Explained with ayahs 81–82
انبیاء سے عہد و میثاق
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ تک کے تمام انبیاء کرام سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ لیا کہ جب کبھی ان میں سے کسی کو بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کتاب و حکمت دے اور وہ بڑے مرتبے تک پہنچ جائے پھر اس کے بعد اسی کے زمانے میں رسول ﷺ آجائے تو اس پر ایمان لانا اور اس کی نصرت و امداد کرنا اس کا فرض ہوگا یہ نہ ہو کہ اپنے علم و نبوت کی وجہ سے اپنے بعد والے نبی کی اتباع اور امداد سے رک جائے، پھر ان سے پوچھا کہ کیا تم اقرار کرتے ہو ؟ اور اسی عہد و میثاق پر مجھے ضامن ٹھہراتے ہو۔ سب نے کہا ہاں ہمارا اقرار ہے تو فرمایا گواہ رہو اور میں خود بھی گواہ ہوں۔ اب اس عہد و میثاق سے جو…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 69
مطلب یہ ہے کہ ہر پیغمبر سے اس امر کا عہد لیا جاتا رہا ہے۔۔۔۔ اور جو عہد پیغمبر سے لیا گیا ہو وہ لامحالہ اس کی پیرو وں پر بھی آپ سے آپ عائد ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔ کہ جو نبی ہماری طرف سے اس دین کی تبلیغ و اقامت کے لیے بھیجا جائے جس کی تبلیغ و اقامت پر تم مامور ہوئے ہو، اس کا تمہیں ساتھ دینا ہوگا۔ اس کے ساتھ تعصب نہ برتنا، اپنے آپ کو دین کا اجارہ دار نہ سمجھنا، حق کی مخالفت نہ کرنا، بلکہ جہاں جو شخص بھی ہماری طرف سے حق کا پرچم بلند کرنے کے لیے اٹھایا جائے اس کے جھنڈے تلے جمع ہوجانا۔
یہاں اتنی بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ محمد ﷺ سے پہلے ہر نبی سے یہی عہد لیا جاتا رہا ہے اور اسی بنا پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب کہ اللہ تعالیٰ نے عہد لیا (حضرات) انبیاء (علیہم السلام) سے کہ جو کچھ تم کو کتاب اور علم (شریعت) دوں (اور) پھر تمہارے پاس کوئی (اور) پیغمبر آوے جو مصداق (اور موافق) ہو اس (علامت) کا جو تمہارے پاس (کی کتاب اور شریعت میں) ہے (یعنی دلائل معتبرہ عند الشرع سے اس کی رسالت ثابت ہو) تو تم ضرور اس رسول (کی رسالت) پر (دل سے) اعتقاد بھی لانا اور (ہاتھ پاؤں سے) اس کی مدد بھی کرنا (پھر یہ عہد بیان کر کے ارشاد فرمایا کہ آیا تم نے قرار کیا اور لیا اس (مضمون) پر میرا عہد (اور حکم قبول کیا) وہ بولے کہ ہم نے اقرار کیا، ارشاد فرمایا تو (اپنے اس اقرار پر) گواہ بھی رہنا (کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
تفسیر آیت 81-82: انبیاء کے باب میں بنی اسرائیل سے میثاق : ”میثاق النبیین“ میں اضافت فاعل کی طرف نہیں بلکہ مفعول کی طرف ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ انبیا سے میثاق لیا گیا بلکہ یہ مطلب ہے کہ انبیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے میثاق لیا۔ یہ میثاق، جیسا کہ آیت میں ذکر ہے، اس بات کے لیے تھا کہ بنی اسرائیل چونکہ کتاب و حکمت کے حامل اور امین بنائے گئے ہیں اس وجہ سے ان کے اس منصب کا فطری تقاضا یہ ہے کہ جو انبیاء آئیں خاص طور پر آخری نبی جب آئیں تو سب سے آگے بڑھ کر ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔ اس عہد کا ذکر قرآن میں مختلف اسلوبوں سے ہوا ہے۔ مثلاً سورة مائدہ میں ہے ”وَلَقَدْ أَخَذَ…
Read the full tafseer →81۔ 1 یعنی ہر نبی سے یہ وعدہ لیا گیا کہ اس کی زندگی اور دور نبوت میں اگر دوسرا نبی آئے گا تو اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہوگا جب نبی کی موجودگی میں آنے والے نئے نبی پر خود اس نبی کو ایمان لانا ضروری ہے تو ان کی امتوں کے لئے تو اس نئے نبی پر ایمان لانا بطریق اولیٰ ضروری ہے بعض مفسرین نے اس کا یہی مفہوم مراد لیا ہے۔ یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بابت تمام نبیوں سے عہد لیا گیا کہ اگر ان کے دور میں وہ آجائیں تو اپنی نبوت ختم کر کے ان پر ایمان لانا ہوگا لیکن یہ واقعہ ہے پہلے معنی میں ہی یہ دوسرا مفہوم از خود آجاتا ہے اس لئے الفاظ قرآن کے اعتبار سے پہلا مفہوم ہی زیادہ صحیح ہے اس مفہوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
30: مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات میں حکم اللہ تعالیٰ ہی کا چلتا ہے اہل ایمان اللہ کے ہر حکم کو دل وجان سے بخوشی قبول کرتے ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کو مانتے بھی نہ ہوں ان کو بھی چار وناچار اللہ کے ان فیصلوں کے آگے سرجھکانا پڑتا ہے جو وہ اس کائنات کے انتظام کے لئے کرتا ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ اگر کسی کو بیمار کرنے کا فیصلہ فرمالے تو کوئی اسے پسند کرے یا ناپسند ہر حال میں وہ فیصلہ نافذ ہو کر رہتا ہے اور کوئی مومن ہو یا کافر اسے فیصلے کے آگے سرجھکائے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے ایک نہایت ہی خوفناک اور پختہ معاہدہ لیا ‘ اور اس معاہدے پر وہ خود گواہ بن گیا اور اپنے تمام نبیوں کو اس پر گواہ بنایا یہ معاہدہ تمام رسولوں سے لیا گیا تھا ۔ مضمون یہ تھا کہ جس رسول کو بھی کتاب و حکمت دی جائے اس کا فرض یہ ہوگا کہ وہ اس کے بعد آنیوالے رسول کی تائید کردے اگر بعد میں آنے والا رسول خود اس کی تعلیمات کی توثیق وتائید کررہا ہو ۔ تائید کے ساتھ سابقہ رسول کا یہ بھی فرض ہے کہ اس کی نصرت کرے اور اس کی شریعت کی اطاعت کرے ۔ یہ معاہدہ اللہ اور ہر رسول کے مابین طے پایا تھا۔
قران کریم نے تاریخ انسانی کے طویل ترین دفتر کو لپیٹ کر تمام رسولوں کو ایک جگہ جمع کردیا ۔ وہ ایک ہی منظر…
Read the full tafseer →3 یعنی کوئی نبی اپنی بندگی کی تعلیم نہیں دے سکتا۔ بندگی صرف ایک خدا کی سکھائی جاتی ہے البتہ انبیاء کا حق یہ ہے کہ لوگ ان پر ایمان لائیں، انکا کہا مانیں، اور ہر قسم کی مدد کریں۔ عام لوگوں کا تو کیا ذکر ہے، حق تعالیٰ نے خود پیغمبروں سے بھی یہ پختہ عہد لے چھوڑا ہے کہ جب تم میں سے کسی نبی کے بعد دوسرا نبی آئے (جو یقیناً پہلے انبیاء اور ان کی کتابوں کی اجمالاً یا تفصیلاً تصدیق کرتا ہوا آئے گا) تو ضروری ہے کہ پہلا نبی پچھلے کی صداقت پر ایمان لائے اور اس کی مدد کرے۔ اگر اس کا زمانہ پائے تو بذات خود بھی اور نہ پائے تو اپنی امت کو پوری طرح ہدایت و تاکید کر جائے کہ بعد میں آنیوالے پیغمبر پر ایمان لا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
آیت 81 وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاق النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَ ‘ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ ط
اس لیے کہ انبیاء و رسل کا ایک طویل سلسلہ چل رہا تھا ‘ اور ہر نبی نے آئندہ آنے والے نبی ﷺ ‘ کی پیشین گوئی کی ہے اور اپنی امت کو اس کا ساتھ دینے کی ہدایت کی ہے۔ اور یہ بھی ختم نبوت کے بارے میں بہت بڑی دلیل ہے کہ ایسی کسی شے کا ذکر قرآن یا حدیث میں نہیں ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے ایسا کوئی عہد لیا گیا ہو یا آپ ﷺ نے اپنی امت کو کسی بعد میں آنے والے نبی کی خبر دے کر اس پر ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہو ‘ بلکہ اس…
Read the full tafseer →71 اللہ تعالیٰ نے ایک عہد تو تمام بنی آدم سے عالم ارواح میں لیا تھا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے جس کا ذکر سورة اعراف کی آیت نمبر 177 میں آتا ہے اور دوسرا عہد انبیاء سے لیا گیا تھا۔ جس کا ذکر اس آیت میں ہے اور مفسرین کی رائے کے مطابق یہ عہد بھی عالم ارواح میں ہی لیا گیا تھا اور وہ عہد یہ تھا کہ اگر تمہاری زندگی میں کوئی ایسا نبی آئے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود کتاب کی تصدیق کرتا ہو تو تمہیں اس پر ایمان بھی لانا ہوگا اور اس کی مدد بھی کرنا ہوگی۔ یہ حکم دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے اس حکم کی بجا آوری کی توثیق بھی کرائی۔ بیشمار انبیاء تو ایسے ہیں جو ہم عصر تھے۔ جسے…
Read the full tafseer →183 ۔ (یہ ایمان دل وجان سے ہو اور نصرت دست و زبان سے) (آیت) ” اخذ اللہ میثاق النبین “ یعنی ارواح انبیاء سے عہد لیا۔ عالم ارواح میں اس ناسوتی دنیا کے وجود سے قبل۔ یہاں یہ واضح رہے کہ جو احکام انبیاء کو ملے ان میں ان کی امتیں بدرجہ اولی شامل ہیں۔ (آیت) ” من کتب و حکمۃ “۔ کتاب سے مراد کتاب آسمانی ہونا ظاہر ہے۔ (آیت) ” حکمۃ “۔ سے مراد معرفت الہی بھی ہوسکتی ہے اور نبوت بھی۔ (آیت) ” مصدق “۔ تصدیق ہونے سے بھی بڑھ کر یہ حالت ہے کہ وہ بعد کا آنے والا رسول خود ان پچھلی تعلیمات وہدایات کا مصداق بھی ہو۔ (آیت) ” لتؤمنن بہ ولتنصرنہ “۔ عارفین صوفیہ نے کہا ہے کہ شیوخ پر لازم ہے کہ ان کا جو معاصر علم وعمل میں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 81 تا 91
ترجمہ : اور اس وقت کو یاد کرو جب انبیاء سے عالم ارواح میں اللہ نے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب و حکمت (کی قسم) سے دوں۔ لَمَا۔ لام کے فتحہ کے ساتھ لام ابتداء ہے اور اس معنی قسم کی تاکید کے لیے ہے جو اَخَذَ الْمیثاق سے مفہوم ہیں اور کسرہ لام کے ساتھ اَخَذَ کے متعلق ہے، اور مَا دونوں صورتوں میں موصولہ ہے، ای الذّی، اور ایک قراءت میں اٰتَیْنٰکُمْ ہے پھر تمہارے پاس اس کتاب و حکمت کی تصدیق کرنے والا آئے جو تمہارے پاس ہے اور وہ (رسول) محمد ﷺ ہیں، تو تم ضرور اس رسول پر ایمان لانا اور اس کی نصرت کرنا۔ (لَتُؤْمِنُنّ الخ) جواب قسم ہے (یعنی) اگر تم اس کا پاؤ، اس حکم میں انبیاء کی امتیں…
Read the full tafseer →وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاق النَّبِيّٖنَ : یعنی اللہ نے ہر نبی سے پختہ وعدہ لے لیا تھا کہ اپنے بعد آنے والے نبی کی تصدیق کرنا اور اپنی امت کو بھی حکم دینا کہ وہ آنے والے نبی کی پیروی کریں حضرت ابن عباس نے جو تشریح کی ہے اس کا یہی مطلب ہے۔ لیکن حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ نے فرمایا : کہ آدم اور آدم کے بعد ہر نبی سے اللہ نے وعدہ لے لیا تھا کہ تم اور تمہاری امت محمد ﷺ کی تصدیق کرنا اور اگر تمہاری زندگی میں محمد ﷺ کی بعثت ہوجائے تو تم سب ان کی مدد کرنا (گویا حضرت ابن عباس ؓ کے قول پر رسول سے عام پیغمبر مراد ہیں اور حضرت علی کی تشریح پر صرف رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک مراد ہے) ۔
بعض علماء نے لکھا ہے…
Read the full tafseer →(81) اب اللہ تعالیٰ اس عہد ومیثاق کا ذکر فرماتے ہیں جو اس نے تمام انبیاء کرام (اور ان کی قوموں سے) لیا کہ وہ رسول اکرم ﷺ پر ایمان لائیں گے اور آپ کی مدد فرمائیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر ایک نبی سے یہ عہد لیا گیا کہ وہ رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت اور آپ کے فضائل کو بیان کرے گا جب کہ میں اللہ تعالیٰ تمہیں ایسی کتاب دوں گا، جس میں حلال و حرام تمام چیزوں کا بیان ہوگا اور پھر تم اس بات کا اپنی امت سے بھی عہد لوگے کہ اگر تمہارے پاس ایسا رسول آئے جو تمہاری کتابوں کی توحید کے بیان میں تصدیق کرنے والا ہو تو ضرور تم لوگ اس پر اور اس کے فضائل پر ایمان لاؤ گے اور اس کے دشمنوں کے خلاف جہاد میں اس…
Read the full tafseer →وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ۔۔ : ان آیات سے مقصود ایسے دلائل کی وضاحت ہے جن سے رسول اللہ ﷺ کی نبوت ثابت ہوتی ہے۔ (رازی) یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ اور ان کے بعد ہر نبی سے عہد لیا کہ وہ اپنے بعد آنے والے نبی کی تصدیق اور اس کی مدد کرے گا اور اس بارے میں کسی قسم کی گروہ بندی اور عصبیت اس کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ اگر وہ نبی اس کی زندگی میں آجائے تو بذات خود اس پر ایمان لائے گا اور اگر اس کی وفات کے بعد آئے تو وہ اپنی امت کو بعد میں آنے والے نبی پر ایمان لانے اور اس کی مدد کرنے کا حکم دے کر جائے گا۔ اس اعتبار سے گویا موسیٰ ؑ سے عیسیٰ ؑ پر اور عیسیٰ ؑ سے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا عہد لیا گیا ہے۔…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 81۔
کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) سے پختہ وعدہ لیا کہ وہ بعض بعض کی تصدیق کریں اور بعض بعض کو ایمان کا حکم دیں (یعنی وہ ایک دوسرے کی تصدیق کریں اور ایک دوسرے پر ایمان لائیں) سو تصدیق کے ساتھ مدد ونصرت کرنے کا یہی معنی ہے، یہ قول سعید بن جبیر، قتادہ، طاؤس، سدی اور حسن رحمۃ اللہ علہیم کا یہی آیت کا ظاہر مفہوم ہے، طاؤس نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے انبیاء (علیہم السلام) سے یہ وعدہ لیا کہ وہ بعد میں آنے والوں کے ساتھ ایمان لائیں اور حضرت ابن مسعود ؓ نے اس طرح قرأت کی ہے (آیت) ” واذ اخذا للہ میثاق الذین اوتو الکتاب “۔ کسائی نے کہا ہے : یہ جائز ہے کہ (آیت)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
(1) عبد بن حمید، فریابی، ابن جریر اور ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے اس آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق النبین لما اتیتکم من کتب و حکمۃ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ کاتبوں کی غلطی ہے اور یہ ابن مسعود ؓ کی قرات میں یوں ہے لفظ آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب “۔
(2) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب “ کی قرات کی پھر کہا کہ ابی بن کعب ؓ بھی اسی طرح پڑھا کرتے تھے ربیع (رح) نے فرمایا کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ثم جاء کم رسول اللہ مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ “ پھر فرمایا تم البتہ ضرور محمد ﷺ پر…
Read the full tafseer →[ وَاِذْ : اور جب ] [اَخَذَ : لیا ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ : نبیوں کا عہد (انبیاء سے) ] [لَمَآ : جو کچھ ] [اٰتَـیْتُکُمْ : میں دوں تم لوگوں کو ] [مِّنْ کِتٰبٍ : کسی کتاب سے ] [وَّحِکْمَۃٍ : اور کسی حکمت سے ] [ثُمَّ : پھر ] [جَآئَ کُمْ : آئے تمہارے پاس ] [رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ : ایک تصدیق کرنے والا رسول ] [لِّمَا : اس کی جو ] [مَعَکُمْ : تمہارے پاس ہے ] [لَتُؤْمِنُنَّ : تو تم لوگ لازماً ایمان لائو گے ] [بِہٖ : اس پر ] [وَلَتَنْصُرُنَّہٗ : اور تم لوگ لازماً مدد کرو گے اس کی ] [قَالَ : (اللہ نے) کہا ] [ئَ : کیا ] [اَقْرَرْتُمْ : اقرار کیا تم لوگوں نے ] [وَاَخَذْتُمْ : اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کا عہد لینا
ان دو آیتوں میں اس عہد کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے لیا۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے یہ عہد لیا کہ تمہاری موجودگی میں جو دوسرا کوئی نبی آئے گا اس پر ایمان لانا اور اپنی امت کو بھی اس پر ایمان لانے کی دعوت دینا تبلیغ کرنا اور اس نبی کی مدد کرنا۔ اگر تمہاری موجودگی میں کوئی نبی نہ آئے تو اپنی امت کو تاکید کردینا کہ اس نبی پر ایمان لانا جو میرے بعد آئے اور اس کی تصدیق اور اس کی مدد کرنا۔ اسی سلسلہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عہد لیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائیں۔ اور عیسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
تذکیر میثاق انبیاء وتوبیخ بر انحراف ازاں
قال تعالیٰ واذ اخذ اللہ میثاق النبیین۔۔۔ الی۔۔۔ فاولئک ھم الفسقون
(ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ عبادت اور بندگی خاص اللہ کا حق ہے یہ ناممکن ہے کہ کوئی نبی اپنی بندگی کی تعلیم دے اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ انبیاء کا حق یہ ہے کہ لوگ ان پر ایمان لائیں اور بےچون وچرا ان کی اطاعت کریں اور ہر قسم کی ان کی مدد کریں ہر نبی کے زمانہ میں ہر امت سے یہی عہد لیا گیا ہے جس سے اہل کتاب اعراض اور روگردانی کر رہے ہیں اور پختہ عہد کے بعد روگردانی کرنا صریح فسق ہے اور اس آیت کے اخیر میں فمن تولی بعد ذلک فاولئک ھم الفسقون میں فسق سے یہی بد عہدی مراد ہے چناچہ فرماتے…
Read the full tafseer →116 حصہ دوم۔ حصہ اول میں توحید کو عقلی اور نقلی دلائل سے واضح کیا گیا اور ساتھ ہی توحید سے متعلق اہل کتاب کے شبہات کا جواب دیا گیا۔ اب یہاں سے حضرت خاتم النبیین ﷺ کی رسالت ونبوت کا اثبات شروع ہوتا ہے آپ کی صداقت کے دلائل کے ساتھ ساتھ ان تمام شبہات و اعتراضات کا ازالہ بھی کردیا گیا ہے جو اہل کتاب یہودونصاریٰ کی طرف سے آپ کی رسالت پروارد کیے جاتے تھے۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس عہد کا ذکر فرمایا ہے جو حضرت خاتم النبیین ﷺ پر ایمان لانے اور آپ کی پیشگوئی فرمانے کے بارے میں تمام انبیاء (علیہم السلام) سے لیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر پیغمبر سے یہ عہد لیا تھا کہ وہ آخر الزمان پیغمبر پر ایمان لائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
ربط آیات : گذشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ جب حضور ﷺ وفد نجران کو بحث میں لاجواب کر رہے تھے ، تو ایک یہودی نے کہا ، کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم لوگ آپ کی پرستش شروع کریں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ جس انسان کو نبوت سے سرفراز فرمائے ، اس کی یہ شان نہیں ہے۔ کہ وہ اللہ کی بجائے لوگوں کو اپنی عبادت کی طرف بلائے یہ اٹل بات ہے کہ نبی ہمیشہ خدا تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا ہے۔ وہ تو کہتا ہے۔ کہ اللہ والے ہوجآ ۔ وہ ملائکہ یا انبیاء کی عبادت کا حکم نہیں دیتا۔ اس معاملہ میں انبیاء کی بریت واضح کرنے کے بعد آمدہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے میثاق النبیین کا تذکرہ فرمایا ہے۔…
Read the full tafseer →وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَۃٍ ثُمَّ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ 0 ۭ قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰي ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ 0 ۭ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا 0 ۭ قَالَ فَاشْہَدُوْا وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰہِدِيْنَ 81
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–81
ترکیب : من ان تامنہ مبتداء امن اھل الکتاب خبر اور شرط اور جواب کا مجموعہ صفت ہے مبتداء کی کیونکہ وہ نکرہ ہے۔ بقنطار بمعنی فی یا علی ھو الا ماومت موضع نصب میں ہے کیونکہ ظرف ہے الامدۃ قیامک دائما اور حال بھی ہوسکتا ہے۔ سبیل اسم لیس فی الامیین خبر ‘ یلون صفت ہے فریقا کی جو اسم ہے ان کا اور منہم اس کی خبر ہے۔
تفسیر : یہود کی سرزنش کے بعد یہ بتانا کہ سب یکساں نہیں کچھ ان میں ایماندار خدا ترس بھی ہیں ٗ پوری حق گوئی ہے۔ یہ بات کہ انسان کتاب الٰہی اور احکام دینیہ میں خیانت نہ کرے ‘ حق میں باطل نہ ملاوے ‘ کامل ایمانداری اور پوری دیانت پر موقوف ہے اور جس کو دنیاوی باتوں میں دیانت نہیں پھر اس قوم کا دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
وَاِذْ اَخَذَاللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُـکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّـہٗ ط قَالَ ئَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ ط قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا ط قَالَ فَاشْہَدُوْا وَ اَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰہِدِیْنَ ۔ فَمَنْ تَوَلّٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔
(اور یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب اور حکمت سے دوں پھر تمہارے پاس کوئی رسول اس کی تصدیق کرنے والا آئے جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس رسول پر ایمان لانا اور ضرور اس کی نصرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
فہم القرآن
ربط کلام : عیسائیوں اور یہودیوں کے الزام ‘ بہانے اور جھوٹ کی تردید۔
یہودی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نام لے کر اور عیسائی جناب عیسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے کہتے ہیں۔ ہمیں ہدایت کی گئی ہے کہ ہم اپنے انبیاء کے علاوہ کسی نبی پر ایمان نہ لائیں۔ ان کی کذب بیانی کی تردید کرتے ہوئے اس عہد کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم کے وقت انبیائے کرام سے لیا تھا کہ میں تمہیں کتاب و حکمت سے سرفراز کروں گا۔ لیکن ایک آخر الزمان پیغمبر آنے والا ہے جو تمہاری شریعتوں کی تائید کرے گا۔ جس کے دور میں وہ پیغمبر آئے اس نبی کا فرض ہوگا کہ وہ اس پر ایمان لائے اور اس کی نصرت و حمایت کرے۔ فرمایا…
Read the full tafseer →تذکرئہ میثاق النبیّین اور دو تفسیریں :
81: وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ ٰاتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّ حِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآ ئَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ قَالَ ئَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْھَدُ وْا وَ اَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰہِدِیْنَ ۔ (جب اللہ تعالیٰ نے انبیاء ( علیہ السلام) سے پختہ وعدہ لیا کہ جو کچھ میں تم کو کتاب اور علم دوں) یہ آیت انبیاء ( علیہ السلام) سے میثاق لینے کے سلسلہ میں اپنے ظاہر پر ہے۔
پہلی تفسیر : اولاد کا لفظ میثاق کے بعد محذوف ہے کہ اولاد انبیاء…
Read the full tafseer →81۔ (آیت)” واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب و حکمۃ “۔ حمزہ (رح) نے لما کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے لما فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے جو اس پر کسرہ پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ لام اضافت ہے جو موصول پر داخل ہے ، اس کا معنی یہ ہوگا اللہ نے انبیاء (علیہم السلام) سے عہد لیا تھا کہ جو کتاب میں نے تم کو دی اور حکمت اور بیشک وہ اصحاب الشرائع ہیں اور جنہوں نے لام پر فتحہ پڑھا ہے تو ان کے نزدیک ” للذی اتیتکم “ بمعنی خبر کے ہوگا ، بعض نے کہا کہ جزاء کے معنی میں ہے ، عبارت یوں ہوگی ” لئن اتیتکم ومھما اتیتکم “ جواب جزاء ” لتومنن بہ “ ہے اور شرط ” لما اتیتکم “ ہے ، نافع اور اہل مدینہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
(81 ۔ 82) ۔ یہ وہی معاہدہ ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت کی تفسیر میں گذرا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے نبی سے اس کے ما بعد میں آنے والے نبی کی بابت یہ عہد کیا ہے کہ اگر پہلا نبی ما بعد میں آنے والے نبی کا زمانہ پائے تو خود اس پر ایمان لائے جب ضرورت پڑے اس کی مدد کرے ورنہ اپنی امت کو اس کے موافق وصیت کر جائے یہ معاہدہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع ہو کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ختم ہوتا ہے چناچہ اس معاہدہ کی بنا پر اوپر کی حدیث میں آپ نے یہ فرمایا ہے کہ اگر میرے زمانہ میں موسیٰ و ” عیسیٰ (علیہما السلام) “ زندہ 1 ہوتے تو وہ بھی میری فرماں برداری قبول کرتے، اس معاہدہ کو یاد دلا کر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اس نے نبیوں سے پختہ عہد و پیمان لیا، کیونکہ انہیں کتاب دی ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور حکمت دی ہے جو حق و باطل کے درمیان اور ہدایت و گمراہی کے درمیان فرق کرنے والی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی رسول بھیجے جو ان کے پاس آنے والی وحی اور کتاب کو سچامانے۔ تو تمام نبیوں کو چاہیے کہ اس پر ایمان لائیں۔ اس کی تصدیق کریں اور اپنی امتوں کو بھی اس پر ایمان و تصدیق کا حکم دیں۔ چناچہ اللہ نے تمام انبیاء (علیہ السلام) پر واجب کیا ہے کہ ایک دوسرے پر ایمان لائیں اور ایک دوسرے کی تصدیق کریں، کیونکہ ان کے پاس جو بھی احکام آئے ہیں اللہ کی طرف سے ہیں۔ اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–92
راہ خدا میں محبوب چیز قربان کرنا
قول باری ہے (لن تنالوالبرحتی تنفقوامما تحبون، تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیزرکھتے ہو) البر کے معنی دواقوال ہیں اول جنت عمروبن میمون اور سدی سے یہی منقول ہے۔ دوم نیکی کا کام جس کی بناپربندے اجر کے مستحق قرارپاتے ہیں نفقہ سے مراد اللہ کی راہ میں صدقہ وغیرہ کی صورت میں پسند یدہ چیزیں دے دینا ہے۔ یزیدبن ہارون نے حمید سے، انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب درج بالاآیت نازل ہوئی نیزیہ آیت (من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا، کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے) تو حضرت ابوطلحہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
169 حضرات انبیائے کرام کے عہد کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھی یاد کرو کہ جب اللہ نے اپنے پیغمبروں سے یہ عہد لیا۔ سو تمام انبیائے کرام سے یہ عہد لیا گیا کہ تم نے ہر بعد میں والے بنی پر ایمان لانا اور ان کا ساتھ دینا ہے کہ سب کا پیغام ایک ہی اور مشترک ہے۔ سو تم نے ان کی مدد کرنی ہے، اپنی جان و مال اور ہر اس وسیلہ و ذریعہ سے، جو تمہیں میسر ہو کہ حق ایک ہے اور اس کیلئے تعاون و تناصر سب کی مجموعی ذمہ داری اور ہر ایک سے مطلوب ہے۔ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی شرائع میں فروع و جزئیات کے اعتبار سے اگرچہ اپنے اپنے زمانے کے لحاظ سے کچھ اختلاف رہا ہو، لیکن اصول و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
انبیاء سے لیا گیا عہد
تشریح : اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کا یہ بندوبست کیا کہ ہر قوم کے لئے مختلف اوقات میں نبی بھیجے جاتے رہے تاکہ لوگوں کو نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ وعدہ بھی اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے لیا کہ تم اپنی قوم کو یہ سبق بھی اچھی طرح دے دینا کہ جو بنی تمہارے پاس آئے تو اس کی کتاب اور شریعت تم خود بھی مانو گے اور تمہاری امت بھی اس پر پورا پورا یقین کرے گی تو اس پر تمام نبیوں نے اللہ سے وعدہ کیا کہ جو بھی نبی ان کے بعد آئے گا وہ اس پر ایمان لائیں گے بلکہ اس کی پوری پوری مدد بھی کریں گے۔ مزید تاکید کے لئے اللہ رب العزت نے دوبارہ پوچھا : کیا تم اپنے عہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–91
آیات 81- 91
اسرارومعارف
واذاخذ اللہ میثاق النبیین…………………وھوفی الاخرۃ من الخسرین۔
اور یہ نبی جس کا انکار کرنے کے لئے یہود طرح طرح کی حیلہ جو ئیاں کر رہے ہیں یہ تو ایسی عظیم ہستی ہے کہ تمام نوع انسانی کا نبی ہے۔ نہ صرف نبی الامت ہے بلکہ نبی الانبیاء اور امام المرسلین ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اللہ نے تمام انبیاء سے عہد لیا تھا کہ جب تمہیں کتاب و حکمت عطا ہو یعنی تم بحیثیت نبی کے مبعوث کئے جائو۔
یاد رہے کہ کتاب کے ساتھ ہر جگہ حکمت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کتاب الٰہیہ کے معانی بھی من جانب اللہ حکمت کے نام سے انبیاء کو تعلیم کئے جاتے ہیں اور کوئی ایسا معنی جو پیغمبر کے ارشاد کردہ معانی کے مطابق نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
ف 4 اس آیت میں اہل کتاب کو متنہ کرنا ہے کہ تم آنحضرت ﷺ پر ایمان نہ لاکر دراصل اس عہد کی خلاف ورزی کر رہے ہو جو تمہارے انبیا ( علیہ السلام) اور ان کے ذریعہ تم سے لیا گیا ہے۔ اب بتا و کہ تمہارے فاسق ہونے میں کوئی شک وشبہ ہوسکتا ہے۔ (کبیر) سامنے سرنگوں ہے اور اختیا ری وغیرہ اختیاری طور پر اس کے تابع فرمان ہے تو یہ لوگ اس کے قانون شریعت، دین اللہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ کیوں اختیا کرتے ہیں۔ ان کو چاہیئے کہ اگر نجات اخروی چاہتے ہیں تو جو اللہ تعالیٰ کا دین اس وقت آنحضرت ﷺ لے کر مبعوث ہوئے اس کو اختیار کر کوئی کرلیں۔ نیز دیکھئے حا آیت :84 ۔ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
(3:81) اس آیۃ میں میثاق النبیین کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ نبیوں کے بارے میں میثاق لیا گیا۔ دوسرا وہ میثاق جو نبیوں سے لیا گیا تھا۔
بعض مفسرین نے پہلا مطلب اختیار کیا ہے اور ان میں حضرت شاہ ولی اللہ (رح) بھی ہیں اور بعضوں نے دوسرا مطلب اختیار کیا ہے۔ لیکن پہلا مطلب زیادہ قرین قیاس ہے۔ دوسرے مطلب کی صورت میں ماحاصل یہ ہوگا کہ اللہ نے نبیوں میں سے ہر ایک نبی سے یہ عہد لیا تھا کہ اگر کوئی دوسرا رسول اس کے عہد میں مبعوث ہو تو اس کا فرض ہے کہ اس کی تصدیق کرے۔ اور اس کا ساتھ دے۔
تاریخ میں کب اور کہاں ایسے حالات معرض وجود میں آئے کہ ایک امت کی جانب ایک رسول کتاب و حکمت لے کر آیا ہو اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–91
لغات القرآن آیت نمبر 81 تا 91
لتومنن (البتہ تم ضرور ایمان لاؤگے) لن یقبل (ہرگز قبول نہ کیا جائے گا) لتنصرن (البتہ تم ضرور مدد کروگے) لایخفف (کمی نہ کی جائے گی) اصری (میرا بوجھ) لن تقبل (ہرگز قبول نہ کی جائے گی) یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں) الضآلون (گمراہ ہونے والے) طوع (خوشی سے) ملء الارض (زمین بھر) کرہ (زبردستی) لوافتدٰی (اگر وہ بدلہ میں دے) یبتغ (تلاش کرے گا) ۔
تشریح : آیت نمبر 81 تا 91
پچھلی آیات میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں اس کی تردید کردی ہے کہ انبیاء کرام اپنا بندہ بنانے
نہیں آتے بلکہ سچی بات یہ ہے کہ انبیاء کرام لوگوں کو اللہ والا بنانے آتے ہیں۔ ان آیات میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
اللہ تعالیٰ سے معاہدہ
یہ وہی معاہدہ ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت کی تفسیر میں گزرا۔ حاصل یہ ہے اللہ تعالیٰ نے پہلے نبی سے اس کے مابعد میں آنے والے نبی کی بابت عہد لیا ہے کہ اگر پہلا نبی مابعد میں آنے والے نبی کا زمانہ پاوے تو خود اس پر ایمان لاوے۔ جب ضرورت پڑے اس کی مدد کرے ورنہ اپنی امت کو اس کے موافق وصیت کر جاوے۔ یہ معاہدہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع ہو کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ختم ہوتا ہے۔ چناچہ اس معاہدہ کی بنا پر اوپر کی حدیث میں آپ نے یہ فرمایا ہے کہ اگر میرے زمانہ میں موسیٰ وعیسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو وہ بھی میری فرمابرداری قبول کرتے۔ اس معاہدہ کو یاد دلا کر اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
[31] جو عہد پیغمبروں سے لیا گیا ہو وہ اس کے پیروؤں پر آپ سے آپ عائد ہوجاتا ہے۔ یہاں اتنی بات اور سمجھ لینی چاہئے کہ محمد ﷺ سے پہلے ہر نبی سے یہ عہد لیا جاتا رہا ہے اور اسی بنا پر ہر نبی نے اپنی امت کو بعد کے آنے والے نبی کی خبر دی اور اس کا ساتھ دینے کی ہدایت کی۔ لیکن نہ قرآن میں، نہ حدیث میں، کہیں بھی اس بات کا پتہ نہیں چلتا کہ نبی اکرم ﷺ سے ایسا عہد لیا گیا ہو یا آپ نے کسی بعد کے آنے والے نبی کی خبر دے کر اس پر ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
نبیوں (علیہم السلام) کا نبی ﷺ
(ف 1) تمام نبیوں (علیہم السلام) کا دائرہ تبلیغ عام انسانوں تک ہے اور وہ صرف اس حد تک مکلف ہیں کہ وضیفہ رشد وہدایت کو مفروضہ قوم کے لئے جاری رکھتیں ، یعنی سب کے مخاطب عام انسان ہیں جن کو ان پر ایمان لانا ضروری ہے ، مگر پیغمبر کون خواجہ عالم وعالمیان ﷺ کی نبوت عام انسانوں سے گزر کر انبیاء (علیہم السلام) کے لئے بھی ضروری ہے ، اس آیت میں یہی بتایا گیا ہے کہ جب انبیاء (علیہم السلام) کو عالم برزخ میں پیدا کیا گیا تو ان سے کہا گیا کہ باوجود اس کتاب و حکمت کے جو تمہیں دی گئی ہے ‘ تم پر لازم ہے کہ جب حضور ﷺ منصہ شہود پر آئیں تو ان پر ایمان لاؤ اور ان کی نصرت میں اقدام…
Read the full tafseer →ف 2۔ اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) سے یہ عہد لیا کہ جو کچھ میں تم کو کتاب اور علم و حکمت عطا کروں پھر تمہارے پاس کوئی اور ایسا رسول آئے جو اس چیز کی جو تمہارے پاس موجود ہو ، یعنی جو کتاب اور علم میں نے تم کو عطا کیا اس کی تصدیق کرنے والا ہو تو تم ضرور اس کی رسالت پر ایمان بھی لانا اور اس کی مدد بھی کرنا ۔
پھر اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لینے کے بعد ارشاد فرمایا کیا تم نے اقرار کیا اور اس بات پر میرے عہد اور میرے فرمان کو قبول کیا رسولوں نے عرض کیا ہاں اے خدا ! ہم نے اقرار کیا اور آپ کے فرمان کو قبول کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اچھا تم اپنے اس اقرار کے گواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
ف 3۔ انبیاء سے تو اس عہد کا لیا جانا قرآن مجید میں مصرح ہے باقی ان کی امم سے یا تو اسی وقت لیا گیا ہوگا یا انبیاء علہیم السلام کے ذریعہ سے لیا گیا ہو اور محل اس عہد کا یا تو اول عالم ارواح ہو یا صرف دنیا میں وحی سے لیا گیا ہو اہل کتاب کو یہ عہد اس لیے سنایا کہ جب نبی ﷺ کی رسالت دلائل سے ثابت ہے تو لامحالہ اس عہد کے مضمون میں داخل ہے پھر تم پر یقینا آپ کی تصدیق اور نصرت فرض ہے اور یہی حاصل ہے اسلام کا۔
Read the full tafseer →اس میثاق سے کیا مراد ہے اور یہ کہاں ہوا ؟
164: میثاق کیا ہے ؟ اس کی تصریح تو خود قرآن کریم کی اس آیت کے اندر موجود ہے کہ ہم نے تمہیں کتاب اور حکمت دی پھر اگر ایسا ہو کہ کوئی دوسرا رسول اس کتاب کی تصدیق کرتا ہوا تمہارے پاس آئے تو ضروری ہے کہ تم اسے مانو اور اس کی تائید کرو “ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک نبوت ختم نہ کردی گئی اور یہ عہد کہاں ہوا ؟ عالم ارواح میں ہوا یا دنیا میں بذریعہ وحی الٰہی ہوا دونوں احتمال ہیں اور جو بھی مراد لیا جائے بالکل صحیح اور درست ہے۔
میثاق کیا ہے ؟ کا مطلب بھی دو طرح بیان کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے یہ پختہ وعدہ لیا تھا کہ اپنے بعد آنے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–84
The infallibility of the Prophets
The verse implies that a person whom Allah invests with the Book, the Wisdom and the power of making decisions, and places him on the great station of prophethood is always faithful to his mission when he communicates the Divine message to people and calls on them to be-come His faithful servants. That he starts moving people away from the worship of only one God and starts asking them to become his own worshippers or the worshippers of some other creatures is something he can never do. If so, this would mean that the one whom Allah had sent as his messenger…
Read the full tafseer →69. A party of the People of the Book would fain lead you astray, whereas in truth they lead none astray except themselves, but they do not realize it.
Read the full tafseer →