Explained with ayahs 69–74
یہودیوں کا حسد
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ان یہودیوں کے حسد کو دیکھو کہ مسلمانوں کیسے جل بھن رہے ہیں۔ انہیں بہکانے کی کیا کیا پوشیدہ ترکیبیں کر رہے ہیں کیسے کیسے مکرو فریب کے جال بچھاتے ہیں، حالانکہ دراصل ان تمام چیزوں کا وبال خود ان کی جانوں پر ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں۔ پھر انہیں ان کی یہ ذلیل حرکت یاد دلائی جا رہی ہے کہ تم سچائی جانتے ہوئے بھی حق کو پہچانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی آیات سے یہ منکر ہو رہے ہو۔ علم کے باوجود یہ بدخصلت بھی ان میں ہے۔ کہ حق و باطل کو ملا دیتے ہیں، اور ان کی کتابوں میں جو صفیں رسول اللہ ﷺ کی ہیں ان کو چھپالیتے ہیں۔ بہکانے کی جو صورتیں بناتے ہیں ان میں سے ایک یہ…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 63
یعنی اللہ کو معلوم ہے کہ کون فضل و شرف کا مستحق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
خلاصہ تفسیر
اور بعضے لوگوں نے اہل کتاب میں سے (بطور مشورہ باہم) کہا کہ (مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک تدبیر ہے کہ ظاہرا) ایمان لے آؤ اس (کتاب) پر جو نازل کی گئی ہے (بواسطہ رسول اللہ ﷺ کے) مسلمانوں پر (مراد یہ کہ قرآن پر ایمان لے آؤ) شروع دن میں (یعنی صبح کے وقت) اور (پھر) انکار کر بیٹھو آخر دن (یعنی شام کو) عجب کیا (اس تدبیر سے مسلمانوں کو بھی قرآن اور اسلام کے حق میں شبہ پڑجائے اور) وہ (اپنے دین سے) پھر جاویں، (اور یہ خیال کریں کہ یہ لوگ علم والے ہیں اور بےتعصب بھی ہیں کہ اسلام قبول کرلیا، اس پر بھی جو پھرگئے تو ضرور اسلام کا غیر حق ہونا ان کو دلائل علمیہ سے ثابت ہوگیا ہوگا، اور ضرور انہوں…
Read the full tafseer →يَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ الایۃ میں دو باتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ایک تو اس بات کی طرف کہ خاتم النبیین ﷺ کی رسالت میں ایک عظیم اور بےپایاں برکت و رحمت ہے۔ دوسری اس بات کی طرف کہ یہ بنی اسماعیل پر اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے کہ اس نے ان کے خاندان کو اس عظیم اور عالم گیر برکت کے ظہور کے لیے منتخب فرمایا۔ اس سے لازمی نتیجہ کے طور پر دو باتیں نکلتی ہیں۔ ایک یہ کہ بنی اسماعیل پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم انعام کی قدر کریں اور اس کے شکر گزار ہوں۔ دوسری یہ کہ بنی اسرائیل کے غصہ اور حسد کے علی الرغم اللہ تعالیٰ نے اپنی اس عظیم برکت سے امیوں کو نوازا۔ وہ جس کو چاہے اپنی رحمت کے لیے خاص کرے، اس…
Read the full tafseer →74۔ 1 اس آیت کے دو معنی بیان کئے جاتے ہیں ایک یہ یہود کے بڑے بڑے علماء جب اپنے شاگردوں کو یہ سکھاتے کہ دن چڑھتے ایمان لاؤ اور دن اترتے کفر کرو تاکہ جو لوگ فی الواقع مسلمان ہیں وہ بھی متذبذب ہو کر مرتد ہوجائیں تو ان شاگردوں کو مزید یہ تاکید کرتے تھے کہ دیکھو صرف ظاہرا مسلمان ہونا حقیقتاً اور واقعتًا مسلمان نہ ہوجانا بلکہ یہودی ہی رہنا اور یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ جیسا دین جیسی وحی و شریعت اور جیسا علم وفضل تمہیں دیا گیا ہے ویسا ہی کسی اور کو بھی دیا جاسکتا ہے یا تمہارے بجائے کوئی اور حق پر ہے جو تمہارے خلاف اللہ کے نزدیک حجت قائم کرسکتا ہے اور تمہیں غلط ٹھہرا سکتا ہے اس معنی کی رو سے جملہ معترضہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–79
29: یہ عیسائیوں کی تردید ہورہی ہے جو حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا یا خدا کا بیٹا مان کر گویا یہ دعویٰ کرتے تھے کہ خود حضرت عیسیٰ ؑ نے ہی ان کو اپنی عبادت کا حکم دیا ہے۔ یہی حال ان بعض یہودی فرقوں کا تھا جو حضرت عزیر ؑ کو خدا کا بیٹا مانتے تھے۔
Read the full tafseer →جب اہل اسلام نے یہ سنا تو ان کے دل میں اللہ کے فضل وکرم کا احساس پیدا ہوا ۔ انہوں نے یہ جان لیا کہ انہیں ایک عظیم ڈیوٹی کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ اور انہیں مخصوص طور پر یہ اعزاز دیا گیا ہے ۔ تو انہوں نے اپنے اس اعزاز کو بڑی دلچسپی کے ساتھ قائم رکھا۔ بڑی مضبوطی اور عزم سے اسے تھام لیا ۔ بڑی قوت اور ثابت قدمی سے اس کی مدافعت کی ۔ وہ حاسدوں اور مکاروں کی سازشوں کے مقابلے میں چوکنے ہوگئے ۔ قرآن کریم کا یہی انداز تربیت تھا ۔ اس لئے کہ یہ حکیم ودانا کا کلام ہے ۔ اور آج بھی امت مسلمہ کے لئے یہی عنصر موجب اصلاح وتربیت ہوسکتا ہے ۔ ہر زمانے اور ہر نسل میں ۔
آگے بڑھ کر مزیدحالات اہل کتاب کی بابت بیان…
Read the full tafseer →6 یعنی اللہ کے خزانوں میں کمی نہیں، اور اسی کو خبر ہے کہ کس کو کیا بڑائی ملنی چاہیئے۔ نبوّت، شریعت، ایمان و اسلام اور ہر قسم کی مادی و روحانی فضائل و کمالات کا تقسیم کرنا اسی کے ہاتھ میں ہے جس وقت جسے مناسب جانے عطا کرتا ہے۔ (اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ) 6 ۔ الانعام :124) ۔
Read the full tafseer →آیت 74 یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآءُ ط وَاللّٰہُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ
اگلی آیت میں حکمت دعوت کے اعتبار سے بہت اہم نکتہ موجود ہے کہ برے سے برے گروہ کے اندر بھی کہیں نہ کہیں کوئی اچھے افراد لازماً ہوتے ہیں۔ داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کا تذکرہ بھی کرتا رہے کہ ان میں اچھے لوگ بھی ہیں ‘ تاکہ ایسے لوگوں کے دلوں کے اندر نرمی پیدا ہو۔ اسی طرح فرد کا معاملہ ہے کہ برے سے برے آدمی کے اندر کوئی اچھائی بھی موجود ہوتی ہے۔ آپ اگر اسے حق کی دعوت دے رہے ہیں تو اس میں جو اچھائی ہے اس کو مانیے ‘ تاکہ اسے معلوم ہو کہ اسے مجھ سے کوئی دشمنی نہیں ہے ‘ میری جو بات واقعی اچھی ہے اس کو یہ تسلیم کر رہا…
Read the full tafseer →65 ان کی ان سب کوششوں اور شرارتوں کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا۔ بیشک ایک وقت تھا جب اللہ نے تمہیں تمام جہان والوں پر عزو شرف بخشا تھا۔ لیکن اب تم مسلسل فتنہ انگیزیوں اور بدعہدیوں کی وجہ سے اس قابل نہیں رہے۔ فضل و شرف کا مالک اللہ ہے اور اب جسے اس نے مناسب اور مستحق سمجھا اسے اس نے دے دیا۔ فضل و شرف کے ٹھیکیدار تم نہیں ہو۔ اللہ تعالیٰ تم جیسا تنگ نظر نہیں ہے کہ فضل و شرف کے اہل لوگوں کو فضل و شرف عطا نہ فرمائے، بلکہ وہ بڑا وسیع النظر ہے۔ سب کچھ جاننے والا اور وہی فضل و شرف عطا کرنے والا ہے اور وہ یہ بھی خوب جانتا ہے کہ تم اب اس عزوشرف کے اہل نہیں رہے۔
Read the full tafseer →169 ۔ (بخل اور کمی کا اس کے ہاں گزر کہاں) (آیت) ” من یشآء “۔ وہ جسے چاہتا ہے حسب مصلحت تکوینی۔
Read the full tafseer →وَاللہُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآءُ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔ اس آیت کے دو معنی بیان کئے گئے ہیں، ایک یہ کہ یہود کے بڑے بڑے علماء جب اپنے شاگروں کو یہ سکھاتے کہ دن چڑھے ایمان لاؤ اور دن اترتے مرتد ہوجاؤ تاکہ جو لوگ فی الواقع مسلمان ہیں وہ بھی مذمذب ہو کر مرتد ہوجائیں، تو ان شاگروں کو مزید تاکید کرتے تھے کہ دیکھو صرف ظاہراً مسلمان ہونا حقیقۃً اور واقعۃً مسلمان نہ ہوجانا بلکہ یہودی رہنا اور یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ جیسا دین، جیسی وحی و شریعت اور جیسا علم و فضل تمہیں دیا گیا ہے ویسا ہی کسی اور کو بھی دیا جاسکتا ہے، یا تمہارے بجائے کوئی اور بھی حق پر ہے جو تمہارے خلاف اللہ کے نزدیک…
Read the full tafseer →يَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ : وہی اپنی رحمت و نبوت کے لیے جس کو چاہتا ہے مخصوص کرلیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
(73۔ 74) اور نبوت میں کسی کی بھی تصدیق مت کرو، مگر یہ کہ جو افراد یہودیت اور تمہارے قبلہ بیت المقدس کی پیروی کریں۔ اب اللہ تعالیٰ ان کی اس دلیل کے فضول ہونے کا اظہار فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ آپ ان یہودیوں سے فرمادیجئے کہ دین الہی وہ تو اسلام ہے اور قبلہ خداوندی بیت اللہ ہے اور تم اے اہل کتاب ایسی باتیں اس لیے کرتے ہو کہ کسی اور کو ایسا دین اور ایسا قبلہ ملا ہے جیسا کہ اصحاب رسول اکرم ﷺ کو یہ بطور نعمت ملا ہے، ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ یہود قیامت کے دن اس دین اور اس قبلہ میں تم سے دشمنی کرسکیں گے، آپ فرمادیجیے کہ بیشک نبوت واسلام اور قبلہ ابراہیمی کی عطا اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے اور وہ جسے چاہتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
وَلَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِيْنَكُمْ۔۔ : یہ بھی ان گروہوں کا کلام ہے جن کا ذکر چلا آ رہا ہے اور اس سے ان کا مذہبی تعصب اور حسد ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اپنے متبعین کو تاکید کرتے رہتے ہیں : (وَلَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِيْنَكُمْ) امام طبری نے اس کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ اپنے ہم مشرب کے سوا کسی کی بات پر یقین نہ کرو، نہ یہ تسلیم کرو کہ تمہاری طرح کسی اور کو بھی نبوت دی جاسکتی ہے اور نہ یہ مانو کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے حضور جا کر تم پر کوئی حجت قائم کرسکیں گے۔ اس صورت میں (قُلْ اِنَّ الْهُدٰى ھُدَى اللّٰهِ) جملہ معترضہ ہوگا اور اس کا ربط (قُلْ اِنَّ الْهُدٰى ھُدَى…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 74۔
یعنی وہ اپنی نبوت اور ہدایت کے ساتھ خاص کرلیتا ہے جسے چاہتا ہے، یہ قول حسن اور مجاہد وغیرہما کا ہے، ابن جریج نے کہا ہے : وہ خاص کرلیتا ہے اسلام اور قرآن کے ساتھ جسے چاہتا ہے، ابو عثمان نے کہا ہے : یہ حسین تر قول ہے جس کے ساتھ امیدوار کی امید اور خوفزدہ ہونے والے کا خوف باقی رہتا ہے۔ ” اور اللہ تعالیٰ صاحب فضل عظیم ہے “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
(1) عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وامن اھل الکتب من ان تامنہ بقنطار یؤدہ الیک “ جو بڑا خزانہ واپس کردیتے ہیں وہ نصاری ہیں اور لفظ آیت ” ومنہم من ان تامنہ بدینار لا یؤدہ الیک “ اور وہ جو واپس نہیں کرتے وہ یہودی ہیں لفظ آیت ” الا ما دمت علیہ قائما “ یعنی مگر یہ کہ تو اس سے طلب کرتا رہے اور اس کے پیچھے لگا رہے۔
(2) ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومنہم من ان تامنہ بدینار الا یؤدہ الیک “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ کے صحابہ ؓ کے اموال کو روک لیں اور وہ اہل کتاب حکم دئیے گئے کہ ہم مسلمان کو اس کا حق ادا کریں۔
(3) ابن ابی حاتم نے مالک بن دینار (رح) سے…
Read the full tafseer →[یَّخْتَصُّ : وہ مخصوص کرتا ہے ] [بِرَحْمَتِہٖ : اپنی رحمت سے ] [مَنْ : اس کو جسے ] [یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ : بڑے فضل والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
اس کے بعد یہودیوں کی ایک اور بات کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ انہوں نے آپس میں یوں کہا (وَ لَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَکُمْ ) کہ تمہارا جو دین یہودیت ہے اس دین پر مضبوطی کے ساتھ جمنے کا اقرار ان ہی لوگوں کے سامنے کرنا جو تمہارے دین کے تابع ہیں۔ یعنی اپنا اندرونی عقیدہ اپنے ہی لوگوں کے سامنے بیان کرنا۔ اور مسلمانوں کو دین اسلام سے پھیر نے کے لیے اوپر اوپر سے یہ کہہ دینا کہ ہم نے تمہارا دین قبول کرلیا (اندر سے اپنے عقیدہ پر رہنا) پھر ظاہری طور پر بھی یوں کہہ دینا کہ ہم اپنے دین پر واپس آگئے حالانکہ دل سے انہوں نے اپنا دین چھوڑا ہی نہیں تھا۔ یہ ان کا مکر تھا۔
اور بعض مفسرین نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–80
قال تعالیٰ ودت طائفۃ من اھل الکتب لو یضلونکم۔۔۔ الی۔۔ ایا مرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل کتاب سے مناظرہ اور مباہلہ کا بیان تھا کہ یہ لوگ نہ تو کسی دلیل کو مانتے ہیں اور نہ مباہلہ پر آمادہ ہوتے ہیں معلوم ہوا کہ حق کی تحقیق مقصود نہیں بلکہ مقصود شرارت اور فتنہ پردازی ہے اس لیے آئندہ آیات میں یہود کی کچھ شرارتوں اور عداوتوں اور دغا بازیوں اور فریب کاریوں کو بیان کرتے ہیں کہ کس کس طرح سے یہ لوگ حق اور باطل کو خلط ملط کرنے میں مکر اور فریب سے کام لیتے ہیں یہ لوگ خوب جانتے ہیں کہ تم حق پر اور سیدھے راستہ پر ہو مگر یہ لوگ تم کو دھوکہ دے کر گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ دور تک یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
100 یہ بھی ان منصوبا باز احبار یہود ہی کا قول ہے البتہ قُلْ اِن ھُدَی ھُدَی اللہِ جملہ معترضہ ہے جو قول یہود کا جواب ہے اور اَنْ یُّؤْتیٰ جملہ استفہامیہ ہے اور ہمزہ استفہام محذوف ہے۔ اصل ءَ اَنْ یُّؤْتیٰ تھا جیسا کہ ابن کثیر کی قراءت میں ہے لیکن یہ استفہام انکاری ہے۔ اور اَوْیُحَاجُّوْکُمْ ، یُؤْتیٰ پر معطوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہودیوں نے آپس میں طے کیا کہ ظاہری طور پر اسلام کا اظہار تو مسلمانوں کے سامنے کردینا لیکن صدق دل سے اس کو نہ ماننا اور نہ ہی اپنے دین کے متبعین کے علاوہ کسی کی یہ بات ماننا کہ تمہارے دین کی طرح کسی اور کا دین ہے یا تمہاری کتاب کی طرح کسی اور دین والوں کے پاس بھی کوئی سچی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
ربط آیات : گذشتہ درس کی طرح آج کے درس میں بھی اہل کتاب یعنی یہود و نصاری کے برے خصائل کا تذکرہ ہے۔ ان آیات کا مصداق مدینے کے ارد گرد بسنے والے یہودی خاص طور پر ہیں۔ اب تک اہل کتاب کی دینی خیانت کا تذکرہ ہورہا ہے۔ آج کا درس بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ تاہم آئندہ آنے والے درس سے اہل کتاب کی دنیوی خیانت کا بیان ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ دینی طور پر بھی خائن ہیں اور دنیوی طور پر بھی ایسے ہی ہیں۔ گذشتہ سے پیوستہ درس میں یہ بیان ہوا تھا۔ کہ اہل کتاب کی خواہش اور کوشش یہ ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کو ان کے دین سے پھیر دیں ۔ اس سلسلہ میں وہ ہر حیلہ اختیار کرنے پر کمر بستہ رہتے ہیں آج کے درس میں ان کی ایک…
Read the full tafseer →يَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ يَّشَاۗءُ 0ۭ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ 74
خص
التّخصیص والاختصاص والخصوصيّة والتّخصّص : تفرّد بعض الشیء بما لا يشارکه فيه الجملة، وذلک خلاف العموم، والتّعمّم، والتّعمیم، وخُصَّان الرّجل : من يختصّه بضرب من الکرامة، والْخاصَّةُ : ضدّ العامّة، قال تعالی: وَاتَّقُوا فِتْنَةً لا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً [ الأنفال/ 25] ، أي : بل تعمّكم، وقد خَصَّهُ بکذا يخصّه، واختصّه يختصّه، قال : يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشاءُ [ آل عمران/ 74] ، وخُصَاصُ البیت : فرجة، وعبّر عن الفقر الذي لم يسدّ بالخصاصة، كما عبّر عنه بالخلّة، قال : وَيُؤْثِرُونَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–74
ترکیب : اولی اسم تفضیل ہے ولی یلی بمعنی قریب شدن سے یہ اسم ان کا ‘ بابراھیم متعلق ہے اولی سے للذین مع معطوف خبر ان لویضلون میں لو مصدریہ ہے بمعنی آن۔ الالمن تبع استثناء ہے ما قبل سے ای لاتقروالالمن پس لازم زائد نہیں اور ممکن ہے کہ زائد اور محمول علی المعنی ہو۔ ای احجدوا کل احد الامن۔ ان یوتی میں تین احتمال ہیں (1) یہ کہ موضع جر میں ہو تقدیرہ ولا تو منوابان یوتی احد الخ (2) نصب حرف جر کو حذف مان کر ان صورتوں میں یہ تتمہ کلام یہود کا ہوگا کہ تم اے یہود کسی غیر سے یہ نہ کہو کہ ہماری کتاب اور ملت کے مانند کسی اور کو بھی ملا ہے (اویحا جو کم کا عطف ان یوتی پر ہوگا اور او بمعنی و) ایسا نہ ہو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
وَلاَ تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَـکُمْ ط قُلْ اِنَّ الْہُدٰی ھُدَی اللّٰہِ لا اَنْ یُّؤْتٰٓی اَحَدٌ مِّثْلَ مَـآ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْکُمْ عِنْدَ رَبِّـکُمْ ط قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِاللّٰہِ ج یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ ج لا یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔
(اور نہ مانو کسی کی بات سوائے ان کے جو تمہارے دین کی پیروی کریں۔ ان سے کہئے کہ اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اس طرح کی چیز کسی اور کو بھی مل جائے جیسی تمہیں دی گئی ہے یا وہ حجت لاسکیں تم پر تمہارے رب کے حضور۔ ان سے کہئے بیشک فضل تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کی علمی خیانت کے بعد مالی بددیانتی کا تذکرہ۔
اہل کتاب کا کثیر طبقہ ہمیشہ سے علمی خیانت کے ساتھ مالی بددیانتی کا شکار رہا ہے۔ اس کی وجہ دین سے لاعلمی، بشری کمزوری اور صرف مالی ہوس نہیں۔ بلکہ بنیادی سبب ان کا یہ عقیدہ ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر اس لیے ایمان نہیں لاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ ہم موسیٰ (علیہ السلام) کے علاوہ کسی کو رسول تسلیم نہ کریں۔ اسی طرح ان کا یہ نظریہ بھی ہے کہ غیر یہودی اور اَن پڑھ لوگوں کے بارے میں ہمیں پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ ان کا مال لوٹنا ہمارے لیے جائز ہے۔ ان کے نزدیک اَن پڑھ سے مرادخاص طور پر حضرت اسماعیل (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →شاہی اعلان :
74: یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآ ئُ وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔ (وہ اپنی رحمت کے ساتھ جس کو چاہتے ہیں خاص کرتے ہیں) رحمت سے مراد یہاں نبوت یا اسلام ہے۔ وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔ (اور اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل والے ہیں) ۔
Read the full tafseer →(تفسیر) 74۔:
(آیت)” یختص برحمتہ “ ۔ رحمت سے مراد نبوت ہے (آیت)” من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
(73 ۔ 74) ۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں ابی مالک سے روایت ہے کہ اس آیت کے دو ٹکڑے ہیں پہلا ٹکڑا علماء یہود کا ہے کہ وہ اپنے قوم کے ان پڑھ لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ دیکھو اپنے دین والے کے سوا کسی کی بات کو ہرگز نہ ماننا۔ دوسرا ٹکڑا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کے جواب میں اتارا ہے کہ ان سے اے نبی اللہ کے تم کہہ دو کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے 2۔ ایسی باتوں سے وہ اللہ کی ہدایت کو ہرگز روک نہیں سکتے چناچہ وہی ہوا کہ اللہ کی ہدایت دن بدن پھیل کر اسلام بڑھتا گیا اور یہود حسد اور عداوت میں خوار اور ذلیل ہوتے گئے چند انہوں نے آنحضرت ﷺ کے اوصاف کو تورات میں مذکور تھے چھپایا ان پڑھ یہود کو غیر دین کی بات ماننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
اللہ تعالیٰ مومنوں کو اہل کتاب کے اس خبیث گروہ کی مکاریوں سے متنبہ فرما رہا ہے کہ ان کی خواہش یہی ہے کہ تمہیں گمراہ کردیں۔ جیسے ارشاد ہے ترجمہ :” اہل کتاب کے اکثر لوگ تمہیں ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بنا دینے کی خواہش رکھتے ہیں “ اور جسی کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے وہ اسے حاصل کرنے کے لئے جدوجہد بھی کرتا ہے۔ یہ گروہ بھی پوری کوشش کرتا ہے کہ مومنوں کو مرتد کردے۔ اس مقصد کے لئے وہ لوگ ہر ممکن طریقے سے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ اللہ کا فضل ہے کہ بری تدبیریں کرنے والا اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا : ترجمہ ” دراصل وہ خود اپنے آپ کو گمراہ کررہے ہیں “ مومنوں کو گمراہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–75
قول باری ہے (ومن اھل الکتب من ان تامنہ بقنطاریؤدہ الیک، اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال ودولت کا ایک ڈھیر بھی دے دوتو وہ تمھارامال تمہیں اداکردے گا) یہاں لفظ (بقنطار) کے معنی، علی قنطار، کے ہیں اس لیے کہ اس جیسے موقع پر حرف باء اور حرف علی ایک دوسرے کے متعاقب ہوتے ہیں۔ مثلا آپ یہ کہتے ہیں، مررت بفلان ومررت علیہ، (میراگذرفلاں کے پاس سے ہوا، میراگذرفلاں پر ہوا) قنطار کے متعلق حسن سے مروی ہے کہ ایک ہزاردوسومثقال ہوتا ہے (ایک مثقال عرف میں ڈیڑھ درہم کے وزن کا ہوتا ہے) ابونضرہ کا قول ہے کہ بیل کی کھال میں بھرے ہوئے سونے کی مقدارکوقنطارکہتے ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
145 لبس حق بالباطل اور کتمان حق کی سنگینی کا ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کرنا اور حق کو چھپانا ایک بڑا سنگیں جرم ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کرنا اور حق کو چھپانا اور جان بوجھ کر ایسے کرنا ایک اور سنگیں اور ہولناک یہودی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان لوگوں کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ تم لوگ ایسا کیوں کرتے ہو جبکہ تم خود جانتے ہو کہ حق کیا ہے اور باطل کیا۔ اور یہ کہ حق کو چھپانا اور اس کو باطل سے گڈ مڈ اور خلط ملط کرنا کتنا بڑا اور کس قدر سنگین جرم ہے۔ تو پھر اس سب کے باوجود تم لوگ " لَبْس حق بالْبَاطِل " اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
اہل کتاب کا حسد
تشریح : ان آیات میں وضاحت کی گئی ہے کہ ہدایت تو اللہ کے دینے سے ملتی ہے۔ اہل کتاب کی سازشوں سے نور ہدایت ختم نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان اہل کتاب کو سمجھا دو کہ نبوت پہلے ان کے پاس تھی اب بنی اسماعیل میں چلی گئی ہے مگر ان لوگوں کو حسد اور بغض نے پاگل کر رکھا ہے اور وہ اسی میں پریشان ہو رہے ہیں کہ نبوت ہم سے کیوں چھینی گئی۔ ان کا خیال تھا کہ نبوت کے حقدار تو صرف یہی لوگ ہیں عرب کے ان پڑھ لوگوں کا نبوت سے کیا واسطہ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ وسیع علم و فضل رکھنے والا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کس کو کس وقت کیا بڑائی، عزت اور عظمت ملنی چاہئے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–80
آیات 72- 80
اسرارومعارف
وقال طائفۃ من اھل الکتاب………… واللہ ذوالفضل العظیم۔
یہودکی سازش خلافت راشدہ سے لے کر کربلا تک :
چنانچہ یہود نے مسلمانوں کو راہ حق سے بہکانے کی ایک تجویز سوچی اور وہ یہ کہ اسلام قبول کرلو ، مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوجائو اور پھر کوئی نہ کوئی اعتراض کرکے مسلمان ہونے سے انکار کردو اس طرح ممکن ہے مسلمانوں کے ذہنوں میں بھی شک پیدا ہوجائے اور وہ اسلام سے کفر کی طرف لوٹ جائیں۔
یہودکی یہی کوشش بالآخر عبداللہ ابن سبا کی صورت میں تاریخ عالم پہ ابھری اور شہادت عثمان غنی ؓ سے لے کر ہزاروں مسلمانوں کو خاک وخون میں ملا گئی آخر حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی اسی کا شکار بنے اور سانحہ کربلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ف 1 یعنی خدائے تعالیٰ پر جان بوجھ کر الزام رکھ رہے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی کی امانت میں خیانت کا حکم نہیں دیا خواہ وہ اسرائیل ہو یا عرب بلکہ اسلام نے تو کسی ذمی کے مال کو بھی بلا اجازت لینا جائز قرار نہیں دیا اور کسی حربی کے مال کو خیانت سے کھانے کی اجازت دی ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے : کذب اعدا اللہ مامن شئی کان فی الجاھلیتہ الا وھو تحت قد منی ھاتین الا الا ما نتہ فانھا مئو داۃ الی البروالفاجر کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے جھوٹ کہا زمانہ جاہلیت کی سب چیزیں میرے پاوں تلے آگئیں (یعنی باطل قرار دے دی گئیں مگر امانت کہ اسے بہر حال ادا کیا جائیگا خواہ وہ امانت نیک کی ہو یا بد کی۔ (ابن…
Read the full tafseer →(3:74) یختص۔ مضارع واحد مذکر غائب مخصوص فرماتا ہے۔ ذوا الفضل العظیم۔ الفضل موصوف العظیم صفت۔ صفت موصوف مل کر مضاف الیہ۔ ذو مضاف۔ فضل عظیم کا مالک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
لغات القرآن آیت نمبر 72 تا 74
وجھ النھار (صبح کا وقت) تبع (جس نے اتباع کی) ان یوتیٰ (یہ کہ دیا جائے) اوتیتم (تمہیں دیا گیا) یحاجوا (وہ جھگڑیں گے) الفضل (رحم وکرم) یختص (وہ خاص کرتا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 72 تا 74
ان آیتوں میں اور اس سے بعد کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں اور عیسائیوں کے مکروفریب، بددیانتی اور شرارتوں سے مومنوں کو ہوشیار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ان میں بعضوں نے یہ شرارت کرنے کا ارادہ کیا ہے کہ کچھ لوگ صبح کو قرآن کریم پر ایمان لے آئیں دن مسلمانوں کے ساتھ رہیں پھر شام کو اسلام کو چھوڑ کر پھر اپنے لوگوں میں آملیں۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ جب شام کو ایک کثیر جماعت یہ کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
تفسیر ابن ابی حاتم میں ابی مالک سے روایت ہے کہ اس آیت کے دو ٹکڑے ہیں : (1) پہلا ٹکڑا علماء یہود کا ہے کہ وہ اپنی قوم کے ان پڑھ لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ دیکھو اپنے دین والے کے سوا کسی کی بات ہرگز نہ ماننا۔ (2) دوسرا ٹکڑا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کے جواب میں اتارا ہے کہ ” ان سے اے نبی اللہ کے ! تم کہہ دو کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے، ایسی باتوں سے وہ اللہ کی ہدایت کو نہیں روک سکتے “۔ چناچہ وہی ہوا کہ اللہ کی ہدایت دن بدن پھیل کر اسلام بڑھتا گیا اور اور یہود حسد وعداوت میں ذلیل و خوار ہوتے گئے۔ ہرچند انہوں نے آنحضرت ﷺ کے اوصاف کو جو توریت میں مذکور تھے چھپایا اور ان پڑھ یہود غیر دین کی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–74
[29] یعنی اللہ کی وہ آیتیں جو تمہاری اپنی کتابوں میں موجود ہیں اور جن میں نبوت محمدی کی پوری پوری علامتیں اور بشارتیں درج ہیں اور جن پر تمہارا دل گواہی دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
(ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ یہودیوں کی مخالفت محض اس بنا پر تھی کہ مسلمان کیوں اس نعمت اسلام ہے سے بہرہ اندوز ہیں یعنی بجز تعصب کے نہ روکے ، اور کوئی چیز انہیں اسلام کی صداقتوں کے قبول کرنے سے نہیں روکتی ، وہ نہیں سوچتے کہ یہ خدا کی دین ہے ، جسے محروم رکھے ، اس کی مصلحتوں کو اس کے سوا اور کون جانتا ہے ۔
حل لغات :
قنطار : خزانہ ، مال کثیر ۔
سبیل : اصل معنی راہ اور راستے کے ہیں ، یہاں مراد ہے کہ ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ، کوئی طریق اعتراض والزام نہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ف 3۔ چونکہو ہ واسع العطا یا اور ہر شخص کی حالت سے پوری طرح واقف ہے اس لئے اپنے نقل و رحمت کیلئے جس کو چاہتا ہے خاص کرلیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا صاحب فضل ہے۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اس کی رحمت اس کے قبضے میں ہے وہ جس کو چاہے اپنے فضل اور اپنی رحمت سے نوازے اگر اس نے نبی اسماعیل کو نبوت عطا فرما دی تو اس پر حسد اور جلن کی کوئی وجہ نہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بعض یہود نے آپس میں مشورت کی کہ تم صبح کو جا کر ظاہر میں مسلمان ہو جائو اور شام کو پھر جائو تو شاید مسلمان بھی پھر جاویں ۔ جانیں کہ یہ لوگ منصف تھے کہ اپنا دین چھوڑ کر ہمارے دین میں آئے تھے پھر کچھ ایسی غلطی پانی کہ پھرگئے اور آپس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ف 4۔ یعنی غیر اہل کتاب مثلا قریش کا مال چرا لینا یا چھین لینا سب جائز ہے۔
5۔ اس آیت میں جن بعض کی امانت کی مدح کی گئی ہے اگر ان بعض سے وہ لوگ مراد ہیں جو اہل کتاب میں سے ایمان لے آئے تھے، تب تو مدح میں کوئی اشکال نہیں اور اگر خاص مومن مراد نہ ہوں، بلکہ مطلقا اہل کتاب میں سے امین اور خائن دونوں کا ذکر کرنا مقصود ہے تو مدح باعتبار عنداللہ کے نہیں کیونکہ بدون ایمان کے کوئی عمل صالح مقبول نہیں ہوتا، بلکہ مدح اس اعتبار سے ہے کہا چھی ابت گو کفر کی ہو کسی درجہ میں اچھی ہے۔
Read the full tafseer →اللہ جس کو چاہتا ہے حسب مصلحت تکوینی پنی رحمت کے ساتھ خاص کرلیتا ہی :
153: فضل و رحمت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے اپنی مصلحت تکوینی کے مطابق عطا کردیتا ہے۔ سب کام اس کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ وہی داتا ہے اس کے سوا کوئی داتا نہیں جسے چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق ایمان و عمل اور علم و فضل کی دولت سے مالامال کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق راہ حق سے اندھا اور کلمہ اسلام سے بہرا اور صحیح سمجھ سے محروم کردیتا ہے۔ اس کے سب کام اپنے قانون کے مطابق ہوتے ہیں جو کبھی بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتے وہ وسعت علم رکھتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی بھی علم نہیں رکھتا۔ وہ جسے چاہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
Some from among the people of the Book chose a strategy of deception in order to mislead Muslims. According to their agreed plan, they would declare their belief in the Qur'an in the morning and then reject it in the evening. They thought that this quick about-turn would create doubts in the minds of Muslims about Qur'an and Islam and they might turn away from their faith thinking that there must be something wrong with Islam visible to such learned people who were open-minded enough to accept it first. They also made it a point to re-serve their feinted declaration of belief in Islam to…
Read the full tafseer →63. That is, God knows who deserves to be honoured and exalted.
Read the full tafseer →