Aal-i-Imraan 3:86

Aal-i-Imraan · from ayah 86

3:86

كَیْفَ یَهْدِی اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ وَشَهِدُوْۤا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّجَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ ؕ— وَاللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۟كَيۡفَ يَهۡدِى اللّٰهُ قَوۡمًا كَفَرُوۡا بَعۡدَ اِيۡمَانِهِمۡ وَشَهِدُوۡۤا اَنَّ الرَّسُوۡلَ حَقٌّ وَّجَآءَهُمُ الۡبَيِّنٰتُ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ

خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے اور (پہلے) اس بات کی گواہی دے چکے کہ یہ پیغمبر برحق ہے اور ان کے پاس دلائل بھی آگئے اور خدا بے انصافوں کو ہدایت نہیں دیتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

How shall Allah guide a people who disbelieved after their belief and had witnessed that the Messenger is true and clear signs had come to them? And Allah does not guide the wrongdoing people.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 9 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:86

کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ اُن لوگوں کو ہدایت بخشے جنہوں نے نعمت ایمان پا لینے کے بعد پھر کفر اختیار کیا حالانکہ وہ خود اس بات پر گواہی دے چکے ہیں کہ یہ رسول حق پر ہے اور ان کے پاس روشن نشانیاں بھی آ چکی ہیں اللہ ظالموں کو تو ہدایت نہیں دیا کرتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے اور (پہلے) اس بات کی گواہی دے چکے کہ یہ پیغمبر برحق ہے اور ان کے پاس دلائل بھی آگئے اور خدا بے انصافوں کو ہدایت نہیں دیتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جو اپنے ایمان ﻻنے اور رسول کی حقانیت کی گواہی دینے اور اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے بعد کافر ہو جائیں، اللہ تعالیٰ ایسے بے انصاف لوگوں کو راه راست پرنہیں ﻻتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ ایسے لوگوں کو کیسے ہدایت دے جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرلیا ؟ حالانکہ وہ گوہی دے چکے تھے کہ یہ رسول سچے ہیں، اور ان کے پاس (اس کے) روشن دلائل بھی آچکے تھے۔ اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیونکر اللہ ایسی قوم کی ہدایت چاہے جو ایمان لاکر کافر ہوگئے اور گواہی دے چکے تھے کہ رسول سچا ہے اور انہیں کھلی نشانیاں آچکی تھیں اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اﷲ ان لوگوں کو کیونکر ہدایت فرمائے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے حالانکہ وہ اس امر کی گواہی دے چکے تھے کہ یہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس واضح نشانیاں بھی آچکی تھیں، اور اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جنھوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا اور (اس کے بعد کہ) انھوں نے شہادت دی کہ یقینا یہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس واضح دلیلیں آچکیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ایسے لوگوں کو اللہ کیونکر ہدایت دے سکتا ہے جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا ؟ حالانکہ وہ خود گواہی دے چکے ہیں کہ یہ رسول حق پر ہے اور ان کے پاس اس بات کے واضح دلائل بھی آچکے ہیں ؟ اور اللہ تعالیٰ ایسے۔ ناانصاف لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ ان لوگوں کو کس طرح بامراد کرے گا جنہوں نے ایمان کے بعد کفر کیا در آنحالیکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ رسول سچے ہیں اور ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں بھی آچکی ہیں اور اللہ ظالموں کو بامراد نہیں کرے گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیسے ہدایت (کے نور) سے نوازے اللہ ایسے لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا اپنے ایمان کے بعد ؟ حالانکہ وہ خود اس بات کی گواہی دے چکے ہیں، کہ یہ رسول قطعی طور پر حق ہے، اور ان لوگوں کے پاس (حق کو واضح کرنے والی کھلی اور) روشن نشانیاں بھی آچکیں، اور اللہ ہدایت (کی دولت) سے نہیں نوازتا ظالم لوگوں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ کیسے ایسے لوگوں کو ہدایت دے گا جنہوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر (اختیار) کرلیا اور (بعد اس کے کہ) شہادت دے چکے تھے کہ رسول برحق ہیں اور (بعد اس کے کہ) ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں آچکی تھیں اور اللہ (ایسے) ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیسے ہدایت دے گا اللہ ان لوگوں کو جو ایمان کے بعد کافر ہوگئے ؟ اور انہوں نے گواہی دی کہ یہ رسول حق ہیں اور ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں بھی آچکی ہیں اور اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ ان لوگوں کو ہدایت بخشے جنہوں نے نعمت ایمان پالینے کے بعد پھر کفر اختیار کیا۔ حالانکہ وہ خود اس بات پر گواہی دے چکے ہیں کہ یہ رسول حق پر ہے اور ان کے پاس روشن نشانیاں بھی آچکی ہیں اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

How can Allah guide people who once believed, after they received clear signs and affirmed that the Messenger was a true one, lapsed into disbelief. Allah does not guide the wrong-doers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

How shall Allah give guidance to a people who disbelieved after they had accepted Faith and testified that the Prophet is true and the clear signs had come to them? Allah does not give guidance to the unjust people.

— Muhammad Taqi Usmani

How shall Allah give guidance to a people who disbelieved after they had accepted Faith and testified that the Prophet is true and the clear signs had come to them? Allah does not give guidance to the unjust people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

How shall Allah guide a people who disbelieved after their belief and after they bore witness that the Messenger is true and after clear proofs came to them And Allah guides not the people who are wrongdoers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

How shall Allah guide a people who disbelieved after their belief and (after) they bore witness that the messenger is true and after clear proofs (of Allah's Sovereignty) had come unto them. And Allah guideth not wrongdoing folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

How shall Allah guide a people who disbelieved after their belief and had witnessed that the Messenger is true and clear signs had come to them? And Allah does not guide the wrongdoing people.

— Saheeh International

Why would God guide a people who disbelieves after having had faith, who have found the Messenger to be truthful, and who have received authoritative evidence? God does not guide the unjust.

— Muhammad Sarwar

How shall Allah guide a people who disbelieved after their believing and (after) they had borne witness that the Apostle was true and clear arguments had come to them; and Allah does not guide the unjust people.

— Muhammad Habib Shakir

How shall Allah guide a people who disbelieved after their belief and after they bore witness that the apostle was true and after evidences had come unto them! And Allah guideth not a wrong-doing people.

— Abdul Majid Daryabadi

How shall Allah Guide those who reject Faith after they accepted it and bore witness that the Messenger was true and that Clear Signs had come unto them? but Allah guides not a people unjust.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:86

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 86–89

توبہ اور قبولیت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ایک انصار مرتد ہو کر مشرکین میں جا ملا پھر پچھتانے لگا اور اپنی قوم سے کہلوایا کہ رسول اللہ صلعم سے دریافت کرو کہ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ ان کے دریافت کرنے پر یہ آیتیں اتریں اس کی قوم نے اسے کہلوا بھیجا وہ پھر توبہ کر کے نئے سرے سے مسلمان ہو کر حاضر ہوگیا (ابن جریر) نسائی حاکم اور ابن حبان میں بھی یہ روایت موجود ہے امام حاکم اسے صحیح الاسناد کہتے ہیں، مسند عبدالرزاق میں ہے کہ حارث بن سوید نے اسلام قبول کیا پھر قوم میں مل گیا اور اسلام سے پھر گیا اس کے بارے میں یہ آیتیں اتریں اس کی قوم کے ایک شخص نے یہ آیتیں اسے پڑھ کر سنائیں تو اس نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 85–86

سورة اٰلِ عِمْرٰن 73 یہاں پھر اسی بات کا اعادہ کیا گیا ہے جو اس سے قبل بارہا بیان کی جا چکی ہے کہ نبی محمد ﷺ کے عہد میں عرب کے یہودی علماء جان چکے تھے اور ان کی زبانوں تک سے اس امر کی شہادت ادا ہوچکی تھی کہ آپ نبی برحق ہیں اور جو تعلیم آپ لائے ہیں وہ وہی تعلیم ہے جو پچھلے انبیاء لا تے رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا وہ محض تعصب، ضد اور دشمنی حق کی اس پرانی عادت کا نتیجہ تھا جس کے وہ صدیوں سے مجرم چلے آرہے تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 86–91

خلاصہ تفسیر (اول ان مرتدین کا بیان ہے جو کفر پر قائم رہ کر اس کو ہدایت سمجھتے رہے، چونکہ ان کا اعتقاد یا دعوی یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اب ہدایت فرمائی، لہذا ان کی مذمت میں اس کی نفی بھی فرماتے ہیں کہ بھلا) اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو کیسے ہدایت کریں گے جو کافر ہوگئے بعد ایمان لانے کے (دل سے) اور بعد اپنے اس اقرار کے (زبان سے) کہ رسول ﷺ دعوی رسالت میں) سچے ہیں، اور بعد اس کے کہ ان کو واضح دلیل (حقانیت اسلام کے) پہنچ چکے تھے، اور اللہ تعالیٰ ایسے بےڈھنگے لوگوں کو ہدایت نہیں کیا کرتے (یہ مطلب نہیں کہ ایسوں کو کبھی توفیق اسلام کی نہیں دیتے، بلکہ مقصود ان کے اسی دعوی مذکورہ بالا کی نفی کرنا ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 86–89

تفسیر آیت 86 تا 89: لفظ ”ہدایت“ کا خاص مفہوم : لفظ ’ ہدایت ‘ پر ہم بقرہ میں بحث کرچکے ہیں کہ اس کے تین مرحلے ہیں۔ آخری مرحلہ اس کا ہدایت آخرت کا ہے۔ اس مرحلہ میں غایت و مقصود کی طرف ہدایت ہوتی ہے اور بندہ اپنی مساعی کے ثمرہ سے بہرہ مند اور اپنی جدو جہد زندگی کے حاصل سے با مراد ہوتا ہے۔ ہدایت کا لفظ اس معنی میں بھی قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ مجھے بار بار خیال ہوتا ہے کہ ’ یہدی ‘ اس آیت میں اسی معنی میں ہے۔ استاذ مرحوم اس سے ہدایت کا عام مفہوم ہی مراد لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہاں بنی اسرائیل کے لیے جس ہدایت کی نفی ہے وہ من حیث القوم ہے، من حیث الافراد نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو قوم ایسے شدید…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 85–89

89۔ 1 انصار میں سے ایک مسلمان مرتد ہوگیا اور مشرکوں سے جا ملا لیکن جلدی ہی اسے ندامت ہوئی اور اس نے لوگوں کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ تک پیغام بھجوایا کہ میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئیں ان آیات سے معلوم ہوا کہ مرتد کی سزا اگرچہ بہت سخت ہے کیونکہ اس نے حق پہچاننے کے بعد بغض اور عناد اور سرکشی سے حق سے انکار کیا تاہم اگر کوئی خلوص دل سے توبہ اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے اس کی توبہ قابل قبول ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 84–90

31: یعنی جب تک وہ کفر سے توبہ کر کے ایمان نہیں لائیں گے، دوسرے گناہوں سے ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 86–88

یہ خوفناک دہمکی دیکھ کر ‘ ہر وہ دل جس میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ کانپ اٹھتا ہے اور جن کے دل میں دنیا وآخرت دونوں کے بارے میں ذمہ داری کا احساس ہو اور یہی مناسب سزا ہے اس شخص کی جسے نجات کا خوبصورت موقعہ ملے اور وہ اس سے فائدہ نہ اٹھائے بلکہ اس سے اعراض برتے ۔ لیکن اس کفر واعراض کے باوجود اسلام تو بہ کے دروازے کھلے رکھتا ہے ۔ اسلام کسی گمراہ کے لئے واپسی کے دروازے بند نہیں کرتا ‘ لیکن اسے ہدایت کی طرف آنے پر مجبور بھی کر تاکہ وہ دروازہ ہدایت پر خود دستک دے ۔ بلکہ اسلام اس کے قریب ہوتا ہے اور اس کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہونے دیتا ۔ اور یہاں تک کہ وہ اس پرامن محفوظ مقام تک آجائے اور عمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 جن لوگوں نے وضوح حق کے بعد جان بوجھ کر کفر اختیار کیا۔ یعنی دل میں یقین رکھتے ہیں اور آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں بلکہ اپنی خاص مجلسوں میں اقرار کرتے ہیں کہ یہ رسول سچّا ہے۔ اسکی حقانیت و صداقت کے روشن دلائل، کھلے نشانات اور صاف بشارات انکو پہنچ چکی ہیں۔ اس پر بھی کبر وحسد اور حب جاہ و مال، اسلام قبول کرنے اور کفر وعدوان کے چھوڑنے سے مانع ہے جیسا کہ عموماً یہود و نصاریٰ کا حال تھا، ایسے ہٹ دھرم، ضدی معاندین کی نسبت کیونکر توقع کی جاسکتی ہے کہ باوجود اس طرح کا رویہ قائم رکھنے کے خدا تعالیٰ انکو نجات و فلاح اور اپنی خوشنودی کے راستہ پر لے جائے گا یا جنت تک پہنچنے کی راہ دے گا۔ اسکی عادت نہیں کہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 86–87

آیت 86 کَیْفَ یَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ یعنی ان کے دل ایمان لے آئے تھے ‘ ان پر حقیقت منکشف ہوگئی تھی ‘ لیکن دنیوی مصلحتیں آڑے آگئیں اور زبان سے انکار کردیا۔ جیسے سورة النمل میں ہم پڑھیں گے : وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ط آیت 14 انہوں نے ظلم اور تکبر کے مارے ان معجزات کا انکار کیا حالانکہ ان کے دل ان کے قائل ہوچکے تھے۔ وَشَہِدُوْآ اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ اہل کتاب جب آپس میں باتیں کرتے تھے تو کہتے تھے کہ یہ واقعتا نبی آخر الزمان ہیں جو ہماری کتابوں میں بیان کردہ پیشینگوئیوں کا مصداق ہیں۔ چناچہ روایات میں آتا ہے کہ علقمہ کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

75۔ 1 اہل کتاب کا اندھاتعصب :۔ اس آیت کے مخاطب ہٹ دھرم اور متعصب قسم کے اہل کتاب ہیں۔ خواہ وہ یہودی ہوں یا نصاریٰ ، یہ دونوں فریق آنے والے نبی کے منتظر تھے۔ کیونکہ نبی آخرالزمان کی بشارت تورات میں بھی موجود تھی اور انجیل میں بھی۔ لیکن جب وہ رسول مبعوث ہوگیا تو ان لوگوں نے اس پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ وجہ یہ تھی کہ یہود یہ سمجھتے تھے کہ وہ ہمارے مذہب کی تائید کرے گا۔ اور عیسائی یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ وہ یہود کے مقابلہ میں ان کا ساتھ دے گا۔ لیکن جب ان کی یہ تمنا بر نہ آئی تو انہوں نے انکار کردیا۔ پھر انہی یہود و نصاریٰ میں کچھ ایسے لوگ بھی اٹھ کھڑے ہوئے جنہوں نے برملا شہادت دی کہ یہ وہی رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

191 ۔ (آیت) ” القوم الظلمین “ یعنی ایسے بےانصافوں کو جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں۔ اتنے دلیر ہیں۔ (آیت) ” کفروا بعدایمانہم “۔ یعنی دین حق سے مرتد ہوگئے۔ (آیت) ” البینت “۔ کھلی ہوئی نشانیاں، رسول اسلام اوردین اسلام کی صداقت کی، دلائل، معجزات، سب ان بینات کے تحت میں داخل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 83–86

کَیْفَ یَھْدِی اللہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانَھِمْ وَشَھِدُوْآ اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌ (الآیۃ) یہاں پھر اسی بات کا اعادہ کیا جا رہا ہے جو اس سے پہلے بارہا بیان کی جا چکی ہے کہ نبی ﷺ کے عہد میں عرب کے یہودی علماء جان چکے تھے اور ان کی زبانوں تک سے اس امر کی شہادت ادا ہوچکی تھی کہ آپ ﷺ نبی برحق ہیں اور جو تعلیم آپ لائے ہیں وہ وہی تعلیم ہے جو پچھلے انبیاء لاتے رہے ہیں اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا وہ محض تعصب، ضد اور دشمنی، اس پرانی عادت کا نتیجہ تھا جس کے وہ صدیوں سے مجرم چلے آرہے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

كَيْفَ يَهْدِي اللّٰهُ : یعنی اللہ جنت کا راستہ کیسے دکھائے گا۔ یہ استفہام انکاری ہے یعنی اللہ ان کو جنت کی ہدایت نہیں کرے گا ان کا ہدایت یاب ہونا بہت بعید ہے۔ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ : ایسے لوگوں کو جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے۔ جیسے بارہ آدمیوں نے کیا۔ وَشَهِدُوْٓا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ : اور جو رسول کے حق ہونے کی شہادت دینے کے بعد کافر ہوگئے (ا اللہ ان کو ہدایت نہیں کرے گا) شھدوا اگرچہ فعل ہے لیکن مصدری معنی مراد ہے جیسے تَسْمَعُ بالْمُعِیْدِیْ خَیْرٌ مِّنْ اَتَراہ میں تَسْمَع فعل بمعنی مصدر ہے معیدی کا ذکر سننا اس کو دیکھنے سے بہتر ہے یا ایمانِھِم میں ایمان (مصدر) ہونے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(86) اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کی ایسے لوگوں کو کیسے ہدایت فرمائیں گے جو اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ پر ایمان لانے کے بعد کافر ہوئے باوجود یہ کہ ان کو حقانیت اسلام کے واضح دلائل پہنچ چکے تھے اور اللہ تعالیٰ ایسے مشرکوں کو جو اس چیز کے اہل نہ ہوں ہدایت نہیں کیا کرتے۔ شنان نزول : (آیت) ”کیف یہدی اللہ قوما“۔ (لخ) حضرت امام نسائی ؒ حاکم ؒ اور ابن حبان ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انصار میں سے ایک شخص نے اسلام قبول کیا پھر وہ مرتد ہوگیا، اس کے بعد اس کو اپنے فعل پر شرمندگی ہوئی تو اس نے اپنی قوم کے پاس قاصد بھیجا کہ رسول اکرم ﷺ سے معلوم کرو کہ میرے لیے کچھ توبہ کا امکان ہے اس پر کیف یھد…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 86–88

یعنی جو لوگ حق کے پوری طرح واضح ہوجانے اور رسول اللہ ﷺ کے سچا نبی ہونے کے روشن دلائل دیکھنے کے باوجود محض کبر و حسد اور مال و جاہ کی محبت کی بنا پر کفر کی روش پر قائم رہے، یا ایک مرتبہ اسلام قبول کرلینے کے بعد پھر مرتد ہوگئے تو وہ سراسر ظالم و بدبخت ہیں، ایسے لوگوں کو راہ ہدایت دکھانا اللہ تعالیٰ کا قانون نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرتد شخص کافر سے زیادہ مجرم ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی) حسن بصری ؓ نے ایک اور آیت کے ساتھ اس کی بہترین تفسیر فرمائی کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں، وہ اپنی کتابوں میں محمد ﷺ کو موجود پاتے تھے، ان کی آمد پر ان کے ذریعے سے فتح کی دعائیں کیا کرتے تھے (گویا آپ پر ایمان رکھتے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 86۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا کہ انصار میں سے ایک آدمی نے اسلام قبول کیا پھر وہ مرتد ہوگیا اور مشرکین سے جا ملا، بعد ازاں وہ اپنے کئے پر نادم ہوا تو اس نے اپنی قوم کی طرف پیغام بھیجا تو میرے لئے رسول اللہ ﷺ سے عرض کرو کیا میرے لئے توبہ ہے ؟ تو اس کی قوم رسول اللہ ﷺ کی بارہ گاہ میں حاضر ہوئی اور عرض کی کیا اس کی توبہ (قبول) ہوسکتی ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” کیف یھدی اللہ قوما کفروا بعد ایمانھم وشھدوا ان الرسول حق وجآء ھم البینت واللہ لا یھدی القوم الظلمین، اولئک جزآؤھم ان علیھم لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس جمعین، خلدین فیھا لا یخفف عنھم العذاب ولا ھم ینظرون، الا الذین…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) نسائی وابن حبان وابن ابی حاتم اور بیہقی نے اپنی سنن میں عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی انصار میں سے اسلام لایا پھر مرتد ہوگیا اور مشرکین کے ساتھ مل گیا پھر وہ نادم ہوگیا اور اپنی قوم کی طرف پیغام بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ کیا میرے لیے توبہ ہے ؟ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” کیف یھدی اللہ قوما کفروا بعد ایمانہم “ سے لے کر ” فان اللہ غفور رحیم “ تک اس کی قوم نے اس کی طرف پیغام بھیجا تو وہ مسلمان ہوگیا۔ (2) عبد الرزاق اور مسدد نے اپنی مسند میں اور ابن جریر، ابن المنذر اور باوردی نے معرفۃ الصحابہ میں کہا کہ حارث بن سوید ؓ آئے اور نبی ﷺ کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[کَیْفَ : کیسے ] [یَہْدِی : ہدایت دے گا ] [اللّٰہُ : اللہ ] [قَوْمًا : ایسی قوم کو ] [کَفَرُوْا : جس نے کفر کیا ] [بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ : اپنے ایمان کے بعد ] [وَ : اس حال میں کہ ] [شَہِدُوْآ : ان لوگوں نے گواہی دی ] [اَنَّ : کہ ] [الرَّسُوْلَ : یہ رسول ﷺ ] [حَقٌّ : برحق ہیں ] [وَّجَآئَ ہُمُ : اور آئیں ان کے پاس ] [الْبَـیِّنٰتُ : واضح (نشانیاں) ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ لاَ یَہْدِی : ہدایت نہیں دیتا ] [الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ : ظلم کرنے والی قوم کو ] ترکیب :” اَلْبَـیِّنٰتُ “ صفت ہے۔ اس کا موصوف ” اَلْاٰیٰتُ “ محذوف ہے جو کہ مؤنث غیر حقیقی ہے۔ اس لیے فعل ” جَائَ تْ “ کے بجائے ” جَائَ “ بھی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 86–90

مرتدوں اور کافروں کی سزا تفسیر درمنثور صفحہ 19: ج 2 میں نقل کیا ہے کہ حارث بن سوید نے اسلام قبول کیا پھر کافر ہو کر اپنی قوم کی طرف چلا گیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (کَیْفَ یَھْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا۔۔ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) تک نازل فرمائی۔ اس کی قوم میں سے ایک شخص اس کے پاس گیا اور اسے پوری آیت سنائی۔ آیت سن کر حارث بن سوید نے کہا میں جہاں تک جانتا ہوں تو سچا ہے اور رسول اللہ ﷺ تجھ سے بڑھ کر سچے ہیں اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم دونوں سے بڑھ کر سچا ہے۔ اس کے بعد اس نے (دو بارہ) اسلام قبول کرلیا اور اچھی طرح اسلام کے کاموں میں لگا رہا۔ چونکہ آیت میں (اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا) بھی ہے اس لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–91

خلاصۂ حقیقت اسلام وعدم قبول غیر دین اسلام قال تعالیٰ افغیر دین اللہ یبغون۔۔ الی۔۔ وما لھم من نصرین توحید اور رسالت کے بعد دین اسلام کی حقیقت کا خلاصہ بیان فرماتے ہیں کہ اسلام اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا نام ہے اور یہی تمام انبیاء کا دین ہے اور اسلام ہی تمام کائنات کا دین ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اسی دین کی دعوت دینے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں جس کی طرف تمام انبیاء دعوت دیتے چلے آئے آخرت کی نجات کا دارومدار یہی دین اسلام ہے اس کے سوا اللہ کے یہاں کوئی دین قبول نہیں کیا جائے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ کیا یہ لوگ آنے والے رسول پر ایمان لانے اور اس کی نصرت کا پختہ عہد اور پیمان کرنے کے بعد بھی اللہ کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

124 یہاں قوم سے مراد اہل کتاب یہودونصاریٰ ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے تو ان کا آپ پر ایمان تھا اور وہ آپ کے بارے میں تورات کی بیان کردہ صفتیں اور پیشگوئیاں پڑھ کر سنایا کرتے تھے جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے۔ کانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا (بقرہ) انہوں نے اس بات کا کئی بار اقرار کیا اور اس کی شہادت دی اس کے علاوہ پیغمبر کی صداقت کے عقلی ونقلی دلائل بھی ان کے سامنے آگئے۔ ان تمام باتوں کے باوجود جب انہوں نے جان بوجھ کر عمداً ، قصدا ! انکار کیا اور باختیار خود کفر کو ترجیح دی تو بھلا اب ان کے ایمان لانے اور راہ راست پر آنے کی بھی کوئی توقع ہوسکتی ہے۔ کیونکہ جب یہودونصاریٰ نے دیکھا کہ جس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 86–91

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حنیفیت کی تشریح بیان فرمائی تھی۔ اور اسلام کی حقانیت کا تذکرہ کیا تھا۔ اور فرمایا تھا کہ اللہ کے ہاں اسلام کے سوا کوئی دین قابل قبول نہیں ہے۔ جو کوئی اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کا طالب ہوگا ، اس سے وہ چیز قبول نہیں کی جائے گی اور ایسا شخص ہرگز کامیاب نہیں ہوگا۔ خاص طور پر آخرت میں تو وہ جہنم کا مستحق ہو کر سراسر نقصان اٹھائے گا۔ اب آج کے درس میں اسلام کے بعد کفر کرنے والوں کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ اور واضح کیا گیا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت کی توفیق نہیں دے گا۔ اور نہ ہی ان کی توبہ قبول کی جائیگی وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ آخرت کا مدار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَيْفَ يَہْدِي اللہُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِہِمْ وَشَہِدُوْٓا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّجَاۗءَھُمُ الْبَيِّنٰتُ۝ 0 ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِـمِيْنَ۝ 86 كيف كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 86–91

ترکیب : کیف حال ہے اور عامل اس میں یہدی ہے شہدوا حال ہے ضمیر کفروا سے اولئک مبتداء جزاء ھم مبتدا ان اور اس کا اسم و خبر مجموعہ خبر پھر یہ تمام جملہ مبتداء اول کی خبر ہوا خلدین حال ہے ضمیر علیہم سے اور عامل اس میں جاریا اس کا متعلق ہے ذھبًا تمیز ہے ملْ سے اور بہ کی ضمیر اسی طرف پھرتی ہے۔ تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ منکروں کے لئے ہر قسم کے بیان شافی ذکر فرما چکا اور پھر بھی وہ ہدایت پر نہ آئے تو جس طرح طبیب علاج کرکے جب صحت نہیں دیکھتا تو یہی کہتا ہے کہ تم کو کس طرح تندرستی ہو تم ایسی ایسی بدپرہیزی کرتے اور کرچکے ہو اسی طرح خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے تیرہ باطن اور سیاہ قلب لوگوں کو کیونکر ہدایت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

کَیْفَ یَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ وَشَہِدُوْٓا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّجَـآئَ ہُمُ الْبَیِّنٰتُ ط وَاللّٰہُ لَایَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰالِمِیْنَ ۔ (اللہ کس طرح ہدایت دے گا ان لوگوں کو جنھوں نے ایمان کے بعد کفر کیا حالانکہ ان کے دل گواہی دیتے ہیں کہ یہ رسول سچے ہیں اور ان کے پاس واضح نشانیاں بھی آچکی ہیں اور اللہ ظالموں کو کبھی ہدایت نہیں دیتا) (86) اس آیت کریمہ میں قَوْماً سے اہل کتاب بالعموم اور یہود بالخصوص مراد ہیں۔ اللہ کی کتاب کا نزول اور اللہ کے رسول ﷺ کی بعثت لوگوں کی ہدایت کے لیے ہوتی ہے۔ اس سے افراد بھی ہدایت پاتے ہیں اور قومیں بھی ہدایت سے بہر ور ہوتی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 84–86

فہم القرآن ربط کلام : انبیاء کے مشن اور نظام کائنات کے خلاف چلنے والے کفار کی دنیا میں سزا اور آخرت میں اس کا انجام۔ اکثر مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ایمان کے بعد کفر اختیار کرنے والوں سے مراد اہل کتاب ہیں۔ کیونکہ تورات اور انجیل کے حوالے سے وہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے بارے میں قلبی طور پر مانتے ہیں کہ یہ حق ہے۔ اس فرمان کے مخاطب اہل کتاب ہوں یا مرتدین آپ کی رسالت کی حقیقت کے ٹھوس دلائل جاننے کے باوجود جو بھی تسلیم ورضا کارویّہ اختیار نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت عطا نہیں کیا کرتا۔ جو شخص اپنے آپ پر ظلم کرنے کے درپے ہوجائے اس کا ہاتھ پکڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ ہر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بےڈھنگے ہدایت سے محروم رہتے ہیں : 86: کَیْفَ یَھْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعَْدَ اِیْمَانِھِمْ وَشَھِدُوْٓا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّ جَآ ئَ ھُمُ الْبَیِّنٰتُ وَاللّٰہُ لَا یَھْدِ ی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو کیسے ہدایت کریں گے جو کافر ہوگئے بعد اپنے ایمان لانے کے اور بعد اپنے اس اقرار کے کہ رسول سچے ہیں اور بعد اس کے کہ ان کو واضح دلائل پہنچ چکے تھے اور اللہ تعالیٰ ایسے بےڈھنگے لوگوں کو ہدایت نہیں کرتے) وَشَھِدُوْٓا میں وائو حال کیلئے ہے اور قَدْ مضمر و محذوف ہے۔ ای کفروا وقدْشَھِدُوْا انہوں نے کفر کیا حالانکہ وہ گواہی دے چکے کہ رسول برحق ہیں۔ الرسول سے مراد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 86–91

(86 ۔ 91) ۔ نسائی اور صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جس کو حاکم نے صحیح کہا ہے۔ حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ حارث بن سوید انصاری اور طعمہ بن ابریق وغیرہ سب بارہ شخص اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگئے اور مدینہ سے مکہ کو چلے گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا ٹکڑا ولا ھم ینظرون تک نازل فرمایا پھر حارث بن سوید کو اپنے مرتد ہونے پر بڑا افسوس ہوا تو انہوں نے انصار سے جو ان کی قوم کے مدینہ میں تھے یہ پیغام کہلا بھیجا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے دریافت کریں کہ ہم لوگ کی توبہ قبول ہوسکتی ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے دوسرا ٹکڑا آیت کا الا الذین تابوا نازل فرمایا۔ اس پر حارث بن سوید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 86–88

کیسے ہدایت دے گا اللہ ان کو جو کافر ہوگئے بعد اپنے ایمان کے اور (بعد اسکے کہ) گواہی دی انہوں نے اس بات کی کہ بلاشبہ رسول برحق ہیں ‘ اور آئیں ان کے پاس واضح نشانیاں ‘ اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو۔ یہ لوگ ‘ سزا ان کی (یہ ہے کہ) بیشک ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی، ہمیشہ رہیں گے وہ اس لعنت میں ‘ نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دئیے جائیں گے۔ یہ استفہام استبعاد کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے ‘ جنہوں نے ایمان لاکر اور رسول کے سچا ہونے کی گواہی دینے کے بعد کفر اور زماہی کو اختیار کرلیا۔ ” اور اللہ ظالموں کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 79–92

راہ خدا میں محبوب چیز قربان کرنا قول باری ہے (لن تنالوالبرحتی تنفقوامما تحبون، تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیزرکھتے ہو) البر کے معنی دواقوال ہیں اول جنت عمروبن میمون اور سدی سے یہی منقول ہے۔ دوم نیکی کا کام جس کی بناپربندے اجر کے مستحق قرارپاتے ہیں نفقہ سے مراد اللہ کی راہ میں صدقہ وغیرہ کی صورت میں پسند یدہ چیزیں دے دینا ہے۔ یزیدبن ہارون نے حمید سے، انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب درج بالاآیت نازل ہوئی نیزیہ آیت (من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا، کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے) تو حضرت ابوطلحہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

179 بےقدری اور ناشکری باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے بےقدرے اور ناشکرے لوگوں کی محرومی واضح ہوجاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ : اس لیے دین حق جو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے اس کی ناقدری کرنے والے اس سے کبھی مشرف و سرفراز نہیں ہوسکتے۔ استفہام یہاں پر انکار واستبعاد کیلئے ہے۔ یعنی ایسے لوگوں کا دولت ہدایت سے سرفراز ہونا بہت بعید اور بہت دور کی بات ہے۔ کیونکہ اس کے لئے قلب سلیم اور تعصبات و میول سے پاکیزہ باطن کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیز یہ نعمت ان لوگوں کو ملتی ہے جو حق و ہدایت کے طالب اور اس کے قدرداں ہوں۔ اور اس سب سے یہ لوگ محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تو پھر ان کو حق و ہدایت کی اس دولت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 86–88

جان بوجھ کر حق کو قبول نہ کرنا تشریح : ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو سب کچھ جان لینے کے بعد بھی نبی کریم ﷺ پر ایمان نہ لائے اور یہ اشارہ یقیناً یہود و نصاریٰ کی طرف ہی ہے۔ ان کی کتابوں میں محمد ﷺ کی نبوت، آخری کتاب قرآن اور دین اسلام کے بارے میں سب کچھ بڑی تفصیل سے بتا دیا گیا تھا۔ وہ انہوں نے مان بھی لیا تھا مگر صرف اپنی ضد، حسد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے محمد ﷺ پر ایمان لانے کو تیار نہ تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ انتہائی ظالم لوگ ہیں۔ یہ کبھی بھی ہدایت کی راہ اختیار نہیں کریں گے اس لئے اللہ بھی ان کو ہدایت نہیں دینا چاہتا۔ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے کی وجہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 81–91

آیات 81- 91 اسرارومعارف واذاخذ اللہ میثاق النبیین…………………وھوفی الاخرۃ من الخسرین۔ اور یہ نبی جس کا انکار کرنے کے لئے یہود طرح طرح کی حیلہ جو ئیاں کر رہے ہیں یہ تو ایسی عظیم ہستی ہے کہ تمام نوع انسانی کا نبی ہے۔ نہ صرف نبی الامت ہے بلکہ نبی الانبیاء اور امام المرسلین ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اللہ نے تمام انبیاء سے عہد لیا تھا کہ جب تمہیں کتاب و حکمت عطا ہو یعنی تم بحیثیت نبی کے مبعوث کئے جائو۔ یاد رہے کہ کتاب کے ساتھ ہر جگہ حکمت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کتاب الٰہیہ کے معانی بھی من جانب اللہ حکمت کے نام سے انبیاء کو تعلیم کئے جاتے ہیں اور کوئی ایسا معنی جو پیغمبر کے ارشاد کردہ معانی کے مطابق نہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 86–89

ف 4 اس سے معلوم ہوا کہ اگر مرتد صدق دل سے توبہ کرلے اور دوبارہ اسلام لے آئے تو اللہ تعالیٰ اس کی پچھلی غلطی کو معاف فرمادیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ انصار میں سے ایک آدمی (حارث بن سوید) اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگیا اور مشرکوں سے جا ملا۔ پھر وہ نادم ہوا اور اس نے اپنے قبلے کے لوگوں سے کہلا بھیجا کہ تم رسول اللہ ﷺ سے دریافت کرو کہ آیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے۔ ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اس کے بعد اس کے بھائی نے اس کے پاس یہ آیت بھیج دی اور وہ دوبارہ مسلمان ہوگیا اور سچا مسلمان رہا۔ (ابن کثیر۔ ابن جریر) البتہ جو شخص ارتداد پر اصرا کرے اس کی سزا قتل ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 85–90

(3:85) یبتغ۔ اصل میں ینتغی تھا۔ من عامل کی وجہ سے غ جو آخری متحرک حرف تھا ساکن ہوگیا۔ ی بوجہ ساکنین کے گرگئی۔ ی کی موجودگی کو ظاہر کرنے کے لئے غ مکسور کردی گئی مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ ابتغاء مصدر۔ چاہے۔ ڈھونڈھے۔ طلب کرے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 81–91

لغات القرآن آیت نمبر 81 تا 91 لتومنن (البتہ تم ضرور ایمان لاؤگے) لن یقبل (ہرگز قبول نہ کیا جائے گا) لتنصرن (البتہ تم ضرور مدد کروگے) لایخفف (کمی نہ کی جائے گی) اصری (میرا بوجھ) لن تقبل (ہرگز قبول نہ کی جائے گی) یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں) الضآلون (گمراہ ہونے والے) طوع (خوشی سے) ملء الارض (زمین بھر) کرہ (زبردستی) لوافتدٰی (اگر وہ بدلہ میں دے) یبتغ (تلاش کرے گا) ۔ تشریح : آیت نمبر 81 تا 91 پچھلی آیات میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں اس کی تردید کردی ہے کہ انبیاء کرام اپنا بندہ بنانے نہیں آتے بلکہ سچی بات یہ ہے کہ انبیاء کرام لوگوں کو اللہ والا بنانے آتے ہیں۔ ان آیات میں یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 85–88

اسلام کے سوا کوئی راستہ خدا تک پینچنے کے لئے نہیں شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت یہود ونصاریٰ کے حق میں نازل ہوئی کہ آنحضرت ﷺ نے نبی ہونے سے پہلے یہود لوگ آنحضرت ﷺ کو نبی برحق مانتے تھے اور آپ کا نام لے کر فتح کی دعا مانگتے تھے۔ جب آحضرت ﷺ نبی ہوئے تو مرتدوں کی طرح آپ سے پھرگئے اور کافر ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو کیسے توفیق ایمان دے جو جان بوجھ کر منکر ہوگئے، حضور ﷺ کے معجزات دیکھ چکے تھے۔ حارث بن سوید انصاری اور طعمہ بن ابریق وغیرہ کو کفار کے ساتھ جاملنے کے بعد ندامت ہوئی تو انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں کو جو مدینہ میں تھے یہ پیام کہلا بھیجا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے دریافت کریں کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 86–92

[33] یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی نبی ﷺ کے عہد میں عرب کے یہودی علماء جان چکے تھے اور ان کی زبانوں تک سے اس امر کی شہادت ہوچکی تھی کہ آپ ﷺ نبی برحق ہیں اور جو تعلیم آپ ﷺ لائے ہیں وہ وہی تعلیم ہے جو پچھلے انبیاء (علیہ السلام) لاتے رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا وہ محض تعصب، ضد اور دشمنی حق کی اس پرانی عادت کا نتیجہ تھا جس کے وہ صدیوں سے مجرم چلے آ رہے تھے۔ اس کا اندازہ اس سلسلے کے ایک دلچسپ واقعہ سے ہوسکتا ہے۔ سیدہ صفیہ (زوجہ رسول اللہ ﷺ یہ روداد بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے اور قبا میں قیام فرمایا تو میرے والد اور چچا منہ اندھیرے ملاقات کے لئے گئے تو غروب آفتاب کا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 86–90

مرتد : (ف 1) وہ لوگ جو اسلام کو قبول کرکے چھوڑ دیتے ہیں ، قرآن کی اصطلاح میں مرتد ہیں ، قرآن حکیم کہتا ہے ، یہ نوع کی ہدایت سے محروم رہتے ہیں ، ان پر اللہ کا غضب ہوتا ہے ، یہ فرشتوں اور تمام نیک لوگوں کی ناراضگی خریدتے ہیں ، یہ لوگ جہنم کا کندہ ہیں ، ان کے عذاب میں کوئی تخفیف نہ ہوگی اور نہ یہ اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف نظر التفات کرے ، البتہ وہ لوگ جو توبہ کرلیں اور پھر سے اسلام میں داخل ہو کر اصلاح اعمال میں مصروف ہوجائیں ‘ ان کے لئے اللہ کی بخشیش عام ووسیع ہیں اور وہ جو معاند ہوں اور کفر کے بعد ان کا بغض وعناد زیادہ ترقی کرجائے ، ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں ۔ آخرت میں مرتدین کے لئے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 86–88

ف 4۔ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت کی توفیق بخشے جو ایمان لانے کے بعد اور زبان سے اس بات کی شہادت دینے کے بعد کہ یہ رسول اپنے دعویٰ میں سچا ہے اور اس کے بعد کہ ان کو اسلام کی صداقت کے واضح دلائل پہنچ چکے ۔ ان تمام انعامات کے بعد پھر وہ لوگ کافر ہوگئے اور انہوں نے کفر اختیار کرلیا اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالم اور ستم شعار لوگوں کو ہدایت کی توفیق نہیں دیا کرتا ۔ ( تیسیر) آیت کا تعلق یا تو ان بارہ آدمیوں سے ہے جو مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہوگئے تھے اور مدینہ سے مکہ چلے گئے تھے۔ جیسے حارث بن سوید اور طمعہ بن ابیرق اور حجوج بن اسلت وغیرہ اور یا اس آیت کا تعلق معصب اور معاند…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 84–86

ف 2۔ یہ مطلب نہیں کہ ایسوں کو کبھی توفیق اسلام کی نہیں دیتے بلکہ مقصود ان کے اسی دعوے مذکور کی نفی کرنا ہے وہ کہتے تھے کہ ہم نے جو اسلام چھوڑ کر یہ طریق اختیار کیا ہے تو ہم کو خدا نے ہدایت دی ہے خلاصہ نفی کا یہ ہوا کہ جو شخص کفر کا بےڈھنگا راستہ اختیار کرے وہ ہدایت خداوندی پر نہیں اس لیے وہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھ کو خدا نے ہدایت دی ہے کیونکہ کفر ہدایت کا راستہ نہیں بلکہ ایسے لوگ یقینا گمراہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان کے بعد کفر اختیار کرنے والوں کے لیے کامیابی کی راہ نہیں کھولی جاتی : 172: جنت کی راہ ان لوگوں کے لیے کیسے کھولی جاسکتی ہے جو ایمان کی دولت سے مالامال ہونے کے بعد کفر کی طرف لوٹ گئے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ان لوگوں کا بیان ہے جو ایمان لانے کے بعد مرتد ہوگئے اور مشرکین مکہ سے جا ملے اور ان میں سے اکثر مفسرین نے ابوعامر راہب کا نام بھی لیا ہے مگر عبداللہ بن عباس ؓ سے جو رویات ہے اس میں اہل کتاب ہی کا ذکر ہے اور اس رکوع کا سیاق وسباق بھی اس کی تصدیق کرتا ہے کیونکہ اس رکوع میں اصل مخاطب تو اہل کتاب ہی ہیں۔ اسلام لانے کے بعد کفر کرنے کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ لوگ مسلمان ہونے کے بعد پھر اپنے دین میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 86–91

Commentary The removal of a doubt: On a superficial view of the verse كَيْفَ يَهْدِي اللَّـهُ : 'How shall Allah give guidance...' (86), there emerges a doubt that whoever turns an apostate receives no guidance afterwards, although, the fact is contrary to this. There are many who, after having become apostates, re-embrace the faith and become recipients of guidance. The answer is that the withholding of guidance mentioned here is in accordance with common usage. For instance, some criminal when punished by a certain ruler may say, 'I have been given a special treatment by the ruler with his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 85–86

73. This is a repetition of the statement made earlier, namely that the Jewish rabbis of Arabia in the time of the Prophet (peace be on him) knew, and sometimes even testified to verbally, that Muhammad was a true Prophet and that his teachings were the same as those of the earlier Prophets. (See for instance Qur'an 2: 89 - Ed.) Their subsequent attitude - namely that of rejection and opposition - was the outcome of prejudice and intransigence, born out of their centuries-old hostility to the Truth.

Read the full tafseer →