Explained with ayahs 59–63
اختیارات کی وضاحت اور نجرانی وفد کی روداد
حضرت باری جل اسمہ وعلا قدرہ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کردیا تو کیا کون سی حیرانی بات ہے ؟ میں نے حضرت آدم کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا بھی باپ نہ تھا بلکہ ماں بھی نہ تھی، مٹی سے پتلا بنایا اور کہہ دیا آدم ہوجا اسی وقت ہوگیا، پھر میرے لئے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہوسکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کردیا، پس اگر صرف باپ نہ ہونے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ کو تو سب سے پہلے اس مرتبہ سے ہٹا دینا چاہئے، کیونکہ ان کے دعوے کا جھوٹا ہونا اور خرابی اس سے بھی زیادہ یہاں ظاہر…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 54
یہاں تک کی تقریر میں جو بنیادی نکات عیسائیوں کے سامنے پیش کیے گئے ہیں ان کا خلاصہ علی الترتیب حسب ذیل ہے
پہلا امر جو ان کے ذہن نشین کرنے کی کوشش کی گئی ہے یہ ہے کہ مسیح کی الوہیت کا اعتقاد تمہارے اندر جن وجوہ سے پیدا ہوا ہے، ان میں سے کوئی وجہ بھی ایسے اعتقاد کے لیے صحیح نہیں ہے۔ ایک انسان تھا جس کو اللہ نے اپنی مصلحتوں کے تحت مناسب سمجھا کہ غیر معمولی صورت سے پیدا کرے اور اسے ایسے معجزے عطاکرے جو نبوت کی صریح علامت ہوں، اور منکرین حق کو اسے صلیب پر نہ چڑھانے دے بلکہ اس کو اپنے پاس اٹھالے۔ مالک کو اختیار ہے، اپنے جس بندے کو جس طرح چاہے استعمال کرے۔ محض اس غیر معمولی برتاؤ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
خلاصہ تفسیر
بیشک حالت عجیبہ (حضرت) عیسیٰ ؑ کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک (یعنی ان کی تجویز ازلی میں) مشابہ حالت عجیبہ (حضرت) آدم ؑ کے ہے کہ ان (آدم ؑ کو) یعنی ان کے قالب کو) مٹی سے بنایا پھر ان (کے قالب) کو حکم دیا کہ (جاندار) ہوجا، پس وہ (جاندار) ہوگئے، یہ امر واقعی (جو اوپر مذکور ہوا) آپ کے پروردگار کی طرف سے (بتلایا گیا) ہے سو آپ شبہ کرنے والوں میں سے نہ ہوجائیے، پس جو آپ سے عیسیٰ ؑ کے باب میں (اب بھی) حجت کرے آپ کے پاس علم (واقعی) آئے پیچھے، تو آپ (جواب میں یوں) فرما دیجیے کہ (اچھا اگر دلیل سے نہیں مانتے تو پھر) آجاؤ ہم (اور تم) بلا (کر جمع کر) لیں اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی…
Read the full tafseer →گویا بحث اتمام حجت کے آخری نقطہ پر پہنچ گئی اس وجہ سے قرآن نے یہ کہہ کر کہ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ الایۃ، مزید بحث و گفتگو کا دروازہ بند کردیا۔ اس جملے میں ہمارے نزدیک مبتدا محذوف ہے اور یہ بات ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ جب مبتدا کو حذف کرتے ہیں تو اس سے مقصود مخاطب کی ساری توجہ خبر پر مرکوز کرانی ہوتی ہے۔ یعنی حضرت مسیح سے متعلق اصل حقیقت یہی ہے جو قرآن نے واضح کردی ہے، باقی جو کچھ ہے وہ سب نصاری کی افسانہ طرازی ہے۔ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ میں ظاہر خطاب اگرچہ پیغمبر ﷺ ہے لیکن اس طرح کے مواقع میں، جیسا کہ ہم ایک سے زیادہ مواقع میں واضح کرچکے ہیں، روئے سخن پیغمبر کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
61۔ 1 یہ آیت مباہلہ کہلاتی ہے۔ مباہلہ کے معنی ہیں دو فریق کا ایک دوسرے پر لعنت یعنی بدعا کرنا مطلب یہ ہے کہ جب دو فریقین میں کسی معاملے کے حق یا باطل ہونے میں اختلاف ہو اور دلائل سے وہ ختم ہوتا نظر نہ آتا ہو تو دونوں بارگاہ الہٰی میں یہ دعا کریں کہ یا اللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے اس پر لعنت فرما اس کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ 9 ہجری میں نجران سے عیسائیوں کا ایک وفد نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جو وہ غلو آمیز عقائد رکھتے تھے اس پر مناظرہ کرنے لگا۔ بالآخر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی ﷺ نے انہیں مباہلہ کی دعوت دی حضرت علی ؓ، حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت حسن، حسین ؓ کو بھی ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
25: اس عمل کو مباہلہ کہا جاتا ہے، جب بحث کا کوئی فریق دلائل کو تسلیم کرنے کے بجائے ہٹ دھرمی پر تل جائے تو آخری راستہ یہ ہے کہ اسے مباہلہ کی دعوت دی جائے جس میں دونوں فریق اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ ہم میں سے جھوٹا یا باطل پر ہو وہ ہلاک ہوجائے، جیسا کہ اس سورت کے شروع میں بیان ہوا ہے، شہر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آیا تھا اس نے آپ سے حضرت عیسیٰ ؑ کی خدائی پر بحث کی، جس کا اطمینان بخش جواب قرآن کریم کی طرف سے پچھلی آیتوں میں دے دیا گیا، جب وہ کھلے دلائل کے باوجود اپنی گمراہی پر اصرار کرتے رہے تو اس آیت نے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ وہ انہیں مباہلے کی دعوت دیں ؛ چنانچہ آپ…
Read the full tafseer →فرماتے ہیں : الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ……………” تم ان لوگوں میں شامل نہ ہو ‘ جو اس میں شک کرتے ہیں “…………رسول ﷺ نہ تو شک کرتے تھے اور نہ ہی ان کے دل میں کوئی خلجان تھا۔ ان پر جو کلام نازل ہوتا تھا وہ اسے من جانب اللہ سمجھتے تھے ۔ ایک لحظہ کے لئے بھی شک ان کے قریب نہیں آیا۔ یہاں مقصود یہ ہے کہ آپ اس ہدایت پر جم جائیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت مسلمہ کے دشمنوں نے اس دور میں اہل ایمان کے خلاف سازشوں کا جال پھیلا رکھا تھا ‘ اور وہ اس سازش میں امت مسلمہ کے بعض افراد کو پھانس رہے تھے ۔ امت مسلمہ کے خلاف یہ سازشیں آج بھی ہورہی ہیں اور ہر دور میں ہوتی رہتی ہیں ۔ اور اس بات…
Read the full tafseer →2 یعنی مسیح (علیہ السلام) کے متعلق جو کچھ حق تعالیٰ نے فرمایا وہ ہی حق ہے جس میں شک و شبہ کی قطعا گنجائش نہیں۔ جو بات تھی بلا کم وکاست سمجھا دی گئی۔
Read the full tafseer →آیت 60 اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلاَ تَکُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ
یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں اصل حقیقت یہی ہے جو قرآن نے واضح کردی ہے ‘ باقی سب نصاریٰ کی افسانہ طرازی ہے۔ اور یہ جو فرمایا : فَلاَ تَکُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ اس میں خطاب بظاہر رسول اللہ ﷺ سے ہے مگر روئے سخن مخاطبین سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
55 اس آیت سے عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح کی تردید کا آغاز ہو رہا ہے۔ 8 ھ کے آواخر میں مکہ فتح ہوگیا تو 9 ھ میں وفود عرب کی مدینہ میں آمد شروع ہوگئی۔ ان میں کچھ لوگ تو اسلام قبول کرنے آتے تھے اور کچھ اسلام کی باتیں سیکھنے کے لیے۔ چناچہ اسی زمانہ میں نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد بھی مدینہ میں آیا۔ نجران حجاز اور یمن کے درمیان ایک علاقہ ہے۔ جہاں عیسائیوں کی جمہوری حکومت تھی۔ اس وقت اس علاقہ میں 73 بستیاں شامل تھیں اور ایک لاکھ سے زائد جنگی مرد یہاں موجود تھے۔ یہ حکومت تین سرداروں کے زیر حکم تھی۔ ایک عاقب کہلاتا تھا۔ جس کی حیثیت امیر قوم کی تھی۔ دوسرا سید کہلاتا تھا جو ان کے سیاسی اور تمدنی…
Read the full tafseer →145 ۔ (اس حقیقت کے باب میں اے مخاطب ! ) قرآن مجید میں خطاب کہیں براہ راست رسول اللہ ﷺ سے ہے اور کہیں عام مخاطب افراد امت ہیں اور ضمیر واحد حاضر دونوں کے لئے یکساں ومشترک ہے دونوں کا فرق و امتیاز مفسر کے ذوق پر منحصر ہے۔ ان سطور میں زیادہ سے زیادہ اتباع مفسر تھانوی (رح) کے ذوق کا کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے۔ اور مراد آپ ﷺ کی امت ہے اس لیے کہ خود آپ ﷺ سے تو اس کا امکان ہی نہ تھا۔ اور مراد آپ ﷺ کی امت ہے اس لیے کہ خود آپ ﷺ سے تو اس کا امکان ہی نہ تھا۔ الخطاب للنبی ﷺ والمراد امتہ (قرطبی) (آیت) ” الحق من ربک “۔ یہ حقائق پروردگار عالم کی طرف سے بیان ہورہے ہیں اس لیے شک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الْعِلْمِ (الآیۃ) یہ آیت مباہلہ کہلاتی ہے مباہلہ کے معنیٰ ہیں دو فریق کا ایک دوسرے پر لعنت یعنی بددعاء کرنا، مطلب یہ کہ جب دو فریقوں میں کسی معاملے کے حق و باطل ہونے میں اختلاف و نزاع پیدا ہوجائے اور دلائل سے وہ ختم ہوتا نظر نہ آتا ہو تو دونوں فریق بارگاہِ الہیٰ میں یہ دعاء کریں کہ یا اللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہو اس پر لعنت فرما، اس کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ 9 ھ میں نصاریٰ نجران کے چودہ اکابر کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا گفتگو الوہیت مسیح کے مسئلہ پر رہی اسلامی عقیدہ بالکل صاف اور واضح تھا، لیکن مسیحی نمائندے اپنی بات پر…
Read the full tafseer →اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ : یہی حق ہے جو تمہارے رب کی طرف سے یا تمہارے رب کے پاس سے یہ حق آچکا۔
فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ : پس اے انکار کرنے والے مخاطب تو عیسیٰ کے معاملہ میں شبہ کرنے والوں میں سے نہ ہو جیسا کہ یہودی شک میں پڑگئے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے عیسیٰ کی والدہ پر زناء کی تہمت لگائی اور عیسائی شک میں پڑگئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہنے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
(59۔ 60) اب اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ کی بغیر باپ کے پیدائش کو بیان فرماتے ہیں کیوں کہ وفد بنی نجران نے رسول اکرم ﷺ سے کہا تھا کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بیٹے نہیں ہیں، اس پر کچھ ثبوت قرآنی لے کر آؤ تو اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی منفرد حالت حالت اللہ تعالیٰ کی تجویز ازلی میں حضرت آدم ؑ کی حالت عجیبہ کے طریقہ پر ہے کہ ان کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا اور پھر ان کے قالب کو کہا کہ پیدا ہوجا، سو وہ ہوگئے، اسی طرح کا معاملہ حضرت عیسیٰ ؑ کا ہے کہ ان کو بغیر باپ کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پیدا ہوجا سو وہ پیدا ہوگئے یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ ؑ العیاذ باللہ خدا…
Read the full tafseer →اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ۔۔ : یعنی عیسیٰ ؑ کے بارے میں تمہارے سامنے جو حق بیان ہوا ہے یہ تیرے رب کی طرف سے ہے۔ ”اَلْحَقُّ“ میں الف لام عہد کا ہے جس کا اشارہ گزشتہ بیان کی طرف ہے اس لیے ترجمہ ”یہ حق تیرے رب کی طرف سے ہے“ کیا گیا ہے۔ اور اس میں شک و شبہ کی ہرگز گنجائش نہیں ہے۔ (ابن کثیر) یہ خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے مگر مقصود تمام مسلمانوں کو تنبیہ کرنا ہے۔ (رازی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
آیت نمبر : 59 تا 60۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل ادم، خلقہ من تراب “۔ یہ آیت قیاس کے صحیح ہونے پر دلیل ہے اور تشبیہ اس بناء پر واقع ہے، کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو آدم (علیہ السلام) کی طرح بغیر باپ کے پیدا کیا گیا ہے، اس بنا پر نہیں ہے کہ انہیں مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور ایک شے دوسری شے کے مشابہ ہوتی ہے جب وہ دونوں ایک وصف میں جمع ہوں اگرچہ فی الحقیقت دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہو، کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے تخلیق فرمایا گیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا نہیں کیا گیا پس اس جہت سے دونوں کے درمیان فرق ہے لیکن جس شے میں دونوں کو تشبیہ دی گئی ہے وہ یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
(1) ابن ابی شیبہ، مسلم، ابو داؤد، نسائی اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ فجر کی دو رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں لفظ آیت ” قولوا امنا باللہ وما انزل الینا “ اور دوسری رکعت میں ” تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم “ پڑھتے تھے۔
ہرقل روم کے نام دعوت نامہ
(2) عبد الرزاق، بخاری، مسلم، نسائی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو ابو سفیان ؓ نے بیان کیا کہ ہرقل (جو روم کا بادشاہ تھا) نے رسول اللہ ﷺ کا خط منگوایا اور اس کو پڑھا اس میں یہ تھا : لفظ آیت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
من محمد رسول اللہ الی ہرقل عظیم الروم سلام علی من اتبع الھدی اما بعد…
Read the full tafseer →[اَلْحَقُّ : حق ہے ] [مِنْ رَّبِّکَ : تیرے رب (کی طرف) سے ] [فَلاَ تَـکُنْ : تو آپ ﷺ ‘ نہ ہوں ] [مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ : شک کرنے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ ) کہ یہ جو کچھ بیان ہوا آپ کے رب کی طرف سے حق ہے آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجائیں بظاہر اس میں خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور مقصود امت کو خطاب کرنا ہے کہ وہ کسی طرح سے شک میں نہ پڑیں۔ کما قال البغوی فی معالم التنزیل الخطاب للنبی ﷺ والمراد امتہ۔ (صفحہ 310: ج 1)
اسباب النزول صفحہ 98 میں لکھا ہے کہ نجران کے نصاریٰ کا ایک وفد آیا اس نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ کیا بات ہے آپ ہمارے صاحب کو (یعنی ہم جسے مانتے ہیں) برا کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا میں کیا کہتا ہوں ؟ کہنے لگے آپ کہتے ہیں کہ وہ ایک بندہ ہے آپ نے فرمایا کہ ہاں وہ اللہ کے بندے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
نصاری کے ایک استدلال یا شبہ کا جواب۔
ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل۔۔۔ الی۔۔ الممترین۔
اس آیت میں اللہ جل شانہ نے نصارائے نجران کے ایک شبہ کا جواب دیا ہے جس کو وہ حضرت عیسیٰ کے ابنیت کے لیے بطور استدلال ذکر کرتے تھے وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے معلوم ہوا کہ وہ خدا اور خدا کے بیٹے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی کہ عیسیٰ کا بغیر باپ کے پیدا ہونا کچھ تعجب انگیز نہیں ہم نے آدم کو اپنی قدرت سے بغیر ماں اور باپ کے مٹی سے پیدا کیا حضرت عیسیٰ اگرچہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے لیکن اپنی جنس کے ایک رد سے تو پیدا ہوئے مگر آدم تو بالکل ہی غیر جنس سے پیدا ہوئے پس اگر…
Read the full tafseer →84 الحق خبر ہے اور اس کا مبتدا ھُوَ محذوف ہے یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے کہ وہ آدم (علیہ السلام) کی طرح محض ہماری قدرت کاملہ سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اور الہ نہیں تھے اور ان کی والدہ حضرت مریم صدیقہ پاکباز عورت تھی یہ سب حق ہے اس میں کوئی شک نہیں اور اس کے مقابلے میں یہود ونصاریٰ کے نظریات غلط اور باطل ہیں۔ مثلاً نصاریٰ نے کہا کہ حضرت عیسیٰ معبود اور کارساز ہیں اور یہودیوں نے حضرت مریم کو زنا کی تہمت لگائی تو اللہ تعالیٰ نے دونوں کے خیالات کا ابطال فرمایا۔ قال ابو مسلم المراد ان ھذا الذی انزلت علیک ھو الحق من خبر عیسیٰ (علیہ السلام) لا ما قالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
رفع عیسیٰ (علیہ السلام) پر دلائل :
گذشتہ درس میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر زندہ اٹھائے جانے کا ذکر ہوچکا ہے۔ اس درس میں اس موضوع پر بعض دلائل ہوں گے اور واقعہ رفع کی مزید تفصیلات پیش کی جائیں گی۔ چناچہ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھائے جانے کا واقعہ بعید از قیاس نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر جو معجزات ظاہر فرمائے ، وہ اس بات کی طرف اشارہ تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ غیر معمولی سلوک کر رہا ہے ، پہلے گزر چکا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) مٹی سے پرندے کی شکل بناتے ، پھر اس میں پھونک مارتے تو وہ اللہ کے حکم سے زندہ پرندہ بن کر اڑ جاتا۔ آپ کا دوسرا معجزہ یہ…
Read the full tafseer →اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ 60
حقَ
أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة .
والحقّ يقال علی أوجه :
الأول :
يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] .
والثاني :
يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
1 ؎ یہاں بھی نیچری مصنف نے بہت ہاتھ پائوں مار کر مسیح کا یوسف نجار سے پیدا ہونا ثابت کرنا چاہا تھا مگر نہ ہوسکا۔
ترکیب : مثل عیسیٰ ای صفۃ عیسیٰ اسم ان کمثل آدم خبر ‘ خلقہ جملہ تفسیر ہے مثل کی۔ فیہ کی ضمیر عیسیٰ یا ان کے قصہ کی طرف راجع ہے من شرطیہ ہے ماضی بمعنی مستقبل۔
تفسیر : قصہّ مباہلہ : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرما کر عیسیٰ پرست قوم کی طرف یعنی نصاریٰ کی طرف (جو ان کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اس لئے کہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے) روئے سخن کیا جاتا ہے اور ان کے عقیدہ کا ابطال فرما کر ان کو مباہلہ کے لئے بلایا جاتا ہے کہ خدا کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کا ویسا ہی حال یعنی پیدا کرنا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَاللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمِ ط خَلَقَہٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَـہٗ کُنْ فَیَکُوْنَ ۔ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّـکَ فَلاَ تَـکُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ ۔
بیشک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال اللہ کے نزدیک آدم (علیہ السلام) کی مانند ہے۔ اسے اللہ نے مٹی سے بنایا پھر اسے فرمایا ہوجا تو وہ ہوگیا۔ (اے مخاطب ! ) یہ حقیقت ہے تیرے رب کی جانب سے، پس تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجا) (59 تا 60)
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں عیسائیوں نے جن غلط فہمیوں کی بنیاد پر غلط عقائد اختیار کیے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایک انسان اور رسول سمجھنے کی بجائے کبھی خدا اور کبھی خدا کا بیٹا بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اللہ کا بندہ اور رسول ہونا حق ہے۔ دلائل کے باوجود جو حق تسلیم نہیں کرتا اسے سمجھانے کا آخری طریقہ مباہلہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور ان کے خاندان کی مرحلہ وار تاریخ کے واضح دلائل اور روشن حقائق کے ساتھ نجران کے وفد کو دعوت دی۔ لیکن وہ اس کے باوجود کہنے لگے کہ ہم تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا سمجھتے ہیں۔ اس موقع پر آیت مباہلہ نازل ہوئی۔ مباہلہ کا معنٰی ہے عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کرنا کہ حق والا سرخرو ہو اور جھوٹے پر اللہ کی پھٹکار نازل ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے نجران کے وفد کو فرمایا کہ کل میں…
Read the full tafseer →ایک نحوی تحقیق :
60: اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ (یہی حق تمہارے رب کی طرف سے ہے پس نہ ہو تو شک کرنے والوں میں سے)
نحو : یہ مبتدائے محذوف ہو کی خبر ہے فَلَا تَکُنْ (پس اے سامع تو نہ ہو) مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ (شک کرنے والوں میں سے) یہ احتمال بھی ہے کہ خطاب نبی اکرم ﷺ کو ہو۔ اس صورت میں یہ ثابت پر مزید ابھارنے کیلئے فرمایا گیا کیونکہ آپ ﷺ تو شک سے معصوم تھے۔
Read the full tafseer →(تفسیر) 60۔:
(آیت)” الحق من ربک “ یہی حق ہے جو تمہارے رب کی طرف سے یا تمہارے رب کے پاس سے آچکا ہے (آیت)” فلاتکن من الممترین “ عیسائی آپ کے عیسیٰ (علیہ السلام) ہونے میں شک میں پڑگئے ، یہ خطاب آپ ﷺ کو ہے مراد آپ ﷺ کی امت ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
(59 ۔ 63) ۔ بیہقی نے دلائل النبوہ میں اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں اور ابن سعد نے طبقات میں اس آیت کی شان نزول جو بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نجران کے نصاریٰ کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان کو اسلام لانے کا پیغام تھا وہاں سے کچھ نصاریٰ کے سرغنہ اور پادری لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس بحث کو آئے آنحضرت ﷺ نے ان سے اسلام لانے کو کہا انہوں نے جواب دیا کہ ہم تم سے پہلے ہی اسلام لا چکے ہیں آپ نے فرمایا تم حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے ہو اور سور کا گوشت کھاتے ہو اور حضرت عیسیٰ اور مریم کی تصویروں اور صلیب کی پوجا کرتے ہو یہ باتیں تمہارے دین میں کب جائز ہیں انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
عیسائی عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں وہ عقیدہ رکھتے ہیں جو درست نہیں، ان کے پاس اس کی کوئی قومی یا ضعیف دلیل بھی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ آپ کا کوئی والد نہیں، اس لئے وہ حق رکھتے ہیں کہ انہیں اللہ کا بیٹا اور شریک تسلیم کیا جائے۔ یہ بات دلیل تو درکنار، شبہ بننے کے بھی قابل نہیں۔ کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس طرح پیدا کرنے سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اکیلا اللہ ہی تخلیق و تدبیر کا مالک ہے اور تمام اسباب اس کی مشیت و ارادہ کے تابع ہیں۔ چناچہ اس سے ان کے قول کی تردید ہی ہوتی ہے تائید نہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مخلوق کا کوئی فرد اللہ کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے شریک بننے کا مستحق نہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
مباہلہ کا جواز
قول بارے ہے (فقل تعالواند ع ابناء نا وایتاء کم ونساء ناونساء کم وانفسنا وانسکم، اے محمد ! ان سے کہو، آؤہم اور تم خود بھی آجائیں اور اپنے اپنے بال کو بھی لے آئیں) عیسائیوں کے اس قول کے خلاف کہ حضرت مسیح ابن اللہ ہیں اس آیت سے استدلال پہلے گذرچکا ہے نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد جس میں ان کا سردار اورنائب سرداردونوں تھے، حضور ﷺ کی خدمت میں آیا تھا۔ ان دونوں نے حضور ﷺ سے سوال تھا کہ آپ نے بن باپ کا کوئی بچہ دیکھا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم، اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی مثال کی طرح ہے) حضرت ابن عباس حسن اور قتادہ سے یہی روایت…
Read the full tafseer →129 منکرین پر الزام اور اتمام حجت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے پس تم اے مخاطب شک کرنے والوں سے نہ ہوجانا۔ سو حق کی ایسی وضاحت کے بعد شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی : کہ حق تمہارے رب کی طرف سے واضح ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) خدا نہیں، خدا کے بندے اور اس کے رسول تھے۔ ان کی ولادت باسعادت والد کے واسطے کے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے حکم سے معجزانہ طور پر ہوئی تھی۔ اور ان کی والدہ ماجدہ قطعی طور پر ایک عفیفہ اور پاکدامن تھیں۔ بہود بےبہبود کی طرف سے ان پر لگائے جانے والے الزامات سب افتراء و بہتان تھے۔ پس حضرت عیسیٰ نہ تو وَلَدُ الّزِنا تھے جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
عیسٰی (علیہ السلام) کی پیدائش کی مثال
تشریح : اہل کتاب محمد رسول اللہ ﷺ سے جھگڑا کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے نہیں بلکہ اس کے بیٹے ہیں، ان لوگوں کی عقل میں یہ بات آہی نہیں رہی تھی کہ باپ کے بغیر بیٹا کیسے پیدا ہوسکتا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ حکمت اور دانائی کی باتیں ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) تو صرف باپ کے بغیر پیدا کئے گئے ہیں، جب کہ حضرت آدم (علیہ السلام) تو بغیر باپ اور ماں کے صرف اللہ کے حکم سے پیدا کئے گئے تھے تو کیا وہ بھی اللہ کا بیٹا یا نعوذ باللہ اللہ کہلانے کے حقدار ہوگئے تھے۔ ہرگز نہیں یہ تو اللہ رب العزت کی حکمت اور کمال ہے کہ اس نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–63
آیات 55- 63
اسرارومعارف
اذقال اللہ یا عیسیٰ انی متوفیک…………والذکرالحکیم۔
اب خفیہ تدبیر کیا تھی ؟ کہ یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنا چاہا اور اللہ نہ صرف انہیں بچانا چاہتا تھا ، بلکہ اپنی عظمت کا ایک نشان اور اپنے نبی ﷺ کی نبوت کے نشان کے طور پر باقی بھی رکھنا چاہتا تھا جس طرح ان کی پیدائش عجیب تھی ، ایسے ہی پرورش بھی نرالی کہ پالنے میں باتیں کیں پھر معجزات بھی عجیب تر۔
قدرت باری کے مظاہر :
اور اس کے بعد رفع یعنی آسمانوں پر اٹھایا جانا اور پھر دنیا میں نزول ، اس کے بعد موت یہ سب امور قدرت باری کے مظاہر ہیں۔
ارشاد ہوا کہ اے عیسیٰ میں تمہیں لے لوں گا اور اٹھالوں گا۔ یہ معنی اس صورت…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں تمہارے سامنے جو کچھ بیان ہوا ہے وہ حق ہے اور اس میں شک وشبہ کی ہرگز گنجائش نہیں ہے۔ (ابن کثیر) یہ خطاب بظا ہر نبی ﷺ سے ہے مگر مقصود تمام مسلمانوں کو تنبیہ کرنا ہے۔ رازی)
Read the full tafseer →(3:60) الحق۔ یعنی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تخلیق آدم و تخلیق عیسیٰ (علیہما السلام) میں کوئی اختلاف نہیں ہے ہر دو اس کی قدرت کاملہ کی جلوہ گری کا نتیجہ ہیں بالکل حق و صداقت ہے۔
ممترین۔ اسم فاعل جمع مذکر امتراء مصدر باب افتعال۔ شک میں پڑنے والے تردد کرنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
لغات القرآن آیت نمبر 55 تا 60
انی متوفیک (میں تجھے پوراپورا لے لوں گا لفظ متوفی کا مصدر توفی ہے اور مادہ فئ اس کے اصل معنی عربی لغت کے اعتبار سے پورا پورا لینے کے ہیں) رافعک (تجھے اٹھالوں گا) الی (اپنی طرف) مطھرک (تجھے پاک کردوں گا) اتبعوک (جنہوں نے تیری اتباع کی) فوق (اوپر) مرجعکم (تمہیں لوٹنا ہے) احکم میں فیصلہ کروں گا) مختلفون (اختلاف کرنے والے) اعذب (میں عذاب دوں گا) یوفی (پورا بدلہ دیا جائے گا) اجور (بدلے، (اجر کی جمع ہے) نتلو (ہم پڑھتے ہیں) الذکر الحکیم (حکمت والا ذکر) تراب (مٹی) ۔
تشریح : آیت نمبر 55 تا 60
سورة آل عمران کی آیت 55 تا 60 کا خلاصہ یہ ہے کہ ان تمام یہودیوں نے قوم بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
مباہلہ (یعنی بحث)
شان نزول : نصاریٰ نجران کے سرغنہ اور پادری لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس بحث کو آئے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو اسلام لانے کو کہا۔ انہوں نے کہا : ” ہم تو پہلے سے اسلام لا چکے ہیں “۔ آپ نے فرمایا :” تم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے ہو اور مریم کی تصویروں کی اور صلیب کی پوجا کرتے ہو۔ یہ باتیں تمہارے دین میں کب جائز ہیں “۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اگر خدا کے بیٹے نہیں تو بتلاؤ دنیا میں کون ان کا باپ ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ جس طرح بےماں باپ کے حضرت آدم (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے، اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ…
Read the full tafseer →[27] اس آیت میں خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے لیکن مراد آپ کی امت ہے اس لئے کہ خود آپ ﷺ کی ذات سے تو اس کا امکان نہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
مباہلہ :
(ف 1) مسیح (علیہ السلام) کے متعلق آیات سابقہ میں بکرات یہ بیان کیا جا چکا کہ ان کی حیثیت ایک محترم ومکرم رسول سے زائد نہیں مگر عیسائی ہیں کہ غلو سے کام لیتے ہوئے انہیں ابن اللہ سمجھنے پر مصر ہیں ، ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب مگر آخری فیصلہ کی طرف دعوت دی ہے اور وہ یہ ہے کہ دونوں متخاصم مل کر اللہ سے جھوٹے کی ہلاکت چاہیں اور دیکھیں کہ خدا کس کی تائید میں ہے ، کون باقی رہتا ہے اور کس کے حق میں ہلاکت مقدر ہے ، یہ طریق فیصلہ اس وقت اختیار کیا گیا جب منطق وبرہان کے تمام حربے ناکام رہے اور عقیدت میں غلو ہر دلیل وفلسفہ پر غالب رہا ، جب بحث کے تمام دروازے بند ہوگئے اور غور وفکر کے…
Read the full tafseer →ف 5۔ یقین جانو ! کہ حضرت عیسیٰ کا حال عجیب اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسا ہی ہے جیسا آدم کا حال عجیب کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قالب کو مٹی سے بنایا پھر ان کے اس مٹی کے قالب اور مجسمہ کو حکم دیا کہ ہوجا سو وہ ہوگیا ۔ یعنی حکم دیتے ہی ایک جاندار آدمی بن گیا یہ امور مذکورہ اصل حقیقت ہے جو آپ کے رب کی جانب سے بتائی گئی ہے ۔ سوائے پیغمبر آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوجانا جو شک کرنے والے ہیں۔ (تیسیر)
تمام بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ وفد نجران کے عقیدۂ فاسد کا بطلان کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ مسیح کے متعلق الوہیت کا اعتقاد محض باطل اور لغو ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایک انسان تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی صالح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
ف 1۔ آیت میں اپنے تن سے مراد تو خود اہل مباحثہ ہیں اور نساء سے خاص زوجہ مراد نہیں، بلکہ اپنے گھر کی تمام عورتیں مراد ہیں، جس میں دختر بھی شامل ہے۔ چناچہ آپ بوجہ اس کے کہ حضرت فاطمہ سب اولاد میں زیادہ عزیز تھیں ان کو لائے۔ اسی طرح بنائنا سے خاص صلبی اولاد مراد نہیں بلکہ عام ہے، اولاد کی اولاد کو بھی اور ان کو بھی جو مجازا اولاد کہلاتے ہوں، یعنی عرفا مثل اولاد کے سمجھے جاتے ہوں، اس مفہوم میں نواسے اور داماد بھی داخل ہیں، چناچہ آپ حضرات حسنین اور حضرت علی ؓ کو لائے۔ مباہلہ اب بھی حاجت کے وقت جائز اور مشروع ہے۔ مباہلہ کا انجام کہیں تصریحا تو نظر سے نہیں گزرا، مگر حدیث میں قصہ مذکور کے متعلق اتنا…
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے پوری امت کو سبق دیا جا رہا ہے :
134: اے پیغمبر اسلام ! سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے وہ سب کا سب حق ہے جو تمہارے رب کی طرف سے اعلان کیا جا رہا ہے اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ ہاں ! آپ ﷺ کے توسط سے پوری دنیائے انسانیت کو یہ درس دیا جا رہا ہے انسان ہونے کے رشتہ سے تم سب کا حق ہے کہ تم خوب غور و خوض کرلو اور اگر غور و فکر سے کام لو گے تو عیسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت اس کے سوا کچھ بھی ثابت نہیں ہوگی جو بیان کی جا رہی ہے۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ :
ذٰلِکَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْہِ یَمْتَرُوْنَ ۔ (مریم :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
The event of Mubahala and the refutation of heretics.
The background of these verses is that the Holy Prophet ﷺ ultimatum to the Christians of Najran which included three options in the order given below:
1. Accept Islam, or
2. Pay jizya جزیہ (a levy on free non-Muslims under Muslim rule), or
3. Get ready for a war.
After mutual consultation, the Christians sent a delegation to the Holy Prophet ﷺ consisting of Shurahbil ` Abdullah b. Shurahbil and Jabbar ibn Fayd to the Holy Prophet ﷺ ۔ They came and began their talks on religious issues. When they, in their effort to prove the godhood of…
Read the full tafseer →54. The main points set before the Christians so far are the following: First, it was impressed upon them that none of the various arguments which gave rise to the doctrine of the divinity of Jesus provided valid grounds to support that doctrine. Jesus was merely a human being whom God had created in an extraordinary manner for reasons best known to Him. God had also invested Jesus with the power to perform certain miracles by means of which he could categorically establish his claim to prophethood. It seems perfectly reasonable that God should not have allowed such an extraordinary person to…
Read the full tafseer →