Explained with ayahs 59–63
اختیارات کی وضاحت اور نجرانی وفد کی روداد
حضرت باری جل اسمہ وعلا قدرہ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کردیا تو کیا کون سی حیرانی بات ہے ؟ میں نے حضرت آدم کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا بھی باپ نہ تھا بلکہ ماں بھی نہ تھی، مٹی سے پتلا بنایا اور کہہ دیا آدم ہوجا اسی وقت ہوگیا، پھر میرے لئے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہوسکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کردیا، پس اگر صرف باپ نہ ہونے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ کو تو سب سے پہلے اس مرتبہ سے ہٹا دینا چاہئے، کیونکہ ان کے دعوے کا جھوٹا ہونا اور خرابی اس سے بھی زیادہ یہاں ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
سورة اٰلِ عِمْرٰن 56
یہاں سے ایک تیسری تقریر شروع ہوتی ہے جس کے مضمون پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ بدر اور جنگ احد کے درمیانی دور کی ہے۔ لیکن ان تینوں تقریروں کے درمیان مطالب کی ایسی قریبی مناسبت پائی جاتی ہے کہ شروع سورت سے لے کر یہاں تک کسی جگہ ربط کلام ٹوٹتا نظر نہیں آتا۔ اسی بنا پر بعض مفسرین کو شبہہ ہوا ہے کہ یہ بعد کی آیات بھی وفد نجران والی تقریر ہی کے سلسلہ کی ہیں۔ مگر یہاں سے جو تقریر شروع ہو رہی ہے اس کا اندازہ صاف بتارہا ہے کہ اس کے مخاطب یہودی ہیں۔
سورة اٰلِ عِمْرٰن 57
یعنی ایک ایسے عقیدے پر ہم سے اتفاق کرلو جس پر ہم بھی ایمان لائے ہیں اور جس کے صحیح ہونے سے تم بھی انکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
مباہلہ کی تعریف
(فقل تعالوا ندع الخ) اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے آنحضور ﷺ کو مباہلہ کرنے کا حکم دیا ہے، جس کی تعریف یہ ہے کہ اگر کسی امر کے حق و باطل میں فریقین میں نزاع ہوجائے اور دلائل سے نزاع ختم نہ ہو تو پھر ان کو یہ طریقہ اختیار کرنا چاہئے کہ سب ملکر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ جو اس امر میں باطل پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وبال اور ہلاکت پڑے، کیونکہ لعنت کے معنی رحمت حق سے بعید ہوجانا ہے، اور رحمت سے بعید ہونا قہر سے قریب ہونا ہے، پس حاصل معنی اس کے یہ ہوئے کہ جھوٹے پر قہر نازل ہو، سو جو شخص جھوٹا ہوگا وہ اس کا خمیازہ بھگتے گا، اس وقت پوری تعیین صادق و کاذب کی منکرین کے نزدیک بھی واضح…
Read the full tafseer →اس آیت میں فرمایا کہ مباہلہ اس قضیے کو طے کرنے کی آخری صورت تھی لیکن اگر وہ اس پر بھی راضی نہیں ہیں تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ حق کی پیروی نہیں کرنا چاہتے بلکہ حق کی مخالفت کر کے خدا کی زمین میں فساد برپا کرنا چاہتے ہیں اس لیے کہ شرک تمام فساد کی جڑ ہے۔ اگر زمین و آسمان میں بہت سے معبود ہوتے تو ان کا سارا نظام تکوینی درہم برہم ہو کر رہ جاتا، اسی طرح اگر دین میں شرک کے لیے کوئی گنجائش تسلیم کرلی جائے تو اس دنیا کا سارا نظام عدل و قسط درہم برہم ہو کر رہ جائے۔
آگلی آیات 64 تا 71 کا مضمون : حضرت مسیح ؑ کی اصلی حقیقت واضح اور نصاری پر حجت تمام کردینے کے بعد یہود و نصاری دونوں کو مخاطب کر کے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
64۔ 1 کسی بت نہ صلیب کو نہ آگ اور نہ کسی چیز کو بلکہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں جیسا کہ تمام انبیاء کی دعوت رہی ہے۔
64۔ 2 یہ ایک تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تم نے حضرت مسیح اور حضرت عزیر ؑ کی ربوبیت (رب ہونے) کا جو عقیدہ کھڑا کر رکھا ہے یہ غلط ہے وہ رب نہیں ہیں انسان ہیں دوسرا اس بات کی طرف اشارہ ہے تم نے اپنے احبارو رہبان کو حلال یا حرام کرنے کا جو اختیار دے رکھا ہے یہ بھی ان کو رب بنانا ہے حلال اور حرام کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے (ابن کثیر و فتح القدیر)
64۔ 3 صحیح بخاری میں ہے کہ قرآن کریم کے اس حکم کے مطابق آپ ﷺ نے ہرقل شاہ روم کو مکتوب تحریر فرمایا اور اس میں اسے اس آیت کے حوالے سے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
26: یہودی کہا کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم ؑ یہودی تھے اور عیسائی کہتے تھے کہ وہ عیسائی تھے، اول تو قرآن کریم نے فرمایا کہ یہ دونوں مذہب تورات اور انجیل کے نزول کے بعد وجود میں آئے، جبکہ حضرت ابرہیم ؑ بہت پہلے گزر چکے تھے، لہذا یہ انتہائی احمقانہ بات ہے کہ انہیں یہودی یا عیسائی کہا جائے، اس کے بعد قرآن کریم نے فرمایا کہ جب تمہارے وہ دلائل جو کسی نہ کسی صحیح حقیقت پر مبنی تھے، تمہارے دعوؤں کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں، تو حضرت ابراہیم ؑ کے بارے میں یہ بےبنیاد اور جاہلانہ بات کیسے تمہارے دعوے کو ثابت کرسکتی ہے، مثلاً تمہیں یہ معلوم تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اور اس کی بنیاد پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
ان آیات میں جن حقائق کا بیان ہوا اس سے قبل ان کا بیان ہوگیا ہے۔ یہاں دعوت مباہلہ اور وفد کی جانب سے اس کے انکار کے بعد بطور تاکید دوبارہ ذکر کیا جاتا ہے ۔ اس آیت میں البتہ نئی بات یہ ہے کہ جو اس سچائی کو قبول نہیں کرتے وہ درحقیقت مفسد ہیں اور خبردار کیا جاتا ہے کہ تم اللہ سے پوشیدہ نہیں ہو ‘ وہ انداز قد سے پہچانتا ہے۔
اور وہ فساد جو منکرین توحید ‘ توحید کا انکار کرکے پھیلاتے تھے وہ اللہ کے نزدیک ایک عظیم فساد تھا ۔ اور دنیا میں جس قدر فسادات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں وہ سب کے سب عقیدہ توحید سے انحراف کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور عقیدہ توحید کا اعتراف بھی محض زبانی اعتراف کافی نہیں ہے۔ اس لئے کہ…
Read the full tafseer →6 اگر نہ دلائل سے مانیں نہ مباہلہ پر آمادہ ہوں تو سمجھ لو کہ احقاق حق مقصود نہیں نہ دل میں اپنے عقائد کی صداقت پر وثوق ہے۔ محض فتنہ و فساد پھیلانا ہی پیش نظر ہے تو خوب سمجھ لیں کہ سب مفسدین اللہ کی نظر میں ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 63 فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌم بالْمُفْسِدِیْنَ
یہاں آکر اس سورة مبارکہ کے نصف اول کا پہلا اور دوسرا حصہ مکمل ہوگیا ‘ جو 31 , 32 , 34 آیات پر مشتمل ہے۔
Read the full tafseer →56۔ 1 اہل نجران نے حق بات کو قبول نہ کیا اور مباہلہ کے بجائے صلح اور جزیہ کو یعنی اہل الذمہ بن کر رہنے کی ترجیح دی۔ تو ان کی حکومت انہی کے پاس رہی۔ اگر وہ مباہلہ کو قبول بھی کرتے اور اپنے اہل و عیال لے کر واپس نہ آتے یا صلح کی پیش کش کے بغیر واپس چلے آتے تو ان کا شمار مفسدوں میں ہوتا اور ان کا بھی وہی حشر ہوتا جو یہودیوں کا ہوا۔
Read the full tafseer →150 ۔ یعنی ان لوگوں کا جو دین و اعتقاد میں فساد برپا کرتے رہتے ہیں (آیت) ” فان تولوا۔ یعنی اتنی توضیحات کے بعد بھی اپنی سرتابی جاری رکھیں۔ (آیت) ” علیم “۔ علم کامل رکھنے والا اور اسی علم کامل کے مطابق جزا وسزا دینے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
آیت نمبر 64 تا 71
ترجمہ : آؤ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب یہودیو ! اور نصرانیو ! ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے، (سَوَاء) مصدر بمعنی مُسْتَوٍ اَمرھا (اسم فاعل) اور وہ یہ ہے کہ ہم بجز اللہ کے کسی کی بندگی نہ کریں۔ اور نہ کسی کو اس کا شریک ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب ٹھہرائے۔ جیسا کہ تم نے اَحْبَار اور رُہْبَان کو ٹھہرا رکھا ہے پھر بھی اگر وہ روگردانی کریں یعنی توحید سے اعراض کریں۔ تو تم ان سے کہدو، گواہ رہنا ہم تو فرمانبردار ہیں، مُوَحّدْ ہیں (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب یہود نے کہا ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے اور ہم ان ہی کے دین پر ہیں…
Read the full tafseer →فَاِنْ تَوَلَّوْا : پس اگر اب بھی انہوں نے دلائل حق سے روگردانی اور توحید سے اعراض کیا تو اللہ ان کو عذاب دے گا (کیونکہ یہ مفسد ہیں) ۔
فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِالْمُفْسِدِيْنَ : اور اللہ مفسدوں کو خوب جانتا ہے اِنْ کی جزا محذوف ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا : فَاِنْ تَوَلَّوْا فَ اللہ ُ یُعَذِّبُھُمْ عذاب کا باعث تھا مفسد ہونا پس علت کو معلول کے بجائے ذکر کردیا (تاکہ حکم عذاب کی علت معلوم ہوجائے اور حکم کا ثبوت دلیل سے ہوجائے) کیونکہ کفر و معاصی کو دنیا میں پھیلا کر اور لوگوں کو ایمان سے روک کر ملک میں بگاڑ پیدا کرنا اور خود ولی نعمت کی نا شکری اور نافرمانی اور اس کے رسول کی مخالفت کرکے عالم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
(62۔ 63) اے محمد ﷺ جو کچھ آپ کے سامنے حضرت عیسیٰ ؑ اور وفد نجران کے بارے میں بیان کیا گیا ہے، وہ ہی سچی بات ہے کہ حضرت عیسیٰ نہ خدا ہیں اور نہ خدا کے بیٹے اور نہ اس کے شریک ہیں اور وحدہ لاشریک کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور جو ایمان نہ لائے اس پر اللہ تعالیٰ غلبہ والے ہیں حکمت والے ہیں کہ اس کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کی جائے اور حکیم کے یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ان پر لعنت پختہ ہوگئی، اس لیے انہوں نے اس ہدایت سے انحراف کیا اور رسول اکرم ﷺ کے ساتھ مباہلہ کے لیے نہیں آئے کیوں کہ یہ جانتے تھے کہ ہم جھوٹے ہیں اور حضور ﷺ سچے ہیں اور آپ کے اوصاف اور تعریف خود ان کی کتابوں میں موجود ہیں، پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
فَمَنْ حَاۗجَّكَ فِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ : سورت کے شروع سے لے کر یہاں تک اللہ تعالیٰ کی توحید، مسیح ؑ کی ولادت کا بیان اور ان کا اللہ یا اللہ کا بیٹا نہ ہونا زبردست علمی دلائل کے ساتھ بیان ہوا۔ اب حکم ہوا کہ جو شخص اتنے واضح دلائل کے بعد بھی نہ مانے تو وہ عناد پر آمادہ ہے، اس سے بحث کا کوئی فائدہ نہیں، پھر انھیں مباہلہ کی دعوت دو۔
مباہلہ کی صورت یہ بیان فرمائی کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو بلا لیں اور اپنی عورتوں اور تمہاری عورتوں کو بھی اور اپنے آپ کو اور تمہیں بھی، پھر گڑ گڑا کر دعا کریں، پس جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔
”بَھَلَ یَبْھَلُ (ف)“ کا معنی لعنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
آیت نمبر : 62 تا 63۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان ھذا لھو القصص الحق “۔ قول باری تعالیٰ (آیت) ” ان ھذا “ میں ارشاہ قرآن اور اس میں موجود قصص کی طرف ہے، انہیں قصص کا نام دیا گیا ہے کیونکہ ان میں معانی تسلسل کے ساتھ ہوتے ہیں اور یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے : فلان یقص اثر فلان یعنی فلاں فلاں کی اتباع میں آرہا ہے۔
(آیت) ” وما من الہ الا اللہ “۔ اس میں من زائدہ تاکید کے لئے ہے اور معنی ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الہ (معبود) نہیں۔ (وما الہ الا اللہ) (آیت) العزیز “ یعنی وہ مغلوب نہیں ہوتا، ” الحکیم “ اس کا معنی ہے صاحب حکمت اس کی مثال پہلے گزر چکی ہے۔ والحمد للہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
(1) ابن ابی شیبہ، مسلم، ابو داؤد، نسائی اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ فجر کی دو رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں لفظ آیت ” قولوا امنا باللہ وما انزل الینا “ اور دوسری رکعت میں ” تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم “ پڑھتے تھے۔
ہرقل روم کے نام دعوت نامہ
(2) عبد الرزاق، بخاری، مسلم، نسائی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو ابو سفیان ؓ نے بیان کیا کہ ہرقل (جو روم کا بادشاہ تھا) نے رسول اللہ ﷺ کا خط منگوایا اور اس کو پڑھا اس میں یہ تھا : لفظ آیت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
من محمد رسول اللہ الی ہرقل عظیم الروم سلام علی من اتبع الھدی اما بعد…
Read the full tafseer →[فَاِنْ : پھر اگر ] [تَوَلَّوْا : وہ لوگ روگردانی کریں ] [فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ (تو) ] [عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ] [بِالْمُفْسِدِیْنَ : فساد پھیلانے والوں کو ]
Read the full tafseer →نصاریٰ نجران سے مال لینے پر صلح :
اور وہ یہ کہ ہر سال دو ہزار جوڑے کپڑوں کے پیش کیا کریں گے۔ ایک ہزار ماہ صفر میں اور ایک ہزار ماہ رجب میں، آپ نے ان سے اس بات پر صلح کرلی اور فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اہل نجران پر عذاب منڈلا رہا تھا اگر وہ مباہلہ کرلیتے تو مسخ کردیئے جاتے اور بندر اور خنزیر بنا دیئے جاتے اور ان کے سارے علاقے کو آگ جلا کر ختم کردیتی اور نجران کے لوگ بالکل ختم ہوجاتے یہاں تک کہ پرندے بھی درختوں پر نہ رہتے۔ اور ایک سال بھی پورا نہ ہوتا کہ تمام نصاریٰ ہلاک ہوجاتے۔
تفسیر ابن کثیر میں صفحہ 369: ج 1 بحوالہ مسند احمد حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ لوگ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
نصاری کے ایک استدلال یا شبہ کا جواب۔
ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل۔۔۔ الی۔۔ الممترین۔
اس آیت میں اللہ جل شانہ نے نصارائے نجران کے ایک شبہ کا جواب دیا ہے جس کو وہ حضرت عیسیٰ کے ابنیت کے لیے بطور استدلال ذکر کرتے تھے وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے معلوم ہوا کہ وہ خدا اور خدا کے بیٹے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی کہ عیسیٰ کا بغیر باپ کے پیدا ہونا کچھ تعجب انگیز نہیں ہم نے آدم کو اپنی قدرت سے بغیر ماں اور باپ کے مٹی سے پیدا کیا حضرت عیسیٰ اگرچہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے لیکن اپنی جنس کے ایک رد سے تو پیدا ہوئے مگر آدم تو بالکل ہی غیر جنس سے پیدا ہوئے پس اگر…
Read the full tafseer →88 اتنی واضح تصریحات کے بعد بھی جو لوگ حق قبول نہ کریں اور توحید سے سرتابی کریں اور شرکیہ عقائد پھیلا کر شروفساد برپا کرنے میں مصروف رہیں۔ تو اللہ تعالیٰ ایسے مفسدین کو خوب جانتا ہے ان کا کوئی کام اس سے پوشیدہ نہیں وہ ان کو ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
گذشتہ دروس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ وہ نہ تو خدا کے بیٹے ہیں اور نہ خود خدا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فضیلت عطا فرمائی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بات ایک واضح مثال کے ذریعے سمجھائی۔ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ناممکنات میں سے نہیں ہے۔ آپ کی مثال حضرت آدم (علیہ السلام) کی مثال جیسی ہے۔ جسے اللہ نے بغیر ماں اور باپ کے پیدا فرمایا۔ اگر آدم (علیہ السلام) الوہیت کے درجے کو نہیں پہنچے ، تو عیسیٰ (علیہ السلام) الہ کیسے بن گئے۔
نجران کے عیسائی وفد کا تذکرہ ابتدائے سورة ہی سے ہورہا ہے۔ جب حضور ﷺ کے ساتھ عیسائیوں کی بحث نے طول…
Read the full tafseer →فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ عَلِيْمٌۢ بِالْمُفْسِدِيْنَ 63 ۧ
ولي
وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه .
فمن الأوّل قوله :
وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] .
ومن الثاني قوله :
فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ،
( و ل ی ) الولاء والتوالی
اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
1 ؎ یہاں بھی نیچری مصنف نے بہت ہاتھ پائوں مار کر مسیح کا یوسف نجار سے پیدا ہونا ثابت کرنا چاہا تھا مگر نہ ہوسکا۔
ترکیب : مثل عیسیٰ ای صفۃ عیسیٰ اسم ان کمثل آدم خبر ‘ خلقہ جملہ تفسیر ہے مثل کی۔ فیہ کی ضمیر عیسیٰ یا ان کے قصہ کی طرف راجع ہے من شرطیہ ہے ماضی بمعنی مستقبل۔
تفسیر : قصہّ مباہلہ : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرما کر عیسیٰ پرست قوم کی طرف یعنی نصاریٰ کی طرف (جو ان کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اس لئے کہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے) روئے سخن کیا جاتا ہے اور ان کے عقیدہ کا ابطال فرما کر ان کو مباہلہ کے لئے بلایا جاتا ہے کہ خدا کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کا ویسا ہی حال یعنی پیدا کرنا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
اِنَّ ھٰذَا لَہُوَالْقَصَصُ الْحَقُّ ج وَمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّااللّٰہُ ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَہُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِالْمُفْسِدِیْنَ ۔ ع
(بیشک یہی ہے سچا واقعہ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، بیشک اللہ ہی غالب اور حکمت والا ہے۔ پھر وہ اگر اعراض کریں تو اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو خوب جانتا ہے) (62 تا 63)
دلائل سے حقائق کو ثابت کردیا گیا۔ مباہلہ سے عیسائیت کے غلط ہونے اور اسلام کے سچا ہونے پر مہر تصدیق ثبت کردی گئی اور توحید کا عقیدہ نکھر کر سامنے آگیا۔ ہر طرح سے یہ بات واضح ہوگئی کہ معبودِ برحق صرف اللہ کی ذات ہے۔ عیسائیوں یا دوسرے لوگوں نے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
فہم القرآن
ربط کلام : توحید حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور تمام انبیاء کی مشترکہ دعوت اور مشن ہے۔ لہٰذا اہل کتاب کو اس کی پھر دعوت دی جارہی ہے۔
سورۃ البقرہ میں یہودیوں کو اور سورة آل عمران میں نصاریٰ کو مفصل خطاب کرنے کے بعداب دونوں کو ایسی بات کی طرف دعوت دی جارہی ہے جو تمام انبیاء کی دعوت کی ابتدا اور انتہا ہوا کرتی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف پیرائے میں اس بات کی وضاحت و صراحت فرمائی ہے کہ ہم نے جتنے انبیاء مبعوث کیے وہ یہی دعوت دیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور ہر قسم کے طاغوت کا انکار کردو۔ الانعام : 88 میں اٹھارہ پیغمبروں کا نام بنام ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر یہ شرک…
Read the full tafseer →63: فَاِنْ تَوَلَّوْا۔ (پس اگر وہ اعراض کریں اور قبول نہ کریں) فَاِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌم بِالْمُفْسِدِیْنَ ۔ (پس اللہ تعالیٰ فسادی لوگوں کو خوب جاننے والا ہے) اس میں ان کو اس عذاب سے ڈرایا گیا جو اس آیت میں مذکور ہے۔ زِدْنٰھُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوْا یُفْسِدُوْنَ ( النحل 88)
Read the full tafseer →63۔ (آیت)” فان تولوا “ اگر ایمان سے روگردانی کرو گے (آیت)” فان اللہ علیم بالمفسدین “ اللہ جانتا ہے ان لوگوں کو جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور غیر اللہ کو پکارتے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
(59 ۔ 63) ۔ بیہقی نے دلائل النبوہ میں اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں اور ابن سعد نے طبقات میں اس آیت کی شان نزول جو بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نجران کے نصاریٰ کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان کو اسلام لانے کا پیغام تھا وہاں سے کچھ نصاریٰ کے سرغنہ اور پادری لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس بحث کو آئے آنحضرت ﷺ نے ان سے اسلام لانے کو کہا انہوں نے جواب دیا کہ ہم تم سے پہلے ہی اسلام لا چکے ہیں آپ نے فرمایا تم حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے ہو اور سور کا گوشت کھاتے ہو اور حضرت عیسیٰ اور مریم کی تصویروں اور صلیب کی پوجا کرتے ہو یہ باتیں تمہارے دین میں کب جائز ہیں انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
آیات کا مطلب یہ ہے (فمن حاجک) کہ اے محمد ﷺ جو شخص عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں آپ سے بحث کرتا ہے اور انہیں ان کے اصل مقام سے بڑھاتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ان کا مقام عبودیت کے مقام سے بلند تر ہے۔ حالانکہ (من بعد ماجاک من العلم) آپ کے پاس یقینی علم آچکا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور آپ نے ایسے شخص کے لئے دلائل کے ساتھ واضح کردیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندے ہیں تو ثابت ہوجاتا ہے کہ آپ کی اتباع کرکے ایسے یقینی علم کو نہ ماننے والا عیاد میں مبتلا ہے، لہٰذا اس سے بحث و مباحثہ کرنے میں نہ آپ کو کوئی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے، نہ اس کو۔ کیونکہ حق واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
اطاعت نبی دراصل اطاعت الٰہی ہے
قول باری ہے (قل یا اھل الکتاب تعالوالی کلمۃ سوآء بیننا وبینکم ان لا نعبد الا اللہ، کہو اے اہل کتاب ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے دہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں) تاآخر آیت قول باری (کلمۃ سوآء) سے مراد ۔ واللہ علم ہمارے اور تمھارے درمیان انصاف کی بات جس میں ہم سب یکساں ہیں کیونکہ ہم سب اللہ کے بندے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفسیر خودہی ان الفاظ میں بیان کی (الانعبدالا اللہ ولانشرک بہ ولایتخذبعضنا بعضا اربابا حن دون اللہ، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں اور اللہ کو…
Read the full tafseer →132 اللہ پوری طرح جانتا ہے مفسدین کو : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ مفسدین کو پوری طرح جانتا ہی۔ پس نہ کوئی فسادی اس سے چھپ سکتا ہے، اور نہ اس کا کوئی فساد۔ لہٰذا ہر فسادی اپنے وقت پر اپنے کئے کی سزا بہرحال بھگت کر رہے گا کہ ایسے لوگ نہ اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر ہوسکتے ہیں اور نہ اس کی گرفت و پکڑ سے کسی طرح نکل سکتے ہیں۔ لہذا آج ان کو جو ڈھیل ملی ہوئی ہے اس سے ان کو کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے، کہ اس کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس آیت کریمہ سے واضح فرما دیا گیا کہ اگر یہ لوگ مباہلہ کیلئے تیار نہیں ہوتے جو کہ قضیہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
رسول اللہ ﷺ کا عیسائیوں سے مباہلہ
تشریح : یہ ایک اہم واقعہ کا بیان ہے۔ مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کو نو سال ہوچکے تھے اور حجاز پر مسلمانوں کا پورا قبضہ ہوچکا تھا کہ 9 ھ میں محمد ﷺ نے بخران کی طرف ایک فرمان بھیجا۔ جس میں تین باتوں کا ذکر کیا گیا تھا۔
-1 اسلام قبول کرو۔ -2 یا جزیہ ادا کرو۔ -3 یا جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ۔
اس پر بخران کے عیسائیوں کی طرف سے ایک وفد آپ ﷺ کے پاس بات چیت کرنے کے لئے آیا۔ انہوں نے اپنے عقیدوں کا اظہار کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کو سمجھانے کی بہت زیادہ کوشش کی، مگر وہ لوگ اپنے غلط عقیدوں پر ہی اڑے رہے اس پر رب العزت نے محمد ﷺ سے فرمایا کہ ان عیسائیوں سے مباہلہ کرو۔ مباہلہ کا مطلب ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–63
آیات 55- 63
اسرارومعارف
اذقال اللہ یا عیسیٰ انی متوفیک…………والذکرالحکیم۔
اب خفیہ تدبیر کیا تھی ؟ کہ یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنا چاہا اور اللہ نہ صرف انہیں بچانا چاہتا تھا ، بلکہ اپنی عظمت کا ایک نشان اور اپنے نبی ﷺ کی نبوت کے نشان کے طور پر باقی بھی رکھنا چاہتا تھا جس طرح ان کی پیدائش عجیب تھی ، ایسے ہی پرورش بھی نرالی کہ پالنے میں باتیں کیں پھر معجزات بھی عجیب تر۔
قدرت باری کے مظاہر :
اور اس کے بعد رفع یعنی آسمانوں پر اٹھایا جانا اور پھر دنیا میں نزول ، اس کے بعد موت یہ سب امور قدرت باری کے مظاہر ہیں۔
ارشاد ہوا کہ اے عیسیٰ میں تمہیں لے لوں گا اور اٹھالوں گا۔ یہ معنی اس صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
ف 2 چناچہ ایسا ہی ہوا۔ وفد نجران والوں نے مباہلہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا اور یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ لوگ محض دینا کی خاطر آنحضرت ﷺ کی اتباع اختیار کرنے سے انکار کر رہے ہیں ورنہ ان کے پاس اپنی ضد پر اڑے رہنے کے لئے کوئی وجہ جواز نہیں ہے ایک حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر یہ لوگ مباہلہ کرلیتے تو یہ وادی ان پر آگ برساتی۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرماتے ہیں کہ اگر یہ لوگ مباہلے کے لئے نکلتے تو اپنے گھروں کو اس طرح لوٹتے کہ نہ کوئی مال پاتے اور نہ اہل و عیال۔ (ابن کثیر۔ شوکانی )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
(3:62) ما من الہ میں نافیہ ہے اور لہو میں لام تاکید کے لئے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 63
حاجک (آپ سے جھگڑتا ہے) تعالوا (آجاؤ) ندع (ہم بلاتے ہیں) ابناءنا (اپنے بیٹوں کو) نساءنا (اپنی عورتوں کو) انفسنا (ہماری اپنی ذاتیں) نبتھل (ہم قسم کھاتے ہیں) نجعل (ہم ڈالیں گے) الکٰذبین (جھوٹ بولنے والے) قصص (قصے، واقعات) الحق (بالکل درست، ٹھیک) المفسدین (فساد کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 61 تا 63
سورة آل عمران کی آیات 61 تا 63 میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ یہ جتنے حقائق بیان کئے گئے ہیں اگرچہ نخران کے عیسائیوں کا وفد ماننے کے لئے تیار نہیں ہے تو آپ ان کو ” مباھلہ “ کی دعوت دیجئے یعنی اے نبی آپ اور یہ عیسائی خود اپنی جانوں کو اور اپنے بال بچوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
مباہلہ (یعنی بحث)
شان نزول : نصاریٰ نجران کے سرغنہ اور پادری لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس بحث کو آئے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو اسلام لانے کو کہا۔ انہوں نے کہا : ” ہم تو پہلے سے اسلام لا چکے ہیں “۔ آپ نے فرمایا :” تم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے ہو اور مریم کی تصویروں کی اور صلیب کی پوجا کرتے ہو۔ یہ باتیں تمہارے دین میں کب جائز ہیں “۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اگر خدا کے بیٹے نہیں تو بتلاؤ دنیا میں کون ان کا باپ ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ جس طرح بےماں باپ کے حضرت آدم (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے، اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–69
[28] اسی کا نام شریعت کی اصطلاح میں مباہلہ ہے۔ مباہلہ میں ہر فریق اپنے کو اللہ کے سپرد کرتا ہے اور گڑگڑا کر دعا مانگنے کے بعد اس کے فیصلہ کا منتظر رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
دعوت اتحاد :
(ف 1) قرآن حکیم دنیا سے تفریق واختلاف کو مٹانے آیا ہے وہ چاہتا ہے کہ ساری دنیا کو ایک مرکز پر لا کھڑا کرے اور جتنے فتنے تشدد وافتراق کی وجہ سے بپا ہیں یکسر محو ہوجائیں اور اگر یہ نہ ہو سکے تو بھی تعصبات ختم ہوجائیں مہمات مسائل پر اتفاق ہوجائے اور کم از کم چند چیزیں ایسی مسلمانہ میں سے ہوں جس پر دنیا کے تمام انسان متفق ہوں ، کتنا سچا اور مقدس مسلک ہے ،
اس آیت میں اسی دعوت اتحاد کی تشریح ہے ، اہل کتاب کے ہر دو فرقوں کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ آؤ ہم دونوں مسلمات پر اتفاق کریں اور وہ یہ ہیں کہ ایک اللہ کی پرستش کریں ، کسی دوسرے کو عبادت اور پرستش کے قابل نہ سمجھیں اور اپنے جیسے…
Read the full tafseer →ف 2۔ بلا شبہ جو کچھ مذکور ہو یہی حق اور سچی بات ہے اور بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی مبعود ہونے کے لائق نہیں اور یقینا اللہ تعالیٰ قوت و طاقت اور بڑی حکمت و دانش کا مالک ہے ۔ پھر اگر یہ لوگ ان دلائل واضح اور براہین ساطمہ کے بعد بھی سرتابی اور روگردانی کریں تو آپ ان سے بات ختم کر دیجئے اور ان کا معاملہ خدا کے سپرد کر دیجئے ۔ بیشک اللہ تعالیٰ اہل فساد اور شرارت کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق جو افسانے یہود و نصاریٰ نے گھڑ رکھے ہیں وہ صحیح نہیں ہیں بلکہ اصل حقیقت وہ ہے جو ہم نے بیان کردی ہے اور ان تمام واقعات مذکورہ میں یہ امر بالکل منکشف ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–71
ف 1۔ دونوں جو تشہدون اور تعلمون فرمایا، تو اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ عدم اقرار یا عدم علم کی حالت میں کفر جائز ہے، قبیح ذاتی تو کسی حال میں جائز ہو ہی نہیں سکتا، بلکہ وجہ یہ ہے کہ اقرار اور علم کے وقت کفر اور زیادہ قابل ملامت ہے۔ اوپر مذکور تھا کہ بعض اہل کتاب مسلمانوں کے اضلال کی فکر میں رہتے ہیں۔ آگے ان کی ایک تدبیر کا بیان فرماتے ہیں جس کو اضلال مومنین کے لئے انہوں نے تجویز کیا تھا۔
Read the full tafseer →حق سے منہ پھیرنے والے مفسدین علم الٰہی میں موجود ہیں آپ ﷺ فکر نہ کریں :
138: اگر حق واضح ہوجانے کے بعد بھی یہ لوگ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں تو بلاشبہ ان مفسدین کو اللہ خوب جانتا ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ اگر وہ اپنی سرتابی جاری رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکیں گے۔ حق پہنچانے والے کا کام صرف حق بیان کردینا ہے کسی کو حق پر چلانے کی ذمہ داری اس پر مطلق عائد نہیں ہوتی۔ آپ ﷺ نے حق پہنچا دیا اور ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کردیا گیا اگر وہ نہیں مانتے تو اے پیغمبر اسلام آپ ﷺ زیادہ فکر مند نہ ہوں اپنا کام کیے جائیں اور ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں وہ قانون الٰہی کی گرفت سے بچ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
The Meaning of Mubahalah
As stated earlier, verse 61 has instructed the Holy Prophet ﷺ to invite his opponents (Christians) to Mubahalah which literally means 'mutual prayer' but in the terminology of Islamic Shari'ah it refers to a particular form of resolving religious disputes. When the argumentations from both sides fail to resolve a religious issue, the parties jointly pray Allah to cast His curse on whichever of the two parties is parties is false. Since curse means 'moving someone far away from the divine mercy', - and moving far away from mercy is being close to divine…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
56. This marks the beginning of the third discourse of this surah. Its contents invite the conclusion that the surah was revealed sometime between the battles of Badr and Uhud. The subjects of these three discourses are so closely interrelated that some commentators have wrongly understood the verses which follow to be part of the foregoing discourse. From the whole tenor of the discourse which now begins, however, it is evident that it is addressed to the Jews.
57. The invitation here is for the two parties to agree on something believed in by one of them, the Muslims, and the soundness of…
Read the full tafseer →