غلط تاویل اور تحریف کرنے والے لوگ
یہاں بھی انہی ملعون یہودیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کا ایک گروہ یہ بھی کرتا ہے کہ عبارت کو اس کی اصل جگہ سے ہٹا دیتا ہے، یعنی اللہ کی کتاب بدل دیتا ہے، اصل مطلب اور صحیح معنی خبط کردیتا ہے اور جاہلوں کو اس چکر میں ڈال دیتا ہے کہ کتاب اللہ یہی ہے پھر یہ خود اپنی زبان سے بھی اسے کتاب اللہ کہہ کر جاہلوں کے اس خیال کو اور مضبوط کردیتا ہے اور جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ پر افترا کرتا ہے اور جھوٹ بکتا ہے، زبان موڑنے سے مطلب یہاں تحریف کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس سے صحیح بخاری شریف میں مروی ہے کہ یہ لوگ تحریف اور ازالہ کردیتے تھے مخلوق میں ایسا تو کوئی نہیں جو کسی اللہ کی…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 66
“ اس کا مطلب اگرچہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کتاب الٰہی کے معانی میں تحریف کرتے ہیں، یا الفاظ کا الٹ پھیر کر کے کچھ سے کچھ مطلب نکالتے ہیں، لیکن اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ کتاب کو پڑھتے ہوئے کسی خاص لفظ یا فقرے کو، جو ان کے مفاد یا ان کے خود ساختہ عقائد و نظریات کے خلاف پڑتا ہو، زبان کی گردش سے کچھ کا کچھ بنا دیتے ہیں۔ اس کی نظیریں قرآن کو ماننے والے اہل کتاب میں بھی مفقود نہیں ہیں۔ مثلاً بعض لوگ جو نبی کی بشریت کے منکر ہیں آیت قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ میں اِنَّمَا کو اِنَّ مَا پڑھتے ہیں اور اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں کہ ”اے نبی ! کہہ دو کہ تحقیق نہیں ہوں میں بشر…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور بیشک ان میں سے بعضے ایسے ہیں کہ کج کرتے ہیں اپنی زبانوں کو کتاب (پڑھنے) میں (یعنی ان میں کوئی لفظ یا کوئی تفسیر غلط ملا دیتے ہیں اور غلط پڑھنا کج زبان کہلاتا ہے) تاکہ تم لوگ (جو اس کو سنو تو) اس (ملائی ہوئی چیز) کو (بھی) کتاب کا جزو سمجھو، حالانکہ وہ کتاب کا جزو نہیں اور (صرف دھوکہ دینے کے لئے اس عملی طریق پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ زبان سے بھی) کہتے ہیں کہ یہ (لفظ یا مطلب) اللہ تعالیٰ کے پاس سے (جو الفاظ یا قواعد نازل ہوئے ہیں ان سے ثابت) ہے حالانکہ وہ (کسی طرح) اللہ تعالیٰ کے پاس سے نہیں (پس ان کا جھوٹا ہونا لازم آگیا، آگے تاکید کے لئے اس کی پھر تصریح ہے) اور اللہ تعالیٰ پر…
Read the full tafseer →”لَوٰی، یَلْوِیْ ، لَیًّا“ کے معنی کسی چیز کو بٹنے، تورنے مروڑنے اور اینٹھنے کے ہیں۔ يَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَھُمْ بِالْكِتٰبِ کے معنی یہ ہوئے کہ کتاب الٰہی کے بعض الفاظ ادا کرتے ہوئے وہ اپنی زبان اس طرح توڑتے مروڑتے ہیں کہ الفاظ کچھ سے کچھ ہوجاتے ہیں۔
عہد الٰہی سے فرار کی ایک تدبیر : یہ اہل کتاب کی ان تدبیروں میں سے ایک تدبیر ہے جو انہوں نے عہد الٰہی کی ذمہ داریوں سے فرار کے لیے اختیار کی تھیں۔ تفسیر بقرہ میں جہاں ہم نے تحریف کے سوال پر بحث کی ہے وہاں بتایا ہے کہ تحریف کے طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ قراءت کی راہ سے لفظ یا جملہ کا تلفظ توڑ مروڑ کر اس طرح بگاڑ دیتے تھے کہ اصل حقیقت بالکل…
Read the full tafseer →78۔ 1 یہ یہود کے ان لوگوں کا تذکرہ ہے جنہوں نے کتاب الٰہی (تورات) میں نہ صرف بددیانتی و تبدیلی کی بلکہ دو جرم بھی کئے ایک تو زبان کو مروڑ کر کتاب کے الفاظ پڑھتے جس سے عوام کو خلاف واقعہ تاثر دینے میں وہ کامیاب رہتے دوسرا وہ اپنی خود ساختہ باتوں میں عند اللہ باور کراتے بدقسمتی امت محمدیہ کے مذہبی پیشواؤں میں بھی نبی ﷺ کی پیشن گوئی (تم اپنے سے پہلی امتوں کی قدم بقدم پیروی کرو گے) کے مطابق بکثرت ایسے لوگ ہیں جو دینوی اغراض یا جماعتی تعصب یا فقہی جمود کی وجہ سے قرآن کریم کے ساتھ بھی یہی معاملہ کرتے ہیں پڑھتے قرآن کی آیت ہیں اور مسئلہ اپنا خود ساختہ بیان کرتے ہیں عوام سمجھتے ہیں کہ مولوی صاحب نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
29: یہ عیسائیوں کی تردید ہورہی ہے جو حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا یا خدا کا بیٹا مان کر گویا یہ دعویٰ کرتے تھے کہ خود حضرت عیسیٰ ؑ نے ہی ان کو اپنی عبادت کا حکم دیا ہے۔ یہی حال ان بعض یہودی فرقوں کا تھا جو حضرت عزیر ؑ کو خدا کا بیٹا مانتے تھے۔
Read the full tafseer →جب اہل دین اخلاقی فساد میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو وہ دینی حقائق میں ملاوٹ کا ذریعہ بنتے ہیں اور یہ کام وہ علمائے دین کے لباس میں کرتے ہیں ۔ قرآن کریم یہاں اہل کتاب میں ایک گروہ کے جو حالات بیان کررہا ہے ‘ ان سے ہم اپنے زمانے میں اچھی طرح واقف ہیں ‘ اہل کتاب نصوص کتاب میں تاویلات کرتے تھے ۔ زبان کے ہیر پھیر سے مفہوم تبدیل کرتے تھے ۔ اور اس طرح وہ طے شدہ نتائج اخذ کرتے تھے ۔ اور ان کا یقین یہ ہوتا تھا کہ کتاب اللہ کا مفہوم یہی ہے ۔ اور یہی مفہوم ارادہ الٰہی کا اظہار ہے ۔ حالانکہ جو نتائج وہ اخذ کرتے تھے وہ اصول دین سے متصادم تھے ۔ ان کو یہ اعتماد تھا اکثر سامعین ان پڑھ اور بےعلم ہیں اور وہ ان کے…
Read the full tafseer →4 یہ اہل کتاب کی تحریف کا حال بیان فرمایا۔ یعنی آسمانی کتاب میں کچھ چیزیں اپنی طرف سے بڑھا گھٹا کر ایسے انداز اور لہجہ میں پڑھتے ہیں کہ ناواقف سننے والا دھوکہ میں آجائے۔ اور یہ سمجھے کہ یہ بھی آسمانی کتاب کی عبارت ہے یہ ہی نہیں بلکہ زبان سے دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ یہ سب اللہ کے پاس سے آیا ہوا ہے۔ حالانکہ نہ وہ مضمون کتاب میں موجود ہے اور نہ خدا کے پاس سے آیا ہے بلکہ خود اس تحریف شدہ کتاب کو بھی بہیاتِ مجموعی خدا کی کتاب نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ اس میں طرح طرح کے تصرّفات اور جعلسازیاں کی گئی ہیں۔ آج بائبل کے جو نسخے دنیا میں موجود ہیں ان میں باہم شدید اختلاف پایا جاتا ہے اور بعض ایسے مضامین درج ہیں…
Read the full tafseer →آیت 78 وَاِنَّ مِنْہُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَہُمْ بالْکِتٰبِ لِتَحْسَبُوْہُ مِنَ الْکِتٰبِ وَمَا ہُوَ مِنَ الْکِتٰبِ ج۔
علماء یہود الفاظ کو ذرا سا ادھر سے ادھر مروڑ کر اور معنی پیدا کرلیتے تھے۔ ہم سورة البقرۃ میں پڑھ چکے ہیں کہ یہود سے کہا گیا حِطَّۃٌکہو تو حِنْطَۃٌکہنے لگے۔ یعنی بجائے اس کے کہ اے اللہ ہمارے گناہ جھاڑ دے انہوں نے کہنا شروع کردیا ہمیں گیہوں دے۔ انہیں تلقین کی گئی کہ تم کہو : سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا مگر انہوں نے کہا : سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا۔ اسی طرح کا معاملہ وہ تورات کو پڑھتے ہوئے بھی کرتے تھے۔ جب وہ دیکھتے کہ جو سائل فتویٰ مانگنے آیا ہے اس کی پسند کچھ اور ہے جبکہ…
Read the full tafseer →68 اس آیت میں یہود کی ایک اور چالبازی مذکور ہے۔ خطیبوں اور واعظوں کی عموماً یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ کتاب اللہ کی آیات کو تو خوش آوازی اور لے کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس کے معانی اور تشریح عام گفتگو کے لہجہ میں کرتے ہیں۔ اب اگر وہ معانی اور تشریح کے الفاظ کی ادائیگی بھی اسی لب و لہجہ میں کریں جس میں وہ کتاب اللہ کی کرتے ہیں تو سننے والے یہ سمجھتے ہیں کہ ان لفظوں کے معانی بھی کتاب اللہ ہی کا حصہ ہیں۔ لوگوں کو فریب دینے اور اپنے خیالات کو اللہ کی طرف منسوب کردینے کی یہ ایک بدترین صورت ہے اور اس طرح وہ ہر جھوٹی سچی بات اللہ کے ذمہ لگا کر اس سے مختلف قسم کے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ یہود کی جس عادت بد کا…
Read the full tafseer →176 ۔ اپنے صحائف آسمانی پڑھتے وقت) (آیت) ” منہم “۔ یعنی انہی یہود میں (آیت) ” یلون السنتھم “۔ اس کے اندر تحریف لفظی ومعنوی کی ساری صورتیں آگئیں۔ لی لسان سے عربی محاورہ میں مراد ہی ہوتی ہے جھوٹ۔ تلبیس۔ تحریف۔ لوی لسانہ بکذا کنایۃ عن الکذب وتخرص الحدیث (راغب) اور یہاں تحریف بالقصد مراد ہے۔ والمعنی یحرفون الکلم ویعدلون بہ عن القصد (قرطبی)
177 ۔ یعنی ان کی یہ تحریفیں دانستہ ہوتی ہیں (آیت) ” لتحسبوہ “۔ میں ضمیر مخاطب سے مراد سامعین ہیں اور ضمیر غائب سے مراد کتاب کا اختراعی حصہ۔ وھو المحرف (کبیر) (آیت) ’ ’ یقولون “۔ ضرور نہیں کہ ان کا کہنا لفظ وصراحۃ ہو۔ اگر اجمالا ودلالۃ ہو جب بھی کافی ہے۔ (آیت) ”…
Read the full tafseer →وَاِنَّ مِنْھُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَھُمْ بِالْکِتَابِ ، اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کتاب الہیٰ کے معانی میں تحریف کرتے ہیں یا الفاظ کا الٹ پھیر کرکے کچھ کا کچھ مطلب نکالتے ہیں، لیکن اس کا اصلی مطلب یہ ہے کہ وہ کتاب کو پڑھتے ہوئے کسی خاص لفظ یا کسی خاص فقرے کو جو ان کے مفاد یا خود ساختہ عقائد کے خلاف ہو زبان کی گردش سے کچھ کا کچھ بنا دیتے ہیں۔ اس کی نظیریں قرآن کے ماننے والوں میں بھی منقود نہیں ہیں مثلاً بعض لوگ جو نبی کے بشریت کے منکر ہیں آیت قُلْ اِنّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ میں اِنَّمَا کا اِنَّ مَا پڑھتے ہیں اور اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں، اے نبی ! کہہ دو کہ تحقیق نہیں…
Read the full tafseer →وَاِنَّ مِنْھُمْ لَفَرِيْقًا : بیشک اہل کتاب کا ایک گروہ ہے یعنی کعب بن اشرف، حیی بن اخطب، ابو یاسر، مالک بن الضیف اور سفنہ بن عمرو شاعر۔
يَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَھُمْ بالْكِتٰبِ : جو (ا اللہ کی) کتاب پڑھتے وقت اپنی زبانوں کو نازل شدہ الفاظ سے اپنے اختراع کردہ الفاظ کی طرف پھیردیتا ہے (یعنی نازل شدہ الفاظ کی جگہ خود ساختہ عبارت کو پڑھتا ہے)
لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ : تاکہ اے مسلمانو ! تم اس کی پڑھی ہوئی عبارت کو (ا اللہ کی اصل کتاب کا جزء سمجھ لو۔ )
وَمَا ھُوَ مِنَ الْكِتٰبِ : حالانکہ وہ کتاب اللہ کا حصہ نہیں ہے (بلکہ خود پڑھنے والے کا یا اس کے ساتھیوں کا بنایا ہوا ہے)
وَيَقُوْلُوْنَ ھُوَ…
Read the full tafseer →(78) اور اسن میں کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں کی جماعت ہے جو توریت میں تبدیلی کرکے اپنی زبانوں کو کج (ٹیڑھی) کرلیتے ہیں تاکہ بیوقوف اس کو توریت سمجھیں حالانکہ کہ یہ خود جانتے ہیں کہ یہ تحریف اصل توریت میں نہیں ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت یہود کے دو عالموں کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ انہوں نے توریت میں جو رسول اکرم ﷺ کی صفت موجود تھی، اس میں انہوں نے تبدیلی کردی تھی ،
Read the full tafseer →وَاِنَّ مِنْھُمْ لَفَرِيْقًا يَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَھُمْ بالْكِتٰبِ۔۔ : اس کا عطف پہلی آیت پر ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اوپر کی آیت بھی یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے (اگرچہ لفظ عام ہونے کی وجہ سے ایسے تمام لوگ اس میں داخل ہیں)۔ (رازی) اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ وہ تورات و انجیل میں تحریف کرتے ہیں اور اس میں (خصوصاً ان آیات میں جن میں رسول اللہ ﷺ کی صفت مذکور ہے) کچھ چیزیں اپنی طرف سے بڑھا کر اس انداز اور لہجہ سے پڑھتے ہیں کہ سننے والا ان کو اللہ کی طرف سے نازل شدہ سمجھ لیتا ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نازل نہیں ہوئیں، پھر یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ان کی بےخوفی اور ڈھٹائی کی حد یہ ہے کہ وہ ان…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 78۔
فریقا سے مراد یہود کی ایک جماعت اور گروہ ہے (آیت) ” یلون السنتھم بالکتب “۔ ابو جعفر اور شیبہ نے (معنی) تکثیر کی بنا پر یلوون “ پڑھا ہے، جب وہ اسے جھکا لے، مروڑ لے اور اسی سے یہ معنی ہے وہ کلام میں تحریف کرتے ہیں اور اس کے ساتھ وہ اسے مقصد سے پھیر دیتے ہیں، اللی کا اصل معنی المیل (ایک طرف جھکنا) ہے، لوی بیدہ (اس نے اپنا ہاتھ پھیر دیا) اور لوی براسہ اور اس نے اپنا سر پھیر دیا، قولہ تعالیٰ (آیت) ” لیابالسنتھم “ یعنی حق سے عناد رکھتے ہوئے اور اس سے غیر کی طرف پھیرتے ہوئے (اپنی زبانوں کو مروڑتے ہیں) اور ولا تلوون علی احد “ کا معنی ہے لاتعرجون علیہ “ (اس پر نہیں چڑھوگے) کہا جاتا ہے…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے لفظ آیت ” وان منہم لفریقا یلون السنتہم بالکتب “ میں وہ یہودی مراد ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں زیادتی کردیتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے اتارا تھا۔
(2) الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” یلوء السنتہم بالکتب “ سے مراد ہے کہ وہ کتاب اللہ میں تحریف کر ڈالتے تھے۔
(3) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ بلاشہ تورات اور انجیل کو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نازل کیا تھا ان دونوں میں سے ایک حرف بھی تبدیل نہیں ہوا تھا لیکن ان لوگوں نے (لوگوں…
Read the full tafseer →[وَاِنَّ : اور بیشک ] [مِنْہُمْ : ان میں ] [لَفَرِیْقًا : لازماً ایک ایسا فریق ہے ] [یَّلْوٗنَ : جو مروڑتا ہے ] [اَلْسِنَتَہُمْ : اپنی زبانوں کو ] [بِالْکِتٰبِ : کتاب میں ] [لِتَحْسَبُوْہُ : تاکہ تم لوگ گمان کرو اس کو ] [مِنَ الْـکِتٰبِ : کتاب میں سے ] [وَمَا ہُوَ : حالانکہ وہ نہیں ہے ] [مِنَ الْکِتٰبِ : کتاب سے ] [وَیَقُوْلُوْنَ : اور وہ لوگ کہتے ہیں ] [ہُوَ : وہ
] [مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ : اللہ کے پاس سے ہے ] [وَمَا ہُوَ : حالانکہ وہ نہیں ہے ] [مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ : اللہ کے پاس سے ] [وَیَقُوْلُوْنَ : اور وہ لوگ کہتے ہیں ] [عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [الْکَذِبَ : جھوٹ ] [وَ : اس حال میں کہ ]…
Read the full tafseer →بعض اہل کتاب، کتاب اللہ میں تحریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے ہے
یہ آیت بھی یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی یہ لوگ تورات شریف میں تحریف اور تغیر کرتے تھے۔ بیان کرتے ہوئے اس انداز سے زبان موڑ کر بات کر جاتے تھے کہ سننے والا یہ سمجھ لے کہ جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ اللہ کی کتاب میں سے ہے رسول اللہ ﷺ کی صفات جو تورات شریف میں پائی تھیں ان کو بدل دیا اور آیت رجم کو چھپالیا۔ تحریف کرتے ہوئے جو بات کہتے تھے اس کو ایسے انداز میں پیش کرتے تھے کہ سننے والا یہ سمجھے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ بات خود تراشیدہ ہوتی تھی۔ اَلْسِنَتَھُمْ کا جو مطلب اوپر عرض کیا گیا اس کی ایسی مثال ہے جیسے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–80
قال تعالیٰ ودت طائفۃ من اھل الکتب لو یضلونکم۔۔۔ الی۔۔ ایا مرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل کتاب سے مناظرہ اور مباہلہ کا بیان تھا کہ یہ لوگ نہ تو کسی دلیل کو مانتے ہیں اور نہ مباہلہ پر آمادہ ہوتے ہیں معلوم ہوا کہ حق کی تحقیق مقصود نہیں بلکہ مقصود شرارت اور فتنہ پردازی ہے اس لیے آئندہ آیات میں یہود کی کچھ شرارتوں اور عداوتوں اور دغا بازیوں اور فریب کاریوں کو بیان کرتے ہیں کہ کس کس طرح سے یہ لوگ حق اور باطل کو خلط ملط کرنے میں مکر اور فریب سے کام لیتے ہیں یہ لوگ خوب جانتے ہیں کہ تم حق پر اور سیدھے راستہ پر ہو مگر یہ لوگ تم کو دھوکہ دے کر گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ دور تک یہی…
Read the full tafseer →108 ۔ پانچواں شکوہ۔ ان خائنین اہل کتاب میں ایک جماعت یعنی ان کے علماء کی جماعت ایسی بھی تھی جو اللہ کی کتاب میں تحریف کرتی تھی اور اپنی گھڑی ہوئی عبارت کو تورات سے ملا کر اس طرح پڑھتی تھی کہ سننے والے سمجھیں کہ یہ سب کچھ خدا کی کتاب ہی سے پڑھ رہے ہیں۔ من اھل الکتاب الخائنین لجماعۃ یلون السنتہم بالکتب ای یحرفونہ قالہ مجاھد (روح ج 3 ص 204) حضرت شیخ (رح) نے فرمایا کہ علماء اہل کتاب نے خود ساختہ اعتقادی مسائل اپنی طرف سے اللہ کی کتاب میں درج کردئیے تاکہ سننے والا سمجھے کہ یہ مسئلہ اللہ کی کتاب کا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسا کہ آجکل کے شرک پسند مولوی شرکیہ عقائد کے ساتھ قرآن مجید کی آیتیں اس انداز سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
اہل کتاب کی تیسری خیانت :
اس سے پیشتر اہل کتاب کی دینی اور مالی خیانت کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں اور ان میں اہل کتاب کی تیسری بڑی خیانت کا ذکر ہے یہ لوگ ان پیش گوئیوں کو چھپا لیتے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ نے سابقہ کتب میں قرآن کریم اور حضور خاتم النبیین ﷺ کے متعلق نازل فرمائی تھیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس بات کی وضاحت فرمائی ہے۔ کہ اس نے اہل کتاب سے عہد لیا تھا۔ کہ ان کے پاس جو نبی آئے گا اس پر ایمان لائیں گے اور اس کا ساتھ دیں گے مگر جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ اور قرآن پاک اترنا شروع ہوا تو ان لوگوں نے اپنے عہد کا کچھ پاس نہ کیا۔ آگے اس…
Read the full tafseer →وَاِنَّ مِنْھُمْ لَفَرِيْقًا يَّلْوٗنَ اَلْسِنَـتَھُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْہُ مِنَ الْكِتٰبِ وَمَا ھُوَمِنَ الْكِتٰبِ 0 ۚ وَيَقُوْلُوْنَ ھُوَمِنْ عِنْدِ اللہِ وَمَا ھُوَمِنْ عِنْدِ اللہِ 0 ۚ وَيَـقُوْلُوْنَ عَلَي اللہِ الْكَذِبَ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ 78
فریق
والفَرِيقُ : الجماعة المتفرّقة عن آخرین،
قال : وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقاً يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتابِ [ آل عمران/ 78]
(ر ق ) الفریق
اور فریق اس جماعت کو کہتے ہیں جو دوسروں سے الگ ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقاً يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتابِ [ آل عمران/ 78] اور اہل کتاب میں بعض ایسے ہیں کہ کتاب تو راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–81
ترکیب : من ان تامنہ مبتداء امن اھل الکتاب خبر اور شرط اور جواب کا مجموعہ صفت ہے مبتداء کی کیونکہ وہ نکرہ ہے۔ بقنطار بمعنی فی یا علی ھو الا ماومت موضع نصب میں ہے کیونکہ ظرف ہے الامدۃ قیامک دائما اور حال بھی ہوسکتا ہے۔ سبیل اسم لیس فی الامیین خبر ‘ یلون صفت ہے فریقا کی جو اسم ہے ان کا اور منہم اس کی خبر ہے۔
تفسیر : یہود کی سرزنش کے بعد یہ بتانا کہ سب یکساں نہیں کچھ ان میں ایماندار خدا ترس بھی ہیں ٗ پوری حق گوئی ہے۔ یہ بات کہ انسان کتاب الٰہی اور احکام دینیہ میں خیانت نہ کرے ‘ حق میں باطل نہ ملاوے ‘ کامل ایمانداری اور پوری دیانت پر موقوف ہے اور جس کو دنیاوی باتوں میں دیانت نہیں پھر اس قوم کا دین…
Read the full tafseer →وَاِنَّ مِنْہُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَہُمْ بِالْـکِتٰتِ لِتَحْسَبُوْہُ مِنَ الْـکِتٰبِ وَمَا ہُوَمِنَ الْـکِتٰبِ ج وَیَقُوْلُوْنَ ھُوَمِنْ عِنْدِاللّٰہِ وَمَا ہُوَمِنْ عِنْدِاللّٰہِ ج وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْـکَذِبَ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔
(اور بیشک ان میں سے ایک گروہ وہ ہے جو اپنی زبان کو کتاب الٰہی کے ساتھ توڑتا موڑتا ہے تاکہ تم اسے گمان کرو کتاب الٰہی کا ایک حصہ حالانکہ وہ کتاب الٰہی کا حصہ نہیں اور وہ کہتے ہیں یہ بھی اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور وہ کہتے ہیں اللہ پر جھوٹ جان بوجھ کر) (78)
اس آیت کریمہ میں اہل کتاب کی ان تدبیروں میں سے جو وہ عہد…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کے کردار کی مزید وضاحت کہ تاریخی حقائق بدلنے اور ان کا انکار کرنے کے ساتھ لسانی کرتب کے ذریعے باطل کو حق بنا کر پیش کر کے اس کو اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگاتے ہیں۔
اہل کتاب نے اپنی طرف سے شریعت بنانا، حق و باطل کو خلط ملط کرنا، دنیا کی خاطر دین و ایمان فروخت کرنا اور حق چھپانا اپنے مذہب کا حصہ بنا لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان میں سے ایک گروہ تورات اور انجیل کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے دعو ٰی کرتا ہے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے تاکہ سننے والا اس پر ایمان لے آئے۔ انہوں نے اس میں بیشمار ترامیم و اضافے کیے اور لوگوں کو باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ تورات اور انجیل اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →ایک اور یہودی چال :
78: وَاِنَّ مِنْھُمْ لَفَرِیْقاً یَّلْوٗ نَ اَلْسِنَتَھُمْ بِالْکِتٰبِ لِتَحْسَبُوْہُ مِنَ الْکِتٰبِ وَمَا ھُوَمِنَ الْکِتٰبِ وَیَقُوْلُوْنَ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہ وَمَا ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَیَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔ وَاِنَّ مِنْھُمْ (اور بیشک ان میں سے) ہم سے مراد اہل کتاب ہیں۔ لَفَرِیْقًا (ایک گروہ ایسا ہے) وہ کعب بن اشرف، مالک بن صیف حیی بن اخطب وغیرہ ہیں۔ یَّلْوٗ نَ اَلْسِنَتَھُمْ بِالْکِتٰبِ (وہ اپنی زبانوں کو کتاب کے ساتھ موڑتے ہیں) اپنی قراءت کے ساتھ ان کو صحیح سے محرف کی طرف بل دیتے ہیں۔ اَللَّیُّ ۔ بٹنا اور وہ پھیرنے کو کہتے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 78۔:
(آیت)” وان منھم لفریقا “ اس سے مراد اہل کتاب ہے، فریقا کا مطلب جماعت ہے اور وہ کعب بن اشرف ومالک بن صیف ، حی بن اخطب ، ابو یاسر ، شعبہ بن عمر والشاعر ہیں ۔ (آیت)” یلوؤن السنتھم بالکتاب “ وہ اپنی زبان کو نازل شدہ الفاظ سے اپنے اختراع کردہ الفاظ کی طرف پھیر دیتا ہے ، آپ ﷺ کی صفات جو تورات میں بیان کی گئی اور آیت رجم وغیرہ کو یہ چھپاتے تھے، جیسا کہ کہا جاتا ہے ، ” لوی لسانہ عن کذا “ تبدیل کیا اس کی زبان نے ۔ ” لتحسبوہ “ تاکہ تم گمان کرو کہ یہ کتاب کا جزو ہے تحریف شدہ نہیں۔ (آیت)” من الکتاب “۔ کتاب میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے (آیت)” وما ھو من الکتاب ویقولون ھو من عند اللہ…
Read the full tafseer →حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ یہود اور نصاریٰ دونوں نے تورات اور انجیل میں اپنی طرف سے جو باتیں ملا دی تھی اس تحریف کو مسلمانوں پر ظاہر کردینے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔۔ اور فرمادیا کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کئے ہوئے لفظ جو ان دونوں آسمانی کتابوں میں ہیں ان اصلی لفظوں سے زبان بدل کر اور موڑ کر ان لفظوں کو اے مسلمانوں تمہارے سامنے اس ڈھنگ سے یہ اہل کتاب پڑھتے ہیں کہ تم اس کو اللہ کا کلام خیال کرتے ہو حالانکہ وہ اللہ کا کلام نہیں (رح) ہے اور خود ان کا دل جانتا ہے کہ وہ اللہ کا کلام نہیں ہے۔ مگر جان بوجھ کر اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ مدینہ منورہ کے قریب و جوار میں اکثر…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ بتارہا ہے کہ اہل کتاب میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو کتاب پڑھتے ہوئے اپنی زبان مروڑتا ہے اور اسے اس کے اصل معانی سے ہٹا دیتا ہے۔ اس میں لفظی تحریف بھی شامل ہے اور معنوی تحریف بھی۔ کتاب سے اصل مطلوب یہ ہے کہ اس کے الفاظ کو یاد کیا جائے، ان میں تبدیلی نہ کی جائے اس کے مفہوم کو سمجھا اور سمجھایا جائے۔ انہوں نے صورت حال برعکس کردی اور وہ بات سمجھائی جو کتاب سے مراد نہیں۔ خواہ اشارتاً ایسا کیا ہو یا صراحتاً ۔ اشارتاً کا ذکر ان الفاظ میں ہے ترجمہ ” اور یہ کہتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ دراصل وہ اللہ کی طرف سے نہیں وہ دانستہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں “۔ یہ علم کے بغیر اللہ کے ذمے کوئی…
Read the full tafseer →معاصی خدا کی طرف سے نہیں ہوتے بلکہ انسانوں کا اپنا فعل ہوتا ہے۔
قول باری ہے (وان منھم لفریقایلووں السنتھم بالکتاب لتحسبوہ من الکتب وماھومن الکتاب ویقولون ھومن عنداللہ وماھم من عند اللہ، ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب پڑھتے ہوئے اس طرح زبان کا الٹ پھیر کرتے ہیں کہ تم سمجھ جو کچھ وہ پڑھ رہے ہیں وہ کتاب ہی کی عبارت ہے۔ حالانکہ وہ کتاب کی عبارت نہیں ہوتی وہ کہتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے۔ حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا) آیت اس پر دلالت کررہی ہے کہ معاصی خدا کی طرف سے نہیں ہوتے اور نہ ہی یہ اللہ تعالیٰ نے عمومی طورپر ا س کی نفی کردی ہے۔ اگر یہ اللہ کے فعل میں سے…
Read the full tafseer →162 ایک اور یہودی چال کا ذکر وبیان : سو اس سے دنیا کو راہ حق سے محروم کرنے کیلئے یہود کی ایک اور سازش اور چال کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ یعنی یہ لوگ کلام الہی میں اپنی ایسی توڑ مروڑ سے کام لیتے ہیں جس سے اس کو اپنی مرضی کے معانی پہنا کر اس میں تحریف کرسکیں، اور اس کو اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق خودساختہ اور من مانے معنی پہنا سکیں۔ اور اپنے ایسے مذموم اغراض و مقاصد کیلئے یہ لوگ لفظی اور معنوی دونوں ہی قسم کی تحریفوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ (ابن کثیر، روح المعانی اور معارف القرآن وغیرہ) ۔ تاکہ اس میں وہ اپنی مرضی کی اور من گھڑت باتیں شامل کر کے لوگوں کو یہ باور کرا سکیں کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف…
Read the full tafseer →بدکردار لوگوں کی دھوکہ دہی
تشریح : اس آیت میں اہل کتاب کی ایک اور بدنیتی کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک فریق ان میں ایسا تھا جو آسمانی کتابوں کو اس طرح زبان کو الٹ کر پڑھتے کہ مضمون کے معنی ہی بدل جاتے اور سننے والا غلط مطلب سمجھ لیتا اور پھر یہ ان کو سمجھاتے کہ اللہ نے یہی کہا ہے۔ حالانکہ ان کو خوب معلوم ہوتا تھا کہ اللہ نے تو کچھ اور کہا ہے جو ان کے کہنے سے مختلف ہے۔ یعنی آسمانی کتاب کے قواعد اور مسائل کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کردیتے۔ ظاہر ہے اتنے بڑے گناہ کی سزا معمولی نہیں ہوسکتی ان لوگوں کی انہی حرکتوں کی وجہ سے نبوت ان سے چھین لی گئی۔ اور ان پر اللہ کا عذاب بھی نازل ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–80
آیات 72- 80
اسرارومعارف
وقال طائفۃ من اھل الکتاب………… واللہ ذوالفضل العظیم۔
یہودکی سازش خلافت راشدہ سے لے کر کربلا تک :
چنانچہ یہود نے مسلمانوں کو راہ حق سے بہکانے کی ایک تجویز سوچی اور وہ یہ کہ اسلام قبول کرلو ، مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوجائو اور پھر کوئی نہ کوئی اعتراض کرکے مسلمان ہونے سے انکار کردو اس طرح ممکن ہے مسلمانوں کے ذہنوں میں بھی شک پیدا ہوجائے اور وہ اسلام سے کفر کی طرف لوٹ جائیں۔
یہودکی یہی کوشش بالآخر عبداللہ ابن سبا کی صورت میں تاریخ عالم پہ ابھری اور شہادت عثمان غنی ؓ سے لے کر ہزاروں مسلمانوں کو خاک وخون میں ملا گئی آخر حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی اسی کا شکار بنے اور سانحہ کربلا…
Read the full tafseer →ف 4 اس کا عطف پہلی آیت جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اوپر کی آیت بھی یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے (کبیر) آیت کے معنی یہ ہیں کہ تورات وانجیل میں تحریف کرتے ہیں اور اس میں خصوصا ان آیات میں جن میں آنحضرت ﷺ کی نعمت مذکور ہے) کچھ چیزیں اپنی طرف سے بڑھا کر اس انداز اور لہجہ سے پڑھتے ہیں کہ سننے والا ان کو منزل من اللہ سمجھ لیتا ہے حالا ن کہ وہ منزل نہیں ہے۔ پھر یہی نہیں بلکہ ان کی خدا سے بےخوفی اور ڈھٹائی کی حد ہے ان چیزوں کے خدا کی طرف سے ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجود تورات وانجیل محرف ہیں اور اپنی آصلی شکل میں موجود نہیں ہیں۔ علما نے اس پر بہت کچھ لکھا ہے۔ (روح المعانی۔…
Read the full tafseer →(3:78) یلون مضارع جمع مذکر غائب لی مصدر۔ باب نصر۔ وہ گھماتے ہیں ۔ وہ پھراتے ہیں۔ لی۔ موڑنا۔ مروڑنا۔ پھیرنا۔ گھمانا۔ لوی یلوی (ضرب) لوی لسانہ یا لوی بلسانہ اس نے زبان پھیرلی یعنی جھوٹ کہا۔ خود اپنی طرف سے بات گھڑلی۔ مطلب یہ کہ زبان مروڑ کر الفاظ بگاڑ کر ادا کرتے ہیں۔ مثال۔ قل انما انا بشر مثلکم کو قل ان ما انا بشر مثلکم پڑھنا۔ اگر لوی کے اول مفعول پر علی ہو تو متوجہ ہونے اور منہ پھیر کر دیکھنے کے ہیں لایلوی علی احد وہ ایسا بھاگا کہ کسی طرف منہ پھیر کر نہ دیکھا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 78
ان تامنه (اگر تو اس کے پاس امانت رکھوائے) یؤدہٖ (وہ اس کا ادا کرے گا) سبیل (راستہ) اوفیٰ (اس نے پورا کیا) یشترون (بیچ دیتے ہیں) ایمان (قسمیں) لاخلاق (حصہ نہیں ہے) یلون (مروڑتے ہیں) السنتھم (اپنی زبانون کو (لسان، زبان) لتحسبوہ (تاکہ تم اس کو سمجھو (ل، تاکہ، تحسبوا، تم سمجھو، ہ، اس کو) ۔
تشریح : آیت نمبر 75 تا 78
یہودیوں کو اپنے بارے میں یہ خوش فہمی تھی کہ ہم اہل علم وفضل ہیں اور ساری دنیا جاہل ہے ان کا خیال تھا کہ اگر قریش یا دوسرے غیر اہل کتاب کے مال میں خیانت کرلی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور کہتے تھے کہ ہمیں اس کی اجازت اللہ نے دے رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہود اور نصاریٰ دونوں نے توریت اور انجیل میں اپنی طرف سے جو باتیں ملا دیں تھیں۔ اس تحریف کو مسلمانوں پر ظاہر کردینے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–80
[30] یعنی غیر یہودی لوگ۔ یہودی اپنے سوا سب کو اُ مّی کہتے تھے۔
Read the full tafseer →بددیانتی :
(ف 1) لی کے معنی میل و انحراف کے ہیں نری براسہ کے معنی سر کو ایک طرف جھکا دینے کے ہیں ، (آیت) ” یلون السنتھم بالکتب “۔ کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ الفاظ کو اس طرح پڑھتے ہیں کہ معانی میں ایک قسم کی تحریف و انحراف پیدا ہوجاتا ہے ۔
یعنی اہل کتاب میں ایک فریق یہودیوں کا ایسا ہے جو اپنی طرف سے کچھ عبارتیں وضع کرلیتا ہے اور اسے تورات کی طرف منسوب کردیتا ہے ، یا وہ تورات کے الفاظ کو اس طرح پڑھتا ہے جس سے معانی میں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے ، بات یہ ہے کہ عبرانی رسم الخط اس قسم کا ہے کہ بعض حروف تھوڑی سی صوتی تبدیلی سے کیا سے کیا ہوجاتے ہیں ، اس لئے محرفین کو موقع ملتا ہے کہ وہ اس کمزوری سے جو رسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
ف 3۔ اور بلا شبہ ان اہل کتاب میں سے بعض لوگ ایسے چالاک ہو شیار ہیں کہ وہ کتاب پڑھنے میں اپنی زبانوں کو کچھ ایسا الٹ پھیر دے کر پڑھتے ہیں تا کہ تم لوگ اس بناوٹی اور ملاوٹی ہوئی چیز کو بھی کتاب ہی کا ایک حصہ سمجھو حالانکہ جو کچھ انہوں نے زبان کو پھیر دے کر پڑھا ہے وہ کتاب کا حصہ نہیں پھر یہی نہیں کہ اتنی ہی تحریف پر بس کریں ۔ اس کے بعد زبان سے بھی کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے پڑھا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ناز ل شدہ ہے ، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ نہیں ہے اور یہ لوگ جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ بات منسوب کرتے ہیں۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ تحریف لفظی کرتے ہیں کہ غیر کتاب کو کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
ف 1۔ ممکن ہے کہ تحریف لفظی کرتے ہوں اور ممکن ہے کہ تفسیر غلط بیان کرتے ہوں تحریف لفظی میں تو دعوی ہوتا ہے کہ یہ لفظ منزّل من اللہ ہے اور غلط تفسیر میں یہ تو نہیں ہوتا لیکن یہ دعوی ہوتا ہے کہ یہ تفسیر قواعد شرعیہ سے ثابت ہے اور قواعد شرعیہ کا من جانب اللہ ہونا ظاہر ہے ایک صورت میں جزو ہونے کا دعوی ہوگا ایک صورت میں معنی جزو کتاب ہونے کا دعوی ہوگا بایں معنی کہ جزو ثابت بالشرع ہے اور ہر ثابت بالشرع حقیقتا ثابت بالکتاب ہے۔
Read the full tafseer →اہل کتاب کی یہ گمراہی کہ وہ کتاب اللہ کو توڑ موڑ کر پیش کرتے رہتے ہیں :
161: ” اہل کتاب میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو کتاب اللہ کو پڑھتے ہوئے الٹ پھیر کرجاتا ہے۔ “ ظاہر ہے کہ یہ گروہ علماء و مشائخ ہی کا ہو سکتا ہے کیونکہ وہی ایسا کام کرسکتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اہل کتاب کے علماء و مشائخ کی گمراہیوں نے پوری قوم کو روح ہدایت سے محروم کر رکھا ہے ان عالموں اور فقیہوں کا ایک گروہ ہے جو کتاب اللہ کی تلاوت کرتا اور اس کی شرح و تفسیر بیان کرتا ہے لیکن ہوائے نفس کے معانی میں تحریف کردیتا ہے۔ عوام سمجھتے ہیں کہ یہ اللہ کی کتاب کا بیان ہے حالانکہ وہ اللہ کی کتاب کا بیان نہیں ہے بلکہ ان کی رایوں کی…
Read the full tafseer →Commentary
It was during the presence of the deputation from Najran that some Jews and Christians had said: '0 Muhammad, do you want us to worship you the way Christians worship Jesus, son of Mary?' He said: 'I seek refuge with Allah that we worship someone other than Allah or call on others to do so. Allah Almighty has not sent us to do that.' Thereupon, this verse was revealed.
Read the full tafseer →66. This could mean that they either distort the meaning of the Scriptures or twist the words of the text in order to misinterpret it. Its real meaning, however, seems to be that when, during their reading of the Scriptures, they encounter any word or sentence which goes against their interests, and the beliefs and notions which they cherish, they distort the meaning of it by deliberately twisting their tongues. Instances of such tongue-twisting are not altogether wanting among those who, despite their belief in the Qur'an, share some of these people's characteristics. For instance, some…
Read the full tafseer →