Explained with ayahs 69–74
یہودیوں کا حسد
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ان یہودیوں کے حسد کو دیکھو کہ مسلمانوں کیسے جل بھن رہے ہیں۔ انہیں بہکانے کی کیا کیا پوشیدہ ترکیبیں کر رہے ہیں کیسے کیسے مکرو فریب کے جال بچھاتے ہیں، حالانکہ دراصل ان تمام چیزوں کا وبال خود ان کی جانوں پر ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں۔ پھر انہیں ان کی یہ ذلیل حرکت یاد دلائی جا رہی ہے کہ تم سچائی جانتے ہوئے بھی حق کو پہچانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی آیات سے یہ منکر ہو رہے ہو۔ علم کے باوجود یہ بدخصلت بھی ان میں ہے۔ کہ حق و باطل کو ملا دیتے ہیں، اور ان کی کتابوں میں جو صفیں رسول اللہ ﷺ کی ہیں ان کو چھپالیتے ہیں۔ بہکانے کی جو صورتیں بناتے ہیں ان میں سے ایک یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
سورة اٰلِ عِمْرٰن 60
دوسرا ترجمہ اس فقرہ کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”تم خود گواہی دیتے ہو“۔ دونوں صورتوں میں نفس معنی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ دراصل نبی ﷺ کی پاکیزہ زندگی، اور صحابہ کرام کی زندگیوں پر آپ کی تعلیم و تربیت کے حیرت انگیز اثرات، اور وہ بلند پایہ مضامین جو قرآن میں ارشاد ہو رہے تھے، یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ کی ایسی روشن آیات تھیں کہ جو شخص انبیا کے احوال اور کتب آسمانی کے طرز سے واقف ہو اس کے لیے ان آیات کو دیکھ کر آنحضرت کی نبوت میں شک کرنا بہت ہی مشکل تھا۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ بہت سے اہل کتاب (خصوصاً ان کے اہل علم) یہ جان چکے تھے کہ حضور وہی نبی ہیں جن کی آمد کا وعدہ انبیا سے سابقین…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
دل سے چاہتے ہیں بعضے لوگ اہل کتاب میں سے اس امر کو کہ تم کو (دین حق سے) گمراہ کردیں، گمراہ نہیں کرسکتے مگر خود اپنے آپ کو (وبال اضلال میں گرفتار کر رہے ہیں) اور اس کی اطلاع انہیں رکھتے، اے اہل کتاب کیوں کفر کرتے ہو اللہ تعالیٰ کی (ان) آیتوں کے ساتھ (جو تورات اور انجیل میں نبوت محمدیہ ﷺ پر دلالت کرتی ہیں، کیونکہ حضور ﷺ کی نبوت کا انکار کرنا ان آیات کی تکذیب کرنا ہے جو کفر ہے) حالانکہ تم (اپنی زبان سے) اقرار کرتے ہو (کہ وہ آیات حق ہیں، یہ تو ملامت ہوئی ان کے ضلال پر، آگے ضلال پر ملامت فرماتے ہیں کہ) اے اہل کتاب کیوں مخلوط کرتے ہو واقعی (مضمون یعنی نبوت محمدیہ) کو غیر واقعی (یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
تفسیر آیت 69 تا 70: ان میں سے پہلی آیت کا خطاب مسلمانوں سے بطور تنبیہ ہے کہ یہود اور نصاری یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کو یہودیت اور نصرانیت کی ان بدعات سے کوئی ادنی تعلق بھی نہیں تھا لیکن اس کے باوجود وہ محض اس لیے پروپگنڈا کر رہے ہیں کہ تمہیں تمہارے دین حق سے برگشتہ کریں حالانکہ اس کوشش سے وہ صرف اپنی ہی محرومی اور گمراہی کا سامان کر رہے ہیں۔ جو شخص اپنی گمراہی کو ہدایت ثابت کرنے کے لیے دیدہ و دانستہ دوسرے کو راہ حق سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے وہ سب سے پہلے خود اپنے ہی کو گمراہی میں مبتلا کرتا ہے۔ لیکن دوسرے کی مخالفت کے جوش میں اس کو اپنی اس حرکت کے اصلی نتیجہ کا احساس نہیں ہوتا۔۔…
Read the full tafseer →69۔ 1 یہ یہودیوں کے اس حسد و بغض کی وضاحت ہے جو اہل ایمان سے رکھتے تھے اور اسی عناد کی وجہ سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس طرح یہ خود ہی بےشعوری میں اپنے آپ کو گمراہ کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
27: یہاں آیتوں سے مراد تورات اور انجیل کی وہ آیتیں ہیں جن میں آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کی خبر دی گئی تھی، اور مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تم تورات اور انجیل کے من جانب اللہ ہونے کی گواہی دیتے ہو، اور دوسری طرف ان پیشینگوئیوں کے مصداق یعنی آنحضرت ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے ہو جو بالواسطہ ان آیتوں کا انکار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
اہل کتاب مسلمانوں کے خلاف جو عداوت دلوں میں چھپائے ہوئے تھے وہ نظریاتی عدوات تھی ، وہ ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ یہ امت کبھی راہ راست پر آئے ۔ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ یہ امت پوری قوت پورے یقین اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنے نظریات کی طرف لوٹ آئے ۔ اس لئے ان کی تمام جدوجہد اس نکتے پر مرکوز ہے کہ وہ اسلامی نظام حیات سے اس امت کو ادہر ادہر کردیں اور اسے صراط مستقیم سے پھیر دیں۔ وَدَّتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يُضِلُّونَكُمْ……………” اہل کتاب میں سے ایک گروہ یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹادے۔ “ یہ ان کی نفسانی خواہش ہے ۔ ان کے دلوں کی تہہ میں یہ جذبہ چھپا ہوا ہے ۔ ان…
Read the full tafseer →5 پہلے کہا تھا (ۭوَاللّٰهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِيْنَ ) 3 ۔ آل عمران :68) یہاں بتلایا کہ جب مومنین کا ولی اللہ ہے تو تمہارا داؤ ان پر کیا چل سکتا ہے۔ بیشک بعض اہل کتاب چاہتے ہیں کہ جس طرح خود گمراہ ہیں مسلمانوں کو بھی راہ حق سے ہٹا دیں لیکن مسلمان تو ان کے جال میں پھنسنے والے نہیں البتہ یہ لوگ اپنی گمراہی کے وبال میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ ان کی مغویانہ کوششوں کا ضرر خود ان ہی کو پہنچے گا جسے وہ فی الحال نہیں سمجھتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
آیت 68 اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰہِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ وَہٰذَا النَّبِیُّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ط وَاللّٰہُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ
وہ اہل ایمان کا حامی و مددگار ہے ‘ پشت پناہ ہے ‘ حمایتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
62 ان آیات میں یہود کے مسلمانوں سے حسد وعناد اور اسی سلسلہ میں ان کے چند کرتوتوں کا ذکر کیا جارہا ہے۔ پہلی کوشش ان کی یہ تھی کہ جیسے بھی ممکن ہو اگر کچھ مسلمانوں کو یہودی بنا لیا جائے تو وہ اپنے مقصد میں بہت حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے چند مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش بھی کی۔ مگر الٹا بدنام ہوئے اور رسوائی بھی ہوئی۔ بھلا آپ کے پیروکار اور جانثاران یہودیوں کے دام میں کیسے پھنس سکتے تھے۔ ؟ دوسری کوشش ان کی یہ تھی کہ تورات کی جن آیات میں نبی آخرالزماں کی بشارت دی گئی ہیں۔ انہیں عوام میں شائع و ذائع ہونے سے روکا جائے اور اس سلسلہ میں مکروفریب اور کتمان حق کسی بات سے بھی دریغ…
Read the full tafseer →160 ۔ روایتوں میں آتا ہے کہ یہود کے حوصلہ اتنے بڑھے ہوئے تھے اور انہیں باطل کی قوت پر اتنا غرہ تھا کہ خود اسلام قبول کرنا الگ رہا۔ مسلمانوں کو بھی ان کے عقائد سے برگشتہ کردینے کی فکر میں لگے رہتے تھے آج بھی کتنے مسیحیوں کے دل میں یہ تمنا جیتی جاگتی موجود ہے کہ مسلمان مسیحیت قبول کریں یا نہ کریں بہرحال اپنے اسلامی عقائد سے تو ڈگمگاہی جائیں۔ (آیت) ” طآئفۃ من اھل الکتب “۔ خاص اشارہ یہود کی جانب ہے۔ (آیت) ” یضلونکم “۔ خطاب عام مسلمانوں سے ہے۔ (آیت) ’ ما یضلون الا انفسھم “۔ یعنی حقیقتہ وہ مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں تو کامیاب ہوتے نہیں۔ خود اپنے ہی نامہ اعمال کو اور زیادہ سیاہ کرتے رہتے ہیں۔ (آیت)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
وَدَّتْ طَّآئِفَۃٌ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ ۔ روایتوں میں آتا ہے کہ یہود کے حوصلے اتنے بڑھے ہوئے تھے، اور انہیں باطل پر اتنا غرہ تھا کہ خود تو اسلام قبول کرنا الگ ہے مسلمانوں کو بھی ان کے عقائد سے برگشتہ کردینے کی فکر میں لگے رہتے تھے، آج بھی کتنے ہی مسیحیوں کے دل میں یہ تمنا موجود ہے کہ مسلمان خود مسیحیت قبول کرلیں یا اگر مسیحیت قبول نہ کریں تو کم از کم صحیح اسلام پر باقی نہ رہیں۔
Read the full tafseer →وَدَّتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ : حضرت معاذ بن جبل ‘ حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت عمار بن یاسر کو یہودیوں نے اپنے مذہب کی دعوت دی تو اس آیت کا نزول ہوا یعنی یہودیوں کی ایک
لَوْ يُضِلُّوْنَكُمْ : جماعت چاہتی ہے کہ تم کو تمہارے دین سے اغوا کرلے اور لوٹا کر کفر کی طرف لے جائے۔ لَوْ بمعنی اَنْ مصدری ہے لیکن لفظی عمل اَنْ کی طرح نہیں ہے (ورنہ یضلونکا نون حذف کردیا جاتا) پورا جملہ (بتاویل مفرد ہو کر) وَدَّتْ کا مفعول ہے یالَوْ تمنائی ہے اس صورت میں یہ مودت کا بیان ہوجائیگا۔
وَمَا يُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ : اور وہ سوائے اپنے نفسوں کے کسی کو گمراہ نہیں کرتے یعنی اس اغوا کا وبال انہی…
Read the full tafseer →(69) اصحاب رسول اکرم ﷺ میں سے حضرت معاذ حذیفہ اور عمار کو غزوہ احد کے دن کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں نے اپنے دین یہودیت کی دعوت دی کہ اسلام کو چھوڑ دیں اور اس کو قبول کو لیں، اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرماتے ہیں، اہل کتاب کی جماعت اس بات کی آرزو کرتی ہے کہ تمہیں تمہارے دین اسلام سے گمراہ کر دین، مگر درحقیقت وہ خود دین الہی سے دور ہوچکے ہیں اور وہ یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اس چیز کی اطلاع کردے گا جن باتوں کا تم اپنی کتابوں میں قرار کرتے ہو۔
Read the full tafseer →وَدَّتْ طَّاۗىِٕفَةٌ۔۔ : اس گروہ کی سازشوں کا ذکر اسی سورت (72، 73) میں آ رہا ہے۔ فرمایا یہ لوگ مسلمانوں کو یہودی بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، مسلمان ان کے بہکاوے میں کیا آئیں گے، وہ تو ایمان میں پختہ ہیں، یہ خود ہی مارے جائیں گے، مگر انھیں اس کا شعور ہی نہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 69۔
یہ آیت حضرات معاذ بن جبل، حذیفہ بن یمان، اور عمار بن یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بارے میں نازل ہوئی جس وقت بنی نضیر، قریظہ، اور بنی قینقاع کے یہودیوں نے انہیں اپنے دین کی طرف دعوت دی، اور یہ آیت اس قول باری تعالیٰ کی مثل ہے۔
(آیت) ” ود کثیر من اھل الکتب لویردونکم من بعد ایمانکم کفارا حسدا “۔ (البقرہ : 109)
ترجمہ : دل سے چاہتے ہیں بہت سے اہل کتاب کہ کسی طرح پھر بنا دیں تمہیں ایمان لانے کے بعد کافر (انکی یہ آرزو) بوجہ اس حسد کے ہے۔ اس قول کی بنا پر من تبیعض کے لئے ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے، مراد جمیع اہل کتاب ہیں تو پھر من بیان جنس کے لئے ہوگا۔
اور (آیت) ” لویضلونکم “…
Read the full tafseer →(1) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے سفیان ؓ سے روایت کیا ہے کہ سورة آل عمران میں اہل کتاب کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا گیا وہ نصاری کے بارے میں ہے۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” یاھل الکتب لم تکفرون بایت اللہ وانتم تشھدون “ سے کہ تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے نبی ﷺ کی صفت تمہاری کتابوں میں ہے پھر تم اس کے ساتھ کفر کرتے ہو اور اس کا انکار کردیتے ہو اور اس کو ناپسند کرتے ہو اور اس پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ تم اس کو اپنے پاس لکھا ہوا پاتے ہو اپنے پاس تورات میں انجیل میں (اور وہ یہی) نبی امی ہیں۔
(3) ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ…
Read the full tafseer →[وَدَّتْ : آرزو کی ] [طَّـآئِفَۃٌ : ایک جماعت نے ] [مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ : اہل کتاب میں سے ] [لَوْ : کاش ] [یُضِلُّوْنَـکُمْ : وہ لوگ ] [گمراہ کردیں تم لوگوں کو ] [وَمَا یُضِلُّوْنَ : اور وہ گمراہ نہیں کرتے ] [اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ : مگر اپنے آپ کو ] [وَ : اس حال میں کہ ] [مَا یَشْعُرُوْنَ : وہ لوگ شعور نہیں رکھتے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
اہل کتاب کی خواہش کہ مسلمانوں کو گمراہ کریں
ان آیات میں اول تو مسلمانوں کو یہ بتایا کہ اہل کتاب کا ایک گروہ ایسا ہے جو تمہیں گمراہ کرنے کے درپے ہے ان کی خواہش ہے کہ جس طرح ہو سکے تمہیں گمراہ کرلیں۔ کافروں کو یہ گوارا نہیں کہ تم اپنے دین پر رہو اور وہ اپنے دین پر رہیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر ہوجاؤ۔ سورة بقرہ کے رکوع 13 میں گذر چکا ہے کہ اہل کتاب تمہیں مرتد بنانے کی آرزو رکھتے ہیں۔
(وَدَّ کَثِیْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِّنْ بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمُ الْحَقُّ ) اور سورة نساء میں فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–80
قال تعالیٰ ودت طائفۃ من اھل الکتب لو یضلونکم۔۔۔ الی۔۔ ایا مرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل کتاب سے مناظرہ اور مباہلہ کا بیان تھا کہ یہ لوگ نہ تو کسی دلیل کو مانتے ہیں اور نہ مباہلہ پر آمادہ ہوتے ہیں معلوم ہوا کہ حق کی تحقیق مقصود نہیں بلکہ مقصود شرارت اور فتنہ پردازی ہے اس لیے آئندہ آیات میں یہود کی کچھ شرارتوں اور عداوتوں اور دغا بازیوں اور فریب کاریوں کو بیان کرتے ہیں کہ کس کس طرح سے یہ لوگ حق اور باطل کو خلط ملط کرنے میں مکر اور فریب سے کام لیتے ہیں یہ لوگ خوب جانتے ہیں کہ تم حق پر اور سیدھے راستہ پر ہو مگر یہ لوگ تم کو دھوکہ دے کر گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ دور تک یہی…
Read the full tafseer →95 لَوق مصدریہ ہے اور یہ وَدَّتْ کا مفعول ہے، یہود ونصاریٰ گمراہی میں اس قدر آگے نکل چکے تھے کہ ان میں سے کچھ لوگ تو مسلمانوں کو بھی اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش میں مصروف تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمانوں کو اسلام سے ہٹا کر اپنے دین پر لے آئیں۔ اسی لیے وہ یہ غلط پروپیگنڈا کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے دین پر تھے۔
96 لیکن مسلمانوں کو تو وہ اسلام سے برگشتہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے اس لیے اپنا ہی نامہ اعمال سیاہ کر کے اپنی ہی عاقبت خراب کر رہے ہیں اور ان کی نادانی کا یہ عالم ہے کہ اس کا انہیں شعور تک نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
ربط آیات : گذشتہ درس میں تذکرہ ہوچکا ہے ، کہ یہود و نصاریٰ کا آپس میں جھگڑا یہ تھا کہ یہود کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نصرانی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں کی تردید فرمائی۔ اور فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے اور نصاری کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی تھے بلکہ وہ تو حنیف اور مسلمان تھے۔ یہودیت اور نصرانیت نام کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ بلکہ یہ تورات اور انجیل کی بگڑی ہوئی شکل کا نام ہے۔ اہل کتاب نے تورات او انجیل میں تحریف کرکے اصل دین کو بگار دیا۔ کفر اور شرک دونوں گروہوں میں قدر مشترک ہے۔
دوسری طرف مشرکین بھی اپنا تعلق حضرت ابراہیم…
Read the full tafseer →وَدَّتْ طَّاۗىِٕفَۃٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يُضِلُّوْنَكُمْ 0 ۭ وَمَا يُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ 69
ودد
الودّ : محبّة الشیء، وتمنّي كونه، ويستعمل في كلّ واحد من المعنيين علی أن التّمنّي يتضمّن معنی الودّ ، لأنّ التّمنّي هو تشهّي حصول ما تَوَدُّهُ ، وقوله تعالی: وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21]
( و د د ) الود ۔
کے معنی کسی چیز سے محبت اور اس کے ہونے کی تمنا کرنا کے ہیں یہ لفظ ان دونوں معنوں میں الگ الگ بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ کسی چیز کی تمنا اس کی محبت کے معنی کو متضمعن ہوتی ہے ۔ کیونکہ تمنا کے معنی کسی محبوب چیز کی آرزو کرنا کے ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–74
ترکیب : اولی اسم تفضیل ہے ولی یلی بمعنی قریب شدن سے یہ اسم ان کا ‘ بابراھیم متعلق ہے اولی سے للذین مع معطوف خبر ان لویضلون میں لو مصدریہ ہے بمعنی آن۔ الالمن تبع استثناء ہے ما قبل سے ای لاتقروالالمن پس لازم زائد نہیں اور ممکن ہے کہ زائد اور محمول علی المعنی ہو۔ ای احجدوا کل احد الامن۔ ان یوتی میں تین احتمال ہیں (1) یہ کہ موضع جر میں ہو تقدیرہ ولا تو منوابان یوتی احد الخ (2) نصب حرف جر کو حذف مان کر ان صورتوں میں یہ تتمہ کلام یہود کا ہوگا کہ تم اے یہود کسی غیر سے یہ نہ کہو کہ ہماری کتاب اور ملت کے مانند کسی اور کو بھی ملا ہے (اویحا جو کم کا عطف ان یوتی پر ہوگا اور او بمعنی و) ایسا نہ ہو کہ…
Read the full tafseer →وَدَّتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْ اَہْلِ الْـکِتٰبِ لَوْیُضِلُّوْنَـکُمْ ط وَمَا یُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ ۔
(دل سے چاہتا ہے ایک گروہ اہل کتاب میں سے کہ کاش تمہیں گمراہ کر دے حالانکہ وہ نہیں گمراہ کرتے مگر اپنے آپ کو، لیکن وہ اس کا احساس نہیں کرتے) (69)
اہلِ کتاب کا اصل مرض
گزشتہ آیات میں جس طرح ایک ترتیب سے تاریخی اور عقلی دلائل قائم کر کے اہل کتاب کے طرز عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، اس کے بعد قرآن کریم کا ہر قاری یہود و نصاریٰ کے طرز عمل کو سمجھنے میں دشواری محسوس کرتا ہے کیونکہ اگر معاملہ صرف مشرکین عرب کا ہوتا تو ان کی ہٹ دھرمی کو ان کی جہالت پر محمول کیا جاسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب یہ جاننے کے باوجود کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی اور عیسائی نہیں تھے۔ پھر بھی اپنے مذہب کو تقویت دینے اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے ان کی شخصیت کا حوالہ دیتے ہیں۔ گمراہ فرقوں کی ایک یہ بھی نشانی ہوتی ہے کہ وہ دلائل کی کمزوری کو شخصیات سے نسبت اور ان کی عقیدت کے حوالے سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
قرآن مجید مسلمانوں کو باربار اہل کتاب کی سازشوں اور عادتوں سے آگاہ کرتا ہے کہ اہل کتاب کی کوشش ہے کہ وہ کسی طرح تمہیں صراط مستقیم سے گمراہ کردیں۔ ان کی بد حرکتوں اور ان کے خبث باطن کے باوجود قرآن مجید انہیں سمجھانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتا۔ قرآن جب…
Read the full tafseer →یہود کے طرز عمل کی مذمت :
69: وَدَّتْ طَّآپفَۃٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَکُمْ ۔ وَمَا یُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ ۔ (اہل کتاب کا ایک گروہ چاہتا ہے کہ کاش وہ تمہیں گمراہ کردیں حالانکہ وہ اپنے آپ کو گمراہ کرنے والے ہیں اور ان کو اس کا شعور بھی نہیں) طائفہ سے مراد یہود ہیں انہوں نے عمار، حذیفہ معاذ ؓ کو یہودیت کی طرف بلایا۔ وَمَا یُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ ۔ (حالانکہ وہ اپنے آپ کو گمراہ کرنے والے ہیں) یعنی انکی گمراہی کا وبال ان پر پڑے گا۔ کیونکہ ان کے اضلال اور ضلال کی وجہ سے عذاب دوگنا کردیا جائے گا۔ وَمَا یَشْعُرُوْنَ ( اور ان کو…
Read the full tafseer →(تفسیر) 69۔:
(آیت)” ودت طائفۃ من اھل الکتاب “ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی ، جب یہودیوں نے ان صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین معاذ بن جبل ؓ ، حذیفہ بن یمان ؓ ، عمار بن یاسر ؓ ، کو اپنے مذہب کی دعوت دی (آیت)” ودت طائفۃ “ کا معنی ہے اہل کتاب کی ایک جماعت نے تمنا کی (یہود نے) (آیت)” لویضلونکم “ وہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں اور کفر کی طرف لوٹا دیں ۔ (آیت)” وما یضلون الا انفسھم وما یشعرون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
(69 ۔ 71) ۔۔ چند یہود نے معاذ بن جبل ؓ اور حذیفہ بن الیمان ؓ وغیرہ کو یہ رغبت دلائی کہ وہ دین محمدی کو چھوڑ کر یہودی ہوجائیں اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ مسلمان اپنے دین پر خدا کی طرف سے پکے ہیں ان کو تو کسی کے بہکانے سے کچھ ضرر نہیں پہنچ سکتا۔ مگر بہکانے کا اثر بہکانے والوں کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا جس سے وہ غافل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
اللہ تعالیٰ مومنوں کو اہل کتاب کے اس خبیث گروہ کی مکاریوں سے متنبہ فرما رہا ہے کہ ان کی خواہش یہی ہے کہ تمہیں گمراہ کردیں۔ جیسے ارشاد ہے ترجمہ :” اہل کتاب کے اکثر لوگ تمہیں ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بنا دینے کی خواہش رکھتے ہیں “ اور جسی کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے وہ اسے حاصل کرنے کے لئے جدوجہد بھی کرتا ہے۔ یہ گروہ بھی پوری کوشش کرتا ہے کہ مومنوں کو مرتد کردے۔ اس مقصد کے لئے وہ لوگ ہر ممکن طریقے سے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ اللہ کا فضل ہے کہ بری تدبیریں کرنے والا اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا : ترجمہ ” دراصل وہ خود اپنے آپ کو گمراہ کررہے ہیں “ مومنوں کو گمراہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–75
قول باری ہے (ومن اھل الکتب من ان تامنہ بقنطاریؤدہ الیک، اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال ودولت کا ایک ڈھیر بھی دے دوتو وہ تمھارامال تمہیں اداکردے گا) یہاں لفظ (بقنطار) کے معنی، علی قنطار، کے ہیں اس لیے کہ اس جیسے موقع پر حرف باء اور حرف علی ایک دوسرے کے متعاقب ہوتے ہیں۔ مثلا آپ یہ کہتے ہیں، مررت بفلان ومررت علیہ، (میراگذرفلاں کے پاس سے ہوا، میراگذرفلاں پر ہوا) قنطار کے متعلق حسن سے مروی ہے کہ ایک ہزاردوسومثقال ہوتا ہے (ایک مثقال عرف میں ڈیڑھ درہم کے وزن کا ہوتا ہے) ابونضرہ کا قول ہے کہ بیل کی کھال میں بھرے ہوئے سونے کی مقدارکوقنطارکہتے ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس…
Read the full tafseer →142 اہل کتاب کے ایک گروہ کی دین دشمنی کا ایک مظہر : کہ یہ لوگ حق کو قبول کرنے کی بجائے الٹا یہ چاہتے ہیں کہ تم لوگوں کو بھی دین سے پھیر دیں۔ سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ اہل کتاب کا ایک گروہ اہل ایمان کو گمراہ کرنے اور ان کو راہ حق سے پھیرنے کی خواہش و چاہت رکھتا ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ لوگ ایسا اس لیے چاہتے ہیں تاکہ حق و ہدایت کے نور سے جس طرح یہ لوگ محروم ہیں اسی طرح تم بھی محروم ہوجاؤ۔ اور پھر تم سب ایک برابر ہوجاؤ ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ کَمَا کَفَرُوْا فَتَکُوْنُوْنَ سَوَٓائً } الایۃ (النسا۔ 89) ۔ سو محروم اور ہٹ دھرم انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
اہل کتاب کی تمنا
تشریح : اہل کتاب خود گمراہ ہیں اس لئے وہ مسلمانوں کو بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے اس لئے وہ ان کو اپنے جال میں پھنسا کر گمراہ نہیں کرسکتے۔ بلکہ ان غلط کوششوں میں پڑ کر وہ صرف اپنے اعمال نامے کو ہی خراب کریں گے۔ دوبارہ اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو سمجھاتا ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار نہ کرو۔ آخرالزماں نبی ﷺ اور قرآن کریم کے بارے میں تمہاری کتابوں میں صاف صاف بتا دیا گیا ہے۔ تم ان کی سچائیوں کو خوب اچھی طرح جانتے ہو پھر بھی کھلم کھلا ان کی مخالفت کرتے ہو اور تنہائی میں قرآن اور محمد ﷺ کو مانتے ہو۔ جیسا کہ سورة بقرہ میں ذکر ہوچکا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–71
آیات 64- 71
اسرارومعارف
قل یا اھل الکتاب…………بانا مسلمون۔
آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب ! آئو ، ایک ایسی بات پر متفق ہوجائیں جو ہمارے تمہارے درمیان مسلم ہے اور وہ یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ، نہ عبادت میں کسی کو اس کا شریک بنائیں۔ خواہ بت ہو یا شیطان ، فرشتہ ہو یا انسان۔ اور نہ کسی کو واجب الوجود ہونے میں اس کا شریک ٹھہرائیں۔ یعنی توحید کی دعوت تو ہر نبی نے دی ہے ہر کتاب میں موجود ہے تورات ہو یا انجیل۔ موسیٰ (علیہ السلام) ہوں یا عیسیٰ (علیہ السلام) ، ذات وصفات باری میں اس کی وحدانیت کا اقرار اور عبادات کا واحد مستحق صرف اللہ کا ہونا ، تمام شریکوں سے پاک اور بالاتر صرف اسی کی ذات کا…
Read the full tafseer →ف 3 یہاں طائفہ اہل کتاب سے مراد بنو نضیر اور بنو قریظہ ہیں جو بعض مسلمانوں کو یہودی بنانے میں کو شاں رہتے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ فرمایا مسلمانوں تو ان کے بہکانے میں کیا آئیں گے۔ (شوکانی۔ وحیدی )
Read the full tafseer →(3:69) ودک ماضی واحد مؤنث غائب۔ ودیودود۔ مودۃ۔ مصدر۔ اس نے دل سے چاہا۔ لو۔ بمعنی کہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–71
لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 71
لم تحاجون (تم کیوں جھگڑتے ہو ؟ ) ھآ انتم (تم نے سنا) ھٰؤلآء (یہ سب) حاججتم (تم جھگڑچکے) حنیف (صرف اللہ کی عبادت کرنے والا) اولی الناس (لوگوں میں زیادہ قریب) لویضلون (کاش وہ بھٹکاویں) لم تلبسون (تم کیوں ملاتے ہو ؟ ) ۔
تشریح : آیت نمبر 65 تا 71
یہود اور نصاریٰ جس طرح توحید کے دعویدار ہونے کے باوجود طرح طرح کے شرک میں مبتلا تھے اسی طرح ایک بات پر دونوں جماعتیں جھگڑتی رہتی تھیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے یا عیسائی۔ دونوں کا یہ دعوی تھا کہ وہ ہمارے فرقے سے تعلق رکھتے تھے اور ہم دین ابراہمی اور ملت ابراہیمی کے پیروکار ہیں۔ ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
یہود کی شرارت
شان نزول : چند یہود نے حضرت معاذ بن جبل ؓ اور حضرت حذیفہ بن الیمان ؓ وغیرہ کو یہ رغبت دلائی کہ وہ دین محدی ( ﷺ) کو چھوڑ کر یہودی ہوجائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ مسلمان اپنے دین پر خدا عزوجل کی طرف سے پکے ہیں، ان کو تو کسی کے بہکانے سے کچھ ضرر نہیں پہنچ سکتا مگر بہکانے کا اثر بہکانے والوں کے نامہ اعمال میں لکھا جاوے گا جس سے وہ غافل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–69
[28] اسی کا نام شریعت کی اصطلاح میں مباہلہ ہے۔ مباہلہ میں ہر فریق اپنے کو اللہ کے سپرد کرتا ہے اور گڑگڑا کر دعا مانگنے کے بعد اس کے فیصلہ کا منتظر رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
اہل کتاب کا تعصب :
(ف 1) حضور ﷺ نے جب اسلام کی روشنی سے سارا عالم بقعہ نور سا بنا دیا تو سپرہ چشم یہودی برداشت نہ کرسکے اور حیلوں اور بہانوں سے اس شمع ہدایت کو بجھانے میں ہوگئے آپ ﷺ نے فرمایا تلبیس سے کیوں کام لیتے ہو حق و باطل کو کیوں ملا دیتے ہو اس کہ دونوں میں کوئی تمیز نہ رہے تم جانتے ہوئے اور علم رکھتے ہوئے بھی حق پوشی سے کام لیتے ہو ، کیا یہ نری بدبختی نہیں ؟ بات یہ تھی کہ یہودی ایک طرف تو اسلام کے متعلق غلط باتیں مشہور کرتے اور عوام میں اسے بدنام کرنے کی کوشش کرتے ، دوسری طرف توریت کی ان آیات میں تحریف سے کام لیتے جن میں حضور ﷺ کی بعثت کا تذکرہ ہے ، قرآن حکیم نے ان کی اس دو گونہ تحریف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
ف 3۔ یقینا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ لوگوں میں سے قریب تر اور خصوصی نسبت رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو ان کے زمانے میں ان کے پیرو اور متبع تھے اور یہ نبی اور وہ اہل ایمان جو اس نبی پر ایمان لائے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے قریب تر اور خصوصی نسبت رکھنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا حامی و کار ساز ہے۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ تم لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کس طرح اپنی مناسبت اور خصوصیت بیان کرتے ہو وہ چونکہ یہودیت اور نصرانیت سے قبل گزرے ہیں اس لئے نہ تو وہ یہودی تھے نہ نصرانی رہی یہ بات کہ تم ان کی امت پر ہو اور یہودیت و نصرانیت کا مسلک وہی ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–71
ف 1۔ دونوں جو تشہدون اور تعلمون فرمایا، تو اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ عدم اقرار یا عدم علم کی حالت میں کفر جائز ہے، قبیح ذاتی تو کسی حال میں جائز ہو ہی نہیں سکتا، بلکہ وجہ یہ ہے کہ اقرار اور علم کے وقت کفر اور زیادہ قابل ملامت ہے۔ اوپر مذکور تھا کہ بعض اہل کتاب مسلمانوں کے اضلال کی فکر میں رہتے ہیں۔ آگے ان کی ایک تدبیر کا بیان فرماتے ہیں جس کو اضلال مومنین کے لئے انہوں نے تجویز کیا تھا۔
Read the full tafseer →اہل کتاب خود تو گمراہ ہیں ہی لیکن ان کی کوشش ہے کہ تم بھی گمراہ ہو جاؤ :
146: یہ دراصل مسلمانوں کو چونکا دینے اور جاگتا رکھنے کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ اہل کتاب خود تو گمراہ ہی ہیں لیکن ان کو یہ فکر بھی دامن گیر ہے کہ کسی نہ کسی طریقہ سے تم بھی گمراہ ہوجاؤ ۔ روایات میں یہ بات واضح ہے کہ یہود کے حوصلے اتنے بڑھے ہوئے تھے اور انہیں باطل کی قوت پر اتنا غرّہ تھا کہ خود اسلام قبول کرنا تو الگ رہا۔ مسلمانوں کو بھی ان کے عقائد سے برگشتہ کردینے کی فکر میں لگے رہتے تھے۔ آج بھی کتنے مسیحیوں کے دل میں یہ تمنا جیتی جاگتی موجود ہے کہ مسلمان عیسائیت کو قبول کرلیں اور اس کے لیے جو جو راستے وہ اختیار کیے…
Read the full tafseer →Commentary
Verse 69 exposes the cherished desire of the people of the Book to mislead Muslims away from the true faith they are on. The text, then, firmly declares that the victim of their effort to misguide is no one other than themselves, something they do not realize.
Verse 70, addressing the people of the Book, asks them as to why they disbelieve in the signs of Allah, such as the verses in Torah and Injil which prove the prophethood of Muhammad ﷺ because the denial of his prophethood amounts to declaring these verses to be false which is infidelity, although they themselves confirm…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
60. Another rendering of this could be, 'and you yourselves bear witness' to Muhammad's prophethood. However it is translated the sense remains the same. In fact, the impeccable purity of the life of the Prophet, the astounding impact of his teachings and training on the lives of his Companions, and the loftiness of the teachings of the Qur'an all constituted such illustrious signs of God that it was very difficult for anyone conversant with the lives of the Prophets and the tenor of Divine Scriptures to doubt the prophethood of Muhammad (peace be on him) .
It is a fact that many Jews and…
Read the full tafseer →