Aal-i-Imraan 3:56

Aal-i-Imraan · from ayah 56

3:56

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ ؗ— وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۟فَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فَاُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًا فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ

یعنی جو کافر ہوئے ان کو دنیا اور آخرت (دونوں) میں سخت عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And as for those who disbelieved, I will punish them with a severe punishment in this world and the Hereafter, and they will have no helpers."

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 6 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:56

جن لوگوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کی ہے انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں سخت سزا دوں گا اور وہ کوئی مددگار نہ پائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یعنی جو کافر ہوئے ان کو دنیا اور آخرت (دونوں) میں سخت عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر کافروں کو تو میں دنیا اور آخرت میں سخت تر عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ جو لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کو تو میں دنیا اور آخرت میں سخت عذاب دوں گا، اور ان کو کسی طرح کے مددگار میسر نہیں آئیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو وہ جو کافر ہوئے میں انہیں دنیاو آخرت میں سخت عذاب کروں گا، اور انکا کوئی مددگار نہ ہوگا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جو لوگ کافر ہوئے انہیں دنیا اور آخرت (دونوں میں) سخت عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہو گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جن لوگوں نے تو کفر کیا سو میں انھیں دنیا اور آخرت میں عذاب دوں گا، بہت سخت عذاب اور کوئی ان کی مدد کرنے والے نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جن لوگوں نے کفر کیا ہے انہیں میں دنیا اور آخرت میں شدید سزا دوں گا اور کوئی بھی ان کی مدد کرنے والا نہ ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو جن لوگوں نے کفر کیا ان کو سخت عذاب دوں گا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو وہ لوگ جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر (وباطل) پر، ان کو میں سخت عذاب دوں گا دنیا میں بھی، اور آخرت میں بھی، اور ان کے لئے کوئی مددگار نہیں ہوگا،

— مولانا اسحاق مدنی

سو جن لوگوں نے کفر (اختیار) کیا انہیں دنیا اور آخرت میں سخت سزا دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

) تو وہ لوگ جو کفر کی روش اختیار کریں گے میں انہیں عذاب دوں گا بہت سخت عذاب دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور نہیں ہوں گے ان کے لیے کوئی مددگار

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی ہے انہیں دنیاو آخرت میں سخت سزا دوں گا اور وہ کوئی مددگار نہ پائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

As for those who disbelieved, I shall punish them with a terrible chastisement in this world and in the Next; and they shall find none to help them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for those who disbelieve, I shall punish them a severe punishment in this world and in the Hereafter; and for them there are no helpers.

— Muhammad Taqi Usmani

As for those who disbelieve, I shall punish them a severe punishment in this world and in the Hereafter; and for them there are no helpers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"As to those who disbelieve, I will punish them with severe torment in this world and in the Hereafter, and they will have no helpers."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

As for those who disbelieve I shall chastise them with a heavy chastisement in the world and the Hereafter; and they will have no helpers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And as for those who disbelieved, I will punish them with a severe punishment in this world and the Hereafter, and they will have no helpers."

— Saheeh International

I shall sternly punish the unbelievers in this life and in the life to come and no one will help them.

— Muhammad Sarwar

Then as to those who disbelieve, I will chastise them with severe chastisement in this world and the hereafter, and they shall have no helpers.

— Muhammad Habib Shakir

Then as for those who disbelieved I shall torment them with a severe torment in the world and the Hereafter, nor shall have they any helpers.

— Abdul Majid Daryabadi

"As to those who reject faith, I will punish them with terrible agony in this world and in the Hereafter, nor will they have anyone to help."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:56

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 55–58

اظہارخو دمختاری قتادہ وغیرہ بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں، وہب بن منبہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھاتے وقت دن کے شروع میں تین ساعت تک فوت کردیا تھا، ابن اسحاق کہتے ہیں نصاریٰ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات ساعت تک فوت رکھا پھر زندہ کردیا، وہب فرماتے ہیں تین دن تک موت کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھا لیا، مطر وراق فرماتے ہیں یعنی میں تجھے دنیا میں پورا پورا کردینے والا ہوں یہاں وفات موت مراد نہیں، اسی طرح ابن جریر فرماتے ہیں تو فی سے یہاں مراد ان کا رفع ہے اور اکثر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 56–59

سورة اٰلِ عِمْرٰن 53 یعنی اگر محض اعجازی پیدائش ہی کسی کو خدا یا خدا کا بیٹا بنانے کے لیے کافی دلیل ہو تب تو پھر تمہیں آدم کے متعلق بدرجہ اولیٰ ایسا عقیدہ تجویز کرنا چاہیے تھا، کیونکہ مسیح تو صرف بےباپ ہی کے پیدا ہوئے تھے، مگر آدم ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–58

ربط آیات اوپر آیت میں مذکور تھا کہ " میں ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان قیامت کے روز عملی فیصلہ کروں گا " اس آیت میں اس فیصلہ کا بیان ہے۔ خلاصہ تفسیر تفصیل (فیصلہ کی) یہ ہے کہ جو لوگ (ان اختلاف کرنے والوں میں) کافر تھے سو ان کو (ان کے کفر پر) سخت سزا دوں گا (مجموعہ دونوں جہان میں) دنیا بھی (کہ وہ تو ہوچکی) اور آخرت میں بھی (کہ وہ باقی رہی) اور ان لوگوں کا کوئی حامی (طرف دار) نہ ہوگا اور جو لوگ مومن تھے اور انہوں نے نیک کام کئے تھے سو ان کو اللہ تعالیٰ ان کے (ایمان اور نیک کاموں کا) ثوابدیں گے اور (کافر کو سزا ملنے کی وجہ یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ محبت نہیں رکھتے (ایسے) ظلم کرنے والوں سے (جو اللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ اسی عدالت کا ظہور ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے اور جو کسی قوم کی طرف رسول کی بعثت کا لازمی نتیجہ ہے۔ اس میں عذاب دنیا اور عذاب آخرت دونوں کی دھمکی ہے۔ یہود پر اس دنیا میں جو دل ہلا دینے والی آفتیں آئیں سب ان کے اسی کفر کا نتیجہ تھیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 56–61

61۔ 1 یہ آیت مباہلہ کہلاتی ہے۔ مباہلہ کے معنی ہیں دو فریق کا ایک دوسرے پر لعنت یعنی بدعا کرنا مطلب یہ ہے کہ جب دو فریقین میں کسی معاملے کے حق یا باطل ہونے میں اختلاف ہو اور دلائل سے وہ ختم ہوتا نظر نہ آتا ہو تو دونوں بارگاہ الہٰی میں یہ دعا کریں کہ یا اللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے اس پر لعنت فرما اس کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ 9 ہجری میں نجران سے عیسائیوں کا ایک وفد نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جو وہ غلو آمیز عقائد رکھتے تھے اس پر مناظرہ کرنے لگا۔ بالآخر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی ﷺ نے انہیں مباہلہ کی دعوت دی حضرت علی ؓ، حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت حسن، حسین ؓ کو بھی ساتھ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 56–61

25: اس عمل کو مباہلہ کہا جاتا ہے، جب بحث کا کوئی فریق دلائل کو تسلیم کرنے کے بجائے ہٹ دھرمی پر تل جائے تو آخری راستہ یہ ہے کہ اسے مباہلہ کی دعوت دی جائے جس میں دونوں فریق اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ ہم میں سے جھوٹا یا باطل پر ہو وہ ہلاک ہوجائے، جیسا کہ اس سورت کے شروع میں بیان ہوا ہے، شہر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آیا تھا اس نے آپ سے حضرت عیسیٰ ؑ کی خدائی پر بحث کی، جس کا اطمینان بخش جواب قرآن کریم کی طرف سے پچھلی آیتوں میں دے دیا گیا، جب وہ کھلے دلائل کے باوجود اپنی گمراہی پر اصرار کرتے رہے تو اس آیت نے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ وہ انہیں مباہلے کی دعوت دیں ؛ چنانچہ آپ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 55–57

آپ کی وفات کیسے تھی ‘ آپ کا آسمانوں پر اٹھایاجانا کیسے تھا ۔ یہ غیبی امور ہیں اور یہ متشابہات میں داخل ہیں ۔ جن کی تاویل صرف اللہ جانتا ہے۔ اس لئے اس بارے میں بحث سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ نہ عقیدہ میں فائدہ ہے اور نہ شریعت میں فائدہ ہے ۔ جو لوگ اس کے پیچھے پڑتے ہیں اور اسے بحث ومجادلہ کا موضوع بناتے ہیں تو وہ آخر کار ایسے حالات تک پہنچتے ہیں جو ظاہری اور سطحی باتیں ہوتی ہیں۔ مزید التباس اور پیچیدگی میں پھنس جاتے ہیں اور وہ کوئی قطعی حقیقت سامنے نہیں لاسکتے ۔ نہ دل کو کوئی تسلی ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ یہ ایسا امر ہے جس کی تاویل اللہ ہی جانتاہے……………رہی یہ بات کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 55–57

7 بادشاہ نے لوگوں کو مامور کیا کہ مسیح (علیہ السلام) کو پکڑیں۔ صلیب (سُولی) پر چڑھائیں اور ایسی عبرتناک سزائیں دیں جسے دیکھ کر دوسرے لوگ اس کا اتباع کرنے سے رک جائیں۔ فبعث فی طلبہ من یاخذہ ویصلبہ وینکل بہ (ابن کثیر) خداوند قدوس نے اس کے جواب میں مسیح (علیہ السلام) کو مطمئن فرما دیا کہ میں ان اشقیاء کے ارادوں اور منصوبوں کو خاک میں ملا دوں گا۔ یہ چاہتے ہیں کہ تجھے پکڑ کر قتل کردیں اور پیدائش و بعثت سے جو مقصد ہے پورا نہ ہونے دیں اور اس طرح خدا کی نعمت عظیم کی بےقدری کریں۔ لیکن میں ان سے اپنی یہ نعمت لے لوں گا۔ تیری عمر مقدر اور جو مقصد عظیم اس سے متعلق ہے پورا کر کے رہوں گا۔ اور تجھ کو پورے کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 55–56

آیت 55 اِذْ قَال اللّٰہُ یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ لفظ مُتَوَفِّیْکَکو قادیانیوں نے اپنے اس غلط عقیدے کے لیے بہت بڑی بنیاد بنایا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات ہوچکی ہے۔ لہٰذا اس لفظ کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ وَفٰی کے معنی ہیں پورا کرنا۔ اردو میں بھی کہا جاتا ہے وعدہ وفا کرو۔ اسی سے باب تفعیل میں وَفّٰی۔ یُوَفِّیْ۔ تَوْفِیَۃً کا مطلب ہے کسی کو پورا دینا۔ جیسا کہ آیت 25 میں ہم پڑھ آئے ہیں : فَکَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰہُمْ لِیَوْمٍ لاَّ رَیْبَ فِیْہِقف وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ تو کیا حال ہوگا جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے اس دن جس کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 55–58

53۔ ا اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ سے دو باتوں کا وعدہ فرمایا اور انہیں یقین دلایا۔ پہلی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کافروں کے الزامات سے پاک کرے گا اور کافروں سے مراد اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ دونوں ہیں۔ یہود کا الزام یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ معاذ اللہ ولدالحرام ہیں، اور عیسائیوں کا الزام یہ تھا کہ آپ فی الواقعہ مصلوب ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی زبان پر ان دونوں الزاموں کی مدلل اور بھرپور تردید فرما کر عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان الزامات سے پاک و بری قرار دیا۔ اور دوسرا وعدہ یہ تھا کہ میں (اے عیسیٰ ) تیرے تابعداروں کو تجھے نہ ماننے والے یعنی یہودیوں پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

141 ۔ (آیت) ” فی الدنیا “۔ (دنیوی سزا کا حال تاریخ یہود کے صفحات سے پوچھ دیکھئے۔ کون سی تباہیاں ہیں جو اس دوہزار سال کی مدت میں بیچاروں پر نہیں آچکی ہیں۔ اور آج دولت و ثروت کے باوجود بھی کیسی نکبت سوار ہے ! بلکہ جیسا کہ جیوش انسائیکلوپیڈیا کے حوالہ سے پارہ اول کے ایک حاشیہ میں گزر چکا ہے، یہ قومی ثروت وتمول کا خیال بھی ایک افسانہ ہی ہے ورنہ حقیقتہ قوم پر بجائے دولت کے افلاس مسلط ہے) جرمنی۔ اٹلی۔ ہنگری، رومانیا وغیرہ سے جس بیدردی کے ساتھ نکالے گئے وہ داستان خونیں تو ابھی بالکل تازہ ہے۔ (آیت) ” الاخرۃ “۔ رہی آخرت تو سزا کا پورا پورا ظہور تو وہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 56–61

فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الْعِلْمِ (الآیۃ) یہ آیت مباہلہ کہلاتی ہے مباہلہ کے معنیٰ ہیں دو فریق کا ایک دوسرے پر لعنت یعنی بددعاء کرنا، مطلب یہ کہ جب دو فریقوں میں کسی معاملے کے حق و باطل ہونے میں اختلاف و نزاع پیدا ہوجائے اور دلائل سے وہ ختم ہوتا نظر نہ آتا ہو تو دونوں فریق بارگاہِ الہیٰ میں یہ دعاء کریں کہ یا اللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہو اس پر لعنت فرما، اس کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ 9 ھ میں نصاریٰ نجران کے چودہ اکابر کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا گفتگو الوہیت مسیح کے مسئلہ پر رہی اسلامی عقیدہ بالکل صاف اور واضح تھا، لیکن مسیحی نمائندے اپنی بات پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُھُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ : پس جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا ان کو دنیا میں سخت عذاب دوں گا۔ یعنی قتل ‘ قید ‘ جزیہ اور ذلت کا عذاب دنیا میں دوں گا اور آخرت میں دوزخ کا عذاب۔ وَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ : اور ان کا کوئی حمایتی نہیں ہوگا جو ہمارے عذاب سے ان کو بچا سکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(56) چناچہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں بالخصوص حضور ﷺ اور حضرت عیسیٰ ؑ کے منکر تھے ان پر دنیا میں تلوار اور جزیہ مسلط کردیا (یعنی یا تو وہ مفتوح ہوگئے اور یا زیر تسلط آگئے ،) اور آخرت میں نار جہنم کی سخت ترین سزادوں گا اور وہ دنیا وآخرت میں کوئی تدبیر کرکے بھی عذاب الہی کو ٹال نہیں سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 55–58

مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیکَ : ”وَفَی یَفِیْ“ کا معنی پورا ہونا یا پورا کرنا ہے۔ ”اِسْتَوْفَی“ اور ”تَوَفّٰی“ کا معنی پورا لے لینا ہے۔ ”اِسْتَوْفَیْتُ مِنْہُ وَ تَوَفَّیْتُ“ کا معنی ہے ”میں نے اس سے پورا حق لے لیا۔“ اس بنا پر ”مُتَوَفِّيْكَ“ کا معنی ہے ”میں تمہیں پورا لینے والا ہوں“ اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ عیسیٰ ؑ کو روح و بدن دونوں کے ساتھ اٹھا لیا جاتا۔ بعض نے اس کا معنی ”(وقت پر) فوت کرنے والا ہوں“ کیا ہے اور میں نے ترجمہ کیا ہے ”قبض کرنے والا ہوں۔“ اس میں دونوں معنی آجاتے ہیں۔ یوں تو قرآن میں ”تَوَفِّیْ“ کا معنی سلا دینا بھی آیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَهُوَ الَّذِيْ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 56–58

آیت نمبر : 56 تا 58۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فاما الذین کفروا فاعذبھم عذابا شدیدا فی الدنیا والاخرۃ “۔ یعنی میں انہیں دنیا میں قتل، سولی، قید اور جزیہ کے ساتھ اور آخرت میں آگ کے ساتھ سخت عذاب دوں گا۔ (آیت) ” ذلک نتلوہ علیک “۔ ذالک مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے، اور اس کی خبر ” نتلوہ “ ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ الامر ذالک ہو یعنی مبتدا مضمر ہو۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 56–58

(1) ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ نجران کے دوراہب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ان میں سے ایک نے کہا عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ کون ہے ؟ رسول اللہ ﷺ جلدی نہیں فرماتے تھے یہاں تک کہ ان کا رب ان کو حکم نہیں فرماتا تھا تو آپ پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ذلک نتلوہ علیک من الایت والذکر الحکیم “ سے لے کر ” من الممترین “ تک۔ (2) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” والذکر الحکیم “ سے قرآن مراد ہے۔ (3) ابن ابی حاتم نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا عنقریب فتنہ ہوگا میں نے عرض کیا اس سے نکلنے کا طریقہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی کتاب اور وہ ذکر حکیم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَاَمَّا الَّذِیْنَ : پس وہ جنہوں نے ] [کَفَرُوْا : انکار کیا ] [فَاُعَذِّبُہُمْ : ان کو تو میں عذاب دوں گا ] [عَذَابًا شَدِیْدًا : ایک ] [شدید عذاب ] [فِی الدُّنْیَا : دنیا میں ] [وَالْاٰخِرَۃِ : اور آخرت میں ] [وَمَا لَہُمْ : اور ان کے لیے نہیں ہے ] [مِّنْ نّٰصِرِیْنَ : کسی قسم کا کوئی مدد کرنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 56–58

کافروں کے لیے وعید عذاب شدید اور اہل ایمان کے لیے اجر وثواب کا وعدہ دنیا میں مومن اور کافر سبھی زندہ رہتے ہیں اور کھاتے کماتے ہیں۔ یہ سب دنیاوی امور ہیں آخرت میں تو ایمان مدار نجات یافتہ ہوگا ایمان اور اعمال صالح کی بنیاد پر جنت ملے گی اور اس وقت اعمال کا پورا پورا بدلہ اللہ پاک کی طرف سے دے دیا جائے گا اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے لیے دنیا میں بھی سزا ہے اور آخرت میں بھی، یہ سزا مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ جب مسلمان جہاد کرتے تھے (جواب بھی واجب ہے) اس وقت کافر ان کے ہاتھوں قتل ہوتے تھے قید ہوتے تھے غلام باندی بنائے جاتے تھے جزیہ دینے پر مجبور ہوتے تھے۔ اور اب بھی ان کے ملکوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–58

ذکر عداوت یہود باعیسی (علیہ السلام) و حفاظت خداوندنام وبشارت رفع الی السماء ومحفوظیت از مکر اعداء۔ قال تعالی، فلمااحس عیسیٰ منھم الکفر۔۔۔ الی۔۔۔ الممترین۔ حسب بشارت جب عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور پھر نبی ہوئے اور لوگوں کو توحید اور تقوی اور اپنی اطاعت کی دعوت دی اور سیدھی راہ کی طرف بلایا اور معجزات اور نشانات ان کو دکھلائے تو یہود بےبہبود نے آپ کی تکذیب کی اور آپ کے ایذاء اور قتل کے درپے ہوئے حق جل شانہ نے ان آیات میں یہود کی عداوت کا ذکر کیا وہ حضرت عیسیٰ کے قتل کی کیا کیا تدبیریں کررہے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی حفاظت کا ذکر فرمایا کہ ہم نے ان کی حفاظت کی کیا تدبیر کی وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

80 اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا سے وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہیں مانتے تھے اور انہیں قتل کرنا چاہتے تھے یا جنہوں نے ان کو معبود بنا لیا تھا۔ آخرت کا عذاب تو ظاہر ہے اور دنیا کے عذاب سے قید وبند اور قتل کا عذاب مراد ہے۔ چناچہ دنیا میں بھی ان لوگوں کو عذاب دیا گیا اور آخرت میں بھی دیا جائیگا۔ وکذالک فعل بمن کفر بالمسیح من الیہود او غلافیہ او اطراہ من النصاری عذبھم فی الدنیا بالقتل والسبی واخذ الاموال وازالۃ الایدی عن الممالک وفی الدار الآخرۃ عذابھم اشد واژق۔ (ابن کثیر ج 1 ص 367) اور ان کافروں کا کوئی یار و مددگار نہیں ہوگا جن کو انہوں نے اپنے حاجت روا اور مشکلشکا سمجھ رکھا ہے وہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 55–57

ربط آیات : گذشتہ درس میں ان سازشوں کا ذکر تھا ، جو یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نقصان پہنچانے کے لیے کیں۔ انہوں نے آپ کو قتل کروانے کے لیے بادشاہ وقت کے کان بھرے کہ یہ شخص تورات کو بدلنا چاہتا ہے یہ لوگوں کو بےدین بنا دے گا لہذا اسے سزا ملنی چاہیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے بھی مخفی تدبیریں کیں اور اللہ نے بھی تدبیر کی۔ اور اللہ ہی سب سے بہتر تدبیر کرنے والے ہیں وہ یہودیوں کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے بلکہ خود اپنی منشاٗ کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حفاظت کریں گے۔ امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہودیوں کی سازش کے تحت۔ فبعث فی طلبہ ان یاخزہ ویصلبہ و ینکل بہ۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُھُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ۝ 0 ۡوَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ۝ 56 «أمَّا» و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ } ( سورة يوسف 41) تم میں سے ایک ( جو پہلا خواب بیان کرنے ولا ہے وہ ) تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 55–58

ترکیب : اذ کا یا وہی عامل ہے اعنی اذکر یا وقع ذلک۔ متوفیک اور رافعک اور جاعل الخ سب خبر ہیں انی کی فاما الذین کفروا مبتداء فاعذبہم خبر ذلک مبتداء نتلوہ خبر۔ تفسیر : یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا تتمہ ہے۔ یہود کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے گرچہ وعظ و نصیحت کی وجہ سے عداوت تھی مگر جبکہ سبت وغیرہ احکام میں تغیر کیا تو یہود کو الزام لگانے کا ذریعہ ہاتھ آگیا۔ ملک شام میں اس وقت یہود کی سلطنت نہ تھی بلکہ رومیوں کی سلطنت تھی اور قیصر روم کی طرف سے وہاں ایک حاکم رہتا تھا جس کو ہیرو دیس کہا کرتے تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حواریوں کو ساتھ لئے ملک شام کے شہروں میں معجزے دکھاتے اور وعظ فرماتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 56–57

فَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَاُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ز وَمَا لَہُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۔ وَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْہِمْ اُجُوْرَہُمْ ط وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (تو جن لوگوں نے کفر کیا میں انھیں سخت عذاب دوں گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ اور رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے تو اللہ ان کو ان کا پورا اجر دے گا اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا) (56 تا 57) ہم مختلف مواقع پر یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ دنیا میں اللہ کے رسول کی آمد ایک حجت عادلہ ہوتی ہے۔ جزا و…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 55–56

فہم القرآن ربط کلام : قرآن اپنے اسلوب کے مطابق بیک وقت حق کے منکروں اور اہل ایمان کے انجام کا فرق بیان کرتا ہے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار اور دین حق سے انحراف کیا۔ وہ دنیا اور آخرت میں شدید عذاب سے دوچار کیے جائیں گے اور ان کا کوئی حامی ومدد گار نہیں ہوگا۔ آخرت کے عذاب کے بارے میں قرآن مجید کافر کی خوفناک موت سے لے کر جہنم میں اس کے دخول اور سزاؤں کا موقع بموقع تفصیل کے ساتھ ذکر کرتا ہے۔ جہاں تک دنیا کے عذاب کا تعلق ہے اس کی کئی شکلیں اور صورتیں ہوسکتی ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق صاحب کردار ایمان داروں کو ایسا غلبہ نصیب فرمائے گا کہ اللہ کے باغی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 56–57

56، 57: فَاَ مَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَاُعَذِّ بُھُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۔ وَاَمَّا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَ فِّیْھِمْ اُجُوْرَھُمْ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (پھر وہ لوگ جو کفر اختیار کریں گے پس میں ان کو سخت عذاب دونگا دنیا و آخرت میں اور انکا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ اور پھر وہ لوگ جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ کرتے رہے۔ پس وہ ان کو انکا پورا پورا اجر دے گا اور اللہ تعالیٰ کو ظالم لوگ پسند نہیں)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 56۔ : (آیت)” فاما الذین کفروا فاعذبھم عذابا شدیدا فی الدنیا “۔ دنیا میں سزا قتل کے قید کے ذریعے ، جزیہ کی صورت میں یا ذلت کی صورت میں (آیت)” وفی الاخرۃ “ آخرت میں دوزخ کے عذاب سے (آیت)” ومالھم من نصرین “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 55–58

(55 ۔ 58) ۔ مفسرین میں اختلاف ہے کہ مراد فی متوفیک ورافعک الی سے کیا ہے۔ لیکن ابوہریرہ ؓ کی متفق علیہ حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پھر دنیا میں آئیں گے 3۔ اور اس باب میں اور بہت سی حدیثیں ہیں اسی طرح ابو داود اور حاکم کی ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دنیا میں دوبارہ آنے کے بعد پھر ان کی وفات ہوگی اور اس وقت کے مسلمان ان کی جنازہ کی نماز پڑھیں گے 4۔ اور آیت اللہ الذی خلقکم ثم رزقکم ثم یمتکم ثم یحییکم (30۔ 40) سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص کی موت دنیا میں ایک ہی دفعہ اللہ تعالیٰ نے قرار دی ہے۔ اسی سبب سے آیت وھو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–58

آیت 45-58 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰ ہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لئے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبرئیل کو مریم کے پاس بھیجا۔ انہوں نے آپ کی قمیض کے گریبن میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–61

مباہلہ کا جواز قول بارے ہے (فقل تعالواند ع ابناء نا وایتاء کم ونساء ناونساء کم وانفسنا وانسکم، اے محمد ! ان سے کہو، آؤہم اور تم خود بھی آجائیں اور اپنے اپنے بال کو بھی لے آئیں) عیسائیوں کے اس قول کے خلاف کہ حضرت مسیح ابن اللہ ہیں اس آیت سے استدلال پہلے گذرچکا ہے نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد جس میں ان کا سردار اورنائب سرداردونوں تھے، حضور ﷺ کی خدمت میں آیا تھا۔ ان دونوں نے حضور ﷺ سے سوال تھا کہ آپ نے بن باپ کا کوئی بچہ دیکھا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم، اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی مثال کی طرح ہے) حضرت ابن عباس حسن اور قتادہ سے یہی روایت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 56–57

125 کافروں کیلئے ہمیشہ کا عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کافروں کو میں سخت عذاب دوں گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور ان کے لیے کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ یعنی ان کا عذاب اسی دنیا سے شروع ہو کر آخرت کے اس بھرپور عذاب تک جا پہنچے گا، جو ابدی دائمی اور نہایت ہی سخت ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس ارشاد کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی عدالت کسی مجرم کو سزا دیتے وقت یوں کہے کہ تمہاری سزا ایک سال ہے، لیکن اگر تم اپنی شرانگیزی سے باز نہ آئے تو تمہاری یہ سزا دو سال کردی جائے گی۔ یعنی اس صورت میں تمہاری یہ سزا آج ہی سے شروع ہو رہی ہے۔ اسی طرح یہاں سمجھا جائے کہ حق اور رسول حق کے ان دشمنوں کا عذاب اسی دنیا سے شروع…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 55–57

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ کے وعدے تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پانچ وعدے کئے ہیں اور انہیں تسلی دی ہے کہ میں ان لوگوں سے تمہیں ضرور نجات دلاؤں گا۔ یہودیوں کا تو یہ اصول بن چکا تھا کہ نبیوں کو قتل کردیتے تھے، حضرت یحیٰی (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بھی انہوں نے ایسا کرنا چاہا حاکم وقت کو ان کے خلاف کردیا یہ کہہ کر کہ وہ تورات کو بدل دینا چاہتے ہیں چناچہ بادشاہ نے حکم دیا کہ مسیح کو گرفتار کر کے سولی پر چڑھا دیا جائے۔ تب رب العزت نے ان سے وعدہ کیا اور انہیں دشمنوں کے ظلم و ستم سے بچا لیا۔ اللہ رب العزت نے ان سے پانچ وعدے کئے۔ جن کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 55–63

آیات 55- 63 اسرارومعارف اذقال اللہ یا عیسیٰ انی متوفیک…………والذکرالحکیم۔ اب خفیہ تدبیر کیا تھی ؟ کہ یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنا چاہا اور اللہ نہ صرف انہیں بچانا چاہتا تھا ، بلکہ اپنی عظمت کا ایک نشان اور اپنے نبی ﷺ کی نبوت کے نشان کے طور پر باقی بھی رکھنا چاہتا تھا جس طرح ان کی پیدائش عجیب تھی ، ایسے ہی پرورش بھی نرالی کہ پالنے میں باتیں کیں پھر معجزات بھی عجیب تر۔ قدرت باری کے مظاہر : اور اس کے بعد رفع یعنی آسمانوں پر اٹھایا جانا اور پھر دنیا میں نزول ، اس کے بعد موت یہ سب امور قدرت باری کے مظاہر ہیں۔ ارشاد ہوا کہ اے عیسیٰ میں تمہیں لے لوں گا اور اٹھالوں گا۔ یہ معنی اس صورت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 56–57

ف 3 حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے اول تابع نصاری ٰ تھے پیچھے سو ہمیشہ غالب رہے۔ ( موضح) حافظ ابن تیمہ لکھتے ہیں ان سے مراد صرف نصاریٰ بھی ہوسکتے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ یہود جو مسیح ( علیہ السلام) کے منکر ہیں ان پر عیسائی ہمیشہ غالب رہیں گے۔ (تفسیر ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 55–56

(3:55) متوفیک۔ متوفی۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ مضاف ک ضمیر واحد مذکر مضاف الیہ۔ میں تجھے وفات دینے والا ہوں۔ میں تجھے اپنی گرفت میں لے کر اٹھانیوالا ہوں۔ میں تجھے نیند میں سلانے والا ہوں ۔ اور (اس حالت نیند میں) آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں۔ اس کا مصدر توفی ہے۔ جس کا معنی پورا پورا لینا۔ تمام حق گرفتن۔ توفیت الشیء ای اخذتہ وقبضتہ تاما۔ سو آیۃ میں متوفیک کا مطلب یہ ہوا۔ میں تجھے سارے کے سارے کو یعنی روح بمعہ جسم قبضہ میں لینے والا ہوں۔ ورا فعک الی۔ اور اپنی طرف اٹھا لیجانے والا ہوں۔ اگرچہ توفی کے اور معانی بھی ہیں جیسا کہ اوپر مندرج ہے لیکن آیت کا مطلب متذکرہ بالا جمہور علماء کے نزدیک مقصود ہے اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 55–60

لغات القرآن آیت نمبر 55 تا 60 انی متوفیک (میں تجھے پوراپورا لے لوں گا لفظ متوفی کا مصدر توفی ہے اور مادہ فئ اس کے اصل معنی عربی لغت کے اعتبار سے پورا پورا لینے کے ہیں) رافعک (تجھے اٹھالوں گا) الی (اپنی طرف) مطھرک (تجھے پاک کردوں گا) اتبعوک (جنہوں نے تیری اتباع کی) فوق (اوپر) مرجعکم (تمہیں لوٹنا ہے) احکم میں فیصلہ کروں گا) مختلفون (اختلاف کرنے والے) اعذب (میں عذاب دوں گا) یوفی (پورا بدلہ دیا جائے گا) اجور (بدلے، (اجر کی جمع ہے) نتلو (ہم پڑھتے ہیں) الذکر الحکیم (حکمت والا ذکر) تراب (مٹی) ۔ تشریح : آیت نمبر 55 تا 60 سورة آل عمران کی آیت 55 تا 60 کا خلاصہ یہ ہے کہ ان تمام یہودیوں نے قوم بنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 55–58

حضرت ابوہریرہ ؓ کی متفق علیہ کی حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پھر دنیا میں آویں گے اور اس باب میں اور بہت سی حدیثیں ہیں۔ اسی طرح ابو داؤد اور حاکم کی ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دنیا میں دوبارہ آنے کے بعد پھر ان کی وفات ہوگی، اور اس وقت کے مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھایا تو حضرت عیسیٰ کی حالت نیند کی سی تھی ۔ انہی مفسروں کا قول صحیح معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ تمہارے تابع قیامت تک یہود پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 54–58

[25] یہود کی خفیہ تدبیر یہ تھی کہ ان کے علماء و فقہاء نے سازش کر کے عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی پر چڑھانا چاہا اور اللہ کی تدبیر یہ تھی کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو صحیح و سلامت آسمان پر اٹھا لے گیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 56–61

مباہلہ : (ف 1) مسیح (علیہ السلام) کے متعلق آیات سابقہ میں بکرات یہ بیان کیا جا چکا کہ ان کی حیثیت ایک محترم ومکرم رسول سے زائد نہیں مگر عیسائی ہیں کہ غلو سے کام لیتے ہوئے انہیں ابن اللہ سمجھنے پر مصر ہیں ، ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب مگر آخری فیصلہ کی طرف دعوت دی ہے اور وہ یہ ہے کہ دونوں متخاصم مل کر اللہ سے جھوٹے کی ہلاکت چاہیں اور دیکھیں کہ خدا کس کی تائید میں ہے ، کون باقی رہتا ہے اور کس کے حق میں ہلاکت مقدر ہے ، یہ طریق فیصلہ اس وقت اختیار کیا گیا جب منطق وبرہان کے تمام حربے ناکام رہے اور عقیدت میں غلو ہر دلیل وفلسفہ پر غالب رہا ، جب بحث کے تمام دروازے بند ہوگئے اور غور وفکر کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 55–57

ف 3۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا۔ اے عیسیٰ (علیہ السلام) ! تم یقین رکھو کہ میں تمہاری موت وحیات پوری کروں گا ۔ یعنی دنیاوی زندگی کو پورا کرنے والا ہوں اور میں تجھ کو اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اور میں تم کو ان کافروں کے اتہامات سے جو تمہارے منکر ہیں پاک کرنے والا ہوں اور جو لوگ تیرے تابع اور تیرا کہنا ماننے والے ہیں ان کو میں قیامت تک ان لوگوں پر جو تیرے منکر ہیں غالب اور بالا دست رکھنے والا ہوں پھر تم سب کی واپسی قیامت کے روز میری ہی طرف ہوگی ، لہٰذا ! اس وقت میں تم سب کے درمیان ان امور کا فیصلہ کر دوں گا جن امور میں تم باہم اختلاف کیا کرتے تھے۔ ( تیسیر) اس آیت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 56–61

ف 1۔ آیت میں اپنے تن سے مراد تو خود اہل مباحثہ ہیں اور نساء سے خاص زوجہ مراد نہیں، بلکہ اپنے گھر کی تمام عورتیں مراد ہیں، جس میں دختر بھی شامل ہے۔ چناچہ آپ بوجہ اس کے کہ حضرت فاطمہ سب اولاد میں زیادہ عزیز تھیں ان کو لائے۔ اسی طرح بنائنا سے خاص صلبی اولاد مراد نہیں بلکہ عام ہے، اولاد کی اولاد کو بھی اور ان کو بھی جو مجازا اولاد کہلاتے ہوں، یعنی عرفا مثل اولاد کے سمجھے جاتے ہوں، اس مفہوم میں نواسے اور داماد بھی داخل ہیں، چناچہ آپ حضرات حسنین اور حضرت علی ؓ کو لائے۔ مباہلہ اب بھی حاجت کے وقت جائز اور مشروع ہے۔ مباہلہ کا انجام کہیں تصریحا تو نظر سے نہیں گزرا، مگر حدیث میں قصہ مذکور کے متعلق اتنا…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کفر کی راہ اختیار کرنے والوں کا انجام : 129: اس جگہ کفر کی راہ اختیار کرنے والوں سے مراد وہی لوگ ہو سکتے ہیں جنہوں نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا اقرار کرنے سے انکار کیا اور وہ یہود کے نام سے پکارے گئے۔ تاریخ یہود کے واقعات آج بھی تاریخ کے صفحات ہیں قلمبند ہیں وہاں کوئی ورق الٹ کر دیکھ لیجئے کہ کون سی تباہیاں ہیں جو دو ہزار سالوں میں ان پر نہیں آ چکی ہیں۔ اور آج بھی دولت و ثروت کے باوجود کیسی نکبت ان پر سوار ہے۔ مسلمانوں کو بار بار یاد دلایا جا رہا ہے کہ کسی کے سہرے زندہ رہنا ہرگز ہرگز زندگی نہیں ہے بلکہ عرف قرآن میں وہ موت ہے کل سے یہود اگر کسی کے سہارے زندہ رہ کر مردہ کہلاتے ہیں تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 56–58

Sequence In the previous verse (56), it was said that Allah will be the final judge and decision-maker in what they used to differ in between them-selves. This verse describes that decision. Commentary Are the sufferings of this world beneficial for the next life? The words "I shall punish them in this world and in the Hereafter" in verse 56 may create a little doubt. Since the statement here relates to the Judgment to be pronounced on the Last Day, how can the statement -'I shall punish them in this world and in the hereafter`- be explained as this world of ours would not exist at that time…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 56–59

53. This means that if Jesus' miraculous birth is sufficient proof that he should be regarded either as God or as the son of God then there are even stronger grounds to apply this to Adam. For, while Jesus was born without a father, Adam was born with neither father nor mother.

Read the full tafseer →