Explained with ayahs 75–76
بددیانت یہودی
اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہودیوں کی خیانت پر تنبیہہ کرتا ہے کہ ان کے دھوکے میں نہ آجائیں ان میں بعض تو امانتدار ہیں اور بعض بڑے خائن ہیں بعض تو ایسے ہیں کہ خزانے کا خزانہ ان کی امانت میں ہو تو جوں کا توں حوالے کردیں گے پھر چھوٹی موٹی چیز میں وہ بددیانتی کیسے کریں گے ؟ اور بعض ایسے بددیانت ہیں کہ ایک دینار بھی واپس نہ دیں گے ہاں اگر ان کے سر ہوجاؤ تقاضا برابر جاری رکھو اور حق طلب کرتے رہو تو شاید امانت نکل بھی آئے ورنہ ہضم بھی کر جائیں جب ایک دینار تو مشہور ہی ہے، ابن ابی حاتم میں حضرت مالک بن دینار کا قول مروی ہے کہ دینار کو اس لئے دینار کہتے ہیں کہ وہ دین یعنی ایمان بھی ہے اور نار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
سورة اٰلِ عِمْرٰن 65
سبب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسے ایسے سخت اخلاقی جرائم کرنے کے بعد بھی اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے روز بس یہی اللہ کے مقرب بندے ہوں گے، انہی کی طرف نظر عنایت ہوگی، اور جو تھوڑا بہت گناہوں کا میل دنیا میں ان کو لگ گیا ہے وہ بھی بزرگوں کے صدقے میں ان پر سے دھو ڈالا جائے گا، حالانکہ دراصل وہاں ان کے ساتھ بالکل برعکس معاملہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
ربط آیات
اوپر ویقولون سے اہل کتاب کے دعوی کی تکذیب مذکور تھی، آگے ان آیات سے اسی تکذیب کی تاکید اور ایفاء عہد کی فضیلت اور نقض عہد کی مذمت کی تصریح ہے۔
خلاصہ تفسیر
(خائن پر) الزام کیوں نہ ہوگا (ضرور ہوگا، کیونکہ اس کے متعلق ہمارے یہ دو قانون ہیں، (ایک یہ کہ) جو شخص اپنے عہد کو (خواہ وہ عہد اللہ تعالیٰ سے ہوا ہو، یا بشرط جواز کسی مخلوق سے) پورا کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرے تو بیشک اللہ تعالیٰ محبوب رکھتے ہیں (ایسے) متقیوں کو (اور دوسرا قانون یہ ہے کہ) یقینا جو لوگ معاوضہ (یعنی نفع دنیوی) لے لیتے ہیں بمقابلہ اس عہد کے جو (انہوں نے) اللہ تعالیٰ سے کیا ہے (مثلا انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان لانا)…
Read the full tafseer →اس آیت میں اور اس اسلوب پر جتنی بھی آیات ہیں سب میں جواب شرط محذوف ہوتا ہے۔ اس کی بعض مثالیں سورة بقرہ میں ہم پیش کرچکے ہیں۔ یہاں اگر جواب شرط کو واضح کیا جائے تو پوری بات یوں ہوگی کہ ہاں جو لوگ اللہ کے عہد کو پورا کریں اور حدود الٰہی کی حفاظت کریں تو وہ لوگ متقی ہیں اور اللہ متقین ہی کو دوست رکھتا ہے۔
اوپر والی باتوں پر استدراک : یہ آیت یہود کی اوپر والی باتوں پر استدراک کی حیثیت رکھتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہود کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ ان کے لیے خدا کے ہاں کوئی خاص مرتبہ و مقام ہے جس کے سبب سے وہ دوسروں سے بالاتر اور امیوں کے معاملے میں ذمہ داریوں سے بری ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اللہ کے ہاں جو مرتبہ…
Read the full tafseer →76۔ 1 قرار پورا کرے کا مطلب وہ عہد پورا کرے جو اہل کتاب سے یا ہر نبی کے واسطے سے ان کی امتوں سے نبی ﷺ پر ایمان لانے کی بابت لیا گیا ہے اور پرہیزگاری کرے یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم سے بچے اور ان باتوں پر عمل کرے جو نبی ﷺ نے بیان فرمائیں۔ ایسے لوگ یقینا مواخذہ الٰہی سے نہ صرف محفوظ رہیں گے بلکہ محبوب باری تعالیٰ ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
29: یہ عیسائیوں کی تردید ہورہی ہے جو حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا یا خدا کا بیٹا مان کر گویا یہ دعویٰ کرتے تھے کہ خود حضرت عیسیٰ ؑ نے ہی ان کو اپنی عبادت کا حکم دیا ہے۔ یہی حال ان بعض یہودی فرقوں کا تھا جو حضرت عزیر ؑ کو خدا کا بیٹا مانتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
اس مقام پر قرآن کریم انسانوں کے لئے اپنا واحد اخلاقی اصول طے کردیتا ہے ۔ یہ اس کا واحد اخلاقی معیار ہے ۔ اور وہ اپنے اخلاقی نقطہ نظر کو خدا اور خدا خوفی کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔
غرض یہ ایک اخلاقی اصول ہے ‘ جس نے اس کا لحاظ رکھا ‘ اللہ کے عہد کا پاس کرتے ہوئے اللہ خوفی کا شعور رکھتے ہوئے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ محبت رکھے گا ‘ اسے اعزاز اور اکرام نصیب ہوگا۔ اور جس نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے ‘ اس عہد کو دنیا کے ثمن قلیل کی وجہ سے توڑا ‘ چاہے اسے یہ پوری دنیا کیوں نہ مل رہی ہو ‘ تو اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا ‘ اس لئے کہ یہ پوری دنیا بھی آخرت کے مقابلے میں متاع قلیل ہے ۔ اللہ کے ہاں ایسا شخص…
Read the full tafseer →1 یعنی خیانت و بدعہدی میں گناہ کیوں نہیں، جبکہ خدا تعالیٰ کا عام قانون یہ ہے کہ جو کوئی خدا کے اور بندوں کے جائز عہد پورے کرے اور خدا سے ڈر کر تقویٰ کی راہ چلے یعنی فاسد خیالات مذموم اعمال اور پست اخلاق سے پرہیز کرے، اسی سے خدا محبت کرتا ہے۔ اس میں امانتداری کی خصلت بھی آگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
فرمایا :
آیت 75 وَمِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْہُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّہٖٓ اِلَیْکَ ج یعنی ان میں امانت دار لوگ بھی موجود ہیں۔
وَمِنْہُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْہُ بِدِیْنَارٍ لاَّ یُؤَدِّہٖٓ اِلَیْکَ اِلاَّ مَا دُمْتَ عَلَیْہِ قَآءِمًا ط
اگر تم اس کے سر پر سوار ہوجاؤ اور اس کو ادائیگی پر مجبور کر دو تب تو تمہاری امانت واپس کر دے گا ‘ ورنہ نہیں دے گا۔ ان میں سے اکثر کا کردار تو یہی ہے ‘ لیکن اہل کتاب میں سے جو تھوڑے بہت دیانت دار تھے ان کی اچھائی کا ذکر بھی کردیا گیا۔ بالفعل اس قسم کے کردار کے حامل لوگ عیسائیوں میں تو موجود تھے ‘ یہودیوں میں نہ ہونے کے برابر تھے ‘ لیکن اہل کتاب کے عنوان…
Read the full tafseer →66۔ ا یہود کی باطنی خباثتوں کے ذکر کے درمیان ان کی بددیانتی کا ذکر اس نسبت سے آیا ہے کہ ان دونوں کا منبع ایک ہے اور وہ ہے تقویٰ کا فقدان۔ یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ایسے بےباک اور نڈر ہوگئے تھے کہ نہ وہ اللہ کے احکام بیان کرنے میں دیانت سے کام لیتے ہیں اور نہ ہی دوسرے لوگوں سے معاملات میں وہ دیانت کو ملحوظ رکھتے تھے۔ ان کے ذہن میں بس ایک ہی سودا سمایا ہوا تھا کہ وہ چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں لہذا جو کچھ بھی وہ کرلیں۔ دوزخ کی آگ ان پر حرام کردی گئی ہے۔ اسی زعم باطل کی بنا پر وہ غیر اسرائیلیوں کے اموال کو ہر جائز و ناجائز طریقے سے ہڑپ کر جانے کو کچھ جرم نہیں سمجھتے تھے اور ان میں چند ایک جو فی…
Read the full tafseer →173 ۔ (اور یہی خوف خدا اور تقوی ہی ساری خوش معاملگی کی بنیاد ہے) (آیت) ” بلی “۔ یعنی ذمہ داری کیوں نہ ہوتی ہے۔ اور ضرور۔ (آیت) ” عھدہ “۔ عہد خالق کے ساتھ ہو یا مخلوق کے اس کی پابندی بہرحال لازمی ہے۔ امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ آیت سے وفاء عہد کی بڑی تعظیم نکل رہی ہے۔ اس لیے کہ تمام طاعات کا خلاصہ صرف دو ہی چیزیں ہیں۔ ایک احکام الہی کی تعظیم۔ دوسری خلق اللہ پر شفقت اور وفاء عہد ان دونوں قسموں کی طاعتوں کا مجموعہ ہے (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللہِ وَاَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلاً ۔ زاہدی کے حوالہ سے صاحب خلاصۃ التفاسیر نے لکھا ہے کہ ایک بار مدینہ میں قحظ پڑا بعض یہود مسلمان ہوگئے تھے وہ کعب بن اشرف کے پاس گئے جو کہ یہود کا سردار تھا، اور مدد کی درخواست کی کعب بن اشرف نے کہا اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے، انہوں نے جواب دیا اللہ کا نبی اور اس کا بندہ ہے، کعب نے کہا تم مجھ سے کچھ نہیں پاسکتے، نو مسلم یہود بولے ہم نے یہ بات یوں ہی کہہ دی تھی مہلت دیجئے کہ سوچ سمجھ کر جواب دیں۔ پھر تھوڑی دیر بعد آئے اور کہنے لگے یہ خاتم الانبیاء نہیں ہیں تو اس نے ان کو قسم دلائی وہ قسم…
Read the full tafseer →بَلٰي : یعنی جس طرح یہودی کہتے ہیں ایسا نہیں ہے بلکہ مؤمنین کے معاملہ میں بھی ان کی گرفت ہوگی یہ مطلب ہے کہ (کافروں کے) مال کے بچاؤ کی صرف دو صورتیں ہیں مسلمان ہوجانا یا مسلمانوں کا ذمی بن جانا (یعنی یہودی الٹا سمجھے ہیں کہ مسلمان کے مال کو اپنے لیے مباح جانتے ہیں حقیقت اس کے برعکس ہے ان کا مال مسلمانوں کے لیے مباح ہے ہر طرح سے لینا جائز ہے۔ بچاؤ کی صرف دو صورتیں ہیں مسلمان ہوجانا یا جزیہ دینا) حضرت ابو موسیٰ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : مجھیلوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے کہ وہ لا الٰہ الّا اللہ اور محمّد رسول اللہ کا اقرار کرلیں اور ٹھیک ٹھیک نماز پڑھیں اور زکوٰۃ ادا کریں اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
(75۔ 76) اب اہل کتاب کی امانت اور خیانت کو اللہ تعالیٰ واضح فرماتے ہیں، یہود میں سے حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ایسے ہیں کہ اگر سونے کی تھیلیاں اور انبار ان کے پاس بطور امانت رکھ دو تو وہ مانگتے ہی اسی طرح تمہیں لوٹا دیں اور ان میں ہی میں سے کوئی فرد ایسا بھی ہے کہ اگر ایک دینار بھی تم اس کو دو گے تو وہ بھی واپس نہیں دے گا مگر یہ کہ تم اس سے مسلسل تقاضہ کرتے رہو، اور یہ مثالی کعب اور اس ساتھیوں کی ہے۔
اور یہ دوسرے کے مالوں کا کھاجانا اور خیانت کرنا اس بنا پر ہے کہ وہ اس بات کے مدعی ہیں کہ اہل کتاب کے علاوہ عربوں کا مال کھا جانے میں کوئی گناہ نہیں اور وہ خود جانتے ہیں کہ وہ اس چیز میں…
Read the full tafseer →”بَلٰي“ (کیوں نہیں) یعنی اس بدعہدی اور خیانت پر ضرور مؤاخذہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ اور محبوب شخص تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندوں سے کیا ہوا عہد پورا کرتا ہے (اس میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا عہد بھی داخل ہے) اور پھر ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اس شریعت کا اتباع کرتا ہے جو آپ ﷺ لے کر مبعوث ہوئے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 76۔
من مبتدا ہونے کے سبب مرفوع ہے اور یہ شرط ہے اور اوفی “ محل جزم میں ہے اور (آیت) ” اتقی “ معطوف علیہ ہے، یعنی اور وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرا وہ جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہی اس نے اس شے کو حلال سمجھا جو اس پر حرام کی گئی، (آیت) ” فان اللہ یحب المتقین “۔ یعنی اللہ ان سے محبت فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے اولیاء سے محبت کا مفہوم پہلے گزر چکا ہے اور قول باری تعالیٰ (آیت) ” بعدہ “ میں ھاء ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے اور اس کا ذکر اس ارشاد میں بھی ہے (آیت) ” ویقولون علی اللہ الکذب وھم یعلمون “۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ وعدہ پورا کرنے والے اور کفر وخیانت اور نقض عہد سے پرہیز کرنے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
جھوٹی قسم کے ذریعہ مال کمانے والے کے لئے عذاب
(1) عبد الرزاق و سعید بن منصور واحمد وعبد بن حمید بخاری مسلم ابو داؤد ترمذی نسائی ابن ماجہ ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ایسی قسم کھائی جس میں وہ جھوٹا ہے تاکہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال مارے تو (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غصہ ہوں گے اشعث بن قیس ؓ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی میں نے زمین واپس کرنے سے انکار کردیا تھا اس کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گیا مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا…
Read the full tafseer →[بَلٰی : کیوں نہیں ] [مَنْ : جس نے ] [اَوْفٰی : پورا کیا ] [بِعَہْدِہٖ : اپنے عہد کو ] [وَاتَّقٰی : اور تقویٰ اختیار کیا ] [فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [یُحِبُّ : پسند کرتا ہے ] [الْمُتَّقِیْنَ : تقویٰ کرنے والوں کو ]
Read the full tafseer →مَنْ اَوْفیٰ بِعَھْدِہٖ وَا تَّقٰی کی تفسیر :
آخر میں فرمایا : (بَلٰی مَنْ اَوْفٰی بِعَھْدِہٖ وَ اتَّقٰی فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ ) کہ یہ بات نہیں ہے کہ ان پڑھوں کے مالوں کو حرام طریقے پر رکھ لینے سے ان پر کوئی مواخذہ نہ ہو ان پر مواخذہ ضرور ہے۔
فی الروح لصفحہ 203: ج 3 بلی جواب لقولھم لیس علینا فی الامیین سبیل وایجاب لما نفوہ والمعنی بلی علیھم فی الامیین سبیل اور من او فی بعھد و اتقی۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ یہودی باو جود ایسی حرکتوں کے جو اوپر ذکر ہوئیں اپنے کو اللہ تعالیٰ کا محبوب بھی سمجھتے ہیں۔ اللہ کا محبوب وہ ہے جو اس کے عہد کو پورا کرے (عہد میں یہ بھی شامل ہے کہ نبی آخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–80
قال تعالیٰ ودت طائفۃ من اھل الکتب لو یضلونکم۔۔۔ الی۔۔ ایا مرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل کتاب سے مناظرہ اور مباہلہ کا بیان تھا کہ یہ لوگ نہ تو کسی دلیل کو مانتے ہیں اور نہ مباہلہ پر آمادہ ہوتے ہیں معلوم ہوا کہ حق کی تحقیق مقصود نہیں بلکہ مقصود شرارت اور فتنہ پردازی ہے اس لیے آئندہ آیات میں یہود کی کچھ شرارتوں اور عداوتوں اور دغا بازیوں اور فریب کاریوں کو بیان کرتے ہیں کہ کس کس طرح سے یہ لوگ حق اور باطل کو خلط ملط کرنے میں مکر اور فریب سے کام لیتے ہیں یہ لوگ خوب جانتے ہیں کہ تم حق پر اور سیدھے راستہ پر ہو مگر یہ لوگ تم کو دھوکہ دے کر گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ دور تک یہی…
Read the full tafseer →105 کلمہ بَلیٰ ماقبل کی نفی کے لیے ہے۔ یہودیوں نے کہا تھا کہ امیین کے اموال میں ہم پر کوئی ذمہ داری نہیں تو اس کا رد فرمایا کہ کیوں نہیں۔ ذمہ داری تو ہر شخص پر عائد ہوتی ہے جب کوئی شخص کسی سے کوئی عہد کرتا ہے تو اس کی پابندی اس پر لازم ہے لہذا جو شخص اپنے عہد کی باپندی کرے اور خدا سے ڈرے تو ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ خلاصہ یہ جس طرح تم نے سمجھ رکھا ہے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ اصل حقیقت یوں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی دینی خیانت کا ذکر فرمایا تھا کہ اہل اسلام کو گمراہ کرنے کے لیے کیسی کیسی تدبیریں اختیار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ تلبیس کا ذکر تھا۔ کہ یہ لوگ حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کردیتے ہیں اور حق کو چھپا دیتے ہیں۔ یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اہل کتاب باطل غرور میں مبتلا تھے۔ باقی لوگوں پر اپنے آپ کو برتر سمجھتے تھے۔ بغض اور حسد میں مبتلا تھے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان کی مالی خیانت کا ذکر کیا ہے کہ وہ دنیا کے مال و دولت کے سلسلے میں کس قدر خائن ہیں۔
مالی خیانت : ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ومن اھل الکتب۔ بعض اہل کتاب ایسے ہیں۔ من ان تامنہ بقنطار۔ اگر آپ…
Read the full tafseer →بَلٰي مَنْ اَوْفٰى بِعَہْدِہٖ وَاتَّقٰى فَاِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ 76
وفی پورا
الوَافِي : الذي بلغ التّمام . يقال : درهم وَافٍ ، وكيل وَافٍ ، وأَوْفَيْتُ الكيلَ والوزنَ. قال تعالی: وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35]
( وی) الوافی
۔ مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں جیسے : درھم واف کیل واف وغیرہ ذالک اوفیت الکیل والوزن میں نے ناپ یا تول کر پورا پورا دیا ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] اور جب کوئی چیز ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا پھرا کرو ۔
عهد
العَهْدُ : حفظ الشیء ومراعاته حالا بعد حال، وسمّي الموثق الذي يلزم مراعاته عَهْداً.
قال :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–81
ترکیب : من ان تامنہ مبتداء امن اھل الکتاب خبر اور شرط اور جواب کا مجموعہ صفت ہے مبتداء کی کیونکہ وہ نکرہ ہے۔ بقنطار بمعنی فی یا علی ھو الا ماومت موضع نصب میں ہے کیونکہ ظرف ہے الامدۃ قیامک دائما اور حال بھی ہوسکتا ہے۔ سبیل اسم لیس فی الامیین خبر ‘ یلون صفت ہے فریقا کی جو اسم ہے ان کا اور منہم اس کی خبر ہے۔
تفسیر : یہود کی سرزنش کے بعد یہ بتانا کہ سب یکساں نہیں کچھ ان میں ایماندار خدا ترس بھی ہیں ٗ پوری حق گوئی ہے۔ یہ بات کہ انسان کتاب الٰہی اور احکام دینیہ میں خیانت نہ کرے ‘ حق میں باطل نہ ملاوے ‘ کامل ایمانداری اور پوری دیانت پر موقوف ہے اور جس کو دنیاوی باتوں میں دیانت نہیں پھر اس قوم کا دین…
Read the full tafseer →بَلٰی مَنْ اَوْفٰی بِعَہْدِہٖ وَاتَّقٰی فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ ۔
(ہاں ! کیوں نہیں جو لوگ اللہ کے عہد کو پورا کریں گے اور اللہ سے ڈریں گے تو بیشک اللہ اپنے ڈرنے والوں کو دوست رکھتا ہے) (76)
یہ آیت یہود کی مذکورہ بالا باتوں پر استدراک کی حیثیت رکھتی ہے۔ کہنا یہ ہے کہ یہود کی یہ غلط فہمی کہ انھیں اللہ کے یہاں کوئی خاص مرتبہ و مقام حاصل ہے، اس کی وجہ سے وہ دوسروں سے ہر طرح کی بدمعاملگی اور بد عہدی کرنے کا حق رکھتے ہیں اور دوسری قوموں کے مقابلے میں انھیں ہر طرح کی چھٹی دی گئی ہے کہ جو چاہیں سو کریں اللہ تعالیٰ ان سے کوئی مواخذہ نہیں کرے گا، یہ بالکل ایک بےسروپا بات ہے۔ حقیقت یہ ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے عہد لیا ہے کہ موسیٰ کے علاوہ کسی نبی کو تسلیم نہ کریں۔ یہاں اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو تمام انبیاء سے رسول ﷺ پر ایمان لانے کا عہد لیا تھا۔ لہٰذا جو شخص انبیاء کے عہد کی پاسداری کرتے ہوئے نبی آخرالزماں ﷺ پر ایمان لائے اور اللہ کی نافرمانی سے بچے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے۔
انسان کا تعلق کسی مذہب سے ہو وہ فطری اور شرعی طور پر تین باتوں کا مکلّف ہوتا ہے۔ تخلیق آدم کے وقت اللہ تعالیٰ سے ” اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ “ کے جواب میں توحید کا اقرار کرنا، ہر نبی کے عہد اور اعلان کے مطابق نبی آخر الزمان ﷺ پر…
Read the full tafseer →دعویٔ بےگناہی کی تردید :
76: بَلٰی مَنْ اَوْفٰی بِعَھْدِہٖ وَاتَّقٰی فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ ۔ بَلٰی (کیوں نہیں) ان پڑھوں کا مال کھانے میں بےگناہی کے دعویٰ کی تردید ہے۔ کہ ان پر ضرور گناہ ہوگا۔ مَنْ اَوْفٰی بِعَھْدِہٖ وَاتَّقٰی جو شخص اپنے عہد کو پورا کرے اور اللہ سے ڈرے یہ جملہ مستانفہ ہے یہ اس جملہ کیلئے دوبارہ لایا گیا۔ جس کے قائم مقام بَلٰیہے۔ بِعَھْدِہٖ کی ضمیر ہٖ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے۔ یعنی ہر وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو پورا کیا اور اس سے ڈرا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ ۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کو متقی لوگ پسند ہیں۔
نکتہ : یہاں ضمیر ھم کی بجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
(تفسیر) 76۔ :
” بلی “ یہ اس طرح نہیں جس طرح تم کہتے ہو بلکہ اس کے علاوہ تمہارے لیے راستہ ہے پھر اس کلام سے ابتدا کی (آیت)” من اوفی “ لیکن کون شخص ہے جو ایفاء وعدہ کرے ” بعھدہ “ اللہ کے ساتھ وہ وعدہ جو تورات میں موجود ہے کہ ہم محمد ﷺ اور قرآن کریم۔ پر ایمان لائیں گے اور امانت ادا کریں گے بعض نے کہا کہ ” بعھدہ “ میں ہ ضمیر ” اوفی “ کی طرف راجع ہے ” واتقی “ اور بچو کفر سے خیانت سے اور نقض عہد سے (آیت)” فان اللہ یحب المتقین “۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار چیزیں ہیں جو پائی جائیں جس میں وہ خالص منافق ہوگا اور جب تک اس کے اندر ان خصلتوں میں سے کوئی ایک خصلت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
(76 ۔ 76) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے اس فرقہ کا ذکر فرمایا تھا۔ جس میں سر تا پاؤں برائی ہی برائی تھی۔ بھلائی کچھ بھی نہ تھی اور حقیقت میں بعض ان میں سوا اس برے فرقے کے بھلے بھی تھے اس لئے یہ آیت نازل فرما کر بروں کے ساتھ اچھوں کا ذکر بھی فرمادیا تاکہ مسلمانوں میں اچھوں کی عزت بڑھے اور برے بھی ان اچھوں کی عادت سیکھیں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن سلام ؓ جو پہلے یہودی تھے اور پھر مسلمان ہوگئے ان کے پاس کسی نے کئی سو تو لے سونا امانت رکھوا دیا اور انہوں نے وقت پر ادا کردیا۔ اور ایک یہودی اور تھا کہ ایک شخص کی ایک اشرفی امانت لے کر مکر گیا 1۔ صحیحین میں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
اللہ تعالیٰ اہل کتاب کے بارے میں بیان فرما رہا ہے کہ مالوں میں ان کی دیانت اور بددیانتی کا کیا حال ہے۔ جب دین کے بارے میں ان کی خیانت، مکر اور حق کو چھپانے کا ذکر فرمایا تو اس کے بعد بتایا کہ ان میں سے خائن بھی ہیں اور دیانت دار بھی۔ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ ترجمہ، تو اگر انہیں خزانے کا (یعنی بہت زیادہ مال کا) امین بنا دے “ (یودہ) ” تو بھی وہ واپس کردیں “ اور اس سے کم تر تو بالا ولی واپس کریں گے اور ان میں سے بعض ایسے ؓ ھی ہیں کہ ترجمہ، اگر تو انہیں ایک دینار بھی امانت دے تو تجھے ادا نہ کریں “ اور بڑی رقم ادا کرنے سے تو بالاولی انکار کریں گے۔ انہیں خیانت اور بےوفائی کی عادت اس لئے ہوئی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
قسم کھانے کی اہمیت و کیفیت
قول باری ہے (ان الذین یشترون بعھد اللہ وایمانھم ثمنا قلیلا، بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پربیچ ڈالتے ہیں۔ ) اعمش نے سفیان ثوری سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (من حلف علی یمین تقطع بہ مال امری مسلہ وھوفاجرفیھا لقی اللہ وھو علیہ غضبان، جو شخص جھوٹی قسم اٹھاکر کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے گا تو خدا کے حضور جب حاضر ہوگا خدا کو اس پر غصہ آرہا ہوگا) اشعث بن قیس کہتے ہیں۔ یہ آیت میرے متعلق نازل ہوئی ، ہوایہ کہ میرے اور ایک شخص کے درمیان جھگڑا تھا جب حضور ﷺ کے پاس یہ تنازعہ پہنچاتو آپ نے مجھ سے ثبوت طلب کیا میں…
Read the full tafseer →158 تقویٰ و پرہیزگاری ایک عظیم الشان ڈھال : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جس نے تقوی و پرہیزگاری کو اپنایا اور اختیار کیا اور ڈرتا اور بچتا رہا اپنے خالق ومالک کی ناراضگی اور اس کی گرفت و پکڑ سے وہ کامیاب ہوگیا۔ اور اسی تقوی اور خوف خداوندی کی بناء پر وہ دوسروں کے حق مار کھانے سے بھی ڈرتا اور بچتا رہا۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری ایک ایسی عظیم الشان ڈھال ہے جو انسان کو ہر برائی اور برے نتیجہ وانجام سے بچاتی ہے۔ سو اس ارشاد ربانی سے ایک طرف تو یہ اصولی اور بنیادی تعلیم دی گئی کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کامیابی اور فوز و فلاح کا مدارو انحصار حسب و نسب اور زبانی کلامی دعو ووں پر نہیں بلکہ عمل و کردار پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
اہل کتاب کی خیانت کا بیان
تشریح : اہل کتاب کے ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ انتہائی امانت دار ہیں کہ اگر انکے پاس ڈھیروں سو نار کھاجائے تو کبھی بھی اس میں خیانت نہ کریں گے۔ مگر کچھ بدنیت اور بےایمان لوگ بھی ہیں کہ اگر ایک معمولی رقم بھی انکے پاس رکھ دیں تو خیانت کرنے سے باز نہ آئیں اور وجہ یہ بتاتے ہیں کہ غیر یہودی کا مال کھا نابالکل جائز ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس قسم کی کوئی اجازت نہیں دے رکھی بلکہ عہد کی خلاف ورزی کرنے پر اللہ تعالیٰ نے بڑے سخت قانون بنا رکھے ہیں۔
-1 حدیث میں آتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : جس آدمی نے جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا حق دبایا تو اس نے اپنے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–80
آیات 72- 80
اسرارومعارف
وقال طائفۃ من اھل الکتاب………… واللہ ذوالفضل العظیم۔
یہودکی سازش خلافت راشدہ سے لے کر کربلا تک :
چنانچہ یہود نے مسلمانوں کو راہ حق سے بہکانے کی ایک تجویز سوچی اور وہ یہ کہ اسلام قبول کرلو ، مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوجائو اور پھر کوئی نہ کوئی اعتراض کرکے مسلمان ہونے سے انکار کردو اس طرح ممکن ہے مسلمانوں کے ذہنوں میں بھی شک پیدا ہوجائے اور وہ اسلام سے کفر کی طرف لوٹ جائیں۔
یہودکی یہی کوشش بالآخر عبداللہ ابن سبا کی صورت میں تاریخ عالم پہ ابھری اور شہادت عثمان غنی ؓ سے لے کر ہزاروں مسلمانوں کو خاک وخون میں ملا گئی آخر حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی اسی کا شکار بنے اور سانحہ کربلا…
Read the full tafseer →ف 2 بلی ٰ کیوں نہیں یعنی اس کی بد عہدی اور خیانت پر ضرور مئو خذہ ہوگا اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ اور محبوب شخص تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندوں سے کیا ہوا عہد پورا کرتا ہے۔ (اس میں آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کا عہد بھی داخل ہے) اور پھر ہو معالہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے او اس شریعت کی اتباع کرتا ہے جو آنحضرت ﷺ لے کر مبعوث ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
(3:76) بلی۔ حرف ۔ ہاں۔ الف اس میں اصلی ہے بعض کہتے ہیں کہ زائد ہے۔ اصل میں بل تھا۔ بلی کا استعمال دو جگہ پر ہوتا ہے :
(1) نفی ما قبل کی تردید کے لئے جیسے زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی وربی لتبعثن (64:7) کافروں کو خیال ہے کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے تو کہہ دے کیوں نہیں قسم ہے میرے رب کی تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا۔
(2) یہ کہ اس استفہام کے جواب میں آئے جو نفی پر واقع ہے۔ خواہ استفہام حقیقی ہو جیسے الیس زید بقائم کیا زید کھڑا نہیں۔ جواب میں کہا جائیگا بلی۔ ہاں یعنی کھڑا ہے۔ یا استفہام تو بیخی ہو جیسے ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ ۔ بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ (75:403) کیا انسان گمان کرتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 78
ان تامنه (اگر تو اس کے پاس امانت رکھوائے) یؤدہٖ (وہ اس کا ادا کرے گا) سبیل (راستہ) اوفیٰ (اس نے پورا کیا) یشترون (بیچ دیتے ہیں) ایمان (قسمیں) لاخلاق (حصہ نہیں ہے) یلون (مروڑتے ہیں) السنتھم (اپنی زبانون کو (لسان، زبان) لتحسبوہ (تاکہ تم اس کو سمجھو (ل، تاکہ، تحسبوا، تم سمجھو، ہ، اس کو) ۔
تشریح : آیت نمبر 75 تا 78
یہودیوں کو اپنے بارے میں یہ خوش فہمی تھی کہ ہم اہل علم وفضل ہیں اور ساری دنیا جاہل ہے ان کا خیال تھا کہ اگر قریش یا دوسرے غیر اہل کتاب کے مال میں خیانت کرلی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور کہتے تھے کہ ہمیں اس کی اجازت اللہ نے دے رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
امانت میں خیانت کا ذکر
شان نزول : یہ آیت اہل کتاب کے حق میں نازل ہوئی اور اس میں ظاہر فرما دیا گیا کہ ان میں دو قسم کے لوگ ہیں بعض تو ایسے ہیں کہ کثیر المال ان کے پاس امانت رکھوا دیوے تو بےکم وکاست وقت پر ادا کردیں، اور بعضے ایسے ہیں کہ تھوڑے پر بھی ان کی نیت بگڑ جاتی ہے، صحیحین میں حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ امانت میں خیانت کرنا، جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، لڑائی کے وقت گالیاں بکنا یہ منافقوں کی علامت ہے۔ اللہ متقیوں کو دوست رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–80
[30] یعنی غیر یہودی لوگ۔ یہودی اپنے سوا سب کو اُ مّی کہتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
(ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ حق فروشی چاہے کسی قیمت پر ہو ‘ اس کی حیثیت ثمن قلیل سے زائد نہیں ، سچائی اور صداقت کی محبت بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ اسے مانا جائے اور اس کی تائید کی جائے ، وہ لوگ جو دنیوی مفاد کے لئے آخرت کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور دین مستقیم کی صداقتوں پر کان نہیں دھرتے ان کا عالم جو دانی میں کوئی حصہ نہیں ، جس طرح انہوں نے اللہ کی آواز سنی اور پکارنے والے کی آواز پر توجہ نہ دی ‘ خدا بھی اس دن ان سے کوئی رعایت و محبت کی گفتگو نہیں کرے گا اور انہیں ہر نوع کے مکالمہ شفقت سے محروم رکھے گا ، جس طرح انہوں نے آنکھیں رکھتے ہوئے خدا کے پھیلائے ہوئے دلائل و شواہد کو نہ دیکھا اور اندھے…
Read the full tafseer →ف 1۔ اور ان اہل کتاب میں سے بعض شخص تو ایسا ہے کہ اگر اے مخاطب تو اس کے پاس ڈھیر کا ڈھیر مال بھی امانت رکھ دے تو جب تو طلب کرے وہ اس مال کو تجھے ادا کر دے اور انہی اہل کتاب میں سے کوئی ایسا بھی ہے کہ اے مخاطب اگر تو اس کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھ دے تو وہ تجھ کو وہ دینار بھی ادا نہ کرے مگر یہ کہ تو ہر وقت اس کے سر پر کھڑا رہے یہ امانت کا ادا نہ کرنا اور ان کا خیانت کرنا اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان پڑھ یعنی غیر اہل کتاب کا حق مار لینے میں ہم پر کوئی الزام اور کوئی مواخذہ نہیں اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ یہ خود اس بات کے غلط ہونے کو جانتے ہیں مواخذہ کیوں نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
ف 1۔ ممکن ہے کہ تحریف لفظی کرتے ہوں اور ممکن ہے کہ تفسیر غلط بیان کرتے ہوں تحریف لفظی میں تو دعوی ہوتا ہے کہ یہ لفظ منزّل من اللہ ہے اور غلط تفسیر میں یہ تو نہیں ہوتا لیکن یہ دعوی ہوتا ہے کہ یہ تفسیر قواعد شرعیہ سے ثابت ہے اور قواعد شرعیہ کا من جانب اللہ ہونا ظاہر ہے ایک صورت میں جزو ہونے کا دعوی ہوگا ایک صورت میں معنی جزو کتاب ہونے کا دعوی ہوگا بایں معنی کہ جزو ثابت بالشرع ہے اور ہر ثابت بالشرع حقیقتا ثابت بالکتاب ہے۔
Read the full tafseer →عہد کرنے والے اور دیانتدار ہی متقی لوگ ہیں :
157: اس آیت میں اسلام کی پوری وسعت بیان فرما دی گئی۔ ذکر تو صرف امانت کا تھا مگر ایک قسم کی ذمہ داری کو اس کے اندر داخل کرنے کے لیے پہلے عہد کے پورا کرنے کی طرف توجہ دلائی اور پھر تقویٰ کی طرف اس کو منتقل کردیا گیا۔ عہد کو تو ہر ایک شخص سمجھتا ہے یعنی کوئی بھی ذمہ داری جو انسان علی الاعلان اپنے اوپر لے لیتا ہے عہد میں داخل ہوجاتی ہے مگر تقویٰ کے اختیار کرنے میں اشارہ زیادہ تر باریک امور کی طرف ہے جس کا تعلق امانت اور دیانت داری سے ہے کیونکہ امانت کی ادائیگی میں ہر قسم کے ان حقوق کی ادائیگی داخل ہے جو انسان کے ذریعہ امانت ہوں خواہ وہ عہد کے اندر آتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
Sequence
Earlier, in ; يَقُولُونَ ,(they say - 75), there was a refutation of the claim made, by the people of the Book. Onwards from there, in verses 76-77, the same refutation has been re-asserted and the merit of fulfilling a commitment as well as the condemnation for its breach have been clarified.
Commentary
Ahd عھد (pledge or covenant) is what gets settled between parties concerned after mutual discussions and by which both of them have to abide. Contrary to this is وعدہ wa'dah or promise which issues forth from a single side, that is, عہد ` ahd (pledge or covenant) is bilateral while…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
65. The reason is that, despite their worst crimes, they still thought that on the Day of Judgement they alone would be honoured with God's favour, and that towards them alone He would turn His gracious attention. They also entertained the belief that if they had been stained by any trace of sin, it would be washed away by the grace of their pious elders. Such people are warned here that the treatment meted out to them in the Next Life will be altogether contrary to their expectations.
Read the full tafseer →