Aal-i-Imraan 3:62

Aal-i-Imraan · from ayah 62

3:62

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ ۚ— وَمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ؕ— وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ۟اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الۡقَصَصُ الۡحَـقُّ ‌‌ۚ وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ‌ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ

یہ تمام بیانات صحیح ہیں اور خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک خدا غالب اور صاحبِ حکمت ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, this is the true narration. And there is no deity except Allah. And indeed, Allah is the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 6 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:62

یہ بالکل صحیح واقعات ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی خداوند نہیں ہے، اور وہ اللہ ہی کی ہستی ہے جس کی طاقت سب سے بالا اور جس کی حکمت نظام عالم میں کار فرما ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ تمام بیانات صحیح ہیں اور خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک خدا غالب اور صاحبِ حکمت ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً صرف یہی سچا بیان ہے اور کوئی معبود برحق نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے اور بے شک غالب اور حکمت واﻻ اللہ تعالیٰ ہی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقین جانو کہ واقعات کا سچا بیان یہی ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور یقینا اللہ ہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہی بیشک سچا بیان ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک اللہ ہی غالب ہے حکمت والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک یہی سچا بیان ہے، اور کوئی بھی اﷲ کے سوا لائقِ عبادت نہیں، اور بیشک اﷲ ہی تو بڑا غالب حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ یہ، یقینا یہی سچا بیان ہے اور اللہ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں اور بلاشبہ اللہ، یقینا وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ بالکل سچے واقعات ہیں اور (حقیقت یہی ہے کہ) اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور اللہ ہی بالادست اور حکمت والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک یہی سچا بیان ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ ہی عزیز اور حکیم ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک یہی ہے قطعی طور پر حق (اور سچا) بیان، اور یہ کہ کوئی معبود (برحق) نہیں سوائے اللہ (وحدہ لاشریک) کے، اور بیشک اللہ ہی ہے جو سب پر غالب نہایت حکمت والا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک یہی ہے سچا واقعہ کوئی معبود نہیں ہے بجز اللہ کے اور بیشک اللہ ہی زبردست ہے حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً یہی بالکل صحیح سرگزشت ہے اور نہیں ہے کوئی معبود اللہ کے سوا اور یقیناً اللہ تعالیٰ ہی زبردست اور کمال حکمت والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ بالکل صحیح واقعات ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہ اللہ ہی کی ہستی ہے۔ جس کی طاقت سب سے بالا اور جس کی حکمت نظام عالم میں کارفرما ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

This is the true story. There is no God but Allah, and assuredly Allah is All-Mighty, All-Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is, indeed, the true narration. There exists no god but Allah. Allah is surely the Almighty, the All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

This is, indeed, the true narration. There exists no god but Allah. Allah is surely the Almighty, the All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, this is the true narrative, and there is no god except Allah. And indeed, Allah is the Almighty, the All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! This verily is the true narrative. There is no Allah save Allah, and lo! Allah, He verily is, is the Mighty, the Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, this is the true narration. And there is no deity except Allah. And indeed, Allah is the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

This is the true story (of Jesus). There is no Lord but God. It is God who is Majestic and All-wise.

— Muhammad Sarwar

Most surely this is the true explanation, and there is no god but Allah; and most surely Allah-- He is the Mighty, the Wise.

— Muhammad Habib Shakir

Verily this! it is the true recital; and God there is none save Allah, and verily Allah! He is the Mighty, the Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

This is the true account: There is no god except Allah; and Allah-He is indeed the Exalted in Power, the Wise.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:62

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 59–63

اختیارات کی وضاحت اور نجرانی وفد کی روداد حضرت باری جل اسمہ وعلا قدرہ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کردیا تو کیا کون سی حیرانی بات ہے ؟ میں نے حضرت آدم کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا بھی باپ نہ تھا بلکہ ماں بھی نہ تھی، مٹی سے پتلا بنایا اور کہہ دیا آدم ہوجا اسی وقت ہوگیا، پھر میرے لئے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہوسکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کردیا، پس اگر صرف باپ نہ ہونے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ کو تو سب سے پہلے اس مرتبہ سے ہٹا دینا چاہئے، کیونکہ ان کے دعوے کا جھوٹا ہونا اور خرابی اس سے بھی زیادہ یہاں ظاہر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 62–64

سورة اٰلِ عِمْرٰن 56 یہاں سے ایک تیسری تقریر شروع ہوتی ہے جس کے مضمون پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ بدر اور جنگ احد کے درمیانی دور کی ہے۔ لیکن ان تینوں تقریروں کے درمیان مطالب کی ایسی قریبی مناسبت پائی جاتی ہے کہ شروع سورت سے لے کر یہاں تک کسی جگہ ربط کلام ٹوٹتا نظر نہیں آتا۔ اسی بنا پر بعض مفسرین کو شبہہ ہوا ہے کہ یہ بعد کی آیات بھی وفد نجران والی تقریر ہی کے سلسلہ کی ہیں۔ مگر یہاں سے جو تقریر شروع ہو رہی ہے اس کا اندازہ صاف بتارہا ہے کہ اس کے مخاطب یہودی ہیں۔ سورة اٰلِ عِمْرٰن 57 یعنی ایک ایسے عقیدے پر ہم سے اتفاق کرلو جس پر ہم بھی ایمان لائے ہیں اور جس کے صحیح ہونے سے تم بھی انکار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–63

مباہلہ کی تعریف (فقل تعالوا ندع الخ) اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے آنحضور ﷺ کو مباہلہ کرنے کا حکم دیا ہے، جس کی تعریف یہ ہے کہ اگر کسی امر کے حق و باطل میں فریقین میں نزاع ہوجائے اور دلائل سے نزاع ختم نہ ہو تو پھر ان کو یہ طریقہ اختیار کرنا چاہئے کہ سب ملکر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ جو اس امر میں باطل پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وبال اور ہلاکت پڑے، کیونکہ لعنت کے معنی رحمت حق سے بعید ہوجانا ہے، اور رحمت سے بعید ہونا قہر سے قریب ہونا ہے، پس حاصل معنی اس کے یہ ہوئے کہ جھوٹے پر قہر نازل ہو، سو جو شخص جھوٹا ہوگا وہ اس کا خمیازہ بھگتے گا، اس وقت پوری تعیین صادق و کاذب کی منکرین کے نزدیک بھی واضح…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی حضرت عیسیٰ کی اصل حقیقت یہ ہے جو بیان ہوئی۔ ان کا جو درجہ و مرتبہ بھی ہے۔ خدا کے ایک بندے اور اس کے نبی ور سول کی حیثیت سے ہے۔ خدا کی خدائی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ معبود تو صرف اللہ تعالیٰ ہے اور وہ عزیز اور حکیم ہے۔ عزیز، یعنی سب پر غالب اور سب سے بالا تر، حکیم، یعنی اس کا ہر کام حکمت اور مصلحت پر مبنی ہوتا ہے، یہ دونوں صفتیں شرک کی کامل نفی کرتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 62–64

64۔ 1 کسی بت نہ صلیب کو نہ آگ اور نہ کسی چیز کو بلکہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں جیسا کہ تمام انبیاء کی دعوت رہی ہے۔ 64۔ 2 یہ ایک تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تم نے حضرت مسیح اور حضرت عزیر ؑ کی ربوبیت (رب ہونے) کا جو عقیدہ کھڑا کر رکھا ہے یہ غلط ہے وہ رب نہیں ہیں انسان ہیں دوسرا اس بات کی طرف اشارہ ہے تم نے اپنے احبارو رہبان کو حلال یا حرام کرنے کا جو اختیار دے رکھا ہے یہ بھی ان کو رب بنانا ہے حلال اور حرام کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے (ابن کثیر و فتح القدیر) 64۔ 3 صحیح بخاری میں ہے کہ قرآن کریم کے اس حکم کے مطابق آپ ﷺ نے ہرقل شاہ روم کو مکتوب تحریر فرمایا اور اس میں اسے اس آیت کے حوالے سے قبول…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–66

26: یہودی کہا کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم ؑ یہودی تھے اور عیسائی کہتے تھے کہ وہ عیسائی تھے، اول تو قرآن کریم نے فرمایا کہ یہ دونوں مذہب تورات اور انجیل کے نزول کے بعد وجود میں آئے، جبکہ حضرت ابرہیم ؑ بہت پہلے گزر چکے تھے، لہذا یہ انتہائی احمقانہ بات ہے کہ انہیں یہودی یا عیسائی کہا جائے، اس کے بعد قرآن کریم نے فرمایا کہ جب تمہارے وہ دلائل جو کسی نہ کسی صحیح حقیقت پر مبنی تھے، تمہارے دعوؤں کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں، تو حضرت ابراہیم ؑ کے بارے میں یہ بےبنیاد اور جاہلانہ بات کیسے تمہارے دعوے کو ثابت کرسکتی ہے، مثلاً تمہیں یہ معلوم تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اور اس کی بنیاد پر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 62–63

ان آیات میں جن حقائق کا بیان ہوا اس سے قبل ان کا بیان ہوگیا ہے۔ یہاں دعوت مباہلہ اور وفد کی جانب سے اس کے انکار کے بعد بطور تاکید دوبارہ ذکر کیا جاتا ہے ۔ اس آیت میں البتہ نئی بات یہ ہے کہ جو اس سچائی کو قبول نہیں کرتے وہ درحقیقت مفسد ہیں اور خبردار کیا جاتا ہے کہ تم اللہ سے پوشیدہ نہیں ہو ‘ وہ انداز قد سے پہچانتا ہے۔ اور وہ فساد جو منکرین توحید ‘ توحید کا انکار کرکے پھیلاتے تھے وہ اللہ کے نزدیک ایک عظیم فساد تھا ۔ اور دنیا میں جس قدر فسادات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں وہ سب کے سب عقیدہ توحید سے انحراف کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور عقیدہ توحید کا اعتراف بھی محض زبانی اعتراف کافی نہیں ہے۔ اس لئے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 دعوت مباہلہ کے ساتھ بتلا دیا کہ مباہلہ اس پر کیا جاتا تھا کہ جو کچھ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے متعلق قرآن میں بیان ہوا وہ ہی سچا بیان ہے اور خدا کی بارگاہ ہر قسم کے شرک اور باپ بیٹے وغیرہ کے تعلقات سے پاک ہے۔ 5 اپنی زبردست قدرت و حکمت سے جھوٹے اور سچے کے ساتھ وہ ہی معاملہ کرے گا جو اس کے حسب حال ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 61–62

آیت 61 فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْم بَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ آپ ﷺ کے پاس تو العلمآ چکا ہے ‘ آپ ﷺ جو بات کہہ رہے ہیں علیٰ وجہ البصیرۃ کہہ رہے ہیں۔ اس ساری وضاحت کے بعد بھی اگر نصاریٰ آپ ﷺ سے حجت بازی کر رہے اور بحث و مناظرہ سے کنارہ کش ہونے کو تیار نہیں ہیں تو ان کو آخری چیلنج دے دیجیے کہ یہ آپ ﷺ کے ساتھ مباہلہکر لیں۔ نجران سے نصاریٰ کا جو 70 افراد پر مشتمل وفد ابوحارثہ اور ابن علقمہ جیسے بڑے بڑے پادریوں کی سرکردگی میں مدینہ آیا تھا ‘ اس سے دعوت و تبلیغ اور تذکیر و تفہیم کا معاملہ کئی دن تک چلتا رہا اور پھر آخر میں رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا کہ اگر یہ اس قدر سمجھانے پر بھی قائل نہیں ہوتے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 61–62

56 اس آیت میں مباہلہ کا طریق کار بیان کیا گیا ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی اور آپ نے انہیں سنائی تو وہ کہنے لگے کہ ہمیں کچھ سوچنے اور مشورہ کرنے کی مہلت دی جائے۔ پھر جب ان کی مجلس مشاورت قائم ہوئی تو ایک ہوشمند بوڑھے نے کہا : اے گروہ نصاریٰ ! تمہیں معلوم ہے کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں سے ایک نبی بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ ممکن ہے یہ وہی نبی ہو۔ جو باتیں اس نے کہی ہیں وہ صاف اور فیصلہ کن ہیں۔ اگر یہ فی الواقع وہ نبی ہوا اور تم لوگوں نے مباہلہ کیا تو تمہاری کیا تمہاری نسلوں کی بھی خیر نہ ہوگی۔ بہتر یہی کہ ہم ان سے صلح کرلیں۔ اپنے وطن کو لوٹ جائیں۔ چناچہ دوسرے دن جاکر انہوں نے آپ کو اپنے فیصلہ سے مطلع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

149 ۔ (آیت) ” ان ھذا القصص الحق “۔ یعنی یہ سارا سلسلہ واقعات جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح اور مادر مسیح (علیہما السلام) دونوں بشر محض تھے۔ ای المذکور فی شان عیسیٰ (علیہ السلام) قالہ ابن عباس (روح) ای ماقص من نباء عیسیٰ ومریم (بیضاوی) تکرار و اعادہ تاکید کے لیے ہے۔ الضمیر للقصر والتاکید (روح) (آیت) ” مامن الہ الا اللہ “۔ کوئی بھی شریک الوہیت نہیں۔ نہ بہ لحاظ ذات اور نہ بہ لحاظ صفات اوراقنوم وغیرہ کے قصہ سب خرافات ہیں۔ من زائدہ تاکید کلام کے لیے ہے۔ من زائدۃ للتاکید (قرطبی) فی افادۃ معنی الاستغراق (آیت) ” العزیز “۔ ہر ارادہ پر غالب۔ قادر مطلق۔ یہ صفت بجز باری تعالیٰ کے مسیح (علیہ السلام) وغیرہ کس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

اِنَّ ھَذَا لَھُوَ الْقَصُصُ الْحَقُّ (الآیۃ) یعنی سارا سلسلہ واقعات جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح اور مادر مسیح دونوں بشر محض تھے، کوئی بھی شریک الوہیت نہیں۔ نہ بلحاظ ذات اور نہ بلحاظ صفات اور قنوم وغیرہ کے قصے تو سب واہیات ہیں، مِنْ تاکید کلام کیلئے زائدہ ہے۔ اَلْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ، ہر ارادہ پر غالب، قادر مطلق، اس صفت میں مسیح وغیرہ کوئی بھی باری تعالیٰ کا شریک نہیں۔ حکیم مطلق ہے اس صفت میں بھی اس کا کوئی شیک نہیں۔ اپنے اسی علم کامل محیط کے ذریعہ ہر ایک کو سزا دینے والا ہے۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا یعنی اتمی توضیحات کے بعد بھی اگر اپنی سرتابی جاری رکھیں اور دین و اعتقاد میں فساد برپا کرتے رہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اِنَّ ھٰذَا لَھُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ ۚ : یعنی عیسیٰ و مریم ( علیہ السلام) کا جو واقعہ بیان کیا گیا یہی سچا بیان ہے۔ ھُو ضمیر فعل ہے یا مبتدا ہے اور القصص اس کی خبر ہے اور پورا جملہ اِنّ کی خبر ہے۔ ضمیر فصل پر لام تاکید کا آنا صحیح ہے کیونکہ اصل میں تو یہ لام مبتدا پر آتا ہے اسی لیے اس کو لام ابتداء کہتے ہیں مگر خبر پر بھی آجاتا ہے مگر جب مبتدا اور خبر کے درمیان ضمیر فصل ہو تو چونکہ ضمیر مبتدا کے قریب ہوتی ہے (اور خبر اس کے بعد آتی ہے) اس لیے اس پر لام آجاتا ہے۔ وَمَا مِنْ اِلٰهٍ : اور کوئی الٰہ نہیں ہے۔ استغراق نفی کی تاکید کے لیے مِنْ کو زیادہ کیا گیا ہے۔ یہ عیسائیوں کے عقیدۂ تثلیث کا ردّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 62–63

(62۔ 63) اے محمد ﷺ جو کچھ آپ کے سامنے حضرت عیسیٰ ؑ اور وفد نجران کے بارے میں بیان کیا گیا ہے، وہ ہی سچی بات ہے کہ حضرت عیسیٰ نہ خدا ہیں اور نہ خدا کے بیٹے اور نہ اس کے شریک ہیں اور وحدہ لاشریک کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور جو ایمان نہ لائے اس پر اللہ تعالیٰ غلبہ والے ہیں حکمت والے ہیں کہ اس کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کی جائے اور حکیم کے یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ان پر لعنت پختہ ہوگئی، اس لیے انہوں نے اس ہدایت سے انحراف کیا اور رسول اکرم ﷺ کے ساتھ مباہلہ کے لیے نہیں آئے کیوں کہ یہ جانتے تھے کہ ہم جھوٹے ہیں اور حضور ﷺ سچے ہیں اور آپ کے اوصاف اور تعریف خود ان کی کتابوں میں موجود ہیں، پھر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 61–63

فَمَنْ حَاۗجَّكَ فِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ : سورت کے شروع سے لے کر یہاں تک اللہ تعالیٰ کی توحید، مسیح ؑ کی ولادت کا بیان اور ان کا اللہ یا اللہ کا بیٹا نہ ہونا زبردست علمی دلائل کے ساتھ بیان ہوا۔ اب حکم ہوا کہ جو شخص اتنے واضح دلائل کے بعد بھی نہ مانے تو وہ عناد پر آمادہ ہے، اس سے بحث کا کوئی فائدہ نہیں، پھر انھیں مباہلہ کی دعوت دو۔ مباہلہ کی صورت یہ بیان فرمائی کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو بلا لیں اور اپنی عورتوں اور تمہاری عورتوں کو بھی اور اپنے آپ کو اور تمہیں بھی، پھر گڑ گڑا کر دعا کریں، پس جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔ ”بَھَلَ یَبْھَلُ (ف)“ کا معنی لعنت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 62–63

آیت نمبر : 62 تا 63۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان ھذا لھو القصص الحق “۔ قول باری تعالیٰ (آیت) ” ان ھذا “ میں ارشاہ قرآن اور اس میں موجود قصص کی طرف ہے، انہیں قصص کا نام دیا گیا ہے کیونکہ ان میں معانی تسلسل کے ساتھ ہوتے ہیں اور یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے : فلان یقص اثر فلان یعنی فلاں فلاں کی اتباع میں آرہا ہے۔ (آیت) ” وما من الہ الا اللہ “۔ اس میں من زائدہ تاکید کے لئے ہے اور معنی ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الہ (معبود) نہیں۔ (وما الہ الا اللہ) (آیت) العزیز “ یعنی وہ مغلوب نہیں ہوتا، ” الحکیم “ اس کا معنی ہے صاحب حکمت اس کی مثال پہلے گزر چکی ہے۔ والحمد للہ۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 60–64

(1) ابن ابی شیبہ، مسلم، ابو داؤد، نسائی اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ فجر کی دو رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں لفظ آیت ” قولوا امنا باللہ وما انزل الینا “ اور دوسری رکعت میں ” تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم “ پڑھتے تھے۔ ہرقل روم کے نام دعوت نامہ (2) عبد الرزاق، بخاری، مسلم، نسائی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو ابو سفیان ؓ نے بیان کیا کہ ہرقل (جو روم کا بادشاہ تھا) نے رسول اللہ ﷺ کا خط منگوایا اور اس کو پڑھا اس میں یہ تھا : لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم من محمد رسول اللہ الی ہرقل عظیم الروم سلام علی من اتبع الھدی اما بعد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِنَّ ہٰذَا : بیشک یہ ] [لَہُوَ : لازماً یہی ] [الْقَصَصُ الْحَقُّ : سچا قصہ ہے ] [وَمَا : اور نہیں ہے ] [مِنْ اِلٰہٍ : کسی قسم کا کوئی الٰہ ] [اِلاَّ اللّٰہُ : سوائے اللہ کے ] [وَاِنَّ اللّٰہَ : اور یقینا اللہ ] [لَہُوَ : لازماً وہی ] [الْعَزِیْزُ : بالادست ہے ] [الْحَکِیْمُ ] [حکمت والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 61–62

نصاریٰ کو دعوت مباہلہ : اللہ جل شانہٗ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا : (فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ ) (الآیۃ) اس میں دعوت مباہلہ کا ذکر ہے۔ مفسر ابن کثیر نے صفحہ 438: ج 1 میں محمد بن اسحاق بن یسار سے نقل کیا ہے کہ نجران کے نصاریٰ کا ایک وفد جو ساٹھ آدمیوں پر مشتمل تھا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ان میں چودہ اشخاص ان کے اشراف میں سے تھے جن کی طرف ہر معاملہ میں رجوع کیا جاتا تھا ان میں سے ایک شخص کو سید کہتے تھے جس کا نام ایھم تھا اور ایک شخص ابو حارثہ تھا اور بھی لوگ تھے ان میں عاقب ان کا امیر تھا اور صاحب رائے سمجھا جاتا تھا اسی سے مشورہ لیتے تھے اور اس کی ہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 59–63

نصاری کے ایک استدلال یا شبہ کا جواب۔ ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل۔۔۔ الی۔۔ الممترین۔ اس آیت میں اللہ جل شانہ نے نصارائے نجران کے ایک شبہ کا جواب دیا ہے جس کو وہ حضرت عیسیٰ کے ابنیت کے لیے بطور استدلال ذکر کرتے تھے وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے معلوم ہوا کہ وہ خدا اور خدا کے بیٹے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی کہ عیسیٰ کا بغیر باپ کے پیدا ہونا کچھ تعجب انگیز نہیں ہم نے آدم کو اپنی قدرت سے بغیر ماں اور باپ کے مٹی سے پیدا کیا حضرت عیسیٰ اگرچہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے لیکن اپنی جنس کے ایک رد سے تو پیدا ہوئے مگر آدم تو بالکل ہی غیر جنس سے پیدا ہوئے پس اگر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

86 ہذا کا اشارہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مذکورہ تفصیلات کی طرف ہے ای المذکور فی شان عیسیٰ (علیہ السلام) قالہ ابن عباس (روح ج 3 ص 190) یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں تمام مذکورہ تفصیلات ہی صحیح اور درست ہیں اور نصاری کا الوہیت اور بنیت مسیح کا دعویٰ سراسر بطال ہے۔ ان ھذا ھو الحق لا مایدعیہ النصاری من کون المسیح (علیہ السلام) الہا وابن اللہ سبحانہ وتعالیٰ عما یقولہ الظالمون علوا کبیرا (روح ج 3 ص 190) ۔ 87 یہ تمام گذشتہ بحث کا نتیجہ اور ماحصل ہے جب دلائل واضحہ سے ثابت ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا محض اللہ کی قدرت کاملہ سے تھا اس سے ان کا الہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–63

گذشتہ دروس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ وہ نہ تو خدا کے بیٹے ہیں اور نہ خود خدا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فضیلت عطا فرمائی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بات ایک واضح مثال کے ذریعے سمجھائی۔ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ناممکنات میں سے نہیں ہے۔ آپ کی مثال حضرت آدم (علیہ السلام) کی مثال جیسی ہے۔ جسے اللہ نے بغیر ماں اور باپ کے پیدا فرمایا۔ اگر آدم (علیہ السلام) الوہیت کے درجے کو نہیں پہنچے ، تو عیسیٰ (علیہ السلام) الہ کیسے بن گئے۔ نجران کے عیسائی وفد کا تذکرہ ابتدائے سورة ہی سے ہورہا ہے۔ جب حضور ﷺ کے ساتھ عیسائیوں کی بحث نے طول…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ ھٰذَا لَھُوَالْقَصَصُ الْحَقُّ۝ 0ۚ وَمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اللہُ۝ 0 ۭ وَاِنَّ اللہَ لَھُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ 62 قصص الْقَصُّ : تتبّع الأثر، يقال : قَصَصْتُ أثره، والْقَصَصُ : الأثر . قال تعالی: فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] ، وَقالَتْ لِأُخْتِهِقُصِّيهِ [ القصص/ 11] ( ق ص ص ) القص کے معنی نشان قد م پر چلنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ۔ قصصت اثرہ یعنی میں اس کے نقش قدم پر چلا اور قصص کے معنی نشان کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] تو وہ اپنے اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے ۔ وَقالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ [ القصص/ 11] اور اسکی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 59–63

1 ؎ یہاں بھی نیچری مصنف نے بہت ہاتھ پائوں مار کر مسیح کا یوسف نجار سے پیدا ہونا ثابت کرنا چاہا تھا مگر نہ ہوسکا۔ ترکیب : مثل عیسیٰ ای صفۃ عیسیٰ اسم ان کمثل آدم خبر ‘ خلقہ جملہ تفسیر ہے مثل کی۔ فیہ کی ضمیر عیسیٰ یا ان کے قصہ کی طرف راجع ہے من شرطیہ ہے ماضی بمعنی مستقبل۔ تفسیر : قصہّ مباہلہ : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرما کر عیسیٰ پرست قوم کی طرف یعنی نصاریٰ کی طرف (جو ان کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اس لئے کہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے) روئے سخن کیا جاتا ہے اور ان کے عقیدہ کا ابطال فرما کر ان کو مباہلہ کے لئے بلایا جاتا ہے کہ خدا کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کا ویسا ہی حال یعنی پیدا کرنا ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 62–63

اِنَّ ھٰذَا لَہُوَالْقَصَصُ الْحَقُّ ج وَمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّااللّٰہُ ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَہُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِالْمُفْسِدِیْنَ ۔ ع (بیشک یہی ہے سچا واقعہ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، بیشک اللہ ہی غالب اور حکمت والا ہے۔ پھر وہ اگر اعراض کریں تو اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو خوب جانتا ہے) (62 تا 63) دلائل سے حقائق کو ثابت کردیا گیا۔ مباہلہ سے عیسائیت کے غلط ہونے اور اسلام کے سچا ہونے پر مہر تصدیق ثبت کردی گئی اور توحید کا عقیدہ نکھر کر سامنے آگیا۔ ہر طرح سے یہ بات واضح ہوگئی کہ معبودِ برحق صرف اللہ کی ذات ہے۔ عیسائیوں یا دوسرے لوگوں نے جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 62–64

فہم القرآن ربط کلام : توحید حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور تمام انبیاء کی مشترکہ دعوت اور مشن ہے۔ لہٰذا اہل کتاب کو اس کی پھر دعوت دی جارہی ہے۔ سورۃ البقرہ میں یہودیوں کو اور سورة آل عمران میں نصاریٰ کو مفصل خطاب کرنے کے بعداب دونوں کو ایسی بات کی طرف دعوت دی جارہی ہے جو تمام انبیاء کی دعوت کی ابتدا اور انتہا ہوا کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف پیرائے میں اس بات کی وضاحت و صراحت فرمائی ہے کہ ہم نے جتنے انبیاء مبعوث کیے وہ یہی دعوت دیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور ہر قسم کے طاغوت کا انکار کردو۔ الانعام : 88 میں اٹھارہ پیغمبروں کا نام بنام ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر یہ شرک…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

62: اِنَّ ھٰذَا لَھُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ وَ مَامِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ وَاِنَّ اللّٰہَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ اِنَّ ھٰذَا (بیشک یہ واقعہ عیسیٰ ( علیہ السلام) جو آپ کو بیان کیا گیا۔ لَھُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ (البتہ سچا واقعہ ہے) نحو : ہُوَ ، اِنَّ کے اسم و خبر کے درمیان ضمیر فصل ہے۔ یا ھو مبتداء اور القصص الحق خبر ہے اور جملہ ان کی خبر ہے۔ ضمیر فصل پر لام کا داخلہ درست ہے کیونکہ یہ لام خبر پر جب داخل ہوسکتی ہے تو ضمیر فاصل پر بدرجہ اولیٰ جائز ہے۔ کیونکہ وہ ضمیر مبتداء سے خبر کی بنسبت قریب تر ہے اور اصل قاعدہ تو یہ ہے کہ یہ لام مبتداء پر داخل ہو۔ وَمَامِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 62۔: (آیت)” ان ھذا لھو القصص الحق “۔ یہ خبر حق ہے (آیت)” وما من الہ الا اللہ “۔ من صلۃ ہے تقدیری عبارت یہ ہوگی ” وما الہ الا اللہ “ ۔ کہ کوئی بھی شیء الہ نہیں سوائے اللہ کے ۔ (آیت)” وان اللہ لھو العزیز الحکیم “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 59–63

(59 ۔ 63) ۔ بیہقی نے دلائل النبوہ میں اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں اور ابن سعد نے طبقات میں اس آیت کی شان نزول جو بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نجران کے نصاریٰ کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان کو اسلام لانے کا پیغام تھا وہاں سے کچھ نصاریٰ کے سرغنہ اور پادری لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس بحث کو آئے آنحضرت ﷺ نے ان سے اسلام لانے کو کہا انہوں نے جواب دیا کہ ہم تم سے پہلے ہی اسلام لا چکے ہیں آپ نے فرمایا تم حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے ہو اور سور کا گوشت کھاتے ہو اور حضرت عیسیٰ اور مریم کی تصویروں اور صلیب کی پوجا کرتے ہو یہ باتیں تمہارے دین میں کب جائز ہیں انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 61–63

آیات کا مطلب یہ ہے (فمن حاجک) کہ اے محمد ﷺ جو شخص عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں آپ سے بحث کرتا ہے اور انہیں ان کے اصل مقام سے بڑھاتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ان کا مقام عبودیت کے مقام سے بلند تر ہے۔ حالانکہ (من بعد ماجاک من العلم) آپ کے پاس یقینی علم آچکا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور آپ نے ایسے شخص کے لئے دلائل کے ساتھ واضح کردیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندے ہیں تو ثابت ہوجاتا ہے کہ آپ کی اتباع کرکے ایسے یقینی علم کو نہ ماننے والا عیاد میں مبتلا ہے، لہٰذا اس سے بحث و مباحثہ کرنے میں نہ آپ کو کوئی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے، نہ اس کو۔ کیونکہ حق واضح…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 62–64

اطاعت نبی دراصل اطاعت الٰہی ہے قول باری ہے (قل یا اھل الکتاب تعالوالی کلمۃ سوآء بیننا وبینکم ان لا نعبد الا اللہ، کہو اے اہل کتاب ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے دہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں) تاآخر آیت قول باری (کلمۃ سوآء) سے مراد ۔ واللہ علم ہمارے اور تمھارے درمیان انصاف کی بات جس میں ہم سب یکساں ہیں کیونکہ ہم سب اللہ کے بندے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفسیر خودہی ان الفاظ میں بیان کی (الانعبدالا اللہ ولانشرک بہ ولایتخذبعضنا بعضا اربابا حن دون اللہ، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں اور اللہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 61–62

130 خدائی فیصلے کی طرف رجوع کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر بھی اگر یہ لوگ پھرے ہی رہیں تو ان سے کہو کہ ہم مباہلہ کرلیتے ہیں تاکہ اس طرح خدائی فیصلہ ہمارے اور تمہارے درمیان ظاہر ہوجائے اور حق و باطل پوری طرح واضح ہوجائے۔ سو جب فریق مخالف حق کے پوری طرح واضح ہوجانے کے باوجود حق کو ماننے اور قبول کرنے کیلئے تیار نہ ہو اور وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑا ہی رہے تو اس کے لیے آخری بات یہی ہے کہ حق و باطل کے فیصلے کیلئے مباہلہ کیا جائے اور معاملے کو خدائی فیصلے پر چھوڑ دیا جائے۔ ابتہال کے اصل معنی تضرع اور دعاء کے ہیں، لیکن اس کے اندر ترک کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ اس لئے یہ لفظ ایک دوسرے پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 61–63

رسول اللہ ﷺ کا عیسائیوں سے مباہلہ تشریح : یہ ایک اہم واقعہ کا بیان ہے۔ مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کو نو سال ہوچکے تھے اور حجاز پر مسلمانوں کا پورا قبضہ ہوچکا تھا کہ 9 ھ میں محمد ﷺ نے بخران کی طرف ایک فرمان بھیجا۔ جس میں تین باتوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ -1 اسلام قبول کرو۔ -2 یا جزیہ ادا کرو۔ -3 یا جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ۔ اس پر بخران کے عیسائیوں کی طرف سے ایک وفد آپ ﷺ کے پاس بات چیت کرنے کے لئے آیا۔ انہوں نے اپنے عقیدوں کا اظہار کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کو سمجھانے کی بہت زیادہ کوشش کی، مگر وہ لوگ اپنے غلط عقیدوں پر ہی اڑے رہے اس پر رب العزت نے محمد ﷺ سے فرمایا کہ ان عیسائیوں سے مباہلہ کرو۔ مباہلہ کا مطلب ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 55–63

آیات 55- 63 اسرارومعارف اذقال اللہ یا عیسیٰ انی متوفیک…………والذکرالحکیم۔ اب خفیہ تدبیر کیا تھی ؟ کہ یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنا چاہا اور اللہ نہ صرف انہیں بچانا چاہتا تھا ، بلکہ اپنی عظمت کا ایک نشان اور اپنے نبی ﷺ کی نبوت کے نشان کے طور پر باقی بھی رکھنا چاہتا تھا جس طرح ان کی پیدائش عجیب تھی ، ایسے ہی پرورش بھی نرالی کہ پالنے میں باتیں کیں پھر معجزات بھی عجیب تر۔ قدرت باری کے مظاہر : اور اس کے بعد رفع یعنی آسمانوں پر اٹھایا جانا اور پھر دنیا میں نزول ، اس کے بعد موت یہ سب امور قدرت باری کے مظاہر ہیں۔ ارشاد ہوا کہ اے عیسیٰ میں تمہیں لے لوں گا اور اٹھالوں گا۔ یہ معنی اس صورت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 62–63

ف 2 چناچہ ایسا ہی ہوا۔ وفد نجران والوں نے مباہلہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا اور یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ لوگ محض دینا کی خاطر آنحضرت ﷺ کی اتباع اختیار کرنے سے انکار کر رہے ہیں ورنہ ان کے پاس اپنی ضد پر اڑے رہنے کے لئے کوئی وجہ جواز نہیں ہے ایک حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر یہ لوگ مباہلہ کرلیتے تو یہ وادی ان پر آگ برساتی۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرماتے ہیں کہ اگر یہ لوگ مباہلے کے لئے نکلتے تو اپنے گھروں کو اس طرح لوٹتے کہ نہ کوئی مال پاتے اور نہ اہل و عیال۔ (ابن کثیر۔ شوکانی )

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 61–63

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 63 حاجک (آپ سے جھگڑتا ہے) تعالوا (آجاؤ) ندع (ہم بلاتے ہیں) ابناءنا (اپنے بیٹوں کو) نساءنا (اپنی عورتوں کو) انفسنا (ہماری اپنی ذاتیں) نبتھل (ہم قسم کھاتے ہیں) نجعل (ہم ڈالیں گے) الکٰذبین (جھوٹ بولنے والے) قصص (قصے، واقعات) الحق (بالکل درست، ٹھیک) المفسدین (فساد کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 61 تا 63 سورة آل عمران کی آیات 61 تا 63 میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ یہ جتنے حقائق بیان کئے گئے ہیں اگرچہ نخران کے عیسائیوں کا وفد ماننے کے لئے تیار نہیں ہے تو آپ ان کو ” مباھلہ “ کی دعوت دیجئے یعنی اے نبی آپ اور یہ عیسائی خود اپنی جانوں کو اور اپنے بال بچوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 59–63

مباہلہ (یعنی بحث) شان نزول : نصاریٰ نجران کے سرغنہ اور پادری لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس بحث کو آئے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو اسلام لانے کو کہا۔ انہوں نے کہا : ” ہم تو پہلے سے اسلام لا چکے ہیں “۔ آپ نے فرمایا :” تم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے ہو اور مریم کی تصویروں کی اور صلیب کی پوجا کرتے ہو۔ یہ باتیں تمہارے دین میں کب جائز ہیں “۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اگر خدا کے بیٹے نہیں تو بتلاؤ دنیا میں کون ان کا باپ ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ جس طرح بےماں باپ کے حضرت آدم (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے، اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 61–69

[28] اسی کا نام شریعت کی اصطلاح میں مباہلہ ہے۔ مباہلہ میں ہر فریق اپنے کو اللہ کے سپرد کرتا ہے اور گڑگڑا کر دعا مانگنے کے بعد اس کے فیصلہ کا منتظر رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 62–64

دعوت اتحاد : (ف 1) قرآن حکیم دنیا سے تفریق واختلاف کو مٹانے آیا ہے وہ چاہتا ہے کہ ساری دنیا کو ایک مرکز پر لا کھڑا کرے اور جتنے فتنے تشدد وافتراق کی وجہ سے بپا ہیں یکسر محو ہوجائیں اور اگر یہ نہ ہو سکے تو بھی تعصبات ختم ہوجائیں مہمات مسائل پر اتفاق ہوجائے اور کم از کم چند چیزیں ایسی مسلمانہ میں سے ہوں جس پر دنیا کے تمام انسان متفق ہوں ، کتنا سچا اور مقدس مسلک ہے ، اس آیت میں اسی دعوت اتحاد کی تشریح ہے ، اہل کتاب کے ہر دو فرقوں کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ آؤ ہم دونوں مسلمات پر اتفاق کریں اور وہ یہ ہیں کہ ایک اللہ کی پرستش کریں ، کسی دوسرے کو عبادت اور پرستش کے قابل نہ سمجھیں اور اپنے جیسے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 61–62

ف 1۔ اب اگر کوئی شخص اس کے بعد کہ آپ کے پاس صحیح علم آچکا اور ایسے واضح دلائل آ چکے جس سے یقینی علم حاصل ہوجاتا ہے پھر کج بحثی اور کٹ حجتی کرنے لگے تو آپ یوں فرما دیجئے کہ اچھا اگر تم دلیل سے نہیں مانتے تو آئو ہم تم مل کر اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عوتوں کو بلا لیں اور ہم اپنے آپ کو اور تم کو بھی ملا کر جمع کرلیں پھر ہم ملکر نہایت عاجزانہ اور گڑ گڑا کر اس طرح دعا کریں کہ جھوٹوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت بھیجیں ۔ یعنی یوں دعا کریں کہ ہم میں اور تم میں جو جھوٹا اور ناحق پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت نازل ہوا ۔ ( تیسیر) لعنت کے معنی ہم بتا چکے ہیں کہ اللہ کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 62–71

ف 1۔ دونوں جو تشہدون اور تعلمون فرمایا، تو اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ عدم اقرار یا عدم علم کی حالت میں کفر جائز ہے، قبیح ذاتی تو کسی حال میں جائز ہو ہی نہیں سکتا، بلکہ وجہ یہ ہے کہ اقرار اور علم کے وقت کفر اور زیادہ قابل ملامت ہے۔ اوپر مذکور تھا کہ بعض اہل کتاب مسلمانوں کے اضلال کی فکر میں رہتے ہیں۔ آگے ان کی ایک تدبیر کا بیان فرماتے ہیں جس کو اضلال مومنین کے لئے انہوں نے تجویز کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اوپر بیان کیا گیا واقعہ ہر قسم کے شک و شبہ سے بالکل پاک ہے : 137: یہ جو واقعہ بیان کیا گیا بالکل حق ہے اور اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں یہ سارے انبیاء (علیہم السلام) کا اعلان ہے جو صرف مسیح (علیہ السلام) ہی کا یہ اعلان نہیں تھا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ ہی کی وہ ذات ہے جو سب پر غالب اور نہایت حکمت رکھنے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 61–63

The Meaning of Mubahalah As stated earlier, verse 61 has instructed the Holy Prophet ﷺ to invite his opponents (Christians) to Mubahalah which literally means 'mutual prayer' but in the terminology of Islamic Shari'ah it refers to a particular form of resolving religious disputes. When the argumentations from both sides fail to resolve a religious issue, the parties jointly pray Allah to cast His curse on whichever of the two parties is parties is false. Since curse means 'moving someone far away from the divine mercy', - and moving far away from mercy is being close to divine…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–64

56. This marks the beginning of the third discourse of this surah. Its contents invite the conclusion that the surah was revealed sometime between the battles of Badr and Uhud. The subjects of these three discourses are so closely interrelated that some commentators have wrongly understood the verses which follow to be part of the foregoing discourse. From the whole tenor of the discourse which now begins, however, it is evident that it is addressed to the Jews. 57. The invitation here is for the two parties to agree on something believed in by one of them, the Muslims, and the soundness of…

Read the full tafseer →