Explained with ayahs 55–58
اظہارخو دمختاری
قتادہ وغیرہ بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں، وہب بن منبہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھاتے وقت دن کے شروع میں تین ساعت تک فوت کردیا تھا، ابن اسحاق کہتے ہیں نصاریٰ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات ساعت تک فوت رکھا پھر زندہ کردیا، وہب فرماتے ہیں تین دن تک موت کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھا لیا، مطر وراق فرماتے ہیں یعنی میں تجھے دنیا میں پورا پورا کردینے والا ہوں یہاں وفات موت مراد نہیں، اسی طرح ابن جریر فرماتے ہیں تو فی سے یہاں مراد ان کا رفع ہے اور اکثر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
سورة اٰلِ عِمْرٰن 53
یعنی اگر محض اعجازی پیدائش ہی کسی کو خدا یا خدا کا بیٹا بنانے کے لیے کافی دلیل ہو تب تو پھر تمہیں آدم کے متعلق بدرجہ اولیٰ ایسا عقیدہ تجویز کرنا چاہیے تھا، کیونکہ مسیح تو صرف بےباپ ہی کے پیدا ہوئے تھے، مگر آدم ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
ربط آیات
اوپر آیت میں مذکور تھا کہ " میں ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان قیامت کے روز عملی فیصلہ کروں گا " اس آیت میں اس فیصلہ کا بیان ہے۔
خلاصہ تفسیر
تفصیل (فیصلہ کی) یہ ہے کہ جو لوگ (ان اختلاف کرنے والوں میں) کافر تھے سو ان کو (ان کے کفر پر) سخت سزا دوں گا (مجموعہ دونوں جہان میں) دنیا بھی (کہ وہ تو ہوچکی) اور آخرت میں بھی (کہ وہ باقی رہی) اور ان لوگوں کا کوئی حامی (طرف دار) نہ ہوگا اور جو لوگ مومن تھے اور انہوں نے نیک کام کئے تھے سو ان کو اللہ تعالیٰ ان کے (ایمان اور نیک کاموں کا) ثوابدیں گے اور (کافر کو سزا ملنے کی وجہ یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ محبت نہیں رکھتے (ایسے) ظلم کرنے والوں سے (جو اللہ…
Read the full tafseer →پیغمبر کی طرف التفات : یہ آیت اور اس کے ساتھ کی پانچ آیتیں نبی ﷺ کی طرف التفات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اثنائے کلام میں آپ کو مخاطب کر کے مخالفین خصوصا نصاری کے رویے کے مقابل میں تسلی بھی دی گئی ہے۔ اور بعض ضروری ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جو عیسیٰ کی پوری تاریخ تمہیں سنائی گئی ہے۔ تو یہ ہے اصل حقیقت مسیح کی۔ یہ اس قسم کی من گھڑت داستان نہیں ہے جیسی کہ نصاری نے تصنیف کر رکھی ہے بلکہ یہ اللہ کی آیات ہیں اور یہ ایک پر حکمت یاد دہانی ہے۔ یعنی نصاری نے تو اس کو ایک میتھالوجی بنا کر رکھ دیا ہے جس سے صرف گمراہی حاصل کی جاسکتی ہے لیکن اللہ نے اس کو از سرِ نو تمہارے ذریعے سے آشکار کیا ہے تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
61۔ 1 یہ آیت مباہلہ کہلاتی ہے۔ مباہلہ کے معنی ہیں دو فریق کا ایک دوسرے پر لعنت یعنی بدعا کرنا مطلب یہ ہے کہ جب دو فریقین میں کسی معاملے کے حق یا باطل ہونے میں اختلاف ہو اور دلائل سے وہ ختم ہوتا نظر نہ آتا ہو تو دونوں بارگاہ الہٰی میں یہ دعا کریں کہ یا اللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے اس پر لعنت فرما اس کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ 9 ہجری میں نجران سے عیسائیوں کا ایک وفد نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جو وہ غلو آمیز عقائد رکھتے تھے اس پر مناظرہ کرنے لگا۔ بالآخر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی ﷺ نے انہیں مباہلہ کی دعوت دی حضرت علی ؓ، حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت حسن، حسین ؓ کو بھی ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
25: اس عمل کو مباہلہ کہا جاتا ہے، جب بحث کا کوئی فریق دلائل کو تسلیم کرنے کے بجائے ہٹ دھرمی پر تل جائے تو آخری راستہ یہ ہے کہ اسے مباہلہ کی دعوت دی جائے جس میں دونوں فریق اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ ہم میں سے جھوٹا یا باطل پر ہو وہ ہلاک ہوجائے، جیسا کہ اس سورت کے شروع میں بیان ہوا ہے، شہر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آیا تھا اس نے آپ سے حضرت عیسیٰ ؑ کی خدائی پر بحث کی، جس کا اطمینان بخش جواب قرآن کریم کی طرف سے پچھلی آیتوں میں دے دیا گیا، جب وہ کھلے دلائل کے باوجود اپنی گمراہی پر اصرار کرتے رہے تو اس آیت نے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ وہ انہیں مباہلے کی دعوت دیں ؛ چنانچہ آپ…
Read the full tafseer →اس اختتامیہ میں سے پہلے تو یہ کہا گیا کہ رسول ﷺ پر جو وحی نازل ہوئی ہے وہ حق ہے ۔
ذَلِكَ نَتْلُوهُ عَليْكَ مِنَ الآيَاتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ……………” یہ آیات اور حکمت سے لبریز تذکرے ہیں جو ہم تمہارے سنا رہے ہیں ۔ “ یہ قصے اور قرآنی ہدایات ‘ سب کی سب اللہ کی وحی پر مبنی ہیں اور خود اللہ انہیں پڑھ کر نبی ﷺ کو حکمت و دانائی کی آیات پرھ کر سناتے ہیں ۔ انداز بیان ایسا ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا قرب اور خوشنودی حاصل ہے ۔ جب خود اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو حکمت و دانائی کی آیات پڑھ کر سناتے ہیں ۔ اللہ دانا و حکیم ہیں انسانی زندگی اور نفس کے حوالے سے اونچے حقائق اس کے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
1 نصاریٰ اس بات پر حضرت سے بہت جھگڑے کہ عیسیٰ بندہ نہیں اللہ کا بیٹا ہے۔ آخر کہنے لگے کہ وہ اللہ کا بیٹا نہیں تو تم بتاؤ کس کا بیٹا ہے ؟ اس کے جواب میں یہ آیت اتری کہ آدم کے تو نہ باپ تھا نہ ماں۔ عیسیٰ کے باپ نہ ہو تو کیا عجب ہے (موضح القرآن) اس حساب سے تو آدم کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے پر زیادہ زور دینا چاہیئے۔ حالانکہ کوئی بھی اس کا قائل نہیں۔
Read the full tafseer →یہاں بھی گویا پس منظر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں جو اللہ کی آیات اور ذکر حکیم نبی اکرم ﷺ کو پڑھ کر سنا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
53۔ ا اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ سے دو باتوں کا وعدہ فرمایا اور انہیں یقین دلایا۔ پہلی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کافروں کے الزامات سے پاک کرے گا اور کافروں سے مراد اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ دونوں ہیں۔ یہود کا الزام یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ معاذ اللہ ولدالحرام ہیں، اور عیسائیوں کا الزام یہ تھا کہ آپ فی الواقعہ مصلوب ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی زبان پر ان دونوں الزاموں کی مدلل اور بھرپور تردید فرما کر عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان الزامات سے پاک و بری قرار دیا۔
اور دوسرا وعدہ یہ تھا کہ میں (اے عیسیٰ ) تیرے تابعداروں کو تجھے نہ ماننے والے یعنی یہودیوں پر…
Read the full tafseer →143 ۔ (اے ہمارے پیغمبر ! ) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی صحیح قصہ مسیح (علیہ السلام) ، اشارہ بعید اظہار شرف و تکریم کے لئے ہے۔ اشارۃ الی ماتقدم من نبا عیسیٰ وزکریا وغیرھما (کبیر) والاتیان بما یدل علی البعد للاشارۃ الی عظم شان المشارالیہ وبعد منزلتہ فی الشرف (روح) (آیت) ” من الایت “۔ یعنی آپ کی صداقت ونبوت کی نشانیوں میں سے۔ ارشاد یہ ہورہا ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے حالات وواقعات جن پر یہود اور نصرانیوں دونوں کی تاریخوں نے غلووافتراء کے گہرے پردے ڈال رکھے ہیں، یہ جو آپ قرآن کے ذریعہ سے بالکل صحیح ومعتبر طور پر سنا رہے ہیں یہ خود اس امر کی دلیل ہے کہ آپ موید من اللہ ہیں اور آپ ﷺ وہی کہہ رہے ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الْعِلْمِ (الآیۃ) یہ آیت مباہلہ کہلاتی ہے مباہلہ کے معنیٰ ہیں دو فریق کا ایک دوسرے پر لعنت یعنی بددعاء کرنا، مطلب یہ کہ جب دو فریقوں میں کسی معاملے کے حق و باطل ہونے میں اختلاف و نزاع پیدا ہوجائے اور دلائل سے وہ ختم ہوتا نظر نہ آتا ہو تو دونوں فریق بارگاہِ الہیٰ میں یہ دعاء کریں کہ یا اللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہو اس پر لعنت فرما، اس کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ 9 ھ میں نصاریٰ نجران کے چودہ اکابر کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا گفتگو الوہیت مسیح کے مسئلہ پر رہی اسلامی عقیدہ بالکل صاف اور واضح تھا، لیکن مسیحی نمائندے اپنی بات پر…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَيْكَ مِنَ الْاٰيٰتِ : یعنی یہ عیسیٰ مریم اور حواریوں کے واقعات جو ہم تم کو پڑھ کر سنا رہے ہیں ان معجزات میں سے ہیں جو رسول اللہ کی نبوت پر دلالت کرتے ہیں کیونکہ رسول اللہ ان واقعات سے واقف نہ تھے اس کے باوجود اس طور پر بیان فرمایا : جیسے بنی اسرائیل کے علماء جانتے تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اطلاع آپ کو اللہ کی طرف سے دی گئی اور آپ ﷺ ضرور خدا کے رسول تھے یا معجزات سے قرآن کی آیات مراد ہیں۔
وَالذِّكْرِ الْحَكِيْمِ : اور پر حکمت قرآن سے ہیں۔ مقاتل نے حکیم کا ترجمہ کیا ہے محکم جو باطل (کی آمیزش) سے محفوظ ہے۔ بعض کے نزدیک الذکر الحکیم سے لوح محفوظ مراد ہے۔ لوح محفوظ سفید…
Read the full tafseer →(58) ہم یہ اوامرو نواہی اور آیات قرآنیہ، بواسطہ جبریل امین آپ ﷺ پر نازل کرتے ہیں، اور یہ محکم (واضح) حلال و حرام جو کہ توریت وانجیل یہ یہ کہ لوح محفوظ کے موافق ہیں، آپ ﷺ کو سناتے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”ذالک نتلوہ علیک“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ نجران کے دو (عیسائی) راہب رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ایک میں سے بولا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے والد کون ہیں ؟ اور رسول اکرم ﷺ جواب دینے میں جلدی نہیں فرماتے تھے تاوقتیکہ وحی الہی نہ آجاتی، چناچہ اللہ نے (آیت) ”ذلک نتلوہ“۔ ممترین“۔ تک یہ آیات آپ ﷺ پر نازل فرمائیں اور عوفی کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے اس طرح روایت نقل کی گئی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیکَ : ”وَفَی یَفِیْ“ کا معنی پورا ہونا یا پورا کرنا ہے۔ ”اِسْتَوْفَی“ اور ”تَوَفّٰی“ کا معنی پورا لے لینا ہے۔ ”اِسْتَوْفَیْتُ مِنْہُ وَ تَوَفَّیْتُ“ کا معنی ہے ”میں نے اس سے پورا حق لے لیا۔“ اس بنا پر ”مُتَوَفِّيْكَ“ کا معنی ہے ”میں تمہیں پورا لینے والا ہوں“ اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ عیسیٰ ؑ کو روح و بدن دونوں کے ساتھ اٹھا لیا جاتا۔ بعض نے اس کا معنی ”(وقت پر) فوت کرنے والا ہوں“ کیا ہے اور میں نے ترجمہ کیا ہے ”قبض کرنے والا ہوں۔“ اس میں دونوں معنی آجاتے ہیں۔ یوں تو قرآن میں ”تَوَفِّیْ“ کا معنی سلا دینا بھی آیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَهُوَ الَّذِيْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
آیت نمبر : 56 تا 58۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فاما الذین کفروا فاعذبھم عذابا شدیدا فی الدنیا والاخرۃ “۔ یعنی میں انہیں دنیا میں قتل، سولی، قید اور جزیہ کے ساتھ اور آخرت میں آگ کے ساتھ سخت عذاب دوں گا۔
(آیت) ” ذلک نتلوہ علیک “۔ ذالک مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے، اور اس کی خبر ” نتلوہ “ ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ الامر ذالک ہو یعنی مبتدا مضمر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
(1) ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ نجران کے دوراہب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ان میں سے ایک نے کہا عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ کون ہے ؟ رسول اللہ ﷺ جلدی نہیں فرماتے تھے یہاں تک کہ ان کا رب ان کو حکم نہیں فرماتا تھا تو آپ پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ذلک نتلوہ علیک من الایت والذکر الحکیم “ سے لے کر ” من الممترین “ تک۔
(2) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” والذکر الحکیم “ سے قرآن مراد ہے۔
(3) ابن ابی حاتم نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا عنقریب فتنہ ہوگا میں نے عرض کیا اس سے نکلنے کا طریقہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی کتاب اور وہ ذکر حکیم…
Read the full tafseer →[ ذٰلِکَ : یہ ] [نَتْلُوْہُ : ہم پڑھ کر سناتے ہیں اسے ] [عَلَیْکَ : آپ ﷺ ‘ کو ] [مِنَ الْاٰیٰتِ : آیتوں میں سے ] [وَالذِّکْرِ الْحَکِیْمِ : اور پُر حکمت نصیحت میں سے ]
ترکیب
ترکیب : ” مِنْ “ پر عطف ہونے کی وجہ سے ” اَلذِّکْرِ الْحَکِیْمِ “ مجرور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
کافروں کے لیے وعید عذاب شدید اور اہل ایمان کے لیے اجر وثواب کا وعدہ
دنیا میں مومن اور کافر سبھی زندہ رہتے ہیں اور کھاتے کماتے ہیں۔ یہ سب دنیاوی امور ہیں آخرت میں تو ایمان مدار نجات یافتہ ہوگا ایمان اور اعمال صالح کی بنیاد پر جنت ملے گی اور اس وقت اعمال کا پورا پورا بدلہ اللہ پاک کی طرف سے دے دیا جائے گا اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے لیے دنیا میں بھی سزا ہے اور آخرت میں بھی، یہ سزا مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ جب مسلمان جہاد کرتے تھے (جواب بھی واجب ہے) اس وقت کافر ان کے ہاتھوں قتل ہوتے تھے قید ہوتے تھے غلام باندی بنائے جاتے تھے جزیہ دینے پر مجبور ہوتے تھے۔ اور اب بھی ان کے ملکوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–58
ذکر عداوت یہود باعیسی (علیہ السلام) و حفاظت خداوندنام وبشارت رفع الی السماء ومحفوظیت از مکر اعداء۔
قال تعالی، فلمااحس عیسیٰ منھم الکفر۔۔۔ الی۔۔۔ الممترین۔
حسب بشارت جب عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور پھر نبی ہوئے اور لوگوں کو توحید اور تقوی اور اپنی اطاعت کی دعوت دی اور سیدھی راہ کی طرف بلایا اور معجزات اور نشانات ان کو دکھلائے تو یہود بےبہبود نے آپ کی تکذیب کی اور آپ کے ایذاء اور قتل کے درپے ہوئے حق جل شانہ نے ان آیات میں یہود کی عداوت کا ذکر کیا وہ حضرت عیسیٰ کے قتل کی کیا کیا تدبیریں کررہے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی حفاظت کا ذکر فرمایا کہ ہم نے ان کی حفاظت کی کیا تدبیر کی وہ…
Read the full tafseer →82 یہ جملہ معترضہ ہے جو آنحضرت ﷺ کی صداقت کے اظہار کیلئے لایا گیا ہے ذَالِکَ مبتدا ہے اور نَتْلُوْهُ عَلَیْکَ اس کی خبر ہے مِنَ الْآیَاتِ وَالذِّکْرِ الْحکِیْمِ خبر بعد خبر ہے یا نَتْلُوْهُ میں ضمیر منصوب سے حال ہے اور ذکر حکیم سے مراد قرآن ہے یعنی جو کچھ ہم آپ پر نازل کر رہے ہیں۔ یہ آپ کی نبوت کے واضح دلائل ہیں اور حکمت سے بھرپور قرآن کی آیتیں ہیں۔ جن کا علم وحی کے بغیر ناممکن ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ ای الحجج الدالۃ علی صدق نبوتک اذا علمتہم بما لایعلمہ الا قائ کتاب او معلم ولست بواحد منہما فلم یبق الا انا وقد عرفتہ من طریق الوحی (روح ج 3 ص 58) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
رفع عیسیٰ (علیہ السلام) پر دلائل :
گذشتہ درس میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر زندہ اٹھائے جانے کا ذکر ہوچکا ہے۔ اس درس میں اس موضوع پر بعض دلائل ہوں گے اور واقعہ رفع کی مزید تفصیلات پیش کی جائیں گی۔ چناچہ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھائے جانے کا واقعہ بعید از قیاس نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر جو معجزات ظاہر فرمائے ، وہ اس بات کی طرف اشارہ تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ غیر معمولی سلوک کر رہا ہے ، پہلے گزر چکا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) مٹی سے پرندے کی شکل بناتے ، پھر اس میں پھونک مارتے تو وہ اللہ کے حکم سے زندہ پرندہ بن کر اڑ جاتا۔ آپ کا دوسرا معجزہ یہ…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ نَتْلُوْہُ عَلَيْكَ مِنَ الْاٰيٰتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيْمِ 58
تلو
تَلَاهُ : تبعه متابعة ليس بينهم ما ليس منها، وذلک يكون تارة بالجسم وتارة بالاقتداء في الحکم، ومصدره : تُلُوٌّ وتُلْوٌ ، وتارة بالقراءة وتدبّر المعنی، ومصدره : تِلَاوَة وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2]
( ت ل و ) تلاہ ( ن )
کے معنی کسی کے پیچھے پیچھے اس طرح چلنا کے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی اجنبی کو چیز حائل نہ ہو یہ کہیں تو جسمانی طور ہوتا ہے اور کہیں اس کے احکام کا اتباع کرنے سے اس معنی میں اس کا مصدر تلو اور تلو آتا ہے اور کبھی یہ متا بعت کسی کتاب کی قراءت ( پڑھنے ) ۔ اور اس کے معانی سمجھنے کے لئے غور وفکر کرنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
ترکیب : اذ کا یا وہی عامل ہے اعنی اذکر یا وقع ذلک۔ متوفیک اور رافعک اور جاعل الخ سب خبر ہیں انی کی فاما الذین کفروا مبتداء فاعذبہم خبر ذلک مبتداء نتلوہ خبر۔
تفسیر : یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا تتمہ ہے۔ یہود کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے گرچہ وعظ و نصیحت کی وجہ سے عداوت تھی مگر جبکہ سبت وغیرہ احکام میں تغیر کیا تو یہود کو الزام لگانے کا ذریعہ ہاتھ آگیا۔ ملک شام میں اس وقت یہود کی سلطنت نہ تھی بلکہ رومیوں کی سلطنت تھی اور قیصر روم کی طرف سے وہاں ایک حاکم رہتا تھا جس کو ہیرو دیس کہا کرتے تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حواریوں کو ساتھ لئے ملک شام کے شہروں میں معجزے دکھاتے اور وعظ فرماتے…
Read the full tafseer →ذٰلِکَ نَتْلُوْہُ عَلَیْکَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَالذِّکْرِالْحَََکِیْمِ ۔
(یہ آیات اور حکمت سے لبریز تذکرے ہیں جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں) (58)
جیسا کہ اس سے پہلے ذکر ہوچکا عیسیٰ (علیہ السلام) نبی آخرالزماں ﷺ کے مبشر بن کر ایک بہت بڑی خدمت انجام دینے کے لیے تشریف لائے تھے۔ یہود نے جس طرح اللہ کی کتابوں میں تحریف اور ترمیم کے ذریعے شریعت کو بگاڑا تھا اور جس طرح شریعت کو حکمت شریعت سے محروم کردیا تھا اور انسانی زندگی اللہ کے نور سے محروم ہو کر تاریکی کا شکار ہوگئی تھی۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے حکمت شریعت کے بند دروازے کو کھولا اور یہود نے جس طرح احکام کو بگاڑا تھا اس کی حقیقت کو پوری طرح نمایاں کیا۔ اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
فہم القرآن
ربط کلام : عیسائیوں سے خطاب کے آغاز میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاندان۔ ان کی پیدائش کے مراحل ‘ حضرت مریم [ کا تعجب ‘ عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت توحید ‘ اس کا رد عمل اور اب ان کی ذات کے بارے میں وضاحت کی جا رہی ہے۔
قرآن مجید نے صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کی تفصیلات ہی نہیں بتائیں بلکہ دنیا کے سامنے ان کے پورے خاندان کی تاریخ رکھ دی ہے۔ جس میں ان کی نانی کی نذر ماننے سے لے کر حضرت مریم [ کی پیدائش، بیت المقدس میں ان کے خالو کے ہاں ان کی تربیت ‘ عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا تذکرہ ‘ ان کی پیدائش پر حضرت مریم [ پر یہودیوں کا الزام اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا جواب…
Read the full tafseer →قراءت : فَیُوَ فِّیْھِمْ حفص نے پڑھا ہے
58: ذٰلِکَ نَتْلُوْہُ عَلَیْکَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَالذِّکْرِ الْحَکِیْمِ ۔ (یہ ہم تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں جو کہ منجملہ دلائل کے ہے اور منجملہ حکمت آمیز مضامین کے ہے) یہ جو واقعات عیسیٰ ( علیہ السلام) وغیرہ گزرے۔ نَتْلُوْہُ عَلَیْکَ مِنَ الْاٰیٰتِ
نحو : یہ مبتداء ہے اور نَتْلُوْہُ عَلَیْکَ اسکی خبر ہے۔ دوسری خبر من الآیات ہے یا مبتدائے محذوف کی خبر ہے۔ وَالذِّکْرِ الْحَکِیْمِ ۔ (حکمت والاذکر) اس سے مراد قرآن مجید ہے حکیم بمعنی محکم و مضبوط یا پر حکمت
Read the full tafseer →58۔ (آیت)” ذلک “ حضرت عیسیٰ ومریم (علیہ السلام) اور حواریین کے متعلق جو قصہ ہم نے بیان کیا ہے ” نتلوہ علیک “ آپ کو جبرئیل (علیہ السلام) کی وحی کی ذریعے بتلا دیا جائے گا، (آیت)” من الایات والذکر الحکیم “۔ آیات سے مراد قرآن اور ذکر سے مراد حکمت ہے ، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ذکر سے مراد حکمت ہے یا ذکر سے مراد محکم جو باطل سے محفوظ ہے ، بعض کے نزدیک (آیت)” الذکر الحکیم “۔ سے مراد لوح محفوظ ہے ، لوح محفوظ سفید موتی (کی اتنی لمبی تختی ہے جیسے زمین سے آسمان تک درمیانی خلاء اور یہ) عرش سے متعلق ہے۔
بعض نے کہا کہ آیات سے مراد وہ علامات ہیں جو نبوت پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ یہ ایسی خبریں ہیں جو محض کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
(55 ۔ 58) ۔ مفسرین میں اختلاف ہے کہ مراد فی متوفیک ورافعک الی سے کیا ہے۔ لیکن ابوہریرہ ؓ کی متفق علیہ حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پھر دنیا میں آئیں گے 3۔ اور اس باب میں اور بہت سی حدیثیں ہیں اسی طرح ابو داود اور حاکم کی ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دنیا میں دوبارہ آنے کے بعد پھر ان کی وفات ہوگی اور اس وقت کے مسلمان ان کی جنازہ کی نماز پڑھیں گے 4۔ اور آیت اللہ الذی خلقکم ثم رزقکم ثم یمتکم ثم یحییکم (30۔ 40) سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص کی موت دنیا میں ایک ہی دفعہ اللہ تعالیٰ نے قرار دی ہے۔ اسی سبب سے آیت وھو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
آیت 45-58
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰ ہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لئے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبرئیل کو مریم کے پاس بھیجا۔ انہوں نے آپ کی قمیض کے گریبن میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
مباہلہ کا جواز
قول بارے ہے (فقل تعالواند ع ابناء نا وایتاء کم ونساء ناونساء کم وانفسنا وانسکم، اے محمد ! ان سے کہو، آؤہم اور تم خود بھی آجائیں اور اپنے اپنے بال کو بھی لے آئیں) عیسائیوں کے اس قول کے خلاف کہ حضرت مسیح ابن اللہ ہیں اس آیت سے استدلال پہلے گذرچکا ہے نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد جس میں ان کا سردار اورنائب سرداردونوں تھے، حضور ﷺ کی خدمت میں آیا تھا۔ ان دونوں نے حضور ﷺ سے سوال تھا کہ آپ نے بن باپ کا کوئی بچہ دیکھا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم، اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی مثال کی طرح ہے) حضرت ابن عباس حسن اور قتادہ سے یہی روایت…
Read the full tafseer →126 اعمال کا پورا بدلہ آخرت ہی میں مل سکے گا : سو " یُوَفِّیْہِمْ " کے اس لفظ سے یہاں ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح کردی گئی جو کہ قرآن حکیم میں دوسرے کئی مقامات پر اور مختلف پیرایوں میں بیان فرمائی گئی ہے کہ اعمال کا بھرپور بدلہ آخرت ہی میں ملے گا۔ اور وہیں مل سکتا ہے۔ دنیا میں اعمال کا بدلہ خواہ وہ خیر ہوں یا شر، کسی نہ کسی حد تک اگرچہ ملتا ہے، مگر پورا بدلہ یہاں پر نہ ملتا ہے نہ مل سکتا ہے۔ وہ بہرحال آخرت میں ہی ملیگا کہؔؔ " دارالجزا " وہی ہے، اور اسی کی وسعتیں اس کی متحمل ہوسکتی ہیں، جیسا کہ اس کی کچھ تفصیل ابھی اوپر حاشیہ نمبر 125 میں بھی گزر چکی ہے۔ سو اصل کامیابی آخرت ہی کی کامیابی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
عیسٰی (علیہ السلام) کی پیدائش کی مثال
تشریح : اہل کتاب محمد رسول اللہ ﷺ سے جھگڑا کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے نہیں بلکہ اس کے بیٹے ہیں، ان لوگوں کی عقل میں یہ بات آہی نہیں رہی تھی کہ باپ کے بغیر بیٹا کیسے پیدا ہوسکتا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ حکمت اور دانائی کی باتیں ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) تو صرف باپ کے بغیر پیدا کئے گئے ہیں، جب کہ حضرت آدم (علیہ السلام) تو بغیر باپ اور ماں کے صرف اللہ کے حکم سے پیدا کئے گئے تھے تو کیا وہ بھی اللہ کا بیٹا یا نعوذ باللہ اللہ کہلانے کے حقدار ہوگئے تھے۔ ہرگز نہیں یہ تو اللہ رب العزت کی حکمت اور کمال ہے کہ اس نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–63
آیات 55- 63
اسرارومعارف
اذقال اللہ یا عیسیٰ انی متوفیک…………والذکرالحکیم۔
اب خفیہ تدبیر کیا تھی ؟ کہ یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنا چاہا اور اللہ نہ صرف انہیں بچانا چاہتا تھا ، بلکہ اپنی عظمت کا ایک نشان اور اپنے نبی ﷺ کی نبوت کے نشان کے طور پر باقی بھی رکھنا چاہتا تھا جس طرح ان کی پیدائش عجیب تھی ، ایسے ہی پرورش بھی نرالی کہ پالنے میں باتیں کیں پھر معجزات بھی عجیب تر۔
قدرت باری کے مظاہر :
اور اس کے بعد رفع یعنی آسمانوں پر اٹھایا جانا اور پھر دنیا میں نزول ، اس کے بعد موت یہ سب امور قدرت باری کے مظاہر ہیں۔
ارشاد ہوا کہ اے عیسیٰ میں تمہیں لے لوں گا اور اٹھالوں گا۔ یہ معنی اس صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
ف 4 یہ سورت شروع سے لے کر یہاں تک وفد نجران کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس وفد نے آنحضرت ﷺ سے بحث کے دوران میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی بنوہ (بیٹا ہونا) پر اس سے استدلال کیا کیا کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔ ، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تر دید فرمائی کہ اگر بغیر باپ کے پیدا ہو با بنوہ کی دلیل ہوسکتا ہے تو آدم ( علیہ السلام) جو ماں باپ کے بغیر پیدا ہوئے وہ بالا ولیٰ اللہ کا بیٹا کہلا نے کے حقدار ہیں مگر نہ یہ صراحتاباطل ہے۔ اصل میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ ( علیہ السلام) کی طرح حضرت مسیح ( علیہ السلام) کو بھی کن سے پیدا کر کے اپن قدرت کاملہ کو ظاہر فرمادیا ہے۔ (اب ن کثیر )
Read the full tafseer →(3:58) ذلک۔ یعنی۔ الذی ذکرتہ لک من اخبار عیسیٰ دامہ مریم والحواریون وغیر ذلک من القصص (یعنی وہ ذکر جو میں نے حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ حضرت مریم اور ان کے حواری وغیرہ کے متعلق تجھ سے کیا ہے)
من الایات والذکر الحکیم۔ یہ اللہ کی آیات اور کلام پر حکمت ہے جس میں سے یہ باتیں تجھے سنائی جاری ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
لغات القرآن آیت نمبر 55 تا 60
انی متوفیک (میں تجھے پوراپورا لے لوں گا لفظ متوفی کا مصدر توفی ہے اور مادہ فئ اس کے اصل معنی عربی لغت کے اعتبار سے پورا پورا لینے کے ہیں) رافعک (تجھے اٹھالوں گا) الی (اپنی طرف) مطھرک (تجھے پاک کردوں گا) اتبعوک (جنہوں نے تیری اتباع کی) فوق (اوپر) مرجعکم (تمہیں لوٹنا ہے) احکم میں فیصلہ کروں گا) مختلفون (اختلاف کرنے والے) اعذب (میں عذاب دوں گا) یوفی (پورا بدلہ دیا جائے گا) اجور (بدلے، (اجر کی جمع ہے) نتلو (ہم پڑھتے ہیں) الذکر الحکیم (حکمت والا ذکر) تراب (مٹی) ۔
تشریح : آیت نمبر 55 تا 60
سورة آل عمران کی آیت 55 تا 60 کا خلاصہ یہ ہے کہ ان تمام یہودیوں نے قوم بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
حضرت ابوہریرہ ؓ کی متفق علیہ کی حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پھر دنیا میں آویں گے اور اس باب میں اور بہت سی حدیثیں ہیں۔ اسی طرح ابو داؤد اور حاکم کی ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دنیا میں دوبارہ آنے کے بعد پھر ان کی وفات ہوگی، اور اس وقت کے مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھایا تو حضرت عیسیٰ کی حالت نیند کی سی تھی ۔ انہی مفسروں کا قول صحیح معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ تمہارے تابع قیامت تک یہود پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
[25] یہود کی خفیہ تدبیر یہ تھی کہ ان کے علماء و فقہاء نے سازش کر کے عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی پر چڑھانا چاہا اور اللہ کی تدبیر یہ تھی کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو صحیح و سلامت آسمان پر اٹھا لے گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
مباہلہ :
(ف 1) مسیح (علیہ السلام) کے متعلق آیات سابقہ میں بکرات یہ بیان کیا جا چکا کہ ان کی حیثیت ایک محترم ومکرم رسول سے زائد نہیں مگر عیسائی ہیں کہ غلو سے کام لیتے ہوئے انہیں ابن اللہ سمجھنے پر مصر ہیں ، ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب مگر آخری فیصلہ کی طرف دعوت دی ہے اور وہ یہ ہے کہ دونوں متخاصم مل کر اللہ سے جھوٹے کی ہلاکت چاہیں اور دیکھیں کہ خدا کس کی تائید میں ہے ، کون باقی رہتا ہے اور کس کے حق میں ہلاکت مقدر ہے ، یہ طریق فیصلہ اس وقت اختیار کیا گیا جب منطق وبرہان کے تمام حربے ناکام رہے اور عقیدت میں غلو ہر دلیل وفلسفہ پر غالب رہا ، جب بحث کے تمام دروازے بند ہوگئے اور غور وفکر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
ف 4۔ لہٰذا ان اختلاف کرنے والوں میں جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی ہوگی ان کو ان کے کفر کی وجہ سے دنیا اور آخرت دونوں میں سخت سزا دوں گا اور شدید عذاب کروں گا اور ان لوگوں کا کوئی حامی و مدد گار نہ ہوگا اور جو لوگ مومن ہوں گے اور نیک اعمال کے پابند رہے ہوں گے تو ان کو اللہ تعالیٰ ان کے نیک اعمال کی مزدوریاں اور ان کا حق الخدمت پورا پورا عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ ظالموں اور نا انصافیوں کو پسند نہیں فرماتا اور محبوب نہیں رکھتا۔
اے پیغمبر ! یہ واقعات جو ہم آپ کو پڑھ پڑ ھ کر سناتے ہیں اور آپ پر بذریعہ وحی ان کی تلاوت کرتے ہیں یہ منجملہ دلائل نبوت اور منجملہ حکومت آمیز تذکرے کے ہیں یعنی ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
ف 1۔ آیت میں اپنے تن سے مراد تو خود اہل مباحثہ ہیں اور نساء سے خاص زوجہ مراد نہیں، بلکہ اپنے گھر کی تمام عورتیں مراد ہیں، جس میں دختر بھی شامل ہے۔ چناچہ آپ بوجہ اس کے کہ حضرت فاطمہ سب اولاد میں زیادہ عزیز تھیں ان کو لائے۔ اسی طرح بنائنا سے خاص صلبی اولاد مراد نہیں بلکہ عام ہے، اولاد کی اولاد کو بھی اور ان کو بھی جو مجازا اولاد کہلاتے ہوں، یعنی عرفا مثل اولاد کے سمجھے جاتے ہوں، اس مفہوم میں نواسے اور داماد بھی داخل ہیں، چناچہ آپ حضرات حسنین اور حضرت علی ؓ کو لائے۔ مباہلہ اب بھی حاجت کے وقت جائز اور مشروع ہے۔ مباہلہ کا انجام کہیں تصریحا تو نظر سے نہیں گزرا، مگر حدیث میں قصہ مذکور کے متعلق اتنا…
Read the full tafseer →عیسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے :
131: آیت زیر نظر میں ” آیات “ یعنی دلائل کا لفظ لانا اور پھر ان باتوں کو پر حکمت قرار دینا اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ جو کچھ اوپر بیان کیا گیا وہ صرف دعویٰ نہیں بلکہ دلائل ہیں اور دلائل بھی ایسے جو اپنے اندر حکمت رکھتے ہیں۔ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ، ان کا بچپن ، ان کی نبوت کا پورا زمانہ وار ان کا اٹھایا جانا سب کے سب حالات و واقعات ایسے ہیں جن میں انسانوں کی زندگی کے لیے بیشمار نشانات اور دلائل موجود ہیں اور یہ وہ پر حکمت باتیں ہیں جو اپنے اندر بیشمار اسباق رکھتی ہیں۔ جو لوگ ان کی باتوں کو محض قصہ کہانی کی حد تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
Sequence
In the previous verse (56), it was said that Allah will be the final judge and decision-maker in what they used to differ in between them-selves. This verse describes that decision.
Commentary
Are the sufferings of this world beneficial for the next life?
The words "I shall punish them in this world and in the Hereafter" in verse 56 may create a little doubt. Since the statement here relates to the Judgment to be pronounced on the Last Day, how can the statement -'I shall punish them in this world and in the hereafter`- be explained as this world of ours would not exist at that time…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
53. This means that if Jesus' miraculous birth is sufficient proof that he should be regarded either as God or as the son of God then there are even stronger grounds to apply this to Adam. For, while Jesus was born without a father, Adam was born with neither father nor mother.
Read the full tafseer →