Explained with ayahs 79–80
مقصد نبوت
رسول اللہ ﷺ کے پاس جب یہودیوں اور نجرانی نصرانیوں کے علماء جمع ہوئے اور آپ نے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی تو ابو راقم قرظی کہنے لگا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح نصرانیوں نے حضرت عیسیٰ بن مریم کی عبادت کی ہم بھی آپ کی عبادت کریں ؟ تو نجران کے ایک نصرانی نے بھی جسے " آئیس " کہا جاتا تھا یہی کہا کہ کیا آپ کی یہی خواہش ہے ؟ اور یہی دعوت ہے ؟ توحضور ﷺ نے فرمایا معاذ اللہ نہ ہم خود اللہ وحدہ لاشریک کے سوا دوسرے کی پوجا نہ کریں کسی اور کو اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت کی تعلیم دیں نہ میری پیغمبری کا یہ مقصد نہ مجھے اللہ حاکم اعلیٰ کا یہ حکم، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، کہ کسی…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 67
یہودیوں کے ہاں جو علماء مذہبی عہدہ دار ہوتے تھے اور جن کا کام مذہبی امور میں لوگوں کی رہنمائی کرنا اور عبادات کے قیام اور احکام دین کا اجراء کرنا ہوتا تھا، ان کے لیے لفظ رَبَّانِی استعمال کیا جاتا تھا جیسا کہ خود قرآن میں ارشاد ہوا ہے لَوْ لَا یَنْھٰھُمُ الرَّبَّانِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِھِمُ الْاِثْمَ وَ اَکْلِھِمُ السُّحْت (ان کے ربّانی اور ان کے علماء ان کو گناہ کی باتیں کرنے اور حرام کے مال کھانے سے کیوں نہ روکتے تھے)۔ اسی طرح عیسائیوں کے ہاں لفظ (Divine) بھی ”ربّانی“ کا ہی ہم معنی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
معارف و مسائل
عصمت انبیاء (علیہم السلام) کی ایک دلیل
(ما کان لبشر) وفد نجران کی موجودگی میں بعض یہود و نصاری نے کہا تھا کہ اے محمد ﷺ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمہاری اسی طرح پرستش کرنے لگیں جیسے نصاری عیسیٰ بن مریم کو پوجتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا، معاذ اللہکہ ہم غیر اللہ کی بندگی کریں، یا دوسروں کو اس کی دعوت دیں، حق تعالیٰ نے ہم کو اس کام کے لئے نہیں بھیجا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ " یعنی جس بشر کو حق تعالیٰ کتاب و حکمت اور قوت فیصلہ دیتا اور پیغمبری کے منصب جلیل پر فائز کرتا ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک پیغام الہی پہنچا کر لوگوں کو اس کی بندگی اور وفاداری کی طرف متوجہ کرے، اس کا یہ کام کبھی نہیں ہوسکتا کہ…
Read the full tafseer →”حکم“ کے معنی قضا اور فیصلہ کے ہیں۔ اپنے اسی مفہوم کی روح کرلیے ہوئے یہ قرآن میں تین مختلف پہلؤں سے استعمال ہوا ہے۔ بعض جگہ مجرد فیصلہ کے معنی میں مثلاً ”وَ کُنَّا لِحُکْمِھِمْ شَاھَدِیْن“: اور ہم ان کے فیصلہ کے وقت موجود تھے“ (انبیاء :78) ”أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ : کیا وہ جاہلیت کے فیصلہ کے طالب ہیں اور اللہ سے بڑھ کر کون فیصلہ کرنے والا ہے“ (مائدہ :50)۔ بعض مقامات میں قوت فیصلہ اور بصیرت کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے مثلا ً ”وَلُوطًا آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا : اور لوط کو ہم نے قوت فیصلہ عطا فرمائی اور علم“ (انبیاء…
Read the full tafseer →79۔ 1 یہ عیسائیوں کے ضمن میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا بنایا ہوا ہے حالانکہ وہ ایک انسان تھے جنہیں کتاب و حکمت اور نبوت سے سرفراز کیا گیا تھا۔ ایسا کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے پجاری اور بندے بن جاؤ بلکہ وہ تو یہی کہتا ہے کہ رب والے بن جاؤ رَبَّانِیُّ رب کی طرف منسوب ہے، الف اور نون کا اضافہ مبالغہ کے لئے ہے۔ (فتح القدیر)
79۔ 2 یعنی کتاب اللہ کی تعلیم و تدریس کے نتیجے میں رب کی شناخت اور رب سے خصوصی ربط وتعلق قائم ہونا چاہئے، اسی طرح کتاب اللہ کا علم رکھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کو بھی قرآن کی تعلیم دے۔ اس آیت سے واضح ہے کہ جب اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
29: یہ عیسائیوں کی تردید ہورہی ہے جو حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا یا خدا کا بیٹا مان کر گویا یہ دعویٰ کرتے تھے کہ خود حضرت عیسیٰ ؑ نے ہی ان کو اپنی عبادت کا حکم دیا ہے۔ یہی حال ان بعض یہودی فرقوں کا تھا جو حضرت عزیر ؑ کو خدا کا بیٹا مانتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
حضرت نبی ﷺ یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ عبد ہیں اور اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک رب ہے اور تمام لوگوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اس کی عبادت کریں ۔ اس لئے اس بات کا امکان ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے لئے مقام ربوبیت کو مخصوص کریں ۔ کیونکہ مقام الوہیت کا تو پھر تقاضایہ ہے لوگ عبادت بھی نبی کی کریں ۔ اس لئے کوئی نبی لوگوں کو یہ نہیں کہہ سکتا کُونُوا عِبَادًا لِّی مِن دُونِ اللّٰہِ……………” تم اللہ کے سوا میرے بندے بن جاؤ۔ “ نبی کی دعوت تو یہ ہوتی ہے کہ کُونُوا رَبَّانِینَ……………” تم سب ربانی بن جاؤ۔ “ اس لئے کہ جس کتاب کا تم نے علم حاصل کیا ہے ۔ اس کی تعلیمات یہی ہیں ۔ اور جس کی تم تدریس کرتے ہو اس کا تقاضا بھی یہی…
Read the full tafseer →5 وفد نجران کی موجودگی میں بعض یہود و نصاریٰ نے کہا تھا کہ اے محمد ﷺ ! کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم تمہاری اسی طرح پرستش کرنے لگیں، جیسے نصاریٰ عیسیٰ ابن مریم کو پوجتے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ معاذ اللہ کہ ہم غیر اللہ کی بندگی کریں۔ یا دوسروں کو اسکی دعوت دیں ؟ حق تعالیٰ نے ہم کو اس کام کے لئے نہیں بھیجا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی جس بشر کو حق تعالیٰ کتاب و حکمت اور قوت فیصلہ دیتا، اور پیغمبری کے منصب جلیل پر فائز کرتا ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک پیغام الہٰی پہنچا کر لوگوں کو اسکی بندگی اور وفاداری کی طرف متوجہ کرے، اس کا یہ کام کبھی نہیں ہوسکتا کہ انکو خالص ایک خدا کی بندگی سے ہٹا کر خود اپنا یا کسی دوسری…
Read the full tafseer →آیت 79 مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَہُ اللّٰہُ الْکِتٰبَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُوْلَ للنَّاسِ کُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ
یہ اب نصرانیوں کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجے ‘ پھر عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کو بھیجا ‘ انہیں کتاب دی ‘ حکمت دی ‘ نبوت دی ‘ معجزات دیے۔ اور اس کا تو کوئی امکان نہیں کہ وہ علیہ السلام کہتے کہ مجھے اللہ کے سوا اپنا معبود بنا لو !
وَلٰکِنْ کُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا کُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْکِتٰبَ وَبِمَا کُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ ۔
کتابِ الٰہی کی تعلیم و تعلّم کا یہی تقاضا ہے۔ دین کا سیکھنا ‘ سکھانا ‘ قرآن کا پڑھنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
69 اس آیت کی شان نزول کے بارے میں کئی اقوال ہیں اور وہ سب ہی درست معلوم ہوتے ہیں مثلاً ان میں سے ایک یہ ہے، جب نجران کے عیسائی آپ سے بحث و مناظرہ کرنے آئے تو یہود ان کے ساتھ مل گئے اور طنزاً آپ سے کہنے لگے کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی پرستش کیا کریں۔ تب یہ آیت نازل ہوئی اور تیسرا یہ قول ہے کہ کسی صحابی نے آپ سے عرض کیا کہ رومی اور ایرانی اپنے اپنے بادشاہوں کو سجدہ کیا کرتے ہیں کیا ہم بھی آپ کو سلام کے بجائے سجدہ نہ کریں ؟ تو آپ نے اس بات سے سختی سے منع کیا اور فرمایا کہ اللہ کے سوا اگر کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ شوہر کا بیوی پر بہت…
Read the full tafseer →178 ۔ (جیسا کہ مسیحیوں نے دعوت وپیام مسیح (علیہ السلام) کا خلاصہ گڑھ رکھا ہے) درمیان میں مناسبت مقام سے رد یہود آگیا تھا۔ اب یہاں سے رد نصاری پھر شروع ہوتا ہے (آیت) ” ماکان لبشر۔۔۔ والنبوۃ “۔ چناچہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے بھی یہ نہیں ہوسکتا۔ جنہیں یہ ساری نعمتیں ملی تھیں۔ جن کے نفس ایسے طاہر ومطہر ہوں، ان سے ایسے دعوی کا صدور ممکن ہی کیونکر ہے۔ (آیت) ’ الحکم “۔ حکم سے مراد علم وفہم ہے یا فہم احکام شریعت۔ الحکم العلم والفھم وقیل ایضا الاحکام (قرطبی) قیل بمعنی الحکمۃ والظاہر ان الحکم ھنا القضاء (بحر) (آیت) ” الکتب “۔ کتاب یہاں جنس کتاب کے معنی میں ہے۔ الکتاب ھنا اسم جنس (بحر)
179 ۔ (جیسا کہ فی…
Read the full tafseer →مَاکَانَ لِبَشَرِ أنْ یُّؤْتِیَہُ اللہُ الْکِتَابَ (الآیۃ) یہودیوں کے یہاں جو علما عہد یدار ہوتے تھے اور جن کا کام مذہبی امور میں لوگوں کی رہنمائی کرنا اور عبادت کے قیام اور احکام دین کا اجراء کرنا ہوتا تھا ان کے لیے رَبَّانِیْ کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا جیسا کہ خود قرآن میں ارشاد ہوا ہے ” لَوْلَا یَنْھَاھُمُ الرَّبَّانِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ ۔ (الآیۃ) ۔ سلسلہ کلام کے درمیان یہود کا تذکرہ آگیا تھا اب پھر دوبارہ نصاریٰ کا ذکر شروع ہوتا ہے، مذکورہ آیت مسیحیوں سے متعلق ہے، مسیحیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا بنایا ہوا ہے حالانکہ وہ ایک انسان تھے جنہیں کتاب و حکمت اور نبوت سے سرفراز کیا…
Read the full tafseer →مَا كَانَ لِبَشَرٍ : ابن اسحاق، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نیز دلائل میں بیہقی نے حصرت ابن عباس کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ (جب علماء یہود اور نجران کے نصاریٰ رسول اللہ کی خدمت میں جمع ہوئے اور آپ ﷺ نے ان کو اسلام کی دعوت دی تو) ابو رافع قرظی (مدنی) نے رسول اللہ سے کہا محمد ﷺ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم تمہاری ایسی ہی پوجا کریں جیسے نصاریٰ عیسیٰ کی کرتے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ کی پناہ کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کو پوجنے کا میں حکم دوں اللہ نے اس کے لیے مجھے نہیں بھیجا نہ اس کا مجھے حکم دیا اس پر اللہ نے آیت : ما کان لبشر سے مسلمون تک نازل فرمائی۔
عبد نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ حسن بصری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
(79۔ 80) انبیاء کرام میں سے کسی سے یہ نہیں ہوسکتا کہ دین کی فہم عطا ہونے کے بعد وہ کہے تو لوگ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔
وہ تو یہی کہے گا کہ کہ تم علماء، فقہاء اللہ تعالیٰ کے تابعدار بندے ہوجاؤ کیوں کہ تم خود بھی کتاب الہی کو جانتے ہو اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیتے ہو، اے گروہ قریش ! یاد رکھو وہ اللہ کا بندہ (ربانی) یہود ونصاری کو ہرگز نہیں کہے گا کہ تم فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بناؤ، اور یہی معاملہ حضرت ابراہیم ؑ کا بھی رہا کہ وہ ہر طرح کے شرک سے بیزار رہے گا اور وہ ابراہیم ؑ جب تمہیں اسلام کا حکم دے چکے کہ (آیت) ”فلا تموتن الا وانتم مسلمون (اور تمہاری موت اللہ کی توحید پر ہی آئے)…
Read the full tafseer →مَا كَانَ لِبَشَرٍ۔۔ : تورات و انجیل میں اہل کتاب کی تحریف بیان کرنے کے بعد اشارہ فرمایا ہے کہ انجیل میں عیسیٰ ؑ کی خدائی کے دعویٰ کی خاطر بھی تحریف کی گئی ہے، ورنہ نبی تو بشر ہوتے ہیں اور وحی و نبوت ایسی صفات سے مشرف ہونے کے بعد ان کی طرف سے اپنے الٰہ (خدا) ہونے کا دعویٰ محال ہے۔ (رازی)
پھر جب نبی کا یہ حق نہیں کہ لوگ اس کی عبادت کریں تو دوسرے مشائخ اور ائمہ اس مرتبے پر کیسے فائز ہوسکتے ہیں اور انھیں یہ حق کیسے حاصل ہوگیا کہ اپنے مریدوں کو چوبیس گھنٹے اپنی صورت آنکھوں اور ذہن کے سامنے رکھنے کا حکم دیں اور ان سے یہ عہد لیں کہ میری ہر بات تمہیں ماننا ہوگی، صحیح معلوم ہو یا غلط اور جب مصیبت پیش…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 79۔
ماکان اس کا معنی ہے ماینبغی یعنی نہیں چاہیے جیسا کہ فرمایا : (آیت) ” وما کان لمؤمن ان یقتل مؤمنا الا خطاء “ اور ما کان اللہ ان یتخذ من ولد “ اور مایکون لنا ان تتکلم بھذا “ تمام میں مراد یہی ہے کہ نہیں چاہیے (مناسب نہیں) اور لفظ بشر واحد اور جمع دونوں کے لئے آتا ہے کیونکہ یہ قائم مقام صدر کے ہے اور ضحاک اور سدی کے قول کے مطابق یہاں مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں، کتاب سے مراد قرآن کریم ہے اور حکم سے مراد علم اور فہم ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ح کم سے مراد احکام ہیں، یعنی بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنی نبوت کے لئے جھوٹوں کو نہیں چنتا، اور اگر کوئی انسان ایسا کرتا تو یقینا اللہ…
Read the full tafseer →ہر نبی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا ہے
(1) ابن اسحق، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب اہل نجران کے وفد کے اہم یہود و نصاری کے علماء رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوئے اور آپ نے ان کو اسلام کی طرف بلایا تو ابو رافع قرظی نے کہا اے محمد ﷺ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی عبادت کریں جیسا کہ نصاری عیسیٰ بن مریم کی عبادت کرتے ہیں تو اہل نجران میں سے ایک نصرانی نے کہا جس کو رئیس کہا جاتا تھا اے محمد ﷺ کیا آپ ہم سے اسی بات کا ارادہ کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی پناہ ! کہ ہم غیر اللہ کی عبادت کریں ! ہم اس کے علاوہ کسی اور کی…
Read the full tafseer →[وَمَا کَانَ : اور (جائز) نہیں ہے ] [لِبَشَرٍ : کسی بشر کے لیے ] [اَنْ : کہ ] [یُّؤْتِیَہُ : اس کو دے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [الْـکِتٰبَ : کتاب ] [وَالْحُکْمَ : اور حکمت ] [وَالنُّبُوَّۃَ : اور نبوت ] [ثُمَّ : پھر ] [یَـقُوْلَ : (یہ کہ) وہ کہے ] [لِلنَّاسِ : لوگوں سے ] [کُوْنُوْا : تم لوگ ہو جائو ] [عِبَادًا : بندے ] [لِّیْ : میرے لیے ] [مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ : اللہ کے علاوہ ] [وَلٰــکِنْ : اور لیکن (یعنی بلکہ وہ کہے) ] [کُوْنُوْا : تم لوگ ہو جائو ] [رَبَّانِیّٖنَ : رب والے ] [بِمَا : اس سبب سے کہ جو ] [کُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ : تم لوگ تعلیم دیا کرتے ہو ] [الْکِتٰبَ : کتاب کی ] [وَبِمَا : اور اس…
Read the full tafseer →ہر نبی کی دعوت ہوتی تھی کہ اللہ والے بن جاؤ
لباب النقول صفحہ 54 میں ہے کہ جب مدینہ کے یہودی اور نجران کے نصاریٰ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جمع ہوئے اور آپ نے ان کو اسلام کی دعوت دی تو ابو رافع نے کہا (جو یہود کے قبیلہ بنی قریظہ سے تھا) اے محمد ! آپ جو چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی عبادت کریں جیسے نصرانی عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبادت کرتے ہیں آپ نے فرمایا معاذ اللہ (اللہ کی پناہ) میں ایسی دعوت کیوں دینے لگا ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی۔ اور حضرت حسن بصری ؓ نے فرمایا کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم آپ کو اسی طرح سلام کرتے ہیں جیسے آپس میں ایک دوسرے کو سلام کیا جاتا ہے کیا ہم ایسا نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–80
قال تعالیٰ ودت طائفۃ من اھل الکتب لو یضلونکم۔۔۔ الی۔۔ ایا مرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل کتاب سے مناظرہ اور مباہلہ کا بیان تھا کہ یہ لوگ نہ تو کسی دلیل کو مانتے ہیں اور نہ مباہلہ پر آمادہ ہوتے ہیں معلوم ہوا کہ حق کی تحقیق مقصود نہیں بلکہ مقصود شرارت اور فتنہ پردازی ہے اس لیے آئندہ آیات میں یہود کی کچھ شرارتوں اور عداوتوں اور دغا بازیوں اور فریب کاریوں کو بیان کرتے ہیں کہ کس کس طرح سے یہ لوگ حق اور باطل کو خلط ملط کرنے میں مکر اور فریب سے کام لیتے ہیں یہ لوگ خوب جانتے ہیں کہ تم حق پر اور سیدھے راستہ پر ہو مگر یہ لوگ تم کو دھوکہ دے کر گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ دور تک یہی…
Read the full tafseer →111 ایک شبہ کا جواب :۔ نصاری نجران نے آنحضرت ﷺ کے سامنے یہ دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خود انہیں فرماگئے ہیں کہ ان کو رب بنا لینا اور ان کی عبادت کرنا اور ان کو پکارنا، جیسا کہ آجکل کے پیر پرست حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) کے بارے میں یہی عقیدہ رکھتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر حضرت عیسیٰ اور باقی تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف سے صفائی دی۔ ان نصاریٰ نجران کانوا یقولون ان عیسیٰ امرھم ان یتخذوہ ربا فقال اللہ تعالیٰ ردا علیہم ما کان لبشر الخ (معالم و خازن ج 1 ص 312) یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی انسان کو کتاب اور نبوت عطا کرے اور اسے علم وفہم سے نوازے تو اس سے یہ ہرگز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
ربط آیات :
اہل کتاب کی مختلف خیانتوں کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ یہ لوگ دینی ، دنیوی اور مالی لحاظ سے خائن تھے۔ جھوٹ بولتے تھے۔ اللہ کی کتاب کے احکام کو تبدیل کرتے اور حق کو چھپاتے تھے۔ الفاظ و معانی میں تحریف کے مرتکب ہوتے تھے ، خود مسائل گھڑ کر انہیں اللہ کی طرف منسوب کرتے اور کہتے کہ یہ کتاب کا حصہ حالانکہ ایسا نہیں ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں صریح جھوٹ بولتے آخری نبی (علیہ السلام) کے متعلق پیشن گوئیوں کو چھپا جاتے۔ حق و باطل کو خلط ملط کرتے تھے اور دنیا کا حقیر مال حاصل کرنے کی خاطر اپنے عہد و پیمان کا کچھ لحاط نہ رکھتے۔ ان کی ان بدخصلتوں کی وجہ سے اللہ نے ان کی سزا بھی تجویز فرما دی۔ کہ…
Read the full tafseer →مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَہُ اللہُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّۃَ ثُمَّ يَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللہِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79 ۙ
بشر
وخصّ في القرآن کلّ موضع اعتبر من الإنسان جثته وظاهره بلفظ البشر، نحو : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] ،
( ب ش ر ) البشر
اور قرآن میں جہاں کہیں انسان کی جسمانی بناوٹ اور ظاہری جسم کا لحاظ کیا ہے تو ایسے موقع پر خاص کر اسے بشر کہا گیا ہے جیسے فرمایا : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–81
ترکیب : من ان تامنہ مبتداء امن اھل الکتاب خبر اور شرط اور جواب کا مجموعہ صفت ہے مبتداء کی کیونکہ وہ نکرہ ہے۔ بقنطار بمعنی فی یا علی ھو الا ماومت موضع نصب میں ہے کیونکہ ظرف ہے الامدۃ قیامک دائما اور حال بھی ہوسکتا ہے۔ سبیل اسم لیس فی الامیین خبر ‘ یلون صفت ہے فریقا کی جو اسم ہے ان کا اور منہم اس کی خبر ہے۔
تفسیر : یہود کی سرزنش کے بعد یہ بتانا کہ سب یکساں نہیں کچھ ان میں ایماندار خدا ترس بھی ہیں ٗ پوری حق گوئی ہے۔ یہ بات کہ انسان کتاب الٰہی اور احکام دینیہ میں خیانت نہ کرے ‘ حق میں باطل نہ ملاوے ‘ کامل ایمانداری اور پوری دیانت پر موقوف ہے اور جس کو دنیاوی باتوں میں دیانت نہیں پھر اس قوم کا دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
مَا کَانَ لِبَشَرٍاَنْ یُّؤْتِیَہُ اللّٰہُ الْـکِتٰبَ وَالْحُکْمَ وَالنَّـبُـوَّۃَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ کُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلٰـکِنْ کُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا کُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْـکِتٰبَ وَبِمَا کُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ ۔ لا وَلاَ یَاْمُرَکُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِکَۃَ وَالنَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا ط اَیَاْمُرُکُمْ بِالْـکُفْرِبَعْدَ اِذْاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔ ع
(کسی بشر کی مجال نہیں کہ اللہ اس کو کتاب، قوت فیصلہ اور منصب نبوت عطا فرمائے اور پھر وہ لوگوں سے کہنے لگے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔ وہ تو لوگوں کو یہی دعوت دے گا کہ تم ربانی بن جاؤ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو کتاب ‘ نبوت اور حکمرانی سے نوازا۔ اس لیے ان کے بہانوں میں ایک بہانہ یہ تھا کہ ہمیشہ سے کتاب ‘ نبوت اور حکومت ہمیں ملتے آئے ہیں۔ اب ہم کسی دوسرے شخص کو نبی کیوں تسلیم کریں۔ یہاں اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ کسی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اللہ تعالیٰ اسے کتاب ‘ حکومت اور نبوت سے نوازے تو وہ لوگوں کو اللہ کا بندہ بنانے کی بجائے اپنا بندہ بنانے کی کوشش کرے۔ لہٰذا تمہیں لوگوں کو اپنا بندہ بنانے کی بجائے خود اللہ کے بندے بننا چاہیے یہی اسلام کی دعوت اور مسلمان ہونے کا تقاضا ہے۔
نبی اکرم ﷺ کے پاس وفد نجران آیا آپ نے ان کو عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق…
Read the full tafseer →معبودیت مسیح کا رَد :
79: مَاکَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْ تِیَہُ اللّٰہُ الْکِتٰبَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ کُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلٰکِنْ کُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا کُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْکِتٰبَ وَبِمَا کُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ ۔ (کسی انسان کے لئے مناسب نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو کتاب دے) اس آیت میں عبادت عیسیٰ کا جو دعویٰ انہوں نے کیا تھا اسکی تکذیب ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ہم آپ کو اسی طرح سلام کرتے ہیں جیسا کہ ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں۔ کیا آپ کو سجدہ نہ کیا کریں ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے سواء کسی کے لئے سجدہ…
Read the full tafseer →79۔ (آیت)” ما کان لبشر ان یوتیہ اللہ الکتاب “۔ مقاتل (رح) ، اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ (آیت)” ما کان لبشر “ سے مراد عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہیں ، اور یہ اس وجہ سے کہ نجران کے نصاری یہ کہتے تھے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اس رب بنالیں ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” ان یؤتیہ اللہ الکتاب “ کتاب سے انجیل مراد ہے ، یہی قول حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور عطاء کا ہے اور (آیت)” ما کان لبشر “ سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں ۔ (آیت)” ان یؤتیہ اللہ الکتاب “۔ سے مراد قرآن کریم۔ ہے ، یہ قول اس وجہ سے لیا ہے کہ ابو رافع قرظی یہود میں سے اور اہل نجران کے نصاری کے رئیس دونوں نے آپ ﷺ سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
(79 ۔ 80) ۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ نجران کے مباحثہ کے وقت ایک شخص ابو رافع یہودی نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ کیا آپ ہم سے اپنی ذات کی ویسی عبادت چاہتے ہیں جس طرح سے نصاریٰ لوگ حضرت عیسیٰ کی پوجا کرتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 اور فرمایا کہ اللہ کے نبی کا یہ کام نہیں کہ سوا اللہ کے کسی کی عبادت کی وہ فرمائش کرے اور طبری نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ یہود اور نصاری اس معاہدہ کے خلاف آنحضرت ﷺ سے جو باتیں کرتے تھے جو معاہدہ اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء اور امتوں سے لیا ہے جس کا ذکر سب آسمانی کتابوں میں ہے اس لئے اس آیت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ نبی ﷺ نے کچھ اہل کتاب کو ایمان لانے اور اطاعت کرنے کی تبلیغ کی تو انہوں نے کہا : ” محمد ﷺ ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ آپ کی بھی عبادت کیا کریں ؟ “ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ فرمایا : ترجمہ ” کسی انسان کو یہ لائق نہیں “ یعنی جس انسان پر اللہ تعالیٰ یہ احسان کرے کہ اس پر کتاب نازل کرے، اسے علم سکھائے اور مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجے ایسے انسان کے لئے ناممکن اور محال ہے کہ ترجمہ ” وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ کو چھور کر میرے بندے بن جاؤ “۔ ایسی بات کا کسی نبی کی زبان سے ادا ہونا سبے بڑی محال چیز ہے، کیونکہ یہ مطالبہ اتنا قبیح ہے کہ اس سے قبیح کوئی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–92
راہ خدا میں محبوب چیز قربان کرنا
قول باری ہے (لن تنالوالبرحتی تنفقوامما تحبون، تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیزرکھتے ہو) البر کے معنی دواقوال ہیں اول جنت عمروبن میمون اور سدی سے یہی منقول ہے۔ دوم نیکی کا کام جس کی بناپربندے اجر کے مستحق قرارپاتے ہیں نفقہ سے مراد اللہ کی راہ میں صدقہ وغیرہ کی صورت میں پسند یدہ چیزیں دے دینا ہے۔ یزیدبن ہارون نے حمید سے، انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب درج بالاآیت نازل ہوئی نیزیہ آیت (من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا، کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے) تو حضرت ابوطلحہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا…
Read the full tafseer →165 حضرات انبیائے کرام کی براءت کا ذکر وبیان : سو حضرات انبیائے کرام کی براءت اور ان کی صفائی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کسی بشر کے لیے یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو کتاب، حکم اور نبوت سے نوازے اور پھر وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔ لہذا تمہارا اے افتراء پردازو اور اے حامل کتاب ہونے کے دعویدارو حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کے بارے میں یہ کہنا کہ آج جن شرکیہ عقائد پر تم لوگ قائم ہو ان کی تعلیم انہی حضرات نے تم کو دی تھی، نرا جھوٹ اور ان پاکیزہ ہستیوں پر ایک کھلا ہوا بہتان ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ عیسائی لوگ جب الوہیت مسیح اور تثلیث جیسے سراسر غیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
نبی پر الزام اور نبی کا اصل کام
تشریح : وفد بخران کی موجودگی میں عیسائیوں نے رسول اللہ ﷺ کو کہا تھا کہ اے محمد ﷺ ! کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کی پرستش کرنے لگیں جیسا کہ نصاریٰ عیسیٰ ابن مریم کو پوجتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جس انسان کو حق تعالیٰ نبوت دیتا ہے، کتاب اور حکمت دیتا ہے اور اس کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کا پیغام ٹھیک ٹھیک لوگوں تک پہنچا دے، لوگوں کو توحید کا حکم دے اور نیکی کی طرف بلائے، شیطان کی پیروی کرنے سے منع کرے اور جنت کی خوشخبری دے۔ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ پیغمبر لوگوں کو اپنی بھی عبادت کرنے کا سبق دے اور اللہ سے لوگوں کو دور کر دے۔ یہ کسی صورت بھی ممکن نہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–80
آیات 72- 80
اسرارومعارف
وقال طائفۃ من اھل الکتاب………… واللہ ذوالفضل العظیم۔
یہودکی سازش خلافت راشدہ سے لے کر کربلا تک :
چنانچہ یہود نے مسلمانوں کو راہ حق سے بہکانے کی ایک تجویز سوچی اور وہ یہ کہ اسلام قبول کرلو ، مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوجائو اور پھر کوئی نہ کوئی اعتراض کرکے مسلمان ہونے سے انکار کردو اس طرح ممکن ہے مسلمانوں کے ذہنوں میں بھی شک پیدا ہوجائے اور وہ اسلام سے کفر کی طرف لوٹ جائیں۔
یہودکی یہی کوشش بالآخر عبداللہ ابن سبا کی صورت میں تاریخ عالم پہ ابھری اور شہادت عثمان غنی ؓ سے لے کر ہزاروں مسلمانوں کو خاک وخون میں ملا گئی آخر حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی اسی کا شکار بنے اور سانحہ کربلا…
Read the full tafseer →ف 1 توراۃ وانجیل میں اہل کتاب کی تحریف بیان کرنے کے بعد اشارہ فرمایا ہے کہ انجیل میں عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کی الوہیت کے دعویٰ کی خاطر بھی تحریف کی گئی ہے ورنہ نبی تو بشر ہوتے ہیں اور وحی نبوت ایسی صفات سے مشرف ہونے کے بعد ان سے اپنی الوہیت کا دعویٰ محال ہے۔ (کبیر) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نجران کے عیسائی اور مدینہ کے چند یہود علما آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آنحضرت ﷺ نے عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) اور عزیر ( علیہ السلام) کی بنوۃ خدا کا بیٹا ہونے) کا رد کیا او ان مسلمان ہونے کی دعوت دی۔ اس پر ایک یہود عالم نے ابو رافع القرضی کہنے لگا اے محمد ﷺ کیا آپ یہ چاہتے ہیں…
Read the full tafseer →(3:79) ولکن۔ اور کونوا کے درمیان یقول محذوف ہے بلکہ وہ تو یہ کہے گا۔
ربنیین۔ زاہد۔ خدا پرست۔ درویش۔ اللہ والے۔ مربی۔ مرشد خلق۔ زبانی کی نسبت ۔ رب کی طرف ہے اس نسبت سے اے ربی ہونا چاہیے تھا۔ لیکن مبالغہ کے لئے الف نون کا اضافہ کردیا ہے۔ جیسے بڑی گھنی ڈاڑھی والے کو لحیانی اور بہت فربہ گردن والے کو رقبانی کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں ربانی کا مطلب ہوگا بالکل اللہ والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 80
ان یؤتیه (یہ کہ اس کو دیا ہو) کونوا (تم ہوجاؤ) عبادً الی (میرے بندے) ربنین (اللہ والے) تعلمون (تم سکھاتے ہو) تدرسون (تم پڑھتے ہو) ۔
تشریح : آیت نمبر 79 تا 80
سورة آل عمران کی آیت 79 تا 80 تک کی تشریح کے سلسلہ میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے یہ منقول ہے کہ یہ آیات نخران کے عیسائیوں اور مدینہ کے یہودیوں کے سلسلہ میں نازل ہوئیں، جب مدینہ کے یہودی اور نخران کے عیسائی جمع ہوکر نبی مکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے ان کو اسلام کی سچی تعلیم کی طرف متوجہ کیا تو ایک یہودی ابورافع نے کہا اے محمد ﷺ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی اسی طرح پرستش کرنے لگیں جس طرح عیسائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
یہود کی شرارت
شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ نجران کے مباحثہ کے وقت ایک شخص ابو رافع یہودی نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ آپ ہم سے اپنی ذات کی ویسی عبادت چاہتے ہیں جس طرح نصاریٰ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پوجا کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ اللہ کے نبی کا یہ کام نہیں کہ سوائے اللہ کے کسی کی عبادت کی وہ فرمائش کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–80
[30] یعنی غیر یہودی لوگ۔ یہودی اپنے سوا سب کو اُ مّی کہتے تھے۔
Read the full tafseer →تحریف وبدیانتی کی روشن ممثال :
(ف 2) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ کوئی نبی جسے کتاب و حکمت کی پر از معارف نعمت سے نوازا گیا ہے ‘ ناممکن ہے کہ اپنی پوجا کرائے اور غیر اللہ کی پرستش کا حکم دے ، اس لئے جو لوگ انبیاء کی طرف اس نوع کی تعلیمات کو منسوب کرتے ہیں ‘ وہ راہ راست پر نہیں اور انہوں نے اپنی تعلیمات کو بدل لیا ہے ، انبیاء (علیہم السلام) تو اس لئے تشریف لاتے ہیں کہ بھٹکے ہوئے اور روٹھے ہوئے لوگوں کو پھر سے خدا کے حضور میں لا کھڑا کریں اور ان کے دلوں میں خدا کی محبت و عقیدت کے بےپناہ جذبات پیدا کردیں ، وہ دنیا میں خدا پرستی کی تعلیم دینے کے لئے آتے ہیں ، بالذات ان کا کوئی اپنی مقصد نہیں ہوتا ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
ف 3۔ اور بلا شبہ ان اہل کتاب میں سے بعض لوگ ایسے چالاک ہو شیار ہیں کہ وہ کتاب پڑھنے میں اپنی زبانوں کو کچھ ایسا الٹ پھیر دے کر پڑھتے ہیں تا کہ تم لوگ اس بناوٹی اور ملاوٹی ہوئی چیز کو بھی کتاب ہی کا ایک حصہ سمجھو حالانکہ جو کچھ انہوں نے زبان کو پھیر دے کر پڑھا ہے وہ کتاب کا حصہ نہیں پھر یہی نہیں کہ اتنی ہی تحریف پر بس کریں ۔ اس کے بعد زبان سے بھی کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے پڑھا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ناز ل شدہ ہے ، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ نہیں ہے اور یہ لوگ جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ بات منسوب کرتے ہیں۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ تحریف لفظی کرتے ہیں کہ غیر کتاب کو کتاب…
Read the full tafseer →ف 2۔ بنی سے امر بعبادت غیر اللہ شرعا منفی ومحال ہے۔
Read the full tafseer →عصمت انبیاء (علیہم السلام) کی ایک دلیل اور علمائے اسلام کو تنبیہ :
162: ابن اسحاق ، ابن جریر ، ابن المنذر ، ابن ابی حاتم اور دلائل بیہقی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ روایت ہے کہ جب نجران کے نصاریٰ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جمع ہوئے اور آپ ﷺ نے ان کو اسلام کی دعوت دی اور ابورافع قرظی نے جو مدینہ ہی کا ایک فرد تھا رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ” محمد کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم تمہاری ایسی ہیں پوجا کریں جیسے نصاریٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کی کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی پناہ میں اللہ کے علاوہ کسی اور کو پوجنے کی تلقین کروں ؟ اللہ نے اس لیے مجھے نہیں بھیجا نہ اس کا مجھے حکم دیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–84
The infallibility of the Prophets
The verse implies that a person whom Allah invests with the Book, the Wisdom and the power of making decisions, and places him on the great station of prophethood is always faithful to his mission when he communicates the Divine message to people and calls on them to be-come His faithful servants. That he starts moving people away from the worship of only one God and starts asking them to become his own worshippers or the worshippers of some other creatures is something he can never do. If so, this would mean that the one whom Allah had sent as his messenger…
Read the full tafseer →67. The term rabbani is used here to denote Jewish religious scholars and functionaries who were supposed to provide true religious guidance to establish their rites of worship, implement religious laws, and so on. The same word occurs in Surah 5: 44 and 63. In the Christian tradition the word 'divine' is used as an equivalent to the word rabbani.
Read the full tafseer →