Aal-i-Imraan 3:53

Aal-i-Imraan · from ayah 53

3:53

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ ۟رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ وَاتَّبَعۡنَا الرَّسُوۡلَ فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ‏

اے پروردگار جو (کتاب) تو نے نازل فرمائی ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور (تیرے) پیغمبر کے متبع ہو چکے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ رکھ

— Fateh Muhammad Jalandhari

Our Lord, we have believed in what You revealed and have followed the messenger Jesus, so register us among the witnesses [to truth]."

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 5 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:53

مالک! جو فرمان تو نے نازل کیا ہے ہم نے اسے مان لیا اور رسول کی پیروی قبول کی، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے پروردگار جو (کتاب) تو نے نازل فرمائی ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور (تیرے) پیغمبر کے متبع ہو چکے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ رکھ

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ہمارے پالنے والے معبود! ہم تیری اتاری ہوئی وحی پر ایمان ﻻئے اور ہم نے تیرے رسول کی اتباع کی، پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ہمارے رب ! آپ نے جو کچھ نازل کیا ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے رسول کی اتباع کی ہے، لہذا ہمیں ان لوگوں میں لکھ لیجیے جو (حق کی) گواہی دینے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے رب ہمارے! ہم اس پر ایمان لائے جو تو نے اتارا اور رسول کے تابع ہوئے تو ہمیں حق پر گواہی دینے والوں میں لکھ لے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ہمارے رب! ہم اس کتاب پر ایمان لائے جو تو نے نازل فرمائی اور ہم نے اس رسول کی اتباع کی سو ہمیں (حق کی) گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے ہمارے رب ! ہم اس پر ایمان لائے جو تو نے نازل فرمایا اور ہم رسول کے پیرو کار بن گئے، سو تو ہمیں شہادت دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ہمارے پروردگار ! جو کچھ تو نے نازل کیا ہے ہم نے اسے مان لیا اور رسول کی پیروی کی، لہذا ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے اس چیز پر جو تو نے اتاری اور ہم نے رسول کی پیروی کی سو تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے ہمارے رب، ہم (سچے دل سے) ایمان لائے اس سب پر جو کہ نازل فرمایا تو نے، اور ہم نے پیروی کی آپ کے رسول کی، پس تو (اے ہمارے مالک !) لکھ دے ہمیں گواہی دینے والوں کے ساتھ،

— مولانا اسحاق مدنی

اے ہمارے پروردگار ہم ایامن لے آئے ہیں اس پر جو کچھ تو نے نازل کیا ہے اور ہم نے پیروی (اختیار) کرلی رسول کی سو ہم کو بھی گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے رب ہمارے ! ہم ایمان لے آئے اس پر جو تو نے نازل فرمایا اور ہم اتباع کر رہے ہیں تیرے رسول کا پس تو ہمارا نام گواہوں میں لکھ لے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ہمارے مالک ! جو فرمان تو نے نازل کیا ہے ہم نے اسے مان لیا اور رسول کی پیروی قبول کی، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ دے

— محترمہ رفعت اعجاز

Our Lord! We believe in the com-mandment You have revealed and we obey the Messenger; make us, then, one of those who bear witness (to the Truth).'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

:Our Lord, we have believed in what You have revealed, and we have followed the messenger. So, record us with those who bear witness (to the Truth) .

— Muhammad Taqi Usmani

:Our Lord, we have believed in what You have revealed, and we have followed the messenger. So, record us with those who bear witness (to the Truth) .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Our Lord! We believe in what You have sent down, and we follow the Messenger [`Isa]; so write us down among those who bear witness."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Our Lord! We believe in that which Thou hast revealed and we follow him whom Thou hast sent. Enrol us among those who witness (to the truth).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Our Lord, we have believed in what You revealed and have followed the messenger Jesus, so register us among the witnesses [to truth]."

— Saheeh International

They prayed, "Lord, we have believed in what You have revealed to Your Messenger and we have followed him. Write down our names with those who testify in support of the Truth."

— Muhammad Sarwar

Our Lord! we believe in what Thou hast revealed and we follow the apostle, so write us down with those who bear witness.

— Muhammad Habib Shakir

Our Lord! we believe in that which Thou hast sent down, and, follow the apostle; write us up wherefore with the witnesses.

— Abdul Majid Daryabadi

"Our Lord! we believe in what Thou hast revealed, and we follow the Messenger; then write us down among those who bear witness."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:53

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 52–54

پھانسی کون چڑھا ؟ جب حضرت عیسیٰ ؑ نے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو دیکھ لیا کہ اپنی گمراہی کج روی اور کفر و انکار سے یہ لوگ ہٹتے ہی نہیں، تو فرمانے لگے کہ کوئی ایسا بھی ہے ؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے کے لئے میری تابعداری کرے اس کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے کہ کوئی ہے جو اللہ جل شانہ کے ساتھ میرا مددگار بنے ؟ لیکن پہلا قول زیادہ قریب ہے، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی طرف پکارنے میں میرا ہاتھ بٹانے والا کون ہے ؟ جیسے کہ نبی اللہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مکہ شریف سے ہجرت کرنے کے پہلے موسم حج کے موقع پر فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے اللہ جل شانہ کا کلام پہنچانے کے لئے جگہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 53–55

سورة اٰلِ عِمْرٰن 51 اصل میں لفظ”مُتَوَفِّیْکَ“ استعمال ہوا ہے۔ تَوَفِّی کے اصل معنی لینے اور وُصُول کرنے کے ہیں ”رُوح قبض کرنا“ اس لفظ کا مجازی استعمال ہے نہ کہ اصل لغوی معنی۔ یہاں یہ لفظ انگریزی لفظ(To recall) کے معنی میں مستعمل ہوا ہے ، یعنی کسی عہدہ دار کو اس کے منصب سے واپس بُلانا۔ چونکہ بنی اسرائیل صدیوں سے مسلسل نافرمانیاں کر رہے تھے ، بار بار کی تنبیہوں اور فہمائشوں کے باوجود ان کی قومی روش بگڑتی ہی چلی جا رہی تھی، پے در پے کئی انبیا کو قتل کر چکے تھے اور ہر اس بندہٴ صالح کے خون کے پیاسے ہو جاتے تھے جو نیکی اور راستی کی طرف انہیں دعوت دیتا تھا، جیسے دو جلیل القدر پیغمبروں کو بیک وقت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–53

خلاصہ تفسیر (غرض بشارت مذکورہ کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ اسی شان سے پیدا ہوئے، اور بنی اسرائیل سے مضمون مذکورہ کی گفتگو ہوئی، اور معجزات ظاہر فرمائے، مگر بنی اسرائیل آپ ؑ کی نبوت کے منکر رہے) سو جب حضرت عیسیٰ ؑ نے ان سے انکار دیکھا (اور انکار کے ساتاھ درپے ایذا بھی، اور اتفاقا کچھ لوگ ان کو ایسے ملے جو حواریین کہلاتے تھے) تو (ان حواریین سے) آپ نے فرمایا کوئی ایسے آدمی بھی ہیں جو (دین حق میں بمقابلہ مخالفین و منکرین کے) میرے مددگار ہوجاویں اللہ کے واسطے (جس سے دعوت دین میں مجھے کوئی ایذاء نہ پہنچائے) حواریین بولے کہ ہم ہیں مددگار اللہ کے (دین کے) ہم اللہ تعالیٰ پر (حسب دعوت آپ کے) ایمان لائے اور آپ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ ، یہ اس بات کی دعا ہے کہ قیامت کے روز ان کا شمار حق کی شہادت دینے والوں میں لکھا ہو، حق کو چھپانے والوں میں نہ لکھا جائے۔ یہی شہادتِ حق وہ اصل ذمہ داری ہے جو ہر نبی کی امت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈالی جاتی ہے۔ نبی، جان کی بازی لگا کر امت پر اللہ کے دین کی گواہی دیتا ہے اور نبی کے بعد یہ امت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس حق کی گواہی، ہر طمع اور ہر خوف سے بےپروا ہو کر، خلق پر دے، یہ گواہی دل، زبان، قول، عمل اور جان و مال کی قربانی، ہر پہلو سے دینے کا مطالبہ ہے۔ اس شہادت کا ضد کتمانِ حق ہے جو شریعتِ الٰہی کے شدید ترین جرائم میں سے ہے۔ مذاہب کی تاریخ سے ثابت ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 53–54

54۔ 1 حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانے میں شام کا علاقہ رومیوں کے زیرنگین تھا یہاں ان کا جو حکمران مقرر تھا وہ کافر تھا یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے خلاف اس حکمران کے کان بھرے کہ یہ نعوذ باللہ بےباپ کے اور فسادی ہے وغیرہ وغیرہ حکمران نے ان کے مطالبے پر حضرت عیسیٰ ؑ کو سولی دینے کا فیصلہ کرلیا لیکن اللہ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو بحفاظت آسمان پر اٹھا لیا اور ان کی جگہ ان کے ہمشکل ایک آدمی کو سولی دے دی (مکر) عربی زبان میں لطیف اور خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں اور اس معنی میں یہاں اللہ تعالیٰ (خیرُ الْماکِرِیْنَ) کہا گیا گویا یہ مکر (برا) بھی ہوسکتا ہے اگر غلط مقصد کے لئے ہو اور خیر (اچھا) بھی ہوسکتا ہے اگر اچھے مقصد کے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–55

23: حضرت عیسیٰ ؑ کے مخالفین نے انہیں سولی پر چڑھانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو آسمان پر اٹھا لیا اور جو لوگ آپ کو گرفتار کرنے والے تھے ان میں سے ایک شخص کو حضرت عیسیٰ ؑ کا ہم شکل بنادیا، اور مخالفین نے حضرت عیسیٰ ؑ کے دھوکے میں اسے سولی پر چڑھا دیا آیت کا جو ترجمہ یہاں کیا گیا ہے وہ عربی لفظ ”توفی“ کے لغوی معنی پر مبنی ہے، اور مفسرین کی ایک بڑی جماعت نے یہاں یہی معنی مراد لیے ہیں۔ اس لفظ کی ایک اور تشریح بھی ممکن ہے جو حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی مروی ہے۔ اس کے لیے ملاحظہ ہو معارف القرآن ص :74 ج :2۔ 24: یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کو ماننے والے (خواہ انہیں صحیح طور پر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ جو انہوں نے براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ فرمائی ‘ اور اللہ کے ساتھ بھی یہ وعدہ کیا ‘ اس میں ایک اہم نکتہ پوشیدہ ہے ۔ مومن کا ابتدائی عہد صرف اللہ کے ساتھ ہوتا ہے ۔ جب ایک رسول کسی پیغام کو اہل ایمان تک پہنچا دیتا ہے تو پھر اس کی ڈیوٹی ختم ہوجاتی ہے اور اب مومن کی بیعت اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم ہوجاتی ہے ۔ اور جب رسول اس دنیا سے چلاجائے تب بھی یہ فریضہ اور یہ ذمہ داری مومن کے گلے میں پڑی رہتی ہے ۔ اور اس بیعت میں ‘ معاہدہ ذمہ داری میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ رسول کی اطاعت کرتے رہیں گے ۔ اس لئے ایمان صرف عقیدے کا نام نہیں ہے جو انسان کے ضمیر میں ہوتا ہے بلکہ اتباع کا نام ہے اور رسول کے نظام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 پیغمبر کے سامنے اقرار کرنے کے بعد پروردگار کے سامنے یہ اقرار کیا کہ ہم انجیل پر ایمان لا کر تیرے رسول کا اتباع کرتے ہیں۔ آپ اپنے فضل و توفیق سے ہمارا نام ماننے والوں کی فہرست میں ثبت فرما دیں۔ گو یا ایمان کی رجسٹری ہوجائے کہ پھر لوٹنے کا احتمال نہ رہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 53 رَبَّنَآ اٰمَنَّا بِمَآ اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰہِدِیْنَ یہی لفظ گواہاب عیسائیوں کے ایک خاص فرقے کی طرف سے Jehovas Witnesses اختیار کیا گیا ہے۔ لفظ یھوہ Jehova عبرانی میں خدا کے لیے آتا ہے۔ یعنی یہ لوگ اپنے آپ کو خدا کے گواہکہتے ہیں۔ سورة البقرۃ کی آیت 143 ہم پڑھ آئے ہیں : وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰٹکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا ط اور اے مسلمانو ! اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول ﷺ ‘ تم پر گواہ ہو۔ تو یہ لفظ شاہد گواہ قدیم ہے اور اسلامی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 52–53

51 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پوری طرح معلوم ہوچکا تھا کہ یہود اور ان کے علماء دلائل کے میدان میں مات کھا کر اب ان کی زندگی کے درپے ہوچکے ہیں اور اس کام کے لیے سازشیں تیار کر رہے ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ انبیاء کو ناحق قتل کرنا یہود کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ وہ یہ بھی دیکھ چکے تھے۔ یہود کے ایک رئیس نے ایک رقاصہ کی فرمائش پر حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جیسے برگزیدہ پیغمبر کا سر قلم کر ڈالا ہے تو انہیں اپنی موت کے آنے میں کچھ شبہ نہ رہا۔ اب انہیں فکر تھی تو یہ تھی کہ دین کی اشاعت و تبلیغ کا کام نہ رکنا چاہئے۔ چناچہ انہوں نے اپنے چند پیرو کاروں کو مخاطب کرکے پوچھا کہ کون ہے جو اس سلسلہ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

133 ۔ مسیح (علیہ السلام) کے صحابی ابھی مسیح (علیہ السلام) سے گفتگو کر رہے تھے دفعۃ براہ راست حق تعالیٰ سے مناجات کرنے لگے۔ قرآن مجید اکثر ایسے موقعوں پر یہی کرتا ہے کہ بندوں کے خطاب کا رخ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف پھیر دیتا ہے۔ کیا ٹھکانا ہے اس اہتمام توحید کا۔ (آیت) ” واتبعنا الرسول “۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے معاصر مسیحی آپ کو رسول بھی تسلیم کرتے تھے ” ابن اللہ “ ” اقنوم “ وغیرہ کے خرافات اس وقت تک نہ ایجاد ہوئے تھے نہ ہوسکتے تھے۔ (آیت) ” الشھدین “۔ گواہ تیری توحید کے اور تیرے پیغمبروں کی پیغمبری کے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 52–54

یہود کی عدالت میں عیسیٰ (علیہ السلام) کو سزائے موت : وَمَلکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ وَاللہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ ، اللہ کی طرف جو مکر کی نسبت کی گئی ہے یہ فن مشاکلت کے طور پر ہے۔ پہلے مکروا کے فاعل یہود ہیں، یہود کے اکابر اور سرداروں نے مخالفت اور ایذاء کے بہت سے درجے طے کرنے کے بعد بالآخر یہ طے کیا کہ یسوع نامی اسرائیلی مدعی نبوت کو ختم ہی کردینا چاہیے، چناچہ پہلے اپنی مذہبی عدالت میں الحاد کا الزام لگا کر آپ کو واجب القتل قرار دیا، پھر رومی حاکموں کی ملکی عدالت میں لاکر آپ پر بغاوت کا مقدمہ چلایا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے مخالفین کا یہ معرکہ ملک شام کے صوبہ فلسطین میں پیش آیا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

رَبَّنَآ اٰمَنَّا بِمَآ اَنْزَلْتَ : اے ہمارے رب تو نے جو کتابیں نازل کیں انجیل و تورات وغیرہ ہم اس پر ایمان لائے۔ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ : اور جو کچھ تیرے پیغمبر یعنی عیسیٰ نے ہم کو حکم دیا ہم اس پر چلے۔ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ : پس تو ہم کو ان لوگوں کی فہرست میں لکھ دینا جنہوں نے تیری واحدانیت اور تیرے انبیاء کی صداقت کی شہادت دی ہے۔ عطاء کے نزدیک الشاہدین سے مراد ہیں انبیاء کیونکہ ہر نبی اپنی امت کا شاہد ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : الشاہدین یعنی محمد ﷺ اور آپ ﷺ کی امت۔ کیونکہ امت محمدیہ ﷺ (قیامت کے دن) انبیاء کی رسالت و تبلیغ کی شہادت دے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 52–53

(52۔ 53) سو جب حضرت عیسیٰ ؑ نے ان منکرین کی طرف سے اپنے قتل کی سازش محسوس کی یا یہ کہ ان کے انکار حق کو دیکھا تو بولے کچھ آدمی ایسے بھی ہیں جو دین حق اور کفر کے ابطال میں میرے رفیق و مددگار ہوں ؟ تب بار و مخلص آدمی بول اٹھے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کے دشمنوں کے مقابلے میں ہم آپ کے مددگار ہیں، اور آپ اے عیسیٰ ؑ ہمارے اقرار عبادت اور توحید پر گواہ رہیے، اے ہمارے پروردگار ہم (دیگر تمام آسمانی کتابوں اور) خصوصا انجیل پر ایمان لائے اور حضرت عیسیٰ ؑ کے سچے دین کی پیروی کی۔ سوہ میں ان سابقین اولین کے ساتھ لکھ دیجیے جنہوں نے ہم سے پہلے گواہی دی یا ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ تمہیں حق کی گواہی دینے میں سچے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 52–53

فَلَمَّآ اَحَسَّ عِيْسٰى مِنْھُمُ الْكُفْرَ۔۔ : یعنی صرف عقل سے نہیں سمجھا بلکہ حواس سے معلوم کرلیا، آنکھوں اور کانوں سے یہ حقیقت جان لی کہ یہود اور ان کے علماء اللہ کی دی ہوئی نشانیوں اور دلائل و معجزات کے سامنے بےبس ہوچکے ہیں، مگر ماننے کے لیے کسی صورت آمادہ نہیں، بلکہ ان کی زندگی کے درپے ہیں اور اس مقصد کے لیے سازشیں کر رہے ہیں تو انھیں اپنے دنیا سے رخصت ہونے میں کچھ شبہ نہ رہا۔ اب انھیں فکر تھی تو یہ کہ دین کی اشاعت و تبلیغ کا کام رکنا نہیں چاہیے، چناچہ انھوں نے اپنے پیروکاروں سے پوچھا کہ کون ہے جو اللہ کی طرف دعوت دینے اور اس کے راستے پر چلنے اور چلانے میں میرا مددگار ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 53 قولہ تعالیٰ (آیت) ” ربنا امنا بما انزلت “۔ یعنی وہ کہتے ہیں : اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے (آیت) ” بما انزلت “ یعنی اس کے ساتھ جو تو نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا اور اس پر جو تو نے اپنے حکم میں سے ظاہر اور بیان کیا۔ (آیت) ” واتبعنا الرسول “ رسول سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ (آیت) ” فاکتبنا مع الشھدین “۔ شاہدین سے مراد حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے، اور معنی یہ ہے ہمارے اسماء ان کے اسماء کے ساتھ لکھ لے اور ہمیں من جملہ ان میں سے بنا دے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : معنی یہ ہے ہمیں ان کے ساتھ لکھ لے جنہوں نے تیرے انبیاء (علیہم السلام) کی صدق…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) الفریابی، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے الطبرانی میں ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فاکتبنا مع الشھدین “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ اور آپ کی امت کے ساتھ ہم کو لکھ دیجئے آپ کی امت نے گواہی دی کہ آپ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور انہوں نے رسولوں کے بارے میں بھی گواہی دی کہ ان سب نے بھی اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ (2) عبد بن حمید وابن المنذر نے کلبی کے طریق سے ابو صالح سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فاکتبنا مع الشھدین “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ کے اصحاب کے ساتھ ہم کو بھی لکھ دیجئے۔ (3) ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[رَبَّـنَا : اے ہمارے ربّ ] [اٰمَنَّا : ہم ایمان لائے ] [بِمَآ : اس پر جو ] [اَنْزَلْتَ : تو نے اتارا ] [وَاتَّـبَعْنَا : اور ہم نے پیروی کی ] [الرَّسُوْلَ : ان رسول (علیہ السلام) کی ] [فَاکْتُبْنَا : پس تو لکھ دے ہم کو ] [مَعَ الشّٰہِدِیْنَ : گواہی دینے والوں کے ساتھ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 52–53

عامۃً بنی اسرائیل کا کفر اختیار کرنا اور حواریوں کا حضرت عیسیٰ کی مدد کے لیے کھڑا ہونا سیدنا عیسیٰ ( علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو اپنے اتباع اور اطاعت کی دعوت دی اور انجیل پر ایمان لانے کا حکم فرمایا اور ان کو بتایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں تم میری اطاعت و فرمانبر داری کرو۔ لیکن بنی اسرائیل نے عناد اور ہٹ دھرمی پر کمر باندھ لی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہود سے خطاب فرماتے اور حق کی دعوت دیتے تھے اور وہ لوگ ان کا مذاق بناتے تھے ان کے انکار اور ہٹ دھرمی میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس فرما لیا کہ بنی اسرائیل ایمان لانے والے نہیں ہیں لہٰذا انہوں نے پکارا کہ کون ہے جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–58

ذکر عداوت یہود باعیسی (علیہ السلام) و حفاظت خداوندنام وبشارت رفع الی السماء ومحفوظیت از مکر اعداء۔ قال تعالی، فلمااحس عیسیٰ منھم الکفر۔۔۔ الی۔۔۔ الممترین۔ حسب بشارت جب عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور پھر نبی ہوئے اور لوگوں کو توحید اور تقوی اور اپنی اطاعت کی دعوت دی اور سیدھی راہ کی طرف بلایا اور معجزات اور نشانات ان کو دکھلائے تو یہود بےبہبود نے آپ کی تکذیب کی اور آپ کے ایذاء اور قتل کے درپے ہوئے حق جل شانہ نے ان آیات میں یہود کی عداوت کا ذکر کیا وہ حضرت عیسیٰ کے قتل کی کیا کیا تدبیریں کررہے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی حفاظت کا ذکر فرمایا کہ ہم نے ان کی حفاظت کی کیا تدبیر کی وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

76 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ نصرت کے بعد حواریوں نے اللہ سے مناجات شروع کردی اور صدق نیت سے اقرار کرلیا کہ وہ اللہ کے نازل کردہ تمام احکام پر ایمان لے آئے ہیں اور اس کے پیغمبر کی اطاعت قبول کرچکے ہیں اس لیے انہیں بھی ان لوگوں کی فہرست میں شامل فرمالیا جائے جو اللہ کی توحید اور اس کے پیغمبروں کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں ای اکتبنا فی جملۃ من شھد لک بالتوحید ولانبیاءک بالتصدیق (کبیر ج 2 ص 687) اس سے معلوم ہوا کہ خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے صحابی جو مسیحی تھے وہ تو صرف اللہ ہی کو معبود مانتے تھے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) سے متعلق ان کا صرف یہی نظریہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–54

بنیادی عقیدہ : گذشتہ درس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعض معجزات کا تذکرہ تھا جن کے متعلق آپ نے اپنے مخاطبین سے کہا کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانیاں لے کر آیا ہوں ، اس لیے میرا تم سے مطالبہ ہے۔ کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ قرآن پاک شاہد ہے۔ کہ جن انبیاء کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ ان سب نے اپنی اپنی قوم سے یہی کہا کہ اے لوگو ! اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ حضرت صالح ، حضرت ہود ، حضرت شعیب اور حضرت لوط (علیہم السلام) کے واقعات سے یہی پتہ چلتا ہے۔ یہ بنیادی عقیدہ تخلیق آدم سے لے کر ہر دور میں ہر امت میں پایا گیا ہے۔ اور انبیاء اسی عقیدے کی تعلیم دیتے آئے ہیں۔ یہاں پر بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رَبَّنَآ اٰمَنَّا بِمَآ اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰہِدِيْنَ۝ 53 رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–54

1 ؎ یہود میں قدیم دستور تھا کہ وہ جس کو سردار یا برگزیدہ کرتے تھے تو اس وقت کا نبی یا کاہن اس شخص پر زیتون کا تیل مسح کردیتا یعنی مل دیتا تھا۔ اس لئے اس شخص کو مسیح کہتے تھے چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بھی مقبولیت کا تیل ملا گیا اور اسی قدیم عزت پر ان کا لقب مسیح مشہور ہوا اور یشوع عبرانی میں ان کا نام ہے جو عربی میں عیسیٰ کہتے ہیں۔ چونکہ لقب زیادہ مشہور تھا اس لئے اس کو نام سے پہلے ذکر کیا۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 52–53

فَلَمَّآ اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْہُمُ الْـکُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ ط قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ ج اٰمَنَّا بِاللّٰہِ ج وَاشْہَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ۔ رَبَّـنَـآ اٰمَنَّا بِمَآ اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰہِدِیْنَ ۔ (اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی طرف سے کفر کو بھانپ لیاتو آپ نے دعوت دی کہ کون ہے جو میرا مددگار بنے اللہ کی راہ میں ؟ حواریوں نے جواب دیا ہم ہیں اللہ کے مددگار اور ہم ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور آپ گواہ رہئے کہ ہم مسلم ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لائے اس چیز پر جو تو نے اتاری اور ہم نے رسول کی پیروی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 53–54

فہم القرآن ربط کلام : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیغام کا ردّ عمل اور ان کی حفاظت کے ساتھ اہل ایمان کی برتری کا اعلان۔ حالات اس نہج پر پہنچے کہ یہودیوں کے مذہبی اور سیاسی رہنما حاکم وقت کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہوگئے کہ یہ شخص یہودیت کے لیے زہر قاتل اور مذہب کی آڑ میں حکومت کا تختہ الٹنا چاہتا ہے۔ اس سازش کو کامیاب بنانے کے لیے یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں میں سے یہودا نامی شخص کو بھاری رشوت دے کر وعدہ معاف گواہ بنایا اس نے سرکاری اہلکاروں کو مخبری کردی کہ عیسیٰ (علیہ السلام) فلاں پہاڑیوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ اس گرفتاری سے بچنے کے لیے بارہ حواریوں کے سوا باقی سب حواری…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

53: رَبَّنَآ ٰامَنَّا بِمَآ اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰھِدِیْنَ ۔ (اے ہمارے رب ہم ایمان لائے اس پر جو آپ نے اتارا اور ہم نے رسول کی اتباع کی پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے) رَبَّنَآ ٰامَنَّا بِمَآ اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ ۔ الرَّسُوْلَ سے عیسیٰ ( علیہ السلام) مراد ہیں۔ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰھِدِیْنَ ۔ الشّٰھِدِیْنَ سے انبیاء ( علیہ السلام) مراد ہیں۔ کیونکہ وہ اپنی امتوں کی گواہی دیں گے۔ یا ان لوگوں کے ساتھ جو اے اللہ تیری وحدانیت کی گواہی دینے والے ہیں۔ یا امت محمد ﷺ کیونکہ وہ لوگوں پر گواہ ہونگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 53۔: (آیت)” فاکتبنا مع الشاھدین “۔ جنہوں نے اپنے انبیاء کرام (علیہم السلام) کی صداقت کی شہادت دی ۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ (آیت)” مع الشاھدین “۔ سے مراد ” مع النبیین “۔ ہیں کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) اپنی اپنی امت کی گواہی دیں گے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ عنہنے فرمایا کہ شاہدین سے مراد محمد ﷺ اور ان کی امت ہے چونکہ یہ امت تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کی رسالت اور تبلیغ کی شہادت دے گی ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 52–54

52 ۔ 54) ۔۔ اگرچہ یہود کو تورات کے پڑھنے سے یہ معلوم تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب نبی ہوں گے تو تورات کے بعض مسئلے خدا کے حکم سے منسوخ ہوں گے۔ لیکن جب وہ وقت آیا تو محض عناد سے یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دشمن ہوگئے اور اس وقت کے بادشاہ سے مل کر حضرت عیسیٰ کے قتل پر آمادہ ہوگئے یہاں تک کہ موقع پا کر ان کو ایک مکان میں گھیر لیا۔ اسی وقت خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا اور حضرت عیسیٰ کے ساتھیوں میں سے یا یہود میں کے ایک آدمی میں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا حضرت عیسیٰ کی شکل پیدا کردی اور یہود نے اسی شخص مشابہ عیسیٰ کو عیسیٰ سمجھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–58

آیت 45-58 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰ ہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لئے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبرئیل کو مریم کے پاس بھیجا۔ انہوں نے آپ کی قمیض کے گریبن میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–61

مباہلہ کا جواز قول بارے ہے (فقل تعالواند ع ابناء نا وایتاء کم ونساء ناونساء کم وانفسنا وانسکم، اے محمد ! ان سے کہو، آؤہم اور تم خود بھی آجائیں اور اپنے اپنے بال کو بھی لے آئیں) عیسائیوں کے اس قول کے خلاف کہ حضرت مسیح ابن اللہ ہیں اس آیت سے استدلال پہلے گذرچکا ہے نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد جس میں ان کا سردار اورنائب سرداردونوں تھے، حضور ﷺ کی خدمت میں آیا تھا۔ ان دونوں نے حضور ﷺ سے سوال تھا کہ آپ نے بن باپ کا کوئی بچہ دیکھا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم، اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی مثال کی طرح ہے) حضرت ابن عباس حسن اور قتادہ سے یہی روایت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

118 حضرت عیسیٰ کے ساتھیوں کی دعاء و درخواست اپنے رب کے حضور : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ کے حواریوں نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے اس سب پر جو تو نے نازل فرما ہے۔ اور ہم نے پیروی کی آپ کے رسول کی۔ پس تو [ اے ہمارے خالق ومالک ] ہمیں لکھ دے گواہی دینے والوں کے ساتھ کہ مالک ہمیں گواہی دینے والوں کے ساتھ رکھ دے تاکہ ہمارا یہ صدق و اخلاص اور ایمان و یقین معتبر ہوجائے۔ اور ہم تیری خاص رحمتوں اور عنایتوں کے مستحق ہو سکیں، اور قیامت کے روز ہمارا حشر ان لوگوں کے ساتھ ہو جنہوں نے دنیا میں حق کا ساتھ دیا تھا نہ کہ ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے حق کو چھپانے کے جرم عظیم کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 52–54

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری تشریح : جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ قوم ماننے کو تیار نہیں، بلکہ انکار ہی کئے جاتے ہیں تو پھر انہوں نے قوم کو دین کی مدد کے لئے پکارا اس پر کچھ حواری بولے کہ ہم حاضر ہیں۔ حواری بمعنی انصار کے ہے اور کہیں ان کو رسول بھی کہا گیا ہے۔ اس لحاظ سے کہ وہ تبلیغ دین کا کام کرتے تھے۔ ان کے بارے میں یہ لکھا گیا ہے کہ وہ سمندر کے کنارے رہنے والے دھوبی تھے۔ اسی مناسبت سے آپ کے رفیقوں اور صحابیوں کا لقب ہی حواری پڑگیا۔ (مطالعہ قرآن) یہ اہل کتاب سچے مسلمانوں کی طرح توحید کے قائل تھے اور مسیح سے گفتگو کرتے ہوئے براہ راست اللہ سے باتیں کرنے لگے اور بولے کہ اے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–54

آیات 42- 54 اسرارومعارف واذقالت الملئکۃ………………وارکعوامع الراکعین۔ اور وہ وقت بھی یاد کرو جب فرشتوں نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رو در رو کہا تھا اے مریم ! بیشک اللہ نے آپ کو قبول فرمالیا ہے چھانٹ لیا ہے۔ یعنی دوامی تجلیات ذاتی کے ساتھ برگزیدہ کردیا ہے تجلیات ذاتیہ کمالات نبوت و رسالت میں سے ہے یہ کمال انبیاء کو بالذات اور بلاواسطہ حاصل ہوتا ہے اور ان کی وساطت سے خاص اور ممتاز اولیا اللہ کو نصیب ہوتا ہے اور حضرت مریم (علیہا السلام) تو صدیقہ تھیں۔ بعض منازل سلوک : صدیقیت ولایت کی انتہا ہے اور چوٹی کے اولیاء اللہ کہ یہ اعلیٰ مقامات باتباع نبی اس طرح حاصل ہوتے ہیں جیسے شاہی محل میں بادشاہ کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 53–54

ف 1 یہود کے علما نے اس وقت باشاہ کو بہکا یا کہ یہ شخص ملحد اور تو رات کے احکام کو بد لنا چاہتا ہے اور ان پر اتہام لگائے تو اس بادشاہ نے حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو قتل کرنے کے لیے کچھ آدمی مقرر کردیئے۔ انہوں نے ایک مکان کے اند حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا محاصرہ کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا۔ (ابن کثیر) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں ہیں : اور ایک صورت ان کی رہ گئی اسی کو پکڑ لائے پھر سولی پر چڑھا دیا۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 52–54

(3:52) احس۔ احساس (افعال) سے محسوس کیا اس نے ماضی واحد مذکر غائب ای عرف منہم اصرارھم علی الکفر فلما۔ میںفصاحت کے لئے ہے۔ من انصاری الی اللہ ۔ کون ہیں میرے مددگار اللہ کی راہ میں۔ حواریون۔ حواری کی جمع۔ حواری حور سے مشتق ہے جس کے معنی خالص سپیدی کے ہیں۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب کا خطاب ہے۔ بقول شاہ عبد القادر صاحب حواری اصل میں دھوبی کو کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب میں سے پہلے دو شخص جوان کے تابع ہوئے دھوبی تھے۔ حضرت عیسیٰ نے ان کا کہا تھا کہ کپڑے کیا دھوتے ہو میں تم کو دل دھونے سکھا دوں وہ ان کے ساتھ ہوئے اس طرح سب کو یہ خطاب ٹھہر گیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–54

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 54 وجیه (باعزت، بلندمرتبہ) المقربین (قریب والے) یکلم (کلام کرے گا، بات کرے گا) المھد (گہوارہ) کھل (بڑی عمر) لم یمسسنی ( مجھے نہیں چھوا مجھے ہاتھ نہیں لگایا) بشر (انسان ، آدمی) قضی (فیصلہ کیا) الطین (مٹی) ھیة (شکل) انفخ (میں پھونکتا ہوں) طیر (پرندہ) ابری (میں اچھا کردیتا ہوں) الابرص (کوڑھی) الاکمه (پیدائشی اندھا) احیٖ (میں زندہ کرتا ہوں) انبئکم (میں تمہیں بتاتا ہوں) تدخرون (تم جمع کرتے ہو، ذخیری کرتے ہو ! ) بیوت (گھروں، (بیت، گھر) حرم (حرام کردیا گیا) احس (محسوس کیا) من انصاری (میرا مددگار کون ہے ؟ ) الحواریون (ہم مجلس (حضرت عیسیٰ کے صحابہ ) انصار اللہ (اللہ کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 52–53

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان پر جانا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بارہ شخص جو ایمان لائے تھے ان کو حواری کہتے ہیں۔ حواری کے معنی : ” مددگار “ کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 52–53

[32] حواری کے لغوی معنی دھوبی کے ہیں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی پیروؤں میں سے اکثر دھوبی تھے اس لئے آپ کے پیروؤں کا یہی لقب پڑگیا۔ مجازی معنی مخلص مددگار کے ہیں۔ [24] اللہ کی مدد کرنا یہی ہے کہ اس کے دین اور پیغمبروں کی مدد کی جائے جس طرح انصار مدینہ نے رسول اللہ ﷺ اور دین حق کی مدد کی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 53–55

حیات مسیح (علیہ السلام) : (ف 1) ایک طرف یہودیوں نے مسیح (علیہ السلام) کے خلاف وسیع پیمانے پر سازش کی اور حکومت وقت کو مجبور کردیا کہ وہ انہیں باغی سمجھے اور سزا دے ، اسی کا نام قرآن حکیم کی زبان میں ” مکر “ ہے ، یعنی تدبیر محکم اور خفیہ ارادہ ، دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے ارادے کام کر رہے تھے ، اللہ تعالیٰ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو دشمنوں کی زد سے صاف بچا لینا چاہتے تھے ، اور یہودیوں کو دکھانا چاہتے تھے کہ آسمانوں پر ایک زبردست اور علیم و حکیم خدا بھی موجود ہے جو تمہاری سازش کو جانتا ہے اور اس کی قدرت واختیار میں ہے کہ تمہیں تمہارے ارادوں میں ناکام رکھے ، (آیت) ” واللہ خیر الماکرین “۔ جب مقابلہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1۔ حواریوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ان تمام احکام پر جو آپ نے نازل فرمائے ہیں ایمان لائے اور ہم نے اس رسول یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی اختیار کی لہٰذا آپ ہم کو گواہی دینے والوں اور تصدیق کرنے والوں کے ہمراہ لکھ دیجئے اور ان لوگوں کے ساتھ ہمارا بھی اندراج کرلیجئے جو آپ کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہیں اور آپ کے رسولوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ ( تیسیر) مطلب یہ ہے کہ عام مسلمانوں میں جو آپ کی وحدانیت اور آپ کے رسولوں کی رسالت کا اقرار کرنے والے ہیں ان میں ہمارا نام بھی لکھ دیجئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ انبیاء کے ساتھ لکھ دیجئے کیونکہ قیامت میں انبیاء (علیہم السلام) شہادت دیں گے ، اور یہ بھی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 50–54

ف 1۔ چناچہ مکر و حیلہ سے آپ کو گرفتار کر کے سولی دینے پر آمادہ ہوگئے۔ 2۔ ایک اور شخص کو عیسیٰ (علیہ السلام) کی شکل بنادیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا، جس سے وہ محفوظ رہے، اور وہ ہم شکل سولی دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کی شہادت سے کیا سبق حاصل ہوا ؟ : 122: سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت قبول کرتے ہوئے جواب دیا کہ ” اے عیسیٰ (علیہ السلام) آپ گواہ رہیے گا کہ ہم اللہ کی فرمانبرداری میں مکمل طور پر داخل ہوگئے۔ “ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَاشْھَدُ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ مسلم کا لفظی ترجمہ فرمانبردار ہے۔ یاد رہے کہ مسلم کا اطلاق ہر نبی کے پیرو پر ہوتا ہے کہ حقیقتاً ہر نبی کی دعوت اللہ کی فرمانبرداری ہی کی ہوتی ہے پھر غور کرو کہ حواریوں کا سارا زور ایمان باللہ پر ہے وہ زبان کھولتے ہی کہتے ہیں کہ امنا باللہ ہم اللہ پر ایمان لائے۔ جس سے یہ بات بھی واضح ہو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–53

Following blessed predictions mentioned earlier, Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) was born with all promised signs. As a messenger sent to Bani Isra` il, he presented his call to them supported by miracles to prove his prophethood. But, the Bani Isra'il were adamant and kept on rejecting him as a prophet, even going to the limit of being physically hostile to him. The text now identifies the very first followers of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) brings to light their real creed, expressed first before their prophet and then (in verse 53), reiterated it in the form of a prayer before their…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 53–55

51. The expression used is mutawaffika. The original meaning of tawaffa is to take and receive. To 'seize a person's sou!' constitutes the figurative rather than the literal meaning of the word. Here the word is used in the sense of 'recall', for example, the recall of an official from his work. The Israelites had persisted in their disobedience, and despite repeated warnings and admonitions their collective behaviour had become increasingly corrupt. They had killed a succession of Prophets and were out to shed the blood of all those who invited them to righteousness and moral rectitude. In…

Read the full tafseer →