Aal-i-Imraan 3:71

Aal-i-Imraan · from ayah 71

3:71

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۟۠يٰۤـاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَلۡبِسُوۡنَ الۡحَـقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَكۡتُمُوۡنَ الۡحَـقَّ وَاَنۡـتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ

اے اہلِ کتاب تم سچ کو جھوٹ کے ساتھ خلط ملط کیوں کرتے ہو اور حق کو کیوں چھپاتے ہو اور تم جانتے بھی ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

O People of the Scripture, why do you confuse the truth with falsehood and conceal the truth while you know [it]?

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 7 of surah · Ruku 15 of juzع

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:71

اے اہل کتاب! کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو؟ کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہو؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے اہلِ کتاب تم سچ کو جھوٹ کے ساتھ خلط ملط کیوں کرتے ہو اور حق کو کیوں چھپاتے ہو اور تم جانتے بھی ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے اہل کتاب! باوجود جاننے کے حق وباطل کو کیوں خلط ملط کر رہے ہو اور کیوں حق کو چھپا رہے ہو؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے اہل کتاب ! تم حق کو باطل کے ساتھ کیوں گڈ مڈ کرتے ہو اور کیوں جان بوجھ کر حق بات کو چھپاتے ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے کتابیو! حق میں باطل کیوں ملاتے ہو اور حق کیوں چھپاتے ہو حالانکہ تمہیں خبر ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے اہلِ کتاب! تم حق کو باطل کے ساتھ کیوں خلط ملط کرتے ہو اور حق کو کیوں چھپاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے اہل کتاب ! تم کیوں حق کو باطل سے خلط ملط کرتے ہو اور حق کو چھپاتے ہو، حالانکہ تم جانتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے اہل کتاب ! تم حق و باطل کی آمیزش کیوں کرتے ہو اور جانتے بوجھتے سچی بات کو کیوں چھپا جاتے ہو ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے اہل کتاب تم کیوں حق کو باطل کے ساتھ گڈ مڈ کرتے ہو اور حق کو چھپاتے ہو در آنحالیکہ تم جانتے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے کتاب والو، تم کیوں ملاتے (اور خلط ملط کرتے) ہو حق کو باطل کے ساتھ اور تم لوگ چھپاتے ہو حق کو حالانکہ تم خود جانتے ہو (کہ یہ کتنا بڑا اور سنگین جرم ہے)

— مولانا اسحاق مدنی

اے اہل کتاب تم حق کی تلبیس باطل کے ساتھ کئے جاتے اور حق کو چھپاجاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہوتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے اہل کتاب ! تم کیوں حق کے اوپر باطل کا ملمع چڑھاتے ہو اور حق کو چھپاتے ہو جانتے بوجھتے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے اہل کتاب کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو ؟ کیوں حق کو جان بوجھ کر چھپاتے ہو ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

People of the Book! Why do you confound Truth with falsehood, and why do you conceal the Truth knowingly?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O People of the Book, why do you confound the truth with falsehood, and conceal the truth when you know (the reality) ?

— Muhammad Taqi Usmani

O People of the Book, why do you confound the truth with falsehood, and conceal the truth when you know (the reality) ?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"O People of the Scripture! Why do you mix truth with falsehood and conceal the truth while you know"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O People of the Scripture! Why confound ye truth with falsehood and knowingly conceal the truth?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O People of the Scripture, why do you confuse the truth with falsehood and conceal the truth while you know [it]?

— Saheeh International

Why do you mix truth with falsehood and knowingly hide the truth?"

— Muhammad Sarwar

O followers of the Book! Why do you confound the truth with the falsehood and hide the truth while you know?

— Muhammad Habib Shakir

O people of the Book! wherefore confound ye the truth with falsehood, and hide the truths While ye know?

— Abdul Majid Daryabadi

Ye People of the Book! Why do ye clothe Truth with falsehood, and conceal the Truth, while ye have knowledge?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:71

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 69–74

یہودیوں کا حسد یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ان یہودیوں کے حسد کو دیکھو کہ مسلمانوں کیسے جل بھن رہے ہیں۔ انہیں بہکانے کی کیا کیا پوشیدہ ترکیبیں کر رہے ہیں کیسے کیسے مکرو فریب کے جال بچھاتے ہیں، حالانکہ دراصل ان تمام چیزوں کا وبال خود ان کی جانوں پر ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں۔ پھر انہیں ان کی یہ ذلیل حرکت یاد دلائی جا رہی ہے کہ تم سچائی جانتے ہوئے بھی حق کو پہچانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی آیات سے یہ منکر ہو رہے ہو۔ علم کے باوجود یہ بدخصلت بھی ان میں ہے۔ کہ حق و باطل کو ملا دیتے ہیں، اور ان کی کتابوں میں جو صفیں رسول اللہ ﷺ کی ہیں ان کو چھپالیتے ہیں۔ بہکانے کی جو صورتیں بناتے ہیں ان میں سے ایک یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 71–72

سورة اٰلِ عِمْرٰن 61 یہ ان چالوں میں سے ایک چال تھی جو اطراف مدینہ کے رہنے والے یہودیوں کے لیڈر اور مذہبی پیشوا اسلام کی دعوت کو کمزور کرنے کے لیے چلتے رہتے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کو بد دل کرنے اور نبی ﷺ سے عامہ خلائق کو بدگمان کرنے کے لیے خفیہ طور پر آدمیوں کو تیار کر کے بھیجنا شروع کیا تاکہ پہلے علانیہ اسلام قبول کریں، پھر مرتد ہوجائیں، پھر جگہ جگہ لوگوں میں یہ مشہور کرتے پھریں کہ ہم نے اسلام میں اور مسلمانوں میں اور ان کے پیغمبر میں یہ اور یہ خرابیاں دیکھی ہیں تب ہی تو ہم ان سے الگ ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 70–71

معارف و مسائل(انتم تشھدون) اور (انتم تعلمون) کے الفاظ سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اگر وہ اقرار حق نہ کریں یا ان کو علم نہ ہو تو ان کے لئے کفر جائز ہوگا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ کفر اپنی ذات کے اعتبار سے ایک قبیح فعل ہے، یہ ہر حالت میں ناجائز ہے، البتہ علم و اقرار کے بعد کفر اختیار کرنے میں ملامت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حق اور باطل کو ایک دوسرے کے ساتھ گڈ مڈ کرنے کی وضاحت سورة بقرہ کی تفسیر میں اچھی طرح ہوچکی ہے۔ یہود نے یوں تو پوری تورات کو اپنی تحریفات سے مسخ کر ڈالا تھا جس کے سبب سے حق و باطل کا امتیاز مشکل ہوگیا تھا لیکن یہاں خاص طور پر ان کی ان تحریفات کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل اور تعمیر بیت اللہ سے متعلق حالات و واقعات اور آنحضرت ﷺ کی پیشین گوئیوں کے اندر کی تھیں۔ ان تحریفات کا مقصد یہ تھا کہ حضرت ابراہیم کا تعلق مکہ اور بیت اللہ سے اس طرح کاٹ دیا جائے کہ آنحضرت ﷺ کے متعلق انبیا کے بیان کردہ حقائق پر پردہ ڈالا جاسکے۔ قرآن کے الفاظ ”وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ“ سے معلوم ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

71۔ 1 اس میں یہودیوں کے دو بڑے جرائم کی نشان دہی کر کے انہیں ان سے باز رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے پہلا جرم حق وباطل اور سچ اور جھوٹ کو خلط ملط کرنا تاکہ لوگوں پر حق اور باطل واضح نہ ہو سکے دوسرا حق چھپانا۔ یعنی نبی کریم ﷺ کے جو اوصاف تورات میں لکھے ہوئے تھے انہیں لوگوں سے چھپانا تاکہ نبی ﷺ کی صداقت کم از کم اس اعتبار سے نمایاں نہ ہو سکے اور یہ دونوں جرم جان بوجھ کر کرتے تھے۔ جس سے ان کی بدبختی دو چند ہوگئی تھی۔ ان کے جرائم کی نشان دہی سورة بقرہ میں بھی کی گئی ہے۔ اہل کتاب کے لفظ کو بعض مفسرین نے عام رکھا ہے جس میں یہود و نصاری دونوں شامل ہیں۔ یعنی دونوں کو ان جرائم مذکورہ سے باز رہنے کی تلقین…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 71–72

28: بعض یہودیوں نے مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لئے یہ اسکیم بنائی تھی کہ ان میں سے کچھ لوگ صبح کے وقت اسلام لانے کا اعلان کردیں اور پھر شام کو یہ کہہ کر اسلام سے پھرجائیں کہ ہم نے آنحضرت ﷺ کو قریب سے جاکر دیکھ لیا، آپ وہ پیغمبر نہیں ہیں جن کی خبر تورات میں دی گئی تھی، ان کا خیال تھا کہ اس طرح کچھ مسلمان یہ سوچ کر اسلام سے برگشتہ ہوسکتے ہیں کہ یہ لوگ جو تورات کے عالم ہیں جب اسلام میں داخل ہونے کے بعد بھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں تو ان کی بات میں ضرور وزن ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس مقام پر اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو سختی سے جھنجھوڑتا ہے کہ وہ اپنے اس مشکوک اور کمزور موقف پر ذرا نظر ثانی کریں۔ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ” اے اہل کتاب ! کیوں اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود ان کا مشاہدہ کررہے ہو ؟ اے اہل کتاب ! کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو ؟ کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہو۔ “ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بھی اور آج بھی اہل کتاب حق اور سچائی کا مشاہدہ کررہے ہیں اور واضح طور پر سمجھتے ہیں کہ یہ دین ‘ دین حق ہے ۔ ان میں سے بعض تو وہ تھے جو اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 تورات کے بعض احکام تو اغراض دنیاوی کی خاطر سرے سے موقوف ہی کر ڈالے تھے۔ بعض آیات میں تحریف لفظی کی تھی۔ بعض کے معنی بدل دیئے تھے اور بعض چیزیں چھپا رکھی تھیں ہر کسی کو خبر نہ کرتے تھے جیسے بشارات پیغمبر آخرالزمان ﷺ کی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 71 یٰٓاََہْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ سورۃ البقرۃ کے پانچویں رکوع میں یہ مضمون بایں الفاظ آیا تھا : وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُوا الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ یٰٓاََہْلَ الْکِتٰبِ کے صیغۂ خطاب کے ساتھ ان آیات میں اسی طرح کا داعیانہ انداز ہے جو سورة البقرۃ کے پانچویں رکوع میں ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 69–71

62 ان آیات میں یہود کے مسلمانوں سے حسد وعناد اور اسی سلسلہ میں ان کے چند کرتوتوں کا ذکر کیا جارہا ہے۔ پہلی کوشش ان کی یہ تھی کہ جیسے بھی ممکن ہو اگر کچھ مسلمانوں کو یہودی بنا لیا جائے تو وہ اپنے مقصد میں بہت حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے چند مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش بھی کی۔ مگر الٹا بدنام ہوئے اور رسوائی بھی ہوئی۔ بھلا آپ کے پیروکار اور جانثاران یہودیوں کے دام میں کیسے پھنس سکتے تھے۔ ؟ دوسری کوشش ان کی یہ تھی کہ تورات کی جن آیات میں نبی آخرالزماں کی بشارت دی گئی ہیں۔ انہیں عوام میں شائع و ذائع ہونے سے روکا جائے اور اس سلسلہ میں مکروفریب اور کتمان حق کسی بات سے بھی دریغ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

162 ۔ یہاں یہود پر تین الزامات متعین طور پر لگائے گئے ہیں :۔ ( 1) (آیت) ” تلبسون الحق بالباطل “۔ اپنی کتابوں کی ایسی تاویلیں کرتے ہیں کہ حق باطل کے تحت میں دب کر رہ جاتا ہے، باطل حق کو ڈھانپ لیتا ہے اور تاویل بڑھ کر صریح تحریف بن جاتی ہے۔ فسر اللبس بالخلط والتغطیۃ (بحر) (2) (آیت) ” تکتمون الحق “۔ حق کو سرے سے چھپا ڈالتے ہو اور جہاں جہاں بشارتیں ؔ ظہور اسلام کی صاف موجود ہیں وہاں عبارتیں کچھ کی کچھ دیتے ہو۔ (3) (آیت) ” وانتم تعلمون “۔ یہ سب کچھ اپنے قصد و ارادہ سے کررہے ہو۔ محض اتفاقی طور پر یہ نہی ہورہا ہے۔ تحریفات اہل کتاب پر حاشیہ پارۂ اول میں گزر چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 71–72

آیت نمبر 72 تا 80 ترجمہ : اہل کتاب کا ایک گروہ اپنے بعض لوگوں کو مشورہ دیتا ہے کہ جو قرآن (بواسطہ نبی) مومنین پر نازل کیا گیا ہے اس پر صبح کو ایمان لاؤ اور شام کو انکار کردو، کیا عجب کہ وہ (مومنین) اس (ترکیب سے اپنے دین سے) پھرجائیں۔ اس لئے کہ وہ کہیں گے کہ اہل کتاب کا اہل علم ہونے کے باوجود، دین اسلام میں داخل ہونے کے بعد پھرجانا (اس دین) کے بطلان سے واقف ہونے ہی کی وجہ سے ہوسکتا ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا، اور تم اس کی تصدیق کرو جو تمہارے دین کی موافقت کرے، لِمَنْ میں لام زائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے محمد ﷺ تم کہ دو کہ ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے (اور) وہ اسلام ہے، اس کے علاوہ جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بالْبَاطِلِ : اے اہل کتاب تم کیوں حق کو باطل کے ساتھ مخلوط کرتے ہو یعنی اصل تورات کی آیات کے ساتھ اپنی طرف سے لکھے ہوئے باطل کو ملا دیتے ہو۔ وَتَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ : اور حق کو چھپاتے ہو یعنی محمد رسول اللہ کے جو اوصاف توریت میں مذکور ہیں ان کو چھپاتے ہو۔ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : اور جانتے ہوئے ایسا کرتے ہو یعنی جو کچھ کرتے ہو قصداً کرتے ہو۔ محمد ابن اسحاق نے حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ عبد اللہ بن الضیف اور عدی بن زید اور حارث بن عوف نے باہم مشورہ کیا اور کہا کہ محمد اور ان کے ساتھیوں پر جو کچھ اتارا گیا ہے (ہمارے لیے مناسب ہے کہ)…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 71–72

(71۔ 72) اور رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت میں تبدیلی کرتے ہو اور کیوں آپ کی نعت وصفت کو چھپاتے ہو حالانکہ کہ تم اپنی کتابوں میں اس اصل حقیقت کو جانتے ہو، تحویل قبلہ کے بعد کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں نے جو مشورہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرماتے ہیں ہیں، یعنی کعب وغیرہ سرداران یہود نے اپنے لوگوں سے کہا کہ محمد ﷺ اور قرآن کریم پر دن کے شروع میں یعنی صبح کی نماز کے وقت ایمان لے آؤ اور ظہر کی نماز کے وقت انکار کر بیٹھو، تو لوگ یہ دیکھ کر کہیں گے کہ اہل کتاب اس قبلہ پر ایمان لے آئے جس کی طرف منہ کر کے رسول اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے صبح کی نماز پڑھی اور اس قبلہ سے انکار کیا جن کی طرف منہ کرکے ان…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بالْبَاطِلِ۔۔ : اہل کتاب کی مذہبی بدبختیوں کی طرف اشارہ ہے، اس سے پہلی آیت میں علمائے یہود کی یہ بدبختی بیان کی گئی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سچا پیغمبر ہونے کے دلائل جان لینے کے باوجود کفر کر رہے ہیں، اب یہاں بتایا جا رہا ہے کہ حق کو باطل کے ساتھ ملانا اور حق کو چھپانا ان کا عام شیوہ بن چکا ہے۔ پہلی آیت میں ان کی اپنی گمراہی کا بیان تھا، اس آیت میں دوسروں کو گمراہ کرنے کا ذکر ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (42)۔ (رازی) یہ مقام عبرت ہے کہ ہمارے دور کے فرقہ پرست علماء اور تجدد زدہ حضرات بھی دنیوی اور مادی اغراض و مصالح کے پیش نظر قرآن مجید سے وہی سلوک کر رہے ہیں جو ان کے پیش رو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 71۔ اللبس کا معنی ہے الخلط یعنی ملا دینا (گڈمڈ کردینا) سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے اور اس آیت کا معنی اور جو آیت اس سے پہلے ہے دونوں کا معنی ایک ہے (آیت) ” وتکتمون الحق “۔ اسے جواب استفہام ہونے کی وجہ سے تکتموا پڑھنا بھی جائز ہے (آیت) ” وانتم تعلمون “۔ یہ جملہ حالیہ ہے یعنی حالانکہ تم جانتے ہو۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 70–75

(1) عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وامن اھل الکتب من ان تامنہ بقنطار یؤدہ الیک “ جو بڑا خزانہ واپس کردیتے ہیں وہ نصاری ہیں اور لفظ آیت ” ومنہم من ان تامنہ بدینار لا یؤدہ الیک “ اور وہ جو واپس نہیں کرتے وہ یہودی ہیں لفظ آیت ” الا ما دمت علیہ قائما “ یعنی مگر یہ کہ تو اس سے طلب کرتا رہے اور اس کے پیچھے لگا رہے۔ (2) ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومنہم من ان تامنہ بدینار الا یؤدہ الیک “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ کے صحابہ ؓ کے اموال کو روک لیں اور وہ اہل کتاب حکم دئیے گئے کہ ہم مسلمان کو اس کا حق ادا کریں۔ (3) ابن ابی حاتم نے مالک بن دینار (رح) سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ : اے اہل لکتاب ] [لِمَ : کیوں ] [تَلْبِسُوْنَ : تم لوگ گڈمڈ کرتے ہو ] [الْحَقَّ : حق کو ] [بِالْبَاطِلِ : باطل کے ساتھ ] [وَتَکْتُمُوْنَ : اور چھپاتے ہو ] [الْحَقَّ : حق کو ] [وَ : حالانکہ ] [اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ جانتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اے اہل کتاب ! تم کیوں کفر اختیار کرتے ہو اور حق کو باطل کے ساتھ کیوں ملاتے ہو ؟ پھر اہل کتاب سے خطاب فرمایا کہ تم اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ یہ آیات حق ہیں محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور رسالت پر جو دلائل قاطعہ سامنے آ چکے ہیں ان کو جانتے ہوئے گمراہی کو اختیار کرنا سخت در سخت عذاب کا ذریعہ ہے۔ نیز فرمایا کہ اے اہل کتاب ! تم حق کو باطل کے ساتھ کیوں مخلوط کرتے ہو، اس کے بارے میں حضرت حسن ؓ نے فرمایا کہ توریت اور انجیل میں جو انہوں نے تحریف کرلی تھی مخلوط کرنے سے وہ مراد ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے یہ مراد ہے کہ وہ زبان سے اسلام ظاہر کرتے تھے اور دلوں میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–80

قال تعالیٰ ودت طائفۃ من اھل الکتب لو یضلونکم۔۔۔ الی۔۔ ایا مرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل کتاب سے مناظرہ اور مباہلہ کا بیان تھا کہ یہ لوگ نہ تو کسی دلیل کو مانتے ہیں اور نہ مباہلہ پر آمادہ ہوتے ہیں معلوم ہوا کہ حق کی تحقیق مقصود نہیں بلکہ مقصود شرارت اور فتنہ پردازی ہے اس لیے آئندہ آیات میں یہود کی کچھ شرارتوں اور عداوتوں اور دغا بازیوں اور فریب کاریوں کو بیان کرتے ہیں کہ کس کس طرح سے یہ لوگ حق اور باطل کو خلط ملط کرنے میں مکر اور فریب سے کام لیتے ہیں یہ لوگ خوب جانتے ہیں کہ تم حق پر اور سیدھے راستہ پر ہو مگر یہ لوگ تم کو دھوکہ دے کر گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ دور تک یہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

98 لبس کے معنی چھپانے اور غلط کرنے کے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اپنی باطل تاویلوں اور تحریفوں کے ذریعے حق بات (توحید) کو کیوں چھپاتے ہو۔ نیز حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا ذکر جو تمہاری کتابوں میں موجود ہے۔ اس پر کیوں پردہ ڈالتے ہو۔ حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ وہ حق ہے اور محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–71

ربط آیات : گذشتہ درس میں تذکرہ ہوچکا ہے ، کہ یہود و نصاریٰ کا آپس میں جھگڑا یہ تھا کہ یہود کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نصرانی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں کی تردید فرمائی۔ اور فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے اور نصاری کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی تھے بلکہ وہ تو حنیف اور مسلمان تھے۔ یہودیت اور نصرانیت نام کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ بلکہ یہ تورات اور انجیل کی بگڑی ہوئی شکل کا نام ہے۔ اہل کتاب نے تورات او انجیل میں تحریف کرکے اصل دین کو بگار دیا۔ کفر اور شرک دونوں گروہوں میں قدر مشترک ہے۔ دوسری طرف مشرکین بھی اپنا تعلق حضرت ابراہیم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝ 71 ۧ لبس لَبِسَ الثّوب : استتر به، وأَلْبَسَهُ غيره، ومنه : يَلْبَسُونَ ثِياباً خُضْراً [ الكهف/ 31] واللِّبَاسُ واللَّبُوسُ واللَّبْسُ ما يلبس . قال تعالی: قَدْ أَنْزَلْنا عَلَيْكُمْ لِباساً يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] وجعل اللّباس لكلّ ما يغطّي من الإنسان عن قبیح، فجعل الزّوج لزوجه لباسا من حيث إنه يمنعها ويصدّها عن تعاطي قبیح . قال تعالی: هُنَّ لِباسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِباسٌ لَهُنَ [ البقرة/ 187] فسمّاهنّ لباسا کما سمّاها الشاعر إزارا في قوله : فدی لک من أخي ثقة إزاري«1»…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 68–74

ترکیب : اولی اسم تفضیل ہے ولی یلی بمعنی قریب شدن سے یہ اسم ان کا ‘ بابراھیم متعلق ہے اولی سے للذین مع معطوف خبر ان لویضلون میں لو مصدریہ ہے بمعنی آن۔ الالمن تبع استثناء ہے ما قبل سے ای لاتقروالالمن پس لازم زائد نہیں اور ممکن ہے کہ زائد اور محمول علی المعنی ہو۔ ای احجدوا کل احد الامن۔ ان یوتی میں تین احتمال ہیں (1) یہ کہ موضع جر میں ہو تقدیرہ ولا تو منوابان یوتی احد الخ (2) نصب حرف جر کو حذف مان کر ان صورتوں میں یہ تتمہ کلام یہود کا ہوگا کہ تم اے یہود کسی غیر سے یہ نہ کہو کہ ہماری کتاب اور ملت کے مانند کسی اور کو بھی ملا ہے (اویحا جو کم کا عطف ان یوتی پر ہوگا اور او بمعنی و) ایسا نہ ہو کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 70–71

یٰٓاَہْلَ الْـکِتٰبِ لِمَ تَـکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَاَنْتُمْ تَشْہَدُوْنَ ۔ یٰٓاَہْلَ الْـکِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَـکْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ ع (اے اہل کتاب ! کیونکر انکار کرتے ہو اللہ کی آیتوں کا ؟ حالانکہ تم گواہ ہو۔ اے اہل کتاب ! کیوں ملاتے ہو حق کو باطل کے ساتھ اور حق کو چھپاتے ہو ؟ حالانکہ تم جانتے ہو) (70 تا 71) ان دونوں آیتوں میں اہل کتاب سے خطاب ہے۔ بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھیں ملامت بھی کی جا رہی ہے اور اظہارِ افسوس بھی کیا جا رہا ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ ایسا لگتا ہے کہ آخری فیصلہ بھی سنایا جا رہا ہے۔ جسے اتمامِ حجت بھی کہا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 70–73

فہم القرآن ربط کلام : کسی کے نعروں اور دعو وں سے دھوکہ کھانے اور اعتماد کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی پیروی کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل کسی شخص کی ذات یافرقہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی رحمت کی بدولت ہوا کرتا ہے۔ اہل کتاب رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے کے باوجود فکر مند رہتے تھے کہ مسلمانوں کی تعداددن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ جو شخص بھی آپ سے ملاقات کرتا اور قرآن سنتا ہے وہ آپ ہی کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ اہل کتاب کے سامنے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں اس کی طویل لسٹ تھی۔ اکثریہ ہوا کہ اہل مکہ اور اہل کتاب کا نمائندہ بن کر جانے والاشخص آپ کی پرجمال شخصیت اور دل ربا گفتگو سن کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 71: یٰٓـاَھْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعلَمُوْنَ ۔ (اے اہل کتاب تم کیوں حق کو باطل سے ملاتے ہو) عیسیٰ و موسیٰ ( علیہ السلام) پر ایمان کو محمد ﷺ کے انکار کے ساتھ ملاتے ہو۔ وَتَکْتُمُوْنَ الْحَقَّ (اور تم حق کو چھپاتے ہو) یعنی محمد ﷺ کی تعریف وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ (حالانکہ تم جانتے ہو) کہ وہ سچے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

71۔ (آیت)” یاھل الکتاب لم تلبسون الحق بالباطل “۔ تم اسلام کے ساتھ یہودیت اور نصرانیت کو کیوں ملاتے ہو ، بعض نے کہا کہ اپنے ایمان کے ساتھ عیسیٰ (علیہ السلام) کے ایمان کو کیوں ملاتے ہو ، محمد ﷺ کے اوپر ایمان لانے کے انکار کے ساتھ ، عیسیٰ (علیہ السلام) کا دین حق تھا اور آپ ﷺ کا انکار باطل تھا ۔ بعض نے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل شدہ تورات کی آیات کے ساتھ اپنی طرف سے لکھے ہوئے باطل کو ملا دیتے ہو (آیت)” وتکتمون الحق وانتم تعلمون “۔ کہ محمد ﷺ اور آپ کا دین حق ہے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–71

(69 ۔ 71) ۔۔ چند یہود نے معاذ بن جبل ؓ اور حذیفہ بن الیمان ؓ وغیرہ کو یہ رغبت دلائی کہ وہ دین محمدی کو چھوڑ کر یہودی ہوجائیں اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ مسلمان اپنے دین پر خدا کی طرف سے پکے ہیں ان کو تو کسی کے بہکانے سے کچھ ضرر نہیں پہنچ سکتا۔ مگر بہکانے کا اثر بہکانے والوں کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا جس سے وہ غافل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 69–74

اللہ تعالیٰ مومنوں کو اہل کتاب کے اس خبیث گروہ کی مکاریوں سے متنبہ فرما رہا ہے کہ ان کی خواہش یہی ہے کہ تمہیں گمراہ کردیں۔ جیسے ارشاد ہے ترجمہ :” اہل کتاب کے اکثر لوگ تمہیں ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بنا دینے کی خواہش رکھتے ہیں “ اور جسی کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے وہ اسے حاصل کرنے کے لئے جدوجہد بھی کرتا ہے۔ یہ گروہ بھی پوری کوشش کرتا ہے کہ مومنوں کو مرتد کردے۔ اس مقصد کے لئے وہ لوگ ہر ممکن طریقے سے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ اللہ کا فضل ہے کہ بری تدبیریں کرنے والا اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا : ترجمہ ” دراصل وہ خود اپنے آپ کو گمراہ کررہے ہیں “ مومنوں کو گمراہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–75

قول باری ہے (ومن اھل الکتب من ان تامنہ بقنطاریؤدہ الیک، اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال ودولت کا ایک ڈھیر بھی دے دوتو وہ تمھارامال تمہیں اداکردے گا) یہاں لفظ (بقنطار) کے معنی، علی قنطار، کے ہیں اس لیے کہ اس جیسے موقع پر حرف باء اور حرف علی ایک دوسرے کے متعاقب ہوتے ہیں۔ مثلا آپ یہ کہتے ہیں، مررت بفلان ومررت علیہ، (میراگذرفلاں کے پاس سے ہوا، میراگذرفلاں پر ہوا) قنطار کے متعلق حسن سے مروی ہے کہ ایک ہزاردوسومثقال ہوتا ہے (ایک مثقال عرف میں ڈیڑھ درہم کے وزن کا ہوتا ہے) ابونضرہ کا قول ہے کہ بیل کی کھال میں بھرے ہوئے سونے کی مقدارکوقنطارکہتے ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 71–75

145 لبس حق بالباطل اور کتمان حق کی سنگینی کا ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کرنا اور حق کو چھپانا ایک بڑا سنگیں جرم ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کرنا اور حق کو چھپانا اور جان بوجھ کر ایسے کرنا ایک اور سنگیں اور ہولناک یہودی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان لوگوں کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ تم لوگ ایسا کیوں کرتے ہو جبکہ تم خود جانتے ہو کہ حق کیا ہے اور باطل کیا۔ اور یہ کہ حق کو چھپانا اور اس کو باطل سے گڈ مڈ اور خلط ملط کرنا کتنا بڑا اور کس قدر سنگین جرم ہے۔ تو پھر اس سب کے باوجود تم لوگ " لَبْس حق بالْبَاطِل " اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–72

اہل کتاب کی تمنا تشریح : اہل کتاب خود گمراہ ہیں اس لئے وہ مسلمانوں کو بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے اس لئے وہ ان کو اپنے جال میں پھنسا کر گمراہ نہیں کرسکتے۔ بلکہ ان غلط کوششوں میں پڑ کر وہ صرف اپنے اعمال نامے کو ہی خراب کریں گے۔ دوبارہ اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو سمجھاتا ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار نہ کرو۔ آخرالزماں نبی ﷺ اور قرآن کریم کے بارے میں تمہاری کتابوں میں صاف صاف بتا دیا گیا ہے۔ تم ان کی سچائیوں کو خوب اچھی طرح جانتے ہو پھر بھی کھلم کھلا ان کی مخالفت کرتے ہو اور تنہائی میں قرآن اور محمد ﷺ کو مانتے ہو۔ جیسا کہ سورة بقرہ میں ذکر ہوچکا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 64–71

آیات 64- 71 اسرارومعارف قل یا اھل الکتاب…………بانا مسلمون۔ آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب ! آئو ، ایک ایسی بات پر متفق ہوجائیں جو ہمارے تمہارے درمیان مسلم ہے اور وہ یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ، نہ عبادت میں کسی کو اس کا شریک بنائیں۔ خواہ بت ہو یا شیطان ، فرشتہ ہو یا انسان۔ اور نہ کسی کو واجب الوجود ہونے میں اس کا شریک ٹھہرائیں۔ یعنی توحید کی دعوت تو ہر نبی نے دی ہے ہر کتاب میں موجود ہے تورات ہو یا انجیل۔ موسیٰ (علیہ السلام) ہوں یا عیسیٰ (علیہ السلام) ، ذات وصفات باری میں اس کی وحدانیت کا اقرار اور عبادات کا واحد مستحق صرف اللہ کا ہونا ، تمام شریکوں سے پاک اور بالاتر صرف اسی کی ذات کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 71–72

ف 5 اہل کتاب کی مذہبی شقاوتوں کی طرف اشارہ ہے اوپر کی آیت میں علمائے یہود کی یہ شقاوت بیان کی گئی ہے کہ وہ آنحضر ﷺ کی صداقت کے دلائل جان لینے کے باوجود کفر کر رہے ہیں۔ اب یہاں بتایا جا رہا ہے کہ حق کو باطل کے ساتھ ملانا اور حق کو چھپانا ان کا عام شیوہ بن چکا ہے۔ پہلی آیت میں ان کی گمراہی کا بیان تھا اور اس آیت میں دسروں کو گمراہ کرنے کا ذکر ہے۔ ، دیکھئے سورت بقرہ آیت 42، (کبیر، ترجمان) یہ مقام عبرت ہے کہ ہمارے دور کے تجدد زدہ حضرات بھی دینوی اور مادی اغراض و مصالح کے پیش نظر قرآن مجید کے ساتھ وہی سلوک کر رہے ہیں جو ان کے پیش رو یہود و نصاری ٰ تو رات وانجیل کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:71) تلبسون مضارع جمع مذکر حاضر لبس سے۔ تم غلط ملط کرتے ہو۔ ملابسۃ باہم خلط ملط ہونا تلبسون۔ لبس سے بمعنی پہننا

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–71

لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 71 لم تحاجون (تم کیوں جھگڑتے ہو ؟ ) ھآ انتم (تم نے سنا) ھٰؤلآء (یہ سب) حاججتم (تم جھگڑچکے) حنیف (صرف اللہ کی عبادت کرنے والا) اولی الناس (لوگوں میں زیادہ قریب) لویضلون (کاش وہ بھٹکاویں) لم تلبسون (تم کیوں ملاتے ہو ؟ ) ۔ تشریح : آیت نمبر 65 تا 71 یہود اور نصاریٰ جس طرح توحید کے دعویدار ہونے کے باوجود طرح طرح کے شرک میں مبتلا تھے اسی طرح ایک بات پر دونوں جماعتیں جھگڑتی رہتی تھیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے یا عیسائی۔ دونوں کا یہ دعوی تھا کہ وہ ہمارے فرقے سے تعلق رکھتے تھے اور ہم دین ابراہمی اور ملت ابراہیمی کے پیروکار ہیں۔ ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 69–71

یہود کی شرارت شان نزول : چند یہود نے حضرت معاذ بن جبل ؓ اور حضرت حذیفہ بن الیمان ؓ وغیرہ کو یہ رغبت دلائی کہ وہ دین محدی ( ﷺ) کو چھوڑ کر یہودی ہوجائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ مسلمان اپنے دین پر خدا عزوجل کی طرف سے پکے ہیں، ان کو تو کسی کے بہکانے سے کچھ ضرر نہیں پہنچ سکتا مگر بہکانے کا اثر بہکانے والوں کے نامہ اعمال میں لکھا جاوے گا جس سے وہ غافل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 70–74

[29] یعنی اللہ کی وہ آیتیں جو تمہاری اپنی کتابوں میں موجود ہیں اور جن میں نبوت محمدی کی پوری پوری علامتیں اور بشارتیں درج ہیں اور جن پر تمہارا دل گواہی دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 69–71

اہل کتاب کا تعصب : (ف 1) حضور ﷺ نے جب اسلام کی روشنی سے سارا عالم بقعہ نور سا بنا دیا تو سپرہ چشم یہودی برداشت نہ کرسکے اور حیلوں اور بہانوں سے اس شمع ہدایت کو بجھانے میں ہوگئے آپ ﷺ نے فرمایا تلبیس سے کیوں کام لیتے ہو حق و باطل کو کیوں ملا دیتے ہو اس کہ دونوں میں کوئی تمیز نہ رہے تم جانتے ہوئے اور علم رکھتے ہوئے بھی حق پوشی سے کام لیتے ہو ، کیا یہ نری بدبختی نہیں ؟ بات یہ تھی کہ یہودی ایک طرف تو اسلام کے متعلق غلط باتیں مشہور کرتے اور عوام میں اسے بدنام کرنے کی کوشش کرتے ، دوسری طرف توریت کی ان آیات میں تحریف سے کام لیتے جن میں حضور ﷺ کی بعثت کا تذکرہ ہے ، قرآن حکیم نے ان کی اس دو گونہ تحریف…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 71–72

ف 1۔ اے اہل کتاب تم کیوں حق اور سچ بات کو باطل اور جھوٹ کے ساتھ ملاتے ہو اور جانتے پوچھتے ہوئے کیوں حق کو چھپاتے ہو اور حق کو ظاہر نہیں کرتے۔ ( تیسیر) تلبسون الحق بالباطل کی تفسیر ہم پہلے پارے میں بیان کرچکے ہیں ۔ یہود کے علماء کی عام عادت یہ تھی کہ اپنی دنیاوی وجاہت کے لئے بعض احکام کو تو سرے ہی سے ترک کردیا تھا ۔ بعض باتوں میں تحریف لفظی کے مرتکب ہوتے تھے بعض الفاظ کے معنی بدل دیئے تھے اور بعض احکام کو چھپا رکھا تھا غرض اسی قسم کی شرارتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں توریت کے بعض حکم تو موقوف ہی کر ڈالے تھے غرض کے واسطے اور بعض آیتوں کے معنی پھیر ڈالے تھے اور بعض…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 62–71

ف 1۔ دونوں جو تشہدون اور تعلمون فرمایا، تو اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ عدم اقرار یا عدم علم کی حالت میں کفر جائز ہے، قبیح ذاتی تو کسی حال میں جائز ہو ہی نہیں سکتا، بلکہ وجہ یہ ہے کہ اقرار اور علم کے وقت کفر اور زیادہ قابل ملامت ہے۔ اوپر مذکور تھا کہ بعض اہل کتاب مسلمانوں کے اضلال کی فکر میں رہتے ہیں۔ آگے ان کی ایک تدبیر کا بیان فرماتے ہیں جس کو اضلال مومنین کے لئے انہوں نے تجویز کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اہل کتاب سے خطاب کہ تم حق و باطل کو کیوں ملاتے ہو اور خصوصاً حق کو کیوں چھپاتے ہو ؟ 148: اس آیت زیرنظر یعنی سورة آل عمران کی آیت 71 میں یہود پر تین الزامات متعین طور پر لگائے گئے اور وہ ایک کی بھی تردید نہیں کرسکے اس لیے کہ تینوں الزامات صحیح اور واضح ہیں۔ (1) حق کو باطل کے ساتھ ملا جلا کر مشتبہ کردینا یعنی اپنی الہامی کتابوں کے احکامات کی ایسی ایسی تاویلیں کرتے ہیں کہ حق بالکل باطل کے تحت میں دب کر رہ جاتا ہے۔ باطل حق کو ڈھانپ لیتا ہے اور تاویل تاویل نہیں رہتی بلکہ تاویل سے بڑھ کر صریح تحریف بن جاتی ہے۔ یہ سب کچھ جانتے ہیں اور پھر باز بھی نہیں آتے۔ دوسرے یہ کہ حق کو سرے سے چھپا ڈالتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 70–71

The words in أَنتُمْ تَشْهَدُونَ (you are yourselves a witness - 70) and in أَنتُمْ تَعْلَمُونَ (you know ( 71) should not be taken to mean that disbelief will become permissible for them if they do not attest to the truth or have no knowledge about it. This is because kufr (disbelief) is intrinsically an abominable thing to practice. This is prohibited under all conditions. However, the mention of kufr (disbelief) after knowledge and attestation is to increase the impact of reproachment.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 71–72

61. This was one of the devices adopted by the leaders and rabbis of the Jews who lived on the outskirts of Madina in order to damage the mission of Islam. To demoralize the Muslims and create misgivings about the Prophet (peace be on him) , they sent their agents to embrace Islam publicly, then to renounce it, and subsequently to go about telling people they had done so because of the faults they had found in Islam, the Muslims and their Prophet.

Read the full tafseer →