Aal-i-Imraan 3:70

Aal-i-Imraan · from ayah 70

3:70

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَاَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ ۟يٰۤـاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَاَنۡـتُمۡ تَشۡهَدُوۡنَ

اے اہلِ کتاب تم خدا کی آیتوں سے کیوں انکار کرتے ہو اور تم (تورات کو) مانتے تو ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

O People of the Scripture, why do you disbelieve in the verses of Allah while you witness [to their truth]?

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 7 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:70

اے اہل کتاب! کیوں اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود ان کا مشاہدہ کر رہے ہو؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے اہلِ کتاب تم خدا کی آیتوں سے کیوں انکار کرتے ہو اور تم (تورات کو) مانتے تو ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے اہل کتاب تم (باوجود قائل ہونے کے پھر بھی) دانستہ اللہ کی آیات کا کیوں کفر کر رہے ہو؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے اہل کتاب ! اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود (ان کے من جانب اللہ ہونے کے) گواہ ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے کتابیو! اللہ کی آیتوں سے کیوں کفر کرتے ہو حالانکہ تم خود گواہی ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے اہلِ کتاب! تم اﷲ کی آیتوں کا انکار کیوں کر رہے ہو حالانکہ تم خود گواہ ہو (یعنی تم اپنی کتابوں میں سب کچھ پڑھ چکے ہو)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے اہل کتاب ! تم کیوں اللہ کی آیات سے کفر کرتے ہو ؟ حالانکہ تم خود گواہی دیتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے اہل کتاب تم اللہ تعالیٰ کی ان آیات کا کیوں انکار کرتے ہو جن کی تم خود گواہی دیتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے اہل کتاب اللہ کی آیات کا کیوں انکار کرتے ہو حالانکہ تم گواہ ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے کتاب والو، تم کیوں کفر (اور انکار) کرتے ہو اللہ کی آیتوں کا، حالانکہ تم خود گواہ ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

اے اہل کتاب تم اللہ کی آیتوں سے کیوں انکار کئے جاتے ہو حالانکہ تم گواہ ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے اہل کتاب ! تم کیوں اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہو جبکہ تم خود گواہ ہو ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے اہل کتاب ! کیوں اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو ؟ حالانکہ تم خود ان کا مشاہدہ کر رہے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O People of the Book! Why do you reject the signs of Allah even though you yourselves witness them?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O people of the Book, why do you disbelieve in the verses of Allah (revealed in the former Scriptures to foretell about the advent of the Holy Prophet ?) while you are yourselves witnesses (to those verses) ?

— Muhammad Taqi Usmani

O people of the Book, why do you disbelieve in the verses of Allah (revealed in the former Scriptures to foretell about the advent of the Holy Prophet ?) while you are yourselves witnesses (to those verses) ?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"O People of the Scripture! Why do you disbelieve in the Ayat of Allah, while you bear witness."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O People of the Scripture! Why disbelieve ye in the revelations of Allah, when ye (yourselves) bear witness (to their truth)?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O People of the Scripture, why do you disbelieve in the verses of Allah while you witness [to their truth]?

— Saheeh International

(Muhammad), say, "People of the Book, why do you deny the revelation of God (the Quran) even though you know very well that it is from God?.

— Muhammad Sarwar

O followers of the Book! Why do you disbelieve in the communications of Allah while you witness (them)?

— Muhammad Habib Shakir

O people of the Book! wherefore disbelieve ye in the revelations of Allah whereas ye bear witness?

— Abdul Majid Daryabadi

Ye People of the Book! Why reject ye the Signs of Allah, of which ye are (Yourselves) witnesses?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:70

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 69–74

یہودیوں کا حسد یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ان یہودیوں کے حسد کو دیکھو کہ مسلمانوں کیسے جل بھن رہے ہیں۔ انہیں بہکانے کی کیا کیا پوشیدہ ترکیبیں کر رہے ہیں کیسے کیسے مکرو فریب کے جال بچھاتے ہیں، حالانکہ دراصل ان تمام چیزوں کا وبال خود ان کی جانوں پر ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں۔ پھر انہیں ان کی یہ ذلیل حرکت یاد دلائی جا رہی ہے کہ تم سچائی جانتے ہوئے بھی حق کو پہچانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی آیات سے یہ منکر ہو رہے ہو۔ علم کے باوجود یہ بدخصلت بھی ان میں ہے۔ کہ حق و باطل کو ملا دیتے ہیں، اور ان کی کتابوں میں جو صفیں رسول اللہ ﷺ کی ہیں ان کو چھپالیتے ہیں۔ بہکانے کی جو صورتیں بناتے ہیں ان میں سے ایک یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 68–70

سورة اٰلِ عِمْرٰن 60 دوسرا ترجمہ اس فقرہ کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”تم خود گواہی دیتے ہو“۔ دونوں صورتوں میں نفس معنی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ دراصل نبی ﷺ کی پاکیزہ زندگی، اور صحابہ کرام کی زندگیوں پر آپ کی تعلیم و تربیت کے حیرت انگیز اثرات، اور وہ بلند پایہ مضامین جو قرآن میں ارشاد ہو رہے تھے، یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ کی ایسی روشن آیات تھیں کہ جو شخص انبیا کے احوال اور کتب آسمانی کے طرز سے واقف ہو اس کے لیے ان آیات کو دیکھ کر آنحضرت کی نبوت میں شک کرنا بہت ہی مشکل تھا۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ بہت سے اہل کتاب (خصوصاً ان کے اہل علم) یہ جان چکے تھے کہ حضور وہی نبی ہیں جن کی آمد کا وعدہ انبیا سے سابقین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 70–71

معارف و مسائل(انتم تشھدون) اور (انتم تعلمون) کے الفاظ سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اگر وہ اقرار حق نہ کریں یا ان کو علم نہ ہو تو ان کے لئے کفر جائز ہوگا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ کفر اپنی ذات کے اعتبار سے ایک قبیح فعل ہے، یہ ہر حالت میں ناجائز ہے، البتہ علم و اقرار کے بعد کفر اختیار کرنے میں ملامت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 69–70

تفسیر آیت 69 تا 70: ان میں سے پہلی آیت کا خطاب مسلمانوں سے بطور تنبیہ ہے کہ یہود اور نصاری یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کو یہودیت اور نصرانیت کی ان بدعات سے کوئی ادنی تعلق بھی نہیں تھا لیکن اس کے باوجود وہ محض اس لیے پروپگنڈا کر رہے ہیں کہ تمہیں تمہارے دین حق سے برگشتہ کریں حالانکہ اس کوشش سے وہ صرف اپنی ہی محرومی اور گمراہی کا سامان کر رہے ہیں۔ جو شخص اپنی گمراہی کو ہدایت ثابت کرنے کے لیے دیدہ و دانستہ دوسرے کو راہ حق سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے وہ سب سے پہلے خود اپنے ہی کو گمراہی میں مبتلا کرتا ہے۔ لیکن دوسرے کی مخالفت کے جوش میں اس کو اپنی اس حرکت کے اصلی نتیجہ کا احساس نہیں ہوتا۔۔…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 67–70

27: یہاں آیتوں سے مراد تورات اور انجیل کی وہ آیتیں ہیں جن میں آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کی خبر دی گئی تھی، اور مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تم تورات اور انجیل کے من جانب اللہ ہونے کی گواہی دیتے ہو، اور دوسری طرف ان پیشینگوئیوں کے مصداق یعنی آنحضرت ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے ہو جو بالواسطہ ان آیتوں کا انکار ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 69–70

اہل کتاب مسلمانوں کے خلاف جو عداوت دلوں میں چھپائے ہوئے تھے وہ نظریاتی عدوات تھی ، وہ ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ یہ امت کبھی راہ راست پر آئے ۔ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ یہ امت پوری قوت پورے یقین اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنے نظریات کی طرف لوٹ آئے ۔ اس لئے ان کی تمام جدوجہد اس نکتے پر مرکوز ہے کہ وہ اسلامی نظام حیات سے اس امت کو ادہر ادہر کردیں اور اسے صراط مستقیم سے پھیر دیں۔ وَدَّتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يُضِلُّونَكُمْ……………” اہل کتاب میں سے ایک گروہ یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹادے۔ “ یہ ان کی نفسانی خواہش ہے ۔ ان کے دلوں کی تہہ میں یہ جذبہ چھپا ہوا ہے ۔ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی تم تورات وغیرہ کے قائل ہو جس میں پیغمبر عربی ﷺ اور قرآن کریم کے متعلق بشارات موجود ہیں جن کو تمہارے دل سمجھتے ہیں اور اپنی خلوتوں میں ان چیزوں کا اقرار بھی کرتے ہو۔ پھر کھلم کھلا قرآن پر ایمان لانے اور خاتم الانبیاء کی صداقت کا اقرار کرنے سے کیا چیز مانع ہے۔ خوب سمجھ لو قرآن کا انکار کرنا تمام پچھلی کتب سماویہ کا انکار کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 70 یٰٓاََہْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَاَنْتُمْ تَشْہَدُوْنَ تم قرآن اور صاحب قرآن ﷺ کی حقانیت کے قائل ہو ‘ ان کو پہچان چکے ہو ‘ دل میں جان چکے ہو !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 69–71

62 ان آیات میں یہود کے مسلمانوں سے حسد وعناد اور اسی سلسلہ میں ان کے چند کرتوتوں کا ذکر کیا جارہا ہے۔ پہلی کوشش ان کی یہ تھی کہ جیسے بھی ممکن ہو اگر کچھ مسلمانوں کو یہودی بنا لیا جائے تو وہ اپنے مقصد میں بہت حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے چند مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش بھی کی۔ مگر الٹا بدنام ہوئے اور رسوائی بھی ہوئی۔ بھلا آپ کے پیروکار اور جانثاران یہودیوں کے دام میں کیسے پھنس سکتے تھے۔ ؟ دوسری کوشش ان کی یہ تھی کہ تورات کی جن آیات میں نبی آخرالزماں کی بشارت دی گئی ہیں۔ انہیں عوام میں شائع و ذائع ہونے سے روکا جائے اور اس سلسلہ میں مکروفریب اور کتمان حق کسی بات سے بھی دریغ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

161 ۔ (آیت) ” بایت اللہ “۔ یعنی اللہ کی ان آیتوں سے جو خود تمہاری کتابوں کے اندر موجود ہیں اور جن میں نبوت محمدی ﷺ کی پوری پوری علامتیں اور بشارتیں درج ہیں۔ (آیت) ” وانتم تشھدون “۔ یعنی یہ انکار کچھ ناواقفیت اور لاعلمی کی بنا پر نہیں، جان بوجھ کر ان آیتوں میں تحریف کررہے ہو۔ لفظی بھی اور معنوی بھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

یٰاَھْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ (الآیۃ) اے اہل کتاب ! کیوں حق باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ بناتے ہو ؟ کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہوَ ؟ اس میں یہودیوں کے دو بڑے جرائم کی نشاندہی کرکے انہیں ان سے باز رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے پہلا جرم حق و باطل اور سچ اور جھوٹ کو خلط ملط کرنا تاکہ لوگوں پر حق و باطل واضح نہ ہوسکے، دوسرا کتمان حق، یعنی نبی کریم ﷺ کے جو اوصاف تورات میں لکھے ہوئے تھے انہیں لوگوں سے چھپانا تاکہ نبی کی صداقت کم از کم اس اعتبار سے نمایاں نہ ہوسکے، اور یہ دونوں جرم جانتے بوجھتے کرتے تھے جس سے ان کی بدبختی دو چند ہوگئی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ : اے اہل کتاب تم اللہ کی ان آیات کا کیوں انکار کرتے ہو جو توریت و انجیل میں مذکور ہیں اور جن میں محمد رسول اللہ کی نبوت اور آپ ﷺ کے اوصاف کی صراحت ہے یا یہ مراد کہ تم آیات قرآن کا کیوں انکار کرتے ہو۔ وَاَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ : حالانکہ تم آپس میں چھپ چھپ کر اقرار کرتے ہو کہ محمد ﷺ سچے نبی ہیں جن کا بیان توریت و انجیل میں موجود ہے یا یہ مطلب ہے کہ معجزات کو دیکھ کر تم جانتے ہو کہ یہ نبی برحق ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(70) رسول اکرم ﷺ نبی مرسل ہیں، پھر کیوں انکار کرتے ہو، اور کیوں اپنی کتابوں میں حق بات کے ساتھ باطل کو ملاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ۔۔ : اللہ کی آیات سے مراد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی وہ بشارتیں ہیں جو پہلے انبیاء سے منقول تھیں۔ یہود ان کو صحیح سمجھتے تھے مگر مانتے نہیں تھے۔ اللہ کی آیات سے رسول اللہ ﷺ کی بشارتوں پر مشتمل آیات کے ساتھ ساتھ عقائد و احکام وغیرہ پر مشتمل دوسری آیات بھی مراد ہوسکتی ہیں، یعنی وہ لوگ صرف آپ ﷺ سے متعلق ہی نہیں، بلکہ دوسری آیات کو بھی اللہ کا کلام سمجھنے کے باوجود ان پر ایمان نہیں لاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 70۔ یعنی ان آیات کے صحیح ہونے کے تم خود گواہ ہو جو تمہارے پاس تمہاری کتابوں میں ہیں، یہ حضرت قتادہ اور سدی سے منقول ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے : اور تم ان کی مثل انبیاء (علیہم السلام) کی ان آیات و علامات کے گواہ ہو جن کے بارے تم خود اقرار کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 70–75

(1) عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وامن اھل الکتب من ان تامنہ بقنطار یؤدہ الیک “ جو بڑا خزانہ واپس کردیتے ہیں وہ نصاری ہیں اور لفظ آیت ” ومنہم من ان تامنہ بدینار لا یؤدہ الیک “ اور وہ جو واپس نہیں کرتے وہ یہودی ہیں لفظ آیت ” الا ما دمت علیہ قائما “ یعنی مگر یہ کہ تو اس سے طلب کرتا رہے اور اس کے پیچھے لگا رہے۔ (2) ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومنہم من ان تامنہ بدینار الا یؤدہ الیک “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ کے صحابہ ؓ کے اموال کو روک لیں اور وہ اہل کتاب حکم دئیے گئے کہ ہم مسلمان کو اس کا حق ادا کریں۔ (3) ابن ابی حاتم نے مالک بن دینار (رح) سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ : اے اہل کتاب ] [لِمَ : کیوں ] [تَکْفُرُوْنَ : تم لوگ انکار کرتے ہو ] [بِاٰیٰتِ اللّٰہِ : اللہ کی آیتوں کا ] [وَاَنْتُمْ تَشْہَدُوْنَ : تم لوگ گواہی دیتے ہو ] ترکیب :” اٰمِنُوْا “ کا مفعول ” بِالَّذِیْ اُنْزِلَ “ ہے۔ ” وَجْہَ النَّھَارِ “ میں ” وَجْہَ “ ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اسی طرح ” اٰخِرَ “ بھی ظرف ہے اور اس کے ساتھ ” ھٗ “ کی ضمیر ” اَلنَّھَارِ “ کے لیے ہے۔ ” لَـعَلَّھُمْ “ کی ضمیر ” اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 69–70

اہل کتاب کی خواہش کہ مسلمانوں کو گمراہ کریں ان آیات میں اول تو مسلمانوں کو یہ بتایا کہ اہل کتاب کا ایک گروہ ایسا ہے جو تمہیں گمراہ کرنے کے درپے ہے ان کی خواہش ہے کہ جس طرح ہو سکے تمہیں گمراہ کرلیں۔ کافروں کو یہ گوارا نہیں کہ تم اپنے دین پر رہو اور وہ اپنے دین پر رہیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر ہوجاؤ۔ سورة بقرہ کے رکوع 13 میں گذر چکا ہے کہ اہل کتاب تمہیں مرتد بنانے کی آرزو رکھتے ہیں۔ (وَدَّ کَثِیْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِّنْ بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمُ الْحَقُّ ) اور سورة نساء میں فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–80

قال تعالیٰ ودت طائفۃ من اھل الکتب لو یضلونکم۔۔۔ الی۔۔ ایا مرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل کتاب سے مناظرہ اور مباہلہ کا بیان تھا کہ یہ لوگ نہ تو کسی دلیل کو مانتے ہیں اور نہ مباہلہ پر آمادہ ہوتے ہیں معلوم ہوا کہ حق کی تحقیق مقصود نہیں بلکہ مقصود شرارت اور فتنہ پردازی ہے اس لیے آئندہ آیات میں یہود کی کچھ شرارتوں اور عداوتوں اور دغا بازیوں اور فریب کاریوں کو بیان کرتے ہیں کہ کس کس طرح سے یہ لوگ حق اور باطل کو خلط ملط کرنے میں مکر اور فریب سے کام لیتے ہیں یہ لوگ خوب جانتے ہیں کہ تم حق پر اور سیدھے راستہ پر ہو مگر یہ لوگ تم کو دھوکہ دے کر گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ دور تک یہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

97 دوسرا شکوہ : امام رازی فرماتے ہیں کہ پہلے اس طائفہ کا ذکر کیا جو جاہل اور نادان تھا۔ اب یہاں ان علماء اہل کتاب کو مخاطب فرمایا جو اللہ کی ان آیات کو جانتے تھے جو توراۃ میں موجود تھیں اور حضرت خاتم النبیین ﷺ کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں۔ علامہ آلوسی فرماتے ہیں کہ آیات سے توراۃ وانجیل کی وہ آیتیں مراد ہیں جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ دین صرف اسلام اور توحید ہے۔ لِمَ تَکْفُرُوْنَ بما فی کتبکم من ان الدین عند اللہ الاسلام وانتم تشاھدون ذالک (روح ج 3 ص 199) یعنی جب تم اپنی کتابوں میں لکھا ہوا دیکھتے ہو کہ توحید حق اور حضرت محمد ﷺ کا سچا پیغمبر ہے تو پھر دیدہ دانستہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–71

ربط آیات : گذشتہ درس میں تذکرہ ہوچکا ہے ، کہ یہود و نصاریٰ کا آپس میں جھگڑا یہ تھا کہ یہود کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نصرانی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں کی تردید فرمائی۔ اور فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے اور نصاری کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی تھے بلکہ وہ تو حنیف اور مسلمان تھے۔ یہودیت اور نصرانیت نام کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ بلکہ یہ تورات اور انجیل کی بگڑی ہوئی شکل کا نام ہے۔ اہل کتاب نے تورات او انجیل میں تحریف کرکے اصل دین کو بگار دیا۔ کفر اور شرک دونوں گروہوں میں قدر مشترک ہے۔ دوسری طرف مشرکین بھی اپنا تعلق حضرت ابراہیم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللہِ وَاَنْتُمْ تَشْہَدُوْنَ۝ 70 كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( کر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 68–74

ترکیب : اولی اسم تفضیل ہے ولی یلی بمعنی قریب شدن سے یہ اسم ان کا ‘ بابراھیم متعلق ہے اولی سے للذین مع معطوف خبر ان لویضلون میں لو مصدریہ ہے بمعنی آن۔ الالمن تبع استثناء ہے ما قبل سے ای لاتقروالالمن پس لازم زائد نہیں اور ممکن ہے کہ زائد اور محمول علی المعنی ہو۔ ای احجدوا کل احد الامن۔ ان یوتی میں تین احتمال ہیں (1) یہ کہ موضع جر میں ہو تقدیرہ ولا تو منوابان یوتی احد الخ (2) نصب حرف جر کو حذف مان کر ان صورتوں میں یہ تتمہ کلام یہود کا ہوگا کہ تم اے یہود کسی غیر سے یہ نہ کہو کہ ہماری کتاب اور ملت کے مانند کسی اور کو بھی ملا ہے (اویحا جو کم کا عطف ان یوتی پر ہوگا اور او بمعنی و) ایسا نہ ہو کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 70–71

یٰٓاَہْلَ الْـکِتٰبِ لِمَ تَـکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَاَنْتُمْ تَشْہَدُوْنَ ۔ یٰٓاَہْلَ الْـکِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَـکْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ ع (اے اہل کتاب ! کیونکر انکار کرتے ہو اللہ کی آیتوں کا ؟ حالانکہ تم گواہ ہو۔ اے اہل کتاب ! کیوں ملاتے ہو حق کو باطل کے ساتھ اور حق کو چھپاتے ہو ؟ حالانکہ تم جانتے ہو) (70 تا 71) ان دونوں آیتوں میں اہل کتاب سے خطاب ہے۔ بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھیں ملامت بھی کی جا رہی ہے اور اظہارِ افسوس بھی کیا جا رہا ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ ایسا لگتا ہے کہ آخری فیصلہ بھی سنایا جا رہا ہے۔ جسے اتمامِ حجت بھی کہا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 70–73

فہم القرآن ربط کلام : کسی کے نعروں اور دعو وں سے دھوکہ کھانے اور اعتماد کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی پیروی کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل کسی شخص کی ذات یافرقہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی رحمت کی بدولت ہوا کرتا ہے۔ اہل کتاب رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے کے باوجود فکر مند رہتے تھے کہ مسلمانوں کی تعداددن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ جو شخص بھی آپ سے ملاقات کرتا اور قرآن سنتا ہے وہ آپ ہی کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ اہل کتاب کے سامنے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں اس کی طویل لسٹ تھی۔ اکثریہ ہوا کہ اہل مکہ اور اہل کتاب کا نمائندہ بن کر جانے والاشخص آپ کی پرجمال شخصیت اور دل ربا گفتگو سن کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

منکرین نبوت کو خطاب : 70: یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَاَنْتُمْ تَشْھَدُوْنَ ۔ (اے اہل کتاب تم اللہ کی آیات کا کیوں انکار کرتے ہو اور تم گواہی دیتے ہو) آیات سے مراد تو رات و انجیل ہیں۔ اور ان کے ساتھ کفر سے مراد یہ ہے کہ وہ ان کتابوں کی ان باتوں کو نہیں مانتے تھے۔ جو رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے صحیح ہونے پر دلالت کرنے والی تھیں۔ وَاَنْتُمْ تَشْھَدُوْنَ ۔ (حالانکہ تم گواہی دیتے ہو) یعنی یہ اعتراف کرتے ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں۔ یا تم قرآن کا انکار کرتے ہو۔ اور نبوت کے دلائل کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ آپکی تعریف دونوں کتابوں میں موجود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

70۔ (آیت)” یاھل الکتاب لم تکفرون بایات اللہ “ آیات اللہ سے مراد قرآن کریم یا آپ ﷺ کی صفات جو تورات و انجیل میں بیان کی گئی ہیں۔ (آیت)” وانتم تشھدون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–71

(69 ۔ 71) ۔۔ چند یہود نے معاذ بن جبل ؓ اور حذیفہ بن الیمان ؓ وغیرہ کو یہ رغبت دلائی کہ وہ دین محمدی کو چھوڑ کر یہودی ہوجائیں اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ مسلمان اپنے دین پر خدا کی طرف سے پکے ہیں ان کو تو کسی کے بہکانے سے کچھ ضرر نہیں پہنچ سکتا۔ مگر بہکانے کا اثر بہکانے والوں کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا جس سے وہ غافل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 69–74

اللہ تعالیٰ مومنوں کو اہل کتاب کے اس خبیث گروہ کی مکاریوں سے متنبہ فرما رہا ہے کہ ان کی خواہش یہی ہے کہ تمہیں گمراہ کردیں۔ جیسے ارشاد ہے ترجمہ :” اہل کتاب کے اکثر لوگ تمہیں ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بنا دینے کی خواہش رکھتے ہیں “ اور جسی کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے وہ اسے حاصل کرنے کے لئے جدوجہد بھی کرتا ہے۔ یہ گروہ بھی پوری کوشش کرتا ہے کہ مومنوں کو مرتد کردے۔ اس مقصد کے لئے وہ لوگ ہر ممکن طریقے سے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ اللہ کا فضل ہے کہ بری تدبیریں کرنے والا اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا : ترجمہ ” دراصل وہ خود اپنے آپ کو گمراہ کررہے ہیں “ مومنوں کو گمراہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–75

قول باری ہے (ومن اھل الکتب من ان تامنہ بقنطاریؤدہ الیک، اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال ودولت کا ایک ڈھیر بھی دے دوتو وہ تمھارامال تمہیں اداکردے گا) یہاں لفظ (بقنطار) کے معنی، علی قنطار، کے ہیں اس لیے کہ اس جیسے موقع پر حرف باء اور حرف علی ایک دوسرے کے متعاقب ہوتے ہیں۔ مثلا آپ یہ کہتے ہیں، مررت بفلان ومررت علیہ، (میراگذرفلاں کے پاس سے ہوا، میراگذرفلاں پر ہوا) قنطار کے متعلق حسن سے مروی ہے کہ ایک ہزاردوسومثقال ہوتا ہے (ایک مثقال عرف میں ڈیڑھ درہم کے وزن کا ہوتا ہے) ابونضرہ کا قول ہے کہ بیل کی کھال میں بھرے ہوئے سونے کی مقدارکوقنطارکہتے ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

144 انکار حق کے ایک بڑے سنگین پہلو کا ذکر : سو اہل کتاب کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ کیوں حق کا انکار کرتے ہو جبکہ تم خود اس کے گواہ ہو۔ سو حق کا گواہ ہونے کے باوجود اس کا انکار کرنا بڑا ہی سنگین اور ہولناک جرم ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اہل کتاب کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے اور ان کے قلوب و ضمائر پر دستک دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کیا کہ تم لوگ کیوں کفر و انکار کرتے ہو اللہ کی آیتوں کے ساتھ جبکہ تم لوگ خود گواہ ہو اس بات کے کہ یہ آیتیں حق اور سچ ہیں۔ ان آیتوں سے مراد یا تو تورات و انجیل کی وہ آیتیں ہیں جو نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثت و تشریف آوری، اور صداقت و حقانیت سے متعلق…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–72

اہل کتاب کی تمنا تشریح : اہل کتاب خود گمراہ ہیں اس لئے وہ مسلمانوں کو بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے اس لئے وہ ان کو اپنے جال میں پھنسا کر گمراہ نہیں کرسکتے۔ بلکہ ان غلط کوششوں میں پڑ کر وہ صرف اپنے اعمال نامے کو ہی خراب کریں گے۔ دوبارہ اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو سمجھاتا ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار نہ کرو۔ آخرالزماں نبی ﷺ اور قرآن کریم کے بارے میں تمہاری کتابوں میں صاف صاف بتا دیا گیا ہے۔ تم ان کی سچائیوں کو خوب اچھی طرح جانتے ہو پھر بھی کھلم کھلا ان کی مخالفت کرتے ہو اور تنہائی میں قرآن اور محمد ﷺ کو مانتے ہو۔ جیسا کہ سورة بقرہ میں ذکر ہوچکا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 64–71

آیات 64- 71 اسرارومعارف قل یا اھل الکتاب…………بانا مسلمون۔ آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب ! آئو ، ایک ایسی بات پر متفق ہوجائیں جو ہمارے تمہارے درمیان مسلم ہے اور وہ یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ، نہ عبادت میں کسی کو اس کا شریک بنائیں۔ خواہ بت ہو یا شیطان ، فرشتہ ہو یا انسان۔ اور نہ کسی کو واجب الوجود ہونے میں اس کا شریک ٹھہرائیں۔ یعنی توحید کی دعوت تو ہر نبی نے دی ہے ہر کتاب میں موجود ہے تورات ہو یا انجیل۔ موسیٰ (علیہ السلام) ہوں یا عیسیٰ (علیہ السلام) ، ذات وصفات باری میں اس کی وحدانیت کا اقرار اور عبادات کا واحد مستحق صرف اللہ کا ہونا ، تمام شریکوں سے پاک اور بالاتر صرف اسی کی ذات کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 آیات اللہ سے مراد نبوت محمد ﷺ یہ کے بارے میں وہ بشارتیں ہیں جو اگلے انبیا ( علیہ السلام) سے منقول تھیں۔ یہود ان کے اپنے طور پر صحیح سمجھتے تھے مگر آیات علی العموم بھی مرادہو سکتی ہیں۔ (شوکان وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:70) تشھدون۔ تم شاہد ہو۔ تم حاضر ہو۔ تم گواہی دیتے ہو۔ شھود جس کے معنی حاضر ہونے کے اور موجود ہونے کے ہیں۔ یا شھادۃ سے جس کے معنی گواہی دینے کے ہیں۔ ای وانتم تعلمون حقیق تھا بلا شبھۃ بمنزلۃ علم المشاھدۃ اور تم بلاشک حقیقت کو بمنزلہ علم مشاہدہ کے جانتے ہو۔ (روح المعانی)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–71

لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 71 لم تحاجون (تم کیوں جھگڑتے ہو ؟ ) ھآ انتم (تم نے سنا) ھٰؤلآء (یہ سب) حاججتم (تم جھگڑچکے) حنیف (صرف اللہ کی عبادت کرنے والا) اولی الناس (لوگوں میں زیادہ قریب) لویضلون (کاش وہ بھٹکاویں) لم تلبسون (تم کیوں ملاتے ہو ؟ ) ۔ تشریح : آیت نمبر 65 تا 71 یہود اور نصاریٰ جس طرح توحید کے دعویدار ہونے کے باوجود طرح طرح کے شرک میں مبتلا تھے اسی طرح ایک بات پر دونوں جماعتیں جھگڑتی رہتی تھیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے یا عیسائی۔ دونوں کا یہ دعوی تھا کہ وہ ہمارے فرقے سے تعلق رکھتے تھے اور ہم دین ابراہمی اور ملت ابراہیمی کے پیروکار ہیں۔ ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 69–71

یہود کی شرارت شان نزول : چند یہود نے حضرت معاذ بن جبل ؓ اور حضرت حذیفہ بن الیمان ؓ وغیرہ کو یہ رغبت دلائی کہ وہ دین محدی ( ﷺ) کو چھوڑ کر یہودی ہوجائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ مسلمان اپنے دین پر خدا عزوجل کی طرف سے پکے ہیں، ان کو تو کسی کے بہکانے سے کچھ ضرر نہیں پہنچ سکتا مگر بہکانے کا اثر بہکانے والوں کے نامہ اعمال میں لکھا جاوے گا جس سے وہ غافل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 70–74

[29] یعنی اللہ کی وہ آیتیں جو تمہاری اپنی کتابوں میں موجود ہیں اور جن میں نبوت محمدی کی پوری پوری علامتیں اور بشارتیں درج ہیں اور جن پر تمہارا دل گواہی دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 69–71

اہل کتاب کا تعصب : (ف 1) حضور ﷺ نے جب اسلام کی روشنی سے سارا عالم بقعہ نور سا بنا دیا تو سپرہ چشم یہودی برداشت نہ کرسکے اور حیلوں اور بہانوں سے اس شمع ہدایت کو بجھانے میں ہوگئے آپ ﷺ نے فرمایا تلبیس سے کیوں کام لیتے ہو حق و باطل کو کیوں ملا دیتے ہو اس کہ دونوں میں کوئی تمیز نہ رہے تم جانتے ہوئے اور علم رکھتے ہوئے بھی حق پوشی سے کام لیتے ہو ، کیا یہ نری بدبختی نہیں ؟ بات یہ تھی کہ یہودی ایک طرف تو اسلام کے متعلق غلط باتیں مشہور کرتے اور عوام میں اسے بدنام کرنے کی کوشش کرتے ، دوسری طرف توریت کی ان آیات میں تحریف سے کام لیتے جن میں حضور ﷺ کی بعثت کا تذکرہ ہے ، قرآن حکیم نے ان کی اس دو گونہ تحریف…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 4۔ اہل کتاب میں سے بعض لوگ دل سے یہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح تم کو دین حق سے گمراہ اور بےراہ کردیں مگر وہ سوائے اپنے آپ کے کسی اور کو گمراہ نہیں کرسکتے ۔ یعنی خود ہی گمراہی کے وبال میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان کو اس وبال میں مبلا ہونے کی خبر بھی نہیں۔ اے اہل کتاب تم کیوں آیات خداوندی کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم ان کے آیات الٰہی ہونے کے قائل اور مقر ہو۔ ( تیسیر) بعض اہل کتاب نے معاذ بن جبل ، حذیفہ بن الیمان اور عمار بن یاسر وغیرہم کو اپنے مذہب میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی اور یہ کہا تھا کہ تم لوگ ہمارے دین میں آ جائو اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ اگرچہ آیت کا مورد خاص ہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 62–71

ف 1۔ دونوں جو تشہدون اور تعلمون فرمایا، تو اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ عدم اقرار یا عدم علم کی حالت میں کفر جائز ہے، قبیح ذاتی تو کسی حال میں جائز ہو ہی نہیں سکتا، بلکہ وجہ یہ ہے کہ اقرار اور علم کے وقت کفر اور زیادہ قابل ملامت ہے۔ اوپر مذکور تھا کہ بعض اہل کتاب مسلمانوں کے اضلال کی فکر میں رہتے ہیں۔ آگے ان کی ایک تدبیر کا بیان فرماتے ہیں جس کو اضلال مومنین کے لئے انہوں نے تجویز کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اہل کتاب سے خطاب کہ تم کیوں اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہو : 147: اہل کتاب کی اس شفاوت کا بیان کہ وہ حق کو حق سمجھتے ہوئے اس سے انکار کردیتے ہیں۔ حق کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی آیات جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہو رہی تھیں اور جن کی صداقت وہ خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے تھے اور خود اس بات کے گواہ بھی تھے کہ ان کی کتابوں میں ایک رسول کے آنے کا ذکر موجود ہے اور اس آنے والے رسول کی بہت سی نشانیاں بھی وہ اپنی کتب سماوی میں پڑھ رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ نبی اعظم و آخر پر منطبق ہوئی دیکھ بھی رہے تھے لیکن اس کے باوجود اتنے ڈھیٹ تھے کہ صاف صاف انکار کردیتے تھے اور پھر اس کی مزید وضاحت اللہ تعالیٰ نے اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 70–71

The words in أَنتُمْ تَشْهَدُونَ (you are yourselves a witness - 70) and in أَنتُمْ تَعْلَمُونَ (you know ( 71) should not be taken to mean that disbelief will become permissible for them if they do not attest to the truth or have no knowledge about it. This is because kufr (disbelief) is intrinsically an abominable thing to practice. This is prohibited under all conditions. However, the mention of kufr (disbelief) after knowledge and attestation is to increase the impact of reproachment.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 68–70

60. Another rendering of this could be, 'and you yourselves bear witness' to Muhammad's prophethood. However it is translated the sense remains the same. In fact, the impeccable purity of the life of the Prophet, the astounding impact of his teachings and training on the lives of his Companions, and the loftiness of the teachings of the Qur'an all constituted such illustrious signs of God that it was very difficult for anyone conversant with the lives of the Prophets and the tenor of Divine Scriptures to doubt the prophethood of Muhammad (peace be on him) . It is a fact that many Jews and…

Read the full tafseer →