں امم کردیا ہے کہ اگر ان کی امتوں میں سے کوئی ایسا کرے گا کہ سابقہ پیشین گوئیوں کے تحت آئے ہوئے پیغمبر پر ایمان نہیں لائے گا اور اس کی مدد نہیں کرے گا تو ایسے لوگ فاسقوں میں شمار ہوں گے اور اسلام سے خارج سمجھے جائیں گے جیسا کہ بنی اسرائیل نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
ف 1۔ حاصل مقام یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام تکونیہ کے تو سب مسخر ہیں اور کرہ سے یہی مراد ہے اور بہترے احکام شرعیہ کے بھی مطبع ہیں اور طوع کا یہی مطلب ہے تو ایک قسم حکم کی تو سب ہی پر جاری ہے اور دوسری قسم کو بھی بہتوں نے قبول کر رکھا ہے جس سے حاکم کی عظمت نمایاں ہے اب بعض جو دوسری قسم میں خلاف کرتے ہیں تو کیا کوئی اور اس عظمت کا مالک ہے جس کی موافقت کے لیے یہ مخالفت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →جو شخص بھی اس سے اعراض کرے گا وہ نافرمانی کا مرتکب ہوگا :
168: اس آیت نے اس بات کی مزید وضاحت فرما دی کہ یہ مذکورہ عہد انبیاء کرام (علیہم السلام) سے اور پھر ان کی وساطت سے ان کی امتوں کے لوگوں سے بھی لیا گیا تھا کہ ” تم ضرور اس رسول موعود یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کرنا “ اور یہ کہ اگر تم کو اس کا زمانہ مل جائے تو خود اس کی مدد کرنا اور اگر وہ تمہارے زمانہ میں آئے تو اپنے متبعین کو نصیحت کردینا کہ جو بھی اس کے زمانہ میں موجود ہو اس کی مدد کرے۔ “ اب زیر نظر آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ ” اب اس اقرار کے بعد جس شخص نے بھی پیغمبروں کی اتباع سے اپنا رخ پھیرا یہ رخ پھیرنے والا خواہ کوئی ہو پس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–84
The infallibility of the Prophets
The verse implies that a person whom Allah invests with the Book, the Wisdom and the power of making decisions, and places him on the great station of prophethood is always faithful to his mission when he communicates the Divine message to people and calls on them to be-come His faithful servants. That he starts moving people away from the worship of only one God and starts asking them to become his own worshippers or the worshippers of some other creatures is something he can never do. If so, this would mean that the one whom Allah had sent as his messenger…
Read the full tafseer →70. People of the Book! Why do you reject the signs of Allah even though you yourselves witness them?60
Read the full tafseer →