Explained with ayahs 55–58
اظہارخو دمختاری
قتادہ وغیرہ بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں، وہب بن منبہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھاتے وقت دن کے شروع میں تین ساعت تک فوت کردیا تھا، ابن اسحاق کہتے ہیں نصاریٰ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات ساعت تک فوت رکھا پھر زندہ کردیا، وہب فرماتے ہیں تین دن تک موت کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھا لیا، مطر وراق فرماتے ہیں یعنی میں تجھے دنیا میں پورا پورا کردینے والا ہوں یہاں وفات موت مراد نہیں، اسی طرح ابن جریر فرماتے ہیں تو فی سے یہاں مراد ان کا رفع ہے اور اکثر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
سورة اٰلِ عِمْرٰن 51
اصل میں لفظ”مُتَوَفِّیْکَ“ استعمال ہوا ہے۔ تَوَفِّی کے اصل معنی لینے اور وُصُول کرنے کے ہیں ”رُوح قبض کرنا“ اس لفظ کا مجازی استعمال ہے نہ کہ اصل لغوی معنی۔ یہاں یہ لفظ انگریزی لفظ(To recall) کے معنی میں مستعمل ہوا ہے ، یعنی کسی عہدہ دار کو اس کے منصب سے واپس بُلانا۔ چونکہ بنی اسرائیل صدیوں سے مسلسل نافرمانیاں کر رہے تھے ، بار بار کی تنبیہوں اور فہمائشوں کے باوجود ان کی قومی روش بگڑتی ہی چلی جا رہی تھی، پے در پے کئی انبیا کو قتل کر چکے تھے اور ہر اس بندہٴ صالح کے خون کے پیاسے ہو جاتے تھے جو نیکی اور راستی کی طرف انہیں دعوت دیتا تھا، جیسے دو جلیل القدر پیغمبروں کو بیک وقت…
Read the full tafseer →(انی متوفیک) لفظ " متوفی " کا مصدر " توفی " اور مادہ " وفی " ہے۔ اس کے اصل معنی عربی لغت کے اعتبار سے پورا پورا لینے کے ہیں، وفاء، ایفاء، استیفاء، اسی معنی کے لئے بولے جاتے ہیں، توفی کے بھی اصلی معنی پورا پورا لینے کے ہیں، تمام کتب لغت عربی زبان کی اس پر شاہد ہیں۔ اور چونکہ موت کے وقت انسان اپنی اجل مقدر پوری کرلیتا ہے، اور خدا کی دی ہوئی روح پوری لے لی جاتی ہے، اس کی مناسبت سے یہ لفظ بطور کنایہ موت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اور موت کا ایک ہلکا سا نمونہ روزانہ انسان کی نیند ہے، اس کے لئے بھی قرآن کریم میں اس لفظ کا استعمال ہوا ہے (اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا۔ 39:…
Read the full tafseer →حضرت مسیح کی حفاظت کے لیے تدبیر الٰہی : اب یہ بیان ہو رہا ہے اس بہترین مخفی تدبیر کا جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا مسیح ؑ کو یہود کی سازش سے بچانے کے لیے اختیار فرمائی اور جس سے ان کی سازش کے تمام تار پود بکھر کر رہ گئے۔ ”توفی“ کے اصل معنی عربی لغت میں ’ الاخذ بالتمام ‘ کسی شے کے پورا پورا لے لینے یا کسی چیز کو اپنی طرف قبض کرلینے کے ہیں۔ موت دینے کے معنی میں اس لفظ کا استعمال حقیقۃً نہیں بلکہ مجازاً ہوا ہے۔ ایسے الفاظ جو اپنے حقیقی اور مجازی دونوں معنوں میں استعمال ہوتے ہیں، اپنے صحیح مفہوم کے تعین میں قرائن کے محتاج ہوتے ہیں۔ یہاں مندرجہ ذیل قرائن اس بات کے خلاف ہیں کہ اس کے معنی یہاں موت دینے کے…
Read the full tafseer →55۔ 1 انسان کی موت پر جو وفات کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس لئے کہ اس کے جسمانی اختیارات مکمل طور پر سلب کر لئے جاتے ہیں اس اعتبار سے موت اس کے معنی کی مختلف صورتوں میں سے محض ایک صورت ہے۔ نیند میں بھی چونکہ انسانی اختیارات عارضی طور پر معطل کردیئے جاتے ہیں اس لئے نیند پر بھی قرآن نے وفات کے لفظ کا اطلاق کیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ اس کے حقیقی اور اصل معنی پورا پورا لینے کے ہی ہیں۔ یعنی اے عیسیٰ تجھے میں یہودیوں کی سازش سے بچا کر پورا پورا اپنی طرف آسمانوں پر اٹھا لونگا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا اور پھر جب دوبارہ دنیا میں نزول ہوگا تو اس وقت موت سے ہمکنار کروں گا۔ یعنی یہودیوں کے ہاتھوں تیرا قتل نہیں ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
23: حضرت عیسیٰ ؑ کے مخالفین نے انہیں سولی پر چڑھانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو آسمان پر اٹھا لیا اور جو لوگ آپ کو گرفتار کرنے والے تھے ان میں سے ایک شخص کو حضرت عیسیٰ ؑ کا ہم شکل بنادیا، اور مخالفین نے حضرت عیسیٰ ؑ کے دھوکے میں اسے سولی پر چڑھا دیا آیت کا جو ترجمہ یہاں کیا گیا ہے وہ عربی لفظ ”توفی“ کے لغوی معنی پر مبنی ہے، اور مفسرین کی ایک بڑی جماعت نے یہاں یہی معنی مراد لیے ہیں۔ اس لفظ کی ایک اور تشریح بھی ممکن ہے جو حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی مروی ہے۔ اس کے لیے ملاحظہ ہو معارف القرآن ص :74 ج :2۔
24: یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کو ماننے والے (خواہ انہیں صحیح طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
آپ کی وفات کیسے تھی ‘ آپ کا آسمانوں پر اٹھایاجانا کیسے تھا ۔ یہ غیبی امور ہیں اور یہ متشابہات میں داخل ہیں ۔ جن کی تاویل صرف اللہ جانتا ہے۔ اس لئے اس بارے میں بحث سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ نہ عقیدہ میں فائدہ ہے اور نہ شریعت میں فائدہ ہے ۔ جو لوگ اس کے پیچھے پڑتے ہیں اور اسے بحث ومجادلہ کا موضوع بناتے ہیں تو وہ آخر کار ایسے حالات تک پہنچتے ہیں جو ظاہری اور سطحی باتیں ہوتی ہیں۔ مزید التباس اور پیچیدگی میں پھنس جاتے ہیں اور وہ کوئی قطعی حقیقت سامنے نہیں لاسکتے ۔ نہ دل کو کوئی تسلی ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ یہ ایسا امر ہے جس کی تاویل اللہ ہی جانتاہے……………رہی یہ بات کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
7 بادشاہ نے لوگوں کو مامور کیا کہ مسیح (علیہ السلام) کو پکڑیں۔ صلیب (سُولی) پر چڑھائیں اور ایسی عبرتناک سزائیں دیں جسے دیکھ کر دوسرے لوگ اس کا اتباع کرنے سے رک جائیں۔ فبعث فی طلبہ من یاخذہ ویصلبہ وینکل بہ (ابن کثیر) خداوند قدوس نے اس کے جواب میں مسیح (علیہ السلام) کو مطمئن فرما دیا کہ میں ان اشقیاء کے ارادوں اور منصوبوں کو خاک میں ملا دوں گا۔ یہ چاہتے ہیں کہ تجھے پکڑ کر قتل کردیں اور پیدائش و بعثت سے جو مقصد ہے پورا نہ ہونے دیں اور اس طرح خدا کی نعمت عظیم کی بےقدری کریں۔ لیکن میں ان سے اپنی یہ نعمت لے لوں گا۔ تیری عمر مقدر اور جو مقصد عظیم اس سے متعلق ہے پورا کر کے رہوں گا۔ اور تجھ کو پورے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
آیت 55 اِذْ قَال اللّٰہُ یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ
لفظ مُتَوَفِّیْکَکو قادیانیوں نے اپنے اس غلط عقیدے کے لیے بہت بڑی بنیاد بنایا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات ہوچکی ہے۔ لہٰذا اس لفظ کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ وَفٰی کے معنی ہیں پورا کرنا۔ اردو میں بھی کہا جاتا ہے وعدہ وفا کرو۔ اسی سے باب تفعیل میں وَفّٰی۔ یُوَفِّیْ۔ تَوْفِیَۃً کا مطلب ہے کسی کو پورا دینا۔ جیسا کہ آیت 25 میں ہم پڑھ آئے ہیں : فَکَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰہُمْ لِیَوْمٍ لاَّ رَیْبَ فِیْہِقف وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ تو کیا حال ہوگا جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے اس دن جس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
53۔ ا اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ سے دو باتوں کا وعدہ فرمایا اور انہیں یقین دلایا۔ پہلی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کافروں کے الزامات سے پاک کرے گا اور کافروں سے مراد اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ دونوں ہیں۔ یہود کا الزام یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ معاذ اللہ ولدالحرام ہیں، اور عیسائیوں کا الزام یہ تھا کہ آپ فی الواقعہ مصلوب ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی زبان پر ان دونوں الزاموں کی مدلل اور بھرپور تردید فرما کر عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان الزامات سے پاک و بری قرار دیا۔
اور دوسرا وعدہ یہ تھا کہ میں (اے عیسیٰ ) تیرے تابعداروں کو تجھے نہ ماننے والے یعنی یہودیوں پر…
Read the full tafseer →135 ۔ (حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ان کی گرفتاری کے موقع پر) واقعات و حالات کی رفتار سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنا انجام یہ صاف نظر آرہا تھا کہ یہود انہیں گرفتار کئے اور ان پر مقدمہ چلائے بغیر نہ رہیں گے۔ اور پھر رومیوں کی ملکی عدالت میں لے جا کر انہیں سزائے موت دلوائیں گے۔ یہ ارشاد الہی حضرت (علیہ السلام) سے ان کی تسکین کے لیے اسی موقع گرفتار پر ہوتا ہے۔
136 ۔ (تمہارے وقت معہود پر) سو تم ان ظالموں کے مکر وعداوت سے گھبراؤ نہیں۔ یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اے ستو فی اجلک ومعناہ انی عاصمک من ان یقتلک الکفار ومؤخرک الی اجل کتبتہ لک (کشاف) ممیتک حتف انفک الا قتلا بایدیھم (مدراک) مؤخرک الی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 55 تا 63
ترجمہ : (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب اللہ نے عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا : اے عیسیٰ میں تم کو وفات دینے والا (یعنی) تم کو (اپنے) قبضہ میں لینے والا ہوں اور دنیا سے بغیر موت کے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور ان لوگوں سے تم کو پاک الگ کرنے والا ہوں جو منکر ہوئے اور ان لوگوں کو جنہوں نے تیری پیروی کی (یعنی) مسلمانوں اور نصاریٰ میں سے جس نے تیری تصدیق کی ان لوگوں پر جو تیرے منکر ہوئے قیامت تک کے لیے غلبہ دینے والا ہوں اور وہ (منکرین) یہود ہیں، وہ (یہود پر) دلیل اور تلوار کے ذریعہ غالب رہیں گے۔ پھر تم سب کی واپسی میری طرف ہوگی سو میں تمہارے درمیان دینی معاملہ میں فیصلہ کروں گا سو…
Read the full tafseer →اِذْ قَال اللّٰهُ : یہ مکَرَ اللہ سے متعلق ہے یا فعل محذوف سے یعنی یہ اس وقت واقعہ ہوا جب اللہ نے فرمایا۔
يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ : اِلَیَّ کا معنی یہ ہے کہ میں اپنے مقام عزت اور قرار گاہ ملائکہ کی طرف تجھے اٹھاکر لے جاؤں گا۔ حسن کلبی اور ابن جریح نے آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ میں تجھے پکڑلوں گا اور بغیر موت کے دنیا سے اٹھا کر اپنے پاس لے جاؤں گا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ آیت کا معنی دو طرح سے ہوسکتا ہے۔
(1) میں پورا پورا تجھے اٹھا کر اپنے پاس بلاؤں گا وہ تجھے کچھ ضرر نہیں پہنچا سکیں گے۔ محاورہ میں توفَّیْتُ کا معنیاِسْتَوْفَیْتُ (پورا پورا لے لینا) آتا ہے۔ (2) میں…
Read the full tafseer →(55) اللہ تعالیٰ نے اس وقت جب کہ حضرت عیسیٰ ؑ گرفتاری کے وقت پریشان ہوئے، فرمایا کچھ فکر نہ کرو میں تمہیں عالم بالا کی طرف اٹھانے والا ہوں اور تمہارے منکرین سے تمہیں پاک کرنے والا ہوں اور تمہارے پیروکاروں کو منکرین پر مدد اور حجت کے ساتھ غلبہ دینے والا ہوں اور پھر قیامت کے قریب آسمان سے اترنے کے بعد تمہیں فطری طریقہ کے مطابق موت دوں گا اور مرنے کے بعد سب کی واپسی میرے سامنے ہوگی، اس وقت میں سب کے درمیان ان امور دین میں جس میں تم باہم جھگڑتے تھے فیصلہ کردوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیکَ : ”وَفَی یَفِیْ“ کا معنی پورا ہونا یا پورا کرنا ہے۔ ”اِسْتَوْفَی“ اور ”تَوَفّٰی“ کا معنی پورا لے لینا ہے۔ ”اِسْتَوْفَیْتُ مِنْہُ وَ تَوَفَّیْتُ“ کا معنی ہے ”میں نے اس سے پورا حق لے لیا۔“ اس بنا پر ”مُتَوَفِّيْكَ“ کا معنی ہے ”میں تمہیں پورا لینے والا ہوں“ اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ عیسیٰ ؑ کو روح و بدن دونوں کے ساتھ اٹھا لیا جاتا۔ بعض نے اس کا معنی ”(وقت پر) فوت کرنے والا ہوں“ کیا ہے اور میں نے ترجمہ کیا ہے ”قبض کرنے والا ہوں۔“ اس میں دونوں معنی آجاتے ہیں۔ یوں تو قرآن میں ”تَوَفِّیْ“ کا معنی سلا دینا بھی آیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَهُوَ الَّذِيْ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 55۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” اذ قال اللہ یعیسی انی متوفیک “۔ اذ میں عامل یا تو مکروا ہے یا فعل مضمر ہے، اہل معافی کی ایک جماعت جن میں ضحاک اور فراء بھی ہیں انہوں نے ارشاد باری تعالیٰ (آیت) ” انی متوفیک ورافعک الی کے بارے کہا ہے کہ اس میں تقدیم وتاخیر ہے، کیونکہ واؤ ترتیب کو ثابت نہیں کرتی، اور معنی یہ ہے : انی رافعک الی ومطھرک من الذین کفروا ومتوفیک بعد ان تنزل من السمائ “۔ (میں تمہیں اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تمہیں ان لوگوں کی تہمتوں سے پاک کرنے والا ہوں جنہوں نے تیرا انکار کیا اور تمہیں آسمان سے اتارے جانے کے بعد تمہیں موت دوں گا) اسی طرح یہ ارشاد ہے
(آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
(1) ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” انی متوفیک “ سے مراد ہے کہ میں تجھ کو موت دینے والا ہوں۔
(2) عبد الرزاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” انی متوفیک “ سے مراد ہے کہ میں تم کو زمین سے اٹھانے والا ہوں۔
(3) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے وجہ آخر سے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” انی متوفیک “ کہ میں آپ کو نیند دینے والا ہوں اللہ تعالیٰ نے نیند کی حالت میں آپ کو آسمان پر اٹھالیا اور پھر حضرت حسن ؓ نے فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو موت نہیں آئی اور وہ قیامت کے دن سے پہلے تمہاری طرف لوٹیں گے۔
(4)…
Read the full tafseer →[اِذْ قَالَ : جب کہا ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [یٰـعِیْسٰٓی : اے عیسیٰ (علیہ السلام) ] [اِنِّیْ : بیشک میں ] [مُتَوَفِّیْکَ : پورا پورا لینے والا ] [ہوں آپ (علیہ السلام) کو ] [وَرَافِعُکَ : اور میں اٹھانے والا ہوں آپ (علیہ السلام) کو ] [اِلَیَّ : اپنی طرف ] [وَمُطَہِّرُکَ : اور میں نجات دلانے والا ہوں آپ (علیہ السلام) کو ] [مِنَ الَّذِیْنَ : ان لوگوں سے جنہوں نے ] [کَفَرُوْا : انکار کیا ] [وَجَاعِلُ : اور میں بنانے والا ہوں ] [الَّذِیْنَ : ان کو جنہوں نے ] [اتَّـبَعُوْکَ : پیروی کی آپ (علیہ السلام) کی ] [فَوْقَ الَّذِیْنَ : ان سے اوپر جنہوں نے ] [کَفَرُوْآ : انکار کیا ] [اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ…
Read the full tafseer →مُتَوَفِّیْکَ اور رافِعُکَ کی تفسیر :
اللہ جل شانہٗ نے یہ جو فرمایا کہ (یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ لفظ اذ لفظ مَکَرَکا ظرف ہے یا یہاں اذکر مقدر ہے جیسا کہ اس قسم کے مواقع میں مانا جاتا ہے۔ اگر مکر سے متعلق کیا جائے تو معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا جب اللہ نے خفیہ تدبیر فرمائی اور یہ فرمایا کہ اے عیسیٰ میں تمہیں وفات دینے والا ہوں اور تمہیں اوپر اٹھا لینے والا ہوں اور تمہیں ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں جنہوں نے کفر کیا۔ چونکہ آسمان پر اٹھانا پہلے ہوا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–58
ذکر عداوت یہود باعیسی (علیہ السلام) و حفاظت خداوندنام وبشارت رفع الی السماء ومحفوظیت از مکر اعداء۔
قال تعالی، فلمااحس عیسیٰ منھم الکفر۔۔۔ الی۔۔۔ الممترین۔
حسب بشارت جب عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور پھر نبی ہوئے اور لوگوں کو توحید اور تقوی اور اپنی اطاعت کی دعوت دی اور سیدھی راہ کی طرف بلایا اور معجزات اور نشانات ان کو دکھلائے تو یہود بےبہبود نے آپ کی تکذیب کی اور آپ کے ایذاء اور قتل کے درپے ہوئے حق جل شانہ نے ان آیات میں یہود کی عداوت کا ذکر کیا وہ حضرت عیسیٰ کے قتل کی کیا کیا تدبیریں کررہے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی حفاظت کا ذکر فرمایا کہ ہم نے ان کی حفاظت کی کیا تدبیر کی وہ…
Read the full tafseer →78 حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ اس واقعہ سے بھی عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح کی تردید ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر حضرت مسیح (علیہ السلام) الہ اور متصرف ومختار ہوتے تو یہودیوں کے مکر سے خود بخود بچ جاتے۔ لیکن اس میں وہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کے محتاج تھے۔ متوفی توفی سے اسم فاعل ہے۔ اور توفی کے معنی کسی چیز کو پورے طور پر لینے اور وصول کرنے کے ہیں۔ التوفی اخذا لشی ٗ وافیا (کبیر ج 2 ص 689) اور رَافِعُکَ ماقبل کی تفسیر ہے اور اذ ظرف مکروا کے متعلق ہے۔ یعنی یہودی جب حضرت مسیح (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی خفیہ تدبیریں سوچ رہے تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ خوشخبری سنا دی کہ میں تم کو پورا پورا یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ربط آیات :
گذشتہ درس میں ان سازشوں کا ذکر تھا ، جو یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نقصان پہنچانے کے لیے کیں۔ انہوں نے آپ کو قتل کروانے کے لیے بادشاہ وقت کے کان بھرے کہ یہ شخص تورات کو بدلنا چاہتا ہے یہ لوگوں کو بےدین بنا دے گا لہذا اسے سزا ملنی چاہیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے بھی مخفی تدبیریں کیں اور اللہ نے بھی تدبیر کی۔ اور اللہ ہی سب سے بہتر تدبیر کرنے والے ہیں وہ یہودیوں کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے بلکہ خود اپنی منشاٗ کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حفاظت کریں گے۔
امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہودیوں کی سازش کے تحت۔ فبعث فی طلبہ ان یاخزہ ویصلبہ و ینکل بہ۔…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ اللہُ يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَہِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ 0 ۚ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْہِ تَخْتَلِفُوْنَ 55
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
ترکیب : اذ کا یا وہی عامل ہے اعنی اذکر یا وقع ذلک۔ متوفیک اور رافعک اور جاعل الخ سب خبر ہیں انی کی فاما الذین کفروا مبتداء فاعذبہم خبر ذلک مبتداء نتلوہ خبر۔
تفسیر : یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا تتمہ ہے۔ یہود کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے گرچہ وعظ و نصیحت کی وجہ سے عداوت تھی مگر جبکہ سبت وغیرہ احکام میں تغیر کیا تو یہود کو الزام لگانے کا ذریعہ ہاتھ آگیا۔ ملک شام میں اس وقت یہود کی سلطنت نہ تھی بلکہ رومیوں کی سلطنت تھی اور قیصر روم کی طرف سے وہاں ایک حاکم رہتا تھا جس کو ہیرو دیس کہا کرتے تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حواریوں کو ساتھ لئے ملک شام کے شہروں میں معجزے دکھاتے اور وعظ فرماتے…
Read the full tafseer →اِذْقَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْـکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ج ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیْنَـکُمْ فِیْمَا کُنْـتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ ۔
(اس وقت کو یاد کرو جس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ میں تمہیں قبض کرلینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اور تجھے پاک کردینے والا ہوں ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا اور جن لوگوں نے تمہاری پیروی کی ہے ان کو قیامت تک کے لیے ان لوگوں پر غالب کرنے والا ہوں جنھوں نے تمہارا انکار کیا ہے۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن اپنے اسلوب کے مطابق بیک وقت حق کے منکروں اور اہل ایمان کے انجام کا فرق بیان کرتا ہے۔
جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار اور دین حق سے انحراف کیا۔ وہ دنیا اور آخرت میں شدید عذاب سے دوچار کیے جائیں گے اور ان کا کوئی حامی ومدد گار نہیں ہوگا۔ آخرت کے عذاب کے بارے میں قرآن مجید کافر کی خوفناک موت سے لے کر جہنم میں اس کے دخول اور سزاؤں کا موقع بموقع تفصیل کے ساتھ ذکر کرتا ہے۔ جہاں تک دنیا کے عذاب کا تعلق ہے اس کی کئی شکلیں اور صورتیں ہوسکتی ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق صاحب کردار ایمان داروں کو ایسا غلبہ نصیب فرمائے گا کہ اللہ کے باغی…
Read the full tafseer →متوفیک کی تفسیر :
55: اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفرُوْٓٓا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ ۔ (جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ بیشک میں تیری اجل مقررہ پوری کرنیوالا ہوں) مطلب یہ ہے کہ میں تجھے کفار کے قتل سے بچانے والا اور طبعی موت دونگا کفار کے ہاتھوں قتل نہ ہونے دونگا۔ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ (اور تمہیں اپنے آسمان کی طرف جو ملائکہ کا مستقر ہے بلانے والا ہوں) وَمُطَھِّرُ کَ…
Read the full tafseer →(متوفیک ورافعک کی مختلف تفاسیر)
(تفسیر) 55۔:
(آیت)” اذ قال اللہ یا عیسیٰ ان متوفیک ورافعک “۔ متوفی کے متعلق آئمہ کے مختلف اقوال ہیں ، حسن (رح) کلبی (رح) اور ابن جریج (رح) نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تجھے پکڑ لوں گا اور بغیر موت کے دنیا سے اٹھا کر اپنے پاس لے جاؤں گا جس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” فلما توفیتنی “ دلالت کر رہا ہے ، میں نے تمہیں آسمان کی طرف اٹھا لیا اور میں زندہ ہوں اس لیے کہ لوگ کسی کے اٹھائے جانے سے اس کی مدد کرتے ہیں نہ کہ اس کے مرنے کے بعد ، لہذا یہاں پر توفی کی دو تاویلیں کی جائیں گی ،۔
(1) میں نے تجھے اپنی طرف پورا پورا اٹھاؤں گا اور تجھے کوئی چیز ضرر نہیں پہنچا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
(55 ۔ 58) ۔ مفسرین میں اختلاف ہے کہ مراد فی متوفیک ورافعک الی سے کیا ہے۔ لیکن ابوہریرہ ؓ کی متفق علیہ حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پھر دنیا میں آئیں گے 3۔ اور اس باب میں اور بہت سی حدیثیں ہیں اسی طرح ابو داود اور حاکم کی ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دنیا میں دوبارہ آنے کے بعد پھر ان کی وفات ہوگی اور اس وقت کے مسلمان ان کی جنازہ کی نماز پڑھیں گے 4۔ اور آیت اللہ الذی خلقکم ثم رزقکم ثم یمتکم ثم یحییکم (30۔ 40) سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص کی موت دنیا میں ایک ہی دفعہ اللہ تعالیٰ نے قرار دی ہے۔ اسی سبب سے آیت وھو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
آیت 45-58
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰ ہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لئے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبرئیل کو مریم کے پاس بھیجا۔ انہوں نے آپ کی قمیض کے گریبن میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
مباہلہ کا جواز
قول بارے ہے (فقل تعالواند ع ابناء نا وایتاء کم ونساء ناونساء کم وانفسنا وانسکم، اے محمد ! ان سے کہو، آؤہم اور تم خود بھی آجائیں اور اپنے اپنے بال کو بھی لے آئیں) عیسائیوں کے اس قول کے خلاف کہ حضرت مسیح ابن اللہ ہیں اس آیت سے استدلال پہلے گذرچکا ہے نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد جس میں ان کا سردار اورنائب سرداردونوں تھے، حضور ﷺ کی خدمت میں آیا تھا۔ ان دونوں نے حضور ﷺ سے سوال تھا کہ آپ نے بن باپ کا کوئی بچہ دیکھا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم، اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی مثال کی طرح ہے) حضرت ابن عباس حسن اور قتادہ سے یہی روایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
119 " مکر اللہ " کا معنی و مطلب ؟ : یعنی ان لوگوں کی چال کے مقابلے میں جو چال اللہ نے چلی اس کی بناء پر یہ ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہوگئے کہ اس کی خفیہ تدبیر کا نہ کوئی مقابلہ کرسکتا ہے، نہ کوئی توڑ، اور نہ اس کو کوئی سمجھ ہی سکتا ہے۔ عام طور پر اردو محاورے اور ہمارے معاشرے میں لفظ ِ " مکر " چونکہ برے معنی میں استعمال ہوتا ہے، اس لئے قرآن حکیم میں وارد ایسے الفاظ و کلمات سے کچھ لوگوں کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں، اور ان کو اچنبھا ہونے لگتا ہے کہ اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ " مکر " کیسے کرسکتا ہے۔ اور اس کو " مکر " کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ اور وہ { خَیرُالمَاکِرِیْنَ } کیسے ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ کے وعدے
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پانچ وعدے کئے ہیں اور انہیں تسلی دی ہے کہ میں ان لوگوں سے تمہیں ضرور نجات دلاؤں گا۔ یہودیوں کا تو یہ اصول بن چکا تھا کہ نبیوں کو قتل کردیتے تھے، حضرت یحیٰی (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بھی انہوں نے ایسا کرنا چاہا حاکم وقت کو ان کے خلاف کردیا یہ کہہ کر کہ وہ تورات کو بدل دینا چاہتے ہیں چناچہ بادشاہ نے حکم دیا کہ مسیح کو گرفتار کر کے سولی پر چڑھا دیا جائے۔ تب رب العزت نے ان سے وعدہ کیا اور انہیں دشمنوں کے ظلم و ستم سے بچا لیا۔ اللہ رب العزت نے ان سے پانچ وعدے کئے۔ جن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–63
آیات 55- 63
اسرارومعارف
اذقال اللہ یا عیسیٰ انی متوفیک…………والذکرالحکیم۔
اب خفیہ تدبیر کیا تھی ؟ کہ یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنا چاہا اور اللہ نہ صرف انہیں بچانا چاہتا تھا ، بلکہ اپنی عظمت کا ایک نشان اور اپنے نبی ﷺ کی نبوت کے نشان کے طور پر باقی بھی رکھنا چاہتا تھا جس طرح ان کی پیدائش عجیب تھی ، ایسے ہی پرورش بھی نرالی کہ پالنے میں باتیں کیں پھر معجزات بھی عجیب تر۔
قدرت باری کے مظاہر :
اور اس کے بعد رفع یعنی آسمانوں پر اٹھایا جانا اور پھر دنیا میں نزول ، اس کے بعد موت یہ سب امور قدرت باری کے مظاہر ہیں۔
ارشاد ہوا کہ اے عیسیٰ میں تمہیں لے لوں گا اور اٹھالوں گا۔ یہ معنی اس صورت…
Read the full tafseer →ف 2 التوفی کے معنی کسی چیز کو پورا پورا لینے اور وصول کرلینے کے ہیں، اور یہ اس لفظ کے اصل معنی ہیں۔ اس بنا پر آیت میں متوفیک کے معنی ہیں میں تمہیں پورا پورا لینے والا ہوں۔ اور یہ اس صوت میں ہوسکتا ہے کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کے روح مع البدن اٹھا لیا جاتا۔ دہلوی متراجم ثلاثہ میں بھی توفی کے اس مفہوم کو ملحوظ رکھ کر ترجمہ کیا گیا ہے اور اس کی ایک توجیہ وہ ہے جو متراجم (رح) نے اختیار کی ہے یوں تو قرآن میں اس کے معنی سلادینا بھی آئے ہیں۔ جیسا کہ آیت وھو الذی یتو فٰفکم بالفبل (الف م آیت 60) اور آیت والتی لم تمت فی منا مہا (الذمر 42) میں مذ کور ہے شیخ الا سلام ابن تیمہ نے الجواب الصحیح میں لکھا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
(3:55) متوفیک۔ متوفی۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ مضاف ک ضمیر واحد مذکر مضاف الیہ۔ میں تجھے وفات دینے والا ہوں۔ میں تجھے اپنی گرفت میں لے کر اٹھانیوالا ہوں۔ میں تجھے نیند میں سلانے والا ہوں ۔ اور (اس حالت نیند میں) آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں۔ اس کا مصدر توفی ہے۔ جس کا معنی پورا پورا لینا۔ تمام حق گرفتن۔ توفیت الشیء ای اخذتہ وقبضتہ تاما۔ سو آیۃ میں متوفیک کا مطلب یہ ہوا۔ میں تجھے سارے کے سارے کو یعنی روح بمعہ جسم قبضہ میں لینے والا ہوں۔ ورا فعک الی۔ اور اپنی طرف اٹھا لیجانے والا ہوں۔ اگرچہ توفی کے اور معانی بھی ہیں جیسا کہ اوپر مندرج ہے لیکن آیت کا مطلب متذکرہ بالا جمہور علماء کے نزدیک مقصود ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
لغات القرآن آیت نمبر 55 تا 60
انی متوفیک (میں تجھے پوراپورا لے لوں گا لفظ متوفی کا مصدر توفی ہے اور مادہ فئ اس کے اصل معنی عربی لغت کے اعتبار سے پورا پورا لینے کے ہیں) رافعک (تجھے اٹھالوں گا) الی (اپنی طرف) مطھرک (تجھے پاک کردوں گا) اتبعوک (جنہوں نے تیری اتباع کی) فوق (اوپر) مرجعکم (تمہیں لوٹنا ہے) احکم میں فیصلہ کروں گا) مختلفون (اختلاف کرنے والے) اعذب (میں عذاب دوں گا) یوفی (پورا بدلہ دیا جائے گا) اجور (بدلے، (اجر کی جمع ہے) نتلو (ہم پڑھتے ہیں) الذکر الحکیم (حکمت والا ذکر) تراب (مٹی) ۔
تشریح : آیت نمبر 55 تا 60
سورة آل عمران کی آیت 55 تا 60 کا خلاصہ یہ ہے کہ ان تمام یہودیوں نے قوم بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
حضرت ابوہریرہ ؓ کی متفق علیہ کی حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پھر دنیا میں آویں گے اور اس باب میں اور بہت سی حدیثیں ہیں۔ اسی طرح ابو داؤد اور حاکم کی ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دنیا میں دوبارہ آنے کے بعد پھر ان کی وفات ہوگی، اور اس وقت کے مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھایا تو حضرت عیسیٰ کی حالت نیند کی سی تھی ۔ انہی مفسروں کا قول صحیح معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ تمہارے تابع قیامت تک یہود پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
[25] یہود کی خفیہ تدبیر یہ تھی کہ ان کے علماء و فقہاء نے سازش کر کے عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی پر چڑھانا چاہا اور اللہ کی تدبیر یہ تھی کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو صحیح و سلامت آسمان پر اٹھا لے گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
حیات مسیح (علیہ السلام) :
(ف 1) ایک طرف یہودیوں نے مسیح (علیہ السلام) کے خلاف وسیع پیمانے پر سازش کی اور حکومت وقت کو مجبور کردیا کہ وہ انہیں باغی سمجھے اور سزا دے ، اسی کا نام قرآن حکیم کی زبان میں ” مکر “ ہے ، یعنی تدبیر محکم اور خفیہ ارادہ ، دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے ارادے کام کر رہے تھے ، اللہ تعالیٰ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو دشمنوں کی زد سے صاف بچا لینا چاہتے تھے ، اور یہودیوں کو دکھانا چاہتے تھے کہ آسمانوں پر ایک زبردست اور علیم و حکیم خدا بھی موجود ہے جو تمہاری سازش کو جانتا ہے اور اس کی قدرت واختیار میں ہے کہ تمہیں تمہارے ارادوں میں ناکام رکھے ، (آیت) ” واللہ خیر الماکرین “۔
جب مقابلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ف 3۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا۔ اے عیسیٰ (علیہ السلام) ! تم یقین رکھو کہ میں تمہاری موت وحیات پوری کروں گا ۔ یعنی دنیاوی زندگی کو پورا کرنے والا ہوں اور میں تجھ کو اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اور میں تم کو ان کافروں کے اتہامات سے جو تمہارے منکر ہیں پاک کرنے والا ہوں اور جو لوگ تیرے تابع اور تیرا کہنا ماننے والے ہیں ان کو میں قیامت تک ان لوگوں پر جو تیرے منکر ہیں غالب اور بالا دست رکھنے والا ہوں پھر تم سب کی واپسی قیامت کے روز میری ہی طرف ہوگی ، لہٰذا ! اس وقت میں تم سب کے درمیان ان امور کا فیصلہ کر دوں گا جن امور میں تم باہم اختلاف کیا کرتے تھے۔ ( تیسیر)
اس آیت…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی اپنے وقت موعود پر طبعی موت سے وفات دینے والا ہوں، اس سے مقصود بشارت دینا تھا حفاظت من الاعداء کی، یہ وقت موعود اس وقت آوے گا جب قرب قیامت کے زمانہ میں عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے زمین پر تشریف لاویں گے، جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے۔
4۔ یہ وعدہ عالم بالا کی طرف فی الحال اٹھالینے کا ہے۔ چناچہ یہ وعدہ ساتھ کے ساتھ پورا کیا گیا جس کے ایفاء کی خبر سورة نساء میں دی گئی ہے رفعہ اللہ الیہ اب زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ اگرچہ پہلا وعدہ پیچھے پورا ہوگا، لیکن مذکور پہلے ہے، کیونکہ یہ مثل دلیل کے ہے وعدہ روم کے لئے اور دلیل رتبة مقدم ہوتی ہے اور داود چونکہ ترتیب کے لئے موضوع نہیں، لہذا اس…
Read the full tafseer →سیدنا مسیح (علیہ السلام) کی پوری زندگی کا خاکہ بدل کر رکھ دیا گیا :
126: ” جن بزرگوں کی نبوت معلوم و مسلم ہے ان میں سب سے بڑھ کر ظلم سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر کیا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ویسے ہی ایک انسان تھے جیسے سب انسان ہوا کرتے ہیں۔ بشریت کی تمام خصوصیتیں ان میں بھی اس طرح موجود تھیں جس طرح ہر انسان میں ہوتی ہیں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اللہ نے ان کو حکمت و نبوت اور اعجاز کی قوتیں عطا فرما کر ایک بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح کے لیے معمور فرمایا تھا لیکن اول تو ان کی قوم نے ان کو جھٹلایا اور پورے تین سال بھی ان کے وجود مسعود کو برداشت نہ کرسکی یہاں تک کہ عین عالم شباب میں انہیں قتل کرنے…
Read the full tafseer →The word, مُتَوَفِّيكَ 'Mutawaffi' in إِنِّي مُتَوَفِّيكَ takes 'tawaffi' as its verbal noun with its root being 'wafyun.' Lexically, the word means 'to take in full'. This being its real meaning, its derivations wafa, ifa' and 'istifa' are used to convey that sense. In fact, the real meaning of tawaffi is 'to take in full' which is universally confirmed by all lexicons of the Arabic language. Since man completes his appointed time at the hour of death and the spirit or soul given by Allah is taken back fully and conclusively, it is in that context that this word is also used figuratively in…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
51. The expression used is mutawaffika. The original meaning of tawaffa is to take and receive. To 'seize a person's sou!' constitutes the figurative rather than the literal meaning of the word. Here the word is used in the sense of 'recall', for example, the recall of an official from his work. The Israelites had persisted in their disobedience, and despite repeated warnings and admonitions their collective behaviour had become increasingly corrupt. They had killed a succession of Prophets and were out to shed the blood of all those who invited them to righteousness and moral rectitude. In…
Read the full tafseer →