Aal-i-Imraan 3:64

Aal-i-Imraan · from ayah 64

3:64

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَبَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْـًٔا وَّلَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ؕ— فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ۟قُلۡ يٰۤـاَهۡلَ الۡكِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۢ بَيۡنَـنَا وَبَيۡنَكُمۡ اَلَّا نَـعۡبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشۡرِكَ بِهٖ شَيۡــئًا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ‌ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُوۡلُوا اشۡهَدُوۡا بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ

کہہ دو کہ اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی) ہے اس کی طرف آؤ وہ یہ کہ خدا کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا اپنا کار ساز نہ سمجھے اگر یہ لوگ (اس بات کو) نہ مانیں تو (ان سے) کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم (خدا کے) فرماں بردار ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "O People of the Scripture, come to a word that is equitable between us and you - that we will not worship except Allah and not associate anything with Him and not take one another as lords instead of Allah." But if they turn away, then say, "Bear witness that we are Muslims [submitting to Him]."

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 7 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:64

کہو، "اے اہل کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنا لے" اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو، ہم تو مسلم (صرف خدا کی بندگی و اطاعت کرنے والے) ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی) ہے اس کی طرف آؤ وہ یہ کہ خدا کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا اپنا کار ساز نہ سمجھے اگر یہ لوگ (اس بات کو) نہ مانیں تو (ان سے) کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم (خدا کے) فرماں بردار ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آو جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں، نہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں۔ پس اگر وه منھ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواه رہو ہم تو مسلمان ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(مسلمانو ! یہود و نصاری سے) کہہ دو کہ : اے اہل کتاب ! ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہم تم میں مشترک ہو، (اور وہ یہ) کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور اللہ کو چھوڑ کر ہم ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں۔ پھر بھی اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو : گواہ رہنا کہ ہم مسلمان ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ، اے کتابیو! ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں یکساں ہے یہ کہ عبادت نہ کریں مگر خدا کی اور اس کا شریک کسی کو نہ کریں اور ہم میں کوئی ایک دوسرے کو رب نہ بنالے اللہ کے سوا پھر اگر وہ نہ مانیں تو کہہ دو تم گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ فرما دیں: اے اہلِ کتاب! تم اس بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے، (وہ یہ) کہ ہم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اﷲ کے سوا رب نہیں بنائے گا، پھر اگر وہ روگردانی کریں تو کہہ دو کہ گواہ ہو جاؤ کہ ہم تو اﷲ کے تابع فرمان (مسلمان) ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے اے اہل کتاب ! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان برابر ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے۔ پھر اگر وہ پھرجائیں تو کہہ دو گواہ رہو کہ بیشک ہم فرماں بردار ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے : اے اہل کتاب ! ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں مسلم ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، نہ کسی کو اس کا شریک بنائیں اور نہ ہی ہم میں سے کوئی شخص اللہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو رب بنائے اگر وہ اس بات سے منہ موڑیں تو ان سے کہئے کہ : گواہ رہو کہ ہم تو اس کے فرمانبردار ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو ، اے اہل کتاب اس چیز کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں مشترک ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا رب ٹھہرائے۔ اگر وہ اس چیز سے اعراض کریں تو کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو مسلم ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو اے اہل کتاب، آؤ تم ایک ایسی بات کی طرف جو کہ یکساں ہے، ہمارے اور تمہارے درمیان، کہ ہم کسی کی بھی بندگی نہیں کریں گے سوائے ایک اللہ کے، اور ہم کسی بھی چیز کو (کسی بھی طور پر) اس کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے، اور نہ ہی ہم میں سے کوئی کسی کو اپنا رب بنائے گا سوائے اللہ کے، پس اگر (اس واضح اور معقول بات کے بعد) یہ لوگ روگردانی کریں، تو کہو کہ تم لوگ گواہ رہو کہ بیشک ہم تو (بہرطور اسی کے) فرمانبردار ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب ایسے قول کی طرف آجاؤ جو ہم میں تم میں مشترک ہے وہ یہ کہ ہم بجز اللہ کے اور کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے علاوہ پروردگار نہ ٹھہرائے۔ پھر پس اگر وہ روگردانی کریں تو تم لوگ کہہ دو ۔ کہ گواہ رہنا ہم تو فرمانبردار ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجیے : اے اہل کتاب ! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان بالکل برابر ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا رب ٹھہرائے پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو (اے مسلمانو !) تم کہو آپ لوگ گواہ رہیں کہ ہم تو مسلمان ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ دیجئے : اے اہل کتاب ! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے۔ اس دعوت سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو، ہم تو مسلمان ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: 'People of the Book! Come to a word common between us and you: that we shall serve none but Allah and shall associate none with Him in His divinity and that some of us will not take others as lords beside Allah.' And if they turn their backs (from accepting this call), tell them: 'Bear witness that we are the ones who have submitted ourselves exclusively to Allah.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :O people of the Book, come to a word common between us and between you, that we worship none but Allah, that we associate nothing with Him and that some of us do not take others as Lords instead of Allah. Then, should they turn back, say, :Bear witness that we are Muslims.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :O people of the Book, come to a word common between us and between you, that we worship none but Allah, that we associate nothing with Him and that some of us do not take others as Lords instead of Allah. Then, should they turn back, say, :Bear witness that we are Muslims.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "O people of the Scripture: Come to a word that is just between us and you, that we worship none but Allah the same, and that we associate no partners with Him, and that none of us shall take others as lords besides Allah." Then, if they turn away, say: "Bear witness that we are Muslims."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: O People of the Scripture! Come to an agreement between us and you: that we shall worship none but Allah, and that we shall ascribe no partner unto Him, and that none of us shall take others for lords beside Allah. And if they turn away, then say: Bear witness that we are they who have surrendered (unto Him).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "O People of the Scripture, come to a word that is equitable between us and you - that we will not worship except Allah and not associate anything with Him and not take one another as lords instead of Allah." But if they turn away, then say, "Bear witness that we are Muslims [submitting to Him]."

— Saheeh International

(Muhammad), say to the People of the Book, "We must come to a common term. Let us worship no one except God, nor consider anything equal to Him, nor regard any of us as our Lord besides God." However, if they turn away from (the Truth), tell them, "Bear witness that we have submitted ourselves to the will of God."

— Muhammad Sarwar

Say: O followers of the Book! come to an equitable proposition between us and you that we shall not serve any but Allah and (that) we shall not associate aught with Him, and (that) some of us shall not take others for lords besides Allah; but if they turn back, then say: Bear witness that we are Muslims.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: O people of the Book! come to a word common between us and between you; that we shall worship none save Allah's and that we shall not associate aught with Him, and that none of you shall take others as Lords beside Allah. Then if they turn away, say: bear witness that verily we are Muslims.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "O People of the Book! come to common terms as between us and you: That we worship none but Allah; that we associate no partners with him; that we erect not, from among ourselves, Lords and patrons other than Allah." If then they turn back, say ye: "Bear witness that we (at least) are Muslims (bowing to Allah's Will).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:64

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

یہودیوں اور نصرانیوں سے خطاب یہودیوں نصرانیوں اور انہی جیسے لوگوں سے یہاں خطاب ہو رہا ہے، کلمہ کا اطلاق مفید جملے پر ہوتا ہے، جیسے یہاں کلمہ کہہ کر پھر سوآء الخ کے ساتھ اس کی تعریف یوں کی گئی ہے۔ سواء کے معنی عدل و انصاف جیسے ہم کہیں ہم تم برابر ہیں، پھر اس کی تفسیر کی خاص بات یہ ہے کہ ہم ایک اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی بت کو نہ پوجیں صلیب، تصویر، اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور نہ آگ کو نہ اور کسی چیز کو بلکہ تنہا اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کریں، یہی عبادت تمام انبیاء کرام کی تھی، جیسے فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 62–64

سورة اٰلِ عِمْرٰن 56 یہاں سے ایک تیسری تقریر شروع ہوتی ہے جس کے مضمون پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ بدر اور جنگ احد کے درمیانی دور کی ہے۔ لیکن ان تینوں تقریروں کے درمیان مطالب کی ایسی قریبی مناسبت پائی جاتی ہے کہ شروع سورت سے لے کر یہاں تک کسی جگہ ربط کلام ٹوٹتا نظر نہیں آتا۔ اسی بنا پر بعض مفسرین کو شبہہ ہوا ہے کہ یہ بعد کی آیات بھی وفد نجران والی تقریر ہی کے سلسلہ کی ہیں۔ مگر یہاں سے جو تقریر شروع ہو رہی ہے اس کا اندازہ صاف بتارہا ہے کہ اس کے مخاطب یہودی ہیں۔ سورة اٰلِ عِمْرٰن 57 یعنی ایک ایسے عقیدے پر ہم سے اتفاق کرلو جس پر ہم بھی ایمان لائے ہیں اور جس کے صحیح ہونے سے تم بھی انکار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (اے محمد ﷺ آپ فرمادیجیے کہ اے اہل کتاب آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو کہ ہمارے اور تمہارے درمیان (مسلم ہونے میں) برابر ہے (وہ) یہ (ہے) کہ بجز اللہ تعالیٰ کے ہم کسی اور کی عبادت نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی کسی دوسرے کو رب قرار نہ دے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پھر اگر (اس کے بعد بھی) وہ لوگ (حق سے) اعراض کریں تو تم (مسلمان) لوگ کہہ دو کہ تم (ہمارے) اس (اقرار) کے گواہ رہو کہ ہم تو (اس بات کے) ماننے والے ہیں (اگر تم نہ مانو تو تم جانو)۔ معارف و مسائل تبلیغ و دعوت کے اہم اصول(تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم) اس آیت سے تبلیغ و دعوت کا ایک اہم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

”یا اھل الکتب“ کا خطاب اگرچہ یہود و نصاری دونوں سے یکساں ہے لیکن اس سورة میں نصاری چونکہ خاص طور پر مخاطب ہیں اس وجہ سے روئے سخن ان کی طرف زیادہ ہے۔ ”لفظ ’ سواء ‘ کی تحقیق“: سواء کے معنی وسط کے ہیں۔ سواء الراس، سر کے بیچوں بیچ ہوگی وہ دونوں میں یکساں مشترک، مسلم اور اور جانی پہچانی ہوئی ہوگی۔ توحید کے متعلق قرآن مجید کا دعوی یہ ہے کہ یہ اہل کتاب اور مسلمانوں کے درمیان یکساں مشترک و مسلم ہے۔ قرآن نے اسی مشترک کلمہ کو بنیاد قرار دے کر ان سے بحث کا آغاز کیا ہے کہ جب توحید ہمارے اور تمہارے درمیان ایک مشترک حقیقت ہے تو موازنہ کور کہ اس قدر مشترک کے معیار پر قرآن اور اسلام پورے اترتے ہیں یا یہودیت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 62–64

64۔ 1 کسی بت نہ صلیب کو نہ آگ اور نہ کسی چیز کو بلکہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں جیسا کہ تمام انبیاء کی دعوت رہی ہے۔ 64۔ 2 یہ ایک تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تم نے حضرت مسیح اور حضرت عزیر ؑ کی ربوبیت (رب ہونے) کا جو عقیدہ کھڑا کر رکھا ہے یہ غلط ہے وہ رب نہیں ہیں انسان ہیں دوسرا اس بات کی طرف اشارہ ہے تم نے اپنے احبارو رہبان کو حلال یا حرام کرنے کا جو اختیار دے رکھا ہے یہ بھی ان کو رب بنانا ہے حلال اور حرام کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے (ابن کثیر و فتح القدیر) 64۔ 3 صحیح بخاری میں ہے کہ قرآن کریم کے اس حکم کے مطابق آپ ﷺ نے ہرقل شاہ روم کو مکتوب تحریر فرمایا اور اس میں اسے اس آیت کے حوالے سے قبول…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–66

26: یہودی کہا کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم ؑ یہودی تھے اور عیسائی کہتے تھے کہ وہ عیسائی تھے، اول تو قرآن کریم نے فرمایا کہ یہ دونوں مذہب تورات اور انجیل کے نزول کے بعد وجود میں آئے، جبکہ حضرت ابرہیم ؑ بہت پہلے گزر چکے تھے، لہذا یہ انتہائی احمقانہ بات ہے کہ انہیں یہودی یا عیسائی کہا جائے، اس کے بعد قرآن کریم نے فرمایا کہ جب تمہارے وہ دلائل جو کسی نہ کسی صحیح حقیقت پر مبنی تھے، تمہارے دعوؤں کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں، تو حضرت ابراہیم ؑ کے بارے میں یہ بےبنیاد اور جاہلانہ بات کیسے تمہارے دعوے کو ثابت کرسکتی ہے، مثلاً تمہیں یہ معلوم تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اور اس کی بنیاد پر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہی وجہ ہے کہ اس تہدید اور توبیخ کے بعد سیاق کلام میں اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ایسے نظریے کی طرف اٹھ آئیں جو فریقین کے درمیان یکساں ہے ۔ یعنی صرف اللہ کی بندگی ‘ اس کے ساتھ شرک نہ کرنا ۔ اور ایک دوسرے کو رب نہ بنانا ۔ اگر وہ یہ صورت نہیں اپناتے تو پھر ہماری راہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئیں ۔ اس کے بعد نہ ملاپ ہوسکتا ہے اور نہ مکالمہ ۔ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلا نَعْبُدَ إِلا اللَّهَ وَلا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 پہلے نقل کہا جا چکا ہے کہ حضور ﷺ نے جب وفد نجران کو کہا اسلموا (مسلم بن جاؤ) تو کہنے لگے اَسْلَمْنَا (ہم مسلم ہیں) اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی طرح انکو بھی مسلم ہونے کا دعویٰ تھا۔ اسی طرح جب یہود و نصاریٰ کے سامنے توحید پیش کی جاتی تو کہتے کہ ہم بھی خدا کو ایک کہتے ہیں بلکہ ہر مذہب والا کسی نہ کسی رنگ میں اوپر جاکر اقرار کرتا ہے کہ بڑا خدا ایک ہی ہے۔ یہاں اسی طرف توجہ دلائی گئی کہ بنیادی عقیدہ (خدا کا ایک ہونا اور اپنے کو مسلم ماننا) جس پر ہم دونوں متفق ہیں، ایسی چیز ہے جو ہم سب کو ایک کرسکتا ہے بشرطیکہ آگے چل کر اپنے تصرف اور تحریف سے اس کی حقیقت بدل نہ ڈالیں۔ ضرورت اسکی ہے کہ جس طرح…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

سورة آل عمران کے نصف اوّل کا تیسرا حصہ 38 آیات 64 تا 101 پر مشتمل ہے اور یہ سورة البقرۃ کے نصفِ اوّل کے تیسرے حصے رکوع 15 تا 18 سے بہت مشابہ ہے جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ‘ بیت اللہ کا ذکر ‘ اہل کتاب کو دعوت ایمان اور تحویل قبلہ کا حکم ہے۔ کم و بیش وہی کیفیت یہاں ملتی ہے۔ فرمایا : آیت 64 قُلْ یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍم بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ یہاں اہل کتاب کے صیغۂ خطاب میں یہود و نصاریٰ دونوں کو جمع کرلیا گیا ‘ جبکہ سورة البقرۃ میں یٰبَنِیْ اِسْرَآءِ ‘ یْلَ کے صیغۂ خطاب میں زیادہ تر گفتگو یہود سے تھی۔ یہاں ابھی تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ تھا اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

57 صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مختلف شاہان عجم کی طرف اسلامی دعوت کے خطوط بھیجے۔ جو خط ہرقل شاہ روم کو بھیجا گیا۔ اس میں اسلام کی طرف دعوت کے بعد یہی آیت درج تھی۔ ان دنوں ابو سفیان اپنے چند ساتھیوں سمیت شام گیا ہوا تھا۔ اسے اور اس کے ساتھیوں کو ہرقل نے دربار میں بلا کر پیغمبر اسلام کے متعلق بہت سے سوال و جواب کئے۔ تاآنکہ اسے پیغمبر اسلام کی حقانیت کا یقین ہوگیا۔ پھر اس نے روسائے مملکت کو ایک بند کمرے میں بلا کر کہا کہ اگر مسلمان ہوجاؤ تو ہدایت پاجاؤ گے اور تمہارا ملک بھی تمہارے ہی پاس رہے گا مگر وہ لوگ اس دعوت پر تلملا اٹھے اور باہر بھاگنا چاہا۔ ہرقل نے انہیں دوبارہ بلا کر کہا میں صرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

151 ۔ (نہ فرزند کہہ کر، نہ اقنوم ٹھہرا کر نہ مظہر یا اوتار بنا کر، نہ اور کسی حیثیت سے) (آیت) ” لا نعب الا اللہ۔ پروٹسٹنٹ فرقہ کئی صدی بعد کی چیز ہے۔ قرآن کے معاصر جو مسیحی تھے وہ کیتھولک فرقہ یا کلیسائے رومی کے متبع تھے۔ اور اس فرقہ میں مسیح پرستی اور روح القدس پرستی تو خیر تھی اس کے علاوہ بھی خدا معلوم کتنی اور پرستیاں موجود تھیں۔ مریم (علیہ السلام) پرستی، پاپا پرستی، ولی، شہید پرستی وغیرہا۔ آیت کا یہ ٹکڑا شرک کی جلی، خفی، ساری صورتوں کی تردید کررہا ہے۔ قل۔ خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ (آیت) ” اھل الکتب “۔ تشریح سورة بقرہ کے حاشیہ میں ہوچکی ہے۔ مراد یہود ونصاری دونوں ہوسکتے ہیں۔ یہاں اصلا اشارہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 63–64

آیت نمبر 64 تا 71 ترجمہ : آؤ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب یہودیو ! اور نصرانیو ! ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے، (سَوَاء) مصدر بمعنی مُسْتَوٍ اَمرھا (اسم فاعل) اور وہ یہ ہے کہ ہم بجز اللہ کے کسی کی بندگی نہ کریں۔ اور نہ کسی کو اس کا شریک ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب ٹھہرائے۔ جیسا کہ تم نے اَحْبَار اور رُہْبَان کو ٹھہرا رکھا ہے پھر بھی اگر وہ روگردانی کریں یعنی توحید سے اعراض کریں۔ تو تم ان سے کہدو، گواہ رہنا ہم تو فرمانبردار ہیں، مُوَحّدْ ہیں (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب یہود نے کہا ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے اور ہم ان ہی کے دین پر ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ : آپ کہہ دیں اے اہل کتاب۔ اہل کتاب کا لفظ دونوں کتابوں والوں کو شامل ہے۔ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ : ایک بات کی طرف آجاؤ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ جس قصہ کی کچھ تفصیل ہو عرب اس کو کلمہ کہہ دیتے ہیں اسی لیے قصیدہ کو کلمہ کہا جاتا ہے۔ سَوَاۗءٍۢ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ : جو ہمارے تمہارے درمیان ایک جیسی ہے سواء مصدر بمعنی اسم فاعل ہے اسی لیے اس کا مؤنث نہیں آتا کیونکہ مصدر کا تثنیہ آتا ہے نہ جمع نہ مؤنث یعنی اس بات میں قرآن، توریت، انجیل کسی کو کوئی اختلاف نہیں۔ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ : وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوائے ہم کسی کو نہ پوجیں یعنی عبادت میں کسی کو اس کا شریک نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(64) اب ان کو توحید کی دعوت دی جاتی ہے کہ کلمہ (آیت) ”لا الہ الا اللہ“ کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان تسلیم شدہ ہے اور یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ان میں سے کوئی کسی دوسرے کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں اپنا رب نہ بنائے، چناچہ انہوں نے اس کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر وہ اعراض اور توحید کے اقرار سے انکار کریں تو تم کہہ دو کہ تم لوگ اس بات پر گواہ رہو کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی توحید کا اقرار کرنے والے ہیں، اب اللہ تعالیٰ ان نصاری کے مباحثہ کا ذکر فرماتے ہیں کہ یہ لوگ رسول اکرم ﷺ سے آکر مباحثہ کرنے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ۔۔ : اس آیت میں اہل کتاب کو تین مشترکہ باتوں کی دعوت دینے کا حکم دیا گیا ہے : 1 اللہ تعالیٰ کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں۔ 2 اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ 3 اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے۔ تورات و انجیل میں تحریف کے باوجود تورات تو اب بھی توحید سے اور شرک کی ممانعت سے لبریز ہے، انجیل میں بھی یہی تعلیم متفرق طور پر موجود ہے، جیسے : ”تو خداوند خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر۔“ [ متٰی : 4 : 10 ] بلکہ یہ بھی ہے : ”زمین پر اللہ کے احکام پر عمل ہونا چاہیے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“ [ متیٰ : 6…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 64 اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل یاھل الکتب، حسن، ابن زید اور سدی کے قول کے مطابق یہ خطاب اہل نجران کو ہے اور قتادہ اور ابن جریج وغیرہما کے مطابق خطاب مدینہ کے یہودیوں کو ہے، انہیں اس لئے خطاب کیا گیا کیونکہ انہوں نے اپنے علماء کو ان کی اطاعت وپیروی کرنے میں رب کی طرح بنا رکھا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ خطاب یہود ونصاری تمام کے لئے ہے اور حضور نبی مکرم ﷺ نے ہرقل کی طرف جو گرامی نامہ تحریر فرمایا اس میں ہے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “۔۔۔۔۔۔ من محمد رسول اللہ لی ھرقل عظیمہ تروم سلام علی من اتبع الھدی ’ اما بعد فانی دعوک بدعایۃ الاسلام (اسلم تسلمہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 60–64

(1) ابن ابی شیبہ، مسلم، ابو داؤد، نسائی اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ فجر کی دو رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں لفظ آیت ” قولوا امنا باللہ وما انزل الینا “ اور دوسری رکعت میں ” تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم “ پڑھتے تھے۔ ہرقل روم کے نام دعوت نامہ (2) عبد الرزاق، بخاری، مسلم، نسائی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو ابو سفیان ؓ نے بیان کیا کہ ہرقل (جو روم کا بادشاہ تھا) نے رسول اللہ ﷺ کا خط منگوایا اور اس کو پڑھا اس میں یہ تھا : لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم من محمد رسول اللہ الی ہرقل عظیم الروم سلام علی من اتبع الھدی اما بعد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قُلْ : آپ ‘ؐ کہیے ] [یٰٓـــاَہْلَ الْـکِتٰبِ : اے اہل کتاب ] [تَـعَالَوْا : تم لوگ آئو ] [اِلٰی کَلِمَۃٍ : ایک ایسے کلمے کی طرف جو ] [سَوَآئٍ : یکساں ہے ] [بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ : ہمارے اور تمہارے درمیان ] [اَلاَّ نَعْبُدَ : کہ ہم بندگی نہ کریں ] [اِلاَّ اللّٰہَ : مگر اللہ کی ] [وَلاَ نُشْرِکَ : اور (یہ) کہ ہم شرک نہ کریں ] [بِہٖ : اس کے ساتھ ] [شَیْئًا : ذرا سا بھی ] [وَّلاَ یَتَّخِذَ : اور (یہ) کہ نہ بنائے ] [بَعْضُنَا : ہم میں کا کوئی ] [بَعْضًا : کسی کو ] [اَرْبَابًا : پرورش کرنے والا ] [مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ : اللہ کے سوا ] [فَاِنْ : پھر اگر ] [تَوَلَّوْا : وہ لوگ روگردانی کریں ]…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 64–66

اہل کتاب کو توحید کی دعوت اس آیت میں یہود و نصاریٰ کو توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے نزدیک مسلم ہے ہم بھی مانتے ہیں تم بھی مانتے ہو اور وہ یہ کہ ہم سب صرف اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں۔ یہود و نصاریٰ کو معلوم تھا کہ ہمارے دین کی اصل تعلیم یہی ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ کریں۔ اگرچہ انہوں نے شرک اختیار کرلیا تھا لیکن ان کے دین میں جو صحیح بات تھی وہ ان کو معلوم تھی۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ ان کو توحید کی طرف بلاؤ اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دعوت اہل کتاب بلطف و عنایات۔ قال تعالی، قل یا اھل الکتاب تعالوا۔۔۔ الی۔۔۔ بانامسلمون۔ ربط) ۔ ابتداء سورت سے یہاں تک نصاری نجران سے محاجہ اور مناظرہ کا اور پھر مباہلہ کا بیان تھا محاجہ اور مناظرہ سے نصاری پر دلیل اور برہان کے اعتبار سے حجت قائم کی اور مباہلہ کی دعوت سے ضمیر اور وجدان کے اعتبار سے ان پر حجت قائم کی اور ظاہر ہے کہ مباہلہ انتہائی اور آخری حجت اس کا مقتضی تو یہ تھا کہ اس آخری حجت کے بعد ان سے خطاب ہی چھوڑ دیا جاتا اس لیے خطاب اس سے کیا جاتا ہے جو حق کا طالب ہو اور جو معاند اور مفسد ہے اس سے روگردانی ہی مناسب ہے لیکن باقتضاء رحمت ورافت پھر ان کو مخطاب بناتے ہیں کہ گو تمہاری ہٹ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

89 توحید سے متعلق نصاریٰ کے تمام شبہات کا ازالہ کرنے کے بعد تمام اہل کتاب کو توحید کی دعوت عام دی ہے۔ سواء مصدر بمعنی اسم فاعل ہے اور کلمہ سے بطور مجاز مرسل کلام مراد ہے یعنی اہل کتاب کو ایک ایسی بات کی دعوت دو جو تمہارے اور ان کے درمیان متفق علیہ ہے اور جس میں تورات، انجیل اور قرآن کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ ای لایختلف فیہا التوراۃ والانجیل والقرآن (روح ج 3 ص 193) اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللہَ ۔ فموضع ان خفض علی البدل من کلمۃ (قرطبی ج 4 ص 106) یعنی وہ بات جس کی طرف اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم سب مل کر صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں اور نہ ہی آپس میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات : جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔ سورة بقرہ میں روئے سخن زیادہ تر یہودیوں کی طرف تھا۔ اور اس سورة آل عمران میں زیادہ تر عیسائیوں کے عقائد باطلہ کی تردید ہے۔ اس سورة میں تقریباً 83 آیات نجران کے عیسائیوں کے متعلق نازل ہوئی ہیں جو حضور ﷺ سے بحث مباحثہ کرنے کے لیے مدینہ طیبہ آئے تھے۔ مگر جب آپ نے مباہلہ کا چیلنج پیش کیا ، تو انہوں نے قبول نہ کیا۔ بلکہ جزیہ ادا کرنے پر رضا مند ہو کر صلح کرلی۔ اور واپس چلے گئے۔ اہل کتاب کے ان دونوں گروہوں کے عقائد باطلہ کی بیخ کنی کی گئی ہے۔ اور دلائل کے ساتھ ان کا رد کیا گیا ہے آج کی آیت میں یہود و نصاری دونوں کو مخاطب کرکے عقیدہ توحید کی دعوت دی گئی ہے۔ جو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَۃٍ سَوَاۗءٍؚبَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللہَ وَلَا نُشْرِكَ بِہٖ شَـيْـــًٔـا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝ 0 ۭ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْہَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ۝ 64 تَعالَ قيل : أصله أن يدعی الإنسان إلى مکان مرتفع، ثم جعل للدّعاء إلى كلّ مکان، قال بعضهم : أصله من العلوّ ، وهو ارتفاع المنزلة، فكأنه دعا إلى ما فيه رفعة، کقولک : افعل کذا غير صاغر تشریفا للمقول له . وعلی ذلک قال : فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا[ آل عمران/ 61] ، تَعالَوْا إِلى كَلِمَةٍ [ آل عمران/ 64] ، تَعالَوْا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 64–67

ترکیب : ان لا نعبد جملہ موضع خبر میں ہے بدل ہے کلمۃ سے ھا تنبیہ کے لئے انتم مبتداء ھولاء اس کی خبر حاججتم جملہ مستانفہ جملہ اولی کا مبین فیما ما بمعنی الذی علم مبتدا لکم خبر۔ تفسیر : تقلید آئمہ بروایت و درایت : اہل کتاب کے عقیدہ فاسدہ کا ابطال فرما کر اب ایک دوسرے عنوان سے کلام شروع ہوتا ہے کہ مقابل کو اس کے تسلیم کئے بغیر چارہ ہی نہ ہو۔ وہ یہ کہ اپنے اور اس کے مسلمات سے دلیل لائی جائے اور اگر مقاہل نہ مانے تو اس کو خود کہنا پڑے کہ میں خطاکار ہوں۔ وہ یہ کہ نصاریٰ بھی اس بات کو مانتے تھے کہ عبادت خالص اللہ ہی کی کرنی چاہیے اور اس کا کسی کو شریک نہ کرنا چاہیے۔ توحید پر قائم رہنا چاہیے اور اس کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ یٰٓـاَہْلَ الْـکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍ م بَیْنَنَا وَبَیْنَـکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّااللّٰہَ وَلَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْہَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ۔ (کہہ دیجیے ! اے اہل کتاب ! آئو اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں مشترک ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں اور نہ بنائے کوئی ہم میں سے کسی کو رب اللہ کے سوا، پھر اگر وہ روگردانی کریں اس سے تو کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلم ہیں) (64) اس آیت کریمہ میں خطاب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 62–64

فہم القرآن ربط کلام : توحید حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور تمام انبیاء کی مشترکہ دعوت اور مشن ہے۔ لہٰذا اہل کتاب کو اس کی پھر دعوت دی جارہی ہے۔ سورۃ البقرہ میں یہودیوں کو اور سورة آل عمران میں نصاریٰ کو مفصل خطاب کرنے کے بعداب دونوں کو ایسی بات کی طرف دعوت دی جارہی ہے جو تمام انبیاء کی دعوت کی ابتدا اور انتہا ہوا کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف پیرائے میں اس بات کی وضاحت و صراحت فرمائی ہے کہ ہم نے جتنے انبیاء مبعوث کیے وہ یہی دعوت دیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور ہر قسم کے طاغوت کا انکار کردو۔ الانعام : 88 میں اٹھارہ پیغمبروں کا نام بنام ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر یہ شرک…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

64: قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍ مبَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَلَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْھَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ۔ (کہہ دیں اے اہل کتاب) اہل کتاب سے تورات و انجیل والے ہر دو مراد ہیں یا صرف و فد نجران یا یہود مدینہ۔ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍ سواء مصدر بمعنی اسم فاعل ہے یعنی برابری والا یعنی ایک بات کی طرف آئو جو ہمارے تمہارے درمیان برابری والی ہے) ۔ ارباب کا معنی : بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ (ہمارے اور تمہارے درمیان) جس میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(شان نزول) 64۔ (آیت)” قل یا اھل الکتاب تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم “۔ مفسرین کا قول ہے کہ نجران کا وفد مدینہ منورہ میں آیا تو اس کی ملاقات یہودیوں سے ہوئی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق دونوں فریق کا مناظرہ ہوگیا ، عیسائیوں نے کہا کہ ابراہیم نصرانی تھے اور ہم ان کے دین پر ہیں اور اسی وجہ سے لوگوں سے اولی ہیں اور یہود نے کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے اور ہم ان کے دین پر ہیں ، ان کا ہم سے قریب ترین تعلق ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا ان دونوں جماعتوں کا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے دین سے کوئی سروکار نہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) دین حنیف پر ہیں اور میں ان کے دین پر ہوں ۔ لہذا تم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

یہ آیت انہی نجرانی لوگوں کے مباحثہ کے وقت نازل ہوئی ہے اور اس کے حکم میں سب اہل کتاب شریک ہیں سیدھی بات کی تفسیر وہی ہے جو خود آیت میں ہے کہ ہم تم سب مل کر سوا اللہ کے کسی کی عبادت نہ کریں کیوں کہ یہ ایسی سیدھی بات ہے کہ اول صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک سارے انبیاء اس پر قائم رہے ہیں اس شریعت اعتقاد میں کبھی ایسا اختلاف نہیں پڑا جیسا تم لوگوں نے اہل کتاب ہو کر ڈال رکھا ہے پھر آخر کو فرمادیا کہ بات تو یہ سیدھی ہے اگر اہل کتاب ہو کر یہ لوگ اس کو نہ مانیں تو ان سے کہہ دیا جائے کہ تم ہمارے گواہ رہو کہ ہم تو حکم الٰہی کے تابع ہیں حاصل مطلب یہ ٹھہرا کہ اہل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تعالیٰ نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ آپ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے کہہ دیجئے کہ (تعالوا الٰی کلمتہ سوا بیننا و بینکھ ” ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے “ یعنی ہم اس کی بنیاد پر متحد ہوجائیں، اس سے مراد وہ بات ہے جس پر تمام انبیاء و رسل کا اتفاق ہے، جس کی مخالفت سوائے گمراہ اور ضدی لوگوں کے کسی نے نہیں کی اور وہ بات فریقین میں سے کسی ایک کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ دونوں میں مشترک ہے۔ یہ اختلاف کے موقع پر انصاف والی بات ہے۔ پھر اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا : ترجمہ، کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک بنائیں “۔ اکیلے اللہ کی عبادت کریں۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 62–64

اطاعت نبی دراصل اطاعت الٰہی ہے قول باری ہے (قل یا اھل الکتاب تعالوالی کلمۃ سوآء بیننا وبینکم ان لا نعبد الا اللہ، کہو اے اہل کتاب ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے دہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں) تاآخر آیت قول باری (کلمۃ سوآء) سے مراد ۔ واللہ علم ہمارے اور تمھارے درمیان انصاف کی بات جس میں ہم سب یکساں ہیں کیونکہ ہم سب اللہ کے بندے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفسیر خودہی ان الفاظ میں بیان کی (الانعبدالا اللہ ولانشرک بہ ولایتخذبعضنا بعضا اربابا حن دون اللہ، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں اور اللہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

133 اہل کتاب کو ایک فکر انگیز دعوت : سو اس سے اہل کتاب کو ایک فکر انگیز دعوت دی گئی ہے کہ دونوں فریق کلمہ توحید پر اکٹھے ہوجائیں۔ کہ اس کو ہم بھی مانتے ہیں اور تم بھی اس کے ماننے کے دعویدار ہو، یعنی عقیدہ توحید، جس کی دعوت ہر پیغمبر اور ہر شریعت نے دی۔ اور جو اساس و بنیاد ہے ہر دین سماوی کی۔ اور اس کے ماننے سے تم کو بھی کوئی انکار نہیں ہوسکتا اور نہیں ہونا چاہیئے کہ یہ عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اور ہم پہلے سے ہی اس پر قائم اور اس کے داعی اور مبلغ ہیں۔ سو یہ ہمارے اور تمہارے درمیان تعاون و اشتراک کی ایک بڑی اہم اساس و بنیاد ہے۔ " سواء " کے معنی وسط کے ہیں، " سواء الراس " سر کے بیچ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

اہل کتاب کو دعوت کا طریقہ کار تشریح : اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی کو اپنے ساتھ ملانے کی دعوت دی جائے تو ایسے مسئلہ کی طرف دعوت دی جائے جس پر دونوں کا اتفاق ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ محمد ﷺ نے جب شاہ روم ہرقل کو اسلام کی دعوت دی تو ایسے مسئلہ پر دعوت دی جس پر دونوں فریق کو یقین تھا۔ یعنی اللہ کی واحدانیت پر۔ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرما رہے ہیں : آپ اہل کتاب کو کہہ دیجئے کہ آجاؤ ایسے راستہ کی طرف جو ہم دونوں میں مشترک (ایک ہی) ہے۔ یعنی جس راستہ کی سچائی اور فائدہ کا ہم دونوں قوموں کو یقین ہے اور جس عقیدہ کی تعلیم ہمارے پیغمبر اور تمہارے پیغمبر ہمیشہ دیتے آئے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 64–71

آیات 64- 71 اسرارومعارف قل یا اھل الکتاب…………بانا مسلمون۔ آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب ! آئو ، ایک ایسی بات پر متفق ہوجائیں جو ہمارے تمہارے درمیان مسلم ہے اور وہ یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ، نہ عبادت میں کسی کو اس کا شریک بنائیں۔ خواہ بت ہو یا شیطان ، فرشتہ ہو یا انسان۔ اور نہ کسی کو واجب الوجود ہونے میں اس کا شریک ٹھہرائیں۔ یعنی توحید کی دعوت تو ہر نبی نے دی ہے ہر کتاب میں موجود ہے تورات ہو یا انجیل۔ موسیٰ (علیہ السلام) ہوں یا عیسیٰ (علیہ السلام) ، ذات وصفات باری میں اس کی وحدانیت کا اقرار اور عبادات کا واحد مستحق صرف اللہ کا ہونا ، تمام شریکوں سے پاک اور بالاتر صرف اسی کی ذات کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی اہل کتاب کو اس مشترکہ عقیدہ کی طرف دعوت دو ۔ ، چناچہ آنحضرت ﷺ نے جب ہرقل (شاہ روم) کو خط لکھا تو یہی آیت لکھ کر اس کے سامنے دعوت اسلام پیش کی جیسا کہ صحیح بخاری میں مذکور ہے۔ اور مدینہ کے یہود کے سامنے بی اسی کلمہ سوائ کی دعوت پیش کی اور آپس میں ایک دوسرے کو رب بنانے کے مفہوم میں سجدہ کرنا بھی شامل ہے۔ ، اور یہ بھی کہ کسی کے قول کو بلاد لیل اسی طرح مان لینا کہ جس چیز کو حلال کہے اسے حلال سمجھا جائے اور جس چیز کو حرام کہے اسے حرام خیال کیا جائے اور کتاب وسنت سے صرف نظر کرلی جائے۔ مزید دیکھئے۔ التو بہ آیت :31 ۔ (شوکانی۔ وحیدی بتصرف) حاٖفظ ابن کثیر (رح) نے اس آیت پر ایک اشکال پیش کیا ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 64–65

(3:64) کلمۃ سے یہاں مراد جملہ الا نعبد ۔۔ من دون اللہ ہے جو آیۃ شریفہ میں آگے چل کر مذکور ہے۔ سواء بیننا۔ اسم مصدر ہے۔ برابر۔ استواء یعنی دونوں طرف سے برابر ہونا۔ نہ اس کا تثنیہ بنایا جاتا ہے نہ جمع۔ س پر اگر ھ ہو تو قصر ہوگا جیسے سوی (ولا انت مکانا سوی) اور اگر س پر ( َ ) ہوگا تو مدّ کے ساتھ آئے گا۔ جیسا کہ آیت ہذا میں۔ سواء بمعنی وسط کے بھی آیا ہے جیسے فی سواء الجحیم (37:55) دوزخ کے بیچوں بیچ۔ بمعنی تمام کے بھی آتا ہے جیسے فی اربعۃ ایام سواء للسائلین (41:10) چار دن میں سائلین کی ضرورت کے مطابق پوری پوری۔ کلمۃ سواء بیننا وبینکم۔ وہ بات جو ہمارے تمہارے درمیان برابر ہے یعنی الا نعبد ۔۔ من دون…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

لغات القرآن آیت نمبر 64 کلمة (بات) سواء (یکساں، برابر) بیننا (ہمارے درمیان) الانعبد (یہ کہ ہم بندگی نہیں کریں گے) لانشرک (ہم شریک نہ کریں گے) شیء (کچھ بھی) لایتخذ (نہیں بنائے گا) اربابا (معبود (رب کی جمع ہے) اشھدوا (تم گواہ رہو) مسلمون (فرماں بردار) ۔ تشریح : آیت نمبر 64 یہود اور نصاریٰ دونوں توحید خالص پر چلنے کے مدعی تھے۔ وہ یہی کہتے تھے کہ ہم تو اللہ کو ایک ہی مانتے ہیں لیکن زبانی دعوے کے باوجود وہ طرح طرح کے شرک میں مبتلا تھے۔ یہود ونصاریٰ جن کو تمام دلیلوں سے دین کی سچائی بتادی گئی تھی اور ان کے باطل عقائد کو کھول کر بیان کردیا گیا تھا اب نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے کہلوایا جارہا ہے۔ کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس کا مطلب ہے کہ نبی آخر الزماں جس مسئلہ توحید کی تم لوگوں کو ہدایت کرتے ہٰں وہی مسئلہ سب شریعتوں میں ہے اور جو اس پر عمل کرے وہی حکم الہٰی کا تابع ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 61–69

[28] اسی کا نام شریعت کی اصطلاح میں مباہلہ ہے۔ مباہلہ میں ہر فریق اپنے کو اللہ کے سپرد کرتا ہے اور گڑگڑا کر دعا مانگنے کے بعد اس کے فیصلہ کا منتظر رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 62–64

دعوت اتحاد : (ف 1) قرآن حکیم دنیا سے تفریق واختلاف کو مٹانے آیا ہے وہ چاہتا ہے کہ ساری دنیا کو ایک مرکز پر لا کھڑا کرے اور جتنے فتنے تشدد وافتراق کی وجہ سے بپا ہیں یکسر محو ہوجائیں اور اگر یہ نہ ہو سکے تو بھی تعصبات ختم ہوجائیں مہمات مسائل پر اتفاق ہوجائے اور کم از کم چند چیزیں ایسی مسلمانہ میں سے ہوں جس پر دنیا کے تمام انسان متفق ہوں ، کتنا سچا اور مقدس مسلک ہے ، اس آیت میں اسی دعوت اتحاد کی تشریح ہے ، اہل کتاب کے ہر دو فرقوں کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ آؤ ہم دونوں مسلمات پر اتفاق کریں اور وہ یہ ہیں کہ ایک اللہ کی پرستش کریں ، کسی دوسرے کو عبادت اور پرستش کے قابل نہ سمجھیں اور اپنے جیسے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3۔ اے پیغمبر آپ اہل کتاب سے کہئے کہ اے اہل کتاب ! ایک ایسی بات کی طرف آئو جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں طور پر مسلم اور مشترک ہے وہ یہ کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے ہم کسی کی عبادت نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو رب نہ ٹھہرائے اور کوئی کسی کو رب نہ قرار دے ، پھر اگر وہ اہل کتاب اس توحید اور ترک شرک کی دعوت کو بھی قبول نہ کریں تو اے مسلمانو ! تم ان سے کہہ دو کہ تم لوگ اس بات کے گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں اور ہم اس بات کو مانتے ہیں تم نہیں مانتے تو تم جانو۔ ( تیسیر) مطلب یہ ہے کہ یہ تین باتیں ایسی ہیں جو اصولاً ہر پیغمبر کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 62–71

ف 1۔ دونوں جو تشہدون اور تعلمون فرمایا، تو اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ عدم اقرار یا عدم علم کی حالت میں کفر جائز ہے، قبیح ذاتی تو کسی حال میں جائز ہو ہی نہیں سکتا، بلکہ وجہ یہ ہے کہ اقرار اور علم کے وقت کفر اور زیادہ قابل ملامت ہے۔ اوپر مذکور تھا کہ بعض اہل کتاب مسلمانوں کے اضلال کی فکر میں رہتے ہیں۔ آگے ان کی ایک تدبیر کا بیان فرماتے ہیں جس کو اضلال مومنین کے لئے انہوں نے تجویز کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اختلافی باتوں کو چھوڑ کر فریقین کے درمیان مسلم باتوں کی دعوت جاری رکھنے کا حکم : 139: رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ اہل کتاب سے فرما دیں کہ اے نصاریٰ کی جماعت ! تم سب اس بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشتگرک ہے اور تم کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ یہی ہے کہ ہم سب سوائے اللہ کے اور کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرائیں ، نہ فرزند کہہ کر ، نہ اقنوم ٹھہرا کر ، نہ مظہر یا اوتار بنا کر اور نہ کسی اور حیثیت سے۔ ہم میں سے کوئی بھی انسان دوسرے انسان کے ساتھ ایسا معاملہ نہ کرے کہ اللہ کو چھوڑ کر اس کو اپنا رب بنا لے۔ رسول اللہ ﷺ کے معاصر جو مسیح تھے وہ کیتھولک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary: Important Principles of Tabligh and Da'wah: This verse: تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ unfolds an important principle of Tabligh تبلیغ (Preaching) and Da'wah دعوہ (Preaching Islam). The principle requires that a person, who desires to carry his call to a group which holds beliefs and ideas different from his own, should follow a particular method. That method is to induce that group to unite only on what they both can agree to, for instance, when the Holy Prophet ﷺ gave the Byzantine ruler, Hiraql (Heraclius) the call to Islam, he picked up a particular…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–64

56. This marks the beginning of the third discourse of this surah. Its contents invite the conclusion that the surah was revealed sometime between the battles of Badr and Uhud. The subjects of these three discourses are so closely interrelated that some commentators have wrongly understood the verses which follow to be part of the foregoing discourse. From the whole tenor of the discourse which now begins, however, it is evident that it is addressed to the Jews. 57. The invitation here is for the two parties to agree on something believed in by one of them, the Muslims, and the soundness of…

Read the full tafseer →