Explained with ayahs 59–63
اختیارات کی وضاحت اور نجرانی وفد کی روداد
حضرت باری جل اسمہ وعلا قدرہ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کردیا تو کیا کون سی حیرانی بات ہے ؟ میں نے حضرت آدم کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا بھی باپ نہ تھا بلکہ ماں بھی نہ تھی، مٹی سے پتلا بنایا اور کہہ دیا آدم ہوجا اسی وقت ہوگیا، پھر میرے لئے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہوسکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کردیا، پس اگر صرف باپ نہ ہونے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ کو تو سب سے پہلے اس مرتبہ سے ہٹا دینا چاہئے، کیونکہ ان کے دعوے کا جھوٹا ہونا اور خرابی اس سے بھی زیادہ یہاں ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
سورة اٰلِ عِمْرٰن 53
یعنی اگر محض اعجازی پیدائش ہی کسی کو خدا یا خدا کا بیٹا بنانے کے لیے کافی دلیل ہو تب تو پھر تمہیں آدم کے متعلق بدرجہ اولیٰ ایسا عقیدہ تجویز کرنا چاہیے تھا، کیونکہ مسیح تو صرف بےباپ ہی کے پیدا ہوئے تھے، مگر آدم ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
خلاصہ تفسیر
بیشک حالت عجیبہ (حضرت) عیسیٰ ؑ کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک (یعنی ان کی تجویز ازلی میں) مشابہ حالت عجیبہ (حضرت) آدم ؑ کے ہے کہ ان (آدم ؑ کو) یعنی ان کے قالب کو) مٹی سے بنایا پھر ان (کے قالب) کو حکم دیا کہ (جاندار) ہوجا، پس وہ (جاندار) ہوگئے، یہ امر واقعی (جو اوپر مذکور ہوا) آپ کے پروردگار کی طرف سے (بتلایا گیا) ہے سو آپ شبہ کرنے والوں میں سے نہ ہوجائیے، پس جو آپ سے عیسیٰ ؑ کے باب میں (اب بھی) حجت کرے آپ کے پاس علم (واقعی) آئے پیچھے، تو آپ (جواب میں یوں) فرما دیجیے کہ (اچھا اگر دلیل سے نہیں مانتے تو پھر) آجاؤ ہم (اور تم) بلا (کر جمع کر) لیں اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی…
Read the full tafseer →عیسیٰ ؑ کی مثال آدم ؑ کی ہے : یہ آیت اس باب میں خاتمہ بحث کی آیت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح خدا کے آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور اس کو فرمایا کہ ہوجا تو وہ ہوگیا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے کلمہ ’ کن ‘ سے عیسیٰ ؑ کو پیدا کردیا۔ بلکہ ولادت کے معاملے میں آدم کو اس اعتبار سے عیسیٰ ؑ پر فضیلت حاصل ہے کہ ان کی ولادت میں نہ باپ کو دخل ہے نہ ماں کو تو جب نصاری ان کو معبود نہیں مانتے تو آخر حضرت عیسیٰ ؑ کو معبود کیوں بنا بیٹھے ؟
”لفظ ’ ابن ‘ کا استعمال دوسروں کے لیے : جس طرح پیدائش کے معاملے سے کسی مغالطے کے لیے کوئی وجہ موجود نہیں تھی، اسی طرح ’ ابن ‘ کے لفظ سے بھی، اگر نصاری عقل سے کام لیتے تو کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
61۔ 1 یہ آیت مباہلہ کہلاتی ہے۔ مباہلہ کے معنی ہیں دو فریق کا ایک دوسرے پر لعنت یعنی بدعا کرنا مطلب یہ ہے کہ جب دو فریقین میں کسی معاملے کے حق یا باطل ہونے میں اختلاف ہو اور دلائل سے وہ ختم ہوتا نظر نہ آتا ہو تو دونوں بارگاہ الہٰی میں یہ دعا کریں کہ یا اللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے اس پر لعنت فرما اس کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ 9 ہجری میں نجران سے عیسائیوں کا ایک وفد نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جو وہ غلو آمیز عقائد رکھتے تھے اس پر مناظرہ کرنے لگا۔ بالآخر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی ﷺ نے انہیں مباہلہ کی دعوت دی حضرت علی ؓ، حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت حسن، حسین ؓ کو بھی ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
25: اس عمل کو مباہلہ کہا جاتا ہے، جب بحث کا کوئی فریق دلائل کو تسلیم کرنے کے بجائے ہٹ دھرمی پر تل جائے تو آخری راستہ یہ ہے کہ اسے مباہلہ کی دعوت دی جائے جس میں دونوں فریق اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ ہم میں سے جھوٹا یا باطل پر ہو وہ ہلاک ہوجائے، جیسا کہ اس سورت کے شروع میں بیان ہوا ہے، شہر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آیا تھا اس نے آپ سے حضرت عیسیٰ ؑ کی خدائی پر بحث کی، جس کا اطمینان بخش جواب قرآن کریم کی طرف سے پچھلی آیتوں میں دے دیا گیا، جب وہ کھلے دلائل کے باوجود اپنی گمراہی پر اصرار کرتے رہے تو اس آیت نے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ وہ انہیں مباہلے کی دعوت دیں ؛ چنانچہ آپ…
Read the full tafseer →اس کے بعد یہ اختتامیہ حقیقت مسیح کا فیصلہ کردیتا ہے ‘ فیصلہ کن انداز میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کا ارادہ ہی ہر چیز کا خالق ہے ۔ جس طرح اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا کیا ۔ اللہ کے ہاں تخلیق کا عمل صرف یہ ہے ۔
إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ……………” اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے کہ اللہ نے اسے مٹی سے بنایا اور حکم دیا کہ ہوجا اور وہ ہوگیا۔ “
حضرت عیسیٰ کی ولادت اس اعتبار سے کہ وہ پیدائش انسانی کے عام ڈگر سے ہٹ کر ہے ضرور تعجب انگیز ہے ۔ لیکن جب اسے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے حوالے سے دیکھاجائے ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
1 نصاریٰ اس بات پر حضرت سے بہت جھگڑے کہ عیسیٰ بندہ نہیں اللہ کا بیٹا ہے۔ آخر کہنے لگے کہ وہ اللہ کا بیٹا نہیں تو تم بتاؤ کس کا بیٹا ہے ؟ اس کے جواب میں یہ آیت اتری کہ آدم کے تو نہ باپ تھا نہ ماں۔ عیسیٰ کے باپ نہ ہو تو کیا عجب ہے (موضح القرآن) اس حساب سے تو آدم کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے پر زیادہ زور دینا چاہیئے۔ حالانکہ کوئی بھی اس کا قائل نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 59 اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ط خَلَقَہٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ
قرآن مجید کی یہ آیت ان لوگوں کے حق میں دلیل ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کی خصوصی تخلیق special creation کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک حضرت آدم علیہ السلام کا چناؤ ارتقاء evolution کے نتیجے میں کسی نوع species کے وجود میں آنے کے بعد اس کے ایک فرد کی حیثیت سے نہیں ہوا بلکہ براہ راست مٹی سے تخلیق کیے گئے۔ تخلیق آدم علیہ السلام کے ضمن میں یہ دونوں نظریے ملتے ہیں اور دونوں کے بارے میں دلائل بھی موجود ہیں۔ ابھی یہ کوئی طے شدہ حقائق نہیں ہیں۔ ہم غور و فکر کرسکتے ہیں کہ قرآن مجید کے کس مقام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
55 اس آیت سے عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح کی تردید کا آغاز ہو رہا ہے۔ 8 ھ کے آواخر میں مکہ فتح ہوگیا تو 9 ھ میں وفود عرب کی مدینہ میں آمد شروع ہوگئی۔ ان میں کچھ لوگ تو اسلام قبول کرنے آتے تھے اور کچھ اسلام کی باتیں سیکھنے کے لیے۔ چناچہ اسی زمانہ میں نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد بھی مدینہ میں آیا۔ نجران حجاز اور یمن کے درمیان ایک علاقہ ہے۔ جہاں عیسائیوں کی جمہوری حکومت تھی۔ اس وقت اس علاقہ میں 73 بستیاں شامل تھیں اور ایک لاکھ سے زائد جنگی مرد یہاں موجود تھے۔ یہ حکومت تین سرداروں کے زیر حکم تھی۔ ایک عاقب کہلاتا تھا۔ جس کی حیثیت امیر قوم کی تھی۔ دوسرا سید کہلاتا تھا جو ان کے سیاسی اور تمدنی…
Read the full tafseer →144 ۔ (اسی طرح عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم (علیہ السلام) بشر محض اور حادث و مخلوق ہیں انہیں قدیم اور غیر مخلوق کس طرح مان رہے ہو) (آیت) ” مثل “۔ یہ تثلیث کس لحاظ سے تھی ؟ بشر محض ہونے اور بغیر باپ کے پیدا ہونے میں تھی ، (آیت) ” ادم “۔ جو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے تھے اور پھر بھی بشر محض تھے (آیت) ”۔ لہ “۔ ضمیر حضرت آدم (علیہ السلام) کے خاکی پتلے کی طرف ہے۔ یہ جواب ہے اس مشہور مسیحی شبہ کا، کہ جب مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش ساری دنیا کے عام ضابطہ کے خلاف بغیر باپ کے توسط کے ہوئی تو انہیں بجائے فوق البشر کے محض بشر کیسے تسلیم کیا جائے ؟ جواب یہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو بشر تو خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الْعِلْمِ (الآیۃ) یہ آیت مباہلہ کہلاتی ہے مباہلہ کے معنیٰ ہیں دو فریق کا ایک دوسرے پر لعنت یعنی بددعاء کرنا، مطلب یہ کہ جب دو فریقوں میں کسی معاملے کے حق و باطل ہونے میں اختلاف و نزاع پیدا ہوجائے اور دلائل سے وہ ختم ہوتا نظر نہ آتا ہو تو دونوں فریق بارگاہِ الہیٰ میں یہ دعاء کریں کہ یا اللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہو اس پر لعنت فرما، اس کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ 9 ھ میں نصاریٰ نجران کے چودہ اکابر کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا گفتگو الوہیت مسیح کے مسئلہ پر رہی اسلامی عقیدہ بالکل صاف اور واضح تھا، لیکن مسیحی نمائندے اپنی بات پر…
Read the full tafseer →اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ : دونوں جگہ مثل کا معنی ہے عجیب حالت یعنی اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی عجیب حالت آدم کی عجیب حالت کی طرح ہے۔ وجہ مشابہت یہ ہے کہ۔
خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ : اللہ نے آدم ( علیہ السلام) کو مٹی سے بنایا۔
ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ : پھر اس کا لبد سے کہا زندہ آدمی ہوجا۔
فَيَكُوْنُ : فوراً وہ ہوگیا۔ یہ گذشتہ حال کی حکایت ہے یا یہ مطلب ہے کہ آدمی کو مٹی سے بنانے کا اندازہ کیا اور اندازۂ علمی کو موجود ہوجانے کا حکم دیا تو وہ موجود ہوگیا 1 ۔ لیکن یہاں واقعہ کی تاخیر مدت مراد نہیں ہے بلکہ ایک بیان کی دوسرے بیان سے تاخیر مراد ہے یعنی اوّل آدم کا مٹی سے پیدا کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
(59۔ 60) اب اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ کی بغیر باپ کے پیدائش کو بیان فرماتے ہیں کیوں کہ وفد بنی نجران نے رسول اکرم ﷺ سے کہا تھا کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بیٹے نہیں ہیں، اس پر کچھ ثبوت قرآنی لے کر آؤ تو اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی منفرد حالت حالت اللہ تعالیٰ کی تجویز ازلی میں حضرت آدم ؑ کی حالت عجیبہ کے طریقہ پر ہے کہ ان کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا اور پھر ان کے قالب کو کہا کہ پیدا ہوجا، سو وہ ہوگئے، اسی طرح کا معاملہ حضرت عیسیٰ ؑ کا ہے کہ ان کو بغیر باپ کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پیدا ہوجا سو وہ پیدا ہوگئے یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ ؑ العیاذ باللہ خدا…
Read the full tafseer →اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى۔۔ : یہ سورت شروع سے لے کر یہاں تک (یعنی پہلی آیت سے 59 تک) وفد نجران کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس وفد نے رسول اللہ ﷺ سے بحث کے دوران عیسیٰ ؑ کی ”بُنُوَّۃ“ (اللہ کا بیٹا ہونے) پر اس سے استدلال کیا کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تردید فرمائی کہ اگر بغیر باپ کے پیدا ہونا اللہ کا بیٹا ہونے کی دلیل ہوسکتا ہے تو آدم ؑ جو ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے وہ بالاولیٰ اللہ کا بیٹا کہلانے کے حق دار ہیں، مگر یہ عقیدہ بالکل باطل ہے۔ اصل میں اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کی طرح مسیح ؑ کو بھی ”كُن“ سے پیدا کرکے اپنی قدرت کاملہ کو ظاہر فرمایا ہے۔ (ابن کثیر)
”مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
آیت نمبر : 59 تا 60۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل ادم، خلقہ من تراب “۔ یہ آیت قیاس کے صحیح ہونے پر دلیل ہے اور تشبیہ اس بناء پر واقع ہے، کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو آدم (علیہ السلام) کی طرح بغیر باپ کے پیدا کیا گیا ہے، اس بنا پر نہیں ہے کہ انہیں مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور ایک شے دوسری شے کے مشابہ ہوتی ہے جب وہ دونوں ایک وصف میں جمع ہوں اگرچہ فی الحقیقت دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہو، کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے تخلیق فرمایا گیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا نہیں کیا گیا پس اس جہت سے دونوں کے درمیان فرق ہے لیکن جس شے میں دونوں کو تشبیہ دی گئی ہے وہ یہ ہے…
Read the full tafseer →عیسیٰ (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کے مشابہ ہیں
(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اہل نجران میں سے ایک جماعت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی ان میں السید اور العاقب بھی تھے انہوں نے آپ کو آکر عرض کیا آپ کو کیا ہوا کے آپ ہمارے صاحب کے بارے میں ایسا ایسا کہتے ہو۔ آپ نے فرمایا تمہارا صاحب کون ہے ؟ انہوں نے کہا عیسیٰ (علیہ السلام) تمہارا خیال ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے آپ نے فرمایا ہاں ! وہ اللہ کا بندہ ہے انہوں نے کہا کیا آپ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے مثل کوئی دیکھا ہے یا آپ کو اس کے متعلق کوئی خبر دی گئی ہے پھر وہ آپ سے چلے گئے تو آپ کے پاس جبرئیل (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →[اِنَّ : یقینا ] [مَثَلَ عِیْسٰی : عیسیٰ کی مثال ] [عِنْدَ اللّٰہِ : اللہ کے نزدیک ] [کَمَثَلِ اٰدَمَ : آدم کی مثال جیسی ہے ] [خَلَقَہٗ : اس نے پیدا کیا ان (علیہ السلام) کو ] [مِنْ تُرَابٍ : ایک مٹی سے ] [ثُمَّ : پھر ] [قَالَ : اس نے کہا ] [لَـہٗ : ان (علیہ السلام) سے ] [کُنْ : تو ہوجا ] [فَـیَکُوْنُ : پس وہ ہوگئے ]
ترکیب
” اِنَّ “ کا اسم ” مَثَلَ عِیْسٰی “ ہے اس لیے اس کا مضاف ” مَثَلَ “ منصوب ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے۔ ” کَمَثَلِ اٰدَمَ “ قائم مقام خبر ہے اور ” عِنْدَ اللّٰہِ “ متعلق خبر ہے۔
Read the full tafseer →حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرح سے ہے
سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش جو بغیر باپ کے ہوئی اس پر یہودیوں نے شک کیا اور حضرت مریم [ پر تہمت لگائی اور آج بھی قرآن کے منکرین اسی لکیر کو پیٹ رہے ہیں ان کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ بلا باپ کے مریم بتول کے ہاں کیسے لڑکا پیدا ہوگیا ؟ اللہ جل شانہٗ نے ان سب کے استعجاب اور استبعاد کا جواب دے دیا اور فرمایا (اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ) (الآیۃ) اللہ تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ کی پیدائش ایسی ہی ہے جیسے کہ آدم کو پیدا فرما دیا، آدم کا پتلا بنایا پھر اس میں روح پھونک دی بس باذن اللہ بغیر ماں باپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
نصاری کے ایک استدلال یا شبہ کا جواب۔
ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل۔۔۔ الی۔۔ الممترین۔
اس آیت میں اللہ جل شانہ نے نصارائے نجران کے ایک شبہ کا جواب دیا ہے جس کو وہ حضرت عیسیٰ کے ابنیت کے لیے بطور استدلال ذکر کرتے تھے وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے معلوم ہوا کہ وہ خدا اور خدا کے بیٹے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی کہ عیسیٰ کا بغیر باپ کے پیدا ہونا کچھ تعجب انگیز نہیں ہم نے آدم کو اپنی قدرت سے بغیر ماں اور باپ کے مٹی سے پیدا کیا حضرت عیسیٰ اگرچہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے لیکن اپنی جنس کے ایک رد سے تو پیدا ہوئے مگر آدم تو بالکل ہی غیر جنس سے پیدا ہوئے پس اگر…
Read the full tafseer →83 یہ سابقہ شبہ کے جواب کی تکمیل ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ان کے معبود ہونے کی دلیل نہیں ہے اور نہ ہی یہ کام قدرت خداوندی کے سامنے مشکل یا عجیب ہے ان کی پیدائش قدرت خداوندی کا ایک نمونہ ہے۔ جس طرح حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش ماں اور باپ دونوں کے بغیر قدرت خدا کا نمونہ تھی۔ جس طرح حضرت آدم کی پیدائش محض اللہ کی قدرت اور اس کے ارادے سے ہوئی اسی طرح حضرت عیسیٰ کی پیدائش ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
رفع عیسیٰ (علیہ السلام) پر دلائل :
گذشتہ درس میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر زندہ اٹھائے جانے کا ذکر ہوچکا ہے۔ اس درس میں اس موضوع پر بعض دلائل ہوں گے اور واقعہ رفع کی مزید تفصیلات پیش کی جائیں گی۔ چناچہ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھائے جانے کا واقعہ بعید از قیاس نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر جو معجزات ظاہر فرمائے ، وہ اس بات کی طرف اشارہ تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ غیر معمولی سلوک کر رہا ہے ، پہلے گزر چکا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) مٹی سے پرندے کی شکل بناتے ، پھر اس میں پھونک مارتے تو وہ اللہ کے حکم سے زندہ پرندہ بن کر اڑ جاتا۔ آپ کا دوسرا معجزہ یہ…
Read the full tafseer →اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللہِ كَمَثَلِ اٰدَمَ 0 ۭ خَلَقَہٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ كُنْ فَيَكُوْنُ 59
مثل
والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] .
( م ث ل ) مثل ( ک )
المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح ہوجاتا ہو ۔ اور معاملہ کی شکل سامنے آجاتی ہو ۔ مثلا عین ضرورت پر کسی چیز کو کھودینے کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
1 ؎ یہاں بھی نیچری مصنف نے بہت ہاتھ پائوں مار کر مسیح کا یوسف نجار سے پیدا ہونا ثابت کرنا چاہا تھا مگر نہ ہوسکا۔
ترکیب : مثل عیسیٰ ای صفۃ عیسیٰ اسم ان کمثل آدم خبر ‘ خلقہ جملہ تفسیر ہے مثل کی۔ فیہ کی ضمیر عیسیٰ یا ان کے قصہ کی طرف راجع ہے من شرطیہ ہے ماضی بمعنی مستقبل۔
تفسیر : قصہّ مباہلہ : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرما کر عیسیٰ پرست قوم کی طرف یعنی نصاریٰ کی طرف (جو ان کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اس لئے کہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے) روئے سخن کیا جاتا ہے اور ان کے عقیدہ کا ابطال فرما کر ان کو مباہلہ کے لئے بلایا جاتا ہے کہ خدا کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کا ویسا ہی حال یعنی پیدا کرنا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَاللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمِ ط خَلَقَہٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَـہٗ کُنْ فَیَکُوْنَ ۔ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّـکَ فَلاَ تَـکُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ ۔
بیشک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال اللہ کے نزدیک آدم (علیہ السلام) کی مانند ہے۔ اسے اللہ نے مٹی سے بنایا پھر اسے فرمایا ہوجا تو وہ ہوگیا۔ (اے مخاطب ! ) یہ حقیقت ہے تیرے رب کی جانب سے، پس تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجا) (59 تا 60)
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں عیسائیوں نے جن غلط فہمیوں کی بنیاد پر غلط عقائد اختیار کیے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایک انسان اور رسول سمجھنے کی بجائے کبھی خدا اور کبھی خدا کا بیٹا بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
فہم القرآن
ربط کلام : عیسائیوں سے خطاب کے آغاز میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاندان۔ ان کی پیدائش کے مراحل ‘ حضرت مریم [ کا تعجب ‘ عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت توحید ‘ اس کا رد عمل اور اب ان کی ذات کے بارے میں وضاحت کی جا رہی ہے۔
قرآن مجید نے صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کی تفصیلات ہی نہیں بتائیں بلکہ دنیا کے سامنے ان کے پورے خاندان کی تاریخ رکھ دی ہے۔ جس میں ان کی نانی کی نذر ماننے سے لے کر حضرت مریم [ کی پیدائش، بیت المقدس میں ان کے خالو کے ہاں ان کی تربیت ‘ عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا تذکرہ ‘ ان کی پیدائش پر حضرت مریم [ پر یہودیوں کا الزام اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا جواب…
Read the full tafseer →عجیب کی عجیب تر سے تشبیہ :
59: اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ ٰادَمَ خَلَقَہٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ۔ (بیشک عیسیٰ ( علیہ السلام) کی مثال اللہ تعالیٰ کے ہاں آدم جیسی ہے اس کو مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہوجا پس ہوگیا) یہ آیت اس وقت اتری جب بنی نجران کے وفد نے کہا کیا تم نے بغیر باپ کے بیٹا دیکھا ہے تو فرمایا اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ ٰادَمَ کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کا معاملہ اور عجیب حالت آدم ( علیہ السلام) جیسی ہے۔ خَلَقَہٗ مِنْ تُرَابٍ مٹی سے انکا جسم بنایا یہ جملہ آدم ( علیہ السلام) سے مشابہت والی حالت کی تفسیر ہے۔ اور اعراب کے لحاظ سے…
Read the full tafseer →(ان مثل عیسیٰ کا شان نزول)
59۔ (آیت)” ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل آدم “۔ اس آیت کا نزول نجران کے وفد کے بارے میں ہوا ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا تھا کہ آپ ہمارے آقا کو کیوں گالی دیتے ہو ؟ آپ ﷺ نے پوچھا میں کیا کہتا ہوں وہ کہنے لگے کہ آپ انکو اللہ کے بندے کہتے ہو ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، بیشک وہ اللہ کے بندے اللہ کے رسول اور اللہ کا کلمہ تھے جو عذرا بتول کے شکم میں اللہ نے ڈال دیا تھا یہ سن کر ان کو غصہ آیا اور کہنے لگے کہ آپ نے کوئی آدمی ایسا دیکھا ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوا ہو، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” ان مثل عیسیٰ عنداللہ “۔ ان کو بغیر باپ کے پیدا کیا، جیسا کہ آدم (علیہ السلام) کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
(59 ۔ 63) ۔ بیہقی نے دلائل النبوہ میں اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں اور ابن سعد نے طبقات میں اس آیت کی شان نزول جو بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نجران کے نصاریٰ کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان کو اسلام لانے کا پیغام تھا وہاں سے کچھ نصاریٰ کے سرغنہ اور پادری لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس بحث کو آئے آنحضرت ﷺ نے ان سے اسلام لانے کو کہا انہوں نے جواب دیا کہ ہم تم سے پہلے ہی اسلام لا چکے ہیں آپ نے فرمایا تم حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے ہو اور سور کا گوشت کھاتے ہو اور حضرت عیسیٰ اور مریم کی تصویروں اور صلیب کی پوجا کرتے ہو یہ باتیں تمہارے دین میں کب جائز ہیں انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
عیسائی عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں وہ عقیدہ رکھتے ہیں جو درست نہیں، ان کے پاس اس کی کوئی قومی یا ضعیف دلیل بھی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ آپ کا کوئی والد نہیں، اس لئے وہ حق رکھتے ہیں کہ انہیں اللہ کا بیٹا اور شریک تسلیم کیا جائے۔ یہ بات دلیل تو درکنار، شبہ بننے کے بھی قابل نہیں۔ کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس طرح پیدا کرنے سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اکیلا اللہ ہی تخلیق و تدبیر کا مالک ہے اور تمام اسباب اس کی مشیت و ارادہ کے تابع ہیں۔ چناچہ اس سے ان کے قول کی تردید ہی ہوتی ہے تائید نہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مخلوق کا کوئی فرد اللہ کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے شریک بننے کا مستحق نہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
مباہلہ کا جواز
قول بارے ہے (فقل تعالواند ع ابناء نا وایتاء کم ونساء ناونساء کم وانفسنا وانسکم، اے محمد ! ان سے کہو، آؤہم اور تم خود بھی آجائیں اور اپنے اپنے بال کو بھی لے آئیں) عیسائیوں کے اس قول کے خلاف کہ حضرت مسیح ابن اللہ ہیں اس آیت سے استدلال پہلے گذرچکا ہے نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد جس میں ان کا سردار اورنائب سرداردونوں تھے، حضور ﷺ کی خدمت میں آیا تھا۔ ان دونوں نے حضور ﷺ سے سوال تھا کہ آپ نے بن باپ کا کوئی بچہ دیکھا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم، اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی مثال کی طرح ہے) حضرت ابن عباس حسن اور قتادہ سے یہی روایت…
Read the full tafseer →127 پیغمبر آخر الزماں ﷺ کی صداقت و حقانیت کا ایک اور ثبوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہماری آیتیں ہیں جو ہم آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں [ اے پیغمبر ] اور یہ حکمت سے لبریر ذکر ہے جس سے ہم آپ کو نواز رہے ہیں۔ سو یہ اس بات کا ایک قطعی اور واضح ثبوت اور علامت ہے کہ آپ ہمارے بھیجے ہوئے رسول ہیں، جو ہماری وحی اور ہدایت کے مطابق لوگوں کے سامنے حکمت سے لبریز اس نصیحت و ذکر کو پیش کررہے ہیں۔ ورنہ آپ ﷺ تو امی محض تھے۔ کبھی کسی انسان سے ایک حرف تک نہیں پڑھا تھا۔ تو پھر آپ ﷺ کیلئے ایسے علوم و معارف اور اس قدر حکمت بھرا یہ ذکر سنانے اور پیش کرنے کا اور کیا ذریعہ ہوسکتا ہے سوائے وحی خداوندی کے۔ بہرکیف اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
عیسٰی (علیہ السلام) کی پیدائش کی مثال
تشریح : اہل کتاب محمد رسول اللہ ﷺ سے جھگڑا کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے نہیں بلکہ اس کے بیٹے ہیں، ان لوگوں کی عقل میں یہ بات آہی نہیں رہی تھی کہ باپ کے بغیر بیٹا کیسے پیدا ہوسکتا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ حکمت اور دانائی کی باتیں ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) تو صرف باپ کے بغیر پیدا کئے گئے ہیں، جب کہ حضرت آدم (علیہ السلام) تو بغیر باپ اور ماں کے صرف اللہ کے حکم سے پیدا کئے گئے تھے تو کیا وہ بھی اللہ کا بیٹا یا نعوذ باللہ اللہ کہلانے کے حقدار ہوگئے تھے۔ ہرگز نہیں یہ تو اللہ رب العزت کی حکمت اور کمال ہے کہ اس نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–63
آیات 55- 63
اسرارومعارف
اذقال اللہ یا عیسیٰ انی متوفیک…………والذکرالحکیم۔
اب خفیہ تدبیر کیا تھی ؟ کہ یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنا چاہا اور اللہ نہ صرف انہیں بچانا چاہتا تھا ، بلکہ اپنی عظمت کا ایک نشان اور اپنے نبی ﷺ کی نبوت کے نشان کے طور پر باقی بھی رکھنا چاہتا تھا جس طرح ان کی پیدائش عجیب تھی ، ایسے ہی پرورش بھی نرالی کہ پالنے میں باتیں کیں پھر معجزات بھی عجیب تر۔
قدرت باری کے مظاہر :
اور اس کے بعد رفع یعنی آسمانوں پر اٹھایا جانا اور پھر دنیا میں نزول ، اس کے بعد موت یہ سب امور قدرت باری کے مظاہر ہیں۔
ارشاد ہوا کہ اے عیسیٰ میں تمہیں لے لوں گا اور اٹھالوں گا۔ یہ معنی اس صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
ف 4 یہ سورت شروع سے لے کر یہاں تک وفد نجران کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس وفد نے آنحضرت ﷺ سے بحث کے دوران میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی بنوہ (بیٹا ہونا) پر اس سے استدلال کیا کیا کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔ ، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تر دید فرمائی کہ اگر بغیر باپ کے پیدا ہو با بنوہ کی دلیل ہوسکتا ہے تو آدم ( علیہ السلام) جو ماں باپ کے بغیر پیدا ہوئے وہ بالا ولیٰ اللہ کا بیٹا کہلا نے کے حقدار ہیں مگر نہ یہ صراحتاباطل ہے۔ اصل میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ ( علیہ السلام) کی طرح حضرت مسیح ( علیہ السلام) کو بھی کن سے پیدا کر کے اپن قدرت کاملہ کو ظاہر فرمادیا ہے۔ (اب ن کثیر )
Read the full tafseer →(3:59) ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے سامنے آدم اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش یکساں ہے وہ بھی اس کی قدرت کی جلوہ گری ہے اور یہ بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
لغات القرآن آیت نمبر 55 تا 60
انی متوفیک (میں تجھے پوراپورا لے لوں گا لفظ متوفی کا مصدر توفی ہے اور مادہ فئ اس کے اصل معنی عربی لغت کے اعتبار سے پورا پورا لینے کے ہیں) رافعک (تجھے اٹھالوں گا) الی (اپنی طرف) مطھرک (تجھے پاک کردوں گا) اتبعوک (جنہوں نے تیری اتباع کی) فوق (اوپر) مرجعکم (تمہیں لوٹنا ہے) احکم میں فیصلہ کروں گا) مختلفون (اختلاف کرنے والے) اعذب (میں عذاب دوں گا) یوفی (پورا بدلہ دیا جائے گا) اجور (بدلے، (اجر کی جمع ہے) نتلو (ہم پڑھتے ہیں) الذکر الحکیم (حکمت والا ذکر) تراب (مٹی) ۔
تشریح : آیت نمبر 55 تا 60
سورة آل عمران کی آیت 55 تا 60 کا خلاصہ یہ ہے کہ ان تمام یہودیوں نے قوم بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
مباہلہ (یعنی بحث)
شان نزول : نصاریٰ نجران کے سرغنہ اور پادری لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس بحث کو آئے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو اسلام لانے کو کہا۔ انہوں نے کہا : ” ہم تو پہلے سے اسلام لا چکے ہیں “۔ آپ نے فرمایا :” تم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے ہو اور مریم کی تصویروں کی اور صلیب کی پوجا کرتے ہو۔ یہ باتیں تمہارے دین میں کب جائز ہیں “۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اگر خدا کے بیٹے نہیں تو بتلاؤ دنیا میں کون ان کا باپ ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ جس طرح بےماں باپ کے حضرت آدم (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے، اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ…
Read the full tafseer →[26] اس مثال سے نصاریٰ اور یہود دونوں کو متنبہ کرنا مقصود ہے۔ نصاریٰ کو اس طرح کہ اگر عیسیٰ (علیہ السلام) کا بےباپ کے پیدا ہونا ان کے اللہ یا اللہ کے بیٹا ہونے کی دلیل ہے تو آدم کے ماں باپ دونوں نہ تھے لہذا ان کو بدرجہ اولیٰ اللہ یا اللہ کا بیٹا ہونا چاہئے۔ اور یہود سے یہ کہنا مقصود ہے کہ جس اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے بغیر ماں باپ کے پیدا کیا اس کے لئے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا کرنا کیا بڑی بات ہے۔ پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش میں بدگمانی کیوں ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
مباہلہ :
(ف 1) مسیح (علیہ السلام) کے متعلق آیات سابقہ میں بکرات یہ بیان کیا جا چکا کہ ان کی حیثیت ایک محترم ومکرم رسول سے زائد نہیں مگر عیسائی ہیں کہ غلو سے کام لیتے ہوئے انہیں ابن اللہ سمجھنے پر مصر ہیں ، ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب مگر آخری فیصلہ کی طرف دعوت دی ہے اور وہ یہ ہے کہ دونوں متخاصم مل کر اللہ سے جھوٹے کی ہلاکت چاہیں اور دیکھیں کہ خدا کس کی تائید میں ہے ، کون باقی رہتا ہے اور کس کے حق میں ہلاکت مقدر ہے ، یہ طریق فیصلہ اس وقت اختیار کیا گیا جب منطق وبرہان کے تمام حربے ناکام رہے اور عقیدت میں غلو ہر دلیل وفلسفہ پر غالب رہا ، جب بحث کے تمام دروازے بند ہوگئے اور غور وفکر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
ف 4۔ لہٰذا ان اختلاف کرنے والوں میں جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی ہوگی ان کو ان کے کفر کی وجہ سے دنیا اور آخرت دونوں میں سخت سزا دوں گا اور شدید عذاب کروں گا اور ان لوگوں کا کوئی حامی و مدد گار نہ ہوگا اور جو لوگ مومن ہوں گے اور نیک اعمال کے پابند رہے ہوں گے تو ان کو اللہ تعالیٰ ان کے نیک اعمال کی مزدوریاں اور ان کا حق الخدمت پورا پورا عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ ظالموں اور نا انصافیوں کو پسند نہیں فرماتا اور محبوب نہیں رکھتا۔
اے پیغمبر ! یہ واقعات جو ہم آپ کو پڑھ پڑ ھ کر سناتے ہیں اور آپ پر بذریعہ وحی ان کی تلاوت کرتے ہیں یہ منجملہ دلائل نبوت اور منجملہ حکومت آمیز تذکرے کے ہیں یعنی ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
ف 1۔ آیت میں اپنے تن سے مراد تو خود اہل مباحثہ ہیں اور نساء سے خاص زوجہ مراد نہیں، بلکہ اپنے گھر کی تمام عورتیں مراد ہیں، جس میں دختر بھی شامل ہے۔ چناچہ آپ بوجہ اس کے کہ حضرت فاطمہ سب اولاد میں زیادہ عزیز تھیں ان کو لائے۔ اسی طرح بنائنا سے خاص صلبی اولاد مراد نہیں بلکہ عام ہے، اولاد کی اولاد کو بھی اور ان کو بھی جو مجازا اولاد کہلاتے ہوں، یعنی عرفا مثل اولاد کے سمجھے جاتے ہوں، اس مفہوم میں نواسے اور داماد بھی داخل ہیں، چناچہ آپ حضرات حسنین اور حضرت علی ؓ کو لائے۔ مباہلہ اب بھی حاجت کے وقت جائز اور مشروع ہے۔ مباہلہ کا انجام کہیں تصریحا تو نظر سے نہیں گزرا، مگر حدیث میں قصہ مذکور کے متعلق اتنا…
Read the full tafseer →عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت کے عقیدہ باطلہ کا مکمل رد :
132: اس آیت میں عیسائیوں کی اس گمراہی کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے من حیث القوم سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت کا اعتقاد باطل پیدا کرلیا حالانکہ تمام بنی نوع انسان کی طرح وہ بھی ایک انسان تھے اور اللہ نے انہیں اپنی رسالت کے لیے چن لیا تھا جیسا کہ دوسرے انبیاء کرام کو رسالت و نبوت کے لیے چن لیا گیا۔
تعجب ہے کہ اس آیت کو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے لیے دلیل کس طرح بنا لیا گیا اور مسئلہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان مختلف فیہ کب رہا ؟ قرآن کریم کا مطالعہ کرو اور احادیث کی کتابوں کو ایک ایک کر کے دیکھ جاؤ تاریخ کی ورق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
The event of Mubahala and the refutation of heretics.
The background of these verses is that the Holy Prophet ﷺ ultimatum to the Christians of Najran which included three options in the order given below:
1. Accept Islam, or
2. Pay jizya جزیہ (a levy on free non-Muslims under Muslim rule), or
3. Get ready for a war.
After mutual consultation, the Christians sent a delegation to the Holy Prophet ﷺ consisting of Shurahbil ` Abdullah b. Shurahbil and Jabbar ibn Fayd to the Holy Prophet ﷺ ۔ They came and began their talks on religious issues. When they, in their effort to prove the godhood of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
53. This means that if Jesus' miraculous birth is sufficient proof that he should be regarded either as God or as the son of God then there are even stronger grounds to apply this to Adam. For, while Jesus was born without a father, Adam was born with neither father nor mother.
Read the full tafseer →