Aal-i-Imraan 3:73

Aal-i-Imraan · from ayah 73

3:73

وَلَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ ؕ— قُلْ اِنَّ الْهُدٰی هُدَی اللّٰهِ ۙ— اَنْ یُّؤْتٰۤی اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ ؕ— قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ ۚ— یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ ؕ— وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ۟ۚۙوَلَا تُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّا لِمَنۡ تَبِعَ دِيۡنَكُمۡؕ قُلۡ اِنَّ الۡهُدٰى هُدَى اللّٰهِۙ اَنۡ يُّؤۡتٰٓى اَحَدٌ مِّثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيۡتُمۡ اَوۡ يُحَآجُّوۡكُمۡ عِنۡدَ رَبِّكُمۡ‌ؕ قُلۡ اِنَّ الۡفَضۡلَ بِيَدِ اللّٰهِۚ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ ‌ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ

اور اپنے دین کے پیرو کے سوا کسی اور کے قائل نہ ہونا (اے پیغمبر) کہہ دو کہ ہدایت تو خدا ہی کی ہدایت ہے (وہ یہ بھی کہتے ہیں) یہ بھی (نہ ماننا) کہ جو چیز تم کو ملی ہے ویسی کسی اور کو ملے گی یا وہ تمہیں خدا کے روبرو قائل معقول کر سکیں گے یہ بھی کہہ دو کہ بزرگی خدا ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا کشائش والا (اور) علم والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And do not trust except those who follow your religion." Say, "Indeed, the [true] guidance is the guidance of Allah. [Do you fear] lest someone be given [knowledge] like you were given or that they would [thereby] argue with you before your Lord?" Say, "Indeed, [all] bounty is in the hand of Allah - He grants it to whom He wills. And Allah is all-Encompassing and Wise."

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 8 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:73

نیز یہ لوگ آپس میں کہتے ہیں کہ اپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات نہ مانو اے نبیؐ! ان سے کہہ دو کہ، "اصل میں ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے اور یہ اُسی کی دین ہے کہ کسی کو وہی کچھ دے دیا جائے جو کبھی تم کو دیا گیا تھا، یا یہ کہ دوسروں کو تمہارے رب کے حضور پیش کرنے کے لیے تمہارے خلاف قوی حجت مل جائے" اے نبیؐ! ان سے کہو کہ، "فضل و شرف اللہ کے اختیار میں ہے، جسے چاہے عطا فرمائے وہ وسیع النظر ہے اور سب کچھ جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اپنے دین کے پیرو کے سوا کسی اور کے قائل نہ ہونا (اے پیغمبر) کہہ دو کہ ہدایت تو خدا ہی کی ہدایت ہے (وہ یہ بھی کہتے ہیں) یہ بھی (نہ ماننا) کہ جو چیز تم کو ملی ہے ویسی کسی اور کو ملے گی یا وہ تمہیں خدا کے روبرو قائل معقول کر سکیں گے یہ بھی کہہ دو کہ بزرگی خدا ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا کشائش والا (اور) علم والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور سوائے تمہارے دین پر چلنے والوں کے اور کسی کا یقین نہ کرو۔ آپ کہہ دیجئے کہ بے شک ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے (اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اس بات کا بھی یقین نہ کرو) کہ کوئی اس جیسا دیا جائے جیسا تم دیئے گئے ہو، یا یہ کہ یہ تم سے تمہارے رب کے پاس جھگڑا کریں گے، آپ کہہ دیجئے کہ فضل تو اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے، وه جسے چاہے اسے دے، اللہ تعالیٰ وسعت واﻻ اورجاننے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

مگر دل سے ان لوگوں کے سوا کسی کی نہ ماننا جو تمہارے دین کے متبع ہیں۔ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ ہدایت تو وہی ہدایت ہے جو اللہ کی دی ہوئی ہو، یہ ساری باتیں تم اس ضد میں کر رہے ہو کہ کسی کو اس جیسی چیز (یعنی نبوت اور آسمانی کتاب) کیوں مل گئی جیسی کبھی تمہیں دی گئی تھی یا یہ (مسلمان) تمہارے رب کے آگے تم پر غالب کیوں آگئے۔ آپ کہہ دیجیے کہ فضیلت تمام تر اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا ہے، ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یقین نہ لاؤ مگر اس کا جو تمہارے دین کا پیرو ہو تم فرمادو کہ اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (یقین کا ہے کا نہ لاؤ) اس کا کہ کسی کو ملے جیسا تمہیں ملا یا کوئی تم پر حجت لاسکے تمہارے رب کے پاس تم فرمادو کہ فضل تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے جسے چاہے دے، اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کسی کی بات نہ مانو سوائے اس شخص کے جو تمہارے (ہی) دین کا پیرو ہو، فرما دیں کہ بیشک ہدایت تو (فقط) ہدایتِ الٰہی ہے (اور اپنے لوگوں سے مزید کہتے ہیں کہ یہ بھی ہرگز نہ ماننا) کہ جیسی کتاب (یا دِین) تمہیں دیا گیا اس جیسا کسی اور کو بھی دیا جائے گا یا یہ کہ کوئی تمہارے رب کے پاس تمہارے خلاف حجت لا سکے گا، فرما دیں: بیشک فضل تو اﷲ کے ہاتھ میں ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اﷲ وسعت والا بڑے علم والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کسی کے لیے یقین نہ کرو، سوائے اس کے جو تمہارے دین کی پیروی کرے۔ کہہ دے اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے، (یہ یقین نہ کرو) کہ جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے اس جیسا کسی اور کو بھی دیا جائے گا، یا وہ تم سے تمہارے رب کے پاس جھگڑا کریں گے۔ کہہ دے بیشک سب فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ اسے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات کا اعتبار نہ کرو۔ آپ ان سے کہئے کہ ہدایت وہ ہے جو اللہ کی ہے کہ وہ کسی دوسرے کو بھی وہی کچھ دے دے جو تمہیں دیا یا ہدایت وہ ہے جس سے وہ تمہارے پروردگار کے حضور تم پر حجت قائم کرسکیں۔ ؟ نیز ان سے کہئے کہ فضل و شرف تو اللہ کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہے دے دے کیونکہ وہ بڑا وسیع النظر اور سب کچھ جاننے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم اپنے دین کی پیروی کرنے والے کے سوا اور کسی کی بات کا اعتبار نہ کیا کرو۔ ان سے کہو کہ اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے۔ کہ مبادا اس طرح کی چیز کسی اور کو بھی مل جائے جس طرح کی چیز تمہیں ملی ہے یا وہ تم سے تمہارے رب کے حضور حجت کرسکیں۔ ان سے کہو کہ فضل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑی سمائی رکھنے والا اور علم والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (یہ لوگ آپس میں) کہا کہ تم (ظاہری طور پر) ایمان لے آؤ اس (دین و کتاب) پر، جو اتارا گیا ایمان والوں پر، دن کے شروع میں، اور اس کا انکار کردو اس کے آخری حصے میں، تاکہ اس طرح یہ لوگ پھرجائیں (اپنے دین و ایمان سے) اور (یہ لوگ آپس میں کہتے کہ) تم کسی کی بات نہ ماننا بجز اس کے جو تمہارے دین کا پیرو ہو، (ان سے) کہو کہ (تمہاری ان چال بازیوں سے کچھ نہیں ہونے کا، کہ) بیشک ہدایت اللہ ہی کی ہدایت ہے، (اور تم یہ سب چال بازیاں محض اس حسد کی بنا پر کرتے ہو) کہ کسی اور کو بھی وہی کچھ (کیوں) دیا جائے جو (اس سے پہلے) تم کو دیا جا چکا ہے، یا یہ کہ دوسرے لوگ تمہارے رب کے یہاں حجت و دلیل میں تم پر غالب آجائیں گے، کہو کہ (تمہاری ان سازشوں اور تدبیروں سے کچھ نہیں ہونے کا کہ) بیشک فضل (ومہربانی)

— مولانا اسحاق مدنی

اور واقع میں بجز اس کے کہ جو تمہارے دین کا پیرو ہو اور کسی پر ایمان نہ لاؤ آپ کہہ دیجئے کہ ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے۔ اور یہ سب اس غصہ میں کررہے ہو کہ کسی اور کو وہ چیز مل گئی جو تمہیں ملی تھی یا وہ لوگ تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں غالب آجائیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ فضل اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے عطا کرتا ہے۔ اور اللہ بڑا وسعت والا ہے بڑا علم والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور دیکھو کسی کی بات نہ ماننا مگر اسی کی جو تمہارے دین کی پیروی کرے (اے نبی ﷺ ! ان سے) کہہ دیجیے کہ اصل ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے مبادا کسی کو وہ شے دے دی جائے جو تمہیں دی گئی تھی یا تمہارے خلاف حجت قائم کریں تمہارے پروردگار کے حضور کہہ دیجیے کہ فضل تو کل کا کل اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بہت وسعت والا اور جاننے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ لوگ آپس میں کہتے ہیں کہ اپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات نہ مانو، (اے نبی ﷺ ان سے کہہ دو ! اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے اور کہتے ہیں یا اس کی بات مانوجن کو وہی کچھ دے دیا جائے جو کبھی تم کو دیا گیا تھا یا یہ کہ دوسروں کو تمہارے رب کے حضور پیش کرنے کے لئے تمہارے خلاف قوی حجت مل جائے۔ (اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ فضل تو اللہ کے اختیار میں ہے، جسے چاہے عطا فرمائے وہ وسیع النظر، سب کچھ جانتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

They also say among themselves: 'Do not follow anyone except him who follows your faith.' Say: 'Surely true guidance is Allah's. It is His favour that anyone should be given the like of what you have been given in the past, and that others should have been given firm evidence to proffer against you before your Lord.' Say: 'Surely bounty is in the Hand of Allah; He gives it to whom He wills. Allah is All-Embracing, All-Knowing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But do not believe (for real) except in those who follow your faith. Say, :(Real) guidance is the guidance of Allah. (But all that you do is due to your envy) that someone is given what is similar to that which you have been given, or that they argue against you before your Lord. Say, :The bounty is in the hands of Allah. He gives it to whom He wills. Allah is All-Embracing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani

But do not believe (for real) except in those who follow your faith. Say, :(Real) guidance is the guidance of Allah. (But all that you do is due to your envy) that someone is given what is similar to that which you have been given, or that they argue against you before your Lord. Say, :The bounty is in the hands of Allah. He gives it to whom He wills. Allah is All-Embracing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And believe no one except the one who follows your religion." Say (O Prophet): "Verily, right guidance is the guidance of Allah." (And they say:) "Do not believe that anyone can receive like that which you have received, otherwise they would engage you in argument before your Lord." Say: "All the bounty is in the Hand of Allah; He grants to whom He wills. And Allah is All-Sufficient for His creatures' needs, All-Knower."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And believe not save in one who followeth your religion - Say (O Muhammad): Lo! the guidance is Allah's Guidance - that anyone is given the like of that which was given unto you or that they may argue with you in the presence of their Lord. Say (O Muhammad): Lo! the bounty is in Allah's hand. He bestoweth it on whom He will. Allah is All-Embracing, All-Knowing.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And do not trust except those who follow your religion." Say, "Indeed, the [true] guidance is the guidance of Allah. [Do you fear] lest someone be given [knowledge] like you were given or that they would [thereby] argue with you before your Lord?" Say, "Indeed, [all] bounty is in the hand of Allah - He grants it to whom He wills. And Allah is all-Encompassing and Wise."

— Saheeh International

They also say, "Do not believe anyone except those who follow your religion, so that no one may have what you have received or may argue with you before your Lord." (Muhammad), tell them, "The only guidance is the guidance of God. All favors are in the hands of God. He grants His favors to whomever He wants. He is Munificent and All-knowing".

— Muhammad Sarwar

And do not believe but in him who follows your religion. Say: Surely the (true) guidance is the guidance of Allah-- that one may be given (by Him) the like of what you were given; or they would contend with you by an argument before your Lord. Say: Surely grace is in the hand of Allah, He gives it to whom He pleases; and Allah is Ample-giving, Knowing.

— Muhammad Habib Shakir

And believe not save one who followeth your religion. Say thou: verily the guidance of Allah - that is the guidance. Envy ye that any one should be vouchsafed the like of that which was vouchsafed unto you or fear ye that those others may overcome you in Contention before your Lord! Say thou: verily the grace is in the hand of Allah He vouchsafeth it unto whomsoever He will; and Allah is Bounteous, Knowing.

— Abdul Majid Daryabadi

"And believe no one unless he follows your religion." Say: "True guidance is the Guidance of Allah: (Fear ye) Lest a revelation be sent to someone (else) Like unto that which was sent unto you? or that those (Receiving such revelation) should engage you in argument before your Lord?" Say: "All bounties are in the hand of Allah: He granteth them to whom He pleaseth: And Allah careth for all, and He knoweth all things."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:73

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 69–74

یہودیوں کا حسد یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ان یہودیوں کے حسد کو دیکھو کہ مسلمانوں کیسے جل بھن رہے ہیں۔ انہیں بہکانے کی کیا کیا پوشیدہ ترکیبیں کر رہے ہیں کیسے کیسے مکرو فریب کے جال بچھاتے ہیں، حالانکہ دراصل ان تمام چیزوں کا وبال خود ان کی جانوں پر ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں۔ پھر انہیں ان کی یہ ذلیل حرکت یاد دلائی جا رہی ہے کہ تم سچائی جانتے ہوئے بھی حق کو پہچانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی آیات سے یہ منکر ہو رہے ہو۔ علم کے باوجود یہ بدخصلت بھی ان میں ہے۔ کہ حق و باطل کو ملا دیتے ہیں، اور ان کی کتابوں میں جو صفیں رسول اللہ ﷺ کی ہیں ان کو چھپالیتے ہیں۔ بہکانے کی جو صورتیں بناتے ہیں ان میں سے ایک یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة اٰلِ عِمْرٰن 62 اصل میں لفظ ”واسع“ استعمال ہوا ہے جو بالعموم قرآن میں تین مواقع پر آیا کرتا ہے۔ ایک وہ موقع جہاں انسانوں کے کسی گروہ کی تنگ خیالی و تنگ نظری کا ذکر آتا ہے اور اسے اس حقیقت پر متنبہ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے کہ اللہ تمہاری طرح تنگ نظر نہیں ہے۔ دوسرا وہ موقع جہاں کسی کے بخل اور تنگ دلی اور کم حوصلگی پر ملامت کرتے ہوئے یہ بتانا ہوتا ہے کہ اللہ فراخ دست ہے، تمہاری طرح بخیل نہیں ہے۔ تیسرا وہ موقع جہاں لوگ اپنے تخیل کی تنگی کے سبب سے اللہ کی طرف کسی قسم کی محدودیت منسوب کرتے ہیں اور انہیں یہ بتانا ہوتا ہے کہ اللہ غیر محدود ہے۔ (ملاحظہ ہو سورة بقرہ، 116)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 72–74

خلاصہ تفسیر اور بعضے لوگوں نے اہل کتاب میں سے (بطور مشورہ باہم) کہا کہ (مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک تدبیر ہے کہ ظاہرا) ایمان لے آؤ اس (کتاب) پر جو نازل کی گئی ہے (بواسطہ رسول اللہ ﷺ کے) مسلمانوں پر (مراد یہ کہ قرآن پر ایمان لے آؤ) شروع دن میں (یعنی صبح کے وقت) اور (پھر) انکار کر بیٹھو آخر دن (یعنی شام کو) عجب کیا (اس تدبیر سے مسلمانوں کو بھی قرآن اور اسلام کے حق میں شبہ پڑجائے اور) وہ (اپنے دین سے) پھر جاویں، (اور یہ خیال کریں کہ یہ لوگ علم والے ہیں اور بےتعصب بھی ہیں کہ اسلام قبول کرلیا، اس پر بھی جو پھرگئے تو ضرور اسلام کا غیر حق ہونا ان کو دلائل علمیہ سے ثابت ہوگیا ہوگا، اور ضرور انہوں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اسلوب کی بعض مشکلات : اس آیت کی تشریح و تفسیر میں ہمارے ارباب تاویل کو بڑا اضطراب پیش آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اسلوب کی بعض مشکلیں ہیں۔ ہم پہلے ان اسلوبوں کی وضاحت کریں گے اس کے بعد آیت کی صحیح تاویل بیان کریں گے۔ اس میں پہلی سمجھنے کی چیز ”قُلْ اِنَّ الْهُدٰى ھُدَى اللّٰهِ : کہہ دو کہ اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے“ کے ٹکڑے کا جملہ کے اندر مقام ہے۔ یہ ٹکڑا در اصل سلسلہ کلام کا جزو نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت ایک جملہ معترضہ کی ہے۔ یعنی سلسلہ کلام کے بیچ میں مخاطب کی ایک غلط بات کی برسر موقع تردید فرما دی گئی ہے۔ اصل سلسلہ کلام یوں ہے کہ ”وَلَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

73۔ 1 یہ آپس میں انہوں نے ایک دوسرے کو کہا کہ تم ظاہری طور پر تو اسلام کا اظہار ضرور کرو لیکن اپنے ہم مذہب (یہود) کے سوا کسی اور کی بات پر یقین مت رکھنا۔ 73۔ 2 یہ ایک جملہ معترضہ ہے جس کا ما قبل اور ما بعد سے تعلق نہیں ہے صرف ان کے مکر و حیلہ کی اصل حقیقت اس سے واضح کرنا مقصود ہے کہ ان کے جملوں سے کچھ نہ ہوگا کیونکہ ہدایت تو اللہ کے اختیار میں ہے وہ جس کو ہدایت دے یا دینا چاہے، تمہارے حیلے اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ 73۔ 3 یہ بھی یہودیوں کا قول ہے یعنی یہ بھی تسلیم مت کرو کہ جس طرح تمہارے اندر نبوت وغیرہ رہی ہے یہ کسی اور کو بھی مل سکتی ہے اور اس طرح یہودیت کے سوا کوئی اور دین بھی حق…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 73–79

29: یہ عیسائیوں کی تردید ہورہی ہے جو حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا یا خدا کا بیٹا مان کر گویا یہ دعویٰ کرتے تھے کہ خود حضرت عیسیٰ ؑ نے ہی ان کو اپنی عبادت کا حکم دیا ہے۔ یہی حال ان بعض یہودی فرقوں کا تھا جو حضرت عزیر ؑ کو خدا کا بیٹا مانتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اہل کتاب آپس میں طے کرتے تھے کہ تم لوگ دن چڑھے اپنے اسلام کا اظہار کرو اور شام تک اعلان کردو کہ ہم نے اسلام کا اعلان کیا تھا لیکن اب ہم نے اسے ترک کردیا ہے ۔ تاکہ اس طرح مسلمانوں کے دلوں میں شک پیدا ہوجائے اور وہ بھی اسلام سے لوٹ آئیں ۔ لیکن یہ بات راز میں رہے ۔ اس کا افشا بھی نہ کرو اور اپنے دین والوں کے علاوہ کسی اور اس راز سے خبردار بھی نہ کرو ۔ وَلا تُؤْمِنُوا إِلا لِمَنْ تَبِعَ دِينَكُمْ……………” اپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات پر اعتماد نہ کرو ۔ “ فعل ” اسلام “ کا فاصلہ اگر لام متعدی ہو تو اس کا مفہوم اعتبار اور اعتماد کرنا ہوتا ہے۔ یعنی اعتمادصرف اس پر کرو جو تمہارے دین کو ماننے والا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی جو یہود مسلمانوں کے سامنے جا کر نفاق سے اپنے کو مسلمان ظاہر کریں، انہیں یہ برابر ملحوظ رہے کہ وہ سچ مچ مسلمان نہیں بن گئے۔ بلکہ بدستور یہودی ہیں۔ اور سچے دل سے انہی کی بات مان سکتے ہیں جو ان کے دین پر چلتا ہو اور شریعت موسوی کے اتباع کا دعویٰ رکھتا ہو۔ بعض نے ولا تو منوا الا لمن تبع دینکم کے یہ معنی کئے ہیں کہ ظاہری طور پر جو ایمان لاؤ اور اپنے کو مسلمان بتاؤ، وہ محض ان لوگوں کی وجہ سے جو تمہارے دین پر چلنے والے ہیں۔ یعنی اس تدبیر سے اپنے ہم مذہبوں کی حفاظت مقصود ہونی چاہیے کہ وہ مسلمان نہ بن جائیں یا جو بن چکے ہیں اس تدبیر سے واپس آجائیں۔ 4 یعنی ہدایت تو اللہ کے دینے سے ملتی ہے جس کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 73 وَلاَ تُؤْمِنُوْآ اِلاَّ لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَکُمْ ط یعنی اس سازشی گروہ کو یہ خطرہ بھی تھا کہ اگر ہم جا کر چند گھنٹے اللہ کے رسول ﷺ کے پاس گزاریں گے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم میں سے واقعی کسی کو انشراح صدر ہوجائے اور وہ دل سے ایمان لے آئے۔ لہٰذا وہ طے کر کے گئے کہ دیکھو ‘ ان پر ایمان نہیں لانا ہے ‘ صرف ایمان کا اعلان کرنا ہے۔ قرآن مجید میں یہ شعوری نفاق کی مثال ہے۔ یعنی جو وقت انہوں نے اپنے ایمان کا اعلان کرنے کے بعد مسلمانوں کے ساتھ گزارا اس میں وہ قانوناً تو مسلمان تھے ‘ اگر اس دوران کوئی ان میں سے مرجاتا تو اس کی نماز جنازہ بھی پڑھی جاتی ‘ لیکن خود انہیں معلوم تھا کہ ہم مسلمان نہیں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

64 چوتھی کوشش ان کی یہ تھی کہ وہ ایک دوسرے کو اس بات کی تاکید کرتے تھے کہ خبردار اپنے دین پر پکے رہنا، دوسرے کسی مذہب والے کی پیروی نہ کرنا، تم مسلمانوں کی باتیں سنو مگر قبول وہی کرو جو تمہارے اپنے مذہب کے مطابق ہوں۔ اور خبردار ! انہیں تورات کی کوئی ایسی بات بھی نہ بتلانا جو تمہارے اپنے خلاف جاتی ہو۔ ورنہ وہ قیامت کو اللہ کے حضور یہ کہہ دیں گے کہ ان باتوں کا تو یہ یہود خود بھی اقرار کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں اپنے پیارے پیغمبر سے فرمایا کہ ان سے کہہ دیجئے کہ تم جو ہدایت کے ٹھیکیدار بنے پھرتے ہو تو یہ تو بتلاؤ کہ یہ ہدایت تمہیں ملی کہاں سے ہے ؟ اور اگر اللہ ہی کی طرف سے ملی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

165 ۔ یعنی حقیقۃ اور دل سے تصدیق تو بس اپنے ہی والوں کی کیا کرو۔ وہی یہود کا قول چل رہا ہے۔ 166 ۔ (جواب اسلام کے نام ظاہر ہوئی ہے اور جس کی صداقت پر دلائل عقلی ونقلی قائم ہیں نہ کہ تمہارے محدثات ومخترعات) (آیت) ” قل “۔ میں خطاب پیغمبر (علیہ السلام) سے ہے، اور یہ فقرہ کلام یہود کے جواب میں ہے۔ 167 ۔ (اور اسی ڈر سے سہمے جارہے ہو) (آیت) ” مثل ما اوتیتم “۔ یعنی دولت نبوت، خطاب قوم یہود سے ہے۔ یعنی تمہیں اصل خلش تو بس اس کی ہے کہ انبیاء تو ہمیشہ ہماری نسل وقوم سے پیدا ہوتے رہے ہیں اب ایک عرب اور اسمعیلی کو یہ دولت کیسے ملی جارہی ہے۔ (آیت) ” یحآجوکم عند ربکم “۔ یعنی قیامت کے دن مسلمان یہود پر یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

وَلَا تُؤْمِنْوا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَکُمْ ، یعنی یہ بھی انہوں نے آؤس میں کہا کہ تم ظاہری طور پر تو اسلام کا اظہار ضرور کرو لیکن اپنے ہم مذہب یہودی کے سوا کسی اور کی بات پر یقین مت کرو۔ قُلْ اِنَّ الْھُدیٰ ھُدی اللہِ ، یہ ایک جملہ معترضہ ہے جس کا ماقبل ومابعد سے کوئی تعلق نہیں ہے صرف ان کے مکرو حیلے کی اصل حقیقت واضح کرنا مقصود ہے ان کے ان حیلوں سے کچھ نہیں ہوگا کیوں کہ ہدایت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو ہدایت دینا چاہے تمہارے حیلے اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ اَنْ یُّؤْیٰی اَحَدٌ مِّثْلَ مَآ اُوْتِیْتُمْ (الآیۃ) یہ بھی یہود کا قول ہے اور اسکا عطف وَلاَ تؤْمنوا پر ہے۔ یعنی یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَلَا تُؤْمِنُوْٓا : اور دل سے نہ ماننا۔ اس کا عطف امنوا پر ہے یعنی دل سے نہ ماننا اور کسی کو سچا نہ جاننا۔ اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِيْنَكُمْ : مگر انہی لوگوں کو جو تمہارے دین پر چلیں، یا یہ مطلب ہے کہ شروع دن میں اپنے ایمان کا اظہار انہی لوگوں پر کرنا جو پہلے تمہارے ہم مذہب تھے کیونکہ انہی سے سابق مذہب کی طرف لوٹنے کی زیادہ امید ہوسکتی ہے اور انہی کی اہمیت بھی ہے یہ بھی ممکن ہے کہ لا تو منوا اکفرو کا بیان ہو یعنی دن کے آخرحصہ میں اسلام کا انکار کردینا اور سوائے اپنے ہم مذہب لوگوں کے کسی کی بات کو نہ ماننا۔ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى ھُدَى اللّٰهِ : اے محمد ﷺ آپ کافروں سے کہہ دیں کہ مسلمانوں کو جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 73–74

(73۔ 74) اور نبوت میں کسی کی بھی تصدیق مت کرو، مگر یہ کہ جو افراد یہودیت اور تمہارے قبلہ بیت المقدس کی پیروی کریں۔ اب اللہ تعالیٰ ان کی اس دلیل کے فضول ہونے کا اظہار فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ آپ ان یہودیوں سے فرمادیجئے کہ دین الہی وہ تو اسلام ہے اور قبلہ خداوندی بیت اللہ ہے اور تم اے اہل کتاب ایسی باتیں اس لیے کرتے ہو کہ کسی اور کو ایسا دین اور ایسا قبلہ ملا ہے جیسا کہ اصحاب رسول اکرم ﷺ کو یہ بطور نعمت ملا ہے، ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ یہود قیامت کے دن اس دین اور اس قبلہ میں تم سے دشمنی کرسکیں گے، آپ فرمادیجیے کہ بیشک نبوت واسلام اور قبلہ ابراہیمی کی عطا اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے اور وہ جسے چاہتا ہے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 73–74

وَلَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِيْنَكُمْ۔۔ : یہ بھی ان گروہوں کا کلام ہے جن کا ذکر چلا آ رہا ہے اور اس سے ان کا مذہبی تعصب اور حسد ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اپنے متبعین کو تاکید کرتے رہتے ہیں : (وَلَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِيْنَكُمْ) امام طبری نے اس کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ اپنے ہم مشرب کے سوا کسی کی بات پر یقین نہ کرو، نہ یہ تسلیم کرو کہ تمہاری طرح کسی اور کو بھی نبوت دی جاسکتی ہے اور نہ یہ مانو کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے حضور جا کر تم پر کوئی حجت قائم کرسکیں گے۔ اس صورت میں (قُلْ اِنَّ الْهُدٰى ھُدَى اللّٰهِ) جملہ معترضہ ہوگا اور اس کا ربط (قُلْ اِنَّ الْهُدٰى ھُدَى…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 73۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولا تؤمنوا الا لمن تبع دینکم “ یہ نہی ہے اور یہ یہود کے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کلام میں سے ہے یعنی ان کے روساء نے سفلہ اور گھٹیا لوگوں کو کہا۔ اور سدی نے بیان کیا ہے : یہ خیبر کے یہودیوں کی مدینہ طیبہ کے یہودیوں کے ساتھ گفتگو میں سے ہے۔ اور یہ آیت اس سورة میں مشکل ترین آیت ہے۔ اور حسن اور مجاہد سے مروی ہے کہ آیت کا معنی ہے : تم کسی کی بات نہ مانو سوائے ان کے جو تمہارے دین کی پیروی کرتے ہیں اور تم یہ نہ مانو کہ وہ تم پر تمہارے رب کے پاس کوئی حجت لا سکتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس کوئی حجت ہے ہی نہیں، پس دین کے اعتبار سے تم ان سے زیادہ صحیح ہو۔ ان اور (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 70–75

(1) عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وامن اھل الکتب من ان تامنہ بقنطار یؤدہ الیک “ جو بڑا خزانہ واپس کردیتے ہیں وہ نصاری ہیں اور لفظ آیت ” ومنہم من ان تامنہ بدینار لا یؤدہ الیک “ اور وہ جو واپس نہیں کرتے وہ یہودی ہیں لفظ آیت ” الا ما دمت علیہ قائما “ یعنی مگر یہ کہ تو اس سے طلب کرتا رہے اور اس کے پیچھے لگا رہے۔ (2) ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومنہم من ان تامنہ بدینار الا یؤدہ الیک “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ کے صحابہ ؓ کے اموال کو روک لیں اور وہ اہل کتاب حکم دئیے گئے کہ ہم مسلمان کو اس کا حق ادا کریں۔ (3) ابن ابی حاتم نے مالک بن دینار (رح) سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلاَ تُؤْمِنُوْآ : اور (جماعت نے کہا) تم لوگ بات مت مانو ] [اِلاَّ : مگر ] [لِمَنْ : اس کی جو ] [تَبِعَ : چلا دِیْنَـکُمْ : تمہارے دین پر ] [قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [اِنَّ : یقینا ] [الْہُدٰی : اصل ہدایت ] [ہُدَی اللّٰہِ : اللہ کی ہدایت ہے ] [اَنْ : (اور نہ مانو) کہ ] [یُّؤْتٰٓی : دیا جائے گا ] [اَحَدٌ : کسی ایک کو ] [مِّثْلَ مَآ : اس کے جیسا جو ] [اُوْتِیْتُمْ : دیا گیا تم کو ] [اَوْ : یا ] [یُحَآجُّوْکُمْ : (یہ کہ) وہ لوگ حجت کریں گے تم سے ] [عِنْدَ رَبِّکُمْ : تمہارے رب کے پاس ] [قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [اِنَّ : یقینا ] [الْفَضْلَ : فضل ] [بِیَدِ اللّٰہِ : اللہ کے ہاتھ میں ہے ] [یُؤْتِیْہِ : وہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 73–74

اس کے بعد یہودیوں کی ایک اور بات کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ انہوں نے آپس میں یوں کہا (وَ لَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَکُمْ ) کہ تمہارا جو دین یہودیت ہے اس دین پر مضبوطی کے ساتھ جمنے کا اقرار ان ہی لوگوں کے سامنے کرنا جو تمہارے دین کے تابع ہیں۔ یعنی اپنا اندرونی عقیدہ اپنے ہی لوگوں کے سامنے بیان کرنا۔ اور مسلمانوں کو دین اسلام سے پھیر نے کے لیے اوپر اوپر سے یہ کہہ دینا کہ ہم نے تمہارا دین قبول کرلیا (اندر سے اپنے عقیدہ پر رہنا) پھر ظاہری طور پر بھی یوں کہہ دینا کہ ہم اپنے دین پر واپس آگئے حالانکہ دل سے انہوں نے اپنا دین چھوڑا ہی نہیں تھا۔ یہ ان کا مکر تھا۔ اور بعض مفسرین نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–80

قال تعالیٰ ودت طائفۃ من اھل الکتب لو یضلونکم۔۔۔ الی۔۔ ایا مرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل کتاب سے مناظرہ اور مباہلہ کا بیان تھا کہ یہ لوگ نہ تو کسی دلیل کو مانتے ہیں اور نہ مباہلہ پر آمادہ ہوتے ہیں معلوم ہوا کہ حق کی تحقیق مقصود نہیں بلکہ مقصود شرارت اور فتنہ پردازی ہے اس لیے آئندہ آیات میں یہود کی کچھ شرارتوں اور عداوتوں اور دغا بازیوں اور فریب کاریوں کو بیان کرتے ہیں کہ کس کس طرح سے یہ لوگ حق اور باطل کو خلط ملط کرنے میں مکر اور فریب سے کام لیتے ہیں یہ لوگ خوب جانتے ہیں کہ تم حق پر اور سیدھے راستہ پر ہو مگر یہ لوگ تم کو دھوکہ دے کر گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ دور تک یہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 73–74

100 یہ بھی ان منصوبا باز احبار یہود ہی کا قول ہے البتہ قُلْ اِن ھُدَی ھُدَی اللہِ جملہ معترضہ ہے جو قول یہود کا جواب ہے اور اَنْ یُّؤْتیٰ جملہ استفہامیہ ہے اور ہمزہ استفہام محذوف ہے۔ اصل ءَ اَنْ یُّؤْتیٰ تھا جیسا کہ ابن کثیر کی قراءت میں ہے لیکن یہ استفہام انکاری ہے۔ اور اَوْیُحَاجُّوْکُمْ ، یُؤْتیٰ پر معطوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہودیوں نے آپس میں طے کیا کہ ظاہری طور پر اسلام کا اظہار تو مسلمانوں کے سامنے کردینا لیکن صدق دل سے اس کو نہ ماننا اور نہ ہی اپنے دین کے متبعین کے علاوہ کسی کی یہ بات ماننا کہ تمہارے دین کی طرح کسی اور کا دین ہے یا تمہاری کتاب کی طرح کسی اور دین والوں کے پاس بھی کوئی سچی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 72–74

ربط آیات : گذشتہ درس کی طرح آج کے درس میں بھی اہل کتاب یعنی یہود و نصاری کے برے خصائل کا تذکرہ ہے۔ ان آیات کا مصداق مدینے کے ارد گرد بسنے والے یہودی خاص طور پر ہیں۔ اب تک اہل کتاب کی دینی خیانت کا تذکرہ ہورہا ہے۔ آج کا درس بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ تاہم آئندہ آنے والے درس سے اہل کتاب کی دنیوی خیانت کا بیان ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ دینی طور پر بھی خائن ہیں اور دنیوی طور پر بھی ایسے ہی ہیں۔ گذشتہ سے پیوستہ درس میں یہ بیان ہوا تھا۔ کہ اہل کتاب کی خواہش اور کوشش یہ ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کو ان کے دین سے پھیر دیں ۔ اس سلسلہ میں وہ ہر حیلہ اختیار کرنے پر کمر بستہ رہتے ہیں آج کے درس میں ان کی ایک…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِــعَ دِيْنَكُمْ۝ 0 ۭ قُلْ اِنَّ الْہُدٰى ھُدَى اللہِ۝ 0 ۙ اَنْ يُّؤْتٰٓى اَحَدٌ مِّثْلَ مَآ اُوْتِيْتُمْ اَوْ يُحَاۗجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ۝ 0 ۭ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللہِ۝ 0 ۚ يُؤْتِيْہِ مَنْ يَّشَاۗءُ۝ 0 ۭ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ۝ 73 ۚۙ دين والدِّينُ يقال للطاعة والجزاء، واستعیر للشریعة، والدِّينُ کالملّة، لكنّه يقال اعتبارا بالطاعة والانقیاد للشریعة، قال إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] ( د ی ن ) دين الدین کے معنی طاعت اور جزا کے کے آتے ہیں اور دین ملت کی طرح ہے لیکن شریعت کی طاعت اور فرمانبردار ی کے لحاظ سے اسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 68–74

ترکیب : اولی اسم تفضیل ہے ولی یلی بمعنی قریب شدن سے یہ اسم ان کا ‘ بابراھیم متعلق ہے اولی سے للذین مع معطوف خبر ان لویضلون میں لو مصدریہ ہے بمعنی آن۔ الالمن تبع استثناء ہے ما قبل سے ای لاتقروالالمن پس لازم زائد نہیں اور ممکن ہے کہ زائد اور محمول علی المعنی ہو۔ ای احجدوا کل احد الامن۔ ان یوتی میں تین احتمال ہیں (1) یہ کہ موضع جر میں ہو تقدیرہ ولا تو منوابان یوتی احد الخ (2) نصب حرف جر کو حذف مان کر ان صورتوں میں یہ تتمہ کلام یہود کا ہوگا کہ تم اے یہود کسی غیر سے یہ نہ کہو کہ ہماری کتاب اور ملت کے مانند کسی اور کو بھی ملا ہے (اویحا جو کم کا عطف ان یوتی پر ہوگا اور او بمعنی و) ایسا نہ ہو کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 73–74

وَلاَ تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَـکُمْ ط قُلْ اِنَّ الْہُدٰی ھُدَی اللّٰہِ لا اَنْ یُّؤْتٰٓی اَحَدٌ مِّثْلَ مَـآ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْکُمْ عِنْدَ رَبِّـکُمْ ط قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِاللّٰہِ ج یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ ج لا یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔ (اور نہ مانو کسی کی بات سوائے ان کے جو تمہارے دین کی پیروی کریں۔ ان سے کہئے کہ اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اس طرح کی چیز کسی اور کو بھی مل جائے جیسی تمہیں دی گئی ہے یا وہ حجت لاسکیں تم پر تمہارے رب کے حضور۔ ان سے کہئے بیشک فضل تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 70–73

فہم القرآن ربط کلام : کسی کے نعروں اور دعو وں سے دھوکہ کھانے اور اعتماد کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی پیروی کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل کسی شخص کی ذات یافرقہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی رحمت کی بدولت ہوا کرتا ہے۔ اہل کتاب رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے کے باوجود فکر مند رہتے تھے کہ مسلمانوں کی تعداددن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ جو شخص بھی آپ سے ملاقات کرتا اور قرآن سنتا ہے وہ آپ ہی کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ اہل کتاب کے سامنے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں اس کی طویل لسٹ تھی۔ اکثریہ ہوا کہ اہل مکہ اور اہل کتاب کا نمائندہ بن کر جانے والاشخص آپ کی پرجمال شخصیت اور دل ربا گفتگو سن کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

یہود کا جھوٹا زعم کہ تورات جیسی کتاب کسی کو نہیں مل سکتی : 73: وَلَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَکُمْ قُلْ اِنَّ الْھُدٰی ھُدَی اللّٰہِ اَنْ یُّؤْتٰٓی اَحَدٌ مِّثْلَ مَآ اُوْتِیْتُمْ اَوْیُحَآجُّوْکُمْ عِنْدَ رَبِّکُمْ قُل اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰہِ یُؤْ تِیْہِ مَنْ یَّشَآ ئُ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ (اور نہ تم اعتماد کرو مگر اسی کا جو تمہارے دین کی اتباع کرے۔ کہہ دیں بیشک حقیقی ہدایت اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے ایسی باتیں اس لیے کرتے ہو کہ کسی اور کو بھی ایسی چیز مل رہی ہے جیسی تم کو ملی تھی) پہلا مطلب : نحو : وَلَا تُؤْمِنُوْٓ ا کا تعلق اَنْ یُّؤْتٰٓی اَحَدٌ مِّثْلَ مَآ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 73۔: (آیت)” ولا تؤمنوا الا لمن تبع دینکم “۔ اس کا عطف ما قبل ” امنوا “ پر ہے جہاں یہود کا قول بعض کا بعض کے ساتھ ہے (آیت)” ولا تؤمنوا “ مطلب یہ ہے ” ولا تصدقوا “ کہ تم تصدیق نہ کرو (آیت)” الا لمن تبع دینکم “ مگر انہی لوگوں کو جو تمہارے دین پر چلیں اس کا مطلب ” وافق ملتکم “ جو تمہاری ملت کے موافق ہے ۔ (آیت)” لمن “ میں لام ” من “ موصولہ پر داخل ہے، مطلب یہ ہوگا (آیت)” لا تصدقوا الا لمن تبع دینکم الیھودیۃ “ تم ان کی تصدیق نہ کرنا مگر وہ لوگ جو تمہارے دین یہود کا اتباع کریں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” قل عسی ان یکون ردف لکم “۔ اس کا معنی ہے ” ردفکم “ یہاں لام زائدہ ہے جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 73–74

(73 ۔ 74) ۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں ابی مالک سے روایت ہے کہ اس آیت کے دو ٹکڑے ہیں پہلا ٹکڑا علماء یہود کا ہے کہ وہ اپنے قوم کے ان پڑھ لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ دیکھو اپنے دین والے کے سوا کسی کی بات کو ہرگز نہ ماننا۔ دوسرا ٹکڑا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کے جواب میں اتارا ہے کہ ان سے اے نبی اللہ کے تم کہہ دو کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے 2۔ ایسی باتوں سے وہ اللہ کی ہدایت کو ہرگز روک نہیں سکتے چناچہ وہی ہوا کہ اللہ کی ہدایت دن بدن پھیل کر اسلام بڑھتا گیا اور یہود حسد اور عداوت میں خوار اور ذلیل ہوتے گئے چند انہوں نے آنحضرت ﷺ کے اوصاف کو تورات میں مذکور تھے چھپایا ان پڑھ یہود کو غیر دین کی بات ماننے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 69–74

اللہ تعالیٰ مومنوں کو اہل کتاب کے اس خبیث گروہ کی مکاریوں سے متنبہ فرما رہا ہے کہ ان کی خواہش یہی ہے کہ تمہیں گمراہ کردیں۔ جیسے ارشاد ہے ترجمہ :” اہل کتاب کے اکثر لوگ تمہیں ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بنا دینے کی خواہش رکھتے ہیں “ اور جسی کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے وہ اسے حاصل کرنے کے لئے جدوجہد بھی کرتا ہے۔ یہ گروہ بھی پوری کوشش کرتا ہے کہ مومنوں کو مرتد کردے۔ اس مقصد کے لئے وہ لوگ ہر ممکن طریقے سے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ اللہ کا فضل ہے کہ بری تدبیریں کرنے والا اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا : ترجمہ ” دراصل وہ خود اپنے آپ کو گمراہ کررہے ہیں “ مومنوں کو گمراہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–75

قول باری ہے (ومن اھل الکتب من ان تامنہ بقنطاریؤدہ الیک، اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال ودولت کا ایک ڈھیر بھی دے دوتو وہ تمھارامال تمہیں اداکردے گا) یہاں لفظ (بقنطار) کے معنی، علی قنطار، کے ہیں اس لیے کہ اس جیسے موقع پر حرف باء اور حرف علی ایک دوسرے کے متعاقب ہوتے ہیں۔ مثلا آپ یہ کہتے ہیں، مررت بفلان ومررت علیہ، (میراگذرفلاں کے پاس سے ہوا، میراگذرفلاں پر ہوا) قنطار کے متعلق حسن سے مروی ہے کہ ایک ہزاردوسومثقال ہوتا ہے (ایک مثقال عرف میں ڈیڑھ درہم کے وزن کا ہوتا ہے) ابونضرہ کا قول ہے کہ بیل کی کھال میں بھرے ہوئے سونے کی مقدارکوقنطارکہتے ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 71–75

145 لبس حق بالباطل اور کتمان حق کی سنگینی کا ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کرنا اور حق کو چھپانا ایک بڑا سنگیں جرم ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کرنا اور حق کو چھپانا اور جان بوجھ کر ایسے کرنا ایک اور سنگیں اور ہولناک یہودی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان لوگوں کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ تم لوگ ایسا کیوں کرتے ہو جبکہ تم خود جانتے ہو کہ حق کیا ہے اور باطل کیا۔ اور یہ کہ حق کو چھپانا اور اس کو باطل سے گڈ مڈ اور خلط ملط کرنا کتنا بڑا اور کس قدر سنگین جرم ہے۔ تو پھر اس سب کے باوجود تم لوگ " لَبْس حق بالْبَاطِل " اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 73–74

اہل کتاب کا حسد تشریح : ان آیات میں وضاحت کی گئی ہے کہ ہدایت تو اللہ کے دینے سے ملتی ہے۔ اہل کتاب کی سازشوں سے نور ہدایت ختم نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان اہل کتاب کو سمجھا دو کہ نبوت پہلے ان کے پاس تھی اب بنی اسماعیل میں چلی گئی ہے مگر ان لوگوں کو حسد اور بغض نے پاگل کر رکھا ہے اور وہ اسی میں پریشان ہو رہے ہیں کہ نبوت ہم سے کیوں چھینی گئی۔ ان کا خیال تھا کہ نبوت کے حقدار تو صرف یہی لوگ ہیں عرب کے ان پڑھ لوگوں کا نبوت سے کیا واسطہ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ وسیع علم و فضل رکھنے والا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کس کو کس وقت کیا بڑائی، عزت اور عظمت ملنی چاہئے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 72–80

آیات 72- 80 اسرارومعارف وقال طائفۃ من اھل الکتاب………… واللہ ذوالفضل العظیم۔ یہودکی سازش خلافت راشدہ سے لے کر کربلا تک : چنانچہ یہود نے مسلمانوں کو راہ حق سے بہکانے کی ایک تجویز سوچی اور وہ یہ کہ اسلام قبول کرلو ، مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوجائو اور پھر کوئی نہ کوئی اعتراض کرکے مسلمان ہونے سے انکار کردو اس طرح ممکن ہے مسلمانوں کے ذہنوں میں بھی شک پیدا ہوجائے اور وہ اسلام سے کفر کی طرف لوٹ جائیں۔ یہودکی یہی کوشش بالآخر عبداللہ ابن سبا کی صورت میں تاریخ عالم پہ ابھری اور شہادت عثمان غنی ؓ سے لے کر ہزاروں مسلمانوں کو خاک وخون میں ملا گئی آخر حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی اسی کا شکار بنے اور سانحہ کربلا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یہ بھی ان ظائفوں کا کلام ہے جن کا اوپر سے ذکر چلا آرہا ہے اور اس سے ان کا مذہبی تعصب اور حسد ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے متبعین کو تاکید کرتے رہتے ہیں۔ الخ مترجم (رح) توضیحات سے آیت کو جو مفہوم ظاہر ہوتا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جملہ ان یئوتی ٰ اور او یحاجو کم کا تعلق لاتومنوا سے ہے ای لئلایوتی اولئلا یحاجو کم مگر امام طبری (رح) نے ایک دوسری توجیہ اختیار کی ہے اور وہ یہ کہ دونوں جملے لا تومنوا کے تحت ہیں اور معنی یہ ہیں کہ اپنے مشروب کے سوا کسی کی بات پر یقین نہ کرو نہ یہ تسلیم کرو کہ تمہاری طرح کسی کو علم وفضل ملا ہے اور نہ یہ مانو کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے حضور جا کر تم پر کوئی حجت قائم کرسکیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:73) طائفۃ من اہل الکتاب۔ کا خطاب اہل کتاب کے دوسرے اشخاص سے ہے۔ جو اسی طائفہ کے ہم مذہب ہیں۔ (3:73) ولا تؤمنوا الا لمن تبع دینکم۔ قل ان الھدی ھدی اللہ ان یؤتی احد مثل ما اوتیتم او یحاجوکم عند ربکم۔ مفسرین نے اس کو مشکل ترین آیت سمار کیا ہے (ضیاء القرآن) وقال الواحدی ان ھذہ الایۃ من مشکلات القران واصعبہ تفسیرا۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) اہل یہود کے طائفہ کا قول جو آیہ ماقبل (3:72) میں دیا گیا ہے اس آیۃ کے ساتھ ہی ختم ہوگیا اور ولا تؤمنوا سے اللہ تعالیٰ کا کلام شروع ہوجاتا ہے۔ یحتمل ان یکون الخبر عن الیہود قد تم عند قولہ لعلہم یرجعون ۔ وقولہ ولا تؤمنوا “ من کلام اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 72–74

لغات القرآن آیت نمبر 72 تا 74 وجھ النھار (صبح کا وقت) تبع (جس نے اتباع کی) ان یوتیٰ (یہ کہ دیا جائے) اوتیتم (تمہیں دیا گیا) یحاجوا (وہ جھگڑیں گے) الفضل (رحم وکرم) یختص (وہ خاص کرتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 72 تا 74 ان آیتوں میں اور اس سے بعد کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں اور عیسائیوں کے مکروفریب، بددیانتی اور شرارتوں سے مومنوں کو ہوشیار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ان میں بعضوں نے یہ شرارت کرنے کا ارادہ کیا ہے کہ کچھ لوگ صبح کو قرآن کریم پر ایمان لے آئیں دن مسلمانوں کے ساتھ رہیں پھر شام کو اسلام کو چھوڑ کر پھر اپنے لوگوں میں آملیں۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ جب شام کو ایک کثیر جماعت یہ کہتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 73–74

تفسیر ابن ابی حاتم میں ابی مالک سے روایت ہے کہ اس آیت کے دو ٹکڑے ہیں : (1) پہلا ٹکڑا علماء یہود کا ہے کہ وہ اپنی قوم کے ان پڑھ لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ دیکھو اپنے دین والے کے سوا کسی کی بات ہرگز نہ ماننا۔ (2) دوسرا ٹکڑا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کے جواب میں اتارا ہے کہ ” ان سے اے نبی اللہ کے ! تم کہہ دو کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے، ایسی باتوں سے وہ اللہ کی ہدایت کو نہیں روک سکتے “۔ چناچہ وہی ہوا کہ اللہ کی ہدایت دن بدن پھیل کر اسلام بڑھتا گیا اور اور یہود حسد وعداوت میں ذلیل و خوار ہوتے گئے۔ ہرچند انہوں نے آنحضرت ﷺ کے اوصاف کو جو توریت میں مذکور تھے چھپایا اور ان پڑھ یہود غیر دین کی بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 70–74

[29] یعنی اللہ کی وہ آیتیں جو تمہاری اپنی کتابوں میں موجود ہیں اور جن میں نبوت محمدی کی پوری پوری علامتیں اور بشارتیں درج ہیں اور جن پر تمہارا دل گواہی دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 73–74

(ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ یہودیوں کی مخالفت محض اس بنا پر تھی کہ مسلمان کیوں اس نعمت اسلام ہے سے بہرہ اندوز ہیں یعنی بجز تعصب کے نہ روکے ، اور کوئی چیز انہیں اسلام کی صداقتوں کے قبول کرنے سے نہیں روکتی ، وہ نہیں سوچتے کہ یہ خدا کی دین ہے ، جسے محروم رکھے ، اس کی مصلحتوں کو اس کے سوا اور کون جانتا ہے ۔ حل لغات : قنطار : خزانہ ، مال کثیر ۔ سبیل : اصل معنی راہ اور راستے کے ہیں ، یہاں مراد ہے کہ ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ، کوئی طریق اعتراض والزام نہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2۔ اور اہل کتاب میں سے کچھ لوگوں نے آپس میں کہا اور باہم مل کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک سازش کی کہ اس نبی کے ماننے والوں یعنی مسلمانوں کی جانب جو کتاب نازل ہوئی اس پر ظاہری طور پر دن کے ابتدائی حصہ میں یعنی صبح کے وقت ایمان لے آئو پھر دن کے آخری حصہ میں یعنی شام کو اسی کتاب کا انکار کردو۔ شاید اس تدبیر سے مسلمان اپنے دین سے بھر جائیں اور انہوں نے آپس میں یہ بھی کہا کہ دیکھو سوائے اس شخص کے جو تمہارے دین کا پیرو ہو اس بارے میں کسی اور یقین نہ کرنا یعنی سوائے یہود کے کسی اور کو یہ بھید نہ بتانا۔ اے پیغمبر ﷺ آپ ان سے یہ کہہ دو کہ ان لچر تدبیروں سے کچھ نہیں ہوتا یقین جانو ہدایت تو وہی ہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ حاصل آیت یہ ہوا کہ تم کو مسلمانوں سے حسد ہے کہ ان کو آسمانی کتاب کیوں مل گئی یا یہ لوگ ہم پر مذہبی مناظرہ میں کیوں غالب آتے ہیں، اس حسد کی وجہ سے اسلام اور اہل اسلام کے تنزل کی کوشش کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اہل کتاب کی مذکورہ اسکیم کا بقیہ حصہ : 150: اہل کتاب کی اسکیم کا بقیہ حصہ اس طرح ہے کہ ” وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان لوگوں کے سوا جو تمہارے دین کی پیروی کرنے والے ہوں اور کسی کی بات نہ مانو۔ “ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو اس طرح تفہیم کراتے کہ حقیقی ایمان تمہارا صرف اس نبی پر ہو جو شریعت اسرائیتے کا پیرو ہو۔ پس جب کہ ایک طرف بعض لوگوں کو اس چالبازی کے لیے تیار کیا کہ وہ جھوٹے طور پر ایمان کا اظہار کر کے پھر انکار کردیں یا کچھ حصہ کو صحیح تسلیم کرلیں تو دوسری طرف اپنے پیروؤں کو یہ بھی کہہ دیا کہ تم صرف ایسے نبی کو مانو جو تمہاری شریعت کا پیرو ہو اور اس طرح نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے سے روکا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 72–74

Some from among the people of the Book chose a strategy of deception in order to mislead Muslims. According to their agreed plan, they would declare their belief in the Qur'an in the morning and then reject it in the evening. They thought that this quick about-turn would create doubts in the minds of Muslims about Qur'an and Islam and they might turn away from their faith thinking that there must be something wrong with Islam visible to such learned people who were open-minded enough to accept it first. They also made it a point to re-serve their feinted declaration of belief in Islam to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

62. The word wasi' which is used here occurs in the Qur'an in three contexts. The first context is the narrow-mindedness and mean outlook of certain people, in contrast to which God is not 'narrow'. The second context is the denunciation of miserliness, meanness and niggardliness, in contrast to which God is Generous and Munificent. The third context is the ascription of finite, limited concepts to God as a result of their limitedimagination, whereas the truth is that God is infinite (see Surah 2, n. 116 above) .

Read the full tafseer →