جھوٹی قسم کھانے والے
یعنی جو اہل کتاب اللہ کے عہد کا پاس نہیں کرتے نہ حضور ﷺ کی اتباع کرتے ہیں نہ آپ کی صفتوں کا ذکر لوگوں سے کرتے ہیں نہ آپ کے متعلق بیان کرتے ہیں اور اسی طرح جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور ان بدکاریوں سے وہ اس ذلیل اور فانی دنیا کا فائدہ حاصل کرتے ہیں ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں نہ ان سے اللہ تعالیٰ کوئی پیار محبت کی بات کرے گا نہ ان پر رحمت کی نظر ڈالے گا نہ انہیں ان کے گناہوں سے پاک صاف کرے گا بلکہ انہیں جہنم میں داخل کرنے کا حکم دے گا اور وہاں وہ دردناک سزائیں بھگتتے رہیں گے، اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں بھی ہیں جن میں سے کچھ یہاں بھی ہم بیان کرتے ہیں 001 مسند احمد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
سورة اٰلِ عِمْرٰن 65
سبب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسے ایسے سخت اخلاقی جرائم کرنے کے بعد بھی اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے روز بس یہی اللہ کے مقرب بندے ہوں گے، انہی کی طرف نظر عنایت ہوگی، اور جو تھوڑا بہت گناہوں کا میل دنیا میں ان کو لگ گیا ہے وہ بھی بزرگوں کے صدقے میں ان پر سے دھو ڈالا جائے گا، حالانکہ دراصل وہاں ان کے ساتھ بالکل برعکس معاملہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
ربط آیات
اوپر ویقولون سے اہل کتاب کے دعوی کی تکذیب مذکور تھی، آگے ان آیات سے اسی تکذیب کی تاکید اور ایفاء عہد کی فضیلت اور نقض عہد کی مذمت کی تصریح ہے۔
خلاصہ تفسیر
(خائن پر) الزام کیوں نہ ہوگا (ضرور ہوگا، کیونکہ اس کے متعلق ہمارے یہ دو قانون ہیں، (ایک یہ کہ) جو شخص اپنے عہد کو (خواہ وہ عہد اللہ تعالیٰ سے ہوا ہو، یا بشرط جواز کسی مخلوق سے) پورا کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرے تو بیشک اللہ تعالیٰ محبوب رکھتے ہیں (ایسے) متقیوں کو (اور دوسرا قانون یہ ہے کہ) یقینا جو لوگ معاوضہ (یعنی نفع دنیوی) لے لیتے ہیں بمقابلہ اس عہد کے جو (انہوں نے) اللہ تعالیٰ سے کیا ہے (مثلا انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان لانا)…
Read the full tafseer →”اشتراء“ کے لفظ پر سورة بقرہ کی تفسیر میں بحث گزر چکی ہے۔ جب مبادلہ چیز کا چیز سے ہو، جس کا عموماً قدیم زمانہ میں رواج تھا تو ہر شے مبیع بھی ہوسکتی ہے اور ثمن بھی۔ اس وجہ سے کسی شے کا اشتراء در حقیقت اس مفہوم میں خریدنا نہیں ہوتا تھا جس مفہوم میں ہم خریدنا بولتے ہیں بلکہ اس کا مفہوم مبادلہ ہوتا تھا۔ اس وجہ سے ”اشتراء“ کا لفظ بدلنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور پھر اس مفہوم سے ترقی کر کے ترجیح دینے کے معنی میں بھی۔ عَهْدِ اللّٰهِ سے مراد کتاب و شریعت ہے اس لیے کہ کتاب و شریعت کی حیثیت اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان معاہدے کی ہوتی ہے۔ یہاں اس عام مفہوم کے اندر ایک خاص اشارہ اس عہد کی طرف…
Read the full tafseer →77۔ 1 مذکورہ افراد کے برعکس دوسرے لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے اور یہ دو طرح کے لوگ شامل ہیں ایک تو وہ جو عہد الٰہی اور اپنی قسموں کو پس پشت ڈال کر تھوڑے سے دینی مفادات کے لئے نبی ﷺ پر ایمان نہیں لائے دوسرے وہ لوگ ہیں جو جھوٹی قسمیں کھا کر اپنا سودا بیچتے ہیں یا کسی کا مال ہڑپ کر جاتے ہیں جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔ مثلاً نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی کا مال ہتھیانے کے لئے جھوٹی قسم کھائے وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضب ناک ہوگا نیز فرمایا تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ نہ کلام کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا ان میں ایک وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
29: یہ عیسائیوں کی تردید ہورہی ہے جو حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا یا خدا کا بیٹا مان کر گویا یہ دعویٰ کرتے تھے کہ خود حضرت عیسیٰ ؑ نے ہی ان کو اپنی عبادت کا حکم دیا ہے۔ یہی حال ان بعض یہودی فرقوں کا تھا جو حضرت عزیر ؑ کو خدا کا بیٹا مانتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
اس مقام پر قرآن کریم انسانوں کے لئے اپنا واحد اخلاقی اصول طے کردیتا ہے ۔ یہ اس کا واحد اخلاقی معیار ہے ۔ اور وہ اپنے اخلاقی نقطہ نظر کو خدا اور خدا خوفی کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔
غرض یہ ایک اخلاقی اصول ہے ‘ جس نے اس کا لحاظ رکھا ‘ اللہ کے عہد کا پاس کرتے ہوئے اللہ خوفی کا شعور رکھتے ہوئے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ محبت رکھے گا ‘ اسے اعزاز اور اکرام نصیب ہوگا۔ اور جس نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے ‘ اس عہد کو دنیا کے ثمن قلیل کی وجہ سے توڑا ‘ چاہے اسے یہ پوری دنیا کیوں نہ مل رہی ہو ‘ تو اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا ‘ اس لئے کہ یہ پوری دنیا بھی آخرت کے مقابلے میں متاع قلیل ہے ۔ اللہ کے ہاں ایسا شخص…
Read the full tafseer →2 یعنی جو لوگ دنیا کی متاع قلیل لے کر خدا کے عہد اور آپس کی قسموں کو توڑ ڈالتے ہیں، نہ باہمی معاملات درست رکھتے ہیں نہ خدا سے جو قول وقرار کیا تھا اس پر قائم رہتے ہیں۔ بلکہ مال و جاہ کی حرص میں احکام شرعیہ کو بدلتے اور کتب سماویہ میں تحریف کرتے رہتے ہیں۔ ان کا انجام آگے مذکور ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ یہود میں صفت تھی کہ اللہ نے ان سے اقرار لیا تھا اور قسمیں دی تھیں کہ ہر نبی کے مددگار رہیو۔ پھر غرض دنیا کے واسطے پھرگئے اور جو کوئی جھوٹی قسم کھائے دنیا لینے کے واسطے اس کا یہ ہی حال ہے۔
3 اس قسم کی آیت سورة " بقرہ " کے اکیسویں رکوع میں گزر چکی، وہاں کے فوائد میں الفاظ کی تشریح دیکھ لی…
Read the full tafseer →آیت 77 اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیْلاً
یعنی جب وہ دیکھتے ہیں کہ لوگ ہماری بات میں کچھ شک کر رہے ہیں تو خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہے۔
وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۔
یہ مضمون بھی تقریباً پورا سورة البقرۃ آیت 174 میں آچکا ہے۔
Read the full tafseer →67 اللہ کے عہد اور قسموں کے بدلے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لینے کی بہت سی صورتیں ممکن ہیں ان میں دو صورتوں کا ذکر تو بخاری میں آیا ہے۔ یہ دونوں صورتیں بعینہ ہم احادیث کے الفاظ میں درج کرتے ہیں۔
1۔ اشعث بن قیس کہتے ہیں کہ یہ آیت میرے حق میں اتری۔ میرے چچا زاد بھائی کی زمین میں میرا کنواں تھا۔ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ گواہ لاؤ ورنہ اس سے قسم لے لو۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! وہ تو قسم کھاجائے گا۔ آپ نے فرمایا : جو شخص کسی مسلمان کا مال مار لینے کی نیت سے خواہ مخواہ جھوٹی قسم کھائے تو جب وہ اللہ سے ملے گا تو اس وقت اللہ اس پر غضب ناک ہوگا۔ (بخاری، کتاب التفسیر)
2۔ عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے روایت ہے…
Read the full tafseer →174 ۔ یعنی کسی دنیوی طمع میں آکر ان پابندیوں کو توڑ رہے ہیں۔ (آیت) ” ثمنا قلیلا “۔ دنیوی معاوضہ ہمیشہ اخروی اجر کے مقابلہ میں قلیل ہی ہوگا۔ یہ مراد نہیں کہ اگر زیادہ معاوضہ مل رہا ہو تو بددیانتی اور عہد شکنی جائز ہوجائے گی، مفہوم صرف اس قدر ہے کہ اپنے معاہدوں کی پابندی نہ کرنا اور بدمعاملگی کر بیٹھنا کسی حال میں جائز نہیں۔ (آیت) ” عھد اللہ “۔ یعنی وہ عہد متابعت جو اللہ سے کرچکے ہیں۔ (آیت) ” ایمانھم “۔ یعنی جو قسمیں آپس میں معاملات سے متعلق کھاتے رہتے ہیں۔ فقہاء مفسرین نے آیت کے تحت میں لکھا ہے کہ کوئی فریق جو جانتا ہے کہ میں باطل پر ہوں اس بنا پر اپنے کو حق پر قرار نہیں دے سکتا کہ عدالت ظاہرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللہِ وَاَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلاً ۔ زاہدی کے حوالہ سے صاحب خلاصۃ التفاسیر نے لکھا ہے کہ ایک بار مدینہ میں قحظ پڑا بعض یہود مسلمان ہوگئے تھے وہ کعب بن اشرف کے پاس گئے جو کہ یہود کا سردار تھا، اور مدد کی درخواست کی کعب بن اشرف نے کہا اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے، انہوں نے جواب دیا اللہ کا نبی اور اس کا بندہ ہے، کعب نے کہا تم مجھ سے کچھ نہیں پاسکتے، نو مسلم یہود بولے ہم نے یہ بات یوں ہی کہہ دی تھی مہلت دیجئے کہ سوچ سمجھ کر جواب دیں۔ پھر تھوڑی دیر بعد آئے اور کہنے لگے یہ خاتم الانبیاء نہیں ہیں تو اس نے ان کو قسم دلائی وہ قسم…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَــمَنًا قَلِيْلًا : صحیحین میں ابو وائل کی وساطت سے حضرت عبد اللہ کی روایت منقول ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص کسی مسلمان کا مال مارنے کے لیے جھوٹی قسم کھائے گا تو اللہ کے سامنے اس کی پیشی ایسی حالت میں ہوگی کہ اللہ اس پر غضب ناک ہوگا۔ اس کی تصدیق میں آیت مذکورہ آخرتک نازل ہوئی۔ حضرت عبد اللہ یہ حدیث بیان کرچکے تو حضرت اشعث بن قیس باہر سے اندر آئے اور پوچھا ابو عبد الرحمن نے تم سے کیا حدیث بیان کی تھی لوگوں نے بتادیا کہ یہ یہ بیان کر رہے تھے حضرت اشعث نے کہا یہ آیت میرے متعلق نازل ہوئی تھی۔ بات یہ ہوئی کہ میرا ایک کنواں…
Read the full tafseer →(77) اب اس قسم کے یہودیوں کا انجام بیان فرماتے ہیں کہ جو لوگ اس عہد کو جو انہوں نے اللہ سے کیا اور اپنی ان قسموں کو جو انبیاء کرام کے ساتھ کھائیں حقیر سے کچھ دنیاوی نفع کے بدلے میں توڑتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لیے جنت میں کوئی حصہ نہیں اور نہ ان عہد شکن لوگوں سے اللہ تعالیٰ کلام فرمائے گا اور نہ ان پر کسی بھی درجے میں رحمت فرمائے گا اور نہ یہودیت سے ان کو پاک صاف کرے گا اور ان کے لیے ایسا درد ناک عذاب ہوگا کہ اس کی شدت ان کے دلوں تک سرایت کرجائے گی اور کہا گیا کہ یہ آیت کریمہ عبدان بن اشوع اور امرأالقیس کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ ان دونوں میں باہمی خصومت (دشمنی) تھی۔
شان نزول : (آیت) ”ان…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ۔۔ : عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بازار میں کچھ سامان تجارت لا کر رکھا، پھر اس پر قسم کھا کر کہا کہ میں نے اس سامان کے اتنے روپے دیے، حالانکہ اس نے اتنے روپے نہیں دیے تھے (یا کہا کہ مجھے اس سامان کے اتنے روپے مل رہے تھے، حالانکہ اسے اتنے روپے نہیں مل رہے تھے) قسم کا مقصد یہ تھا کہ کسی مسلمان کو اس میں پھنسا لے تو اس پر یہ آیت اتری : (اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَــمَنًا قَلِيْلًا) [ بخاری، البیوع، باب ما یکرہ من الحلف فی البیع : 2088، 4551 ] یعنی جو لوگ بدعہدی، خیانت اور جھوٹی قسمیں کھا کر لوگوں کا مال کھاتے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 77۔
مسئلہ نمبر : (1) ائمہ نے اشعث بن قیس سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میرے اور ایک یہودی آدمی کے درمیان زمین کا تنازعہ ہوا تو اس نے میرے (حق کا) انکار کردیا سو میں اسے حضور نبی کریم ﷺ کے پاس لے آیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا : ” کیا تیرے پاس گواہ ہیں ؟ “ میں نے عرض کی : نہیں، پھر آپ ﷺ نے یہودی کو فرمایا : ” تو حلف دے دے، میں نے عرض کی :“ تب یہ تو حلف دے دے گا اور میرا مال لے جائے گا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانھم ثمنا قلیلا “ الی آخر الآیۃ، (1) (صحیح بخاری، باب کلام الخصوم بعضھم فی بعض، حدیث نمبر 2239، ضیاء القرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
جھوٹی قسم کے ذریعہ مال کمانے والے کے لئے عذاب
(1) عبد الرزاق و سعید بن منصور واحمد وعبد بن حمید بخاری مسلم ابو داؤد ترمذی نسائی ابن ماجہ ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ایسی قسم کھائی جس میں وہ جھوٹا ہے تاکہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال مارے تو (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غصہ ہوں گے اشعث بن قیس ؓ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی میں نے زمین واپس کرنے سے انکار کردیا تھا اس کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گیا مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا…
Read the full tafseer →[اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک جو لوگ ] [یَشْتَرُوْنَ : خریدتے ہیں ] [بِعَہْدِ اللّٰہِ : اللہ کے عہد کے بدلے ] [وَاَیْمَانِہِمْ : اور اپنی قسموں کے بدلے ] [ثَمَنًا قَلِیْلاً : تھوڑی قیمت کو ] [اُولٰٓئِکَ : یہ وہ لوگ ہیں ] [لاَ خَلاَقَ : بھلائی میں کسی قسم کا کوئی حصہ نہیں ہے ] [لَہُمْ : جن کے لیے ] [فِی الْاٰخِرَۃِ : آخرت میں ] [وَلاَ یُکَلِّمُہُمُ : اور کلام نہیں ] [کرے گا ان سے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [وَلاَ یَنْظُرُ : اور نہ ہی وہ دیکھے گا ] [اِلَـیْہِمْ : ان کی طرف ] [یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ : قیامت کے دن ] [وَلاَ یُزَکِّیْہِمْ : اور نہ ہی وہ پاک کرے گا ان کو ] [وَلَہُمْ : اور ان کے لیے ] [عَذَابٌ…
Read the full tafseer →اللہ کے عہد کے عوض دنیا کمانے والوں کو تنبیہ
یہودیوں سے جو اللہ تعالیٰ کا عہد تھا کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائیں گے اس عہد کو انہوں نے اپنے عوام سے چھپایا اور بدل بھی دیا۔ کیونکہ جو صفات تورات شریف میں رسول اللہ ﷺ کی پڑھی تھیں ان کو واقعی طور پر جاننے کے باو جود بھی تغیر و تبدل کردیا اور اپنے عوام کو بتایا کہ جو صفات ہم نے پڑھی ہیں وہ ان پر منطبق نہیں ہوتیں اور اس طرح اپنے عوام کو اپنی جانب کرکے اپنی ریاست باقی رکھی۔ اور اپنے عوام سے رشوت لیتے رہے۔ یہ عہد خداوندی کے عوض حقیر دنیا حاصل کرنا ہوا۔ حضرت عکرمہ ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت ابو رافع اور کنانہ اور حیی اور ان کے علاوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–80
قال تعالیٰ ودت طائفۃ من اھل الکتب لو یضلونکم۔۔۔ الی۔۔ ایا مرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل کتاب سے مناظرہ اور مباہلہ کا بیان تھا کہ یہ لوگ نہ تو کسی دلیل کو مانتے ہیں اور نہ مباہلہ پر آمادہ ہوتے ہیں معلوم ہوا کہ حق کی تحقیق مقصود نہیں بلکہ مقصود شرارت اور فتنہ پردازی ہے اس لیے آئندہ آیات میں یہود کی کچھ شرارتوں اور عداوتوں اور دغا بازیوں اور فریب کاریوں کو بیان کرتے ہیں کہ کس کس طرح سے یہ لوگ حق اور باطل کو خلط ملط کرنے میں مکر اور فریب سے کام لیتے ہیں یہ لوگ خوب جانتے ہیں کہ تم حق پر اور سیدھے راستہ پر ہو مگر یہ لوگ تم کو دھوکہ دے کر گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ دور تک یہی…
Read the full tafseer →106 تخویف اخروی : عہد اللہ سے مراد ایمان و اطاعت کا عہد ہے یہ عہد شکنی پر وعید اخروی ہے یعنی جو لوگ دنیا کے معمولی سے مفاد کی خاطر اللہ کے عہد اطاعت اور آپس کے حلفی معاملات کی پرواہ نہیں کرتے، اللہ سے کیے ہوئے عہد اور بندوں سے طے شدہ معاہدوں کو توڑتے ہیں۔ آخرت میں ان لوگوں کا کوئی حصہ نہیں۔ کیونکہ ان لوگوں نے ایفائے عہد اور محافظت یمین پر دنیا کے حقیر مفاد کو ترجیح دی۔ اور ایفاء ومحافظت کی صورت میں جو آخرت کا اجر وثواب ان کیلئے مقدر تھا اس سے محروم ہوگئے۔
107 ۔ قیامت کے دن یہ لوگ اللہ کے خطاب شفقت و محبت اور اس کی نگاہ رحمت سے بھی محروم رہیں گے اور اس کے عفوعام سے بھی کوئی حصہ نہیں پائیں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
اہل کتاب کی تیسری خیانت :
اس سے پیشتر اہل کتاب کی دینی اور مالی خیانت کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں اور ان میں اہل کتاب کی تیسری بڑی خیانت کا ذکر ہے یہ لوگ ان پیش گوئیوں کو چھپا لیتے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ نے سابقہ کتب میں قرآن کریم اور حضور خاتم النبیین ﷺ کے متعلق نازل فرمائی تھیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس بات کی وضاحت فرمائی ہے۔ کہ اس نے اہل کتاب سے عہد لیا تھا۔ کہ ان کے پاس جو نبی آئے گا اس پر ایمان لائیں گے اور اس کا ساتھ دیں گے مگر جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ اور قرآن پاک اترنا شروع ہوا تو ان لوگوں نے اپنے عہد کا کچھ پاس نہ کیا۔ آگے اس…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللہِ وَاَيْـمَانِہِمْ ثَــمَنًا قَلِيْلًا اُولٰۗىِٕكَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِي الْاٰخِرَۃِ وَلَا يُكَلِّمُھُمُ اللہُ وَلَا يَنْظُرُ اِلَيْہِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ وَلَا يُزَكِّـيْہِمْ 0 ۠ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 77
شری
الشِّرَاءُ والبیع يتلازمان، فَالْمُشْتَرِي دافع الثّمن، وآخذ المثمن، والبائع دافع المثمن، وآخذ الثّمن . هذا إذا کانت المبایعة والْمُشَارَاةُ بناضّ وسلعة، فأمّا إذا کانت بيع سلعة بسلعة صحّ أن يتصور کلّ واحد منهما مُشْتَرِياً وبائعا، ومن هذا الوجه صار لفظ البیع والشّراء يستعمل کلّ واحد منهما في موضع الآخر . وشَرَيْتُ بمعنی بعت أكثر، وابتعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–81
ترکیب : من ان تامنہ مبتداء امن اھل الکتاب خبر اور شرط اور جواب کا مجموعہ صفت ہے مبتداء کی کیونکہ وہ نکرہ ہے۔ بقنطار بمعنی فی یا علی ھو الا ماومت موضع نصب میں ہے کیونکہ ظرف ہے الامدۃ قیامک دائما اور حال بھی ہوسکتا ہے۔ سبیل اسم لیس فی الامیین خبر ‘ یلون صفت ہے فریقا کی جو اسم ہے ان کا اور منہم اس کی خبر ہے۔
تفسیر : یہود کی سرزنش کے بعد یہ بتانا کہ سب یکساں نہیں کچھ ان میں ایماندار خدا ترس بھی ہیں ٗ پوری حق گوئی ہے۔ یہ بات کہ انسان کتاب الٰہی اور احکام دینیہ میں خیانت نہ کرے ‘ حق میں باطل نہ ملاوے ‘ کامل ایمانداری اور پوری دیانت پر موقوف ہے اور جس کو دنیاوی باتوں میں دیانت نہیں پھر اس قوم کا دین…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِاللّٰہِ وَاَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیْلاً اُولٰٓئِکَ لَاخَلاَقَ لَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْہِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیْہِمْ ص وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔
(بیشک جو لوگ بیچتے ہیں اللہ کے عہد کو اور اپنی قسموں کو ایک حقیر قیمت کے عوض یہ وہ بدنصیب ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے گا، نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا ان کے لیے دردناک عذاب ہے) (77)
اشتراء کا مفہوم
اشتراء یا شراء اور بیع ‘ خریدنے اور بیچنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتے ہیں اور ایک…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سلسلہ کلام گزشتہ سے پیوستہ۔ اہل کتاب عہدشکن اور ایمان فروش ہیں دنیوی مفاد کے لیے عہد توڑنے اور ایمان فروشی کی سزا۔
اللہ تعالیٰ کے حکم، دین اور اس کی عظمت کے مقابلے میں دنیا کی بادشاہت اور دولت کی کوئی حیثیت نہیں۔ دین میں داخل ہونا اللہ تعالیٰ سے عہد کرنے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عہد اور حکم کو دنیا کی خاطر چھوڑنا عہد اور دین بیچنے کے مترادف ہے۔ اس جرم میں وہ لوگ بھی شامل ہوں گے جو قسموں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے نام کو ڈھال اور دنیاوی مفاد کا ذریعہ بناتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بازار میں اپنا سودا لگایا اور دوسرے مسلمان کو یہ کہہ کر…
Read the full tafseer →77: اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَاَ یْمَانِھِم ثَمَنًا قَلِیلًا اُولٰٓپکَ لَاخَلَاقَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃ، وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔
فائدہ : یہ ان لوگوں کے بارے میں اتری جنہوں نے تورات کی تحریف کی۔ اور جن یہود نے آپکی صفات تورات میں بدل ڈالیں۔ اور اس پر رشوت وصول کی۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ (بیشک وہ لوگ جو تبدیل کرتے ہیں) بِعَھْدِ اللّٰہِ (اللہ کے اقرار کو) جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے رسول مصدق پر ایمان لانے کے سلسلہ میں کررکھا ہے۔ واَیْمَانِھِمْ (اور اپنی قسموں کو) اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
(تفسیر) 76۔ :
” بلی “ یہ اس طرح نہیں جس طرح تم کہتے ہو بلکہ اس کے علاوہ تمہارے لیے راستہ ہے پھر اس کلام سے ابتدا کی (آیت)” من اوفی “ لیکن کون شخص ہے جو ایفاء وعدہ کرے ” بعھدہ “ اللہ کے ساتھ وہ وعدہ جو تورات میں موجود ہے کہ ہم محمد ﷺ اور قرآن کریم۔ پر ایمان لائیں گے اور امانت ادا کریں گے بعض نے کہا کہ ” بعھدہ “ میں ہ ضمیر ” اوفی “ کی طرف راجع ہے ” واتقی “ اور بچو کفر سے خیانت سے اور نقض عہد سے (آیت)” فان اللہ یحب المتقین “۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار چیزیں ہیں جو پائی جائیں جس میں وہ خالص منافق ہوگا اور جب تک اس کے اندر ان خصلتوں میں سے کوئی ایک خصلت…
Read the full tafseer →صحیحین اور صحاح کی کتابوں میں میں روایت ہے کہ اشعث بن قیس ؓ صحابی اور ایک یہودی میں کچھ زمین کا قضیہ تھا اس کی فریاد آنحضرت ﷺ کے پاس لائی گئی آپ نے پوچھا اس دعوے کے ثبوت کے گواہ ہیں۔ اشعث بن قیس ؓ نے کہا نہیں۔ گواہ تو نہیں ہیں۔ آپ نے یہودی سے کہا کہ تو اپنے دعوے پر قسم کھا۔ اشعث بن قیس ؓ نے کہا کہ حضرت یہ یہودی فور ً ا جھوٹی قسم کھا کر میری زمین دبا لے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3 اور فرما دیا دنیا کی تھوڑی سی طمع کے لئے جو کوئی جھوٹی قسم کھائے گا۔ وہ عقبیٰ میں جنت کی بڑی بڑی نعمتوں سے محروم رہے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کا اس پر ایسا غصہ اور غضب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
اللہ تعالیٰ اہل کتاب کے بارے میں بیان فرما رہا ہے کہ مالوں میں ان کی دیانت اور بددیانتی کا کیا حال ہے۔ جب دین کے بارے میں ان کی خیانت، مکر اور حق کو چھپانے کا ذکر فرمایا تو اس کے بعد بتایا کہ ان میں سے خائن بھی ہیں اور دیانت دار بھی۔ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ ترجمہ، تو اگر انہیں خزانے کا (یعنی بہت زیادہ مال کا) امین بنا دے “ (یودہ) ” تو بھی وہ واپس کردیں “ اور اس سے کم تر تو بالا ولی واپس کریں گے اور ان میں سے بعض ایسے ؓ ھی ہیں کہ ترجمہ، اگر تو انہیں ایک دینار بھی امانت دے تو تجھے ادا نہ کریں “ اور بڑی رقم ادا کرنے سے تو بالاولی انکار کریں گے۔ انہیں خیانت اور بےوفائی کی عادت اس لئے ہوئی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
قسم کھانے کی اہمیت و کیفیت
قول باری ہے (ان الذین یشترون بعھد اللہ وایمانھم ثمنا قلیلا، بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پربیچ ڈالتے ہیں۔ ) اعمش نے سفیان ثوری سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (من حلف علی یمین تقطع بہ مال امری مسلہ وھوفاجرفیھا لقی اللہ وھو علیہ غضبان، جو شخص جھوٹی قسم اٹھاکر کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے گا تو خدا کے حضور جب حاضر ہوگا خدا کو اس پر غصہ آرہا ہوگا) اشعث بن قیس کہتے ہیں۔ یہ آیت میرے متعلق نازل ہوئی ، ہوایہ کہ میرے اور ایک شخص کے درمیان جھگڑا تھا جب حضور ﷺ کے پاس یہ تنازعہ پہنچاتو آپ نے مجھ سے ثبوت طلب کیا میں…
Read the full tafseer →159 تقویٰ و پرہیزگاری ذریعہ نجات و سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ محبت رکھتا ہے متقی اور پرہیزگار لوگوں سے۔ سو اللہ تعالیٰ کے محبوب متقی و پرہیزگار لوگ ہی ہیں۔ سو جس نے اپنے عہد کو نبھایا اور تقوی کو اپنایا وہ اللہ کا محبوب بن گیا۔ اور جو اللہ کا محبوب بن گیا تو اس کو اور کیا چاہیئے۔ اور اس سے بڑھ کر کامیاب اور فائز المرام اور کون ہوسکتا ہے ؟ پس ہمیشہ تقویٰ و پرہیزگاری کی دولت ہی کو اپنانے بڑھانے اور اس کو محفوظ رکھنے کی فکر و کوشش میں رہنا چاہیئے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اپنے عہد و پیمان کی ادائیگی و پاسداری اور تقویٰ و پرہیزگاری کا التزام و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
اہل کتاب کی خیانت کا بیان
تشریح : اہل کتاب کے ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ انتہائی امانت دار ہیں کہ اگر انکے پاس ڈھیروں سو نار کھاجائے تو کبھی بھی اس میں خیانت نہ کریں گے۔ مگر کچھ بدنیت اور بےایمان لوگ بھی ہیں کہ اگر ایک معمولی رقم بھی انکے پاس رکھ دیں تو خیانت کرنے سے باز نہ آئیں اور وجہ یہ بتاتے ہیں کہ غیر یہودی کا مال کھا نابالکل جائز ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس قسم کی کوئی اجازت نہیں دے رکھی بلکہ عہد کی خلاف ورزی کرنے پر اللہ تعالیٰ نے بڑے سخت قانون بنا رکھے ہیں۔
-1 حدیث میں آتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : جس آدمی نے جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا حق دبایا تو اس نے اپنے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–80
آیات 72- 80
اسرارومعارف
وقال طائفۃ من اھل الکتاب………… واللہ ذوالفضل العظیم۔
یہودکی سازش خلافت راشدہ سے لے کر کربلا تک :
چنانچہ یہود نے مسلمانوں کو راہ حق سے بہکانے کی ایک تجویز سوچی اور وہ یہ کہ اسلام قبول کرلو ، مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوجائو اور پھر کوئی نہ کوئی اعتراض کرکے مسلمان ہونے سے انکار کردو اس طرح ممکن ہے مسلمانوں کے ذہنوں میں بھی شک پیدا ہوجائے اور وہ اسلام سے کفر کی طرف لوٹ جائیں۔
یہودکی یہی کوشش بالآخر عبداللہ ابن سبا کی صورت میں تاریخ عالم پہ ابھری اور شہادت عثمان غنی ؓ سے لے کر ہزاروں مسلمانوں کو خاک وخون میں ملا گئی آخر حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی اسی کا شکار بنے اور سانحہ کربلا…
Read the full tafseer →ف 3 عبد اللہ بن ابی اوفیٰ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بازار میں سامان لگا یا اور جھوٹی قسمیں کھا کر بیجنے لگا تاکہ کوئی مسلمان خریدے اور اسے دھوکادے سکے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی جو لوگ بد عہدی خیانت اور جھوٹی قسمیں کھا کر لوگوں کا مال کھاتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوں گے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے مسلمانوں کا مال ہضم کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھائی قیامت دن وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال سے ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر سخت ناراض ہوں گے اور ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن تین شخصوں سے اللہ تعالیٰ کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
(3:76) بلی۔ حرف ۔ ہاں۔ الف اس میں اصلی ہے بعض کہتے ہیں کہ زائد ہے۔ اصل میں بل تھا۔ بلی کا استعمال دو جگہ پر ہوتا ہے :
(1) نفی ما قبل کی تردید کے لئے جیسے زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی وربی لتبعثن (64:7) کافروں کو خیال ہے کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے تو کہہ دے کیوں نہیں قسم ہے میرے رب کی تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا۔
(2) یہ کہ اس استفہام کے جواب میں آئے جو نفی پر واقع ہے۔ خواہ استفہام حقیقی ہو جیسے الیس زید بقائم کیا زید کھڑا نہیں۔ جواب میں کہا جائیگا بلی۔ ہاں یعنی کھڑا ہے۔ یا استفہام تو بیخی ہو جیسے ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ ۔ بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ (75:403) کیا انسان گمان کرتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 78
ان تامنه (اگر تو اس کے پاس امانت رکھوائے) یؤدہٖ (وہ اس کا ادا کرے گا) سبیل (راستہ) اوفیٰ (اس نے پورا کیا) یشترون (بیچ دیتے ہیں) ایمان (قسمیں) لاخلاق (حصہ نہیں ہے) یلون (مروڑتے ہیں) السنتھم (اپنی زبانون کو (لسان، زبان) لتحسبوہ (تاکہ تم اس کو سمجھو (ل، تاکہ، تحسبوا، تم سمجھو، ہ، اس کو) ۔
تشریح : آیت نمبر 75 تا 78
یہودیوں کو اپنے بارے میں یہ خوش فہمی تھی کہ ہم اہل علم وفضل ہیں اور ساری دنیا جاہل ہے ان کا خیال تھا کہ اگر قریش یا دوسرے غیر اہل کتاب کے مال میں خیانت کرلی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور کہتے تھے کہ ہمیں اس کی اجازت اللہ نے دے رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →جھوٹی قسم کھانے کا وبال
شان نزول : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا کی تھوڑی سی طمع کے لئے جو کوئی بھی جھوٹی قسم کھائے گا وہ عقبیٰ میں جنت کی بڑی بڑی نعمتوں سے محروم رہے گا، اور اللہ تعالیٰ کا اس پر ایسا غضب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے اس کی طرف نہ دیکھے گا، اور نہ اس سے بات کرے اور نہ اس کے گناہ درگزر فرمائے گا۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ٹخنہ سے نیچے پائجامہ رکھنے والا، جھوٹی قسم کھانے والا، صدقہ دے کر احسان جتانے والا۔ ان تینوں شخصوں پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا ایسا غصہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نہ ان سے بات کرے گا اور نہ ان کے گناہوں سے درگزر کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–80
[30] یعنی غیر یہودی لوگ۔ یہودی اپنے سوا سب کو اُ مّی کہتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
(ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ حق فروشی چاہے کسی قیمت پر ہو ‘ اس کی حیثیت ثمن قلیل سے زائد نہیں ، سچائی اور صداقت کی محبت بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ اسے مانا جائے اور اس کی تائید کی جائے ، وہ لوگ جو دنیوی مفاد کے لئے آخرت کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور دین مستقیم کی صداقتوں پر کان نہیں دھرتے ان کا عالم جو دانی میں کوئی حصہ نہیں ، جس طرح انہوں نے اللہ کی آواز سنی اور پکارنے والے کی آواز پر توجہ نہ دی ‘ خدا بھی اس دن ان سے کوئی رعایت و محبت کی گفتگو نہیں کرے گا اور انہیں ہر نوع کے مکالمہ شفقت سے محروم رکھے گا ، جس طرح انہوں نے آنکھیں رکھتے ہوئے خدا کے پھیلائے ہوئے دلائل و شواہد کو نہ دیکھا اور اندھے…
Read the full tafseer →ف 2۔ یقینا جو لوگ عہد خداوندی اور نیز اپنی قسموں کو معمولی قیمت کے عوض فروخت کر ڈالتے ہیں اور جو عہد انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اس کے مقابلے میں حقیر معاوضہ لے لیتے ہیں اور اسی طرح جو قسمیں وہ کسی معاملے پر کھاتے ہیں ان قسموں کے مقابلے میں بھی حقیر معاوضہ لے لیتے ہیں تو ایسے لوگوں کو آخری میں کوئی حصہ نہ ملے گا اور یہ آخرت کی نعمتوں سے بالکل محروم رہیں گے اور نہ خدا تعالیٰ قیامت کے روز ان سے مہربانی کے ساتھ کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف رحمت و محبت سے دیکھے گا اور نہ ان کو گناہوں کی آلائش سے پاک کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔ ( تیسیر)
عہد خداوندی سے ہر قسم کے احکام مراد ہیں کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
ف 1۔ ممکن ہے کہ تحریف لفظی کرتے ہوں اور ممکن ہے کہ تفسیر غلط بیان کرتے ہوں تحریف لفظی میں تو دعوی ہوتا ہے کہ یہ لفظ منزّل من اللہ ہے اور غلط تفسیر میں یہ تو نہیں ہوتا لیکن یہ دعوی ہوتا ہے کہ یہ تفسیر قواعد شرعیہ سے ثابت ہے اور قواعد شرعیہ کا من جانب اللہ ہونا ظاہر ہے ایک صورت میں جزو ہونے کا دعوی ہوگا ایک صورت میں معنی جزو کتاب ہونے کا دعوی ہوگا بایں معنی کہ جزو ثابت بالشرع ہے اور ہر ثابت بالشرع حقیقتا ثابت بالکتاب ہے۔
Read the full tafseer →اللہ کے عہد توڑنے والوں اور جھوٹی قسمیں کھانے والوں کا حال :
158: عہد اس قول کا نام ہے جو فریقین کے درمیان باہمی بات چیت سے طے ہوتا ہے جس پر جانبین کو قائم رہنا ضروری ہوتا ہے بخلاف وعدہ کے کہ وہ صرف جانب واحد سے ہوتا ہے یعنی عہد عام ہے اور وعدہ خاص ہے۔ ایفائے عہد کی قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کی سنت میں بہت تاکید آئی ہے چناچہ اس آیت میں بھی عہد کے خلاف ورزی کرنے والے پر پانچ وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔
(1) ان کو جنت کی نعمتوں میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔
(2) اللہ تعالیٰ ان سے خوش کن بات نہیں کرے گا۔
(3) اللہ تعالیٰ ان کی طرف قیامت کے روز رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا۔
(4) اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
Sequence
Earlier, in ; يَقُولُونَ ,(they say - 75), there was a refutation of the claim made, by the people of the Book. Onwards from there, in verses 76-77, the same refutation has been re-asserted and the merit of fulfilling a commitment as well as the condemnation for its breach have been clarified.
Commentary
Ahd عھد (pledge or covenant) is what gets settled between parties concerned after mutual discussions and by which both of them have to abide. Contrary to this is وعدہ wa'dah or promise which issues forth from a single side, that is, عہد ` ahd (pledge or covenant) is bilateral while…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
65. The reason is that, despite their worst crimes, they still thought that on the Day of Judgement they alone would be honoured with God's favour, and that towards them alone He would turn His gracious attention. They also entertained the belief that if they had been stained by any trace of sin, it would be washed away by the grace of their pious elders. Such people are warned here that the treatment meted out to them in the Next Life will be altogether contrary to their expectations.
Read the full tafseer →