Explained with ayahs 59–63
اختیارات کی وضاحت اور نجرانی وفد کی روداد
حضرت باری جل اسمہ وعلا قدرہ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کردیا تو کیا کون سی حیرانی بات ہے ؟ میں نے حضرت آدم کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا بھی باپ نہ تھا بلکہ ماں بھی نہ تھی، مٹی سے پتلا بنایا اور کہہ دیا آدم ہوجا اسی وقت ہوگیا، پھر میرے لئے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہوسکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کردیا، پس اگر صرف باپ نہ ہونے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ کو تو سب سے پہلے اس مرتبہ سے ہٹا دینا چاہئے، کیونکہ ان کے دعوے کا جھوٹا ہونا اور خرابی اس سے بھی زیادہ یہاں ظاہر…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 55
فیصلہ کی یہ صورت پیش کرنے سے دراصل یہ ثابت کرنا مقصود تھا کہ وفد نجران جان بوجھ کر ہٹ دھرمی کر رہا ہے۔ اوپر کی تقریر میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں ان میں سے کسی کا جواب بھی ان لوگوں کے پاس نہ تھا۔ مسیحیت کے مختلف عقائد میں سے کسی کے حق میں بھی وہ خود اپنی کتب مقدسہ کی ایسی سند نہ پاتے تھے جس کی بنا پر کامل یقین کے ساتھ یہ دعویٰ کرسکتے کہ ان کا عقیدہ امر واقعہ کے عین مطابق ہے اور حقیقت اس کے خلاف ہرگز نہیں ہے۔ پھر نبی ﷺ کی سیرت، آپ کی تعلیم اور آپ کے کارناموں کو دیکھ کر اکثر اہل وفد اپنے دلوں میں آپ کی نبوت کے قائل بھی ہوگئے تھے یا کم از کم اپنے انکار میں متزلزل ہوچکے تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
مباہلہ کی تعریف
(فقل تعالوا ندع الخ) اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے آنحضور ﷺ کو مباہلہ کرنے کا حکم دیا ہے، جس کی تعریف یہ ہے کہ اگر کسی امر کے حق و باطل میں فریقین میں نزاع ہوجائے اور دلائل سے نزاع ختم نہ ہو تو پھر ان کو یہ طریقہ اختیار کرنا چاہئے کہ سب ملکر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ جو اس امر میں باطل پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وبال اور ہلاکت پڑے، کیونکہ لعنت کے معنی رحمت حق سے بعید ہوجانا ہے، اور رحمت سے بعید ہونا قہر سے قریب ہونا ہے، پس حاصل معنی اس کے یہ ہوئے کہ جھوٹے پر قہر نازل ہو، سو جو شخص جھوٹا ہوگا وہ اس کا خمیازہ بھگتے گا، اس وقت پوری تعیین صادق و کاذب کی منکرین کے نزدیک بھی واضح…
Read the full tafseer →”العلم“ کے لفظ پر ہم دوسری جگہ گفتگو کرچکے ہیں کہ قرآن میں اس سے مراد وہ علم حقیقی ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی آتا ہے۔ اس کا مقابل لفظ ”ظن“ ہے۔
آیت کے بعض محذوفات : اس آیت میں عربی زبان کے اسلوب کے مطابق بعض چیزیں حذف ہیں۔ اگر محذوفات کو ظاہر کردیا جائے تو پوری بات گویا یوں ہوگی۔ نَدْعُ نحن اَبْنَاۗءَنَا وانتم اَبْنَاۗءَكُمْ ونحضر نحن وَاَنْفُسَنَا وانتم َاَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ نحن وانتم۔ ہم نے اپنے ترجمے میں ان محذوفات کو کھول دیا ہے۔
مباہلہ کا موقع و محل : ”ابتہال“ کے معنی دعا اور تضرع کے ہیں لیکن اس کے اندر ترک کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اس وجہ سے یہ ایک دوسرے پر لعنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
61۔ 1 یہ آیت مباہلہ کہلاتی ہے۔ مباہلہ کے معنی ہیں دو فریق کا ایک دوسرے پر لعنت یعنی بدعا کرنا مطلب یہ ہے کہ جب دو فریقین میں کسی معاملے کے حق یا باطل ہونے میں اختلاف ہو اور دلائل سے وہ ختم ہوتا نظر نہ آتا ہو تو دونوں بارگاہ الہٰی میں یہ دعا کریں کہ یا اللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے اس پر لعنت فرما اس کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ 9 ہجری میں نجران سے عیسائیوں کا ایک وفد نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جو وہ غلو آمیز عقائد رکھتے تھے اس پر مناظرہ کرنے لگا۔ بالآخر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی ﷺ نے انہیں مباہلہ کی دعوت دی حضرت علی ؓ، حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت حسن، حسین ؓ کو بھی ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
25: اس عمل کو مباہلہ کہا جاتا ہے، جب بحث کا کوئی فریق دلائل کو تسلیم کرنے کے بجائے ہٹ دھرمی پر تل جائے تو آخری راستہ یہ ہے کہ اسے مباہلہ کی دعوت دی جائے جس میں دونوں فریق اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ ہم میں سے جھوٹا یا باطل پر ہو وہ ہلاک ہوجائے، جیسا کہ اس سورت کے شروع میں بیان ہوا ہے، شہر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آیا تھا اس نے آپ سے حضرت عیسیٰ ؑ کی خدائی پر بحث کی، جس کا اطمینان بخش جواب قرآن کریم کی طرف سے پچھلی آیتوں میں دے دیا گیا، جب وہ کھلے دلائل کے باوجود اپنی گمراہی پر اصرار کرتے رہے تو اس آیت نے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ وہ انہیں مباہلے کی دعوت دیں ؛ چنانچہ آپ…
Read the full tafseer →اس کے بعد اس موضوع پر رسول اللہ کے ساتھ جو لوگ مباحثہ کرتے تھے ‘ رسول ﷺ نے بھرے مجمعے میں انہیں دعوت مباہلہ دی ۔ یعنی سب آجائیں اور اللہ سے دست بدعا ہوں کہ اللہ جھوٹوں پر لعنت کرے ۔ اس چیلنج کے انجام سے وہ لوگ ڈر گئے اور انہوں نے مباہلہ کرنے سے انکار کردیا۔ جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ رسول اللہ ﷺ کا موقف سچا ہے ۔ لیکن جس طرح بعض روایات میں آتا ہے کہ اسلام اس لئے قبول نہ کیا کہ ان لوگوں کو اپنے معاشرے میں ایک بلند مقام حاصل تھا ۔ نیز یہ لوگ ان کے مذہبی پیشواؤں میں سے تھے اور اس دور میں اہل کنیسہ کو اپنی سوسائٹی میں مکمل اقتدار حاصل تھا اور اس کے ساتھ ان کے بڑے مفادات وابستہ تھے ۔ اس سوسائٹی میں…
Read the full tafseer →3 اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ نصاریٰ نجران اس قدر سمجھانے پر بھی اگر قائل نہ ہوں تو انکے ساتھ " مباہلہ " کرو جسکی زیادہ موثر اور مکمل صورت یہ تجویز کی گئی کہ دونوں فریق اپنی جان سے اور اولاد سے حاضر ہوں اور خوب گڑ گڑا کر دعا کریں کہ جو کوئی ہم میں جھوٹا ہے اس پر خدا کی لعنت اور عذاب پڑے۔ یہ " مباہلہ " کی صورت پہلے ہی قدم پر اس بات کا اظہار کر دے گی کہ کون فریق کس حد تک خود اپنے دل میں اپنی صداقت و حقانیت پر وثوق و یقین رکھتا ہے۔ چناچہ دعوت " مباہلہ " سُن کر وفد نجران نے مہلت لی کہ ہم آپس میں مشورہ کرکے جواب دینگے۔ آخر مجلس مشاورت میں ان کے ہوشمند تجربہ کار ذمہ داروں نے کہا کہ اے گروہ نصاریٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
آیت 61 فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْم بَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ
آپ ﷺ کے پاس تو العلمآ چکا ہے ‘ آپ ﷺ جو بات کہہ رہے ہیں علیٰ وجہ البصیرۃ کہہ رہے ہیں۔ اس ساری وضاحت کے بعد بھی اگر نصاریٰ آپ ﷺ سے حجت بازی کر رہے اور بحث و مناظرہ سے کنارہ کش ہونے کو تیار نہیں ہیں تو ان کو آخری چیلنج دے دیجیے کہ یہ آپ ﷺ کے ساتھ مباہلہکر لیں۔ نجران سے نصاریٰ کا جو 70 افراد پر مشتمل وفد ابوحارثہ اور ابن علقمہ جیسے بڑے بڑے پادریوں کی سرکردگی میں مدینہ آیا تھا ‘ اس سے دعوت و تبلیغ اور تذکیر و تفہیم کا معاملہ کئی دن تک چلتا رہا اور پھر آخر میں رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا کہ اگر یہ اس قدر سمجھانے پر بھی قائل نہیں ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
56 اس آیت میں مباہلہ کا طریق کار بیان کیا گیا ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی اور آپ نے انہیں سنائی تو وہ کہنے لگے کہ ہمیں کچھ سوچنے اور مشورہ کرنے کی مہلت دی جائے۔ پھر جب ان کی مجلس مشاورت قائم ہوئی تو ایک ہوشمند بوڑھے نے کہا : اے گروہ نصاریٰ ! تمہیں معلوم ہے کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں سے ایک نبی بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ ممکن ہے یہ وہی نبی ہو۔ جو باتیں اس نے کہی ہیں وہ صاف اور فیصلہ کن ہیں۔ اگر یہ فی الواقع وہ نبی ہوا اور تم لوگوں نے مباہلہ کیا تو تمہاری کیا تمہاری نسلوں کی بھی خیر نہ ہوگی۔ بہتر یہی کہ ہم ان سے صلح کرلیں۔ اپنے وطن کو لوٹ جائیں۔ چناچہ دوسرے دن جاکر انہوں نے آپ کو اپنے فیصلہ سے مطلع…
Read the full tafseer →146 ۔ (اے پیغمبر ! ) (آیت) ” فیہ “۔ فیہ یعنی ربوبیت والوہیت مسیح (علیہ السلام) کے باب میں۔ سورة کے شروع میں جو حاشیہ ہیں انہیں ایک بار پھر نظر میں لے آیا جائے۔ سورة کا اصلی موضوع مسیحیت اور عقیدہ الوہیت مسیح (علیہ السلام) کا رد ہے۔ گفتگو نجران کے مسیحی وفد سے چل رہی ہے۔ (آیت) ” فمن حآجک “ یعنی ان مسیحیوں میں سے اب بھی کوئی آپ ﷺ سے اپنی سخن پروری جاری رکھے۔ (آیت) ” العلم “۔ اور علم بھی کیسا ؟ ظنی وتخمینی نہیں۔ حتمی۔ یقینی۔
147 ۔ بہ طور اتمام حجت کے۔ اب جبکہ زبانی افہام و تفہیم اور دلائل کے سارے مرتبے طے ہوچکے اور مسیحی اپنی بات کی پچ پر اڑے ہوئے ہیں)
148 ۔ اسی کا نام شریعت کی اصطلاح میں مباہلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الْعِلْمِ (الآیۃ) یہ آیت مباہلہ کہلاتی ہے مباہلہ کے معنیٰ ہیں دو فریق کا ایک دوسرے پر لعنت یعنی بددعاء کرنا، مطلب یہ کہ جب دو فریقوں میں کسی معاملے کے حق و باطل ہونے میں اختلاف و نزاع پیدا ہوجائے اور دلائل سے وہ ختم ہوتا نظر نہ آتا ہو تو دونوں فریق بارگاہِ الہیٰ میں یہ دعاء کریں کہ یا اللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہو اس پر لعنت فرما، اس کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ 9 ھ میں نصاریٰ نجران کے چودہ اکابر کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا گفتگو الوہیت مسیح کے مسئلہ پر رہی اسلامی عقیدہ بالکل صاف اور واضح تھا، لیکن مسیحی نمائندے اپنی بات پر…
Read the full tafseer →فَمَنْ حَاۗجَّكَ فِيْهِ : مَنْ شرطیہ ہے یا استفہام انکاری کے لیے ہے یعنی جب عیسائی مناظرہ سے عاجز ہوگئے تو اب عیسیٰ کے معاملہ میں یا اس حق بات میں کون آپ سے مناظرہ کرسکتا ہے۔
مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ : یعنی اس علم کے آجانے کے بعد کہ عیسیٰ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو شخص بھی تم سے عیسیٰ کے متعلق مناظرہ کرے۔ علم حاصل ہوجانے کی شرط جو مباہلہ کے لیے بیان کی اس میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ جب تک کسی بات کا پورا یقین نہ ہوجائے مسلمان کے لیے اس میں مباہلہ کرنا زیبا نہیں۔
فَقُلْ تَعَالَوْا : تو اے محمد آپ ان سے کہہ دیجئے کہ پختہ رائے اور عزم کے ساتھ آؤ۔ تعالوا جمع مذکر حاضر باب…
Read the full tafseer →(61) وفد بنی نجران نے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس چیز کے بیان کردینے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں حضرت عیسیٰ ؑ کی مثال حضرت آدم ؑ کے طریقہ پر ہے جو مخاصمہ کیا اس کا اللہ تعالیٰ ذکر فرماتے ہیں۔
وہ لوگ بولے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جیسا کہ آپ کہتے ہیں کہ وہ نہ خدا ہیں اور نہ اس کے بیٹے اور نہ اس کے شریک ہیں ایسا نہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جیسا کہ آپ کہتے ہیں کہ وہ نہ خدا ہیں اور نہ اس کے بیٹے اور نہ اس کے شریک ہیں ایسا نہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں آپ سے حجت کرے جب کہ آپ کے پاس علم واقعی آچکا کہ حضرت عیسیٰ ؑ نہ خدا ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
فَمَنْ حَاۗجَّكَ فِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ : سورت کے شروع سے لے کر یہاں تک اللہ تعالیٰ کی توحید، مسیح ؑ کی ولادت کا بیان اور ان کا اللہ یا اللہ کا بیٹا نہ ہونا زبردست علمی دلائل کے ساتھ بیان ہوا۔ اب حکم ہوا کہ جو شخص اتنے واضح دلائل کے بعد بھی نہ مانے تو وہ عناد پر آمادہ ہے، اس سے بحث کا کوئی فائدہ نہیں، پھر انھیں مباہلہ کی دعوت دو۔
مباہلہ کی صورت یہ بیان فرمائی کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو بلا لیں اور اپنی عورتوں اور تمہاری عورتوں کو بھی اور اپنے آپ کو اور تمہیں بھی، پھر گڑ گڑا کر دعا کریں، پس جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔
”بَھَلَ یَبْھَلُ (ف)“ کا معنی لعنت…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 61۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فمن حاجک فیہ “ یعنی اے محمد ﷺ جو شخص آپ سے جھگڑا کرے ” فیہ “ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں (آیت) ” من بعد ما جآئک من العلم “۔ اس کے بعد کہ آپ کے پاس اس بارے میں یقینی علم آگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ (آیت) ” فقل تعالوا “۔ یعنی تعالوا “ بمعنی اقبلوا ہے، تو آپ کہہ دیجئے کہ آؤ یہ لفظ وضع تو اس کے لئے کیا گیا ہے جس کی کوئی قدر ومنزل اور رفعت وشان ہوا اور پھر ہر آنے اور متوجہ ہونے کی دعوت دینے والے کے لئے استعمال ہونے لگا، اس کا مزید بیان سورة الانعام میں آئے گا، ندع یہ محل جزم میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
(1) ابن ابی شیبہ، مسلم، ابو داؤد، نسائی اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ فجر کی دو رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں لفظ آیت ” قولوا امنا باللہ وما انزل الینا “ اور دوسری رکعت میں ” تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم “ پڑھتے تھے۔
ہرقل روم کے نام دعوت نامہ
(2) عبد الرزاق، بخاری، مسلم، نسائی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو ابو سفیان ؓ نے بیان کیا کہ ہرقل (جو روم کا بادشاہ تھا) نے رسول اللہ ﷺ کا خط منگوایا اور اس کو پڑھا اس میں یہ تھا : لفظ آیت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
من محمد رسول اللہ الی ہرقل عظیم الروم سلام علی من اتبع الھدی اما بعد…
Read the full tafseer →[فَمَنْ : پھر جو ] [حَآجَّکَ : حجت کرے آپ ﷺ سے ] [فِیْہِ : اس میں ] [مِنْۢ بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ جو ] [جَآئَ کَ : آیا آپ ﷺ کے پاس ] [مِنَ الْعِلْمِ : علم میں سے ] [فَقُلْ : تو آپ ﷺ ‘ کہیں ] [تَعَالَوْا : تم لوگ آئو ] [نَدْعُ : تو ہم پکاریں ] [اَبْنَآئَ نَا : اپنے بیٹوں کو ] [وَاَبْنَآئَ کُمْ : اور (تم) تمہارے بیٹوں کو ] [وَنِسَآئَ نَا : اور (ہم) اپنی عورتوں کو ] [وَنِسَآئَ کُمْ : اور (تم) تمہاری عورتوں کو ] [وَاَنْفُسَنَا : اور (ہم) اپنی جانوں کو ] [وَاَنْفُسَکُمْ : اور (تم) تمہاری جانوں کو ] [ثُمَّ نَـبْتَہِلْ : پھر ہم گڑگڑائیں ] [فَنَجْعَلْ : پھر ہم بنائیں (یعنی بھیجیں) ] [لَّـعْنَتَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
نصاریٰ کو دعوت مباہلہ :
اللہ جل شانہٗ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا : (فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ ) (الآیۃ) اس میں دعوت مباہلہ کا ذکر ہے۔ مفسر ابن کثیر نے صفحہ 438: ج 1 میں محمد بن اسحاق بن یسار سے نقل کیا ہے کہ نجران کے نصاریٰ کا ایک وفد جو ساٹھ آدمیوں پر مشتمل تھا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ان میں چودہ اشخاص ان کے اشراف میں سے تھے جن کی طرف ہر معاملہ میں رجوع کیا جاتا تھا ان میں سے ایک شخص کو سید کہتے تھے جس کا نام ایھم تھا اور ایک شخص ابو حارثہ تھا اور بھی لوگ تھے ان میں عاقب ان کا امیر تھا اور صاحب رائے سمجھا جاتا تھا اسی سے مشورہ لیتے تھے اور اس کی ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
نصاری کے ایک استدلال یا شبہ کا جواب۔
ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل۔۔۔ الی۔۔ الممترین۔
اس آیت میں اللہ جل شانہ نے نصارائے نجران کے ایک شبہ کا جواب دیا ہے جس کو وہ حضرت عیسیٰ کے ابنیت کے لیے بطور استدلال ذکر کرتے تھے وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے معلوم ہوا کہ وہ خدا اور خدا کے بیٹے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی کہ عیسیٰ کا بغیر باپ کے پیدا ہونا کچھ تعجب انگیز نہیں ہم نے آدم کو اپنی قدرت سے بغیر ماں اور باپ کے مٹی سے پیدا کیا حضرت عیسیٰ اگرچہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے لیکن اپنی جنس کے ایک رد سے تو پیدا ہوئے مگر آدم تو بالکل ہی غیر جنس سے پیدا ہوئے پس اگر…
Read the full tafseer →85 فِیْهِ کی ضمیر حضرت عیسیٰ کی طرف راجع ہے الوہیت مسیح کو دلائل قطعیہ سے باطل کرنے کے بعد پیغمبر خدا ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ حضرت مسیح کے الہ (معبود) نہ ہونے اور اللہ کا بندہ اور رسول ہونے کے قطعی اور یقینی دلائل کے واضح ہوجانے کے بعد بھی اگر وفد نجران الوہیت مسیح کے بارے میں آپ سے اختلاف اور جھگڑا کریں تو اب آپ انہیں مباہلہ کا چیلنج کردیں کیونکہ دلائل سے تو مسئلہ واضح ہوچکا ہے اور ان سے کہیں کہ تم بھی اپنی عورتوں اور بچوں کو لے آؤ اور ہم بھی لے آتے ہیں۔ اور پھر عاجزی اور خشوع سے دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں لیکن وفد نجران کے پادری اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ سچے رسول ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
گذشتہ دروس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ وہ نہ تو خدا کے بیٹے ہیں اور نہ خود خدا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فضیلت عطا فرمائی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بات ایک واضح مثال کے ذریعے سمجھائی۔ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ناممکنات میں سے نہیں ہے۔ آپ کی مثال حضرت آدم (علیہ السلام) کی مثال جیسی ہے۔ جسے اللہ نے بغیر ماں اور باپ کے پیدا فرمایا۔ اگر آدم (علیہ السلام) الوہیت کے درجے کو نہیں پہنچے ، تو عیسیٰ (علیہ السلام) الہ کیسے بن گئے۔
نجران کے عیسائی وفد کا تذکرہ ابتدائے سورة ہی سے ہورہا ہے۔ جب حضور ﷺ کے ساتھ عیسائیوں کی بحث نے طول…
Read the full tafseer →فَمَنْ حَاۗجَّكَ فِيْہِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاۗءَنَا وَاَبْنَاۗءَكُمْ وَنِسَاۗءَنَا وَنِسَاۗءَكُمْ وَاَنْفُسَـنَا وَاَنْفُسَكُمْ 0 ۣ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللہِ عَلَي الْكٰذِبِيْنَ 61
حاجَّة
: أن يطلب کلّ واحد أن يردّ الآخر عن حجّته ومحجّته، قال تعالی: وَحاجَّهُ قَوْمُهُ قالَ : أَتُحاجُّونِّي فِي اللَّهِ [ الأنعام/ 80] ، فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ [ آل عمران/ 61] ، وقال تعالی: لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 65] ، وقال تعالی: ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ فِيما لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
1 ؎ یہاں بھی نیچری مصنف نے بہت ہاتھ پائوں مار کر مسیح کا یوسف نجار سے پیدا ہونا ثابت کرنا چاہا تھا مگر نہ ہوسکا۔
ترکیب : مثل عیسیٰ ای صفۃ عیسیٰ اسم ان کمثل آدم خبر ‘ خلقہ جملہ تفسیر ہے مثل کی۔ فیہ کی ضمیر عیسیٰ یا ان کے قصہ کی طرف راجع ہے من شرطیہ ہے ماضی بمعنی مستقبل۔
تفسیر : قصہّ مباہلہ : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرما کر عیسیٰ پرست قوم کی طرف یعنی نصاریٰ کی طرف (جو ان کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اس لئے کہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے) روئے سخن کیا جاتا ہے اور ان کے عقیدہ کا ابطال فرما کر ان کو مباہلہ کے لئے بلایا جاتا ہے کہ خدا کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کا ویسا ہی حال یعنی پیدا کرنا ہے…
Read the full tafseer →فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْ م بَعْدِ مَا جَآئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَـآئَ نَا وَاَبْنَـآئَ کُمْ وَنِسَآئَ نَا وَنِسَآئَ کُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ قف ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعَنَ اللّٰہِ عَلَی الْـکٰذِبِیْنَ ۔
(پھر جو شخص تم سے اس بارے میں حجت کرے بعد اس کے کہ تمہارے پاس صحیح علم آچکا ہے تو آپ کہہ دیجیے کہ آئو ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تمہارے بیٹوں کو بھی اور اپنی عورتوں کو بھی اور تمہاری عورتوں کو بھی، اپنے آپ کو بھی اور تم کو بھی۔ پھر ہم مل کر دعا کریں اور جھوٹوں پر لعنت بھیجیں) (61)
اس آیت کریمہ میں بات اگرچہ غائب کے صیغے سے کہی گئی ہے لیکن اشارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اللہ کا بندہ اور رسول ہونا حق ہے۔ دلائل کے باوجود جو حق تسلیم نہیں کرتا اسے سمجھانے کا آخری طریقہ مباہلہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور ان کے خاندان کی مرحلہ وار تاریخ کے واضح دلائل اور روشن حقائق کے ساتھ نجران کے وفد کو دعوت دی۔ لیکن وہ اس کے باوجود کہنے لگے کہ ہم تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا سمجھتے ہیں۔ اس موقع پر آیت مباہلہ نازل ہوئی۔ مباہلہ کا معنٰی ہے عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کرنا کہ حق والا سرخرو ہو اور جھوٹے پر اللہ کی پھٹکار نازل ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے نجران کے وفد کو فرمایا کہ کل میں…
Read the full tafseer →61: فَمَنْ حَآ جَّکَ فِیْہِ مِنْم بَعْدِ مَاجَآ ئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآ ئَ نَا وَاَبْنَآ ئَ کُمْ وَنِسَآ ئَ نَا وَنِسَآئَ کُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَھِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰہِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ ۔ (جو آپ سے جھگڑے اس علم کے آجانے کے بعد تو کہہ دیں آئو) یعنی ان نصاریٰ میں سے جو آپ کے ساتھ جھگڑا کرے۔ فِیْہِ عیسیٰ ( علیہ السلام) کے متعلق مِنْم بَعْدِ مَاجَآ ئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ یعنی ایسے دلائل جو علم کو لازم کرنے والے ہیں۔ یہاں مَا الذی کے معنی میں ہے۔ فَقُلْ تَعَالَوْا تو ان کو کہہ دیں آئو ! مرادارادہ اور عزم کے ساتھ آنا ہے جیسا کہ محاورہ…
Read the full tafseer →61۔ (آیت)” فمن حاجک فیہ “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق وہ جھگڑتے ہیں یا اس حق بات میں کون ہے جو آپ سے مناظرہ کرے (آیت)” من بعد ما جاء ک من العلم “۔ علم سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اللہ کا بندہ اور رسول ہونا ہے ، یعنی اس علم کے آجانے کے بعد کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں (آیت)” فقل تعالوا “ اصل میں تعالیوا تھا باب تفاعل سے علو ہے ضمہ یاء پر ثقیل تھا یاء کو حذف کردیا، فراء کہتے ہیں بمعنی تعال کے ہے اوپر اٹھو (ندع) یہ مجزوم ہے جواب امر ہونے کی وجہ سے جزم کی علامت واؤ کے ساقط ہونے کی وجہ سے ہے۔ (آیت)” ابناء ناوابناء کم ونساء نا ونساء کم ونفسنا وانفسکم “۔ بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
(59 ۔ 63) ۔ بیہقی نے دلائل النبوہ میں اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں اور ابن سعد نے طبقات میں اس آیت کی شان نزول جو بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نجران کے نصاریٰ کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان کو اسلام لانے کا پیغام تھا وہاں سے کچھ نصاریٰ کے سرغنہ اور پادری لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس بحث کو آئے آنحضرت ﷺ نے ان سے اسلام لانے کو کہا انہوں نے جواب دیا کہ ہم تم سے پہلے ہی اسلام لا چکے ہیں آپ نے فرمایا تم حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے ہو اور سور کا گوشت کھاتے ہو اور حضرت عیسیٰ اور مریم کی تصویروں اور صلیب کی پوجا کرتے ہو یہ باتیں تمہارے دین میں کب جائز ہیں انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
آیات کا مطلب یہ ہے (فمن حاجک) کہ اے محمد ﷺ جو شخص عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں آپ سے بحث کرتا ہے اور انہیں ان کے اصل مقام سے بڑھاتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ان کا مقام عبودیت کے مقام سے بلند تر ہے۔ حالانکہ (من بعد ماجاک من العلم) آپ کے پاس یقینی علم آچکا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور آپ نے ایسے شخص کے لئے دلائل کے ساتھ واضح کردیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندے ہیں تو ثابت ہوجاتا ہے کہ آپ کی اتباع کرکے ایسے یقینی علم کو نہ ماننے والا عیاد میں مبتلا ہے، لہٰذا اس سے بحث و مباحثہ کرنے میں نہ آپ کو کوئی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے، نہ اس کو۔ کیونکہ حق واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
مباہلہ کا جواز
قول بارے ہے (فقل تعالواند ع ابناء نا وایتاء کم ونساء ناونساء کم وانفسنا وانسکم، اے محمد ! ان سے کہو، آؤہم اور تم خود بھی آجائیں اور اپنے اپنے بال کو بھی لے آئیں) عیسائیوں کے اس قول کے خلاف کہ حضرت مسیح ابن اللہ ہیں اس آیت سے استدلال پہلے گذرچکا ہے نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد جس میں ان کا سردار اورنائب سرداردونوں تھے، حضور ﷺ کی خدمت میں آیا تھا۔ ان دونوں نے حضور ﷺ سے سوال تھا کہ آپ نے بن باپ کا کوئی بچہ دیکھا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم، اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی مثال کی طرح ہے) حضرت ابن عباس حسن اور قتادہ سے یہی روایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
130 خدائی فیصلے کی طرف رجوع کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر بھی اگر یہ لوگ پھرے ہی رہیں تو ان سے کہو کہ ہم مباہلہ کرلیتے ہیں تاکہ اس طرح خدائی فیصلہ ہمارے اور تمہارے درمیان ظاہر ہوجائے اور حق و باطل پوری طرح واضح ہوجائے۔ سو جب فریق مخالف حق کے پوری طرح واضح ہوجانے کے باوجود حق کو ماننے اور قبول کرنے کیلئے تیار نہ ہو اور وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑا ہی رہے تو اس کے لیے آخری بات یہی ہے کہ حق و باطل کے فیصلے کیلئے مباہلہ کیا جائے اور معاملے کو خدائی فیصلے پر چھوڑ دیا جائے۔ ابتہال کے اصل معنی تضرع اور دعاء کے ہیں، لیکن اس کے اندر ترک کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ اس لئے یہ لفظ ایک دوسرے پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
رسول اللہ ﷺ کا عیسائیوں سے مباہلہ
تشریح : یہ ایک اہم واقعہ کا بیان ہے۔ مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کو نو سال ہوچکے تھے اور حجاز پر مسلمانوں کا پورا قبضہ ہوچکا تھا کہ 9 ھ میں محمد ﷺ نے بخران کی طرف ایک فرمان بھیجا۔ جس میں تین باتوں کا ذکر کیا گیا تھا۔
-1 اسلام قبول کرو۔ -2 یا جزیہ ادا کرو۔ -3 یا جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ۔
اس پر بخران کے عیسائیوں کی طرف سے ایک وفد آپ ﷺ کے پاس بات چیت کرنے کے لئے آیا۔ انہوں نے اپنے عقیدوں کا اظہار کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کو سمجھانے کی بہت زیادہ کوشش کی، مگر وہ لوگ اپنے غلط عقیدوں پر ہی اڑے رہے اس پر رب العزت نے محمد ﷺ سے فرمایا کہ ان عیسائیوں سے مباہلہ کرو۔ مباہلہ کا مطلب ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–63
آیات 55- 63
اسرارومعارف
اذقال اللہ یا عیسیٰ انی متوفیک…………والذکرالحکیم۔
اب خفیہ تدبیر کیا تھی ؟ کہ یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنا چاہا اور اللہ نہ صرف انہیں بچانا چاہتا تھا ، بلکہ اپنی عظمت کا ایک نشان اور اپنے نبی ﷺ کی نبوت کے نشان کے طور پر باقی بھی رکھنا چاہتا تھا جس طرح ان کی پیدائش عجیب تھی ، ایسے ہی پرورش بھی نرالی کہ پالنے میں باتیں کیں پھر معجزات بھی عجیب تر۔
قدرت باری کے مظاہر :
اور اس کے بعد رفع یعنی آسمانوں پر اٹھایا جانا اور پھر دنیا میں نزول ، اس کے بعد موت یہ سب امور قدرت باری کے مظاہر ہیں۔
ارشاد ہوا کہ اے عیسیٰ میں تمہیں لے لوں گا اور اٹھالوں گا۔ یہ معنی اس صورت…
Read the full tafseer →ف 1 جب عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں اظہار حق اور دلائل کے کے باوجود وفد نجران نے عناد کی راہ اختیار کی تو آخری فیصلہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان سے مباہلہ کا حکم دی اجس کی صورت یہ تجویز ہوئی (جیسا کہ آیت میں مذکور ہے) کہ فریقین اپنی جان اور اولاد کے ساتھ ایک جگہ حاضر ہوں ارجو فریق چھوٹا ہے نہایت عجزوانکسار کے ساتھ اس کے حق میں بد دعا کریں کہ اس پر خدا کی لعنت ہو۔ چناچہ آنحضرت ﷺ مباہلہ کے لیے حضرت فا طمہ ؓ ، امام حسن ؓ ، امام حسین ؓ اور حضرت علی ؓ کو لے کر نکل آئے۔ اور بعض روایات میں ہے کہ خلفائے اربعہ اور ان کی اولاد بھی ساتھ تھی۔ یہ منظر دیکھ کر نصارےٰ نے ایک دوسرے سے کہا کہ ہم…
Read the full tafseer →(3:61) حاجک۔ حاج (مفاعلہ) یخاج محاجۃ۔ اس نے تجھ سے جھگڑا کیا۔ حجت بازی کی۔
فیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر یا تو قصہ عیسیٰ (علیہ السلام) متذکرہ بالا مراد ہے یا یہ ضمیر الحق کی طرف راجع ہے۔
تعالوا۔ تم آؤ۔ امر جمع مذکر حاضر۔ تعالیٰ سے جس کے معنی بلند ہونے اور آنے کے ہیں اصل میں تعال کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو بلند مقام کی طرف بلایا جائے۔ پھر ہر جگہ بلانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ بعض علماء نے تصریح کی ہے کہ یہ علو سے ماخوذ ہے جس کے معنی رفعت منزل کے ہیں۔ تو گویا تعالوا میں رفعت منزل کے حصول کی دعوت ہے قرآن مجید میں جہاں تعالوا کا استعمال ہوا ہے وہاں یہ چیز موجود ہے۔ علماء لغت کے نزدیک تعال مطلقا ہلم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 63
حاجک (آپ سے جھگڑتا ہے) تعالوا (آجاؤ) ندع (ہم بلاتے ہیں) ابناءنا (اپنے بیٹوں کو) نساءنا (اپنی عورتوں کو) انفسنا (ہماری اپنی ذاتیں) نبتھل (ہم قسم کھاتے ہیں) نجعل (ہم ڈالیں گے) الکٰذبین (جھوٹ بولنے والے) قصص (قصے، واقعات) الحق (بالکل درست، ٹھیک) المفسدین (فساد کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 61 تا 63
سورة آل عمران کی آیات 61 تا 63 میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ یہ جتنے حقائق بیان کئے گئے ہیں اگرچہ نخران کے عیسائیوں کا وفد ماننے کے لئے تیار نہیں ہے تو آپ ان کو ” مباھلہ “ کی دعوت دیجئے یعنی اے نبی آپ اور یہ عیسائی خود اپنی جانوں کو اور اپنے بال بچوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
مباہلہ (یعنی بحث)
شان نزول : نصاریٰ نجران کے سرغنہ اور پادری لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس بحث کو آئے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو اسلام لانے کو کہا۔ انہوں نے کہا : ” ہم تو پہلے سے اسلام لا چکے ہیں “۔ آپ نے فرمایا :” تم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے ہو اور مریم کی تصویروں کی اور صلیب کی پوجا کرتے ہو۔ یہ باتیں تمہارے دین میں کب جائز ہیں “۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اگر خدا کے بیٹے نہیں تو بتلاؤ دنیا میں کون ان کا باپ ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ جس طرح بےماں باپ کے حضرت آدم (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے، اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–69
[28] اسی کا نام شریعت کی اصطلاح میں مباہلہ ہے۔ مباہلہ میں ہر فریق اپنے کو اللہ کے سپرد کرتا ہے اور گڑگڑا کر دعا مانگنے کے بعد اس کے فیصلہ کا منتظر رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
مباہلہ :
(ف 1) مسیح (علیہ السلام) کے متعلق آیات سابقہ میں بکرات یہ بیان کیا جا چکا کہ ان کی حیثیت ایک محترم ومکرم رسول سے زائد نہیں مگر عیسائی ہیں کہ غلو سے کام لیتے ہوئے انہیں ابن اللہ سمجھنے پر مصر ہیں ، ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب مگر آخری فیصلہ کی طرف دعوت دی ہے اور وہ یہ ہے کہ دونوں متخاصم مل کر اللہ سے جھوٹے کی ہلاکت چاہیں اور دیکھیں کہ خدا کس کی تائید میں ہے ، کون باقی رہتا ہے اور کس کے حق میں ہلاکت مقدر ہے ، یہ طریق فیصلہ اس وقت اختیار کیا گیا جب منطق وبرہان کے تمام حربے ناکام رہے اور عقیدت میں غلو ہر دلیل وفلسفہ پر غالب رہا ، جب بحث کے تمام دروازے بند ہوگئے اور غور وفکر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
ف 1۔ اب اگر کوئی شخص اس کے بعد کہ آپ کے پاس صحیح علم آچکا اور ایسے واضح دلائل آ چکے جس سے یقینی علم حاصل ہوجاتا ہے پھر کج بحثی اور کٹ حجتی کرنے لگے تو آپ یوں فرما دیجئے کہ اچھا اگر تم دلیل سے نہیں مانتے تو آئو ہم تم مل کر اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عوتوں کو بلا لیں اور ہم اپنے آپ کو اور تم کو بھی ملا کر جمع کرلیں پھر ہم ملکر نہایت عاجزانہ اور گڑ گڑا کر اس طرح دعا کریں کہ جھوٹوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت بھیجیں ۔ یعنی یوں دعا کریں کہ ہم میں اور تم میں جو جھوٹا اور ناحق پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت نازل ہوا ۔ ( تیسیر)
لعنت کے معنی ہم بتا چکے ہیں کہ اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
ف 1۔ آیت میں اپنے تن سے مراد تو خود اہل مباحثہ ہیں اور نساء سے خاص زوجہ مراد نہیں، بلکہ اپنے گھر کی تمام عورتیں مراد ہیں، جس میں دختر بھی شامل ہے۔ چناچہ آپ بوجہ اس کے کہ حضرت فاطمہ سب اولاد میں زیادہ عزیز تھیں ان کو لائے۔ اسی طرح بنائنا سے خاص صلبی اولاد مراد نہیں بلکہ عام ہے، اولاد کی اولاد کو بھی اور ان کو بھی جو مجازا اولاد کہلاتے ہوں، یعنی عرفا مثل اولاد کے سمجھے جاتے ہوں، اس مفہوم میں نواسے اور داماد بھی داخل ہیں، چناچہ آپ حضرات حسنین اور حضرت علی ؓ کو لائے۔ مباہلہ اب بھی حاجت کے وقت جائز اور مشروع ہے۔ مباہلہ کا انجام کہیں تصریحا تو نظر سے نہیں گزرا، مگر حدیث میں قصہ مذکور کے متعلق اتنا…
Read the full tafseer →علم و یقین کی باتوں کو جھٹلا دیا جائے تو جھگڑے کے سوا باقی کیا رہ جاتا ہے ؟
135: اصل جھگڑا کیا ؟ یہ کہ ایک فریق سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ ، اللہ کا بیٹا اور اللہ کا تیسرا جزو قرار دیتا ہے اور دوسرا فریق عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایک راست باز انسان ، اللہ کا رسول اور نبی قرار دیتا ہے۔ پہلے فریق سے دلیل طلب کی جاتی ہے تو دلیل پیش کرنے کی بجائے اپنی قومی ایچ میں جھگڑے پر اتر آتا ہے دوسرا فریق اپنے نظریہ کے اثبات میں دلائل کی بوچھاڑ کردیتا ہے لیکن فریق اول دلائل کو تسلیم کرنے کی بجائے الجھاؤ شروع کردیتا ہے اس طرح کیا دوسرا فریق بھی الجھنا شروع کر دے ؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ ہرگز نہیں آپ ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
The Meaning of Mubahalah
As stated earlier, verse 61 has instructed the Holy Prophet ﷺ to invite his opponents (Christians) to Mubahalah which literally means 'mutual prayer' but in the terminology of Islamic Shari'ah it refers to a particular form of resolving religious disputes. When the argumentations from both sides fail to resolve a religious issue, the parties jointly pray Allah to cast His curse on whichever of the two parties is parties is false. Since curse means 'moving someone far away from the divine mercy', - and moving far away from mercy is being close to divine…
Read the full tafseer →55. The real aim in suggesting this procedure for deciding the dispute was to prove that the attitude of those amongst the delegation of Najran was one of deliberate stubbornness and intransigence. They had no sound arguments to contradict any of the points mentioned above, and they could not find any shred of evidence in their own scriptures upon which they could claim, with firm conviction, that their beliefs were true. Moreover, all that the members of the deputation had come to know of the character, teachings and achievements of the Prophet had made them more or less convinced of his…
Read the full tafseer →