Explained with ayahs 52–54
پھانسی کون چڑھا ؟
جب حضرت عیسیٰ ؑ نے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو دیکھ لیا کہ اپنی گمراہی کج روی اور کفر و انکار سے یہ لوگ ہٹتے ہی نہیں، تو فرمانے لگے کہ کوئی ایسا بھی ہے ؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے کے لئے میری تابعداری کرے اس کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے کہ کوئی ہے جو اللہ جل شانہ کے ساتھ میرا مددگار بنے ؟ لیکن پہلا قول زیادہ قریب ہے، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی طرف پکارنے میں میرا ہاتھ بٹانے والا کون ہے ؟ جیسے کہ نبی اللہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مکہ شریف سے ہجرت کرنے کے پہلے موسم حج کے موقع پر فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے اللہ جل شانہ کا کلام پہنچانے کے لئے جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
سورة اٰلِ عِمْرٰن 51
اصل میں لفظ”مُتَوَفِّیْکَ“ استعمال ہوا ہے۔ تَوَفِّی کے اصل معنی لینے اور وُصُول کرنے کے ہیں ”رُوح قبض کرنا“ اس لفظ کا مجازی استعمال ہے نہ کہ اصل لغوی معنی۔ یہاں یہ لفظ انگریزی لفظ(To recall) کے معنی میں مستعمل ہوا ہے ، یعنی کسی عہدہ دار کو اس کے منصب سے واپس بُلانا۔ چونکہ بنی اسرائیل صدیوں سے مسلسل نافرمانیاں کر رہے تھے ، بار بار کی تنبیہوں اور فہمائشوں کے باوجود ان کی قومی روش بگڑتی ہی چلی جا رہی تھی، پے در پے کئی انبیا کو قتل کر چکے تھے اور ہر اس بندہٴ صالح کے خون کے پیاسے ہو جاتے تھے جو نیکی اور راستی کی طرف انہیں دعوت دیتا تھا، جیسے دو جلیل القدر پیغمبروں کو بیک وقت…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ان لوگوں نے (جو کہ بنی اسرائیل میں سے آپ کے منکر نبوت تھے آپ کو ہلاک کرنے اور ایذا پہنچانے کے لئے) خفیہ تدبیر کی (چناچہ مکر و حیلہ سے آپ کو گرفتار کر کے سولی دینے پر آمادہ ہوئے) اور اللہ تعالیٰ نے (آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے) خفیہ تدبیر فرمائی (جس کی حقیقت کا ان لوگوں کو بھی پتہ نہ لگا، کیونکہ انہیں مخالفین میں سے ایک شخص کو حضرت عیسیٰ ؑ کی شکل پر بنادیا، اور عیسیٰ ؑ کو آسمان پر اٹھا لیا جس سے وہ محفوظ رہے، اور وہ ہمشکل سولی دیا گیا، ان لوگوں کو اس تدبیر کا علم تک بھی نہ ہوسکا اور دفع پر تو کیا قدرت ہوتی) اور اللہ تعالیٰ سب تدبیریں کرنے والوں سے اچھے ہیں (کیونکہ اوروں کی تدبیریں…
Read the full tafseer →لفظ مکر کا اصلی مفہوم : ’ مکر ‘ کے معنی ہیں کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی مخفی تدبیر کرنا۔ اس میں مذمت کا پہلو یہاں سے پیدا ہوا کہ مخفی تدابیر کا استعمال آدمی کی کمزوری کی دلیل ہے۔ چونکہ عام طور پر صورت یہی ہوتی ہے کہ خفیہ تدبیریں کمزور لوگ ہی استعمال کرتے ہیں اس وجہ سے اس کی مذمت کا پہلو ذہنوں پر غالب ہوگیا اور یہ گمان کیا جانے لگا کہ مکر لازماً مذموم ہی ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات حقیقت کے خلاف ہے۔ خفیہ تدبیر بعض حالات میں کسی مکر کرنے والے کے مکر کے توڑ یا اس کی سزا کے طور پر بھی استعمال کرنی پڑتی ہے۔ ایک خفیہ چالیں چلنے والے کے خلاف اگر کوئی علانیہ انتقامی کاروائی کی جائے تو وہ اس کو ظلم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
54۔ 1 حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانے میں شام کا علاقہ رومیوں کے زیرنگین تھا یہاں ان کا جو حکمران مقرر تھا وہ کافر تھا یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے خلاف اس حکمران کے کان بھرے کہ یہ نعوذ باللہ بےباپ کے اور فسادی ہے وغیرہ وغیرہ حکمران نے ان کے مطالبے پر حضرت عیسیٰ ؑ کو سولی دینے کا فیصلہ کرلیا لیکن اللہ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو بحفاظت آسمان پر اٹھا لیا اور ان کی جگہ ان کے ہمشکل ایک آدمی کو سولی دے دی (مکر) عربی زبان میں لطیف اور خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں اور اس معنی میں یہاں اللہ تعالیٰ (خیرُ الْماکِرِیْنَ) کہا گیا گویا یہ مکر (برا) بھی ہوسکتا ہے اگر غلط مقصد کے لئے ہو اور خیر (اچھا) بھی ہوسکتا ہے اگر اچھے مقصد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
23: حضرت عیسیٰ ؑ کے مخالفین نے انہیں سولی پر چڑھانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو آسمان پر اٹھا لیا اور جو لوگ آپ کو گرفتار کرنے والے تھے ان میں سے ایک شخص کو حضرت عیسیٰ ؑ کا ہم شکل بنادیا، اور مخالفین نے حضرت عیسیٰ ؑ کے دھوکے میں اسے سولی پر چڑھا دیا آیت کا جو ترجمہ یہاں کیا گیا ہے وہ عربی لفظ ”توفی“ کے لغوی معنی پر مبنی ہے، اور مفسرین کی ایک بڑی جماعت نے یہاں یہی معنی مراد لیے ہیں۔ اس لفظ کی ایک اور تشریح بھی ممکن ہے جو حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی مروی ہے۔ اس کے لیے ملاحظہ ہو معارف القرآن ص :74 ج :2۔
24: یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کو ماننے والے (خواہ انہیں صحیح طور پر…
Read the full tafseer →وہ مکاری جو یہودیوں نے اپنے رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کی وہ عظیم مکاری تھی ‘ اس کا تانا بانا بہت طویل و عریض تھا۔ جس طرح اناجیل میں مذکور ہے کہ انہوں نے اس پر الزام لگایا کہ اس نے اپنے منگیتر یوسف نجار کے ساتھ تعلقات قائم کئے تھے ۔ حالانکہ وہ پاک دامن تھیں اور ابھی یوسف کے ساتھ ان کی شادی نہ ہوئی تھی ۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ۔ شغز اور اس کے بعد انہوں نے رومی حکمران بیلاطس کے پاس ان کے خلاف شکایات کیں اور کہا کہ وہ لوگوں کو رومی حکومت کے خلاف بغاوت پر ابھارتا ہے۔ اور یہ کہ وہ گمراہ ہوگیا ہے اور عوام الناس کے عقائد خراب کررہا ہے ۔ چناچہ بیلاطس نے انہیں…
Read the full tafseer →6 " مکر " کہتے ہیں لطیف وخفیہ تدبیر کو۔ اگر وہ اچھے مقصد کے لئے ہو، اچھا ہے۔ اور برائی کے لئے تو برا ہے اسی لئے وَلاَ یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّیءُ " میں مکر کے ساتھ سیئی کی قید لگائی۔ اور یہاں خدا کو " خیرالماکرین " کہا۔ مطلب یہ ہے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف طرح طرح کی سازشیں اور خفیہ تدبیریں شروع کردیں۔ حتیٰ کہ بادشاہ کے کان بھر دیے کہ یہ شخص (معاذ اللہ) ملحد ہے۔ تورات کو بدلنا چاہتا ہے سب کو بددین بنا کر چھوڑے گا۔ اس نے مسیح (علیہ السلام) کی گرفتاری کا حکم دے دیا ادھر یہ ہو رہا تھا اور ادھر حق تعالیٰ کی لطیف و خفیہ تدبیر ان کے توڑ میں اپنا کام کر رہی تھی جس کا ذکر آگے آتا…
Read the full tafseer →آیت 54 وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللّٰہُ ط
یہود کے علماء اور فریسی حضرت مسیح علیہ السلام کے خلاف مختلف چالیں چل رہے تھے کہ کسی طرح یہ قانون کی گرفت میں آجائیں اور ان کا کام تمام کردیا جائے۔ ان لوگوں نے آنجناب علیہ السلام کو مرتد اور واجب القتل قرار دے دیا تھا ‘ لیکن ملک پر سیاسی اقتدار چونکہ رومیوں کا تھا لہٰذا رومی گورنر کی توثیق sanction کے بغیر کسی کو سزائے موت نہیں دی جاسکتی تھی۔ ملک کا بادشاہ اگرچہ ایک یہودی تھا لیکن اس کی حیثیت کٹھ پتلی بادشاہ کی تھی ‘ جیسے انگریزی حکومت کے تحت مصر کے شاہ فاروق ہوتے تھے۔ یہود کی مذہبی عدالتیں موجود تھیں جہاں ان کے علماء ‘ مفتی اور فریسی بیٹھ کر فیصلے کرتے…
Read the full tafseer →53 یہود اور ان کے علماء و فقہاء سب کے سب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دشمن بن گئے تھے مگر آپ کے دلائل کے سامنے انہیں مجبوراً خاموش ہونا پڑتا تھا۔ پھر جب آپ نے سبت کے احکام میں تخفیف کا اعلان کیا تو یہود کو پروپیگنڈا کے لیے ایک نیا میدان ہاتھ آگیا کہ یہ شخص ملحد ہے اور تورات میں تبدیلی کرنا چاہتا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ملک شام کو اپنی دعوت کا مرکز بنایا ہوا تھا اور یہاں یہود کی حکومت نہ تھی بلکہ رومیوں کی حکومت تھی۔ آپ اپنے حواریوں کو ساتھ لے کر شام کے مختلف شہروں میں تبلیغ فرماتے اور معجزہ دکھلاتے جس سے لا تعداد شفایاب بھی ہوجاتے تھے اور آپ پر ایمان بھی لے آتے تھے۔ ہر شہر میں سینکڑوں…
Read the full tafseer →134 ۔ (آیت) ” مکروا “ کا اسم فاعل یہود ہیں۔ یہود کے اکابر اور سرداروں نے مخالفت وایذاء کے بہت سے درجہ طے کرنے کے بعد بالآخر یہ طے کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ختم ہی کردینا چاہیے چناچہ پہلے اپنی مذہبی عدالت میں الحاد کا الزام لگا کر آپ کو واجب القتل قرار دیا۔ پھر رومی حاکموں کی ملکی عدالت میں لاکر ان پر بغاوت کا مقدمہ چلایا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے مخالفین کا یہ معرکہ ملک شام کے صوبہ فلسطین میں پیش آیا تھا۔ شام اس وقت رومی سلطنت کا ایک جزء تھا اور یہاں کے یہودی باشندوں کو اپنے معاملات میں نیم آزادی اور نیم خود مختاری حاصل تھی جیسے انگریزی حکومت کے ماتحت والیان ریاست کو حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
یہود کی عدالت میں عیسیٰ (علیہ السلام) کو سزائے موت : وَمَلکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ وَاللہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ ، اللہ کی طرف جو مکر کی نسبت کی گئی ہے یہ فن مشاکلت کے طور پر ہے۔ پہلے مکروا کے فاعل یہود ہیں، یہود کے اکابر اور سرداروں نے مخالفت اور ایذاء کے بہت سے درجے طے کرنے کے بعد بالآخر یہ طے کیا کہ یسوع نامی اسرائیلی مدعی نبوت کو ختم ہی کردینا چاہیے، چناچہ پہلے اپنی مذہبی عدالت میں الحاد کا الزام لگا کر آپ کو واجب القتل قرار دیا، پھر رومی حاکموں کی ملکی عدالت میں لاکر آپ پر بغاوت کا مقدمہ چلایا۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے مخالفین کا یہ معرکہ ملک شام کے صوبہ فلسطین میں پیش آیا تھا…
Read the full tafseer →وَمَكَرُوْا : اور جن لوگوں کی طرف سے حضرت عیسیٰ نے کفر کا احساس کیا تھا انہوں نے فریب کیا کہ حضرت کو (خفیہ) قتل کردینے کا ارادہ کیا۔ کلبی نے بوساطت ابو صالح حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ ایک بار یہودیوں کی ایک جماعت حضرت عیسیٰ کے سامنے آئی آپ کو دیکھ کر کہنے لگے جادو گر، جادوگرنی کا بیٹا آگیا۔ آپ پر تہمت لگائی اور آپ کی والدہ پر بھی حضرت عیسیٰ نے ان پر لعنت کی اور ان کو بد دعا دی فوراً اللہ نے ان کو سور بنا دیا۔ یہودیوں کا سردار یہودا تھا اس نے جو یہ بات دیکھی تو گھبرا گیا اور آپ کی بد دعا سے ڈر گیا آخر تمام یہودی حضرت عیسیٰ کو مار ڈالنے پر متفق الرائے ہوگئے اور قتل کرنے کے ارادہ سے…
Read the full tafseer →(54) یہودیوں نے حضرت عسی ؑ کو قتل کرنے اور ان کو سولی پر چڑھانے کی تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ نے ان ہی کے لوگوں میں سے طیطانوس نامی ایک شخص کو حضرت عیسیٰ ؑ کی شکل میں تبدیل کرکے سولی پر چڑھوا دیا اور اللہ تعالیٰ جل شانہ سب تدبیریں کرنے والوں میں سے بہترین تدبیر فرمانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ۔۔ : شیخ شنقیطی نے فرمایا : ”یہاں نہ یہود کی خفیہ تدبیر کا ذکر فرمایا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر کا، مگر دوسری جگہ ان کی تدبیر کا ذکر کیا ہے کہ انھوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا تھا، جیسا کہ فرمایا : (وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ) [ النساء : 157 ] ”اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے کہ بلاشبہ ہم نے ہی مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کیا، جو اللہ کا رسول تھا۔“ اور اللہ کی خفیہ تدبیر کا ذکر فرمایا ہے : (وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ) [ النساء : 157 ] ”اور لیکن ان کے لیے (کسی کو اس مسیح کا) کا شبیہ بنادیا گیا۔“ وہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 54
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ومکروا “ مراد بنی اسرائیل کے وہ کفار ہیں جن سے آپ نے کفر محسوس کیا یعنی آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جب ان کی قوم اور ان کی ماں نے اپنے درمیان نکال دیا تو آپ حواریوں کے ساتھ ان کی طرف لوٹ کر آئے اور ان میں اعلانیہ دعوت و ارشاد کا سلسلہ شروع کیا، تو انہوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ بنایا اور انہوں نے آپ کے قتل پر اتفاق کیا، پس یہی ان کا مکر اور خفیہ تدبیر ہے، اور (آیت) ” مکر اللہ “ سے مراد اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے لئے ایسی خفیہ تدبیر کرنا ہے جسے وہ نہ جانتے ہوں، فراء وغیرہ سے یہی مروی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
(1) ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” انی متوفیک “ سے مراد ہے کہ میں تجھ کو موت دینے والا ہوں۔
(2) عبد الرزاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” انی متوفیک “ سے مراد ہے کہ میں تم کو زمین سے اٹھانے والا ہوں۔
(3) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے وجہ آخر سے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” انی متوفیک “ کہ میں آپ کو نیند دینے والا ہوں اللہ تعالیٰ نے نیند کی حالت میں آپ کو آسمان پر اٹھالیا اور پھر حضرت حسن ؓ نے فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو موت نہیں آئی اور وہ قیامت کے دن سے پہلے تمہاری طرف لوٹیں گے۔
(4)…
Read the full tafseer →[وَمَکَرُوْا : اور ان لوگوں نے چال چلی ] [وَمَکَرَ : اور تدبیر کی ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ : بہترین تدبیر کرنے والا ہے ]
م ک ر
مَکَرَ (ن) مَکْرًا : خفیہ تدبیر کرنا ‘ چال چلنا (اچھے اور برے ‘ دونوں مقصد کے لیے آتا ہے) ۔ آیت زیر مطالعہ۔
مَکْرٌ (اسم ذات بھی ہے) : تدبیر ‘ چال۔ { وَلَا یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّیُٔ اِلاَّ بِاَھْلِہٖط } (فاطر :43) ” اور نہیں پڑتی بری چال مگر اپنے اہل پر (یعنی چال چلنے والے پر) ۔ “
مَاکِرٌ (اسم الفاعل) : تدبیر کرنے والا ‘ چال چلنے والا۔ آیت زیر مطالعہ۔
Read the full tafseer →یہودیوں کا حضرت عیسیٰ کے قتل کا منصوبہ بنانا اور اس میں ناکام ہونا
جیسے جیسے سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت آگے بڑھتی گئی اور آپ اپنے عہدہ رسالت کے مطابق کام کرتے رہے اور کچھ نہ کچھ افراد ان کے ساتھی ہوتے گئے بنی اسرائیل کی دشمنی تیز ہوتی گئی اور بالآخر انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی ٹھان لی اور طے کرلیا کہ انہیں ختم کر کے رہیں گے۔ اب بنی اسرائیل نے ایسی تدبیریں شروع کردی جس سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) شہید کردیئے جائیں اور ان سے اب بنی اسرائیل کا چھٹکارہ ہوجائے۔ بنی اسرائیل نے جب سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔ تو ان کو ایک مکان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–58
ذکر عداوت یہود باعیسی (علیہ السلام) و حفاظت خداوندنام وبشارت رفع الی السماء ومحفوظیت از مکر اعداء۔
قال تعالی، فلمااحس عیسیٰ منھم الکفر۔۔۔ الی۔۔۔ الممترین۔
حسب بشارت جب عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور پھر نبی ہوئے اور لوگوں کو توحید اور تقوی اور اپنی اطاعت کی دعوت دی اور سیدھی راہ کی طرف بلایا اور معجزات اور نشانات ان کو دکھلائے تو یہود بےبہبود نے آپ کی تکذیب کی اور آپ کے ایذاء اور قتل کے درپے ہوئے حق جل شانہ نے ان آیات میں یہود کی عداوت کا ذکر کیا وہ حضرت عیسیٰ کے قتل کی کیا کیا تدبیریں کررہے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی حفاظت کا ذکر فرمایا کہ ہم نے ان کی حفاظت کی کیا تدبیر کی وہ…
Read the full tafseer →77 مَکْرٌ عربی کا لفظ ہے جس کے معنی گہری اور خفیہ تدبیر سوچنے کے ہیں اور یہ چیز اپنے اصل کے اعتبار سے بری اور معیوب نہیں ہے اس لیے اللہ کی طرف اس کی نسبت بےکھٹکے جائز ہے۔ البتہ خفیہ تدبیر اگ رکسی ناجائز کام کے لیے ہوگی تو معیوب و مذموم ہوگی۔ مَکَرُوْا کا فاعل یہودی ہیں یہ لوگ چونکہ مشرک اور بدعقیدہ تھیے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی توحید پرستی اور حق بیانی سے برہم ہو کر ان کے دشمن بن چکے تھے اس لیے انہوں نے ان پر الحاد اور بیدینی کا الزام لگا کر اپنی مذہبی عدالت سے ان کے کافر اور واجب القتل ہونے کا فیصلہ حاصل کرلیا۔ یہودی چونکہ رومیوں کی مشرک اور بت پرست حکومت کے ما تحت تھے اور رومی حکومت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
بنیادی عقیدہ :
گذشتہ درس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعض معجزات کا تذکرہ تھا جن کے متعلق آپ نے اپنے مخاطبین سے کہا کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانیاں لے کر آیا ہوں ، اس لیے میرا تم سے مطالبہ ہے۔ کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ قرآن پاک شاہد ہے۔ کہ جن انبیاء کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ ان سب نے اپنی اپنی قوم سے یہی کہا کہ اے لوگو ! اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ حضرت صالح ، حضرت ہود ، حضرت شعیب اور حضرت لوط (علیہم السلام) کے واقعات سے یہی پتہ چلتا ہے۔ یہ بنیادی عقیدہ تخلیق آدم سے لے کر ہر دور میں ہر امت میں پایا گیا ہے۔ اور انبیاء اسی عقیدے کی تعلیم دیتے آئے ہیں۔ یہاں پر بھی…
Read the full tafseer →وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللہُ 0 ۭ وَاللہُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ 54 ۧ
مكر
المَكْرُ : صرف الغیر عمّا يقصده بحیلة، وذلک ضربان : مکر محمود، وذلک أن يتحرّى بذلک فعل جمیل، وعلی ذلک قال : وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] . و مذموم، وهو أن يتحرّى به فعل قبیح، قال تعالی: وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43]
( م ک ر ) المکر ک
ے معنی کسی شخص کو حیلہ کے ساتھ اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں
یہ دو قسم پر ہے ( 1) اگر اس سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو محمود ہوتا ہے ورنہ مذموم چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] اور خدا خوب چال چلنے والا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
1 ؎ یہود میں قدیم دستور تھا کہ وہ جس کو سردار یا برگزیدہ کرتے تھے تو اس وقت کا نبی یا کاہن اس شخص پر زیتون کا تیل مسح کردیتا یعنی مل دیتا تھا۔ اس لئے اس شخص کو مسیح کہتے تھے چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بھی مقبولیت کا تیل ملا گیا اور اسی قدیم عزت پر ان کا لقب مسیح مشہور ہوا اور یشوع عبرانی میں ان کا نام ہے جو عربی میں عیسیٰ کہتے ہیں۔ چونکہ لقب زیادہ مشہور تھا اس لئے اس کو نام سے پہلے ذکر کیا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَمَکَرُوْا وَمَکَرَاللّٰہُ ط وَاللّٰہُ خَیْرُالْمٰکِرِیْنَ ۔ ع
(اور انھوں نے خفیہ چالیں چلیں اور اللہ نے بھی ان کا خفیہ توڑ کیا، اللہ بہترین توڑ کرنے والا ہے) (54)
اس سلسلے میں صاحب تدبر قرآن نے اشارات میں چندباتیں کہی ہیں ہم بھی اسی پر اکتفا کرتے ہیں :
لفظ مَکَرْ کا اصلی مفہوم
مَکَر کے معنی ہیں کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی مخفی تدبیر کرنا۔ اس میں مذمت کا پہلو یہاں سے پیدا ہوا کہ مخفی تدابیر کا استعمال آدمی کی کمزوری کی دلیل ہے چونکہ عام طور پر صورت یہی ہوتی ہے کہ خفیہ تدبیریں کمزور لوگ ہی استعمال کرتے ہیں۔ اس وجہ سے اس کی مذمت کا پہلو ذہنوں پر غالب ہوگیا اور یہ گمان کیا جانے لگا کہ مکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیغام کا ردّ عمل اور ان کی حفاظت کے ساتھ اہل ایمان کی برتری کا اعلان۔
حالات اس نہج پر پہنچے کہ یہودیوں کے مذہبی اور سیاسی رہنما حاکم وقت کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہوگئے کہ یہ شخص یہودیت کے لیے زہر قاتل اور مذہب کی آڑ میں حکومت کا تختہ الٹنا چاہتا ہے۔ اس سازش کو کامیاب بنانے کے لیے یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں میں سے یہودا نامی شخص کو بھاری رشوت دے کر وعدہ معاف گواہ بنایا اس نے سرکاری اہلکاروں کو مخبری کردی کہ عیسیٰ (علیہ السلام) فلاں پہاڑیوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ اس گرفتاری سے بچنے کے لیے بارہ حواریوں کے سوا باقی سب حواری…
Read the full tafseer →54: وَمَکَرُوْا و َمکَرَ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ ۔ (انہوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ نے بھی خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر تدبیر کرنے والے ہیں)
مکر کا معنی اور اس کی اضافت کا حکم :
وَمَکَرُوْا : یعنی کفار بنی اسرائیل جن سے عیسیٰ ( علیہ السلام) نے کفر محسوس کیا جبکہ انہوں نے آپ کے قتل و صلیب کی خفیہ تدبیر کی۔ وَ َمکَرَ اللّٰہُ اللہ تعالیٰ نے انکی تدبیر کا اس طرح بدلہ دیا کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کو آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ اور جس نے دھوکا سے قتل کا ارادہ کیا تھا۔ اس پر شبیہ ڈال دی یہاں تک کہ وہ قتل کردیا گیا۔
نحو : مکر کے لفظ کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف جائز نہیں…
Read the full tafseer →(ومکروا ومکر اللہ کی تفسیر)
(تفسیر) 54۔:
(آیت)” ومکروا “ جن لوگوں کی طرف سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کفر کو محسوس کیا انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کرنے کا ارادہ کیا ، جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان حواری واپس اپنی قوم کی طرف لوٹ کر آئے اور ان کو دعوت کی طرف آمادہ کیا ، انہوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا ، اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ومکراللہ واللہ خیرالماکرین “۔ مخلوق کا مکر حبث ہے اور دھوکہ ، حیلہ کرنا ہے ، جب مکر کی نسبت اللہ کی طرف ہو تو معنی یہ ہوگا کہ اللہ نے تدبیر کی اور اس کی سرکشی کو پکڑا ، اس طور پر کہ اس کو پتہ بھی نہیں ہوتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
52 ۔ 54) ۔۔ اگرچہ یہود کو تورات کے پڑھنے سے یہ معلوم تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب نبی ہوں گے تو تورات کے بعض مسئلے خدا کے حکم سے منسوخ ہوں گے۔ لیکن جب وہ وقت آیا تو محض عناد سے یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دشمن ہوگئے اور اس وقت کے بادشاہ سے مل کر حضرت عیسیٰ کے قتل پر آمادہ ہوگئے یہاں تک کہ موقع پا کر ان کو ایک مکان میں گھیر لیا۔ اسی وقت خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا اور حضرت عیسیٰ کے ساتھیوں میں سے یا یہود میں کے ایک آدمی میں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا حضرت عیسیٰ کی شکل پیدا کردی اور یہود نے اسی شخص مشابہ عیسیٰ کو عیسیٰ سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
آیت 45-58
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰ ہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لئے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبرئیل کو مریم کے پاس بھیجا۔ انہوں نے آپ کی قمیض کے گریبن میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
مباہلہ کا جواز
قول بارے ہے (فقل تعالواند ع ابناء نا وایتاء کم ونساء ناونساء کم وانفسنا وانسکم، اے محمد ! ان سے کہو، آؤہم اور تم خود بھی آجائیں اور اپنے اپنے بال کو بھی لے آئیں) عیسائیوں کے اس قول کے خلاف کہ حضرت مسیح ابن اللہ ہیں اس آیت سے استدلال پہلے گذرچکا ہے نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد جس میں ان کا سردار اورنائب سرداردونوں تھے، حضور ﷺ کی خدمت میں آیا تھا۔ ان دونوں نے حضور ﷺ سے سوال تھا کہ آپ نے بن باپ کا کوئی بچہ دیکھا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم، اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی مثال کی طرح ہے) حضرت ابن عباس حسن اور قتادہ سے یہی روایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
119 " مکر اللہ " کا معنی و مطلب ؟ : یعنی ان لوگوں کی چال کے مقابلے میں جو چال اللہ نے چلی اس کی بناء پر یہ ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہوگئے کہ اس کی خفیہ تدبیر کا نہ کوئی مقابلہ کرسکتا ہے، نہ کوئی توڑ، اور نہ اس کو کوئی سمجھ ہی سکتا ہے۔ عام طور پر اردو محاورے اور ہمارے معاشرے میں لفظ ِ " مکر " چونکہ برے معنی میں استعمال ہوتا ہے، اس لئے قرآن حکیم میں وارد ایسے الفاظ و کلمات سے کچھ لوگوں کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں، اور ان کو اچنبھا ہونے لگتا ہے کہ اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ " مکر " کیسے کرسکتا ہے۔ اور اس کو " مکر " کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ اور وہ { خَیرُالمَاکِرِیْنَ } کیسے ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری
تشریح : جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ قوم ماننے کو تیار نہیں، بلکہ انکار ہی کئے جاتے ہیں تو پھر انہوں نے قوم کو دین کی مدد کے لئے پکارا اس پر کچھ حواری بولے کہ ہم حاضر ہیں۔ حواری بمعنی انصار کے ہے اور کہیں ان کو رسول بھی کہا گیا ہے۔ اس لحاظ سے کہ وہ تبلیغ دین کا کام کرتے تھے۔ ان کے بارے میں یہ لکھا گیا ہے کہ وہ سمندر کے کنارے رہنے والے دھوبی تھے۔ اسی مناسبت سے آپ کے رفیقوں اور صحابیوں کا لقب ہی حواری پڑگیا۔ (مطالعہ قرآن)
یہ اہل کتاب سچے مسلمانوں کی طرح توحید کے قائل تھے اور مسیح سے گفتگو کرتے ہوئے براہ راست اللہ سے باتیں کرنے لگے اور بولے کہ اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–54
آیات 42- 54
اسرارومعارف
واذقالت الملئکۃ………………وارکعوامع الراکعین۔
اور وہ وقت بھی یاد کرو جب فرشتوں نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رو در رو کہا تھا اے مریم ! بیشک اللہ نے آپ کو قبول فرمالیا ہے چھانٹ لیا ہے۔ یعنی دوامی تجلیات ذاتی کے ساتھ برگزیدہ کردیا ہے تجلیات ذاتیہ کمالات نبوت و رسالت میں سے ہے یہ کمال انبیاء کو بالذات اور بلاواسطہ حاصل ہوتا ہے اور ان کی وساطت سے خاص اور ممتاز اولیا اللہ کو نصیب ہوتا ہے اور حضرت مریم (علیہا السلام) تو صدیقہ تھیں۔
بعض منازل سلوک :
صدیقیت ولایت کی انتہا ہے اور چوٹی کے اولیاء اللہ کہ یہ اعلیٰ مقامات باتباع نبی اس طرح حاصل ہوتے ہیں جیسے شاہی محل میں بادشاہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
ف 1 یہود کے علما نے اس وقت باشاہ کو بہکا یا کہ یہ شخص ملحد اور تو رات کے احکام کو بد لنا چاہتا ہے اور ان پر اتہام لگائے تو اس بادشاہ نے حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو قتل کرنے کے لیے کچھ آدمی مقرر کردیئے۔ انہوں نے ایک مکان کے اند حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا محاصرہ کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا۔ (ابن کثیر) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں ہیں : اور ایک صورت ان کی رہ گئی اسی کو پکڑ لائے پھر سولی پر چڑھا دیا۔ (موضح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
(3:52) احس۔ احساس (افعال) سے محسوس کیا اس نے ماضی واحد مذکر غائب ای عرف منہم اصرارھم علی الکفر
فلما۔ میںفصاحت کے لئے ہے۔
من انصاری الی اللہ ۔ کون ہیں میرے مددگار اللہ کی راہ میں۔
حواریون۔ حواری کی جمع۔ حواری حور سے مشتق ہے جس کے معنی خالص سپیدی کے ہیں۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب کا خطاب ہے۔ بقول شاہ عبد القادر صاحب حواری اصل میں دھوبی کو کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب میں سے پہلے دو شخص جوان کے تابع ہوئے دھوبی تھے۔ حضرت عیسیٰ نے ان کا کہا تھا کہ کپڑے کیا دھوتے ہو میں تم کو دل دھونے سکھا دوں وہ ان کے ساتھ ہوئے اس طرح سب کو یہ خطاب ٹھہر گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 54
وجیه (باعزت، بلندمرتبہ) المقربین (قریب والے) یکلم (کلام کرے گا، بات کرے گا) المھد (گہوارہ) کھل (بڑی عمر) لم یمسسنی ( مجھے نہیں چھوا مجھے ہاتھ نہیں لگایا) بشر (انسان ، آدمی) قضی (فیصلہ کیا) الطین (مٹی) ھیة (شکل) انفخ (میں پھونکتا ہوں) طیر (پرندہ) ابری (میں اچھا کردیتا ہوں) الابرص (کوڑھی) الاکمه (پیدائشی اندھا) احیٖ (میں زندہ کرتا ہوں) انبئکم (میں تمہیں بتاتا ہوں) تدخرون (تم جمع کرتے ہو، ذخیری کرتے ہو ! ) بیوت (گھروں، (بیت، گھر) حرم (حرام کردیا گیا) احس (محسوس کیا) من انصاری (میرا مددگار کون ہے ؟ ) الحواریون (ہم مجلس (حضرت عیسیٰ کے صحابہ ) انصار اللہ (اللہ کے…
Read the full tafseer →حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان پر جانا
یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دشمن ہوگئے اور اس وقت کے بادشاہ سے مل کی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل پر آمادہ ہوگئے۔ یہاں تک کہ موقع پاکر ان کے مکان کو گھیر لیا۔ اسی وقت خدائے تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تو آسمان پر اٹھا لیا اور یہود کے ایک آدمی میں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شکل پیدا کردی اور یہود نے اسی شخص مشابہ عیسیٰ کو عیسیٰ سمجھ کر سولی پر چڑھا دیا۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفوں کے مکروفریب کو ایک حکمت وتدبیر سے نیست ونابود کیا ہے اسی کو مقابلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
[25] یہود کی خفیہ تدبیر یہ تھی کہ ان کے علماء و فقہاء نے سازش کر کے عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی پر چڑھانا چاہا اور اللہ کی تدبیر یہ تھی کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو صحیح و سلامت آسمان پر اٹھا لے گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
حیات مسیح (علیہ السلام) :
(ف 1) ایک طرف یہودیوں نے مسیح (علیہ السلام) کے خلاف وسیع پیمانے پر سازش کی اور حکومت وقت کو مجبور کردیا کہ وہ انہیں باغی سمجھے اور سزا دے ، اسی کا نام قرآن حکیم کی زبان میں ” مکر “ ہے ، یعنی تدبیر محکم اور خفیہ ارادہ ، دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے ارادے کام کر رہے تھے ، اللہ تعالیٰ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو دشمنوں کی زد سے صاف بچا لینا چاہتے تھے ، اور یہودیوں کو دکھانا چاہتے تھے کہ آسمانوں پر ایک زبردست اور علیم و حکیم خدا بھی موجود ہے جو تمہاری سازش کو جانتا ہے اور اس کی قدرت واختیار میں ہے کہ تمہیں تمہارے ارادوں میں ناکام رکھے ، (آیت) ” واللہ خیر الماکرین “۔
جب مقابلہ…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ اور بنی اسرائیل کے ان لوگوں نے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخالف اور ان کی نبوت کے منکر تھے ایک چال چلی اور خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ بھی ان کو شکست دینے کی غرض سے ایک چال چلا اور ان کے جواب میں اس نے بھی ایک خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ تمام تدبیر کرنیوالوں میں بہتر اور عمدہ تدبیر کرنے والا ہے ( تیسیر)
مخالفوں کی تدبیر یہ تھی کہ حضر ت عیسیٰ (علیہ السلام) کو گرفتار کرایا اور سولی پر چڑھانے کا سامان کیا اور یہ چاہا کہ حضر ت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ہلاک کردیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر یہ کہ ان کو مع الخیر آسمان پر اٹھا لیا اور ان کے مخالفوں میں سے ایک شخص کو ان کی ہم شکل اور ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
ف 1۔ چناچہ مکر و حیلہ سے آپ کو گرفتار کر کے سولی دینے پر آمادہ ہوگئے۔
2۔ ایک اور شخص کو عیسیٰ (علیہ السلام) کی شکل بنادیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا، جس سے وہ محفوظ رہے، اور وہ ہم شکل سولی دیا گیا۔
Read the full tafseer →عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف بنی اسرائیل کی خفیہ سازشیں اور حواریوں کا قبول حق :
124: حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے قبل بنی اسرائیل ہر قسم کی برائیوں میں مبتلا تھے اور انفرادی و اجتماعی عیوب و نقائص کا کوئی پہلو ایسا نہیں تھا جو ان سے بچ رہا ہو وہ اعتقاد و اعمال دونوں ہی قسم کی گمراہیوں کا مرکز و محور بن گئے تھے حتیٰ کہ اپنی ہی قوم کے ہادیوں اور پیغمبروں کے قتل تک پر جری اور دلیر ہوگئے تھے۔ یہودیہ کے بادشاہ ہیرودیس کے متعلق معلوم کر کے ہو کہ اس نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو اپنی محبوب کے اشارہ پر کیسے عبرتاک طریقے سے قتل کرادیا تھا اور اس نے یہ سفاکانہ اقدام صرف اس لیے کیا کہ وہ حضرت یحییٰ…
Read the full tafseer →Commentary
In these verses the miraculous event of the Ascension of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) (Jesus Christ) has been mentioned. "And they made a move" refers to the evil designs of the Jews who planned to arrest him and to get him crucified.
The next sentence i.e. "and Allah made a move" refers to the plan designed by Allah Almighty to save his prophet ` Isa (علیہ السلام) from their ill designs. They sent one of them to Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) to arrest him and Allah changed his face totally and made him resemble Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) and raised Sayyidna ` Isa (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
51. The expression used is mutawaffika. The original meaning of tawaffa is to take and receive. To 'seize a person's sou!' constitutes the figurative rather than the literal meaning of the word. Here the word is used in the sense of 'recall', for example, the recall of an official from his work. The Israelites had persisted in their disobedience, and despite repeated warnings and admonitions their collective behaviour had become increasingly corrupt. They had killed a succession of Prophets and were out to shed the blood of all those who invited them to righteousness and moral rectitude. In…
Read the full tafseer →