Explained with ayahs 79–80
مقصد نبوت
رسول اللہ ﷺ کے پاس جب یہودیوں اور نجرانی نصرانیوں کے علماء جمع ہوئے اور آپ نے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی تو ابو راقم قرظی کہنے لگا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح نصرانیوں نے حضرت عیسیٰ بن مریم کی عبادت کی ہم بھی آپ کی عبادت کریں ؟ تو نجران کے ایک نصرانی نے بھی جسے " آئیس " کہا جاتا تھا یہی کہا کہ کیا آپ کی یہی خواہش ہے ؟ اور یہی دعوت ہے ؟ توحضور ﷺ نے فرمایا معاذ اللہ نہ ہم خود اللہ وحدہ لاشریک کے سوا دوسرے کی پوجا نہ کریں کسی اور کو اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت کی تعلیم دیں نہ میری پیغمبری کا یہ مقصد نہ مجھے اللہ حاکم اعلیٰ کا یہ حکم، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، کہ کسی…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 68
یہ ان تمام غلط باتوں کی ایک جامع تردید ہے جو دنیا کی مختلف قوموں نے خدا کی طرف سے آئے ہوئے پیغمبروں کی طرف منسوب کر کے اپنی مذہبی کتابوں میں شامل کردی ہیں اور جن کی رو سے کوئی پیغمبر یا فرشتہ کسی نہ کسی طرح خدا اور معبود قرار پاتا ہے۔ ان آیات میں یہ قاعدہ کلیہ بتایا گیا ہے کہ ایسی کوئی تعلیم جو اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی و پرستش سکھاتی ہو اور کسی بندے کو بندگی کی حد سے بڑھا کر خدائی کے مقام تک لے جاتی ہو، ہرگز کسی پیغمبر کی دی ہوئی تعلیم نہیں ہو سکتی۔ جہاں کسی مذہبی کتاب میں یہ چیز نظر آئے، سمجھ لو کہ یہ گمراہ کن لوگوں کی تحریفات کا نتیجہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
معارف و مسائل
عصمت انبیاء (علیہم السلام) کی ایک دلیل
(ما کان لبشر) وفد نجران کی موجودگی میں بعض یہود و نصاری نے کہا تھا کہ اے محمد ﷺ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمہاری اسی طرح پرستش کرنے لگیں جیسے نصاری عیسیٰ بن مریم کو پوجتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا، معاذ اللہکہ ہم غیر اللہ کی بندگی کریں، یا دوسروں کو اس کی دعوت دیں، حق تعالیٰ نے ہم کو اس کام کے لئے نہیں بھیجا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ " یعنی جس بشر کو حق تعالیٰ کتاب و حکمت اور قوت فیصلہ دیتا اور پیغمبری کے منصب جلیل پر فائز کرتا ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک پیغام الہی پہنچا کر لوگوں کو اس کی بندگی اور وفاداری کی طرف متوجہ کرے، اس کا یہ کام کبھی نہیں ہوسکتا کہ…
Read the full tafseer →پھر اس آیت میں فرمایا کہ جس طرح نبی لوگوں کو اپنا بندہ بننے کی دعوت نہیں دے سکتا اسی طرح وہ یہ دعوت بھی نہیں دے سکتا کہ فرشتوں اور نبیوں کو ”ارباباً من دون اللہ“ بنا لو اس لیے کہ دعوت ایمان کے ساتھ یہ کفر کی دعوت کس طرح جمع ہوسکتی ہے ؟ کیا جو شخص تمہارے لیے ایمان واسلام کی دعوت لے کر آئے گا وہی تمہیں مسلم بنانے کے بعد کفر میں جھونکنے کی کوشش کرے گا۔ اس آخری ٹکڑے میں خطاب میں ذرا وسعت پیدا ہوگئی ہے یعنی نصاریٰ کے ساتھ ساتھ اس میں ایک اشارہ قریش کی طرف بھی ہوگیا ہے جو فرشتوں اور نبیوں کے بھی بت بنا کر پوجنے لگے تھے۔
اگلی آیات 81 تا 91 کا مضمون : اب آگے پہلے ایک جامع میثاق کا حوالہ دیا ہے جو اہل…
Read the full tafseer →80۔ 1 یعنی نبیوں اور فرشتوں (یا کسی اور کو) رب والی صفات کا حامل باور کرانا یہ کفر ہے۔ تمہارے مسلمان ہوجانے کے بعد ایک نبی یہ کام بھلا کس طرح کرسکتا ہے ؟ کیونکہ نبی کا کام تو ایمان کی دعوت دینا ہے جو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کا نام ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ اللہ کی پناہ اس بات سے ہے کہ ہم اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کریں یا کسی کو اس کا حکم دیں اللہ نے مجھے نہ اس لئے بھیجا ہے نہ اس کا حکم ہی دیا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر۔ بحوالہ سیرۃ ابن ہشام)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
30: مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات میں حکم اللہ تعالیٰ ہی کا چلتا ہے اہل ایمان اللہ کے ہر حکم کو دل وجان سے بخوشی قبول کرتے ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کو مانتے بھی نہ ہوں ان کو بھی چار وناچار اللہ کے ان فیصلوں کے آگے سرجھکانا پڑتا ہے جو وہ اس کائنات کے انتظام کے لئے کرتا ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ اگر کسی کو بیمار کرنے کا فیصلہ فرمالے تو کوئی اسے پسند کرے یا ناپسند ہر حال میں وہ فیصلہ نافذ ہو کر رہتا ہے اور کوئی مومن ہو یا کافر اسے فیصلے کے آگے سرجھکائے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
حضرت نبی ﷺ یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ عبد ہیں اور اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک رب ہے اور تمام لوگوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اس کی عبادت کریں ۔ اس لئے اس بات کا امکان ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے لئے مقام ربوبیت کو مخصوص کریں ۔ کیونکہ مقام الوہیت کا تو پھر تقاضایہ ہے لوگ عبادت بھی نبی کی کریں ۔ اس لئے کوئی نبی لوگوں کو یہ نہیں کہہ سکتا کُونُوا عِبَادًا لِّی مِن دُونِ اللّٰہِ……………” تم اللہ کے سوا میرے بندے بن جاؤ۔ “ نبی کی دعوت تو یہ ہوتی ہے کہ کُونُوا رَبَّانِینَ……………” تم سب ربانی بن جاؤ۔ “ اس لئے کہ جس کتاب کا تم نے علم حاصل کیا ہے ۔ اس کی تعلیمات یہی ہیں ۔ اور جس کی تم تدریس کرتے ہو اس کا تقاضا بھی یہی…
Read the full tafseer →1 جیسے نصاریٰ نے مسیح روح القدس کو بعض یہود نے عزیر کو، اور بعض مشرکین نے فرشتوں کو ٹھہرا لیا تھا۔ جب فرشتے اور پیغمبر خدائی میں شریک نہیں ہوسکتے تو پتھر کے بت اور صلیب کی لکڑی تو کس شمار میں ہے۔
2 یعنی پہلے تو " ربانی " (اللہ والا) اور مسلم موحد بنانے میں کوشش کی، جب لوگوں نے قبول کرلیا تو کیا پھر انہیں شرک و کفر کی طرف لیجا کر اپنی ساری محنت اور کمائی اپنے ہاتھ سے برباد کر دے گا ؟ یہ بات سمجھ میں نہیں آسکتی۔
Read the full tafseer →آیت 80 وَلاَ یَاْمُرَکُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلآءِکَۃَ وَالنَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا ط۔
مشرکین مکہ نے فرشتوں کو رب بنایا اور ان کے نام پر لات ‘ منات اور عزیٰ جیسی مورتیاں بنا لیں ‘ جبکہ نصاریٰ نے اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنا رب بنا لیا۔
اَیَاْمُرُکُمْ بالْکُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ
اللہ کا وہ بندہ جسے اللہ نے کتاب ‘ حکمت اور نبوت عطا کی ہو ‘ کیا تمہیں کفر کا حکم دے سکتا ہے جبکہ تم فرمانبرداری اختیار کرچکے ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
69 اس آیت کی شان نزول کے بارے میں کئی اقوال ہیں اور وہ سب ہی درست معلوم ہوتے ہیں مثلاً ان میں سے ایک یہ ہے، جب نجران کے عیسائی آپ سے بحث و مناظرہ کرنے آئے تو یہود ان کے ساتھ مل گئے اور طنزاً آپ سے کہنے لگے کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی پرستش کیا کریں۔ تب یہ آیت نازل ہوئی اور تیسرا یہ قول ہے کہ کسی صحابی نے آپ سے عرض کیا کہ رومی اور ایرانی اپنے اپنے بادشاہوں کو سجدہ کیا کرتے ہیں کیا ہم بھی آپ کو سلام کے بجائے سجدہ نہ کریں ؟ تو آپ نے اس بات سے سختی سے منع کیا اور فرمایا کہ اللہ کے سوا اگر کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ شوہر کا بیوی پر بہت…
Read the full tafseer →181 ۔ (آیت) ” لایامرکم “۔ میں لامعنی نفی کی تاکید مزید کے لئے ہے۔ لامزیدۃ لتاکید معنی النفی (مدارک) مسیحیوں کی تثلیث تو ایک معلوم ومعروف حقیقت ہے۔ لیکن یہ کمتر لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ملائکہ پرستی بھی ان کے ہاں زوروں پر رہ چکی ہے اور صدیوں تک یہ تعلیم ان کے ہاں جاری رہی ہے کہ ” خدا نے انسانوں اور آسمان کے نیچے ساری چیزوں کے انتظامات تمامتر فرشتوں پر چھوڑ رکھے ہیں “ (انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس صفحہ 578) نیز یہ کہ ” خدا کائنات کی صرف کلی ربوبیت کرتا ہے باقی جزئیات سب ملائکہ کے حوالہ ہیں “ (ایضا) مسیحیت کی تاریخ ملائکہ کی باضابطہ عبادت وپرستش سے بھی نا آشنا نہیں۔ ان کی مورتیاں تک ان کے…
Read the full tafseer →وَلَا یَاْمُرَکُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلَآئِکَۃَ وَالنِّبِیّٖنَ (الآیۃ) بعض مفسرین نے اس آیت کے شان نزول میں بیان کیا ہے کہ : ابن اسحاق اور ابن جریر اور ابن منذر وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے یہود اور نصاریٰ کو اسلام کی دعوت دی، تو ان لوگوں نے کہا۔ اے محمد ﷺ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی اس طرح بندگی کریں جیسے نصاریٰ عیسیٰ علیہ الصلوٰ والسلام کی کرتے ہیں فقال رسول اللہ ﷺ معاذ اللہ آپ نے فرمایا اللہ کی پناہ کہ ہم غیر اللہ کی بندگی کریں یا غیر اللہ کی بندگی کا حکم کریں۔ نہ اللہ نے مجھے اس کے لیے مبعوث کیا اور نہ مجھے اس کا حکم دیا تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔
عبد بن حمید نے حسن…
Read the full tafseer →وَلَا يَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ وَالنَّبِيّٖنَ اَرْبَابًا : اور نہ اس کے لیے یہ جائز ہے کہ ملائکہ اور انبیاء کو رب بنا لینے کا تم کو حکم دے بلکہ وہ تو اس بات کی ممانعت کرتا ہے لاَ یَامُرَ کا عطفیقول پر ہے اور مَا کَانَ لِبَشَرٍ میں جو نفی کا معنی ہے اس کی تاکید کے لیے لا کو زائد کیا گیا ہے قریش اور صابیوں کا فرقہ ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتا تھا یہودی عزیر کو اور عیسائی مسیح کو خدا کی اولاد کہتے تھے (اسکی تردید میں فرمایا : کہ قریش اور یہود و نصاریٰ کی طرح) کسی ایسے شخص کے لیے جس کو اللہ نے نبی بنایا ہو اپنی پوجا کا یا ملائکہ و انبیا کو اولاد خدا کہنے کا حکم دینا جائز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
(79۔ 80) انبیاء کرام میں سے کسی سے یہ نہیں ہوسکتا کہ دین کی فہم عطا ہونے کے بعد وہ کہے تو لوگ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔
وہ تو یہی کہے گا کہ کہ تم علماء، فقہاء اللہ تعالیٰ کے تابعدار بندے ہوجاؤ کیوں کہ تم خود بھی کتاب الہی کو جانتے ہو اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیتے ہو، اے گروہ قریش ! یاد رکھو وہ اللہ کا بندہ (ربانی) یہود ونصاری کو ہرگز نہیں کہے گا کہ تم فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بناؤ، اور یہی معاملہ حضرت ابراہیم ؑ کا بھی رہا کہ وہ ہر طرح کے شرک سے بیزار رہے گا اور وہ ابراہیم ؑ جب تمہیں اسلام کا حکم دے چکے کہ (آیت) ”فلا تموتن الا وانتم مسلمون (اور تمہاری موت اللہ کی توحید پر ہی آئے)…
Read the full tafseer →وَلَا يَاْمُرَكُمْ۔۔ : اور نہ نبی کا یہ حق ہے کہ تمہیں اس بات کا حکم دے کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لو۔ یہ کام تو صریح کفر ہے، پھر ایک پیغمبر تمہارے مسلمان ہونے کے بعد تمہیں کفر کا حکم کیسے دے سکتا ہے ؟
3 اس آیت میں یہود و نصاریٰ کے طرز عمل پر چوٹ ہے، جنھوں نے انبیاء اور فرشتوں کی تعظیم میں اس قدر غلو کیا کہ ان کو رب تعالیٰ کے مقام پر کھڑا کردیا۔ انبیاء اور صالحین کی قبروں پر عمارتیں بنا کر ان میں ان کی تصویریں بنا ڈالیں۔ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ ؓ نے ایک کنیسہ (گرجے) کا ذکر کیا، جو انھوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، جس میں تصویریں تھیں۔ انھوں نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 80۔
ابن عامر، عاصم اور حمزہ نے (آیت) ” ان یؤتیہ ‘’ پر عطف کرتے ہوئے اسے نصب کے ساتھ پڑھا ہے اور اسے یہ قول تقویت دیتا ہے کہ یہودیوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کو کہا : کیا آپ یہ چاہتے ہیں اے محمد ﷺ کو ہم آپ کو رب بنالیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ما کان لبشر ان یؤتیہ اللہ الکتب والحکم والنبوۃ ثم یقول للناس کونوا عبادا لی من دون اللہ ولکن کونوا ربین بما کنتم تعلمون الکتب وبما کنتم تدرسون “۔ ولا یامرکم “۔ اور اس میں ضمیر بشر کی طرف راجع ہے۔ یعنی تمہیں وہ انسان حکم نہیں دے گا بشر سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت (علیہ السلام) ہیں۔
اور باقیوں نے اسے پہلے کلام سے جدا ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
(1) عبد بن حمید، فریابی، ابن جریر اور ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے اس آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق النبین لما اتیتکم من کتب و حکمۃ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ کاتبوں کی غلطی ہے اور یہ ابن مسعود ؓ کی قرات میں یوں ہے لفظ آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب “۔
(2) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب “ کی قرات کی پھر کہا کہ ابی بن کعب ؓ بھی اسی طرح پڑھا کرتے تھے ربیع (رح) نے فرمایا کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ثم جاء کم رسول اللہ مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ “ پھر فرمایا تم البتہ ضرور محمد ﷺ پر…
Read the full tafseer →[وَلاَ : اور نہ ہی (جائز ہے کہ)] [یَاْمُرَکُمْ : وہ حکم دے تم کو ] [اَنْ : کہ ] [تَتَّخِذُوا : تم لوگ بنائو ] [الْمَلٰٓئِکَۃَ : فرشتوں کو ] [وَالنَّبِیّٖنَ : اور نبیوں کو ] [اَرْبَابًا : ربّ ] [اَیَاْمُرُکُمْ : کیا وہ حکم دے گا تم کو ] [بِالْکُفْرِ : کفر کا ] [بَعْدَ اِذْ : اس کے بعد کہ جب ] [اَنْتُمْ : تم لوگ ] [مُّسْلِمُوْنَ : مسلمان ہو ]
Read the full tafseer →غیر اللہ کو رب بنانے کی ممانعت :
پھر فرمایا (وَ لَا یَاْمُرَکُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلآءِکَۃَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا) (کہ نبی تم کو یہ حکم نہیں دیتا کہ تم فرشتوں کو اور پیغمبروں کو اپنا رب بنا لو) تمام انبیاء (علیہ السلام) توحید کی دعوت دینے کے لیے تشریف لائے تھے وہ غیر اللہ کو رب ماننے کی دعوت کیسے دے سکتے تھے ؟ (اَیَاْمُرُکُمْ بالْکُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ) (کیا نبی تم کو کفر کا حکم دے گا بعد اس کے کہ تم اللہ کے فرمانبر دار ہو) ۔ اگر تم موحد ہو تو نبی تم کو توحید سے کیوں ہٹائے گا ؟ وہ شرک کی دعوت نہیں دے سکتا۔ ہاں اپنی نبوت اور رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دے گا۔ جس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–80
قال تعالیٰ ودت طائفۃ من اھل الکتب لو یضلونکم۔۔۔ الی۔۔ ایا مرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل کتاب سے مناظرہ اور مباہلہ کا بیان تھا کہ یہ لوگ نہ تو کسی دلیل کو مانتے ہیں اور نہ مباہلہ پر آمادہ ہوتے ہیں معلوم ہوا کہ حق کی تحقیق مقصود نہیں بلکہ مقصود شرارت اور فتنہ پردازی ہے اس لیے آئندہ آیات میں یہود کی کچھ شرارتوں اور عداوتوں اور دغا بازیوں اور فریب کاریوں کو بیان کرتے ہیں کہ کس کس طرح سے یہ لوگ حق اور باطل کو خلط ملط کرنے میں مکر اور فریب سے کام لیتے ہیں یہ لوگ خوب جانتے ہیں کہ تم حق پر اور سیدھے راستہ پر ہو مگر یہ لوگ تم کو دھوکہ دے کر گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ دور تک یہی…
Read the full tafseer →114 یعنی جس طرح خدا کا کوئی پیغمبر لوگوں کو اپنی پکار اور عبادت کی دعوت نہیں دے سکتا اسی طرح وہ اللہ کے سوا دوسرے پیغمبروں اور فرشتوں کی پکار اور عبادت کی تلقین وتبلیغ بھی نہیں کرسکتا۔
115 استفہام تعجب اور انکار کیلئے ہے یعنی یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ جب تم توحید کا اقرار کرچکے ہو تو کوئی پیغمبر تمہیں کفر اور شرک کرنے کا حکم دے اس سے معلوام ہوا کہ خدا کے سوا کسی کو (خواہ وہ پیغمبر ہو یا فرشتہ) خدائی صفات میں شریک ماننا۔ خدا کے سوا کسی کی عبادت کرنا اور حاجات میں پکارنا کفر ہے۔ اللہ کے نیک بندوں کی طرف شرکیہ عقائد کی نسبت کے بارے میں حضرت شیخ (رح) نے ایک جامع قاعدہ بیان فرمایا۔ جو حسب ذیل ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
ربط آیات :
اہل کتاب کی مختلف خیانتوں کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ یہ لوگ دینی ، دنیوی اور مالی لحاظ سے خائن تھے۔ جھوٹ بولتے تھے۔ اللہ کی کتاب کے احکام کو تبدیل کرتے اور حق کو چھپاتے تھے۔ الفاظ و معانی میں تحریف کے مرتکب ہوتے تھے ، خود مسائل گھڑ کر انہیں اللہ کی طرف منسوب کرتے اور کہتے کہ یہ کتاب کا حصہ حالانکہ ایسا نہیں ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں صریح جھوٹ بولتے آخری نبی (علیہ السلام) کے متعلق پیشن گوئیوں کو چھپا جاتے۔ حق و باطل کو خلط ملط کرتے تھے اور دنیا کا حقیر مال حاصل کرنے کی خاطر اپنے عہد و پیمان کا کچھ لحاط نہ رکھتے۔ ان کی ان بدخصلتوں کی وجہ سے اللہ نے ان کی سزا بھی تجویز فرما دی۔ کہ…
Read the full tafseer →وَلَا يَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰۗىِٕكَۃَ وَالنَّبِيّٖنَ اَرْبَابًا 0 ۭ اَيَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ 80 ۧ
أمر
الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته :
إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123]
( ا م ر ) الامر
( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔
{ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–81
ترکیب : من ان تامنہ مبتداء امن اھل الکتاب خبر اور شرط اور جواب کا مجموعہ صفت ہے مبتداء کی کیونکہ وہ نکرہ ہے۔ بقنطار بمعنی فی یا علی ھو الا ماومت موضع نصب میں ہے کیونکہ ظرف ہے الامدۃ قیامک دائما اور حال بھی ہوسکتا ہے۔ سبیل اسم لیس فی الامیین خبر ‘ یلون صفت ہے فریقا کی جو اسم ہے ان کا اور منہم اس کی خبر ہے۔
تفسیر : یہود کی سرزنش کے بعد یہ بتانا کہ سب یکساں نہیں کچھ ان میں ایماندار خدا ترس بھی ہیں ٗ پوری حق گوئی ہے۔ یہ بات کہ انسان کتاب الٰہی اور احکام دینیہ میں خیانت نہ کرے ‘ حق میں باطل نہ ملاوے ‘ کامل ایمانداری اور پوری دیانت پر موقوف ہے اور جس کو دنیاوی باتوں میں دیانت نہیں پھر اس قوم کا دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
مَا کَانَ لِبَشَرٍاَنْ یُّؤْتِیَہُ اللّٰہُ الْـکِتٰبَ وَالْحُکْمَ وَالنَّـبُـوَّۃَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ کُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلٰـکِنْ کُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا کُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْـکِتٰبَ وَبِمَا کُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ ۔ لا وَلاَ یَاْمُرَکُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِکَۃَ وَالنَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا ط اَیَاْمُرُکُمْ بِالْـکُفْرِبَعْدَ اِذْاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔ ع
(کسی بشر کی مجال نہیں کہ اللہ اس کو کتاب، قوت فیصلہ اور منصب نبوت عطا فرمائے اور پھر وہ لوگوں سے کہنے لگے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔ وہ تو لوگوں کو یہی دعوت دے گا کہ تم ربانی بن جاؤ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
فہم القرآن
ربط کلام : عیسائیوں اور یہودیوں کے الزام ‘ بہانے اور جھوٹ کی تردید۔
یہودی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نام لے کر اور عیسائی جناب عیسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے کہتے ہیں۔ ہمیں ہدایت کی گئی ہے کہ ہم اپنے انبیاء کے علاوہ کسی نبی پر ایمان نہ لائیں۔ ان کی کذب بیانی کی تردید کرتے ہوئے اس عہد کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم کے وقت انبیائے کرام سے لیا تھا کہ میں تمہیں کتاب و حکمت سے سرفراز کروں گا۔ لیکن ایک آخر الزمان پیغمبر آنے والا ہے جو تمہاری شریعتوں کی تائید کرے گا۔ جس کے دور میں وہ پیغمبر آئے اس نبی کا فرض ہوگا کہ وہ اس پر ایمان لائے اور اس کی نصرت و حمایت کرے۔ فرمایا…
Read the full tafseer →80: وَلَا یَاْمُرَکُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓپکَۃَ وَالنَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا اَیَاْمُرُکُمْ بِالْکُفْرِ بَعْدَ اِذْاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔
کو نفی میں تاکید کے لئے لائے :
نحو : وَلَا یَاْمُرَکُمْ (اور نہ یہ بات بتلاویگا کہ تم) یہ نصب کے ساتھ ثم یقول پر عطف ہے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ لاَ کو ماکان لبشرٍکی نفی میں تاکید پیدا کرنے کیلئے لا یا مُرَکُمْ پر بڑھا دیا ہے۔ اب مطلب یہ ہے کہ کسی ایسے انسان کو مناسب نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نبوت پر فائز کرے اور عبادت میں اللہ تعالیٰ ہی کو پکارنے اور شرکاء کو ترک کرنے کی توفیق دیدیں۔ تو پھر وہ لوگوں کو حکم دینے لگے کہ وہ اسکے بندے اور عابد بن جائیں اور وہ…
Read the full tafseer →(تفسیر) 80۔:
(آیت)” ولا یامرکم “ ابن عامر (رح) ، حمزہ (رح) ، یعقوب (رح) ، نے راء کے فتحہ کے ساتھ ” یامرکم “ پڑھا ہے اور اس کا عطف (آیت)” ثم یقول “ پر کیا ہے مطلب یہ ہوگا کہ کوئی بشر اس طرح حکم نہیں کرتا ، یا اضمار قبل الذکر ہے تو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اور نہ ہی تم کو کوئی اس طرح حکم کرتا ہے اور باقی قراء نے ” یامرکم “ پڑھا ہے ، معنی ہوگا کہ تم کو اللہ نے ایسا حکم تو نہیں دیا ، ابن جریج اور ایک جماعت نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ تمہیں محمد ﷺ نے ایسا حکم نہیں دیا ۔ (آیت)” ان تتخذوا الملئکۃ والنبیین اربابا “۔ قریش اور صائبین کا فعل یہ تھا کہ وہ ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے ، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
(79 ۔ 80) ۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ نجران کے مباحثہ کے وقت ایک شخص ابو رافع یہودی نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ کیا آپ ہم سے اپنی ذات کی ویسی عبادت چاہتے ہیں جس طرح سے نصاریٰ لوگ حضرت عیسیٰ کی پوجا کرتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 اور فرمایا کہ اللہ کے نبی کا یہ کام نہیں کہ سوا اللہ کے کسی کی عبادت کی وہ فرمائش کرے اور طبری نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ یہود اور نصاری اس معاہدہ کے خلاف آنحضرت ﷺ سے جو باتیں کرتے تھے جو معاہدہ اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء اور امتوں سے لیا ہے جس کا ذکر سب آسمانی کتابوں میں ہے اس لئے اس آیت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ نبی ﷺ نے کچھ اہل کتاب کو ایمان لانے اور اطاعت کرنے کی تبلیغ کی تو انہوں نے کہا : ” محمد ﷺ ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ آپ کی بھی عبادت کیا کریں ؟ “ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ فرمایا : ترجمہ ” کسی انسان کو یہ لائق نہیں “ یعنی جس انسان پر اللہ تعالیٰ یہ احسان کرے کہ اس پر کتاب نازل کرے، اسے علم سکھائے اور مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجے ایسے انسان کے لئے ناممکن اور محال ہے کہ ترجمہ ” وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ کو چھور کر میرے بندے بن جاؤ “۔ ایسی بات کا کسی نبی کی زبان سے ادا ہونا سبے بڑی محال چیز ہے، کیونکہ یہ مطالبہ اتنا قبیح ہے کہ اس سے قبیح کوئی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–92
راہ خدا میں محبوب چیز قربان کرنا
قول باری ہے (لن تنالوالبرحتی تنفقوامما تحبون، تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیزرکھتے ہو) البر کے معنی دواقوال ہیں اول جنت عمروبن میمون اور سدی سے یہی منقول ہے۔ دوم نیکی کا کام جس کی بناپربندے اجر کے مستحق قرارپاتے ہیں نفقہ سے مراد اللہ کی راہ میں صدقہ وغیرہ کی صورت میں پسند یدہ چیزیں دے دینا ہے۔ یزیدبن ہارون نے حمید سے، انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب درج بالاآیت نازل ہوئی نیزیہ آیت (من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا، کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے) تو حضرت ابوطلحہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا…
Read the full tafseer →168 اللہ والے کبھی کفر و شرک کی تعلیم نہیں دے سکتے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مقدس ہستیاں کبھی کفر و شرک کی تعلیم نہیں دے سکتیں۔ سو استفہام تعجب و انکار کیلئے ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایسی کوئی ہستی اتنے بڑے شرف و مرتبہ سے مشرف ہو کر اللہ کے بندوں کو اس طرح کے کسی شرکیہ عقیدے کی تعلیم و ترغیب دے کہ ایسا کرنا ان کے شرف و مرتبہ اور ان کے منصب کیخلاف ہے کہ ان کا اصل منصب اور مشن یہی ہوتا ہے کہ وہ بندوں کو ان کے خالق ومالک سے ملائیں۔ اور ان کو صدق دل سے اسی کے حضور جھکنے کا درس دیں کہ معبود برحق بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور عبادت کی ہر قسم اور اسی کی ہر شکل اسی کا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
نبی پر الزام اور نبی کا اصل کام
تشریح : وفد بخران کی موجودگی میں عیسائیوں نے رسول اللہ ﷺ کو کہا تھا کہ اے محمد ﷺ ! کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کی پرستش کرنے لگیں جیسا کہ نصاریٰ عیسیٰ ابن مریم کو پوجتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جس انسان کو حق تعالیٰ نبوت دیتا ہے، کتاب اور حکمت دیتا ہے اور اس کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کا پیغام ٹھیک ٹھیک لوگوں تک پہنچا دے، لوگوں کو توحید کا حکم دے اور نیکی کی طرف بلائے، شیطان کی پیروی کرنے سے منع کرے اور جنت کی خوشخبری دے۔ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ پیغمبر لوگوں کو اپنی بھی عبادت کرنے کا سبق دے اور اللہ سے لوگوں کو دور کر دے۔ یہ کسی صورت بھی ممکن نہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–80
آیات 72- 80
اسرارومعارف
وقال طائفۃ من اھل الکتاب………… واللہ ذوالفضل العظیم۔
یہودکی سازش خلافت راشدہ سے لے کر کربلا تک :
چنانچہ یہود نے مسلمانوں کو راہ حق سے بہکانے کی ایک تجویز سوچی اور وہ یہ کہ اسلام قبول کرلو ، مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوجائو اور پھر کوئی نہ کوئی اعتراض کرکے مسلمان ہونے سے انکار کردو اس طرح ممکن ہے مسلمانوں کے ذہنوں میں بھی شک پیدا ہوجائے اور وہ اسلام سے کفر کی طرف لوٹ جائیں۔
یہودکی یہی کوشش بالآخر عبداللہ ابن سبا کی صورت میں تاریخ عالم پہ ابھری اور شہادت عثمان غنی ؓ سے لے کر ہزاروں مسلمانوں کو خاک وخون میں ملا گئی آخر حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی اسی کا شکار بنے اور سانحہ کربلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
ف 4 اس آیت میں اہل کتاب کو متنہ کرنا ہے کہ تم آنحضرت ﷺ پر ایمان نہ لاکر دراصل اس عہد کی خلاف ورزی کر رہے ہو جو تمہارے انبیا ( علیہ السلام) اور ان کے ذریعہ تم سے لیا گیا ہے۔ اب بتا و کہ تمہارے فاسق ہونے میں کوئی شک وشبہ ہوسکتا ہے۔ (کبیر) سامنے سرنگوں ہے اور اختیا ری وغیرہ اختیاری طور پر اس کے تابع فرمان ہے تو یہ لوگ اس کے قانون شریعت، دین اللہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ کیوں اختیا کرتے ہیں۔ ان کو چاہیئے کہ اگر نجات اخروی چاہتے ہیں تو جو اللہ تعالیٰ کا دین اس وقت آنحضرت ﷺ لے کر مبعوث ہوئے اس کو اختیار کر کوئی کرلیں۔ نیز دیکھئے حا آیت :84 ۔ )
Read the full tafseer →(3:80) ولا یامرکم۔ ثم یقول پر عطف ہے اور اس کا فاعل بشر ہے جو ابتدائی آیۃ میں مذکور ہے اور وہ بندہ نہیں حکم دے گا تمہیں۔
ایامرکم۔ تعجب اور استفہام انکاری کے طور پر ہے یعنی وہ ایسا حکم ہرگز نہیں دیگا۔ ضمیر فاعل بشر کی طرف راجع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 80
ان یؤتیه (یہ کہ اس کو دیا ہو) کونوا (تم ہوجاؤ) عبادً الی (میرے بندے) ربنین (اللہ والے) تعلمون (تم سکھاتے ہو) تدرسون (تم پڑھتے ہو) ۔
تشریح : آیت نمبر 79 تا 80
سورة آل عمران کی آیت 79 تا 80 تک کی تشریح کے سلسلہ میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے یہ منقول ہے کہ یہ آیات نخران کے عیسائیوں اور مدینہ کے یہودیوں کے سلسلہ میں نازل ہوئیں، جب مدینہ کے یہودی اور نخران کے عیسائی جمع ہوکر نبی مکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے ان کو اسلام کی سچی تعلیم کی طرف متوجہ کیا تو ایک یہودی ابورافع نے کہا اے محمد ﷺ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی اسی طرح پرستش کرنے لگیں جس طرح عیسائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
یہود کی شرارت
شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ نجران کے مباحثہ کے وقت ایک شخص ابو رافع یہودی نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ آپ ہم سے اپنی ذات کی ویسی عبادت چاہتے ہیں جس طرح نصاریٰ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پوجا کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ اللہ کے نبی کا یہ کام نہیں کہ سوائے اللہ کے کسی کی عبادت کی وہ فرمائش کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–80
[30] یعنی غیر یہودی لوگ۔ یہودی اپنے سوا سب کو اُ مّی کہتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
نبیوں (علیہم السلام) کا نبی ﷺ
(ف 1) تمام نبیوں (علیہم السلام) کا دائرہ تبلیغ عام انسانوں تک ہے اور وہ صرف اس حد تک مکلف ہیں کہ وضیفہ رشد وہدایت کو مفروضہ قوم کے لئے جاری رکھتیں ، یعنی سب کے مخاطب عام انسان ہیں جن کو ان پر ایمان لانا ضروری ہے ، مگر پیغمبر کون خواجہ عالم وعالمیان ﷺ کی نبوت عام انسانوں سے گزر کر انبیاء (علیہم السلام) کے لئے بھی ضروری ہے ، اس آیت میں یہی بتایا گیا ہے کہ جب انبیاء (علیہم السلام) کو عالم برزخ میں پیدا کیا گیا تو ان سے کہا گیا کہ باوجود اس کتاب و حکمت کے جو تمہیں دی گئی ہے ‘ تم پر لازم ہے کہ جب حضور ﷺ منصہ شہود پر آئیں تو ان پر ایمان لاؤ اور ان کی نصرت میں اقدام…
Read the full tafseer →ف 1۔ کسی بشر سے ایسی بات نہیں ہوسکتی کہ اللہ تعالیٰ اس کو کتاب اور صحیح فہم و دانش اور نبوت عطا فرمائے پھر وہ لوگوں سے یوں کہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور اس کی توحید کو ترک کر کے میرے بندے بن جائو وہ تو یہی کہے گا کہ تم لوگ چونکہ کتاب الٰہی کی دوسروں کو تعلیم دیتے ہو اور چونکہ خود بھی اس کتاب الٰہی کو پڑھتے ہو اس لئے تم سچے اور پکے اللہ والے بن جائو یعنی صرف اسی کی عبادت کرو اور نہ ایسا بشر تم سے یہ کہے گا اور نہ تم کو وہ تعلیم د ے گا کہ تم فرشتوں کو اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کو اپنا رب قرار دے لو اور ان کو اپنا رب بنا بیٹھو کیا کہیں یہ ممکن ہے کہ ایک نبی تمہارے مسلمان ہوئے پیچھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
ف 3۔ انبیاء سے تو اس عہد کا لیا جانا قرآن مجید میں مصرح ہے باقی ان کی امم سے یا تو اسی وقت لیا گیا ہوگا یا انبیاء علہیم السلام کے ذریعہ سے لیا گیا ہو اور محل اس عہد کا یا تو اول عالم ارواح ہو یا صرف دنیا میں وحی سے لیا گیا ہو اہل کتاب کو یہ عہد اس لیے سنایا کہ جب نبی ﷺ کی رسالت دلائل سے ثابت ہے تو لامحالہ اس عہد کے مضمون میں داخل ہے پھر تم پر یقینا آپ کی تصدیق اور نصرت فرض ہے اور یہی حاصل ہے اسلام کا۔
Read the full tafseer →کسی فرشتہ یا نبی کو بھی رب بنا لینا کفر ہے اور کوئی اللہ کا بندہ کفر کی تعلیم نہیں دے سکتا :
163: یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک اللہ کا سچا بندہ لوگوں سے یہ کہنے لگے کہ تم توحید الٰہی چھوڑ کر میرے پرستار بن جاؤ اس لیے کہ عبادت خداوندی کا حق صرف توحید میں ہے اور اگر غیر اللہ کو عبادت میں شریک کیا تو عبادت اللہ نہیں ہو سکتی مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو عطاء کتاب اور نبوت ہو اور بندہ کی طرف سے غیر اللہ کی عبادت کا حکم ہو ایسا ہونا ممکن نہیں کیونکہ کوئی نبی غیر اللہ کی پوجا کا حکم نہیں دے اس لیے کہ نبوت اور غیر اللہ کی عبادت کا حکم ” متضاد چیزیں ہیں پہلی دعوت توحید ہے اور دوسری دعوت شرک۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–84
The infallibility of the Prophets
The verse implies that a person whom Allah invests with the Book, the Wisdom and the power of making decisions, and places him on the great station of prophethood is always faithful to his mission when he communicates the Divine message to people and calls on them to be-come His faithful servants. That he starts moving people away from the worship of only one God and starts asking them to become his own worshippers or the worshippers of some other creatures is something he can never do. If so, this would mean that the one whom Allah had sent as his messenger…
Read the full tafseer →68. This refutation is directed at all the false concepts which were attributed to the Messengers of God by various nations, and then made an integral part of the religious scriptures. These concepts were false in that they elevated either the Prophets or the angels to the level of deities
Read the full tafseer →