Explained with ayahs 69–74
یہودیوں کا حسد
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ان یہودیوں کے حسد کو دیکھو کہ مسلمانوں کیسے جل بھن رہے ہیں۔ انہیں بہکانے کی کیا کیا پوشیدہ ترکیبیں کر رہے ہیں کیسے کیسے مکرو فریب کے جال بچھاتے ہیں، حالانکہ دراصل ان تمام چیزوں کا وبال خود ان کی جانوں پر ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں۔ پھر انہیں ان کی یہ ذلیل حرکت یاد دلائی جا رہی ہے کہ تم سچائی جانتے ہوئے بھی حق کو پہچانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی آیات سے یہ منکر ہو رہے ہو۔ علم کے باوجود یہ بدخصلت بھی ان میں ہے۔ کہ حق و باطل کو ملا دیتے ہیں، اور ان کی کتابوں میں جو صفیں رسول اللہ ﷺ کی ہیں ان کو چھپالیتے ہیں۔ بہکانے کی جو صورتیں بناتے ہیں ان میں سے ایک یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
سورة اٰلِ عِمْرٰن 61
یہ ان چالوں میں سے ایک چال تھی جو اطراف مدینہ کے رہنے والے یہودیوں کے لیڈر اور مذہبی پیشوا اسلام کی دعوت کو کمزور کرنے کے لیے چلتے رہتے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کو بد دل کرنے اور نبی ﷺ سے عامہ خلائق کو بدگمان کرنے کے لیے خفیہ طور پر آدمیوں کو تیار کر کے بھیجنا شروع کیا تاکہ پہلے علانیہ اسلام قبول کریں، پھر مرتد ہوجائیں، پھر جگہ جگہ لوگوں میں یہ مشہور کرتے پھریں کہ ہم نے اسلام میں اور مسلمانوں میں اور ان کے پیغمبر میں یہ اور یہ خرابیاں دیکھی ہیں تب ہی تو ہم ان سے الگ ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
خلاصہ تفسیر
اور بعضے لوگوں نے اہل کتاب میں سے (بطور مشورہ باہم) کہا کہ (مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک تدبیر ہے کہ ظاہرا) ایمان لے آؤ اس (کتاب) پر جو نازل کی گئی ہے (بواسطہ رسول اللہ ﷺ کے) مسلمانوں پر (مراد یہ کہ قرآن پر ایمان لے آؤ) شروع دن میں (یعنی صبح کے وقت) اور (پھر) انکار کر بیٹھو آخر دن (یعنی شام کو) عجب کیا (اس تدبیر سے مسلمانوں کو بھی قرآن اور اسلام کے حق میں شبہ پڑجائے اور) وہ (اپنے دین سے) پھر جاویں، (اور یہ خیال کریں کہ یہ لوگ علم والے ہیں اور بےتعصب بھی ہیں کہ اسلام قبول کرلیا، اس پر بھی جو پھرگئے تو ضرور اسلام کا غیر حق ہونا ان کو دلائل علمیہ سے ثابت ہوگیا ہوگا، اور ضرور انہوں…
Read the full tafseer →اہل کتاب کی اس سازش کا ذکر کرتے ہوئے قرآن نے اس بات کی تصریح فرما دی ہے کہ یہ ان کے ایک مخصوص گروہ کی سازش ہے۔ یہ تصریح اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن اپنے مخالفین کے جرائم بیان کرتے ہوئے بھی حق و انصاف کے حدود سے سرِ مو تجاوز نہیں کرتا۔ اگر ایک جرم مخالف گروہ کی کسی مخصوص پارٹی ہی کا جرم ہے تو وہ اس کی ذمہ داری اسی پارٹی پر ڈالتا ہے، یہ نہیں کرتا کہ چند کی شرارت کی ذمہ داری مخالفت کے جوش میں پورہ قوم پر اڑھا دے۔ بہ انصاف پسندی صداقت کے عام نصب العین سے قطع نظرت دعوت حق کے نقطہ نظر سے بھی نہایت بابرکت اور نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے۔ آگے اس کی بعض نہایت موثر مثالیں آرہی ہیں۔
منافقانہ شرارت کی ایک خاص…
Read the full tafseer →72۔ 1 یہ یہودیوں کے ایک اور مکر کا ذکر ہے۔ جس سے وہ مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے تھے کہ انہوں نے باہم طے کیا کہ صبح کو مسلمان ہوجائیں تاکہ مسلمانوں کے دلوں میں بھی اپنے اسلام کے بارے میں شک پیدا ہو کہ یہ لوگ قبول اسلام کے بعد دوبارہ اپنے دین میں چلے گئے ہیں تو ممکن ہے کہ اسلام میں ایسے عیوب اور خامیاں ہوں جو ان کے علم میں آئی ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
28: بعض یہودیوں نے مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لئے یہ اسکیم بنائی تھی کہ ان میں سے کچھ لوگ صبح کے وقت اسلام لانے کا اعلان کردیں اور پھر شام کو یہ کہہ کر اسلام سے پھرجائیں کہ ہم نے آنحضرت ﷺ کو قریب سے جاکر دیکھ لیا، آپ وہ پیغمبر نہیں ہیں جن کی خبر تورات میں دی گئی تھی، ان کا خیال تھا کہ اس طرح کچھ مسلمان یہ سوچ کر اسلام سے برگشتہ ہوسکتے ہیں کہ یہ لوگ جو تورات کے عالم ہیں جب اسلام میں داخل ہونے کے بعد بھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں تو ان کی بات میں ضرور وزن ہوگا۔
Read the full tafseer →کس قدر مکارانہ طریق کار ہے یہ ؟ جیسا کہ ہم نے کہا یہ لوگ ایسے اوچھے ہتھیار بھی استعمال کرتے تھے ۔ اس لئے کہ اسلام لانا اور پھر اسلام سے پھرجانا ‘ اس لئے ممکن تھا کہ بعض کمزور طبع لوگ ‘ کم فہم لوگ ‘ ایسے لوگ جو زیادہ ثابت قدم نہ تھے ۔ اور جنہیں اپنے دین کی حقیقت کا بھی اچھی طرح علم نہ تھا ‘ وہ متاثر ہوسکتے تھے ۔ ان کے دل میں خلجان پیدا ہوسکتا تھا۔ خصوصاً عرب جو امی تھے ۔ اور ان میں یہ بات عام تھی کہ دین اور کتب سماوی کے بارے میں اہل کتاب ان سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ وہ ایمان لاتے ہیں اور پھر مرتد ہوجاتے ہیں تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دین میں کوئی خفیہ کمزوری یا نقص…
Read the full tafseer →2 ان آیتوں میں اہل کتاب کی چالاکیاں اور خیانتیں ذکر کی جا رہی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ تھی کہ اپنے کچھ آدمی صبح کے وقت بظاہر مسلمان بن جائیں اور مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھیں اور شام کو یہ کہہ کر کہ ہم کو اپنے بڑے بڑے علماء سے تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ وہ نبی نہیں جن کی بشارت دی گئی تھی اور تجربہ سے ان کے حالات بھی اہل حق کی طرح کے ثابت نہ ہوئے اسلام سے پھر جایا کریں، نتیجہ یہ ہوگا کہ بہت سے ضعیف الایمان ہماری یہ حرکت دیکھ کر اسلام سے پھرجائیں گے۔ اور سمجھ لیں گے کہ مذہب اسلام میں ضرور کوئی عیب و نقص دیکھا ہوگا جو یہ لوگ داخل ہونے کے بعد اس سے نکلے۔ نیز عرب کے جاہلوں میں اہل کتاب کے علم و فضل…
Read the full tafseer →آیت 72 وَقَالَتْ طَّآءِفَۃٌ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اٰمِنُوْا بالَّذِیْ اُنْزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْہَ النَّہَارِ وَاکْفُرُوْآ اٰخِرَہٗ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ
یہاں یہود کی ایک بہت بڑی سازش کا ذکرہو رہا ہے جو ان کے ایک گروہ نے محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو ناکام بنانے کے لیے مسلمانوں کے خلاف تیار کی تھی۔ اس سازش کا پس منظر یہ تھا کہ دنیا کے سامنے یہ بات آچکی تھی کہ جو کوئی ایک مرتبہ دائرۂ اسلام میں داخل ہوجاتا تھا وہ واپس نہیں آتا تھا ‘ چاہے اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جائے ‘ بھوکا پیاسا رکھا جائے ‘ حتیٰ کہ جان سے مار دیا جائے۔ اس طرح اسلام کی ایک دھاک بیٹھ گئی تھی کہ اس کے اندر…
Read the full tafseer →63 اسی سلسلہ میں ایک سازش یہ تیار کی گئی کہ یہود کے چند افراد اعلانیہ طور پر مسلمان ہوجائیں۔ پھر چند دنوں بعد یا اسی دن اسلام سے مرتد ہوجائیں۔ اس سازش کا پس منظر یہ تھا کہ یہود عرب بھر میں علوم شرعیہ کے عالم مشہور تھے، حتیٰ کہ یہود اپنے سوا دوسرے سب لوگوں کو امی (ناخواندہ لوگ) کہہ کر پکارتے تھے۔ یہودیوں کے مسلمان ہونے کے بعد پھر سے مرتد ہونے سے عام لوگوں میں خود بخود تاثر پیدا ہوجائے گا کہ اہل علم نے جب اس دین اسلام کا قریب ہو کر مطالعہ کیا تو انہیں ضرور دال میں کچھ کالا نظر آیا ہے۔ ورنہ ایک عالم آدمی کیسے گمراہی کو ترجیح دے سکتا ہے۔ یہ سازش ابھی پک ہی رہی تھی کہ اللہ نے اپنے نبی کے ذریعہ…
Read the full tafseer →163 ۔ (آپس میں) قال بعضھم لبعض (قرطبی) فی مابینھم (مدارک) یہ اشارہ ہے یہود خیبر وعرینہ کی جانب۔ کان احبار قری عرینۃ اثنی عشر حبرا فقالوا لبعضھم ادخلوا فی دین محمد اول النھار فاذا کان اخر النھار فاکفروا (بن جریر)
164 ۔ (اس چال اور تدبیر سے) (آیت) ” امنوا وجہ النھار۔ یہاں ایمان اظہار ایمان کے معنی میں ہے یعنی صبح ایمان ظاہر کرو، ای اظھروا الایمان (کشاف) ادخلوا فی دین محمد باللسان دون الاعتقاد (معالم عن الحسن وقتادۃ) والمراد اظھروا الایمان ولا یمکن ان یرادبہ التصدیق (بحر) وجہ النھار یعنی اولہ (قرطبی) (آیت) ” انزل علی الذین امنوا “۔ یعنی جو ان مومنین کے خیال میں ان پر نازل ہوا ہے۔ ای علی زعمھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
آیت نمبر 72 تا 80
ترجمہ : اہل کتاب کا ایک گروہ اپنے بعض لوگوں کو مشورہ دیتا ہے کہ جو قرآن (بواسطہ نبی) مومنین پر نازل کیا گیا ہے اس پر صبح کو ایمان لاؤ اور شام کو انکار کردو، کیا عجب کہ وہ (مومنین) اس (ترکیب سے اپنے دین سے) پھرجائیں۔ اس لئے کہ وہ کہیں گے کہ اہل کتاب کا اہل علم ہونے کے باوجود، دین اسلام میں داخل ہونے کے بعد پھرجانا (اس دین) کے بطلان سے واقف ہونے ہی کی وجہ سے ہوسکتا ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا، اور تم اس کی تصدیق کرو جو تمہارے دین کی موافقت کرے، لِمَنْ میں لام زائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے محمد ﷺ تم کہ دو کہ ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے (اور) وہ اسلام ہے، اس کے علاوہ جو…
Read the full tafseer →وَقَالَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بالَّذِيْٓ اُنْزِلَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ : یعنی اہل کتاب کے ایک گروہ نے (آپس میں) کہا کہ دن کے اوّل حصہ میں اس قرآن پر جو مسلمانوں پر اترا ہے صرف زبان سے اپنے ایمان لانے کا اظہار کرو۔
وَاكْفُرُوْٓا اٰخِرَهٗ : اور پچھلے دن میں اس کا انکار کردو اور کہہ دو کہ ہم نے اپنی کتابوں کا مطالعہ کیا اور اپنے علماء سے مشورہ بھی لیا ہم پر واضح ہوگیا کہ محمد ﷺ وہ (نبی موعود) نہیں ہیں ہم کو ان کا جھوٹ کھل گیا (اس لیے ہم اس مذہب کو ترک کرتے ہیں)
لَعَلَّھُمْ يَرْجِعُوْنَ : شاید اس ترکیب سے مسلمان بھی اپنے دین میں شک کرنے لگیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
(71۔ 72) اور رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت میں تبدیلی کرتے ہو اور کیوں آپ کی نعت وصفت کو چھپاتے ہو حالانکہ کہ تم اپنی کتابوں میں اس اصل حقیقت کو جانتے ہو، تحویل قبلہ کے بعد کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں نے جو مشورہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرماتے ہیں ہیں، یعنی کعب وغیرہ سرداران یہود نے اپنے لوگوں سے کہا کہ محمد ﷺ اور قرآن کریم پر دن کے شروع میں یعنی صبح کی نماز کے وقت ایمان لے آؤ اور ظہر کی نماز کے وقت انکار کر بیٹھو، تو لوگ یہ دیکھ کر کہیں گے کہ اہل کتاب اس قبلہ پر ایمان لے آئے جس کی طرف منہ کر کے رسول اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے صبح کی نماز پڑھی اور اس قبلہ سے انکار کیا جن کی طرف منہ کرکے ان…
Read the full tafseer →وَقَالَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ۔۔ : کمزور ایمان والے مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے یہود مختلف سازشیں کرتے رہتے تھے، یہ بھی اس سلسلہ کی ان کی ایک سازش کا بیان ہے کہ صبح کے وقت قرآن اور پیغمبر پر ایمان کا اظہار کرو اور شام کو کفر و انحراف کا اعلان کر دو ، ممکن ہے یہ طریقہ اختیار کرنے سے بعض مسلمان بھی سوچنے لگیں کہ یہ پڑھے لکھے لوگ مسلمان ہونے کے بعد اس تحریک سے الگ ہوگئے ہیں تو آخر انھوں نے کوئی خرابی یا کمزور پہلو ضرور دیکھا ہوگا۔ (ابن کثیر، شوکانی)
Read the full tafseer →آیت نمبر : 72۔
یہ آیت کعب بن اشرف اور مالک بن صیف وغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی، انہوں نے اپنی قوم کے سفلہ اور احمق لوگوں کو کہا کہ ایمان لے آؤ اس (کتاب) پر جو ایمان والوں پر اتاری گئی صبح کے وقت (آیت) ” وجہ النھار “۔ سے مراد دن کا پہلا اور اول حصہ ہے۔ اور اس کے بہت حسین ہونے کی وجہ سے اسے وجھا کا نام دیا گیا ہے اور اس کا اول وہ ہے جو سب سے پہلے سامنے آتا ہے (مراد صبح ہے)
شاعر نے کہا ہے :
وتضی فی وجہ النار منیرۃ کجمانسۃ البحری سل نظامھا “۔
دن کی صبح کو روشنی اس طرح منور کرتی ہے جیسا کہ موتیوں کو لڑی میں پرودیا گیا ہو۔
اور ایک دوسرے نے کہا :
من کان مسرورا بمقتل مالک فلیات نسوتنا بوجہ نھار۔
جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
(1) عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وامن اھل الکتب من ان تامنہ بقنطار یؤدہ الیک “ جو بڑا خزانہ واپس کردیتے ہیں وہ نصاری ہیں اور لفظ آیت ” ومنہم من ان تامنہ بدینار لا یؤدہ الیک “ اور وہ جو واپس نہیں کرتے وہ یہودی ہیں لفظ آیت ” الا ما دمت علیہ قائما “ یعنی مگر یہ کہ تو اس سے طلب کرتا رہے اور اس کے پیچھے لگا رہے۔
(2) ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومنہم من ان تامنہ بدینار الا یؤدہ الیک “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ کے صحابہ ؓ کے اموال کو روک لیں اور وہ اہل کتاب حکم دئیے گئے کہ ہم مسلمان کو اس کا حق ادا کریں۔
(3) ابن ابی حاتم نے مالک بن دینار (رح) سے…
Read the full tafseer →[وَقَالَتْ : اور کہا ] [طَّــآئِفَۃٌ : ایک جماعت نے ] [مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ : اہل کتاب میں سے ] [اٰمِنُوْا : تم لوگ ایمان لائو ] [بِالَّذِیْ : اس پر جو ] [اُنْزِلَ : اُتارا گیا ] [عَلَی الَّذِیْنَ : ان لوگوں پر جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [وَجْہَ النَّہَارِ : دن کے شروع میں ] [وَاکْفُرُوْآ : اور انکار کرو ] [اٰخِرَہٗ : اس کے آخر میں ] [لَـعَلَّہُمْ : شاید وہ لوگ ] [یَرْجِعُوْنَ : لوٹ آئیں ]
Read the full tafseer →یہودیوں کی ایک مکاری کا تذکرہ
ان آیات میں اول تو یہودیوں کے ایک منافقانہ طریق کار کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ ان میں سے ایک جماعت نے آپس میں ایک دوسرے کو مشورہ دیا کہ صبح صبح جب دن شروع ہو تم مسلمانوں کے پاس جاؤ اور ان کے سامنے یوں کہو کہ ہم مسلمان ہیں ہم نے تمہارا دین قبول کرلیا اور دن بھر اسی طرح گزار دو ، اور جب شام کا وقت ہوجائے دن جانے لگے تو کفر اختیار کرلو۔ تاکہ مسلمان اپنے دین سے واپس ہوجائیں۔ صاحب روح المعانی صفحہ 199: ج 3 میں لکھتے ہیں کہ یہود خیبر کے علماء میں سے بارہ آدمیوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا تھا اور (وَ اکْفُرُوْٓا اٰخِرَہٗ ) جو انہوں نے کہا تھا کہ اس کا مطلب بیان کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–80
قال تعالیٰ ودت طائفۃ من اھل الکتب لو یضلونکم۔۔۔ الی۔۔ ایا مرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل کتاب سے مناظرہ اور مباہلہ کا بیان تھا کہ یہ لوگ نہ تو کسی دلیل کو مانتے ہیں اور نہ مباہلہ پر آمادہ ہوتے ہیں معلوم ہوا کہ حق کی تحقیق مقصود نہیں بلکہ مقصود شرارت اور فتنہ پردازی ہے اس لیے آئندہ آیات میں یہود کی کچھ شرارتوں اور عداوتوں اور دغا بازیوں اور فریب کاریوں کو بیان کرتے ہیں کہ کس کس طرح سے یہ لوگ حق اور باطل کو خلط ملط کرنے میں مکر اور فریب سے کام لیتے ہیں یہ لوگ خوب جانتے ہیں کہ تم حق پر اور سیدھے راستہ پر ہو مگر یہ لوگ تم کو دھوکہ دے کر گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ دور تک یہی…
Read the full tafseer →99 تیسرا شکوہ۔ طائفہ اہل کتاب سے مراد یہود ہیں اور آمنوا میں ایمان لانے سے مراد بطور نفاق اظہار ایمان ہے اور الذین آمنوا سے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام مراد ہیں۔ وَجْهَ النَّہَارِ سے دن کا پہلا حصہ اور آخِرُ النَّہَار سے دن کا آخری حصہ یعنی شام مراد ہے۔ یہودی اسلام کی بڑھتی ہوئی شان و شوکت کو دیکھ کر حسد وبغض سے جل اٹھے تھے اور ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف رہتے۔ چناچہ انہوں نے مسلمانوں کو اسلام سے بد ظن کرنے اور اسلام کا وقار ان کے دلوں میں کم کرنے کے لیے اجتماعی منصوبہ تیار کیا اور اس منصوبے کے کرتے دھرتے یہود کے بڑے بڑے عالم تھے چناچہ انہوں نے طے کیا کہ صبح کے وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
ربط آیات : گذشتہ درس کی طرح آج کے درس میں بھی اہل کتاب یعنی یہود و نصاری کے برے خصائل کا تذکرہ ہے۔ ان آیات کا مصداق مدینے کے ارد گرد بسنے والے یہودی خاص طور پر ہیں۔ اب تک اہل کتاب کی دینی خیانت کا تذکرہ ہورہا ہے۔ آج کا درس بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ تاہم آئندہ آنے والے درس سے اہل کتاب کی دنیوی خیانت کا بیان ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ دینی طور پر بھی خائن ہیں اور دنیوی طور پر بھی ایسے ہی ہیں۔ گذشتہ سے پیوستہ درس میں یہ بیان ہوا تھا۔ کہ اہل کتاب کی خواہش اور کوشش یہ ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کو ان کے دین سے پھیر دیں ۔ اس سلسلہ میں وہ ہر حیلہ اختیار کرنے پر کمر بستہ رہتے ہیں آج کے درس میں ان کی ایک…
Read the full tafseer →وَقَالَتْ طَّاۗىِٕفَۃٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِيْٓ اُنْزِلَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَجْہَ النَّہَارِ وَاكْفُرُوْٓا اٰخِرَہٗ لَعَلَّھُمْ يَرْجِعُوْنَ 72 ۚ ۖ
طَّائِفَةُ
وَالطَّائِفَةُ من الناس : جماعة منهم، ومن الشیء : القطعة منه، وقوله تعالی:
فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ [ التوبة/ 122] ، قال بعضهم : قد يقع ذلک علی واحد فصاعدا وعلی ذلک قوله : وَإِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ الحجرات/ 9] ، إِذْ هَمَّتْ طائِفَتانِ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 122] ، والطَّائِفَةُ إذا أريد بها الجمع فجمع طَائِفٍ ، وإذا أريد بها الواحد فيصحّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–74
ترکیب : اولی اسم تفضیل ہے ولی یلی بمعنی قریب شدن سے یہ اسم ان کا ‘ بابراھیم متعلق ہے اولی سے للذین مع معطوف خبر ان لویضلون میں لو مصدریہ ہے بمعنی آن۔ الالمن تبع استثناء ہے ما قبل سے ای لاتقروالالمن پس لازم زائد نہیں اور ممکن ہے کہ زائد اور محمول علی المعنی ہو۔ ای احجدوا کل احد الامن۔ ان یوتی میں تین احتمال ہیں (1) یہ کہ موضع جر میں ہو تقدیرہ ولا تو منوابان یوتی احد الخ (2) نصب حرف جر کو حذف مان کر ان صورتوں میں یہ تتمہ کلام یہود کا ہوگا کہ تم اے یہود کسی غیر سے یہ نہ کہو کہ ہماری کتاب اور ملت کے مانند کسی اور کو بھی ملا ہے (اویحا جو کم کا عطف ان یوتی پر ہوگا اور او بمعنی و) ایسا نہ ہو کہ…
Read the full tafseer →وَقَالَتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْ اَہْلِ الْـکِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْٓ اُنْزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْہَ النَّہَارِ وَاکْفُرُوْٓا اٰخِرَہٗ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ ج صلے
(اور اہل کتاب کا ایک گروہ کہتا ہے کہ ایمان لائو اس چیز پر جو مسلمانوں پر نازل کی گئی ہے صبح کے وقت اور شام کو اس کا انکار کردیا کرو تاکہ وہ بھی اس سے پھرجائیں) (72)
اس سے پہلے آیت نمبر 69 میں اہل کتاب کے جن عزائم کے بارے میں مسلمانوں کو باخبر کیا گیا تھا اس آیت کریمہ میں ان عزائم کی تکمیل کے لیے ایک منصوبہ اور ایک سازش کا انکشاف فرمایا جایا رہا ہے۔ آیت نمبر 69 میں تو اہل کتاب کے اندر جو مسلمانوں کے خلاف لاوا پک رہا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
فہم القرآن
ربط کلام : کسی کے نعروں اور دعو وں سے دھوکہ کھانے اور اعتماد کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی پیروی کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل کسی شخص کی ذات یافرقہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی رحمت کی بدولت ہوا کرتا ہے۔
اہل کتاب رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے کے باوجود فکر مند رہتے تھے کہ مسلمانوں کی تعداددن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ جو شخص بھی آپ سے ملاقات کرتا اور قرآن سنتا ہے وہ آپ ہی کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ اہل کتاب کے سامنے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں اس کی طویل لسٹ تھی۔ اکثریہ ہوا کہ اہل مکہ اور اہل کتاب کا نمائندہ بن کر جانے والاشخص آپ کی پرجمال شخصیت اور دل ربا گفتگو سن کر…
Read the full tafseer →یہوددیانہ چال :
72: وَقَالَتْ طَّآپفَۃٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ ٰامِنُوْا بِالَّذِیْٓ اُنْزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَجْہَ النَّھَارِ وَاکْفُرُوْٓا ٰاخِرَہٗ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (اہل کتاب کے ایک گروہ نے کہا) اپنے درمیان۔ٰامِنُوْا بِالَّذِیْٓ اُنْزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (تم اس پر ایمان لائو۔ جو ان لوگوں پر اتارا جائے) یعنی قرآن وَجْہَ النَّھَارِ (دن کی ابتداء میں) یعنی شروع دن میں جو قرآن مسلمانوں پر اترے اس پر ایمان ظاہر کرو۔ وَاکْفُرُوْٓا ٰاخِرَہٗ (اور دن کے آخر میں اسکا انکار کردو) لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (شاید کہ مسلمان لوٹ جائیں) یعنی مسلمان یہ کہنے لگیں کہ یہ اہل…
Read the full tafseer →72۔ (آیت)” وقالت طائفۃ من اھل الکتاب امنوا “۔ حسن (رح) ، قتادہ (رح) ، اور سدی (رح) کا قول ہے کہ یہود خیبر اور مدینہ کے دیہات والے بارہ یہودیوں نے اس بات پر اتفاق کیا اور انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ دن کے شروع میں ان کے دین پر ایمان لاؤ صرف زبان سے نہ کہ اعتقاد کے ساتھ پھر دن کے دوسرے حصے (شام) انکار کر دو ، وجہ یہ بیان کرو کہ ہم نے ان کی کتاب میں اور ان کے علماء کے مشوروں میں ہم نے محمد ﷺ کو ایسا نہیں پایا جو صفات ہم نے تورات میں پڑھی ہیں پھر ان کا کذب ظاہر ہوجائے گا ، جب ایسا کرو گے تو ان کے ساتھ رہنے والے صحابہ کو شک وشبہ پر جائے گا تو پھر ان سے کہو کہ ہم اہل کتاب ہیں اور ہم اس کو بہتر…
Read the full tafseer →جب دن بدن دین محمدی میں لوگ بڑھنے لگے تو یہود کو یہ امر شاق گذرا اس لئے عداوت سے خیبر کے بارہ 12 شخص یہود نے یہ صلاح کی کہ تازم دم نئے مسلمانوں کو دھوکے میں ڈالنے کے لئے ایک دن صبح کو فریب کے طور پر مسلمان ہوگئے۔ اور صبح کی نماز بھی مسلمانوں کے ساتھ پڑہی اور تیسرے پہر کو یہ مرتد ہوگئے تاکہ نئے مسلمان اپنے دل میں خیال کریں کہ اس دین محمدی میں کچھ نقصان ضرور ہوتا تھا جو اہل کتاب لوگ اس دین میں داخل ہوے پھر منحرف ہوگئے اللہ تعالیٰ نے ان یہود کا ادنیٰ فریب ظاہر کرنے اور نئے مسلمانوں کا وسوسہ دور کرنے کی غرض سے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اور فرمادیا کہ ایسے فریبیوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
اللہ تعالیٰ مومنوں کو اہل کتاب کے اس خبیث گروہ کی مکاریوں سے متنبہ فرما رہا ہے کہ ان کی خواہش یہی ہے کہ تمہیں گمراہ کردیں۔ جیسے ارشاد ہے ترجمہ :” اہل کتاب کے اکثر لوگ تمہیں ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بنا دینے کی خواہش رکھتے ہیں “ اور جسی کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے وہ اسے حاصل کرنے کے لئے جدوجہد بھی کرتا ہے۔ یہ گروہ بھی پوری کوشش کرتا ہے کہ مومنوں کو مرتد کردے۔ اس مقصد کے لئے وہ لوگ ہر ممکن طریقے سے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ اللہ کا فضل ہے کہ بری تدبیریں کرنے والا اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا : ترجمہ ” دراصل وہ خود اپنے آپ کو گمراہ کررہے ہیں “ مومنوں کو گمراہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–75
قول باری ہے (ومن اھل الکتب من ان تامنہ بقنطاریؤدہ الیک، اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال ودولت کا ایک ڈھیر بھی دے دوتو وہ تمھارامال تمہیں اداکردے گا) یہاں لفظ (بقنطار) کے معنی، علی قنطار، کے ہیں اس لیے کہ اس جیسے موقع پر حرف باء اور حرف علی ایک دوسرے کے متعاقب ہوتے ہیں۔ مثلا آپ یہ کہتے ہیں، مررت بفلان ومررت علیہ، (میراگذرفلاں کے پاس سے ہوا، میراگذرفلاں پر ہوا) قنطار کے متعلق حسن سے مروی ہے کہ ایک ہزاردوسومثقال ہوتا ہے (ایک مثقال عرف میں ڈیڑھ درہم کے وزن کا ہوتا ہے) ابونضرہ کا قول ہے کہ بیل کی کھال میں بھرے ہوئے سونے کی مقدارکوقنطارکہتے ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
145 لبس حق بالباطل اور کتمان حق کی سنگینی کا ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کرنا اور حق کو چھپانا ایک بڑا سنگیں جرم ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کرنا اور حق کو چھپانا اور جان بوجھ کر ایسے کرنا ایک اور سنگیں اور ہولناک یہودی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان لوگوں کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ تم لوگ ایسا کیوں کرتے ہو جبکہ تم خود جانتے ہو کہ حق کیا ہے اور باطل کیا۔ اور یہ کہ حق کو چھپانا اور اس کو باطل سے گڈ مڈ اور خلط ملط کرنا کتنا بڑا اور کس قدر سنگین جرم ہے۔ تو پھر اس سب کے باوجود تم لوگ " لَبْس حق بالْبَاطِل " اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
اہل کتاب کی تمنا
تشریح : اہل کتاب خود گمراہ ہیں اس لئے وہ مسلمانوں کو بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے اس لئے وہ ان کو اپنے جال میں پھنسا کر گمراہ نہیں کرسکتے۔ بلکہ ان غلط کوششوں میں پڑ کر وہ صرف اپنے اعمال نامے کو ہی خراب کریں گے۔ دوبارہ اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو سمجھاتا ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار نہ کرو۔ آخرالزماں نبی ﷺ اور قرآن کریم کے بارے میں تمہاری کتابوں میں صاف صاف بتا دیا گیا ہے۔ تم ان کی سچائیوں کو خوب اچھی طرح جانتے ہو پھر بھی کھلم کھلا ان کی مخالفت کرتے ہو اور تنہائی میں قرآن اور محمد ﷺ کو مانتے ہو۔ جیسا کہ سورة بقرہ میں ذکر ہوچکا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–80
آیات 72- 80
اسرارومعارف
وقال طائفۃ من اھل الکتاب………… واللہ ذوالفضل العظیم۔
یہودکی سازش خلافت راشدہ سے لے کر کربلا تک :
چنانچہ یہود نے مسلمانوں کو راہ حق سے بہکانے کی ایک تجویز سوچی اور وہ یہ کہ اسلام قبول کرلو ، مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوجائو اور پھر کوئی نہ کوئی اعتراض کرکے مسلمان ہونے سے انکار کردو اس طرح ممکن ہے مسلمانوں کے ذہنوں میں بھی شک پیدا ہوجائے اور وہ اسلام سے کفر کی طرف لوٹ جائیں۔
یہودکی یہی کوشش بالآخر عبداللہ ابن سبا کی صورت میں تاریخ عالم پہ ابھری اور شہادت عثمان غنی ؓ سے لے کر ہزاروں مسلمانوں کو خاک وخون میں ملا گئی آخر حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی اسی کا شکار بنے اور سانحہ کربلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
ف 5 اہل کتاب کی مذہبی شقاوتوں کی طرف اشارہ ہے اوپر کی آیت میں علمائے یہود کی یہ شقاوت بیان کی گئی ہے کہ وہ آنحضر ﷺ کی صداقت کے دلائل جان لینے کے باوجود کفر کر رہے ہیں۔ اب یہاں بتایا جا رہا ہے کہ حق کو باطل کے ساتھ ملانا اور حق کو چھپانا ان کا عام شیوہ بن چکا ہے۔ پہلی آیت میں ان کی گمراہی کا بیان تھا اور اس آیت میں دسروں کو گمراہ کرنے کا ذکر ہے۔ ، دیکھئے سورت بقرہ آیت 42، (کبیر، ترجمان) یہ مقام عبرت ہے کہ ہمارے دور کے تجدد زدہ حضرات بھی دینوی اور مادی اغراض و مصالح کے پیش نظر قرآن مجید کے ساتھ وہی سلوک کر رہے ہیں جو ان کے پیش رو یہود و نصاری ٰ تو رات وانجیل کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →(3:72) وجہ النھار۔ دن کا شروع حصہ۔ جیسے وجہ الدھر۔ زمانہ کا شروع۔ اللہ کی رضا۔ جیسے فعل ذلک لوجہ اللہ۔ اللہ کی خوشنودی کے لئے یہ کام کیا۔ چہرہ۔ ذات جیسے یبقی وجہ ربک (55:27)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
لغات القرآن آیت نمبر 72 تا 74
وجھ النھار (صبح کا وقت) تبع (جس نے اتباع کی) ان یوتیٰ (یہ کہ دیا جائے) اوتیتم (تمہیں دیا گیا) یحاجوا (وہ جھگڑیں گے) الفضل (رحم وکرم) یختص (وہ خاص کرتا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 72 تا 74
ان آیتوں میں اور اس سے بعد کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں اور عیسائیوں کے مکروفریب، بددیانتی اور شرارتوں سے مومنوں کو ہوشیار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ان میں بعضوں نے یہ شرارت کرنے کا ارادہ کیا ہے کہ کچھ لوگ صبح کو قرآن کریم پر ایمان لے آئیں دن مسلمانوں کے ساتھ رہیں پھر شام کو اسلام کو چھوڑ کر پھر اپنے لوگوں میں آملیں۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ جب شام کو ایک کثیر جماعت یہ کہتے…
Read the full tafseer →یہودیوں کا دھوکا
جب دن بدن دین محمدی (ﷺ) میں لوگ بڑھنے لگے تو یہود کو یہ امر شاق گزرا، اس لئے عداوت سے خیبر کے بارہ یہودیوں نے یہ صلاح کی کہ تازہ دم نئے مسلمانوں کو دھوکے میں ڈالنے کے لئے ایک صبح کو فریب کے طور پر مسلمان ہوگئے، اور صبح کی نماز بھی مسلمانوں کے ساتھ پڑھی اور سہ پہر کو یہ مرتد ہوگئے۔ تاکہ نئے مسلمان اپنے دل میں خیال کریں کہ اس دین محمدی ( ﷺ) میں کچھ نقصان ضرور تھا جو یہ اہل کتاب اس دین میں داخل ہو کر پھر منحرف ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان یہود کا یہ ادنیٰ فریب ظاہر کرنے اور نئے مسلمانوں کا وسوسہ دور کرنے کی غرض سے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمادیا کہ ایسے فریبوں سے کچھ نہیں ہوتا، ہدایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–74
[29] یعنی اللہ کی وہ آیتیں جو تمہاری اپنی کتابوں میں موجود ہیں اور جن میں نبوت محمدی کی پوری پوری علامتیں اور بشارتیں درج ہیں اور جن پر تمہارا دل گواہی دیتا ہے۔
Read the full tafseer →ایک سازش :
(ف 2) دین حنیف کی یہ ایک خصوصیت ہے کہ ایک دفعہ جو اسے سمجھ سوچ کر قبول کرلے ، پھر ارتداد اختیار نہیں کرتا اس لئے کہ اس سے زیادہ سادہ صحیح اور معقول مذہب دنیا میں موجود ہی نہیں ، یہ انسانی بیماریوں کی آخری دوا ہے ، وہ جو اسلام سے مطمئن نہیں وہ بجزدہریت کے کسی دوسرے عقیدے پر مطمئن نہیں ہو سکتا اور دنیا کا دوسرا مذہب اسے اپنی طرف نہیں کھینچ سکتا ، یہی وجہ ہے کہ ہرقل نے ابو سفیان سے منجملہ دیگر سوالات کے یہ بھی پوچھا کہ کوئی اسلام کو قبول کرکے مرتد تو نہیں ہوجاتا ؟
ابو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ، ہرقل کے پاس اسلامی سفیر حضور ﷺ کا مکتوب گرامی لے کر پہنچا تھا جس میں اسے مسلمان ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
ف 1۔ اے اہل کتاب تم کیوں حق اور سچ بات کو باطل اور جھوٹ کے ساتھ ملاتے ہو اور جانتے پوچھتے ہوئے کیوں حق کو چھپاتے ہو اور حق کو ظاہر نہیں کرتے۔ ( تیسیر)
تلبسون الحق بالباطل کی تفسیر ہم پہلے پارے میں بیان کرچکے ہیں ۔ یہود کے علماء کی عام عادت یہ تھی کہ اپنی دنیاوی وجاہت کے لئے بعض احکام کو تو سرے ہی سے ترک کردیا تھا ۔ بعض باتوں میں تحریف لفظی کے مرتکب ہوتے تھے بعض الفاظ کے معنی بدل دیئے تھے اور بعض احکام کو چھپا رکھا تھا غرض اسی قسم کی شرارتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں توریت کے بعض حکم تو موقوف ہی کر ڈالے تھے غرض کے واسطے اور بعض آیتوں کے معنی پھیر ڈالے تھے اور بعض…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی مسلمان یہ خیال کریں کہ یہ لوگ علم والے ہیں اور بےتعصب بھی ہیں کہ اسلام قبول کرلیا، اس پر بھی جو یہ پھرگئے، تو ضرور اسلام کا غیر حق ہونا ان کو دلائل علمیہ سے ثابت ہوگیا ہوگا، اور ضرور انہوں نے اسلام میں کوئی خرابی دیکھی ہوگی جب تو اس سے پھرگئے۔
Read the full tafseer →اہل کتاب کی سادہ لوح مسلمانوں کو دین اسلام سے برگشتہ کرنے کی ایک اسکیم کا بیان :
149: اس آیت کا مفہوم ایک سے زیادہ طریقوں سے سمجھا دیا گیا ہے اور ہر مفہوم اپنے اپنے مقام پر صحیح اور درست ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ کے قریب تو مفہوم یہ ہے کہ اہل کتاب نے دین اسلام کو بدنام کرنے کے لیے یہ تجویز کی کہ اپنے کچھ لوگوں کو تیار کیا کہ صبح جا کر منافقت کرتے ہوئے وہ مسلمان ہوجائیں اور شام کو کہہ دیں کہ ہم تو اس کا انکار کرتے ہیں۔ ہم نے دیکھ لیا ہے کہ اس دین میں کوئی بات بھی حق نہیں۔ اس کا اثر یہ ہوگا کہ سادہ لوح مسلمان بھی متاثر ہوں گے اور مشکوک ہو کر دین سے پھرنا شروع ہوجائیں گے یعنی اس طرح وہ سمجھیں گے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
Some from among the people of the Book chose a strategy of deception in order to mislead Muslims. According to their agreed plan, they would declare their belief in the Qur'an in the morning and then reject it in the evening. They thought that this quick about-turn would create doubts in the minds of Muslims about Qur'an and Islam and they might turn away from their faith thinking that there must be something wrong with Islam visible to such learned people who were open-minded enough to accept it first. They also made it a point to re-serve their feinted declaration of belief in Islam to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
61. This was one of the devices adopted by the leaders and rabbis of the Jews who lived on the outskirts of Madina in order to damage the mission of Islam. To demoralize the Muslims and create misgivings about the Prophet (peace be on him) , they sent their agents to embrace Islam publicly, then to renounce it, and subsequently to go about telling people they had done so because of the faults they had found in Islam, the Muslims and their Prophet.
Read the full tafseer →